Gulam e raza

Tafseer ibne kasheer k ek riwayat ka khulasa

19 posts in this topic

assalamo alaikum....

mohtaram khalil rana sab.

mai is forum m jb ilm e gaib k masle m kchh mubahise padh raha tha , to apne tafseer ibne kasheer se ye hawala diye....

Aaj ek deobandi jo sajid khan ka chela h sayad....

Tafseer ibne kasheer k is hawale ko radd krte huye ye post likha...

تفسیر ابن کثیر ؒ میں علم غیب کے حوالے سے رضاخانی و سیفی مغالطوں کا منہ توڑ جواب
مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی
قریبا ایک سال سے ہمارے مضمون و چیلنج سے مفرور اور حال ہی میں حضرت مفتی ندیم صاحب مدظلہ العالی کے ہاتھوں ندائے غیر اللہ کے موضوع پر شرمناک شکست کھانے والے مولوی ایاز باچا سیفی نے اپنی رسوائی پر پردہ ڈالنے کیلئے سوات مناظرہ کے نام سے ایک غیر معروف مولوی کے ساتھ علم غیب پر مناظرہ کا ڈھونگ رچایا جس میں نہ متکلم کا پتہ نہ معاون کا نہ صدر کا عجیب طرفہ تماشہ لگا ہوا ہے اسی مناظرے میں ایاز سیفی صاحب بار بار تفسیر ابن کثیر سے حضرت ابن عباسؓ کا ایک موضوعی اثر پیش کرتے ہیں بعد میں اسی اثر کے متعلق انہوں نے متکلم اسلام مولانا الیاس گھمن صاحب کو بھی فون کیا حضرت مفتی ندیم صاحب محمودی مدظلہ العالی نے اپنے ایک بیان میں اس جعلی و موضوعی روایت کی خوب خبر لی ہے جس کے جواب میں رضاخانی سوائے لغوی کی لغوی واصطلاحی و اصطلاحی کی لغوی و اصطلاحی گردان کے کچھ نہ بول سکے مناسب معلوم ہوا کہ افادہ عام کیلئے اس روایت کا تحریری طور پر بھی ایک محققانہ جائزہ لے لیا جائے تاکہ دوبارہ اہل بدعت کو اس روایت کو پیش کرنے کی جرات ہی نہ ہو ۔
تفسیر ابن کثیر کی عبارت
کان رجلا یعلم علم الغیب (تفسیر ابن کثیر ،ج5،ص175)
الجواب بعون الوہاب
روایت کے راویوں پر ایک نظر
اس روایت کا پہلا راوی محمد بن اسحق ہے جو مختلف فیہ راوی ہے اس کے بارے میں تفصیلی جرح کیلئے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب ؒ کی کتاب احسن الکلام کا مطالعہ کریں یا پھر مفتی ندیم صاحب محمودی کا بیان سماعت فرمالیں ۔
جن حضرات نے محمد بن اسحق کی توثیق کی ہے وہ مغازی کے متعلق ہے چنانچہ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ مغازی میں تو اس کی روایت لے لی جائے گی البتہ حلال و حرام میں اس سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا یحی بن معین بھی یہی کہتے ہیں کہ میں فرائض میں اس کی روایت سے احتجاج کو پسند نہیں کرتا۔
(الجرح والتعدیل ،ج7ص193مطبوعہ حیدر آباددکن)
جب اس کی روایت حلال و حرام میں معتبر نہیں تو عقائد کے باب میں کیسے پیش کی جاسکتی ہے ؟
ہم یہاں اختصارا اتمام حجت کیلئے بریلوی مناظر اعظم مولوی نظام الدین ملتانی جس کا شمار مفتی عبد الحکیم شرف قادری نے تذکرہ اکابر اہلسنت میں اپنے اکابر میں سے کیا ہے کی جرح پیش کررہے ہیں:
’’تمام محدثین نے مانا ہے جس کو یحیی بن قطان چھوڑ دیں گے ہم بھی اس کو چھوڑ دیں گے اور یحیی بن قطان نے محمد بن اسحق کے بارے میں لکھا ہے : اشھد ان محمد بن اسحق کذاب اور میزان الاعتدال اور مالک نے اس کو دجال کہا ہے اور سلیمان تیمی نے کذاب اور علامہ بدر الدین عینی نے اس کو مدلس لکھا ہے اور امام نووی نے لکھا ہے لیس فیہ الا التدلیس دیکھو بناء جلد اول ص711اور اسی صفحہ میں لکھتا ہے کہ جب مدلس عن سے روایت کرے تو وہ روایت قابل تسلیم نہیں ہوا کرتی : وھو الذی قلنا مدلس اذا قال عن فلان لا یحتج بحدیثہ عند جمیع المحدثین مع انہ قد کذبہ مالک و ضعفہ احمد و قال لایصح الحدیث عنہ ۔۔۔الخ یعنی ہم کہتے ہیں کہ جب مدلس عن فلان کہے تو حدیث اس کی حجت نہ ہوگی نزدیک تمام محدثین کے اور امام مالک نے محمد بن اسحق کو کذاب کہا ہے اور امام احمد نے ضعیف کہا ہے اس سے حدیث بیان کرنا صحیح نہیں ہے۔ اور کہا ابو زرعہ نے اس کا اعتبار کسی شے میں نہیں کیا جاسکتا۔
(انوار شریعت ،ج2ص49)
نظام الدین ملتانی اور اس کی انوار شریعت سے استدلال کرتے ہوئے مولوی سید احمد علی شاہ سیفی لکھتا ہے :
’’اس کے علاوہ مولانا نظام الدین بریلوی نے بھی اشارہ کو منع لکھا ہے حالانکہ وہ اپنے وقت کے مناظر تھے اور اشارہ کرنے کے بارے میں کئی دلائل نقل کئے ہیں (جامع الفتاوی ج2ص113حصہ چہارم المعروف انوار شریعت)
(مجموعہ رسائل حصہ دوم ،ص354)
آپ کے امین باجوڑی سیفی نے احمد علی شاہ کو جید اہلسنت عالم اور پیر سیف الرحمن کا مرید لکھا ہے (الشدائد علی المکائد ص4مطبوعہ باجوڑ ایجنسی )
معلوم ہواکہ نظام الدین ملتانی بریلوی اور سیفی دونوں کا معتبر آدمی ہے۔یہی نظام الدین ملتانی اپنے ایک اور فتوی میں لکھتے ہیں:
’’محمد بن اسحق بن یسار راوی ہے جو قابل سند بیان کرنے کے نہیں کیونکہ اس کے حق میں یحیی بن قطان جن کو تمام محدثین نے مانا ہے وہ محمد بن اسحق کے متعلق لکھتے ہیں:اشھد ان محمد بن اسحق کذاب یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق بڑا جھوٹا ہے اور امام مالک نے اس کو دجال لکھا ہے اور سلیمان بن دار قطنی نے اس سے دلیل پکڑنے کو منع کیا ہے اور صاحب تقریب نے اس کو مدلس لکھا ہے ‘‘۔(فتاوی نظامیہ ،ص228مطبوعہ لاہور)
حسن بن عمارہ
اس روایت کا دوسرا راوی ہے
امام شعبہ کسی ایسی روایت سے احتجاج نہیں کرتے جس میں حسن بن عمارہ ہوتے۔یحی بن معین کہتے ہیں ضعیف ہے ۔امام احمد بن حنبل سمیت کئی محدثین کہتے ہیں متروک الحدیث ۔(تاریخ بغداد ج9ص361)
قال النسائی حسن بن عمارہ متروک الحدیث (الضعفاء والمتروکین ص169)
متروک الحدیث کی جرح محمد بن اسحاق پر بھی ہے اور یہ جرح مفسر ہے (تدریب )
شعبہ کہتے ہیں کہ حسن بن عمارہ سے روایت جائز نہیں وہ حدیث رسول پر جھوٹ بولتا ( الضعفاء الکبیر ج4ص237)
ابن عیینہ نے اس کو ضعیف قرار دیا عبد اللہ ابن مبارک نے اس کی روایت کو ترک کردیا تھا (الکامل فی ضعفاء ج3ص280)
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں منکر الحدیث ،اس کی احادیث موضوعی ہیں ،لا یکتب حدیثہ (تہذیب التہذیب ،ج1،ص204)
قال ابو حاتم و مسلم و النسائی ووالدار قطنی متروک الحدیث (تہذیب التہذیب ،ج1،ص205)
میزان الاعتدال ج1ص341 میں بھی اس پر تفصیلی جرح موجود ہے ۔
ایسے ضعیف او ر موضوعی راویوں سے جعلی روایت پیش کرنے پر اور پھر سوات مناظرے میں ایاز سیفی کا یہ کہنا کہ ابن عباسؓ کی یہ روایت مدرک بالقیاس نہیں اس لئے حکما مرفوع ہے کچھ تو ان لوگوں کو شرم کرنی چاہئے ۔
