Sign in to follow this  
Followers 0
Brailvi Haq

ایک دیونندی کا حدیثِ وسیلہ پہ اعتراض

13 posts in this topic

Posted (edited) · Report post

دیوبندی اعتراض

 

یہ روایت اصول حدیث کی روشنی میں ضعیف اور نا قابل استدلال ہے۔اس روایت کی سند کچھ یوں ہے:

حدثنا ابو معاویہ عن الاعمش عن ابی صالح عن مالک الدار

چنانچہ اس سند میں ایک راوی الاعمش ہیں جو کہ مشہور مدلس ہیں اور اصول حدیث میں یہ بات طے شدہ ہے کہ مدلس کی معنعن روایت ضعیف ہوتی ہے جب تک اس کا سماع ثابت نہ ہو۔

امام شافعی فرماتے ہیں:

’’ہم مدلس کی کوئی حدیث اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک وہ حدثنی یا سمعت نہ کہے۔‘‘

[الرسالہ:ص۵۳]

اصول حدیث کے امام ابن الصلاحؒ فرماتے ہیں:

’’حکم یہ ہے کہ مدلس کی صرف وہی روایت قبول کی جائے جس میں وہ سماع کی تصریح کرے۔‘‘

[علوم الحدیث للامام ابن الصلاح:ص۹۹]

فرقہ بریلویہ کے بانی احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں:

’’اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمدمیں مردود و نا مستند ہے۔‘‘

[فتاویٰ رضویہ:ج۵ص۲۴۵]

دیوبند کے امام اہل سنت سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں:

’’مدلس راوی عن سے روایت کرے تو حجت نہیں الا یہ کہ وہ تحدیث کرے یا کوئی اس کا ثقہ متابع موجود ہو۔‘‘

[خزائن السنن:ج۱ص۱]

اصول حدیث کے اس اتفاقی ضابطہ کے تحت اوپر پیش کی گئی روایت مالک الدار بھی ضعیف اور نا قابل حجت ہے کیونکہ سند میں الاعمش راوی مدلس ہے (بحوالہ میزان الاعتدال:ج۲ص۲۲۴، التمہید:ج۱۰ص۲۲۸) جو عن سے روایت کر رہا ہے۔

عباس رضوی بریلوی ایک روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ایک راوی امام اعمش ہیں جو اگرچہ بہت بڑے امام ہیںلیکن مدلس ہیںاور مدلس راوی جب عن سے روایت کرے تو اس کی روایت بالاتفاق مردود ہو گی۔‘‘

[آپ زندہ ہیں واللہ:ص۲۵۱

عباس رضوی بریلوی کے متعلق مشہور بریلوی عالم و محقق عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں:

’’وسیع النظرعدیم النظیر فاضل محدث‘‘ [آپ زندہ ہیں واللہ:ص۲۵]

جب اصول حدیث کے ساتھ ساتھ خود فرقہ بریلویہ کے فاضل محدث نے بھی اس بات کو تسلیم کر رکھا ہے کہ اعمش مدلس ہیں اور ان کی معنعن روایت بالاتفاق ضعیف اور مردود ہے تو پھر اس مالک الدار والی روایت کو بے جا طور پر پیش کیے جانا کہاں کا انصاف ہے۔۔۔؟

مدلسین کے طبقات کوئی قاعدہ کلیہ نہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے الاعمش کو طبقات المدلسین (ص۶۷) میں دوسرے درجہ کا مدلس بیان کیا ہے اور پھر خود اس کی عن والی روایت کے صحیح ہونے کا انکار بھی کیا ہے۔( تلخیص الحبیر:ج۳ص۱۹)

معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی کے نزدیک خود بھی اعمش کی معنعن روایت ضعیف ہے چاہے اسے طبقہ ثانیہ کا مدلس کہا جائے۔علاوہ ازیں آئمہ و محدثین کی ایک کثیر تعداد ہے جواعمش کی معنعن روایت کو ضعیف قرار دیتی ہے۔

چنانچہ امام ابن حبان نے فرمایا:

’’وہ مدلس راوی جو ثقہ عادل ہیںہم ان کی صرف ان روایات سے حجت پکڑتے ہیں جن میں وہ سماع کی تصریح کریںمثلاًسفیان ثوری، الاعمش اورا بواسحاق وغیرہ جو کہ زبر دست ثقہ امام تھے۔‘‘

[صحیح ابن حبان(الاحسان):ج۱ص۹۰]

حافظ ابن عبدالبر نے فرمایا:

’’اور انہوں(محدثین) نے کہا: اعمش کی تدلیس غیر مقبول ہے کیونکہ انہیں جب (معنعن روایات میں) پوچھا جاتا تو غیر ثقہ کا حوالہ دیتے تھے۔‘‘

