Sign in to follow this  
Followers 0
RAZVI TALWAR

Bade Wisal Gairullah Se Madad Mangna

273 posts in this topic

Adeel Salafi sahib ye kiya hy..?
 

Wesy thread toh Band nahi howa, Albata Ap Logon ki Copy_Paste khatam ho gyi hy..

post-16996-0-35930200-1485696595_thumb.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Yeh WAHABI DUNIYA K SAB se bare dajal or kazab hain
Jitna yeh jhoot bolte hain utna shayad hi koi duniya main jhoota paida huwa ho
inhon ne iblees ko bhi peeche chor diya hai LANAAAAAT hai ADEEL SALAFI LANAT
TU AESE HI LOGON KO GUMRAH KRTA RAHE GA OR IN LOGON KA AZAAB BHI TERE SIR HI AYE GA QAYAMAT K DIN LANATI INSAAN

Share this post


Link to post
Share on other sites

شکریہ جناب دوبارہ لاگ ان کروانے کا

 

 

اوپر جو روایت کا ضعف ہے اسکا جواب کب دینگے؟

 

اور محترم بھائیوں جو حجت ہے وہ بتادیا آپ کا اسکین لگانا بے سود ہے جناب اب

 

اور جناب کاپی پیسٹ کا اپنا یہ قول ذرا اپنے ایڈمن اور محقق کو پر بھی منطبق کرو کیا آپ کے یہ نام نہاد عالم خود لکھتے ہیں عربی اور اردو یہ سوال پہلے بھی کیا تھا تو جواب بدزبانی سے دیا گیا آپ لوگوں کی طرف سے

 

 

خیر بہر حال سوال وہیں کا وہیں ہے دوبارہ کر دیتا ہوں

 

 

جناب محترم یہ آخری پوسٹ کے جوابات درکار ہیں اور اگر جواب دے دئے ہیں تو وہ پوسٹ دوبارہ لگادو مجھے موبائل میں تلاش کرنے میں دقت ہوتی ہے

 

اس کے جوابات درکار ہیں

 

 

مقالات راشدیہ حجت نہیں ہے جناب جمہور محدثین کے حوالوں کے سامنے

 

 

اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے اس کے جوابات دئے ہیں اور اسکا رد نہیں آیا ہے

 

باقی رجل کون ہے یہ اعتراض اور روایت میں انقطاع ہے

 

باقی محدث فورم پر یہی پوسٹ ہے شاید کسی نے غور سے پڑھا نہیں کہ حجت کیا ہے اور کیا نہیں

Edited by Adeel Khan

Share this post


Link to post
Share on other sites

شکریہ جناب دوبارہ لاگ ان کروانے کا

 

 

اوپر جو روایت کا ضعف ہے اسکا جواب کب دینگے؟

 

اور محترم بھائیوں جو حجت ہے وہ بتادیا آپ کا اسکین لگانا بے سود ہے جناب اب

 

اور جناب کاپی پیسٹ کا اپنا یہ قول ذرا اپنے ایڈمن اور محقق کو پر بھی منطبق کرو کیا آپ کے یہ نام نہاد عالم خود لکھتے ہیں عربی اور اردو یہ سوال پہلے بھی کیا تھا تو جواب بدزبانی سے دیا گیا آپ لوگوں کی طرف سے

 

 

خیر بہر حال سوال وہیں کا وہیں ہے دوبارہ کر دیتا ہوں

 

 

جناب محترم یہ آخری پوسٹ کے جوابات درکار ہیں اور اگر جواب دے دئے ہیں تو وہ پوسٹ دوبارہ لگادو مجھے موبائل میں تلاش کرنے میں دقت ہوتی ہے

 

اس کے جوابات درکار ہیں

 

 

مقالات راشدیہ حجت نہیں ہے جناب جمہور محدثین کے حوالوں کے سامنے

 

 

اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے اس کے جوابات دئے ہیں اور اسکا رد نہیں آیا ہے

 

باقی رجل کون ہے یہ اعتراض اور روایت میں انقطاع ہے

 

باقی محدث فورم پر یہی پوسٹ ہے شاید کسی نے غور سے پڑھا نہیں کہ حجت کیا ہے اور کیا نہیں

Jawab..

Ary adeel sahib Shagird ki Tehqeeq ko Ankhain band kar k man'na , jab k Ustaad ki Tehqeeq ko hujjat na Samjhna.. Ye Kaisa asool hy..??

Jab k Shagird (zubair zai) ne khud is risaly ka zikar kiya  hy apny ustaad ki kitabon mein..

Aur ye bhi k Jab Shagird (zubair zai) ko mushkil pesh ati toh wo Ustaad (muhibullah arshdi) ki tarif raju karta..

 

attachicon.gifadeel 1.jpg

 

attachicon.gifadeel 2.png

 

attachicon.gifadeel 3.jpg

 

attachicon.gifadeel 4.jpg

 

attachicon.gifadeel 5.png

 

Adeel ab kis mun se kaho gy k ye hujjat nahi..???

Aur Wahabi Muhibullah arshdi ne ye nahi kaha k ye Meri zaati raye hy..

