Sign in to follow this  
Followers 0
Brailvi Haq

حاضر ناظر سے متعلق جاءالحق کی ایک عبارت کی وضاحت چاہئے

43 posts in this topic

 

دیوبندی جی

آپ جیسے کئی پہلے یہاں آئے اور ذلیل و خوار ہو کے گئے۔

مسئلہ علم غیب پر آپ نے نامور دیوبندی مناظر ساجد خان اور ناصر نعمان ذلیل رسوا ہو کے گئے یہاں سے اور آپ یہ دعویٰ کر رہے کہ ہم ان مسائل پر بات کرنے سے بھاگتے ہیں۔۔

سرفراز گکھڑوی کی کتاب کاپی پیسٹ کرنے سے کیا آپ مناظر بن گئے ہیں؟سرفراز گکھڑوی کے رد میں عبارات اکابر کا تنقیدی جائزہ،پھر اثبات علم الغیب ،مسٰئلہ علم و غیب و حاضر ناظر اور ملا علی قاری،توضیح البیان جیسی مایہ ناز کتب موجود ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی کتب ہٰیں جنکا لنک اسی فورم میں موجود ہے۔

مسئلہ حاضرو ناظر پر بہترین کتاب تسکین الخواطر کا لنک موجو ہے۔آپ کی ہر بات کا جواب اس کتاب میں موجود ہے۔

 

http://www.islamimehfil.com/topic/19818-book-taskeen-ul-khatir-fil-masla-e-hazir-o-nazir/

 

IS JUMLAY KO AGAR SAHI KARLEN TO MEHEBANI HOGI , SHAYAD AAP YE KEHNA CHAHTAY THAY K AAP JESE PEHLE BHI KAI AAKAR ZALEEL KAR K JA CHUKE HEN, AAP NA KAREN TO ARZ YE HE K MAULANA SAJID ABBASI NAQSHBANDI SAHAB AALIM HE TUMHARI TARAH FARIG NAHI HEN HAQ BAAT TUM TAK PONHCHA KAR HUJJAT PURI KARDI AB KIA TUMHARI JEHALAT K SATH CHIPKE RAHENGAY, 1 DHEET ABU JEHEL BHI THA 1 AAP BHI HEN, ME BHI BAAT SAMJHANE KE BAAD KIA KHELTA RAHONGA CHALA JAON GA, SAEED KAZMI KI KITAB ME IBHAAM, AUR TAWEELAAT K SIWA KUCH NAHI, JAWAB TUM SE BANTA NAHI JAHILON KI TARAH 1 KITAB JO 150 SAFHAAT KI HO US KO UPLOAD KARDETAY HO HIMMAT HOTI KHUD JAWAB DETE 1 LINK KA SAHARA LEKAR CHAL DIYE MANAZIR BANNE, JO SCAN MENE DIYE THAY WO MAULANA SARFARAZ SAFDAR SAHAB KI KITAB SE NAHI THAY YE TO TUMHARA ILMI HAAL HE, YE DEKHO NICHAY IQTABASAAT KUCH SAMAJH AATA HE TUM KO. 

Share this post


Link to post
Share on other sites

دیو بندی جی


وہ سب کو معلوم ہے کہ جب دیوبندی لاجواب ہو گئے تھے تو سعیدی صاحب کو اس فورم سے بین کر دیا گیا،ان کی پوسٹس ڈیلیٹ کر دی گئیں۔۔میی پوسٹ سے ثابت کرو کہ میں نے یہ لکھا کہ یہ جو کاپی پیسٹ کیا اس ٹاپک میں وہ سرفراز کی کتاب سے لیا گیا ہے۔۔میں نے اجمالی طور پر لکھا اور تم نے تھانوی کی طرح بے وقوفی دکھا دی۔۔کیا پدی کیا پدی کا شوربہ


ساجد خان کے پاس ٹائم تو باقی تو بالک فارغ بیٹھے ہیں ناں جناب کی طرح۔آپ ہی ہمت کر کے جواب دی دیں وہ بھی کاپی پیسٹ کے بغیر


اگر حضرت غزالی زمان علیہ الرحمت کی کتاب آپ کے نزدیک ایسی ہے تو نمبر وار اس کا جواب دینا شروع کریں۔


آپ کے سکین کے مطابق تھانوی تو کافر ٹھہرا اس کا جواب تو دو۔۔۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب والا!۔سیدمحمدمدنی کی لطائف دیوبند سے اقتباس پیش ہے:۔