[التمہید:ج۱ص۳۰]

یہ بات تو دلائل سے بالکل واضح اور روشن ہے کہ سلیمان الاعمش مدلس راوی ہیں اور ان کی معنعن روایات ضعیف ہیں ۔ جب ان اصولی دلائل کے سامنے مخالفین بے بس ہو جاتے ہیں تو امام نوویؒ کا ایک حوالہ پیش کر دیتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

’’سوائے ان اساتذہ کے جن سے انہوں (الاعمش) نے کثرت سے روایت بیان کی ہے جیسے ابراہیم(النخعی)،ابو وائل(شقیق بن سلمہ)اور ابو صالح السمان تو اس قسم والوں سے ان کی روایت اتصال پر محمول ہیں۔‘‘

[میزان الاعتدال:ج۲ ص۲۲۴

اس حوالے کی بنیاد پر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ابراہیم نخعی، ابو وائل شقیق بن سلمہ اور ابوصالح سے اعمش کی معنعن روایات صحیح ہیں حالانکہ یہ بات اصولِ حدیث اور دوسرے بہت سے آئمہ و محدثین کی واضح تصریحات کے خلاف ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

۱)امام سفیان الثوریؒ نے ایک روایت کے بارے میں فرمایا:

’’اعمش کی ابو صالح سے الامام ضامن والی حدیث،میں نہیں سمجھتاکہ انہوں نے اسے ابو صالح سے سنا ہے۔‘‘

[تقدمہ الجرح و التعدیل:ص۸۲]

امام سفیان ثوری نے اعمش کی ابو صالح سے معنعن روایت پر ایک اور جگہ بھی جرح کر رکھی ہے ۔دیکھئے السنن الکبریٰ للبیہقی (ج۳ص۱۲۷)

۲)امام حاکم نیشا پوریؒ نے اعمش کی ابو صالح سے ایک معنعن روایت پر اعتراض کیا اور سماع پر محمول ہونے کا انکار کرتے ہوئے کہا:

’’اعمش نے یہ حدیث ابو صالح سے نہیں سنی۔‘‘

[معرفۃ علوم الحدیث:ص۳۵]

حمد رضا خان بریلوی ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’اجلہ علماء نے اس پر اعتماد (کیا)۔۔۔۔مگر تحقیق یہ ہے کہ وہ حدیث ثابت نہیں۔‘‘

[ملفوظات،حصہ دوم:ص۲۲۲]

اس سے معلوم ہوا کہ کچھ علماء کا سہواً کسی حدیث کو صحیح قرار دے دینا یا اس پر اعتماد کر لینا اس حدیث کو صحیح نہیں بنا دیتا اگر تحقیق سے وہ حدیث ضعیف ثابت ہو جائے تو اسے غیر ثابت ہی کہا جائے گا۔

بریلویوں کے فاضل محدث عباس رضوی بریلوی ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’کسی کے ضعیف حدیث کو صحیح اور صحیح کو ضعیف حدیث کہہ دینے سے سے وہ ضعیف صحیح نہیں ہو جاتی۔‘‘

[مناظرے ہی مناظرے:ص۲۹۲]

علاوہ ازیں خود بریلوی حضرات کے حکیم الامت احمد یار خان نعیمی کی مشہور کتاب ’’جاء الحق‘‘ سے ایک لمبی فہرست ان روایات کی پیش کی جا سکتی ہے جن کو ایک دو نہیں بلکہ جمہور آئمہ و محدثین نے صحیح قرار دے رکھا ہے مگر بریلوی حکیم الامت ان روایات پر اصول حدیث کے زریعے جرح کرتے ہیں۔ لہٰذا اصول و دلائل کے سامنے بلا دلیل اقوال و آراء پیش کرنا سوائے دھوکہ دہی کے کچھ نہیں۔

post-17574-0-03216900-1466184259_thumb.jpg

post-17574-0-98467400-1466184319_thumb.jpg

Edited by Brailvi Haq

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ ایک وہابی طالب نور نے اپنے فارم   پر اعتراضات کیے تھے وہاں ہم نے جوابات بھی دیے ہیں۔وقت ملا تو ان کو یہاں پیسٹ کرتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

فی الحال جہاں مدلس  کی معنن روایت کی بات تو البانی نے ۳ جگہ مدلس کی معنن روایت کو صحیح کہا ہے۔اگلی بات علامہ ذہبی نے لکھا کہ اگر اعمش انے ابو صالح سے روایت کرے تو اس کو اتصال پر محمول کیا جاءے گا۔