ایاز سیفی کی اپنی رائے
کچھ دن قبل محمد بن اسحق کے متعلق ایاز سیفی صاحب کو فون کیا گیا (ریکارڈنگ محفوظ ہے )اور ان کے سامنے فون کا مدعیٰ پیش کیا گیا تو موصوف فرماتے ہیں جی آپ اشکال پیش کرسکتے ہیں جب ان سے کہا گیا کہ محمد بن اسحق کو امام مالک ؒ کے کذا ب و دجال کہا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے تو سوال گندم جواب چنا دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے فقہاء نے اس کی روایتوں سے ’’استحباب ‘‘ کو ثابت کیا گیا جب کہا گیا کہ فقہاء کو چھوڑیں اپنی رائے دیں تو ایک دم سے بھپر گئے کہ میں کسی کی دعوت پر آیا ہوں تم شاگرد ہو استاذوں کو بلاؤ موصوف سے کہا گیا کہ طالب علم ہیں اسی لئے تو فون کیا اگر طالب علم کو جواب دینا جائز نہیں تو کل سے مدرسے بند کردو کہ تم طالب علم ہو تمہیں کیا پتہ ۔۔۔جس کے بعد ایاز صاحب نے فون کال کاٹ دی ۔
بہرحال اس سے کم سے کم اتنا تو معلوم ہواکہ سیفی صاحب کے نزدیک بھی محمد بن اسحق کی روایت سے زیادہ سے زیادہ استحباب ثابت کیا جاسکتا ہے حلال و حرام فرض و واجب کے وہ بھی قائل نہیں تو پھر اس روای کو عقیدہ کے مسئلہ میں پیش کرنا جس کیلئے نص قطعی چاہئے کیا صریحا دجل و فریب نہیں؟
بر سبیل تسلیم
اگر بالفرض اس روایت کو درست تسلیم کرلیا جائے تو یہ عبارت مولانا احمد رضاخان صاحب کے اصول پر کفریہ عبارت ہے
اہل علم حضرت ملاحظہ فرمائیں کہ یہاں ’’علم الغیب ‘‘ ہے مرکب غیر مفید ہے یعنی علم کی اضافت غیب کی طرف ہے ۔اور یہ جملہ مرکب اضافی ہے اور مولانا احمد رضاخان صاحب کہتے ہیں:
’’علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے ‘‘۔(ملفوظات حصہ سوم ،ص36رضوی کتب خانہ بریلی)
عبارت ماول ہے
کسی کیلئے علم غیب کا عقیدہ رکھنا ہمارے نزدیک کفریہ عقیدہ ہے اور مولانا احمد رضاخان کی مندرجہ بالا عبارت کی رو سے تفسیر ابن کثیر کی یہ عبارت آپ کے مذہب میں بھی ’’کفریہ ‘‘ ہوئی کیونکہ اس سے علم غیب ذاتی متبادر ہورہا ہے ۔ لہذا اس عبارت کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جائے گا بلکہ تاویل کی جائے گی ۔اور تاویل یہ کہ اس عبارت میں علم غیب سے مراد علم غیب اصطلاحی نہیں جو کلی ذاتی ازلی ہو بلکہ مراد علم غیب لغوی ہے یعنی غیب کی کسی بات کا علم،(ثبوت بفردما) اور ظاہر ہے کہ غیب کی کسی بات کا جان لینا بطور انباء الغیب یا اخبار الغیب کسی کے ہاں بھی کفر نہیں ۔ علم غیب لغوی و اصطلاحی کی یہ تفریق ہماری خانہ زاد نہیں بلکہ آپ کے مسلک کے شیخ الحدیث مولانا غلام رسول سعیدی صاحب جن کے بارے میں مفتی منیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں:
’’مصنفاتِ علامہ سعیدی ،شرح صحیح مسلم اور تبیان القرآن کو ہمارے عہد کے دو ممتاز اکابر علماء اہلسنت علامہ عبد الحکیم شرف قادری اور علامہ محمد اشرف سیالوی مد اللہ ظلہما نے مسلک اہلسنت وجماعت کیلئے مستند مو متفق علیہما قرار دیا ہے ،یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ دونوں اکابر ہمارے مسلک کیلئے حجت و استناد کی حیثیت رکھتے ہیں ‘‘۔