 

لطیفہ نمبر 27:
علمائے دیوبند نے کافی تعداد میں کتابیں تصنیف کر کے علمائے بریلی کی طرف منسوب کیں۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے ۔
میرا چیلنج :-
ناظرین : جس طرح حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے تحفہ اثنا عشریہ میں بعض ان کتابوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں روافض یا دیگردشمنان مذہب اہل سنت نے تصنیف کرکے علمائے اہل سنت پر تھوپی ہیں مثلاً سرّ العالمین کو حضرت امام غزالی کی طرف منسوب کیا گیا ہے جو قطعاً واصلاً غلط ہے وغیرہ ۔
اسی طرح میں بھی بعض ان کتابوں کی نشاندہی کردینا چاہتا ہوں جسے دشمنان مذہب اہل سنت نے تصنیف کرکے علمائے اہل سنت کی طرف غلط منسوب کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
1۔ تحفۃ المقلدین :- حضرت مولانا محمد نقی علی خان صاحب کے نام سے گڑھی ، موصوف فاضل بریلوی کےوالد ہیں ۔
2۔ ہدایۃ الاسلام :- فاضل بریلوی کے جد امجد مولانا رضا علی کے نام سے گڑھی ۔
3۔ ہدایۃ البریہ مطبوعہ صبح صادق پریس کے علاوہ ایک اور ہدایۃ البریہ مطبوعہ لاہور اعلٰٰی حضرت کے والد مولانا نقی علی خاں صاحب کے نام سے گڑھی ۔
4۔ ملفوظات :- اس نام کی ایک کتاب کو حضرت شاہ حمزہ علیہ الرحمہ سے منسوب کردیا ۔
 مرآۃ الحقیقۃ :- حضور غوث الثقلین کے نام سے شائع کیا۔
6۔ خزینۃ الاولیاء :- حضرت شاہ حمزہ مارہروی کے نام سے گڑھی اور بکمال شقاوت کہہ دیا ‘‘ مطبوعہ کانپور صفحہ فلاں ماخوذ از خالص الاعتقاد از فاضل بریلوی ص12،13 مختصراً )
خالص الاعتقاد کی اس تشریح سے معلوم ہوا کہ خزینۃ الاولیاء حضرت شاہ حمزہ سے اور ہدایۃ الاسلام جو فاضل بریلوی کے جد امجد مولانا محمد رضا علی کے نام سے چھاپی گئی ہے ۔ سراسر الزام تراشی اور افتراء پروازی ہے ۔
ہرگز یہ کتابیں ان حضرات کی تصنیف کردہ نہیں ۔ ہم ان کتب مذکورہ سے اپنی برآءت ظاہر کرتے ہیں ۔ جب ہمارے علماء کی یہ باطل شکن آواز ‘‘ ردّ شہاب ‘‘ کی صورت میں مولانا عامر عثمانی کے کانوں سے ٹکراتی ہے تو انہیں بھی کہنا پڑتا ہے ۔
‘‘اتنا ہم ایضاً ضرور کہیں گے کہ مصنف ( حضرت شاہ اجمل سنبھلی ) نے مولانا مدنی پر ایک الزام بڑا بھیانک اور فکر انگیز لگایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جن دو کتابوں ‘‘خزینۃ الاولیاء ‘‘ اور ‘‘ہدایۃ الاسلام‘‘ سے شہاب ثاقب میں بعض اقتباسات دئیے گئے ہیں وہ فی الحقیقت من گھڑت ہیں ۔ جن مصنفوں کی طرف انہیں منسوب کیا گیا ہے انھوں نے کبھی ہرگز ہرگز یہ کتابیں نہیں لکھیں ۔ ( تجلی فروری ، مارچ 59ء )
ہم اس بات کو واضح کرچکے ہیں کہ خزینۃ الاولیاء اور ہدایۃ الاسلام نہ حضرت شاہ حمزہ علیہ الرحمہ کی تصنیف ہے اور نہ ہی مولانا رضا علی خان کی تالیف ، یہ محض کذب و افتراء ہےمگرقربان جائیے مولانا مدنی پر کہ اپنی کتاب شہاب ثاقب صفحہ 12 اور 22 پر انہیں دونوں کتابوں سے حوالہ پیش کرتے ہیں اور ہم لوگوں پر حجت قائم کرتے ہیں ، حالانکہ انہیں بھی معلوم تھا کہ جن کتابوں سے وہ ہم پر حجت قائم کر رہے ہیں ۔ ان کتابوں کی تردید و تکذیب ہم اسی انداز سے کرتے رہے ہیں جس طرح کتب علمائے دیوبند کی ۔ مولانا مدنی فرماتے ہیں :-
جناب شاہ حمزہ صاحب ماہروی مرحوم خزینۃ الاولیاء مطبوعہ کانپور صفحہ 15 پر ارقام کرتے ہیں ۔ تا آخر ( شہاب ثاقب)
مزید فرماتے ہیں !
مولوی رضا علی خان صاحب ہدایۃ الاسلام مطبوعہ صبح صادق سیتا پور صفحہ 30 میں فرماتے ہیں تا آخر ( شہاب ثاقب ص22)
غور فرمائیے ! کس دیدہ دلیری کے ساتھ مولانا مدنی علمائے اہلسنت کے اوپر دوسروں کی تصنیف کردہ کتابیں تھوپ رہے ہیں ۔ کیا آج کی دنیا میں اس سے بھی بڑھ کر اتہام بندی و بہتان تراشی کی کوئی جیتی جاگتی مثال مل سکتی ہے ۔ہمارا علمائے دیوبند کی صداقت کو چیلنج ہے کہ اگر ان میں ذرہ برابر بھی غیرت اور حق پسندی ہو تو خزینۃ الاولیاء اور ہدایۃ الاسلام کو منظر عام پر لا کر اپنی صداقت و دیانت کا ثبوت دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ اب بھی سویرا ہے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے ، بہتر ہو گا کہ شرم و غیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ گردن جھکا کر بارگاہ ایزدی میں تائب ہو جائیں ۔
وصّاعین اور کذابین کےاس طرز عمل کو تحریر کرنے کے بعد عقل و استدلال کی روشنی میں تبصرہ فرماتے ہوئے علامہ مشتاق نظامی رقم طراز ہیں :-
یہ نہ سمجھئیے کہ کذب و افتراء اور جعل و سازش کی یہ مہم یہیں پر آکر ختم ہو گئی بلکہ اپنے کالے جھوٹ پر سفید جھوٹ کی مہر توثیق ثبت کرنے کے لئے سیف النفی کے صفحہ 20 پر فاضل بریلوی قدس سرہ کے والد ماجد کا فرضی نشان مہر بھی بنا دیا جس کی صورت یہ ہے :

