Sign in to follow this  
Followers 0
Raza11

کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کلیئے لفظ تماشائی

33 posts in this topic

"مفتی حسن رضا خان کی نعت میں ایک لفظ آیا ہے" تماشائی جسے عموما استھزاء یعنی کسی کا مذاق آڑانا مقصود ہو اسے کھاجاتا ہے 

لفظ تماشائی تماشے سے ماخذ ہے تماشہ کھیل ڈرامہ یعنی غیر سنجیدہ عمل اسی مفھوم میں دیکھا جائے تو تماشائی فاعل کہ لیے کھا جاتا ہے آتا ہے یعنی کوئی شخص غیر سنجیدہ ہے آپ نے فعل میں 

آپ لوگوں سے التماس ہے کہ اس موضوع پر روشنی ڈالے 

 
دل میں ہو یا د تری گوشہ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو

آستانے پر تر ے سر ہو اجل آئی ہو
اور اے جان جہاں تو بھی تما شائی ہو

اس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحت
خاک طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو

آج جو عیب کسی پہ کھلنے نہیں دیتے
کب وہ چاہیں گے حشر میں رسوائی ہو

یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
ایسے یکتا کے کیے ایسی ہی یکتائی ہو

کھبی ایسا نہ ہوا کہ ان کے کرم کے صدقے
ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو

بند جب خواب اجل سے ہوں حسن کی آنکھیں
اس کی نظروں میں تری جلوہ نمائی ہو


حسن رضا خان

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب ڈکشنری میں تماشائی کے جو معنی ہیں وہ حسب ذیل ہیں،ڈکشنری کے مطابق یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔۔۔اسطرح نعت کے اس شعر پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتاIMG_4258.PNG

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

اولا یہ نعات اردو میں لیکھی گئی ہے تو جو اردو میں مفھوم عموم ہوں گا وہی لیا جائے گا 

دوما نا جانے آپ نے کھاں سے یہ جدید قسم  کی ڈکشنری اٹھا لائے جو عربی نحو کے ہی خلاف ہے ، 

پہلی بات یہ ہے کے پوری لغت عربی میں منبع الفاظ کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ تین حروف ہوتے ہے یعنی اصل   لفظ دو یا تین حروف پر مبنی ہوں گئےآگر یہ لفظ عربی زبان کا 

ہوگا تو اسکا اصل لفظ پھر تَمشَ

ت پر زبر دیکر  میم کو شین کے ساتھ ملاکر شین پر زبر دیکر کھڑا پڑھنا ہے

جس کا سیدھا مفھوم نکلتا ہے کے چل نکلا 

آپ دوبارہ سے کسی درست عربی لغت کی ڈکشنری چیک کریں 

جزاک اللہ

 

Edited by Raza11

Share this post


Link to post
Share on other sites

التیجانی صاحب لازمی تو نہیں کہ جو چیز جس زبان میں لکھی جائے  اس میں صرف اسی زبان کے الفاظ ہی لیے جائیں

اردو خود لشکری زبان ہے مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے

تماشائی کا معنی دیکھنے والا بھی آیا ہے نہ کہ آپ جو اس کا مفہوم لے رہے ہیں

اور ویسے بھی یہ کلام سیدی اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی کا ہے خود سیدی اعلیٰ حضرت کی نظر سے بھی گزرا ہو گا یہ کلام لیکن آج تک نہ تو کسی غیر نے اعتراض کیا لیکن آپ کو پتا نہیں کیا سوجھی کہ اعتراض لکھ مارا