(تفہیم المسائل ۔ج۳۔ص۱۷ ۔ضیاء القرآن پبلی کیشنز طبع دوم ۲۰۰۹)
معلوم ہوا کہ نہ صرف اشرف سیالوی بلکہ تبیان القرآن و شرح مسلم بھی رضاخانی مسلک میں حجت و استناد کا درجہ رکھتی ہیں۔اسی تبیان القرآن میں مولانا غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
اعلی حضرت امام احمد رضا متوفی 1340ھ لکھتے ہیں:
علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق ۔۔۔ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عز جلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفا علم بالذات متبادر ہے کشاف میں ہے المراد بہ الخفی الذی لا ینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر ولھذا لا یجوز ان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب غیب سے مراد وہ پوشیدہ چیز ہے جس میں ابتدا صرف اللہ تعالی کا علم نافذ ہوتا ہے اس لئے مطلقا یہ کہنا جائز نہیں کہ فلاں شخص غیب کو جانتا ہے ۔۔۔علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں وانما لم یجز اطلاق فی غیرہ تعالی لانہ یتبادر منہ تعلق علم بہ ابتدا ء فیکون مناقضا واما اذا قید قیل اعلمہ اللہ تعالی الغیب او اطلعہ علیہ فلا محذور فیہ (اللہ تعالی کے غیر کیلئے علم غیب کا اطلاق کرنا اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ علم کا تعلق ابتداء سے ہے تو یہ تو قرآن مجید کے خلاف ہوجائے گا لیکن جب اس کو مقید کیا جائے اور یوں کہا جائے کہ اس کو اللہ تعالی نے غیب کی خبر دی ہے یا اس کو غیب پر مطلق فرمایا ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ۔(فتاوی رضویہ ،ج9،ص81دارالعلوم امجدیہ )
نیز اعلی حضرت فرماتے ہیں۔۔۔علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے ‘‘۔(ملفوظات حصہ سوم ،ص34مدینہ پبلشنگ کراچی)
اعلی حضرت بریلوی اور شبیر احمد عثمانی دونوں نے ہی یہ تصریح کی ہے کہ علوم اولین و آخرین کے حامل ہونے اور بکثرت غیوب پر مطلع ہونے کے باوجود نبی ﷺ کو عالم الغیب کہنا اور آپ کی طرف علم غیب کی نسبت کرنا ہر چند کے ازروئے لغت اور معنی صحیح ہے لیکن اصطلاحا صحیح نہیں ہے ‘‘۔
(تبیان القرآن ج4،ص487)
معلوم ہواکہ اگر کسی کی عبارت میں ’’علم الغیب ‘‘ کا لفظ آجائے تو اس سے مراد اصطلاحی علم غیب نہیں ہوگا جس میں آپ کا اور ہمارا کفر و اسلام کا اختلاف ہے بلکہ لغوی اعتبار سے غیب کی باتوں کا بطور انبا ء معلوم ہونا مراد ہوگامگر چونکہ یہ اطلاق بھی ایہام شرک و کفر سے خالی نہیں اس لئے اس کے اطلاق کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی کتاب میں اس کا اطلا ق ہو تو اسے تعبیر کی غلطی پر محمول کیا جائے گا۔
مولوی احمد رضاخان صاحب کے بارے میں سیفیوں کے آفتاب ہدایت سید احمد علی شاہ لکھتے ہیں:
آج کے عہد میں اس قسم کے اختلافی مسائل میں ہم اہل سنت کیلئے امام اہل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول فیصل ہے ‘‘۔
(مجموعہ رسائل ،جلد دوم ،ص291ناشر جامعہ امام ربانی کراچی)
لہذا اب سیفی مولوی احمد رضاخان اس لغوی و اصطلاحی کی تفریق علم الغیب کے مسئلہ میں تسلیم کریں۔