Balky usny Dalail bhi diye hain..zara parhny ki zehmat toh kar lo..

attachicon.gifab kis mun se inkar karo gy.png

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

جناب عدیل وہابی صاحب یہ بتائیں کہ غیر مقلد زبیر علی زئی کا کون سا حوالہ ہے جس کا جواب نہیں دیا گیا۔

آپ کے اپنے علماء نے انکا رد لکھ دیا ہے۔

اگر آپ کوئی حوالہ بتائیں جس کا رد نہیں لکھا وہ بتا دیں،ہم آپ کی تسلی کرا دیں گئے۔

مزید یہ ہے کہ کسی محدث نے ابو صالح کی روایت کو مالک الدار سے مرسل نہیں کہا۔اس کے برعکس محدثین کرام نے مالک الدار و مالک بن عیاض کے شاگردوں میں ابو صالح کا نام لکھا ہے۔

اگر بالفرض آپ کا پیش کردہ حوالہ مان بھی لیں پھر اصول کے تحت بھی جمہور محدثین کی بات حجت ہوتی ہے۔جیسا کہ آپ کے پسندیدہ عالم نے زبیر علی زئی کا اصول ہے۔اب ذرا مسلکی حمایت کو ترک کر کے علماء کرام کے حوالہ جات پڑھ لیں۔

التاريخ الكبير - البخاري ج 7 ص 304 رقم 1295 - -

۔ مالك بن عياض الدار أن عمر قال في قحط يا رب لا آلو الا ما عجزت عنه قاله على عن محمد بن خازم عن ابى صالح عن مالك الدار

الجرح والتعديل - الرازي ج 8 ص 213 : رقم 944

- مالك بن عياض مولى عمربن الخطاب روى عن ابى بكر الصديق وعمر بن الخطاب رضى الله عنهما روى عنه . أبو صالح السمان سمعت ابى يقول ذلك

تهذيب الكمال - المزي ج 22 ص 624 :

وقال عبد الرحمان ( 2 ) بن أبي حاتم ، عن أبيه : مالك بن عياض مولى عمر بن الخطاب . روى عن أبي بكر ، وعمر . روى عنه أبو صالح السمان . روى له أبو داود ، والنسائي في " اليوم والليلة " ، وابن ماجة

- الثقات - ابن حبان ج 5 ص 384 :

مالك بن عياض الدار يروى عن عمر بن الخطاب روى عنه أبو صالح السمان وكان مولى لعمر بن الخطاب أصله من جبلان مالك بن صحار الهمداني يروى عن حذيفة وابن عباس روى عنه الشعبي

- الطبقات الكبرى - محمد بن سعد ج 5 ص 12 :

مالك الدار مولى عمر بن الخطاب وقد انتموا إلى جبلان من حمير وروى مالك الدار عن أبي بكر الصديق وعمر رحمهما الله روى عنه أبو صالح السمان وكان معروفا

- تاريخ مدينة دمشق - ابن عساكر ج 65 ص 489 :

7180 - مالك بن عياض المعروف بمالك الدار المدني مولى عمر بن الخطاب ويقال الجبلاني سمع أبا بكر الصديق وعمر بن الخطاب وأبا عبيدة ۔

بن الجراح ومعاذ بن جبل وروى عنه أبو صالح السمان وعبد الرحمن بن سعيد بن يربوع وابناه عون بن مالك وعبد الله بن مالك

 

:علامہ الذهبي

: تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام رقم 94

- مَالِكُ بْنُ عِيَاضٍ الْمَدَنِيُّ، يُعْرَفُ بِمَالِكِ الدَّارِ. [الوفاة: 61 - 70 ه]

سَمِعَ: أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.

رَوَى عَنْهُ: ابْنَاهُ عَوْنٌ وَعَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو صَالِحٍ السَّمَّانِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ.

وَكَانَ خَازِنًا لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

محدث ابن خیثمہ اپنی تاریخ کبیررقم:1817 پر لکھتے ہیں۔

سَمِعْتُ مُصْعَب بن عَبْد الله يقول: مالك الدار مولى عمر بن الخطاب، روى عن أبي بكر، وعمر بن الخطاب وقد انتسب [ق/122/أ] ولده في جبلان، روى عن مالك الدار: أبو صالح ذكوان.

محدث ابن عساکر اپنی تاریخ دمشق جلد56 ص491 پر امام یحیی بن معین کے حوالے سے مالک الدار کے حوالہ سے لکھتے ہیں۔

أخبرنا أبو البركات بن المبارك أنا أبو طاهر الباقلاني أنا يوسف بن رباح أنا أبو بكر المهندس نا أبو بشر الدولابي نا معاوية بن صالح قال سمعت يحيى بن معين يقول في تسمية تابعي أهل المدينة ومحدثيهم مالك الدار مولى عمر ۔

بن الخطاب

محدث ابن عساکر اپنی تاریخ جلد56 ص492 پر امام علی بن المدینی کے حوالہ سے لکھتےہیں۔

أخبرنا أبو القاسم إسماعيل بن أحمد أنا عمر بن عبيد الله بن عمر أنا عبد الواحد ابن محمد أنا الحسن بن محمد بن إسحاق عن إسماعيل قال سمعت علي ابن المديني يقول كان مالك الدار خازنا لعمر

اور محدث المقدمی اپنی کتاب تاریخ رقم:337 پر لکھتے ہیں۔

مالك الدار خازن عمر بن الخطاب هو مالك بن عياض حميري

ان حوالہ جات سے مالک الدار کا حضرت عمر فاروق سے روایت کرنا اور اور ابوصالح کے ان سے ترجمہ کرنا واضح ہے۔ان حوالہ جات کے بعد ارسال کا اعتراض جہال کے علاوہ کون کرسکتا ہے۔

 

 

ایڈن بھیا بار بار یہ نہ لگاؤ اسکا جواب دیا تھا پہلے شاید آپ لوگوں نے پڑھا نہیں یا پڑھ کر گول کر گئے

 

 

خیر آپ کے ان حوالوں کا رد پھر سے دے دیتا ہوں

 

 

حذف نہیں کرنا

 

مالک دار کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے اور اسے معروف بتایا ہے ، ابن سعد کے حوالے سے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ابن سعد نے مالک دار کو مجہول ہی نقل کیا ہے اور جہاں تک (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے تو اس سے مالک دار کی ثقاہت اور ضبط وعدل اور معروف ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایسے بہت سے راوی ہیں جن کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے مگران کے ضبط و اتقان کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے اور ان پر سکوت اختیار کیا ہے مثلا:

(١)ابن سعد نے اسلم کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کیا ہے اور یہ عمر کے غلام تھے۔(طبقات ابن سعد جلد5 ص10 )اس کی کوئی صراحت موجودنہیں (ii ) ابن سعد نے ھُنَیّ کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کیا ہے مگر اس کے بابت بھی کوئی حکم نہیں لگایا ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے نہیں ہے یا معروف ہے اور یہ بھی عمر کے غلام تھے ۔ان دونوں کے بارے میں ابن سعد نے کوئی حکم نہیں لگایا ہے مگر مالک دار کے بارے میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ معروف نہیں ہے اور جب ان کو کسی روای کے بارے میں علم ہوتا تو اس کو بیان کر دیتے تھے اور ذیل میں ہم اس کی مثال نقل کر رہے ہیں :

(i ) ابن سعد نے ابو قُرةکو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے یہ ثقہ ہے اور اس سے بہت کم روایات ہیں اور یہ عبدالرحمن بن الحارث کے غلام تھے ۔

(ii ) ابن سعد نے ابن مرسا کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے یہ ثقہ ہے اور اس سے بہت کم روایات ہیں۔

(٢) ایک راوی صہیب ہیں جو حضرت عباس کے غلام تھے جیسا مالک دار حضرت عمر کے غلام تھے صہیب کے بارے میں محدثین کیا فرماتے ہیں ذرا ملاحظہ فرمائیں:

(i )امام حاتم نے صہیب کے مجہول ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فقط ابو صالح سمان نے روایت کیاہے ۔(الجرح و التعدیل ابن ابی حاتم جلد 4 ص413 )

(ii )تحریر تھذیب التھذیب میں بیان ہوا ہے کہ صہیب مجہول ہے۔ (تحریر تھذیب التھذیب جلد2 ص144 )

(iii )امام ذہبی نے کہا کہ میں اسے نہیں جانتا ۔(الجرح التعدیل جلد1ص236،میزان الاعتدال جلد2ص247 )

ان راویوں کو آپ کے سامنے رکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اگر کسی راوی کو اول مدینہ کے تابعین میں ابن سعد نے نقل کیا ہے اور اس کو معروف یااس کے ضبط اوراتقان کو نقل نہیں کیاتو محض ابن سعد کے(الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کر دینے سے وہ راوی ثقہ یا معروف نہیں ہوجاتا ہے ابن سعد نے اہل مدینہ کے اول طبقے میں بہت سے راویوں کو نقل کیا ہے اور ان کی ثقاہت کے بارے میں بیان بھی کیا ہے مگر مالک دار کو بیان کرکے اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے اور ایسے متعدد راوی ہیں کہ جن کے بارے میں ابن سعد کو علم نہیں ہوا ان کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا ہے اور اس کی مثالیں ہم نے اوپر پیش کیں ہیں۔

دوسرے راوی صہیب سے ابو صالح سمان نے ہی روایت کیا ہے جیسا کہ مالک دار سے روایت کیا ہے مگر محدثین نے صہیب کو مجہول قرار دیا ہے اس تمام بحث کا حصول یہی ہے کہ نیک ہونے کے ساتھ روای کی ثقاہت اور اس کا ضبط حدیث ثابت ہونا ضروری ہے نہ کہ یہ ثابت ہو کہ اس نے کس سے روایت کی ہے اور اس نے کون سا زمانہ پایا اگرنیک ہونے کے ساتھ حفظ و اتقان ہے تو راوی قابل قبول ہے وگرنہ کتنا ہی نیک ہو اس سے روایت قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ امام مسلم نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ:

'' ابی الزناد قال ادرکت بالمدینة مائة کلھم مامون مایوخذ عنھم الحدیث یقال لیس من اھلہ''

(مقدمہ صحیح مسلم ص 33 )

'' ابو الزناد (حدیث کے امام تھے) نے کہا میں نے مدینہ میں سولوگوں کو پایا سب کے سب نیک تھے مگر ان سے حدیث کی روایت نہیں کی جاتی تھی لوگ کہتے تھے وہ اس کے اہل نہیں ہیں ۔''

اس کی شرح میں امام نووی لکھتے ہیں کہ اگرچہ وہ دیندار تھے مگر حدیث کے مقبول ہونے کے لئے اور شرطیں بھی ضروری ہیںجیسے حفظ واتقان اور معرفت فقط زہدوریاضت کافی نہیںاس لئے ان سے روایت نہیں کرتے تھے(ایضاََ) اور امام یحیی بن سعید القطان فرماتے ہیں کہ میں ایک لاکھ دینار کے لئے جس آدمی کو صحیح سمجھتا ہوں ایک حدیث کیلئے اسے امین نہیں سمجھتا ہوں ۔(الکفایہ فی علم الروایہ) اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ صرف روای کی سوانح حال سے یا اس کے خزانچی ہونے سے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو مالک دار کی سوانح حال کو بیان کرنے والے اس کی توثیق خود کرتے اور اسے ثقہ اور معروف بتاتے ۔

اس کے بعد اس نقطہ کی جانب آتے ہیں کہ ابن سعد نے مالک دار کے بارے میں کہا کہ یہ معروف ہے یہ ایک غلط قول ہے ابن سعد نے مالک دار کو معروف نہیں کہا بلکہ ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے ابن سعد کا یہ قول ہم یہاں نقل کیے دیتے:

''وروی مالک الدار عن ابن بکر الصدیق وعمررضی اللہ عنہما روی عنہ ابو صالح السمان وکان معروفاََ'' ( طبقات ابن سعد جلد 5 ص12 )

'' اور روایت کیا مالک دار نے ابو بکر صدیق و عمر سے اور روایت کیا اس سے ابو صالح سمان نے اور وہ معروف ہے ۔''

