Sign in to follow this  
Followers 0
Raza Asqalani

امام ابن عبدالبر اندلسی مالکی کی مشہور کتاب جامع بیان العلم و فضلہ کا اردو ترجمہ

1 post in this topic

امام ابن عبدالبر اندلسی مالکی محدث شام علیہ الرحمہ کی مشہور کتاب جامع بیان العلم و فضلہ کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے العلم والعلماء کے نام سے۔ لیکن اس کا ترجمہ غیرمقلد عبدالرزاق ملیح آبادی نے کیا ہےہو سکتا ہے اس میں اس نے کوئی تحریف یا کوئی تبدیلی بھی کی ہو اس لیے اس کتاب پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا جہاں کہیں کوئی اس کتاب میں غلط بات ملے تو اصل عربی والی کتاب کی طرف رجوع کیا جائے۔


 


اس لنک سے ڈونلوڈ کریں۔


 


AL-ILM-WAL-ULAMA.pdf


AL-ILM-WAL-ULAMA.pdf

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Raza Asqalani
      قصاص  حسین رضی اللہ عنہ والی روایات کی تصحیح پر ناصبی غیرمقلد کفایت سنابلی کا تعاقب اور اس کا اصولی رد بلیغ
       
      غیرمقلد ناصبی سنابلی  نے یزید پلید کو بچانے کے لیے بہت زیادہ محنت کی اورضعیف اور مردو د روایات کی تصحیح کر  بہت سی قلابازیاں  بھی کھاہیں صرف اور صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لیے  لیکن الحمدللہ آج بھی حسینی زندہ ہیں یزیدیوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے۔
      یزید کے کالے کارنامے چھپانے کے لیے  اسی ناصبی نے تاریخ طبری کی ایک روایت پیش کی  جو قصاص کے متعلق تھی بقول سنابلی کے ۔اور اس میں ناصبی نے یہ ثابت کرنے کی  ناکام کوشش کی کہ عبیداللہ بن زیاد المعروف ابن مرجانہ (زنا کی پیداوار) نے اہلبیت عظام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور اس کا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل میں ہاتھ نہیں تھا نہ یزید پلید کا ہاتھ تھا  بلکہ شرپسندوں کا ہاتھ تھا۔
      سنابلی غیرمقلد نے  یزید کو بچانے کے لیےاس روایت کی آنکھ بند کر  کےبنا سوچے سمجھے تصحیح کر ڈالی۔
      ناصبی غیرمقلد کی جھوٹی تصحیح کا ردبلیغ
      اب ہم ناصبی سنابلی وہ روایت پر تحقیق کرتے ہیں اور اس کو اصول حدیث کی روشنی میں ضعیف اور مردود ثابت کرتے ہیں۔
      سنابلی ناصبی کی پیش کردہ روایت یہ ہے۔
      امام طبری  تاریخ طبری  (5/393) میں  روایت کرتے ہیں:
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا
      عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ........
      .........حَدَّثَنِي سعد بن عبيدة
      قَالَ: وجيء بنسائه وبناته وأهله، وَكَانَ أحسن شَيْء صنعه أن أمر لهن بمنزل فِي مكان معتزل، وأجرى عليهن رزقا، وأمر لهن بنفقة وكسوة قَالَ: فانطلق غلامان مِنْهُمْ لعبد اللَّه بن جَعْفَر- أو ابن ابن جَعْفَر- فأتيا رجلا من طيئ فلجأ إِلَيْهِ، فضرب أعناقهما، وجاء برءوسهما حَتَّى وضعهما بين يدي ابن زياد، قَالَ: فهم (وفى البغية فامر) بضرب عنقه، وأمر بداره فهدمت.
       
      ترجمہ بقول سنابلی: سعد بن عبیدہ کہتے ہیں کہ جب قافلہ حسین  رضی اللہ عنہ کی خواتین ، حسین رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں اور گھر والے عبیداللہ بن زیاد کے پاس پہنچائے گئے تو اس نے سب سے اچھا کام یہ کیا کہ ان کے قیام کے لیے ایک خاص اور الگ جگہ پر انتظام کیا اور ان کا کھانا پانی بھی وہیں پہنچانے کا حکم دیا اور ان کے کپڑے اور دیگر اخراجات فراہم کرنے کے بھی احکام دیے، اسی دوران ایک واقعہ  یہ پیش آیا کہ عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہ) کے دو بیٹوں نے بنوطے کے ایک شخص کے یہاں رکنے کا سوال کیا تو اس (ظالم ) نے انھیں قتل کردیا اور ان کے سر لے کر عبیداللہ بن زیاد کے سامنے پہنچا۔یہ دیکھ کر عبیداللہ بن زیاد نے اس کے قتل کا ارادہ کرلیا (اور  "بغیۃ الطلب" کے الفاظ ہیں کہ اس کے قتل کا حکم دیا) اور اس کے گھر کو منہدم کروادیا۔"
       