 

post-307-0-75193500-1438183842_thumb.jpg

post-307-0-33820100-1438183855_thumb.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Khalil rana sab. 

Mai aksar forum par aata hu...

Aap hazrat k mehnat jo sirf rab k deen k liye h....usse hm km ilm bohot hi faida hasil krte h....

Mazkur aeterazi post ka kchh jawab mjhe isi forum m mil gya h...

Baki jo nhi mila to socha yah naya thread bna du....

Hazrat apko zehmat dene k liye mazrat chahta hu....

Lekin mene socha k agar yaha is aeteraz ko batau to aap hazrat hm km ilm logo ko  iski sahi khulase krke nawajenge.....

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

IS riwayat ko mufassireen ne ayat ki tafseer me baghair kisi tanqeed ke likh dia hai, aur jab ek ahleilm ki jamaat kisi riwayat ko le, to unke nazdeek iski haqeeqat hoti hai, warna kam se kam unka apna aqeeda hi isse wazeh ho jata hai,ke unka aqeeda yehi hai... kuch mufasireen kazikr

 امام ابن جریر اطبری لکھتے ہیں

،وكان رجلاً يعلـم علـم الغيب قد علِّـم ذلك،
وہ حضرت خضر علیہ السلام علم غیب جانتے تھے کہ انہوں نے جان لیا

اسی طرح ملاحظہ ہو 
تفسير روح البيان اسماعيل حقي (ت 1127 هـ) مصنف و مدقق 
وعلمناه من لدنا علما 

کے تحت لکھا ہے کہ

خاصا هو علم الغيوب والاخبار عنها باذنه تعالى على ما ذهب اليه ابن عباس رضى الله عنهما ا
ترجمہ :
حضرت خضر علیہ السلام کو جو لدنی علم سکھایا گیا وہ علم غیب ہے اور اس غیب کے متعلق خبر دینا ہے خدا کے حکم سے جیسا کہ اس طرف ابن عباس رضی اللہ عنہما گئے ہیں ۔

3rd ibne kaseer


agar phir bi nahi... to Allah Ka farman to maan le,
وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا
ilm e ludni kya hai??

تفسير  البيضاوي (ت 685 هـ)
ہم نے ان کو اپنا علم لدنی عطا کیا ،حضرت خضر کو وہ علم سکھائے جو ہمارے ساتھ خاص ہیں بغیر ہمارے بتائے کوئی نہیں جانتا اور وہ علم غیب ہے



rahi baat laghvi aur shryi ki to ALa hazrat ne ye farmaya

علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے 
ye inki istelah hai, ibne kaseer ki ye istelah nahi, unke nazdeek ilm ghaib, sharyi ghaib hi hai, warna istelah ki daleel de unki...

kyu ke Ala hazrat ka aqeeda ye hai
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قطعاً بے شمار غیوب و ماکان مایکون کے عالم ہیں 

umeed hai samajh ayi hogi,,, baki ahleilm jesa kahe

Edited by Zulfi.Boy
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Janab zulfi boy sab.

Jawab dene  liye shukriya....

Allah apko jaja e khair ata kre.....

Share this post


Link to post
Share on other sites

Janab toheedi bhai sab.

Assalamo alaikum....

Alhamdulillah m pakka sunni hanfi bareilwi hu.....Allah ka behisab karam h...Or apne aqa kareem sallallho alaihewasallm k sadke jo ilm mjhe mili h.... Usse apne dosto o ristedaro ko v mashlak e alahazrat k haqqaniyat ka paigam pahuchata hu....

Jaha tk bat h is post ki to iske talluk se bahut sare jawab mjhe isi forum me mil gaye thhe jo sajid khan naqsbandi k chele ko jawab dene k liye makul v tha...

Lekin m achhi tarah janta hu...

Bat yehi aakar  rok dega k....

علم غیب لغوی و اصطلاحی کی یہ تفریق ہماری خانہ زاد نہیں بلکہ آپ کے مسلک کے شیخ الحدیث مولانا غلام رسول سعیدی صاحب 

Farmate hai
اعلی حضرت بریلوی اور شبیر احمد عثمانی دونوں نے ہی یہ تصریح کی ہے کہ علوم اولین و آخرین کے حامل ہونے اور بکثرت غیوب پر مطلع ہونے کے باوجود نبی ﷺ کو عالم الغیب کہنا اور آپ کی طرف علم غیب کی نسبت کرنا ہر چند کے ازروئے لغت اور معنی صحیح ہے لیکن اصطلاحا صحیح نہیں ہے ‘‘۔
(تبیان القرآن ج4،ص487)

ab is iabarat ko nakal krke aage jo is sajid deobandi ne akhaj kiya h....

wo aapne chand alfaz m u kaha.....