ابن سعد نے ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے نہ کہ مالک دار کو کیونکہ اگر یہاں مالک دار کو معروف کہا گیا ہے تو حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں ابن ابی شعبہ کی روایت کو متصل مالک دار سے بیان کرتے مگر انہوں نے اسے ابو صالح سمان تک ہی صحیح کہا ہے کیونکہ وہ مالک دار کو نہیں پہچانتے جیسا ہم نے پہلی دلیل کے رد میں اسے بیان کیا ہے کیونکہ حافظ عسقلانی نے ابن سعد کا یہ قول اپنی کتاب التمیزفی صحابہ میں نقل کیا ہے اگر ابن سعد نے مالک دار کو معروف کہا ہوتا تو حافظ ابن حجر اس روایت کو صحیح مان لیتے کیونکہ وہ یہ قول اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں مگر انہوں نے اس روایت کو صحیح نہیں مانا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ابن سعد نے ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے نہ کہ مالک دار کو کہا ہے ۔

دوسری بات یہ کہ مالک دار کے حوالے سے تاریخ ابن عساکر سے جو باتیں نقل کی گئی ہیں اور جو واقعہ عبیدہ بن جراح سے نقل کیا گیا ہے یہ واقعہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں نقل کیا ہے اور اس میں مالک دار کو مجہول بتایا ہےتو یہ واقعہ ویسے ہی اعتبارکے قابل نہیں ہے۔(مجمع الزوائد جلد3 ص125 ) اور امام خیثمہ نے مالک دار کی سوانح حال بیان کیا مگر اس کے بارے میں کوئی توثیق نہیں کی ہے بلکہ امام ابن حاتم ہی کا الجرح التعدیل کا قول نقل کر دیا ہے تو اس سے بھی مالک دار کی کوئی توثیق نہیں ہوتی کہ وہ معروف ہے امام بخاری نے جو مالک دار سے روایت نقل کی ہے تاریخ الکبیر میں ہے اور اس میں بھی امام بخاری نے فقط یہی الفاظ نقل کیے ہیں:

'' فی زمانہ قحط یا رب الو الا ما عجزت عنہ ''(التاریخ الکبیر جلد 7 ص230 )

اگر امام بخاری اس واقعہ کو مستند مانتے تو اسے مکمل نقل کرتے مگر انہوں نے اس واقعہ کو مختصر نقل کیا ہے اور اس کی وجوہات ہم ذیل میں نقل کیے دیتے ہیں:

(i ) امام بخاری نے اس واقعہ کو اس لئے قبول نہیں کیا کہ یہ واقعہ مستند نہیں ہے کیونکہ یہ واقعہ الفتاح الکبیر میں بھی نقل ہوا ہےمگر اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمرتمیمی بلاتفاق محدثین ضعیف ہے ۔ (تہذیب التھذیب جلد3 ص583 ) اسی و جہ سے امام بخاری نے اس واقعہ کو نقل نہیں کیا ہے ۔

(ii ) امام بخاری نے اس واقعہ کو اس لئے بھی نقل نہیں کیا ہے کہ ان کی نظر میں یہ واقعہ اس حد تک بھی صحیح نہیں ہے کہ اسے اپنی صحیح کے علاوہ کسی اور کتاب میں بھی درج کریں امام بخاری نے صرف اپنی صحیح کے لئے ہی یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اس میں تمام صحیح روایات کو جمع کریں گے۔ ( فتح الباری جلد 1ص8-10 ) امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اس میں صرف صحیح احادیث نقل کریں گے اور اس کے علاوہ کسی کتاب کے لئے یہ شرط نہیں رکھی ہے تو اس واقعہ کو امام بخاری نے اس حد تک بھی قبول نہیں کیا کہ اسے اپنی دوسری کتب میں نقل کر تے تو امام بخاری کے نزدیک بھی یہ واقعہ کوئی مستند نہیں ہے جس سے حجت لی جا سکے ۔

(iii ) امام بخاری نے اپنی تاریخ الکبیر میں اس واقعہ کے جس حصے کو نقل کیا ہے اس کی سند کو بھی ایک علت کے ساتھ بیان کیا ہے پہلے ہم اس روایت کو نقل کیے دے دیتے ہیں اس کے بعداس کی علت کی نشاندہی کریں گے جس کی طرف امام بخاری نے اشارہ کیا ہے:

''مالک بن عیاض الدار ان عمر قال فی قحط یا رب الو الا ما عجزت عنہ قالہ علی (ابن المدینی) عن محمد بن خازم عن ابی الصالح عن مالک الدار''(التاریخ الکبیر جلد 7 ص230 )

 

 

 

اس روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الاعمش درمیان سے غائب ہے جبکہ اس کی سندجو مصنف ابن ابی شیبہ میں بیان ہوئی ہےاس میں الاعمش موجود ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہےتو کیا وجہ ہےکہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا اس بات سے امام بخاری یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ واقعہ ہی مستند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کو سرے سے نقل ہی نہیں کیا ہے اودوسرے اس کی سند میں الاعمش ہے جس کا ابو صالح سمان سے انقطاع موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا جس سے انہوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ اس روایت کی سند بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں الاعمش کا ابو صالح سمان سے انقطاع ہے اور جو بات ہم گزشتہ صفحات امام احمد بن حنبل اور سفیان کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اسی بات کی جانب امام بخاری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔

اس روایت میں نہ الاعمش کو محدثین نے اس کی تدلیس کے باعث حجت مانا ہے اور نہ مالک دار کے بارے میں کوئی توثیق ملتی کہ وہ ایک معروف راوی اور ضبط اور اتقان میں محدثین کے اصولوں پر پورا اترے مالک دار کے بارے میں جو یہ کہا گیا کہ امام بخاری ،ابن سعد ،ابن المدینی، حافظ ابن حجر اور دوسرے محدثین اس کو جانتے تھے اس کلام کا باطل ہونا ہم نے اوپر دلائل سے ثابت کیا ہے حافظ ابن حجر نے اس کی روایت پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اس پر سکوت اختیار کیا ہے جس سے محدثین کی مراد یہی ہوتی ہے کہ ان کو اس روای کے عدل و ضبط اور اس کے حالات کا علم نہیں ہوا ہے اور ابن سعد نے بھی اس کو معروف نہیں کہا ہے جیسا اوپر اس کے بارے میں باطل دلیل دی جارہی تھی اور ابن المدینی کے حوالے سے جو بیان کیا گیا ہے کہ ابن المدینی نے مالک دار کو خازن بتایا ہے تو یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ہے یہ بات تواس روایت کے شروع میں ہی موجود ہے کہ عمر کے خازن نے یہ واقعہ بیان کیا ہے ابن المدینی نے یہ بیان کرنے کے باوجود کہ مالک دار عمر کے خازن ہیں اس کے بارے میں کوئی کلام نہیں کیا کہ یہ روای معروف ہے یا ثقہ کسی راوی کا خازن ہونا اور بات ہے اور حدیث میں ثقہ ، معروف اور عدل وضبط میں پورا اترنا دوسری بات ہے جیسا کہ ہم نے اوپر امام مسلم اورامام یحیی بن سعید القطان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ صرف نیک ہونا راوی کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے اگرایساکوئی محدثین کا اصول ہو تاتو وہ اس اصول کی روشنی میں مالک دار کی ثقاہت کو مانتے اور اس کی تصدیق ضرور کر تے مگر جیسا ہم نے اوپر بھی بیان کیا ہے کہ ایسا کوئی اصول محدثین نے مرتب نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے کہ عمرکے خازن ہونے کہ باوجود ابن المدینی نے مالک دار کی توثیق نہیں کی بلکہ آخر میں ابن حاتم ہی کا قول نقل کر دیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امام بخاری نے اس کی سند سے روایت تو لی ہے اور اس میں بھی الاعمش کی وجہ سے انقطاع بیان کیا ہے اور دوسرے اس واقعہ کو بیان ہی نہیں کیا ہے جو سب سے بڑھ کر اس بات کی دلیل ہے کہ محدثین میں سے کسی نے مالک دار سے یہ واقعہ قبول نہیں کیا ہے اور ان محدثین کے اقوال ہمارے موقف کی تائیدمیں ہیں اور امام ہیثمی نے اس سے ایک روایت بیان کرنے کہ بعد یہ کہا کہ: ومالک دار لم اعرفہ و بقیہ رجال ثقات(مجمع الزوائد جلد3 ص125 ) ترجمہ:''اور مالک دار کو میں نہیں جانتا او ر باقی رجال ثقہ ہیں ''َ

اور ابن ابی حاتم نے بھی فقط اتنا ہی بیان کیا ہے کہ مالک دار سے فقط ابو صالح سمان نے روایت کیا ہے اور یہ امام ابن حاتم کا اسلوب ہے جو راوی مجہول ہوتا ہے اس کے بارے میں ابن ابی حاتم فقط اتنا فرما کر سکوت اختیار کر لیتے ہیں کہ یہ اس روای سے روایت کرنے والا منفرد ہے جس سے وہ یہ باور کراتے ہیں کہ یہ روای معروف نہیں ہے اور اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں ہم چند پیش کیے دیتے ہیں :

(i ) صہیب غلام تھا حضرت عباس کا اور ابن ابی حاتم نے اس کے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ فقط ابو صالح سمان نے اس سے روایت کی ہے۔(الجرح و التعدیل جلد4 ص413 )

اورجیسا کہ تقریب التھذیب میں بیان ہوا ہےکہ صہیب مجہول ہے۔(تحریر تقریب والتھذیب جلد 2ص144 ) اورمحدثین کی یہ لم اعرفہ کی اصطلاح بھی بہت معروف ہے جب محدثین یہ اصطلاح استعمال کرتے ہیں اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ وہ اسے جانتے نہیں ہے جیسا اوپر اس روایت کو صحیح کرنے کی دلیل میں بیان کیا گیا ہے بلکہ محدثین سے اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے مثلا جیسا امام ذہبی نے صہیب کے بابت یہ کہا ہے کہ لم اعرفہ میں اسے نہیں جانتا تو اس کے معنی یہی ہے کہ وہ معروف نہیں ہے وہ مجہول ہے جیسا تحریر تقریب و التھذیب میں بیان ہوا ہے کہ صہیب مجہول ہے۔ (تحریر تقریب و التھذیب جلد 2 ص144 ) اور دوسری مثال ام ابان جو ایک مجہولہ راویہ ہے اس کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں کہ:

'' مجھول تفرد بروایة عبدا لرحمن بن الاعنق''(میزان الاعتدال جلد4 ص439 )

''یہ راویہ مجھولہ ہے اور عبدالرحمن بن الاعنق اس سے روایت کرنے میں منفرد ہے '' ۔

اس میں اس راویہ کو مجہول کہہ کر امام ذہبی بھی وہی بات کہہ رہے ہیں کہ اس سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن الاعنق منفرد ہے اور یہی بات امام ابن حاتم کہتے ہیں جب کوئی راوی ان کی نظر میں مجھول ہوتا ہے کہ یہ راوی اس سے روایت میں منفرد ہے ۔

تو محدثین جب کسی کو لم اعرفہ کہتے ہیں یا روایت کرنے والے کو منفرد کہتے ہیں تو اس سے وہ یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ راوی مجہول ہے اور مالک دار کے بارے میں بھی امام ہیثمی اور امام ابن حاتم نے یہی اصطلاح استعمال کی ہے اور کسی بھی محدث نے اس واقعہ کو مستند نہیں مانا ہے جن کا ذکر کر کے صاحب کتاب نے اس واقعہ کوصحیح کرنے کی کوشش کی ہے ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