      یہ روایت نقل کرنے کے بعد غیرمقلد ناصبی کفایت سنابلی لکھتا ہے:
      اس روایت کی سند صحیح ہے۔سعد بن عبیدہ کتب ستہ کے ثقہ راوی ہیں اور بقیہ رجال کی توثیق پیش کی جا چکی ہے۔
      (یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ ص371-372)

       
       
       ناصبی غیر مقلد کی تاریخ طبری کی  اس روایت کو صحیح کہناغلط اور مردود  بلکہ اعلیٰ لیول کی جہالت ہے  کیو نکہ اس    روایت میں  عباد بن العوام  عن حصین  کا  طرق موجود ہے اور عباد بن العوام کا حصین بن عبدالرحمن سے سماع اس کے اختلاط ( حافظہ خراب ) ہونے کے بعد کا ہے۔
      جب غیرمقلد  ناصبی نے دیکھا کہ عباد بن العوام کا حصین بن عبدالرحمن سے سماع کا اعتراض ہو سکتا ہے تو ساتھ جھوٹ بول دیا کہ زیرتحقیق  حصین سے عباد بن العوام نے نقل کیا ہے اور عباد بن العوام کا حصین سے قدیم سماع ہے۔ اور اس بات کا حوالہ ایک نام معلوم شخص  اسماعیل  رضوان کی کتاب حصین بن عبدالرحمن السلمی و روایہ  فی الصحیحین کا  دے دیا
      اب پتہ نہیں اسماعیل رضوان نے قدیم السماع ہونے کی دلیل کس امام سے لی ہے؟؟۔(دیکھئے  یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ، صفحہ نمبر 352)
      اگرچے مجھے اسماعیل رضوان کی کتاب  نہ مل سکی اور نہ  ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ علم حدیث میں اس  کی کیا حیثیت  ہے کہ یہ کون ہے اور کہاں کا ہے ، وہابی ہے یا سنی ہے ؟؟؟ (واللہ اعلم)
       اس لیے  ہم اعلیٰ لیول کے محدثین اور محققین سے سنابلی کی اس بات کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں کہ عباد بن العوام کا سماع حصین بن عبدالرحمن سے قدیم نہیں بلکہ اختلاط (حافظہ خراب)  ہونے کے  بعد کا ہے۔
       
      اب  ہم آتے ہیں حصین کے قدیم شاگردوں کی تحقیق پر کہ حصین سے اس کے حافظہ خراب ہونے سے پہلے کن کن راویوں نے ان سے حدیث سنی ہے۔
      شیخ الاسلام امام  زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
      وقد سمع منه قديما قبل أن يتغير سليمان التيمي وسليمان الأعمش وشعبة وسفيان والله تعالى أعلم
      ترجمہ: اور تحقیق تغیر (حافظہ خراب ہونے )سے  پہلے سلیمان تیمی، سلیمان الاعمش ، شعبہ اور سفیان (ثوری) نے اس (حصین بن عبدالرحمن) سے سنا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
      التقييد والإيضاح شرح مقدمة ابن الصلاح
      النوع الثاني والستون: معرفة من خلط في آخر عمره من الثقات
      (1/458)

      حافظ الدنیا  امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
      فَأَما شُعْبَة وَالثَّوْري وزائدة وهشيم وخَالِد فَسَمِعُوا مِنْهُ قبل تغيره
      ترجمہ:برحال شعبہ، سفیان (ثوری)، زائدہ ،ہشیم اور خالد نے  (حصین بن عبدالرحمن سے)  ان کے حافظہ کے خراب ہونے سے پہلے سنا۔
      ھدی الساری مقدمة فتح الباری
      الْفَصْل التَّاسِع فِي سِيَاق أَسمَاء من طعن فِيهِ من رجال
      (1/98)