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

ابھی ایک اور ویب سائیٹ اردو لغت ڈاٹ انفو پر  چیک کیا ہے۔دیکھنے والا، نظارہ کرنے والا ہی  معنی لکھا  ہے اور عربی کا لفظ کہا گیا ہے۔ اگر آپ کے پاس لغت میں کوئی اور معنی ہے تو یہاں شیئر کر دیں۔ ویسے یہ اعتراض آپ کی ذہنی اختراء معلوم ہو رہی ہے۔اگر ایسا کوئی اعتراض بنتا تو کب کا سامنے ہوتا۔ایک بات اوربھی مدنظر رکھی جائے کہ کلام کب لکھا گیا؟  اس کلام کو لکھے  ایک سو سال سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے۔بعض الفاظ کے لئے آج کل جو معنی عمومی لئے جاتے ہیں ضروری  نہیں تب بھی ایسا ہی ہو۔ مثال کے طور پر مولوی یا مُلا لفظ آج کل تضحیک و تمسخر اور کسی داڑھی والے فرد کو کم تر کہنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بڑے عالم و مفتی کو مولوی کہہ دیں تو برا مان جاتے ہیں۔ لیکن آج سے سو سال پہلے مولوی ایک با عزت لفظ تھا۔اسی طرح بالفرض اگر کسی کلام میں کوئی ایسا لفظ استعمال ہو جس کے آج کے دور میں صحیح معنی لئے جاتے ہوں اور آج سے سو سال بعد ۲۱۱۷ عیسوی میں اُس کے غلط معنی لئے جانے لگیں تو کیا آج کے دور کے لکھے اُس  کلام  کے معنی تب غلط ہوجائیں گے؟

Edited by Kilk-e-Raza

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

Keya jo lafaz gustakhi k matalab dy oski tavel krni sahe hy? like mati main milny k b buhat sy matlab hyn did we select good meaing of mati main milna ?????????? if not then we can not accept good meaning of Tamashae? becuase both has same cause

or

like Professor Masood said, moulana ne Ashraf ali thanvi RA ki ebarat ka buhat acha matlab leye / nekala

so can we accept this? if not then why?your ulma himself accept good meaning of Ashraf ali thanvi wording 

prof with Ulma barelvi

oper wala asool debonds ke ebarat par lago ho ga

Edited by bella

Share this post


Link to post
Share on other sites

بیلا صاحب پہلے تو آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ لفظ جو نعت کے ایک مصرعہ میں استعمال ہوا ہے وہ اہانت اور گستاخی پر مبنی ہے باقی باتیں بعد میں۔۔

خلط مبحث کرنے کی ضرورت نہیں آپ کی ان سب باتوں کا جواب پہلے ہی اس فورم میں کئی بار دیا جا چکا ہے۔

دیکھا تیجانی صاحب آپ کی ذہنی اختراع سے بد مذہبوں کو بھی منہ کھولنے کا موقع مل گیا۔۔اس لیے کوئی ٹاپک سٹارٹ کرنے سے پہلے سوچ سمجھ لیا کریں 

Share this post


Link to post
Share on other sites
11 hours ago, bella said:

oper wala asool debonds ke ebarat par lago ho ga

خلط مبحث مت کرو۔سادہ سا جواب یہ ہے کہ اُس گستاخانہ عبارت پر یہ اصول بالکل لاگو نہیں ہوگا۔ مزید جواب چاہیے ہو تو اس جو متعلقہ ٹاپک پہلے سے موجود ہے، وہاں بحث کرنے کیلئے ہم تیار ہے۔یہاں جو ٹاپک ہے اُس پر بات کرو۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ اصرار کیوں کیا جارہا ہے کے چونکہ سو سال پہلے اس پر کوئی اعتراض نا ہوا تو آج پہر کیوں اعتراض ہو ، کیا یہ کوئی منطق ہے پہر یہ کھنا کے اعلی حضرت نے بھی اس نعت کو پڑھا یا سنا ہوں گا یہ کیسے کھاجاسکتا ہے کے اعلی حضرت نے اس نعت کو پڑھا یا سنا ہو اس

بات کی کوئی دلیل ہے ؟؟ یہ لفظ اردو زبان کا ہے جس کے معنی ہی تمسخرا لیا جاتا ہے اور یہ کوئی آج کے دور کی بات نہیں کیونکہ اصل لفظ تماشہ ہے اور تماشہ سے مراد غیر سنجیدہ عمل یا مذاق والا یا کھیل ڈرامہ قرآن شریف میں سورة يوسف میں آیا 

(وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ)
[Surat Yusuf 94]

تفندون سے مراد تماشہ یہاں اس عمل کو نہیں پسند کیا گیا ہے پہر کیسے ممکن ہے کے عمل کو دیکھنے والے کی تعریف سمجھی جائے ؟

میںرے نزدیگ یہاں غالب امکان سھو کا ہے مفتی حسن رضا خان سے یقینا سھو ہوا ہوں گا 

 

Administration گزارش ہے کہ ٹوپک کو بلا وجہ بند مت کرے میری نیت اصلاح کی ہے نا کے اکابر پر کوئی قد غن لگانے کی 

جزاکم اللہ 

Edited by Raza11

Share this post


Link to post
Share on other sites

تیجانی صاحب تو پھر آپ ثابت کر دیں کہ استادِزمن علیہ الرحمت کا یہ کلام سیدی اعلٰی حضرت علیہ الرحمت نے نہ دیکھا نہ پڑھا نہ سنا۔۔

آپ نے پھر اپنی ذہنی اختراع سے تماشائی کا معنی اپنا من پسند نکالنے کی کوشش کی لیکن نہ تو آپ اس لفظ کو اردو کا لفظ ثابت کر سکے اور نہ ہی حوالہ دے سکے

اگر مولانا حسن رضا خاں صاحب سے سہو ہوا بھی تو آج تک نہ اکابرین میں سے کسی نے اسکی نشان دہی کی اور نہ ہی کوئی غیر اس پر اعتراض کر سکا لیکن آپ نے اعتراض لکھ مارا۔۔

اگر تحقیق کا شوق تھا تو اس کو مناظرہ اور رد بدمذہب والے سیکشن میں کیوں سٹارٹ کیا؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

IMG_4285.PNGIMG_4286.PNGبہت سی اردوڈکشنریز دیکھنے کا اتفاق ہوا،ہر جگہ تماشائی کے ایک سے زیادہ معنی دیکھنے میں ملے۔۔اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان کا ہی لفظ ہے۔۔لیکن تیجانی صاحب کے سر پر پتا نہیں کیا بھوت سوار ہے کہ اپنا من پسند مطلب نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام علیکم

  اردو لغت ڈاٹ انفو اور فیروز اللغات سے۔مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔یہاں تماشائی کا مطلب نظارہ کرنے والا ہی لیا جاوے گا۔

590c483e45c36_Screenshot(755).png.9fb5f2f3c036044e22dc5c27349c3ed9.png

590c48546d521_Screenshot(756).png.9deb47998046e15669a6ef9dfc4a9530.png590c48628e853_Screenshot(758).png.3f6874c735fde57c7c6515c546dc0edb.png

590c485a2888b_Screenshot(757).png.0913d1b001839bf856ccc93becd1a386.png

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں ہوں کے آپ لوگ بھی دیوبندیوں کے دیگر چل پڑے ہے وہ گھسی پٹی بات انکی چونکہ ہمارے بزرگوں نے لیکھا ہے چونکہ ہمارے بڑوں میں کسی نے اعتراض نہیں کیا اس لیے ایسا کھنا حتما غلط نہیں ہوسکتا 

بھائی میں بڑوں عزت کرتا ہوں لیکن یہ مان نہیں سکتا کے ان سے کوئی غلطی نہیں ہوسکتی آپ لوگوں عجیب روش اختیار کرلی ہے لفظ اساس میں ہی تمسخر کے طورپر لیا جاتا ہے پہر یہ کیسے ممکن ہے اسے مستخرج کسی لفظ کو احسن یا توقیر میں سمجھاجائے آپ لوگوں آپنی دیگئی ڈکشنریوں سے اس کا مفہوم واضح ہے کہ اس لفظ کو توقیر یا تحسین کے مفہوم میں نہیں لیا جائے گا Screenshot_2017-05-05-15-44-31.png.5f973e0cf587b149d64ce09a1b81a549.png

