Jump to content
اسلامی محفل
Sign in to follow this  
Kilk-e-Raza

فقہ کے مطابق مشرق سے مغرب تک ایک چاند پر روزے اور عید؟ جواب چاہیے

Recommended Posts

اوریا مقبول جان کا یہ کلپ دیکھا ہے جس میں وہ رویت حلال کمیٹیوں اور مختلف جگہ چاند پر روزوں اور عیدوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کچھ فقہ سے حوالے کوٹ کیے ہیں کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ اگر مغرب میں چاند نظر آجائے تو مشرق میں عید ہوگی۔ اسی طرح شافعی، مالی، جنبلی وغیرہ کتب سے بھی کہا ہے۔ اس کا جواب اگر کسی کے پاس ہے تو ضرور دیں۔۔ اور اس مسئلہ سے متعلق علماء کی کتب سے حوالے اور احادیث وغیرہ ہیں تو وہ ضرور پوسٹ کریں۔۔ کیونکہ آج تک ہم نے تو یہی سُنا ہے کہ جغرافیائی حدود سے چاند کی رویت کا تعین ہوتا ہے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام و علیکم :۔ اوریا مقبول جان چونکہ عربی زبان اور علم فقہ سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے یہ بہت بڑا دعوا کرگئے ،  اور مسئلے کو سمجھے نہیں ۔خیر یہ ایسا ہے جیسے کوئی اردودان شکسپئیر کی  اردو میں پوئئٹری پڑھ کر اس پر تنقید شروع کردے ۔
مقبول جان نے جو حوالہ کوڈ کیا ہے فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے اس میں صرف ایک قول بیان گیا ہے اور وہ بھی شمس الائمہ علامہ حلوانی علیہ الرحمۃ کا ہے ۔ ان کے علاوہ کسی حنفی عالم نے اس کے جواز پر فتوی نہیں دیا  اور کہیں یہ نہیں لکھا یہ مفتی بہ قول ہے۔  شمس الائمہ علیہ الرحمہ نے کئی مسائل میں اختلاف کئے ہیں لیکن فقہ حنفی صرف شمس الائمہ علامہ حلوانی سے ہی منسوب نہیں ۔کسی بھی فقہ کے حوالے سے ریفرنس دیتے ہوئے اس کے مفتی بہ اقوال کو کوڈ کیا جاتا ہے نہ کہ صرف ایک قول کو۔ 
جب کہ اوریا مقبول جان کا دعوی ہے اتحاد کا ہے تو قول بھی مستند ہونا چاہئے جس پر فتوی ہو۔ جس پر سب حنفی علما کا اتفاق ہو۔ نہ کہ صرف ایک حنفی عالم کا ۔ 
نیز شمس الائمہ علامہ حلوانی کا یہ قول کیا امامِ اعظم یا امام ابو یوسف یا امام محمد کا ہے ؟
اسی طرح دیگر فقہ میں بھی معتمد قول کو لیا جائے گا ۔ 

 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

جزاک اللہ۔ @Abu.Huzaifa 

نعض افراد کو یہ اعتراض کرتے اکثر دیکھا ہے کہ ہم سعودیہ کے ساتھ عید کیوں نہیں کرتے۔ اس لئے تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس موضوع پر کتب یا احادیث وغیرہ ہوں تو یہاں ضرور شیئر کریں۔۔ تاکہ جو اس کنفیوژن میں ہیں۔ اُن کی رہنمائی ہوسکے۔ جزاک اللہ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

salam 
AalaHazrat ne aik pora risal likha hai kay 

(البدورالاجلۃفی امورالاھلۃ ۱۳۰۴ھ  (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام

ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ  (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث

ثبوت ہلال کے طریقے

ye teen 3 rasial hai hai AlaHazrat kay in mein khoob jawab majood hai

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
Sign in to follow this  

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...