      امام المحدثین امام شمس الدین سخاوی لکھتے ہیں:
      وَفِي هَؤُلَاءِ مَنْ سَمِعَ مِنْهُ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ كَالْوَاسِطِيِّ وَزَائِدَةَ وَالثَّوْرِيِّ وَشُعْبَةَ،
      ترجمہ: اور ان میں مذکورہ (رواۃ) میں سے جنہوں نے حصین بن عبد الرحمن کے حافظہ  خراب ہونے سے پہلے سنا وہ واسطی، زائدہ، سفیان (ثوری) اور شعبہ ہیں۔
      فتح المغيث بشرح الفية الحديث
      مَعْرِفَةُ مَنِ اخْتَلَطَ مِنَ الثِّقَاتِ
      أمثلة لمن اختلط من الثقات
      (4/374)

      امام  المحدثین والفقہاء امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:
      وَمِمَّنْ سَمِعَ مِنْهُ قَدِيمًا سُلَيْمَانُ التِّيمِيُّ، وَالْأَعْمَشُ وَشُعْبَةُ وَسُفْيَانُ.
      ترجمہ:اور ان (رواۃ) میں سے جنہوں نے حصین بن عبدالرحمن سے (اختلاط) سے پہلے سنا وہ سلیمان تیمی، اعمش، شعبہ اور سفیان (ثوری) ہیں۔
       
      تدريب الراوي
      النَّوْعُ الثَّانِي وَالسِّتُّونَ مَعْرِفَةٌ مِنْ خَلَطَ مِنَ الثِّقَاتِ
      (2/903)

      امام الجرح والتعدیل  امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں:
      قال يزيد بن الهيثم عن يحيى بن معين: ما روى هشيم وسفيان عن حصين صحيح، ثم أنه اختلط.
      وقال أيضاً يزيد: قلت ليحيى بن معين: عطاء بن السائب وحصين اختلطا؟ قال: نعم.
      قلت: من أصحهم سماعاً؟ قال: سفيان أصحهم يعني الثوري وهشيم في حصين.
      ترجمہ: یزید بن الھیثم (ثقہ) نے کہا امام یحییٰ بن معین سے کہ (انہوں نے کہا) جو ہشیم اور سفیان نے حصین (بن عبدالرحمن)سے روایت کی وہ صحیح ہے، پھر ان کو اختلاط ہو گیا (یعنی حافظہ خراب ہو گیا تھا)۔
      اور اسی طرح   یزید بن الھیثم (ثقہ) کہا کہ میں نے امام یحییٰ بن معین سے پوچھا: عطاء بن السائب اور حصین کو اختلاط ہوگیا تھا؟
      انہوں نے کہا: ہاں۔
      میں (یزید بن الھیثم ) نے پوچھا: ان میں زیادہ صحیح سماع کن کا ہے؟ انہوں نے( یعنی  امام یحییٰ بن معین) نے کہا: سفیان ان میں زیادہ صحیح  یعنی ثوری  اور ہشیم ہیں  حصین کی (حدیث) میں۔
      شرح علل الترمذي
      حصين بن عبد الرحمن
      (2/739)

      امام برہان الدین ابناسی شافعی (متوفی 802 ھ) لکھتے ہیں:
      وقد سمع منه قديما أن يتغير سليمان التيمي وسليمان الأعمش وشعبة وسفيان
      ترجمہ: اورتحقیق  تغیر سے  پہلے سلیمان تیمی، سلیمان الاعمش ، شعبہ اور سفیان (ثوری) نے اس (حصین بن عبدالرحمن) سے سنا
      الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح
      النوع الثاني والستون
      معرفة من خلط في آخر عمره من الثقات
      (2/765)

      امام ابوالبرکات ابن الکیال شافعی (متوفی 929ھ) لکھتے ہیں:
      وقد سمع منه قديما قبل أن يتغير سليمان التيمي وسليمان الأعمش وشعبة وسفيان
      ترجمہ: اورتحقیق   تغیرسے پہلے سلیمان تیمی، سلیمان الاعمش ، شعبہ اور سفیان (ثوری) نے اس (حصین بن عبدالرحمن) سے سنا۔
      الكواكب النيرات في معرفة من الرواة الثقات
      (1/136)