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب کاوہی حال ہے کہ اب کے مار۔۔ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج کسی کے پاس نہیں۔۔جب ایک لفظ کے معنی ایک سے زیادہ ہوں تو کیا آپ نے لازمی وہی معنی استعمال کرنا ہے جس میں آپ کو گستاخی کا شائبہ ہو؟؟لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم کی کثرت کیجیے شاید کوئی بہتری آۓ۔۔۔

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

1 hour ago, فقیرقادری said:

السلام علیکم

  اردو لغت ڈاٹ انفو اور فیروز اللغات سے۔مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔یہاں تماشائی کا مطلب نظارہ کرنے والا ہی لیا جاوے گا۔

590c483e45c36_Screenshot(755).png.9fb5f2f3c036044e22dc5c27349c3ed9.png

590c48546d521_Screenshot(756).png.9deb47998046e15669a6ef9dfc4a9530.png590c48628e853_Screenshot(758).png.3f6874c735fde57c7c6515c546dc0edb.png

590c485a2888b_Screenshot(757).png.0913d1b001839bf856ccc93becd1a386.png

 

جناب قادری آپ سمجھ نہیں رہے ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے ؟

ایک سے زیادہ کھاں ہے اس کے معنے ؟تماشہ اصل لفظ ہے جسےمستحسن معنوں میں کہیں پر بھی نہیں لیا گیا اب اسے ماخوذ لفظ تماشائی کھاں سے تعریف کے ذمے میں آگیا ؟؟

آپ خود دیکھیں کہ حدیث میں یھودی کے شعبدہ بازی کو تماشہ کھا گیا لیکن صحابی کو تماشائی نہیں لیکھا کیوں ؟کیونکہ یہ لفظ فرد توقیر نہیں کرتا بلکہ اس کا تمسخر آڑاٹا ہے 

Edited by Raza11

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب تیجانی صاحب۔ آپ اپنی علمی حیثیت پہلے بیان کریں۔ اور آپ نے لکھا کہ یہ اردو زبان کا لفظ ہے۔ اس پر کوئی حوالہ پیش کریں۔ پھر آگے بات ہوگی۔ یا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ایک ذہنی اختراء و سوچ کو ہم من و عن تسلیم کر لیں؟ شروع سے اب تک آپ نے سوائے اپنی ذہنی اختراء و شیطانی وسوسوں کے علاوہ کوئی صحیح بات نہیں کی اور نہ حوالہ پیش کیا۔ آپ ایک سچے عاشق رسول کو بلاوجہ اپنی ذہنی اختراء سے گستاخ رسول ثابت کرنے پر تُلے ہیں؟ اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہو سکتا ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ یہ تحقیق ہے۔ اگر آپ اپنی تحقیق میں اتنے ہی سچے اور حق کے متلاشی ہیں تو بجائے عام بندوں سے سوال کرنے کے دو چار سُنی علماء سے فتوی ہی لے لیتے۔ شاید اُس سے آپ کی تسلی ہو جائے کہ یہ کس زبان کا لفظ ہے اور اس طرح استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں۔ لغت کی کتب سے عربی لفظ کو آپ نے اُٹھا باہر پھینکا۔ اب عام بندہ عربی کا علم کیا جانے جو آپ کو اس لفظ کا اصل ماخذ بتا سکے۔ اگر آپ کے پاس کوئی حوالہ اور اصل ماخذ  نہیں ہے تو آپ سب سے پہلے لاحول ولا قوۃ پڑھ کر شیطانی وسوسے کو دور کریں اور پھر کسی صحیح العقیدہ سُنی مفتی سے تفصیلی فتوی لیں اور یہاں بھی پوسٹ کر دیں۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
14 hours ago, Raza11 said:

جناب قادری آپ سمجھ نہیں رہے ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے ؟

