Sign in to follow this  
Followers 0
sartajshafii

Istiwaaa

5 posts in this topic

asalamo alykum im sunni shafii from kashmir

 

IMAM MALIK AUR IMAM SHAFII RADI ALLAHU TAALA UNHUMAA KA ISTIWAA ALAL ARASH KA KYA AQIDAH HAI WAHABIYOUN KA RAD

Share this post


Link to post
Share on other sites

غیرمقلدین کہتے ہیں کہ امام مالک ؒنے استواء ثابت کرکے مجہول الکیفیت قرار دیاہے لہذا صفات باری کے  حقیقی معنی مراد لے کر مجہول الکیفیت قراردینا درست ہے۔

 

جواب: یہ مقولہ امام مالکؒ سے ثابت ہی نہیں۔
(التعلیق علی کتاب الاسماء والصفات ج2ص151)

امام بیہقیؒ نے کتا ب الاسماء والصفات ج2ص150 اور حافظ ابن حجر عسقلانی ؒنے فتح الباری ج13ص498 باب و کان عرشہ علی الماء میں بسند جید امام مالکؒ کا صحیح قول نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن وھبؒ فرماتے ہیں کہ ہم امام مالک ؒکے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور امام مالک ؒسے کہنے لگا:

 

یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ  ! اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ ‘کَیْفَ اسْتِوَائُ ہٗ؟
اے ابوعبداللہ!رحمن عرش پر مستوی ہے ‘ اس کا استواء کیسے ہے؟
ابن وہب ؒفرماتے ہیں کہ امام مالکؒ نے سر جھکا لیا اور آپ کو پسینہ آگیا۔ پھر آپ نے سراٹھایا اور فرمایا:
اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ کَمَا وَصَفَ نَفْسَہٗ ‘لَا یُقَالُ کَیْفَ؟ وَکَیْفَ عَنْہٗ مَرْفُوْعٌ
رحمن عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اس نے خود بیان کیاہے ‘یہ نہ کہا جائے کہ کیسے؟(یعنی کیفیت کی نفی کی جائے)اور اللہ سے کیفیت مرفوع ہے(یعنی کیفیت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بولا جاتا)
اسی طرح امام ابوبکر بیھقیؒ اور علامہ ابن حجر عسقلانی  ؒنے ولید بن مسلم کے طریق سے نقل کیاہے کہ امام اوزعی  ؒ ‘امام مالک ؒ  ‘امام سفیان ثوری ؒ اور امام لیث بن سعد ؒسے ان احادیث سے متعلق سوال کیا گیا جن میں اللہ کی صفات کا بیان ہے تو انہوں نے فرمایا:
اَمِرُّ وْھَاکَمَا جَائَ تْ بِلَاکَیْفِیَّۃٍ 
ترجمہ:یہ احادیث جیسے آ ئی ہیں ویسے بیان کرو کیفیت کے بغیر۔  
(کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص198،فتح الباری لابن حجر ج13 ص498  باب و کان عرشہ علی الماء )

Share this post


Link to post
Share on other sites
تو امام مالک سے مروی درج بالاروایات میں’’ کیف ‘‘کی باقاعدہ نفی ہے۔

اشکال : جب اللہ تعالیٰ مشابہات ِمخلوق سے پاک ہیں تو قرآن و حدیث میں ایسے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے جو انسان کو وہم میں ڈال دیتے ہیں ؟
جواب:  علامہ ابن جوزی ؒ نے ’’دفع شبہ التشبیہ‘‘ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی طبیعت پر محسوسات اتنے غالب ہو گئے تھے کہ لوگ محسوسات کے بغیر اپنے الٰہ کو سمجھتے نہیں تھے ۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے عرض کیا تھا: اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰہً کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ (سورہ اعراف 138) کہ ہمارے لئے بھی معبود بنائیے جس طرح ان کے معبود ہیں‘ اور مشرکین کے سوال ’’اللہ تعالیٰ کیا ہے ؟‘‘ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ o اَللّٰہُ الصَّمَدُ؁کہہ دیجئے! اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے ۔
 
اگر اس وقت ان کلمات کو ذکر کئے بغیر کہا جاتا:’’اَللّٰہُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلَا جَوْھَرٍ وَلَا عَرْضٍ وَلَا طَوِیْلٍ وَلَا عَرِیْضٍ وَلَا یَشْغُلُ الْاَمْکِنَۃُ وَلَا یَحْوِیْہِ مَکَانٌ وَلَا جِھَۃٌ مِنَ الْجِھَاتِ السِّتَّۃِ۔‘‘(اللہ تعالی نہ جسم ہے ، نہ جوہر، نہ طویل ، نہ عریض ، نہ امکنہ میں اتر کر ان کو بھر سکتا ہے اور نہ کوئی مکان اس کا احاطہ کرسکتا ہے اور نہ اس کے لئے جہات ستہ میں سے کوئی جہت ثابت ہے ) تو عام آدمی سمجھ نہ سکتا۔
 (دفع شبہ التشبیہ للامام ابن الجوزی: ص 107)

Share this post


Link to post
Share on other sites

اسلام عليكم و رحمة اللہ و برکاتہ 

زیشان بھائی کیا اوپر کے حوالہ کا اسکین مل سکتا ہے؟ ؟

اگر کسی اور بھائی کے پاس ہو تو بھیج دیں 

جزاک اللہ خیرا 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.