      خود غیر مقلد ارشاد الحق اثری (جس کی تحقیق اور علم کو خود سنابلی بھی مانتا ہے اور خود  سنابلی نے اپنی  سینے پر ہاتھ باندھنے  والی کتاب  میں اس کی تعریف بھی بیان کی ہے) نے اس بات کو تسلیم کیا اور امام عراقی کے قول سے دلیل لی۔
      ارشاد اثری اپنی کتاب میں لکھتا ہے۔
      علامہ عراقی  لکھتے ہیں:
      وقد سمع منه قديما قبل أن يتغير سليمان التيمي وسليمان الأعمش وشعبة وسفيان والله تعالى أعلم
      ترجمہ بقول ارشاد اثری:  یعنی حصین سےتغیر سے پہلےسلیمان تیمی ، سلیمان  اعمش، شعبہ اور سفیان نے سماع کیا۔
      (توضیح الکلام ص450)

       خود ناصبی سنابلی  غیر مقلدصحیحین میں موجود مختلطین راویوں کی روایت کے بارے میں  خود اپنی جماعت کے غیر مقلد  گستاخ المحدثین زبیر زئی کا رد کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
      "الکواکب النیرات" کے محقق لکھتے ہیں:
      "و ھذ الذی ذکروہ من ان کل من روی عن المختلط و اخرج بطریقه صاحبا الصحیح و احدھما فھو ممن سمع منه قبل الاختلاط خلاف الواقع و مخالف لما صرح بہ ائمة الحدیث"
      ترجمہ بقول سنابلی: لوگوں نے جو یہ بیان کیا ہےکہ صحیحین کے مصنفین یا ان میں سے  کسی ایک نے مختلط  یا ان کے طرق سے جو بھی روایت نقل کی ہے، وہ ان کے اختلاط سے پہلے سنی ہو ئی ہے۔یہ بات حقیقت کے بر عکس ہےاور آئمہ حدیث کی تصریحات کے خلاف ہے۔
      یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ، صفحہ نمبر244
       
      جمہور محدثین سے بلکہ خود سنابلی کے چہیتے وہابی ارشاد اثری سے بھی  ہم نے  یہ ثابت کر دیا ہے کہ حصین بن عبدالرحمٰن السلمی قدیمی شاگرد  صرف سلیمان التیمی، امام اعمش ، امام شعبہ اور امام سفیان ثوری ہیں۔
      کسی ایک امام نے بھی عباد بن العوام کو حصین بن عبدالرحمن کا قدیمی شاگرد نہیں لکھا۔اس سے ثابت ہوا کہ عباد بن العوام کا سماع حصین سے اس کے حافظہ خراب ہونے کے بعد کا ہے ۔اور اصول حدیث میں حافظہ خراب ہونے  کے بعد کی روایت  کوضعیف و مردود  سمجھا جاتا ہے۔اس سے سنابلی ناصبی  کی تصحیح اور اس کا دعویٰ قدیم سماع والا دونوں جھوٹ اور باطل ثابت ہوئے۔(الحمدللہ)
       
      ناصبی سنابلی کی پیش کردہ دوسری روایت:
      وَقَالَ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ دَخَلْنَا الْكُوفَةَ، فَلَقِيَنَا رَجُلٌ، فَدَخَلْنَا مَنْزِلَهُ فَأَلْحَفْنَا، فَنِمْتُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِحِسِّ الْخَيْلِ فِي الْأَزِقَّةِ، فَحَمَلْنَا إِلَى يَزِيدَ، فَدَمَعَتْ عَيْنُهُ حِينَ رآنا، وأعطانا ما شئنا، وقال لي: إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي قَوْمِكَ أُمُورٌ، فَلَا تَدْخُلَ مَعَهُمْ فِي شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَا كَانَ، كَتَبَ مَعَ مُسْلِمِ بْنِ عُقْبَةَ كِتَابًا فِيهِ أَمَانِي، فَلَمَّا فَرَغَ مُسْلِمٌ مِنَ الْحَرَّةِ بَعَثَ إِلَيَّ، فَجِئْتُهُ وَقَدْ كَتَبْتُ وَصِيَّتِي، فَرَمَى إِلَيَّ بِالْكِتَابِ، فَإِذَا فِيهِ: اسْتَوْصِ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ خَيْرًا، وَإِنْ دَخَلَ مَعَهُمْ فِي أَمْرِهِمْ فَأَمِّنْهُ وَاعْفُ عَنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ فَقَدْ أَصَابَ وَأَحْسَنَ.
       
