Sign in to follow this  
Followers 0
umar ali salfi

امام ابن حبان اور قبر سے توسل کا الزام

2 posts in this topic

امام ابن حبان رحمہ اللہ اور قبر سے توسل کا الزام

 

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ ایک نیک ولی کی قبر کے پاس جا کر دعا کیا کرتے تھے، انہیں لگتا تھا کہ وہاں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔

بعض بدعتیوں نے اپنی مطلب برآری کے لیے اس واقعہ میں قبر سے توسل کی بات خود گھڑ کر داخل کر دی ہے، عربی متن میں یہ الفاظ قطعا نہیں ہیں۔۔۔

رہا امام صاحب کا قبر کے پاس دعا کرنا تو وہ سمجھتے تھے کہ نیک لوگوں کی قبر پر چوں کہ رحمت الہی نازل ہوتی ہے، لہذا رحمت الہی کے نزول کی جگہ دعا کی جائے تو زیادہ قبول ہو گی، جیسے بازار کی نسبت مسجد میں زیادہ قبول ہوتی ہے۔۔۔

اگرچہ ہم اس نظریے سے بھی اتفاق نہیں رکھتے، لیکن اسے گھسیٹ کر قبر سے توسل بنا دینا کتنا بڑا ظلم ہے۔۔۔۔!

ہم اولیاء کی قبروں سے توسل کے بھی قائل نہیں اور وہاں خصوصی طور پر جا کر اپنے لیے دعا کرنے کے بھی، کیوں کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آ کر دعا نہیں کیا کرتے تھے، صحابہ کرام کا طرز عمل تو بالکل مختلف تھا، صحیح بخاری میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بعد از وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آ کر دعا کرنے کی بجائے میدان میں نکل کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کرانا معمول تھا اور اس میں قبولیت بھی ہوتی تھی۔

صحیح بخاری کی اس حدیث میں ان لوگوں کی بدعت کا بھی رد موجود ہے جو بعد از وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرانے کے لیے قرآن کریم میں تحریف معنوی کے مرتکب ہوتے ہیں، قرآن کریم کی تفسیر صحابہ کرام سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔

امام ابن حبان رحمہ اللہ کا یہ طریقہ بھی ان اہل بدعت کے بھی خلاف ہے، جو سمجھتے ہیں کہ اولیاء قبروں میں فریادیں سنتے ہیں اور مانگنے والوں کے لیے اللہ سے سفارش کرتے ہیں، کیوں کہ امام صاحب قبر پر جا کر اللہ سے دعا کرتے تھے، مردے سے کراتے نہیں تھے!

اہل بدعت کو اللہ سے ڈر جانا چاہیے، بات جو ہو وہی بیان کرنی چاہیے، یہ لوگ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟6006a810b407578b7198e77d47aa5ce2.jpg

 

Sent from my SM-G925F using Tapatalk

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Wahhabi sahb ap k ulama Tawassul k baray to yeh kehtay ho,in par kya fatwa lagay ga??

فرقہ اہلحدیث کے امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
توسل بعد الموت جائز ہے۔  (ہدیۃ المدی ص 48)
 فرقہ اہلحدیث  کے امام شوکانی صاحب توسل کے قائل ہیں اوراس بات کو انہوں نے اپنی کئی تصنیفات میں بیان بھی کیاہے۔
وَفِي الحَدِيث دَلِيل على جَوَاز التوسل برَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِلَى الله عز وَجل مَعَ اعْتِقَاد أَن الْفَاعِل هُوَ الله سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَأَنه الْمُعْطِي الْمَانِع مَا شَاءَ كَانَ وَمَا يَشَأْ لم يكن //
(تحفۃ الذاکرین211)
فرقہ اہلحدیث کے مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
”کسی نبی یا ولی یا عالم کے ساتھ توسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے“۔
(مجموعہ رسائل عقیدہ ص 402)
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.