ایک سے زیادہ کھاں ہے اس کے معنے ؟تماشہ اصل لفظ ہے جسےمستحسن معنوں میں کہیں پر بھی نہیں لیا گیا اب اسے ماخوذ لفظ تماشائی کھاں سے تعریف کے ذمے میں آگیا ؟؟

آپ خود دیکھیں کہ حدیث میں یھودی کے شعبدہ بازی کو تماشہ کھا گیا لیکن صحابی کو تماشائی نہیں لیکھا کیوں ؟کیونکہ یہ لفظ فرد توقیر نہیں کرتا بلکہ اس کا تمسخر آڑاٹا ہے 

آپ کہے رہے ہیں کے اس کے ایک سے زیادہ معنی کہاں ہیں میں پوچھتا ہوں کے یہ کہاں لکھا ہے کے اِس کا صرف ایک ہی معنی ہے۔آپ باتیں تو کب کی کر رہے ہیں لغت کی کتابوں سے حوالہ کب دیں گے ؟ غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے آپ غور فرمائیں کے کہیں آپ اپنی نفس سے دھوکہ تو نہیں کھا رہے؟ ایک دفع پھر غور و فکر کر لیں ٹھنڈے دماغ سے۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب من ، آئیے بقول آپ کے ڈھنڈے دل و دماغ سے سوچتے ہے کہ یہ لفظ تماشائی شرعی اور لغوی اعتبار سے کس طرح دیگر امور پر درست آتا پے 

پاکستان میں کوئی 100 کے قریب ٹی وی چینل ہے جن میں اکثر چینلوں میں ڈرامے فیلمیں اور دیگر بےحیائی اور نا جانے کیا کیا دیکھا یا جاتا ہے ، اور کوئی 4 یا 5 چینل میں دین کی باتیں بتائی جاتی ہے جیسا کے دعوت اسلامی والوں کا مدنی چینل ہے یا سعودیہ سے براہ راست مکہ اور مدینہ کی نمازیں اور قرآن شریف  کی تلاوت حسنہ 

اب اگر میں کھوں کے چونکہ تماشائی کا معنی دیکھنے والا ہوا تو ہم سب تماشبین ہوئے اور تماشبین یا تماشائی تماشہ دیکھنے والے کو کھتے ہے تو کیا میں کھے سکتا ہوں نعوذ باللہ من ذالک کے ٹی وی پر جو کعبہ کا طواف دیکھایا جا رہا ہے وہ تماشہ ہے ؟؟ یا مدینہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت دیکھائی جاری ہے وہ بھی تماشہ ہے ،کیونکہ میں دیکھنے والا ہوں اور تماشائی کھلاتا ہوں تو کیا میرے سامنے یہ جو چیزیں چل رہی ہے وہ کیا تماشہ کھلا سکتی ہے ؟؟

 

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی 

آپ عالم دین اور محقق بھی ہے کئی کتابین لیکھ چکے ہے اور آجکل آپ ٹی وی پر پروگرام ضابطہ حیات میں باقاعدہ سے نشست رکھتے ہے آپ سے میں نے میسنجر کے ذریعہ رابطہ کیا اور انھوں نے بھی میری بات کی تایید کی لیجئے آپ لوگ دیکھ لیں 

Screenshot_20170506-123004.thumb.png.c7ec991b7a096ea40072876b437a6185.png

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

زبان کے انداز اور استعمالات بدلتے رہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے ؟ میرے خیال میں آپ کو سمجھ نہیں آیا۔

اعلی حضرت رحمہ اللہ کے اس شعر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ جواب ضرور دینا۔

 

تیری آمد تھی کے بیت اللہ مجرے کو جھکا

تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گیا

 

 

 

Edited by فقیرقادری

Share this post


Link to post
Share on other sites

فقیر قادری زبان کے انداز اور استعمالات بدلتے رہتے ہے یقینا کبھی کسی لفظ کو کوئی اہمیت حاصل اور وہ بعد میں آپنی اہمیت کھو جائے اس کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے جیسا کے پورانے وقت میں لفظ آداب کھانا احتراما آہمیت رکھتا تھا لیکن آج کل یہ قریبا مفقود ہوچکا ہے 