      ترجمہ بقول سنابلی: علی بن حسین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حسین رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے تو ہم کوفے میں پہنچے۔ ہم سے ایک آدمی نے ملاقات کی اور ہم اس کے گھر داخل ہوئے، اس نے ہمارے سونے کا بندوبست کیا اور میں سو گیا۔پھر گلیوں میں گھوڑوں کی آواز سے میری نیند کھلی، پھر ہم یزید بن معاویہ کے پاس پہنچائے گئے تو جب یزید نے ہمیں دیکھا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ،یعنی وہ رو پڑے، پھر انھوں نے ہمیں وہ سب کچھ دیا، جو ہم نے چاہا اور مجھ سے کہا: آپ کے یہاں کچھ معاملات پیش آئیں گے، آپ ان لوگوں کے کسی معاملے میں شرکت مت کیجئے گا۔پھر جب اہل مدینہ کی طرف سے یزید کی مخالفت ہوئی تو مسلم بن عقبہ کو یزید بن معاویہ نے خط لکھا، جس میں انہوں نے مجھے امان دی اور جب مسلم حرہ کے واقعے سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا تو میں ان پاس حاضر ہوا  اور میں اپنی وصیت لکھ چکا تھا تو انھوں نے مجھے وہ خط دیا جس میں لکھا ہوا تھا: علی بن حسین کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنا۔ اگر وہ اہل مدینہ کے معاملے میں شریک ہوجائیں تو بھی انہیں امان دینا اور انھیں معاف کر دینا اور اگر وہ ان کے ساتھ شریک نہ ہوئے تو یہ انھوں  نے بہت اچھا اور بہترکیا۔"
       
      ناصبی سنابلی غیرمقلد نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے:
      تاریخ الاسلام ط بشار(2/583) نقلا عن المدائنی ، و اسنادہ صحیح
      یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ، صفحہ نمبر338-339
       

       
      ناصبی سنابلی کا رد بلیغ:
      پہلے تو سنابلی کو شرم آنی چاہیے جو اس طرح کی سند کی تصحیح کر ڈالی وہ بھی بنا اصل کتاب کو دیکھے بنا۔
      امام ذہبی کی  پیدائش 673 ہجری کو ہوئی اور علامہ مدائنی کی وفات  پر کئی قول موجود ہیں  215ھ، 224ھ،  225ھ 228ھ ، 234ھ سن وفات  ذکر کتب رجال میں موجود ہے۔
      لیکن  سنابلی  نے بنا کوئی  مضبوط دلیل کے 215 ھ کو امام مدائنی  کی  وفات والے قول کو راجح قرار دے دیا۔
      یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ، صفحہ نمبر771
      پھر بھی سند منقطع ہے کیونکہ امام ذہبی سے لے کر علامہ مدائنی تک سند کا کوئی اتا پتا نہیں۔
       
      پھر سنابلی نے ایک نے نئی کہانی رچائی کہ امام ذہبی نے علامہ مدائنی کی کتاب سے نقل کرکے لکھا ہے لہذا امام ذہبی تک سند کا اعتراض ختم ہوا۔ اور علامہ مدائنی کی ایک کتاب الحرہ  بھی ہے جس کا ذکر امام ابن جوزی نے کیا ہے یزید کی مذمت والی کتاب میں۔ اور امام بن عساکر نے بھی اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔
      ملاحظہ ہو یزید پر الزامات کا تحقیقی جائزہ، ص  711-712))
      الجواب:
      سچ کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے امام ذہبی نے روایت کو لکھتے وقت  علامہ مدائنی کی کوئی کتاب کو ذکر نہیں کیا صرف یہی لکھا
      وَقَالَ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ:
      تاریخ الاسلام ط بشار(2/583)

      امام ابن جوزی نے منقطع سند کے ساتھ اس کتاب کا نام لیا
      امام ابن الجوزی لکھتے ہیں:
      ذکر المدائنی  فی کتاب  (الحرۃ) عن الزھری۔۔۔الخ (الرد علی المتعصب العنید، ص 67)