عدیل وہابی نے جو اعتراضات کیے وہ خود بھی اپنے اعتراضات کو نہیں سمجھتے۔ بیچارے کو اس کے مولویوں نے آگے لگایا ہوا ہے اور اس کو وہ بتاتیں ہیں جس کا اس کو خود بھی نہیں معلوم ہوتا۔جناب کے اعتراضات کے ۲ پہلو ہیں۔


اول یہ کہ مالک الدار مجہول ہیں۔


دوم یہ کہ س روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الاعمش درمیان سے غائب ہے جبکہ اس کی سندجو مصنف ابن ابی شیبہ میں بیان ہوئی ہےاس میں الاعمش موجود ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہےتو کیا وجہ ہےکہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا اس بات سے امام بخاری یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ واقعہ ہی مستند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کو سرے سے نقل ہی نہیں کیا ہے اودوسرے اس کی سند میں الاعمش ہے جس کا ابو صالح سمان سے انقطاع موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا جس سے انہوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ اس روایت کی سند بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں الاعمش کا ابو صالح سمان سے انقطاع ہے اور جو بات ہم گزشتہ صفحات امام احمد بن حنبل اور سفیان کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اسی بات کی جانب امام بخاری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔ 


اب ہم جناب غیر مقلد جاہل کے اعتراضات کے جوابات اس کے عالم زبیر علی زئی کی کتاب سے دیتے ہیں تاکہ اس کو سمجھ آ سکے۔


ان کے معتعمد غیر مقلد عالم زبیر علی زئی کے نزدیک محدثین کا سند کو صحیح کہنا اس روایت کے ایک ایک راوی کی توثیق ہوتی ہے۔


موصوف اپنی کتاب نور العینین جدید ایڈیشن ص56 پر محمود بن اسحاق الخزاعی کی توثیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔\


حافظ ابن حجر نے محمود بن اسحاق کی سند سے ایک روایت نقل کرکے اسے"حسن" لکھا ہے۔[موافقہ الخبر الخبرج۱ ص417]۔لہذا محمود مذکور حافظ ابن حجر کے نزدیک صدوق ہے۔


   


 


Share this post


Link to post
Share on other sites

 

عدیل وہابی نے جو اعتراضات کیے وہ خود بھی اپنے اعتراضات کو نہیں سمجھتے۔ بیچارے کو اس کے مولویوں نے آگے لگایا ہوا ہے اور اس کو وہ بتاتیں ہیں جس کا اس کو خود بھی نہیں معلوم ہوتا۔جناب کے اعتراضات کے ۲ پہلو ہیں۔

اول یہ کہ مالک الدار مجہول ہیں۔

دوم یہ کہ س روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الاعمش درمیان سے غائب ہے جبکہ اس کی سندجو مصنف ابن ابی شیبہ میں بیان ہوئی ہےاس میں الاعمش موجود ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہےتو کیا وجہ ہےکہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا اس بات سے امام بخاری یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ واقعہ ہی مستند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کو سرے سے نقل ہی نہیں کیا ہے اودوسرے اس کی سند میں الاعمش ہے جس کا ابو صالح سمان سے انقطاع موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا جس سے انہوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ اس روایت کی سند بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں الاعمش کا ابو صالح سمان سے انقطاع ہے اور جو بات ہم گزشتہ صفحات امام احمد بن حنبل اور سفیان کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اسی بات کی جانب امام بخاری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔ 

اب ہم جناب غیر مقلد جاہل کے اعتراضات کے جوابات اس کے عالم زبیر علی زئی کی کتاب سے دیتے ہیں تاکہ اس کو سمجھ آ سکے۔

ان کے معتعمد غیر مقلد عالم زبیر علی زئی کے نزدیک محدثین کا سند کو صحیح کہنا اس روایت کے ایک ایک راوی کی توثیق ہوتی ہے۔

موصوف اپنی کتاب نور العینین جدید ایڈیشن ص56 پر محمود بن اسحاق الخزاعی کی توثیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔\

حافظ ابن حجر نے محمود بن اسحاق کی سند سے ایک روایت نقل کرکے اسے"حسن" لکھا ہے۔[موافقہ الخبر الخبرج۱ ص417]۔لہذا محمود مذکور حافظ ابن حجر کے نزدیک صدوق ہے۔

   

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب عدیل وہابی صاحب اب کچھ سمجھ میں آیا،اگر نہیں تو یہ حوالے اپنے غیر مقلد عالموں سے پڑھا لیں تاکہ وہ آپ کو اچھی طرح سمجھا سکیں کہ اس حوالہ جات میں آپ کے زبیر علی زئی نے کسی سند کی توثیق کو راوی کی توثیق سمجھتے ہیں۔لہذا مالک الدار مجہول نہیں معروف اور صدوق ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس سے پہلے کی پوسٹ میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مالک الدار کی اس روایت کی بہت سے محدثین کرام نے توثیق کی ہے۔


اب بات ہے کہ جناب نے تاریخ الکبیر امام بخاری کے حوالہ دیا کہ اس میں الاعمش کا حوالہ نہیں ہے لہذا امام بخاری کے نزدیک یہ روایت مرسل ہے۔اس بارے میں عرض یہ ہے کہ آپ کی تحقیق ناقص ہے کیونکہ تاریخ الکبیر کا نسخہ ناقص ہے جس کی وجہ سے الاعمش کا ذکر کاتب سے رہ گیا یہ ہی روایات امام بخاری کے طریق سے محدث امام ابن عساکر نے اپنی کتاب تاریخ دمشق ج56 ص492۔493 سے باسند روایت کی ہے۔


أخبرنا أبو الغنائم محمد بن علي ثم حدثنا أبو الفضل بن ناصر أنا أحمد بن الحسن والمبارك بن عبد الجبار ومحمد بن علي واللفظ له قالوا أنا أبو أحمد زاد أحمد ومحمد بن الحسن قالا أنا أحمد بن عبدان أنا محمد بن سهل أنا البخاري قال  مالك بن عياض الدار أنا عمر قال في قحط يا رب لا آلوا إلا ما عجزت عنه اله علي يعني ابن المديني عن محمد بن خازم عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك الدار۔