پھر اگر یہ حضرت حنفی ہیں تو ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ احناف کے نزدیک تدلیس ضرح ہی نہیں۔۔دیوبندی ظفر احمد عثمانی نے اعلاٴسننن میں یہی لکھا ۔علامہ حسن سنبلی نے  تنسیق النظام  حاشیہ مسند الامام میں یہی لکھا۔

جہاں تک یہ بات کہ اعمش کی ملاقات ابو صالح سے ثابت ہے کہ نہیں تو اس پر خو امام اعمش کا قول حاضر ہےآپ فرماتے  ہیں سمعت من ابی صالح الف حدیث

﴾تذکرة لحفا ظ ج ١ ص ٦۹﴿  

پھر اسی مقام پر علامہ زہبی نے اس کو ثقہ بھی کہا ہے۔

اعلی حضرت نے جو قول لکھا ہے وہ الزامی جرح ہے ۔اور دیوبندی بھی مانتے ہیں کہ مخالف کہ مسلمہ اصول کو بطور الزام پیش کیا جاتا ہے 

پھر جہاں تک وہ حوالہ جات جہاں یہ لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے یا میرا خیال ہے کہ اس حدیث میں ابو صالح کی ملاقات ثابت نہیں تو جوابا عرض ہے ان محدثین نے ایک مخصوص حدیث کی جرح میں یہ بات کی نہیں نہ کہ عمومی طور پر۔

پھر انہوں نے یقین نہیں ظن سے گفتگو کرتے ہوءے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے یا میرا خیال ہے ۔جبکہ علامہ ذہبی نے یقین و ایقان و تحقیق کے ساتھ اس ملاقات کو مانا ہے اور اسکا ذکر کیا۔

عجیب بات البانی البانی اور ذہبی ذہبی کرنے والوں کو یہاں کیا ہو جاتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

Yani is rawait main jo mudaliis ravi hn in ki rawait kabil e kabool he?

Or us ye bi aitraz kia h

 

حافظ ابن حجر نے اس روایت کے متعلّق کہا ہے (روى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الدار) گویا انہوں نے اس روایت کی سند کو ابو صالح السمان تک صحیح قرار دیا ہے، کامل سند کو صحیح قرار نہیں دیا، کیونکہ انہوں نے اپنی عادت کے مطابق مطلقا یہ نہیں کہا کہ یہ روایت صحیح ہے۔ اور ایسا علماء اس وقت کرتے ہیں جب ان کے سامنے بعض راویوں کے حالات واضح نہ ہوں، خصوصاً حافظ ابن حجرجو تراجم الرواۃ کے امام ہیں (جنہوں نے تراجم الرجال پر کئی عظیم الشان کتب تحریر کی ہیں)، وہ مالک الدار سے واقف نہیں، انہوں نے مالک الدار کے حالات اپنی کسی کتاب میں بیان نہیں کیے اور اسی طرح امام بخاری نے اپنی کتاب ’تاریخ‘ میں اور امام ابن ابی حاتم نے ’جرح وتعدیل‘ میں کسی امام جرح وتعدیل سے مالک الدار کی توثیق نقل نہیں کی حالانکہ یہ دونوں ائمہ کرام اکثر راویوں کے حالات سے واقف ہیں۔ حافظ منذری ... جو متاخرین میں سے ہیں ... اپنی کتاب ’ترغیب وترہیب‘ 2 ؍ 29 میں مالک الدار کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں انہیں نہیں جانتا۔ (خلاصہ یہ ہے کہ مالک الدار مجہول راوی ہے۔)

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ البانی نے کہاں کہاں مدلس کی معنن روایت کو صحیح کہا ہے؟ تاکہ طلب کرنے پہ حوالہ جات فراہم کئے جاسکیں,,,,

Share this post


Link to post
Share on other sites

(پھر اگر یہ حضرت حنفی ہیں تو ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ احناف کے نزدیک تدلیس ضرح ہی نہیں۔۔دیوبندی ظفر احمد عثمانی نے اعلاٴسننن میں یہی لکھا ۔علامہ حسن سنبلی نے تنسیق النظام حاشیہ مسند الامام میں یہی لکھا۔)

 

Ahnaaf k nazdeek tadlees zrah nai,,,,is ka hawala anayt farms den or deobndio k molvio ka hawala bi frahm kr den,q k deobandi apni adat se majboor jaan churane k liay hawale tlb kre ga or frahm na kiay jane ki surat main jawab ko mustard kr de ga

Share this post


Link to post
Share on other sites

is hadees per aetraaz karna jahalat hai... q ke abu muawia, aa'mash aur abo saleh ki sanad to Sahiheen me mojood hai... aur sab sahiheen me aesi sanad ho aetraaz nahi ga... q ke is se baat sabit ho gayi ke aa'mash ne abo saleh se hadees suni hai...

 

aur malik daar ko bohut se muhadissen ne tarjuma likha hai...

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.