LAFZ ILM E GAIB KO AMBIYA ALAIHIMUSSALAM K LIYE JAYEJ NHI SAMJHTA.....

ab apne iska jo jawab diya wo m pahle de chuka hu k akabir e deoband thanvi wagaira se lekar fatawa fahmudiya , khairul fatawa , kitabun nawajil.... Wagairha k scans

Bs ye kahkar sare hawale ko hazam kr jata h k yaha lafj ilm e gaib gair e khuda k liye LUGAVI  MANA m h.....or daleel m wohi tibyanul quran ki ibarat....

bs baat yehi ruk jati h...

isiliye mene socha k yaha agr post banakar lagau...to aap hazrat jarur rahnumai karenge...

Kya gair e khuda k liye lafz ilm e gaib ka istemal jayej h ya nhi...

Aur agr h to kis mane aur kis kadar.....????

Aur ye lugavi o sharai ka jo bawal is sajid khan deobandi or uske company ne macha rakha h uska kis tarah jawab diya jaye......???

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

یہاں کئی پہلوغور طلب ہیں:۔

۔۱۔

علمائے اسلام کے یہاں علم غیب کے لفظ نبی ولی کے لئے استعمال شدہ ملتے ہیں تو تفسیر ابن کثیر کی روایت کی سند پر جرح کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اورضعیف بلکہ بے سند روایت بھی علماء اسلام کے موقف کے موافق ہوتو قبول کرلی جاتی ہے۔اور ہمارے مخالف بھی رد فضائل کے باب میں بے سند روایت سے استدلال کرتے ہیں چنانچہ دیوار پار نہ جاننے کی سندنہیں مگر براہین قاطعہ میں اس سے استدلال موجود ہے اور شہاب ثاقب میں اس کو معنا صحیح کہا گیا ہے۔یونہی التحیات کے السلام علیک ایہاالنبی کو حکایت معراج کہتے وقت بھی یہ لوگ اس کی سند بیان نہیں کرتے ۔ 

۔۲۔

براہین قاطعہ میں شیطان کے لئے اور حفظ الایمان میں زیدوعمرو،ہرصبی ومجنون اور جمیع حیوانات وبہائم کے لئے علم غیب کے لفظ استعمال شدہ ہیں ، یہ چھوٹ ان کے لئے کہاں سے نکالی ہے؟

۔۳۔

عقیدہ کے لفظ سے آپ لوگ کیا مراد لیتے ہیں؟ علماء نے عقیدہ کی تقسیم قطعی اور ظنی میں کی ہے۔ اورعقیدہ   واقعہ معراج کا کتنا حصہ ایسا قطعی ہے کہ اس کامنکر کافر ہے اور کتنا حصہ اس سے کم قطعی ہے کہ اس کا منکر گمراہ ہے اور اس  کا کتنا حصہ ظنی ہے کہ اس کا منکر کافر یا گمراہ نہیں؟ اسی جیسا معاملہ علم غیب کا ہے۔تقسیم خالص الاعتقاد میں ہے۔

۔۴۔

تفسیر ابن کثیر کی عبارت مطلق نہیں کہ اس سے امام احمدرضا کی عبارت ٹکراؤ۔ اس میں کان رجلا یعلم علم الغیب کے بعد قدعلم ذالک کی قید بھی لگی ہے۔

Edited by Saeedi
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Shukriya saeedi sahab....

Bohot shukriya

Khastaor par pahli aur dusri pahlu k liye...

K ye deobandari ko muhtod jawab dene m kaam aayega....

Baaki k tisra aur chautha mere liye h...

Wese allah ka karam h mene do aur kitabe padhi bohot hi damdar jawab mila...

Asbaat e ilm ul gaib fi izaratu raib

Ilm khairul anam 

Aap hazrat ko allah apne nabi kareem k sadke kamyab o dehadyab rakhe...

Or isitarah hm jese km ilm walo k liye aap hazrat k madad ko barkarar rakhe....