      امام ابن  جوزی نے بنا سند کے الحرہ کتاب  کو علامہ مدائنی کی  طرف منسوب کیا اور پتا نہیں یہ (بریکٹ) میں الحرۃ لفظ امام جوزی کا ہے یا  اس کتاب کے محقق نے اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے؟؟؟
       اور علامہ مدائنی کی اس کتاب کو روایت کرنے والا کون ہے ثقہ ہے غیر ثقہ ہے اس بات کا کچھ پتہ نہیں۔
      امام ابن عساکر نے بغیر کوئی سند کے الحرۃ کتاب کو علامہ مدائنی کی طرف منسوب کیا ہے لہذا امام ابن عساکر تک بھی اس کتاب کی صحیح یا حسن سند ثابت نہیں۔
      مخارق الكلبي له ذكر في كتاب الحرة كان في من وجهه يزيد إلى أهل المدينة مع مسرف بن عقبة المري واستعمله مشرف على ميسرة جيشه وقد تقدم ذكر ذلك في ترجمة طريف بن الخشخاش
      (تاریخ  دمشق لابن عساکر 57/132، رقم 7268)

      وافد الألهاني استعمله مسلم بن عقبة أمير جيش الحرة على خيله له ذكر في كتاب الحرة وقد سقت ذكره في ترجمة طريف بن الخشخاش "
      (تاریخ دمشق لابن عساکر 62/382، رقم 7955)

      لہذا سنابلی کا امام ذہبی امام جوزی اور ابن کثیر سے دلیل پکڑنا باطل ہے
      خود سنابلی کی اس دلیل کا رد خود سنابلی سے
      سنابلی نے جو نیا اصول بنایا تھا  یزید پلید کے دفاع میں پھر اسی اصول کو اپنی دوسری کتاب انوار البدر فی وضع  الیدین  علی الصدر میں توڑ دیا ہے کیونکہ اسی کا خود کا بنایا ہوا اصول خود اسی کے رد میں آ گیا تھا  اس لیے اسی اصول کو اپنی دوسری کتاب میں  ماننے سے انکار کردیا ہے جو اس سنابلی کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
      سنابلی سماک بن حرب کا دفاع کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
      امام ابن معین ناقل ہیں کہ امام شعبہ نے کہا
      کان شعبۃ یضعفۃ
      امام شعبہ انہیں ضعیف کہتے تھے۔(الکامل لابن عدی 4/541)
      عرض ہے کہ یہ تضعیف ثابت نہیں ہے کیونکہ امام ابن معین رحمہ اللہ نے امام شعبہ سے اس قول کی سند بیان نہیں کیا ہے لہذا امام شعبہ  سے اس قول کو نقل کرنے والا نامعلوم ہے۔
      ( انوار البدر ، ص 132)

      ایک اور جگہ سنابلی لکھتا ہے۔
      امام مزی رحمہ اللہ (742 المتوفی) نے کہا:
      قال علی بن المدینی ، والنسائی مجھول
      علی بن المدینی اور امام نسائی نے کہا یہ مجہول ہے۔
      (تہذیب الکمال للمزی 23/493)
      عرض ہے کہ امام علی بن المدینی اور امام نسائی سے یہ قول ثابت ہی نہیں امام مزی نے ان اقوال کے لیے کوئی حوالہ نہیں دیا اور دیگر محدثین نے امام مزی کی اسی کتاب سے یہ بات نقل کی ہے۔
      (انوارالبدر،ص 84)

      اور جگہ لکھتا ہے
      ابن الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی 597) نے کہا
      قال ابن المدینی لا یحتج بہ اذا انفرد
      ابن المدینی نے کہا جب یہ منفرد ہوں تو ان سے حجت نہیں لی جائے گی ( الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی 2/70)
      ابن الجوزی کی اسی بات کو امام ذہبی اور ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے۔ (میزان الاعتدال للذہبی 2/356، فتح الباری لابن حجر(1/457)
      عرض ہے کہ ابن الجوزی نے کوئی حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی کہیں پر اس قول کی سند موجود ہے بلکہ ابن الجوزی سے قبل کسی نے بھی ابن المدینی سے  یہ بات نقل نہیں کی ہے۔
      (انوارالبدر، ص 61)