لیکن جہاں تک تعلق ہے اس لفظ تماشائی کا تو یہ کل بھی تقصیر کے لیے استعمال ہوا کرتا تھا اور آج بھی اس کو اسی معنوں میں لیا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لفظ صریحا غلط ہے 

دوم اعلی حضرت کا یہ شعر تیری آمد تھی کے بیت اللہ مجرے کو جھکا 

مجرة عربی کا لفظ ہے آخر میں ت مربوط  آتا ہے جسے پڑھا نہیں جاتا اردو کے تلفظ کے لے یہاں بڑی یے لگا دیا گیا ہے ، مجرة  کے معنی ہے کھکشاں آسماں کے آوپر افلاک اسے عربی میں مجرة کھتے ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites
14 hours ago, Raza11 said:

 لیکن جہاں تک تعلق ہے اس لفظ تماشائی کا تو یہ کل بھی تقصیر کے لیے استعمال ہوا کرتا تھا اور آج بھی اس کو اسی معنوں میں لیا جاتا ہے

اس بات کا ثبوت کسی لغت کی کتاب سے دے دیں کے یہ کل بھی تقصیر کے معنوں میں ہوتا تھا۔بات ختم کرتے ہیں۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Acha ap wohi teejani hain Imam Mahdi Radi Allahu Unhu ke name par behs karnay walay phir to ap say behs e bay maani hay

IMG_4295.JPG.8805838a238cc4aed9e85b7624013aa1.JPG

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

لفظ تماشہ کا کیا مطلب ہے ؟ آگر لفظ تماشہ توقیر اور تعریف کے ذمے میں آتا ہے تو بتایے ؟

تماشائی تماشہ سے ماخوذ ہے یہ کسی اور لفظ سے نہیں نکلا اگر اور لفظ سے نکلا ہے تو بتایے ؟ بات بکل سیدھی اور صاف ہے لیکن میں نامانو کی رٹ 

 

جن آفراد کو امام مھدی کے حوالے سے مجھ سے بحث کرنی ہے وہ علامہ اقبال اور نظریہ امام مھدی کے حوالے سے میری گفتگو سن لیں جو اسی فورم پر موجود ہے اور بیشک آپنے اعتراضات وہاں پر لیکھ دیے ان شاء اللہ جواب مل جائے گا 

 

 

Edited by Raza11

Share this post


Link to post
Share on other sites

فاروق رضا تیجانی صاحب میں نہ مانوں کی رٹ آپ نے لگائی ہوئی ہے نہ کہ ہم نے۔۔اپنے دعویٰ کی دلیل میں اب تک آپ ایک بھی حوالہ پیش کرنے میں ناکام رہے۔۔نہ آپ تماشائی کو اردو کا لفظ ثابت کر سکے اور نہ ہی اپنا مدعا ثابت کر سکے۔۔

امام مہدی رضی اللہ عنہ کے ٹاپک پر ہم آپ سے بحث کر چکے ہیں وہاں بھی آپ نے جس ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا تھا اسے ہم ابھی بھولے نہیں۔

ہمیں امام مہدی رضی اللہ عنہ کے لیے علامہ اقبال کا نظریہ نہیں چاہیے ہمیں احادیث اور محدثین کا کلام ہی کافی ہے۔لاحول ولا قوةالا باللہ العلی العظیم کا ورد جاری رکھیے شاید کوئی بہتری آۓ

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

تیجانی سے بحث کرنا فضول ہے۔اس تھریڈ کو لاک کر دینا بہتر ہے  کوئی فائدہ نہیں میں نہ مانوں کی رٹ جس نے لگائی ہوئی ہے سب کو نظر آرہا ہے۔

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
Guest
This topic is now closed to further replies.
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.