Ameen

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

اب آئیں سند پرجرح کی طرف۔

محمد بن اسحاق :۔

غیرمقلدین سے مناظرہ میں محمد بن اسحاق پرجرح  الزامی غیرمقلدین کے ذوق کے مطابق کی جاتی ہے۔ان کے یہاں تعدیل پرجرح مقدم  ہے۔

پھرمحمدبن اسحاق پر جرح  اگربنتی بھی ہے تویہی کہ وہ مدلس ہے اور عنعنہ کررہاہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ عنعنہ مدلس کا تو ذکرہی کیا،جمہور فقہاء کے نزدیک  تومرسل بھی قبول ہے ۔

پھر محمد بن اسحق کی حسن بن عمارہ سے تحدیث بھی ابن جریر کی تفسیر میں موجود ہے تو اس کا یہاں عنعنہ بھی تحدیث پر محمول ہوگا۔

الحسن بن عمارہ:۔

محدثین تو اس پر جرح کرتے ہیں مگر

فقہاء (امام شافعی،امام ابویوسف، امام محمد)اس کی روایت سے حجت پکڑتے ہیں۔

ملاحظہ ہو مبسوط الشیبانی،کتاب الحجۃ علی اہل الدینۃ،البنایہ ۔

Edited by Saeedi
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Wah subhan allah saeedi sab.

Wese ek bat h yaha sajid khan deobandi or uska company is riwayat par aeteraz kr  raha .h....

1. Al hasan bin amara k talluk se jo aapne jawab diya wo muhtod h.....

Bs uska scan agr apke pas ho to de dijiyega

2. Mohammad bin ishakh k talluk se apne jo jawab diya wo gair muqallideen k muh chup karane  liye kafi ho lekin deobandi k liye sayad na hogi.

Hazrat ek or sawal h agr is forum par jawab h to link share kr dijiyega.....

Wese m kafi dhundh raha hu..

 

Ek mozu k darmiyan dusre mozu k talluk se puchhne k liye mazrat  chahta hu....001.jpg.72615ba2a29173888bf913cf2ef826da.jpg Screenshot_20170703-225810_1.jpg.7df052139387a644af3ef30f8efd8dcb.jpgyaha masla 39 k jawab m hujur alahazrat alaiherahma farmate  k FASHI YA KHUDKHUSI KIYE HUYE SHAKS KI NAMAJ E JANAJA PADHI JAYEGI....

000.gif.a2dc4612a8f9146825646bef4f0d0ede.gif595a7fb83256b_059(1).gif.ed32e3283c396a3bdac3e129393724fd.gifor dusri janib yaha malfuz  ARZ 91 k jawab  farma rahe  k KHUD KHUSI KRNE WALE K JANAJA KI NAMAJ NHI....

 

AB DEOBANDI IS PAR KHUB HALLA MACHAYE H...

KCHH KHULASA HO APKE PAS TO JARUR FARMA DIJIYEGA...

WESE M KOSIS JARI RAKHA HU K KAHI ISI FORUM ME JAWAB MIL JAYE..

hazrat allah aaplogo ko salamat rakhe..

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

On 7/3/2017 at 10:36 AM, Gulam e raza said:

Wese ek bat h yaha sajid khan deobandi or uska company is riwayat par aeteraz kr  raha .h....

1. Al hasan bin amara k talluk se jo aapne jawab diya wo muhtod h.....

Bs uska scan agr apke pas ho to de dijiyega

2. Mohammad bin ishakh k talluk se apne jo jawab diya wo gair muqallideen k muh chup karane  liye kafi ho lekin deobandi k liye sayad na hogi.

Hazrat ek or sawal h agr is forum par jawab h to link share kr dijiyega.....

Wese m kafi dhundh raha hu..

الحسن بن عمارہ

امام ابوحنیفہ کو بعدوفات غسل دینے والا شخص ہے۔ امام ابویوسف اور امام محمد اس کی روایت سے حجت پکڑتے ہیں۔امام محمد کی کتابیں الحجۃ علیٰ اہل المدینۃ ،الاصل المعروف بالمبسوط للشیبانی،السیر الصغیر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔امام ابویوسف کی کتاب الخراج اورکتاب الردعلیٰ سیر الاوزاعی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔سب کے سکین ممکن نہیں۔نیٹ پردستیاب ہیں۔

محمد بن اسحاق

اس کی روایات کو سرفراز صفدرگکھڑوی اور امین صفدر اوکاڑوی  معتبر مان چکے ہیں مثلاً:اذا صلیتم عل المیت فاخلصوا لہ الدعاء (ابوداؤد،ابن ماجہ)سے یہ لوگ اپنی کتابوں میں حجت پکڑچکے ہیں حالانکہ اس سے استدلال کا دارومدار محمد بن اسحق کو معتبر ماننے پر ہے۔ 

نمازجنازہ اورخودکشی

نمازہ جنازہ  توپڑھی جائے گی۔تاہم  زجراً نمازجنازہ نہ ہونے کے قول میں نفی سے نفی کمال  لیں گے۔تاکہ لوگ خودکشی سے نفرت کریں۔ 

Edited by Saeedi
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

Saeedi sab.