      دیکھا آپ نے اس سنابلی یزیدی کی  منافقت جب امام ذہبی نے بنا کوئی سند سے امام مدائنی سے یزید والی بات نقل کر دی تو ایک نیا اصول بنا لیا کہ امام ذہبی ثقہ محدث ہیں اور جو انہوں نے بنا سند کے امام مدائنی سے جو نقل کیا ہے  وہ صحیح ہے  چاہے امام ابن المدئنی  کی کتاب  دنیا موجود ہی  نہ ہو۔
      اور جب وہی امام ذہبی نے سنابلی کے پسندیدہ راوی پر کسی امام سے بنا سند کے جرح نقل کی تو اسی سنابلی نے امام ذہبی کی اس جرح کو اس لیے ماننے سے انکار کر دیا کہ کہ امام ذہبی نے کوسند ذکر نہیں کی اور نہ ہی کوئی حوالہ دیا ہے۔
      اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سنابلی خود اس اصول میں پھنس چکا ہے اور خود اپنے بنائے ہوئے اصول کا منکر ہو چکا ہے لہذا اس کا امام ذہبی اور امام ابن جوزی سے دلیل پکڑنا اصولاً مردود ہے۔اور یہ روایت مردود ہے جب تک اس روایت کی سند یا  وہ کتاب جس میں یہ روایت موجود ہے مل نہیں جاتی  اس وقت اس روایت سے استدلال پکڑنا مردود ہے
      سنابلی کو رد خود اس کے پسندیدہ غیرمقلد ناصرالبانی سے:
      سنابلی اپنی جماعت کے غیرمقلد گستاخ المحدثین والفقہاء  زبیر زئی کا کتاب کی صحت پر ناصر البانی کے حوالے سے رد لکھتا ہے کہ ناصرالبانی سے کتاب کی سند اور صحت کے بارے میں سوال کیا گیا تو ناصرالبانی نے جواب دیا:
      الجواب:  رایی یختلف من کتاب الی آخر، فاذا کان کتاباً مشھوراً متواولاً بین ایدی العلماء و وثقوا بہ، فلا یشترط ، اما اذا کان غیر ذلک فانہ یشترط۔ میری رائے الگ الگ کتاب کے اعتبار سے الگ الگ ہے، چناں چہ اگر کوئی کتاب مشہور ہو، علما کے ہاتھوں میں عام ہو اور اہل علم نے اس پر اعتماد کیا ہو تو اس طرح کے نسخوں کی بابت ایسی کوئی شرط نہیں لگائی جائے گی، لیکن جب یہ
      معاملہ نہ ہو تو پھر یہ شرط لگائی جائے گی۔( سلسلۃ الھدیٰ والنور، 13/85، بحوالہ  یزید پر الزامات کا تحقیقی جائزہ، 363)

      ناصر البانی سے ثابت ہو گیا کہ جو کتاب مشہور نہ اور نہ ہی وہ کتاب علماء کے ہاتھوں میں ہو  تو اس پر سند کی شرط لگے گی اور علامہ مدائنی کی کتاب الحرۃ نہ تو یہ مشہور ہے اور نہ ہی یہ علماء کے ساتھوں میں دستیاب ہے اب تو اس کتاب کا میرے علم کے مطابق وجود ہی نہیں ہے تو پھر اس کو کیسے قبول کر لیا جائے بنا کوئی متصل سند کے؟؟
      خود سنابلی کا اعتراف حقیقت
      سنابلی خود اپنے وہابی محدث فورم پر ایک غیرمقلد کے کمنٹس کے جواب میں لکھتا ہے
      ہمارے نزدیک یہ اصول صد فی صد درست ہے کہ اگر کتاب مشہور ہو اہل علم نے اس پر اعتماد کیا ہو تو کتاب کی سند کی تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں وہ کتاب ثابت شدہ مانی جائے گا۔
      اور اگر کسی کتاب کی یہ خوبی نہ ہو تو اس کتاب کی سند دیکھی جائے گی۔
      یہی بات علامہ البانی نے بھی کہی ملاحظہ ہو۔
      (محدث فورم،  کفایت اللہ ،کتاب کی سند شرط نہیں ،اکتوبر14، 2013)

      خود سنابلی نے یہ کمنٹس دے کر خود اپنے پیر پر کلہاڑی مار دی ہے کیونکہ علامہ مدائنی کی کتاب  الحرۃ نہ تو مشہور ہے اور نہ ہی علما اور محدثین نے اس پر کوئی اعتماد ثابت ہے اور نہ ہی اب اس کتاب کا  کوئی وجود باقی ہے پھر کس منہ سے سنابلی بنا کسی سند کے اس کتاب کی روایت کو تسلیم کیے ہوئے ہے جب کے امام ذہبی تک کوئی سند بھی ثابت ہی نہیں ہے؟؟؟؟
      سنابلی یزیدی کا رد خود غیرمقلد  زبیر زئی گستاخ المحدثین سے
      گستاخ المحدثین زبیر زئی نے کتاب کی صحت پر تین اصول لکھے ہیں جس میں دوسرا اصول یہ ہے کہ
      ان کتابوں کا مصنفین تک انتساب بالتواتر یا باسند صحیح ہو۔ کتاب کے دیگر نسخوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
      (نورالعینین ، ص  62)

