Jump to content
IslamiMehfil

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کچھ بتادیا؟


Recommended Posts

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فتوی ہے کہ جو کوئی تم سے کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کچھ چھپایا تو وہ جھوٹا ہے.....

 

اس فتوی کو لیکر وہابی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم تھا تو وہ ہمیں بھی بتانا چاہئیے تھا کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فتوی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے سب کچھ بتادیا ....

 

اس حوالے سے جواب عنایت فرمائیں نیز اگر صحابہ سے یہ صراحت مل جائے کہ بعض علوم صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں تو بہتر ہوگا ..

اس کے علاوہ وہابی کا اصرار ہے کہ اللہ نے کدھر حکم دیا کچھ چھپانے کا.....اس کا جواب عنایت فرمائیں..

Link to post
Share on other sites

(bis)

بریلوی حق صاحب

آپ نئے سوالات بعد میں لائیں پہلے گروپ لیڈر ساجد خان دیوبندی سے اس کا جواب

لے کر دیں کہ عطائی علم غیب ماننے والے پر کیا حکم ہے؟

پہلے قرض اُتاریں پھر نیا تھریڈ لایا کریں۔

ان منافقین کو شرم آنی چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اقدس پرچوں چرا کرتے ہیں

پھر اتنے ڈھیٹ ہیں کہ اپنے آپ کو اُمتی بھی کہتے ہیں۔

اُمتی ہو کر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے

اتنی بڑی بارگاہ میں اتنی جراءت ؟

Link to post
Share on other sites

(bis)

ان منافقین کو شرم آنی چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اقدس پرچوں چرا کرتے ہیں

پھر اتنے ڈھیٹ ہیں کہ اپنے آپ کو اُمتی بھی کہتے ہیں۔

اُمتی ہو کر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے

اتنی بڑی بارگاہ میں اتنی جراءت ؟

 

Agar may nay yaha un logo kay namo ki list laga di jo kay apkay fatway say munafiq karar paingay, to shayd aap sharama kay maray is forum par doobara kabhi bhi apni shakal na dikhai.

Link to post
Share on other sites

بریلوی حق صاحب


ساجد خان تو دیوبندیوں کا مناظر ہے، وہ بحث کیوں چھوڑ گیا، یہ تو دیوبندیوں کی کھلی شکست ہے۔


اچھا آپ اپنی رائے لکھ دیں کہ عطائی علم غیب کا عقیدہ رکھنے والا مسلمان ہے یا نہیں؟


 ساجد خان کا موقف درست  ہےیا شبیر احمد عثمانی کا؟


Link to post
Share on other sites

(bis)

بریلوی حق صاحب

آپ کو پہلے بھی  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے میں جواب دیا جاچکا ہے ، نا معلوم آپ وقت کیوں ضائع کرتے ہیں؟

آپ سے عطائی علم غیب کے بارے میں سوال کیا ہے کہ

مولوی شبیر احمد عثمانی علم غیب عطائی کا عقیدہ رکھ کر مسلمان رہا یا نہیں؟

 

 

q 1.jpg

8.jpg

Link to post
Share on other sites

حضرت..... میرا صرف یہ سوال تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فتوی میں کچھ بھی نا چھپانے کا ذکر ہے.....میں نے صرف یہ پوچھا کہ اس فتوی پہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد احکام شریعت ہیں......کیونکہ بقول وہابی یہاں نفی مطلق ہے....یعنی کچھ بھی نہیں چھپایا......

Link to post
Share on other sites

بریلوی حق صاحب

آپ سے یہ سوال بھی کیا گیا تھا اس کا جواب بھی عنایت فرمادیں

آپ اپنی رائے لکھ دیں کہ عطائی علم غیب کا عقیدہ رکھنے والا مسلمان ہے یا نہیں؟

 ساجد خان کا موقف درست  ہےیا شبیر احمد عثمانی کا؟

 