اس حوالہ کے بعد کوئی جاہل ہی ایسا اعتراض کر سکتا ہے۔


 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

 

 

 

 

عدیل وہابی نے جو اعتراضات کیے وہ خود بھی اپنے اعتراضات کو نہیں سمجھتے۔ بیچارے کو اس کے مولویوں نے آگے لگایا ہوا ہے اور اس کو وہ بتاتیں ہیں جس کا اس کو خود بھی نہیں معلوم ہوتا۔جناب کے اعتراضات کے ۲ پہلو ہیں۔

اول یہ کہ مالک الدار مجہول ہیں۔

دوم یہ کہ س روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الاعمش درمیان سے غائب ہے جبکہ اس کی سندجو مصنف ابن ابی شیبہ میں بیان ہوئی ہےاس میں الاعمش موجود ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہےتو کیا وجہ ہےکہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا اس بات سے امام بخاری یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ واقعہ ہی مستند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کو سرے سے نقل ہی نہیں کیا ہے اودوسرے اس کی سند میں الاعمش ہے جس کا ابو صالح سمان سے انقطاع موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا جس سے انہوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ اس روایت کی سند بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں الاعمش کا ابو صالح سمان سے انقطاع ہے اور جو بات ہم گزشتہ صفحات امام احمد بن حنبل اور سفیان کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اسی بات کی جانب امام بخاری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔

اب ہم جناب غیر مقلد جاہل کے اعتراضات کے جوابات اس کے عالم زبیر علی زئی کی کتاب سے دیتے ہیں تاکہ اس کو سمجھ آ سکے۔

ان کے معتعمد غیر مقلد عالم زبیر علی زئی کے نزدیک محدثین کا سند کو صحیح کہنا اس روایت کے ایک ایک راوی کی توثیق ہوتی ہے۔

موصوف اپنی کتاب نور العینین جدید ایڈیشن ص56 پر محمود بن اسحاق الخزاعی کی توثیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔\

حافظ ابن حجر نے محمود بن اسحاق کی سند سے ایک روایت نقل کرکے اسے"حسن" لکھا ہے۔[موافقہ الخبر الخبرج۱ ص417]۔لہذا محمود مذکور حافظ ابن حجر کے نزدیک صدوق ہے۔

واہ جناب کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا

 

:)

 

 

 

اور جزء الرفع الیدین کو اب تو مان گئے پہلے ہی کہا تھا یہ اعتراضات ان دو کتابوں پر آپ کے بے سود ہیں لیکن اب خود ہی مان گئے اصول

 

پہلے ہی آپ کے نام نہاد محقق نے حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ کی اس عبارت کو نہیں مانا تھا اور اسی فورم پر اس نے یہ اعتراض کیا تھا

 

ایک طرف آپکا نام نہاد محقق اس عبارت کو مان نہیں رہا اور آپ ہو کے وہی حوالے دے کر اپنے نام نہاد محقق کو رگڑ رہے ہو؟

 

 

اپنے رضا محقق کو دکھاؤ اپنی یہ پوسٹ

 

 

ویسے

اپنا اور ہمارا وقت صرف آپ اور آپ کے نام نہاد محقق نے ضائع کیا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب عرض یہ ہے کہ ہم نے تو اس کتاب کی جزئیات کا بھی رد کیا ہے،اور اگر یہ کتاب امام بخاری سے ثابت بھی ہو جائے توہمیں مضر نہیں۔


مزید عرض یہ ہے کہ ہم نے یہاں غیر مقلد وہابی زبیر علی زئی کا اصول بتایا تھا کہ وہ کسی محدث کے سند کو صحیح کہنے سےاس کے روایوں کی توثیق سمجھتے ہیں۔


اور عدیل وہابی صاحب انوار الصحیفہ کا بھی حوالہ پیش کیا گیا ہے۔جو آپ ہضم کر گئے ہیں۔


اور جناب ہم نے کب محمود بن اسحاق کی توثیق کو تسلیم کیا ہے ہم نے تو زبیر علی زئی کے حوالے سے اس اصول کو پیش کیا ہے۔جب کہ اس حوالہ میں آپ کے زبیر علی زئی نے دھوکا اور فریب سے کام لیا ہے۔


کیونکہ حافظ اب حجر نے اس کی سند کو حسن نہیں کہا بلکہ اس حدیث کو حسن کہا  ہے۔اور جناب ذرا غور سے مطالعہ کریں تاکہ فرق واضح ہو سکے ،جناب حافظ ابن حجر نے اس حدیث کو  ابی داود کی حدیث کی سند کی متابعت کی وجہ سے حدیث حسن کہا ہے اور جناب حدیث حسن اور اسناد حسن میں جو فرق ہے وہ جاہل کیا جانے۔


احمد رضا بھائی نے جو امام بخاری کی کتاب جزء رفع الیدین کا رد کیا وہ بالکل صحیح ہے ۔


ذرا اسنادہ صحیح اور حدیث صحیح کا فرق ملحوظ رکھیں۔


 


Share this post


Link to post
Share on other sites

قارئین کرام اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ عدیل لامذہب نے جو اعتراض کتاب تاریخ الکبیر امام بخاری کا حوالہ دیا تھا اسکے جواب سے بھی بھاگ رہا ہے۔

مالک الدار کی حدیث کو مختلف محدثین کرام نے اسنادہ صحیح کہا ہے۔

وروى ابن أبى شيبة بإسناد صحيح من رواية أبى صالح السمان، عن مالك الدار قال: أصاب الناس قحط فى زمن ۱-عمر بن الخطاب، فجاء رجل إلى قبر النبى- صلى الله عليه وسلم- فقال: يا رسول الله، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل فى المنام فقيل له: أئت عمر.۔ [المواهب اللدنية بالمنح المحمدية