      سنابلی غیر یزیدی کی ایک اور قلابازی اور اس کا رد بلیغ
      سنابلی یزیدی لکھتا ہے۔
      دریں صورت اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ امام ذہبی اور امام ابن کثیر نے اس روایت کو امام مدائنی کی کتاب سے نقل نہیں کیا ہے تو بھی کم ازکم اتنی بات کا کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہاامام ذہبی اور ابن کثیر نے مدائنی سے اوپر پوری سند نقل کی ہے۔پھر جب مدائنی کی اسی روایت کو ابن عساکر نے بھی نقل کیا ہے جن کے پاس مدائنی کی کتاب موجود تھی تو اب یہ روایت ثابت ہو گئی اور مدائنی سے اوپر  سند صحیح ہے ، لہذا یہ روایت بھی بلاشک و شبہہ صحیح ہے۔
      (یزید پر الزامات کا تحقیقی جائزہ، ص 712)

      الرد:
      سنابلی کے پاس پتا نہیں عقل نام کی کوئی چیز ہے کہ نہیں جب امام ذہبی اور ابن کثیر کے پاس علامہ مدائنی کی کتاب نہیں تھی تو پورا  واقعہ اور علامہ مدائنی کے اوپر والی سند کیسے اور کہاں سے نقل کی؟؟؟
      اور اگر ابن عساکر نے یہ روایت نقل کی ہے تو اس کی سند کہاں ہے اور مطبوع تاریخ دمشق میں  یہ روایت موجود ہی  نہیں ہے ؟؟؟
      اگر امام ابن عساکر کے پاس امام مدائنی کی کتاب تھی تو اس کی سند پیش کی جائے کہ امام ابن عساکر تک یہ کتاب کتنے رواۃ کے وسط کے بعد پہنچی ہے تاکہ اس سند میں رواۃ کی جرح اور تعدیل کا پتا لگایا جاسکے؟؟؟؟
      جب کتاب کی صحیح سند ثابت ہی نہیں ہے پھر روایت کیسے صحیح ہو گی ہے سنابلی صاحب حیرت ہے تمہاری عقل پر۔
      لہذا سنابلی کی یہ دو رواتیں یزید پلید کی تعدیل میں غیرثابت ضعیف اور مردود ہیں
      سنابلی یزیدی کا رد خود  سنابلی  سے زبیر زئی سے اور اس کے پیارے غیرمقلد ناصرالبانی سے ثابت کر دیا ہے۔سنابلی یزیدی کے تمام دلائل کا رد بلیغ  ثابت ہو گیا ہے۔(الحمدللہ)
      خادم اہل بیت و صحابہ رضوان اللہ علیہم
      رضاالحسینی العسقلانی





















    • By Raza Asqalani
      ناصرالبانی نے اپنے غیرمقلد مبارکپوری کی تقلید میں بیس رکعارت تراویح  والی حدیث کی سند پر اعتراضات کیے پھر علماء نے اس کا ردبلیغ لکھا

      ناصرالبانی کے اس اعتراضات کے رد میں  تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين ركعة والرد على الألباني في تضعيفه

      کتاب سامنے آچکی ہے

      اور یہ کتاب انٹر نیٹ پر بھی موجود ہے۔

       

      20 rakat tarawi per Nasir Bani ka radd.pdf

    • By Raza Asqalani
      حضرت غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کے رسائل کا نایاب مخطوطہ

       

       

      مخطوط-رسائل-الشيخ-عبد-القادر-الجيلاني.pdf

    • By Raza Asqalani
      امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی نایاب کتاب حقیقۃ السنۃ والبدعۃ  جو آج کل بہت کم ہی دستیاب ہے

       

       

      Hakikat_Suna.pdf

    • By Raza Asqalani
      دلائل الخیرات کا ایک نادر اور نایاب مخطوط اور قلمی نسخہ

      دلائل الخيرات نسخة نادرة.pdf