Firse ek bar apka shukriya..

1. mohammad bin ishak k talluk se jo apne jawab diya k deobandi sarfaraz safdar or amin safdar okardwi motabar man chuka h...

Agr aap ye bta de k kis kitab m ye deobandi ibne maza aur abu dawud k riwayat se hujjat pakra h...

To bari meharbani hoti taaki mai uske kitab se scan nikal sakta.......

2. Namaj  janaja aur khud khusi 

K talluk  apne jo jawab diya ye mai pahle sun chuka hu , lekin istarah k jawab jahil deobandiyo ko chup karane  k liye kafi nhi ho sakte....

Qki wo to aksar fareb dene  ki kosis , galat ibarat aur bohtan tarashi m rehta h....

Aur yaha to use sarahtan alfaz mil chuka h, jis wajah se kafi halla macha rakha h.....

Chunanche apko bari mazrat k sath ye zehmat dene ki jurrat kr raha hu....

K taake asa jawab faraham ho jaye jo muh tod ho.....

Akhir m dil se dua krta hu aap hazrat jo islami mehfil m hm jese km ilm wale ko haqqaniyat se agah krne k liye aur deen ki khidmat anzam dene k liye....

Jo mehnat krte h allah rabbul izzat apko behisab jaja e khair ata kre aur salamat rakhe.

Edited by Gulam e raza

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

دیوبندیوں کو جب ضرورت پڑے تو محمد بن اسحاق کی روایت کو اپنی تا   ءید میں لیتے ہیں اور اسے صحیح کہتے ہیں۔

 

taskeen 1.jpg

taskeen 2.jpg

hakam 1.jpg

hakam 2.jpg

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

subhan allah , subhan allah , subhan allah.....

toheedi bhai sab.

Apne to kamar hi tod di deobandiyo ki....

Shukriya...

Aur ye 

namaj  e janaja aur khud  khusi

k talluk se  jawab ho jaye to bari meharbani...

Ek bat puchni thi a apse iss thred ko jis aeteraz k sath banaya apne to uska jawab de diya agr koi aur sawal ho to kya yehi puch lu....

Ya naya thred banu...

Allah  apko salamat rakhe aur tamam woh log jo IM par khidmat e deen anzam de rahe h.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Bht hi umdah jawabat milte hai iss forum se allah aap sabhi ahle ilm hazraat ko jazae khair ataa kare..

Aameeeeen

Share this post


Link to post
Share on other sites

خودکشی اورنمازجنازہ

نبی کریم ﷺ نے خودکشی والے کی نمازجنازہ نہ پڑھی تو اس پر امام نووی نے شرح مسلم میں لکھا:۔

 قَوْلُهُ (أتى النبي صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ)۔۔۔۔ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ لِمَنْ يَقُولُ لَا يُصَلَّى عَلَى قَاتِلِ نَفْسِهِ لِعِصْيَانِهِ وَهَذَا مَذْهَبُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَالْأَوْزَاعِيِّ

وَقَالَ الْحَسَنُ وَالنَّخَعِيُّ وَقَتَادَةُ وَمَالِكٌ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيُّ وَجَمَاهِيرُ الْعُلَمَاءِ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَأَجَابُوا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ بِنَفْسِهِ زَجْرًا لِلنَّاسِ عَنْ مِثْلِ فِعْلِهِ وَصَلَّتْ عَلَيْهِ الصَّحَابَةُ

یعنی صحابہ نے نمازجنازہ پڑھا اورنبی کریم ﷺ نے نہ پڑھا تاکہ دوسرے لوگ ایسے فعل سے بازرہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ میں دونوں پہلو ہیں۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

subhan allah saeedi sahab.

bs oopko waqt mil jaye to is hadis ka scan de dijiyega.

Aur allam nauwi alaiherahma k wo  sharah v.

Allah apne habeeb  k sadke hm sabko eiman par uthaye.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.