Kilk-e-Raza

فقہ کے مطابق مشرق سے مغرب تک ایک چاند پر روزے اور عید؟ جواب چاہیے

4 posts in this topic

اوریا مقبول جان کا یہ کلپ دیکھا ہے جس میں وہ رویت حلال کمیٹیوں اور مختلف جگہ چاند پر روزوں اور عیدوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کچھ فقہ سے حوالے کوٹ کیے ہیں کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ اگر مغرب میں چاند نظر آجائے تو مشرق میں عید ہوگی۔ اسی طرح شافعی، مالی، جنبلی وغیرہ کتب سے بھی کہا ہے۔ اس کا جواب اگر کسی کے پاس ہے تو ضرور دیں۔۔ اور اس مسئلہ سے متعلق علماء کی کتب سے حوالے اور احادیث وغیرہ ہیں تو وہ ضرور پوسٹ کریں۔۔ کیونکہ آج تک ہم نے تو یہی سُنا ہے کہ جغرافیائی حدود سے چاند کی رویت کا تعین ہوتا ہے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام و علیکم :۔ اوریا مقبول جان چونکہ عربی زبان اور علم فقہ سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے یہ بہت بڑا دعوا کرگئے ،  اور مسئلے کو سمجھے نہیں ۔خیر یہ ایسا ہے جیسے کوئی اردودان شکسپئیر کی  اردو میں پوئئٹری پڑھ کر اس پر تنقید شروع کردے ۔
مقبول جان نے جو حوالہ کوڈ کیا ہے فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے اس میں صرف ایک قول بیان گیا ہے اور وہ بھی شمس الائمہ علامہ حلوانی علیہ الرحمۃ کا ہے ۔ ان کے علاوہ کسی حنفی عالم نے اس کے جواز پر فتوی نہیں دیا  اور کہیں یہ نہیں لکھا یہ مفتی بہ قول ہے۔  شمس الائمہ علیہ الرحمہ نے کئی مسائل میں اختلاف کئے ہیں لیکن فقہ حنفی صرف شمس الائمہ علامہ حلوانی سے ہی منسوب نہیں ۔کسی بھی فقہ کے حوالے سے ریفرنس دیتے ہوئے اس کے مفتی بہ اقوال کو کوڈ کیا جاتا ہے نہ کہ صرف ایک قول کو۔ 
جب کہ اوریا مقبول جان کا دعوی ہے اتحاد کا ہے تو قول بھی مستند ہونا چاہئے جس پر فتوی ہو۔ جس پر سب حنفی علما کا اتفاق ہو۔ نہ کہ صرف ایک حنفی عالم کا ۔ 
نیز شمس الائمہ علامہ حلوانی کا یہ قول کیا امامِ اعظم یا امام ابو یوسف یا امام محمد کا ہے ؟
اسی طرح دیگر فقہ میں بھی معتمد قول کو لیا جائے گا ۔ 

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

جزاک اللہ۔ @Abu.Huzaifa 

نعض افراد کو یہ اعتراض کرتے اکثر دیکھا ہے کہ ہم سعودیہ کے ساتھ عید کیوں نہیں کرتے۔ اس لئے تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس موضوع پر کتب یا احادیث وغیرہ ہوں تو یہاں ضرور شیئر کریں۔۔ تاکہ جو اس کنفیوژن میں ہیں۔ اُن کی رہنمائی ہوسکے۔ جزاک اللہ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

salam 
AalaHazrat ne aik pora risal likha hai kay 

(البدورالاجلۃفی امورالاھلۃ ۱۳۰۴ھ  (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام

ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ  (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث

ثبوت ہلال کے طریقے

ye teen 3 rasial hai hai AlaHazrat kay in mein khoob jawab majood hai

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.