آپ کے دوسرے سوال کا جواب بھی ان شائ اللہ تعالیٰ دیا جائے گا۔

Link to post
Share on other sites

عطائی علم غیب کا عقیدہ رکھنے والا بلا شک و شبہ مسلمان ہے.......اور میں بہت پہلے شبیر عثمانی اور تھانوی وغیرہ کا حوالہ دے چکا ہوں مگر موصوف کے مطابق وہ شخصیت پرست نہیں.....اس لئے ان لوگوں کا حوالہ نا دیا جائے...اس کے نذدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا

Link to post
Share on other sites

حضرت خضر علیہ السلام پہ علم غیب کے اطلاق کا قول تفسیر ابن کثیر سے دکھانے پہ وہابی پوسٹ

 

غیب سے متعلق زبردست علمی پوسٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علم غیب کا لفظ صرف اللہ کے لئے بولا جاتا ہے کسی مخلوق کے لئے نہیں

غیب کی تعریف بریلوی کتب جاء الحق، علم الرسول وغیرہ میں ہے کہ غیب سے مراد وہ پوشیدہ باتیں ہیں جس سے حواس انسانی نہ پاسکیں اور نہ بداھت عقل اسے ثابت کرے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علم کو علمِ غیب کہیں گے جو حواسِ ظاہرہ اور باطنہ سے نہ آ سکے۔ تو سرکارِ طیبہ صلی اللہ علیہ و سلم کا علم تو حواسِ ظاہرہ و باطنہ سے ہوا ہے اسے علمِ غیب نہیں کہا جا سکتا۔

آپ دیکھیں انبیاء علیہم السلام کی طرف جو علم القاء کیا گیا ہے اسے قرآن یوں کہتا ہے:

ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ•

(یوسف:102)

ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ•

(آل عمران:24)

تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ•

(ھود:49)

ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ•

(ھود:100)

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَ@[email protected]\ِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنْ الْغَافِلِينَ•

(یوسف:3)

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ•

(آل عمران:179)

وغیرہا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو علم دیا گیا ہے وہ علم وحی ہے یااخبار غیب، اطلاع غیب اور انباء غیب۔ اس کو پورے قرآن میں علم غیب کہیں بھی نہیں کہاگیا اور قرآن مقدس نے جگہ جگہ خدا تعالیٰ کے لیے عالم الغیب کا لفظ استعمال کیا ہے :

1: عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ

(الحشر:22)

2: عَالِمُ غَيْبِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ•

(فاطر: 38)

3: قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ•

(النمل: 65)

4: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ•

(الحجرات: 18)

وغیرہا آیات دلالت کر رہی ہیں کہ علم غیب اور عالم الغیب کے الفاظ اللہ ہی کےلیے اداکیے جاسکتے ہیں۔ یہی بات کئی محققین کے قلم سے زیب قرطاس ہوتی ہے جیساکہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

الوجدان الصریح یحکم بان العبد عبد وان ترقی وان الرب رب وان تنزل وان العبد قط لا یتصف بالوجوب اوبا الصفات الازمۃ للوجوب ولا یعلم الغیب ینطبع شیئ فی لوح صدرہ ولیس ذالک علماء بالغیب انما ذلک یکون من ذاتہ ( یعنی علم غیب ازخود ہوتاہے نہ کہ کسی کا عطاکردہ ) فالانبیاء والاولیاء یعلمون لا محالۃ بعض مایغیب عن العامۃ•

(تفہیمات الہیہ ج1ص245)

اور علامہ شامی فرماتے ہیں:

فعلم اللہ المذکور ہو الذی یمدح بہ و اخبر فی الآیتین المذکورتین بانہ لا یشارکہ فیہ احد فلا یعلم الغیب الا ہو و ما سواہ ان علم جزئیات منہ فہو باعلامہ و اطلاعہ لہم و حینئذ لا یطلق انہم یعلمون الغیب اذ لا صفۃ لہم یقتدرون بہا علی الاستقلال بعلمہ (یعنی یہ ان کی کوئی ایسی صفت نہیں ہے کہ جس سے وہ مستقل طور پر کسی چیز کو جان سکیں) ایضاً ہم ما علموا و انما علّموا•

(رسائل ابن عابدین ج2ص313)

علامہ عبدالعزیز پرھاروی لکھتے ہیں:

و اما علم بحاستہ او ضرورۃ (بداہۃ عقل) او دلیل فلیس بغیب و لا کفر فی دعواہ و لا فی تصدیقہ علی الجزم فی الیقینی و الظن عند المحققین و بہذا التحقیق اندفع الاشکال فی الامور التی یزعم انہا الغیب و لیست منہ لکونہا مدرک بالسمع او البصر او الدلیل فاحدہما اخبار الانبیاء لانہا مستفادۃ من الوحی و من خلق العلم الضروری فیہم او من انکشاف الکوائن علی حواسہم•

(نبراس علی شرح القائد ص 343)

اب معلوم ہو گیا کہ انبیاء علیہم السلام کی باتوں کو اور خبروں کو علم غیب نہیں کہاجائےگا

Link to post
Share on other sites

عطائی علم غیب کا عقیدہ رکھنے والا بلا شک و شبہ مسلمان ہے.......اور میں بہت پہلے شبیر عثمانی اور تھانوی وغیرہ کا حوالہ دے چکا ہوں مگر موصوف کے مطابق وہ شخصیت پرست نہیں.....اس لئے ان لوگوں کا حوالہ نا دیا جائے...اس کے نذدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا

 

bhai ap wahabi ko har jawab se bhagne kio de rahe hain.

 

Kya ap ka sirf ye he kaam hai k os k eterazat ka jawab dain?

 

wahabi shaksiat parasti se inkar kar k beh farar nahi ho sakta ...us se pochain us k maslak k akabir recent past mai kon hai..... ...Shabbir Usmani....Ashraf Thanvi etc ka hukum waziha karey. 

Umul Momineen k necklace gum hone ka waqiya-Thanvi ka jawab.jpg

Edited by ExposingNifaq
Link to post
Share on other sites

عثمانی وغیرہ کو تو چھوڑیں......میں نے کہا کہ آپ سرفراز صفدر کی کتاب سےاعتراضات پیش کررہے ہیں تو کہتا ہے...واللہ,ہم نے نام ہی پہلی بار سنا ہے...کون ہیں یہ صاحب......کہتا ہے میں حنفی ہوں ,دیوبندی یا بریلوی نہیں... ......اب ایسی صورتحال میں کیا کہا جائے ورنہ دیوبندیوں کے بڑے خود اپنے دھرم کے لئے اجتماعی خودجشی کا بندوبست کرگئے ہیں

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ .pdf
      اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
      ’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘
      ترجمۂ کنزُالعِرفان:غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(تفسیر صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۹، ۲ / ۵۸۶)
                  علمِ غیب سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان  رحمتہ  اللہ علیہ  کی کتاب ’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّہْ بِالْمَادَّۃِ الْغَیْبِیَّہْ ‘‘ (علم غیب کے مسئلے کا دلائل کے ساتھ تفصیلی بیان)اور فتاویٰ رضویہ کی 29ویں جلد میں موجود ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں (1)’’اِزَاحَۃُ الْعَیْب بِسَیْفِ الْغَیْب ‘‘(علم غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اور بد مذہبوں کا رد ) (2) ’’خَالِصُ الْاِعْتقاد‘‘ (علم غیب سے متعلق120دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب.
    • By Brailvi Haq
      نبی صلی الله عليه وسلم کل غیب پہ مامون ہیں
       
       
      المستدرک, جلد 4:صفحہ 41
    • By Brailvi Haq
      اس حوالے کا سکین ردکار ہے

    • By Brailvi Haq
      Ak wahabi ne Surah e tauba ki ayaat 101 ka tarjuma send ki he
       
      Tarjuma:Or baazay(kai) tmhare (Nabi صلی اللٰہ علیہ وسلم ) garoh k ganwaar munafik hen or baazay log Madinah wale,Ura rhe the nifaak per tm Inhen nai jante.Hm ko wo malum hen(Al Quran)
       
      یہ آیت نقل کرنے کے بعد اس کا اعتراض یہ ہے کہ اگر نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم کو علمِ غیب ہوتا تو کم از کم انہیں ان منافقوں کا ہی پتا چل جاتا.اس اعتراض کا فوری جواب درکار ہے.
×
×
  • Create New...