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Bukhari Ki is hadis se Ak Deobnd ne istadlal kia h k Nabi Alaihi Salaam apne wafat e zahri k bd Se umat pe ummat k Halaat mulhaiza nai kr rhe,,,,,

Warna ye na farmate k Mere bd tu hi in ka nigehban tha,,,,,,

is ka jawab chahiay

 

or Wo Dunya ko hathaili ki tra dakhne wali hadis agr tibrani or kanz ul ummal k alama kisi or sanad se maujud ho to anaeyt farmaen

post-17574-0-00791600-1468995824_thumb.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

بھائی,,,,اس حدیث پر کسی کسی امام کا قول اگر ہو تو پیش کردیں,,,,,یعنی اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مقصد اظہارِ بیزاری ہے نا کہ لاعلمی,,,,,,

اس کے علاوہ میں نے پوچھا تھا کہ اگر ساری دنیا کو ہتھیلی کی مانند دیکھنے والی روایت اگر طبرانی اور کنزالعمال کی سند کے علاوہ کسی اور سند سے روایت ہو تو وہ بھی عنایت فرمادیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

.......

Edited by Qadri Sultani
موضوع سے غیر متعلقہ باتیں ڈیلیٹ کی جائیں گی۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

پہلے حضور سیدی غوث پاک رضی اللہ عنہ سے منسوب جعلی کتاب کا جو حوالہ دیا ہے اسے ثابت کریں پھر کاپی پیسٹ کیجیے گا شوق سے۔


1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

پہلے حضور سیدی غوث پاک رضی اللہ عنہ سے منسوب جعلی کتاب کا جو حوالہ دیا ہے اسے ثابت کریں پھر کاپی پیسٹ کیجیے گا شوق سے۔

 

JIS KA JAWAB NA HO WO JALI KITAB HE, AUR POST KO DELETE KARDENA, YEHI BUZDILI HE TUMHARI AETARAFE SHIKAST BHI, KITAB K JALI HONAY KA DAWA TUM NE KIA HE TUM SABIT KARO K KITAB JALI HE, GOOGLE PAR BHI KITAB SEARCH KI JA SAKTI HE, LEKIN NACH NA JANE ANGAN TERHA, BARELVI HAQ NE 1 SAWAL KIA US SE POOCHTAY HO BUKHARI KI KONSI JILD HE, KHUD PATA KAR K US KO BATAO BARE MANAZIR BANE PHIRTAY HO TO. APNA JO BHI GAND HO WO UTHA K POST KARDETAY HO, BUZDIL, SHARAM ANI CHAHIYE.

