Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts

غیرمقلدین کہتے ہیں کہ امام مالک ؒنے استواء ثابت کرکے مجہول الکیفیت قرار دیاہے لہذا صفات باری کے  حقیقی معنی مراد لے کر مجہول الکیفیت قراردینا درست ہے۔

 

جواب: یہ مقولہ امام مالکؒ سے ثابت ہی نہیں۔
(التعلیق علی کتاب الاسماء والصفات ج2ص151)

امام بیہقیؒ نے کتا ب الاسماء والصفات ج2ص150 اور حافظ ابن حجر عسقلانی ؒنے فتح الباری ج13ص498 باب و کان عرشہ علی الماء میں بسند جید امام مالکؒ کا صحیح قول نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن وھبؒ فرماتے ہیں کہ ہم امام مالک ؒکے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور امام مالک ؒسے کہنے لگا:

 

یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ  ! اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ ‘کَیْفَ اسْتِوَائُ ہٗ؟
اے ابوعبداللہ!رحمن عرش پر مستوی ہے ‘ اس کا استواء کیسے ہے؟
ابن وہب ؒفرماتے ہیں کہ امام مالکؒ نے سر جھکا لیا اور آپ کو پسینہ آگیا۔ پھر آپ نے سراٹھایا اور فرمایا:
اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ کَمَا وَصَفَ نَفْسَہٗ ‘لَا یُقَالُ کَیْفَ؟ وَکَیْفَ عَنْہٗ مَرْفُوْعٌ
رحمن عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اس نے خود بیان کیاہے ‘یہ نہ کہا جائے کہ کیسے؟(یعنی کیفیت کی نفی کی جائے)اور اللہ سے کیفیت مرفوع ہے(یعنی کیفیت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بولا جاتا)
اسی طرح امام ابوبکر بیھقیؒ اور علامہ ابن حجر عسقلانی  ؒنے ولید بن مسلم کے طریق سے نقل کیاہے کہ امام اوزعی  ؒ ‘امام مالک ؒ  ‘امام سفیان ثوری ؒ اور امام لیث بن سعد ؒسے ان احادیث سے متعلق سوال کیا گیا جن میں اللہ کی صفات کا بیان ہے تو انہوں نے فرمایا:
اَمِرُّ وْھَاکَمَا جَائَ تْ بِلَاکَیْفِیَّۃٍ 
ترجمہ:یہ احادیث جیسے آ ئی ہیں ویسے بیان کرو کیفیت کے بغیر۔  
(کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص198،فتح الباری لابن حجر ج13 ص498  باب و کان عرشہ علی الماء )
Link to post
Share on other sites
تو امام مالک سے مروی درج بالاروایات میں’’ کیف ‘‘کی باقاعدہ نفی ہے۔

اشکال : جب اللہ تعالیٰ مشابہات ِمخلوق سے پاک ہیں تو قرآن و حدیث میں ایسے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے جو انسان کو وہم میں ڈال دیتے ہیں ؟
جواب:  علامہ ابن جوزی ؒ نے ’’دفع شبہ التشبیہ‘‘ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی طبیعت پر محسوسات اتنے غالب ہو گئے تھے کہ لوگ محسوسات کے بغیر اپنے الٰہ کو سمجھتے نہیں تھے ۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے عرض کیا تھا: اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰہً کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ (سورہ اعراف 138) کہ ہمارے لئے بھی معبود بنائیے جس طرح ان کے معبود ہیں‘ اور مشرکین کے سوال ’’اللہ تعالیٰ کیا ہے ؟‘‘ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ o اَللّٰہُ الصَّمَدُ؁کہہ دیجئے! اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے ۔
 
اگر اس وقت ان کلمات کو ذکر کئے بغیر کہا جاتا:’’اَللّٰہُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلَا جَوْھَرٍ وَلَا عَرْضٍ وَلَا طَوِیْلٍ وَلَا عَرِیْضٍ وَلَا یَشْغُلُ الْاَمْکِنَۃُ وَلَا یَحْوِیْہِ مَکَانٌ وَلَا جِھَۃٌ مِنَ الْجِھَاتِ السِّتَّۃِ۔‘‘(اللہ تعالی نہ جسم ہے ، نہ جوہر، نہ طویل ، نہ عریض ، نہ امکنہ میں اتر کر ان کو بھر سکتا ہے اور نہ کوئی مکان اس کا احاطہ کرسکتا ہے اور نہ اس کے لئے جہات ستہ میں سے کوئی جہت ثابت ہے ) تو عام آدمی سمجھ نہ سکتا۔
 (دفع شبہ التشبیہ للامام ابن الجوزی: ص 107)
Link to post
Share on other sites
  • 2 years later...
  • 1 month later...

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...