"وروى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح" واسمه ذكوان "السمان" بائع السمن "عن مالك الدار"۲ وكان خازن عمر، وهو مالك بن عياض مولى عمر، له إدراك، ورواية عن الشيخين ومعاذ وأبي عبيد، وعنه ابناه عبد الله وعوف وأبو صالح وعبد الرحمن بن سعيد المخزومي قال أبو عبيدة: ولاه عمر كيلة عمر، فلما كان عثمان ولاه القسم فسمي مالك الدار [شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية

 قال الحافظ أبو بكر البيهقي ():

ثنا أبو نصر بن قتادة، وأبو بكر الفارسي قالا: أنا أبو عمرو بن مَطَر، ثنا إبراهيم بن علي الذُّهْلي، ثنا يحيى بن يحيى، أنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن مالك الدَّار قال: أَصابَ الناسَ قحطٌ في زمانِ عمرَ -رضي الله عنه-، فجاء رجلٌ إلى قبر النبيِّ صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسولَ الله، استَسقِ اللهَ لأمَّتك، فإنهم قد هَلَكوا. فأتاه رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في المنام، فقال: ائتِ عمرَ، فأَقْرِئْهُ منِّي السلامَ، وأَخبِرْهُ أنهم مُسْقَون، وقل له: عليكَ بالكيسِ  الكيسِ. (فأتى الرجلُ، فأَخبَرَ عمرَ، وقال:)  يا ربُّ، ما آلو إلا ما عَجِزتُ عنه.
هذا إسناد جيد قوي

الكتاب: مسند الفاروق

المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي البصري ثم الدمشقي

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

ان حوالہ جات میں اسنادہ صحیح کہا گیا ہے ۔اب یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ اس سند کے تمام راوی عند المحدثین و محققین ثقہ ہیں۔


راویوں کی توثیق کے علاوہ جو بھی اعتراضات تھے ان کا جواب دیا جا چکا ہے۔


تدلیس پر بحث ہوچکی ہے


ارسال پر بھی بحث ہوچکی ہے۔


اور اگر تدلیس پر دوبارہ بحث شروع کی تو پھر کم از کم 100 زیادہ اسانید ایسی ہیں جو أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ کے طرق سے ہیں اور محدثین کرام نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

عجیب استدلال ہے اپنی روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے جزء الرفع الیدین جز القراء کی سند کا اصوال دے رہے ہو اور ایک طرف انہی کتابوں کی سند پر اعتراضات؟

 

والسلام ایڈمن بھائی

Share this post


Link to post
Share on other sites

عدیل صاحب اگر آپ اوپر والی پوسٹ کو پڑھ لیتے تو شاید دوبارہ یہی بات نہ کرتے۔

سب پڑھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے ابھی تک ہمارے بھائیوں میں سے کسی کا بھی جواب نہیں دیا ۔۔سوائے کاپی پیسٹ کے

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

عجیب استدلال ہے اپنی روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے جزء الرفع الیدین جز القراء کی سند کا اصوال دے رہے ہو اور ایک طرف انہی کتابوں کی سند پر اعتراضات؟

 

والسلام ایڈمن بھائی

ہم جو بھی رد کرتے ہیں وہ سب تمہاری ہی کتب سے کرتے ہیں جز رفع دیدین کا رد بھی زبیر زئی سے ثابت کیا تھا اور مالک الدار کا جواب بھی زبیر زئی سے دیتےہیں۔

 

زبیرزئی لکھتاہے

جس کے صحابی ہونے میں اختلاف ہو اورجرح مفسرثابت نہ ہو تو وہ حسن الحدیث راوی ہوتا ہے ، دیکھئے التلخیص الحبیر(ج1ص74ح 70)

وغیرہ[فتاوی علمیہ:ج1ص484]۔

post-18262-0-79084300-1486025163_thumb.jpg

 

مالک الدار کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ صحابی ہیں یا تابعی پھر اس پر کوئی جرح مفسر بھی نہیں ہے پھر تسلیم کیوں نہیں کرتے ان کو حسن الحدیث؟؟

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

واہ جناب کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا

 

:)

 

 

 

اور جزء الرفع الیدین کو اب تو مان گئے پہلے ہی کہا تھا یہ اعتراضات ان دو کتابوں پر آپ کے بے سود ہیں لیکن اب خود ہی مان گئے اصول

 

پہلے ہی آپ کے نام نہاد محقق نے حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ کی اس عبارت کو نہیں مانا تھا اور اسی فورم پر اس نے یہ اعتراض کیا تھا

 

ایک طرف آپکا نام نہاد محقق اس عبارت کو مان نہیں رہا اور آپ ہو کے وہی حوالے دے کر اپنے نام نہاد محقق کو رگڑ رہے ہو؟

 

 

اپنے رضا محقق کو دکھاؤ اپنی یہ پوسٹ

 

 

ویسے

اپنا اور ہمارا وقت صرف آپ اور آپ کے نام نہاد محقق نے ضائع کیا ہے

امام عسقلانی نے جس حدیث کو حسن کہا اور آخر میں اس کی سند میں قتادہ کی تدلیس بھی بتا دی جس سے ثابت ہوا امام عسقلانی نے اس کو حسن لغیرہ کی وجہ سے حسن کہا اور حسن لغیرہ خود ضعیف اسناد سے مل بنتی ہے۔ لو خود دیکھ لو

post-18262-0-39275800-1486031344_thumb.png

 

اور زبیر زئی نے خود اس راویت کی سند کو ضعیف لکھا ہے جس کو امام عسقلانی نے حسن کہا تھا۔

اب بتا محمود بن اسحاق کی توثیق خود زبیر زئی سے مردود ثابت ہو رہی ہے۔

خود دیکھ لو زبیر زئی کے اندھے مقلد

post-18262-0-88589200-1486031535_thumb.png

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.