 

DOOSRI KHAYANAT SAGE SABZIMANDI KARTA HE K HADEES KA SCAN US KITAB SE DETA HE K JIS KA MUSANNIF TUMHARA BIDDATI MAREEZUL UMMAT AHMAD YAR NAEEMI HE, NA TITLE NA COVER K DOOSRA SAMJHAY K SHAYAD KOI HADEES KI BOHAT BARI KITAB HE. JAB ARBI TEXT DETA HE TO TARJUMA NAHI DETA, APNE IN MUSHRIKANA AQIDON KO SABIT TO KAR NAHI SAKTAY, TAL MATOL KARTAY HO. 

post-17980-0-29410300-1469080919_thumb.gif

post-17980-0-07969600-1469080934_thumb.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

IS SE HAZIR NAZIR KAB SABIT HO RAHA HE, SAWAL TO YE THA K AAP SallAllahu alaihi wa sallam UMMAT K HALLAT SE WAQIF NAHI HONGAY, NA TARJUMA NA WAZAHAT, AQIDA SABIT KIA JA RAHA HE, NALAIQ AADMI ASLAAF ME SE KISI NE IS HADEES SE HAZIR NAZIR SABIT KIA HE JO TU AAJ MUJADDID BAN K AYA HE, SHARAM NAHI AATI ALLAH K DEEN ME TEHREEF KARTAY HUE.    

Share this post


Link to post
Share on other sites

NA TARJUMA NA WAZAHAT,

 

 

Yani ?? behrhal yeh lain aap hi ki bat :

 

 

 

JIS KA JAWAB NA HO WO JALI KITAB HE, AUR POST KO DELETE KARDENA, YEHI BUZDILI HE TUMHARI AETARAFE SHIKAST BHI, KITAB K JALI HONAY KA DAWA TUM NE KIA HE TUM SABIT KARO K KITAB JALI HE, GOOGLE PAR BHI KITAB SEARCH KI JA SAKTI HE, LEKIN NACH NA JANE ANGAN TERHA, BARELVI HAQ NE 1 SAWAL KIA US SE POOCHTAY HO BUKHARI KI KONSI JILD HE, KHUD PATA KAR K US KO BATAO BARE MANAZIR BANE PHIRTAY HO TO. APNA JO BHI GAND HO WO UTHA K POST KARDETAY HO, BUZDIL, SHARAM ANI CHAHIYE.

 

 

 

 

 

 

 

 

DOOSRI KHAYANAT SAGE SABZIMANDI KARTA HE K HADEES KA SCAN US KITAB SE DETA HE K JIS KA MUSANNIF TUMHARA BIDDATI MAREEZUL UMMAT AHMAD YAR NAEEMI HE, NA TITLE NA COVER K DOOSRA SAMJHAY K SHAYAD KOI HADEES KI BOHAT BARI KITAB HE. JAB ARBI TEXT DETA HE TO TARJUMA NAHI DETA, APNE IN MUSHRIKANA AQIDON KO SABIT TO KAR NAHI SAKTAY, TAL MATOL KARTAY HO. 

 

Ham sab Izzat daar gharanon say taluq rakhtay hain Alhamdulillah , hmaray ham yeh zban istemal naheen ki jati. Yeh zban sirf bad mazhabon k forums par hi allowed hay.

 

PLEASE READ FORUM RULES BEFORE POSTING.

Share this post


Link to post
Share on other sites

مستنصر صاحب نے سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک عبارت پیش کی اور کتاب کا حوالہ بھی دیا لیکن جب ان سے اس کتاب کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس کتاب کو لاؤ اور سچے بنے تو جناب ابھی تک مبہوت ہیں کہ کیا کیا جائے کیوں کہ اس کتاب کا سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے تعلق ہی نہیں ہے اس لیے انہوں نے خود سے ایک کتاب گڑی اور پیران پیر رضی اللہ عنہ سے منسوب کر دی۔

قادری سلطانی صاحب کا سوال آپ پر قرض ہے اس کا جواب دو

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.