Saeedi

افضلیت شیخین رضی اللہ عنہمااور منہاجی

388 posts in this topic

Quote

جن کے ترجمے پیش کئے وہ تفضیلی نہیں تو ان سے خطاً ایسا ھؤا۔

5a7abb3296653_download(2).png.fb3f8ee41c7b297cb400ded0b8d240a0.png.94cd45a5e1c91b1badd775cc996fca5e.png

 

5a7c520b3deee_download(2).png.28d4e9b2f3371691cc989ed12c295647.png.36df1af237a59430c3f1b1047e1f51d0.png

 

جناب سعیدی صاحب گویا کہ آپ اپنے ان جیسے تمام فتووں سے دستبردار ہوتے ہوئے یہ لکھ رہے ہیں کہ یہ  تمام لوگ جنہوں نے مولا کا معنیٰ آقا کیا ان سے خطاء ہوئی 
مگر تفضیلی  و رافضی و گمراہ نہیں ہیں ۔
-----------------------

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

اگر کسی کی تحریر میں ایک جگہ اجمال ھو اور دوسری جگہ تفصیل ھو تو اسے تضاد یا دستبرداری کا نام نہیں دیا جاتا۔آپ کے قائد نے جو تفصیل جاری کی ھے وہ ترجمہ کے اجمال کی وضاحت کر رھی ھے۔

آپ سے ایک سوال  کہ

شیعہ اس روایت کا وہی ترجمہ کرتے ہیں جس ترجمہ  پر تمہیں اصرار ھے۔اور

اس کی بنیاد پر حضرت علی کو انبیاء کرام کا آقا اور سردار مانتے ہیں۔

اپنے اس ترجمے پر رھتے ھوئے روافض کے اس اعتراض کا آپ کے پاس کیا جواب ھے؟

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

Quote

اگر کسی کی تحریر میں ایک جگہ اجمال ھو اور دوسری جگہ تفصیل ھو تو اسے تضاد یا دستبرداری کا نام نہیں دیا جاتا۔آپ کے قائد نے جو تفصیل جاری کی ھے وہ ترجمہ کے اجمال کی وضاحت کر رھی ھے۔

جناب سعیدی صاحب آپ نے لکھا کہ " آپ کے قائد نے جو تفصیل جاری کی ھے وہ ترجمہ کے اجمال کی

وضاحت کر رھی ھے"۔

پلیز اس اجمال سے آپ جو نتیجہ  اخذ فرما رہے ہیں اس کی وضاحت فرما دیں  ۔

 اور کیا وہ تفضیل آپ کو باقی حوالہ جات میں نظر نہیں آ رہی؟

الصواعق المحرقہ کا ترجمہ آپ کے سامنے موجود ہے جس میں ڈاکٹر صاحب کے ترجمہ سے کہیں زہادہ

تفضیل موجود ہے ۔ جو یوں ہے ۔

یہ (علیؓ) تیرا  آقا  اور ہر مؤمن کا آقاہے ۔ اور جس کا یہ آقا نہیں وہ مومن ہی نہیں "۔" 

 

جبکہ سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ کا ترجمہ ڈاکٹر صاحب سے بہت

پہلے سے موجود ہے اور وہ یہ ہے ۔

کریم آقاﷺ نے فرمایا :
اے بریدہ جس کا میں آقا ہوں ، علی بھی اس کا آقا ہے ۔ "
انوارِ علی
سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ
صفحہ نمبر / 143 
-------------
اس کے بعد امیر محمد شاہ قادری گیلانیؒ سیدنا علیؓ کی
 خلافتِ ظاہر اور خلافتِ باطنی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
"  ارشاد ہے " تو میرا خیلفہ ہے یعنی میرے بعد ہر مؤمن کا "  یعنی آپؓ حضورﷺ کے خلیفہِ برحق ہیں ، ہر ایک مومن کے  سردار ، امیر اور امام ہیں ۔ سلسلہ ہائے طریقت میں کل اولیاءِ کرام کے آپؓ حضور نبی کریمﷺ کی طرف سے خلیفہِ برحق ہیں ۔
تقریباً تمام سلاسلِ طریقت آنجناب امام اولالیاء  سیدنا و امامنا علی المرتضیٰؓ کی ہی وساطت سے حضور نبی الانبیاء جنابِ محمد رسول اللہﷺ تک منتہیٰ ہوتے ہیں ۔ اگر ادوار حکومت علی منہاج النبوت میں چار خلفاء ہیں ۔ اور آپ اس لہاظ سے خلیفہِ خلیفہِ چہارم ہیں مگر سلسلہ ولایت میں آپؓ خلیفہِ بِلافصل ہیں ۔ "
 انوارِ علیؓ
سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ
مکتبہِ فکر : بریلوی اھل سنت
صفحہ نمبر / 61
-------------------

 

جناب سعیدی صاحب  الصواعق المحرقہ  کے ترجم میں سیدنا عمرؓ  خو د سیدنا علیؓ کو اپنا آقا فرما رہے

ہیں ۔ اس لیے کہ آپ نے فرمایا وہ مومن ہی نہیں جس کا علیؓ آقا نہیں ۔

 اسی سے  میں آپ کے انبیاء والے سوال کا جواب موجود ہے کہ  انبیاء

اکرام اس میں شامل نہیں ہیں ۔ کیو نکہ کوئی بھی غیر نبی کسی نبی سے

کیسے ؟ اور کیوں کر افضل ہو سکتا ہے ۔

 یہاں پر میں آپ کی خدمت میں سوال کرتا ہوں ۔

سوال : آپ نے پیچھے یہ حدیث پیش کر رکھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ

 اور حضرت عمرؓ  جنت میں ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہیں  تو جناب سعیدی

صاحب  کیا آپ انبیاء کے بھی سردار ہوں گے ؟

اگر  شیخین اببیاء کے سردار نہیں ہو گے تو کیوں ؟

----------------------

 

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

میرے محترم

آپ نے پھر غور نہیں فرمایا۔

اختر فتحپوری نے الصواعق المحرقہ کا ترجمہ کیا ھے۔ اس نے ترجمہ میں یہاں خطا کی۔ اسی ترجمہ میں 203 پر باب سوم پوری امت میں حضرت ابوبکر صدیق کے افضل ھونے پر موجود ھے۔ آپ نے ایک لفظی خطا پکڑ لی اور پورا باب خاطر میں نہ لائے۔ تحقیق یوں تو نہیں ھوتی۔

آپ نے امیر علی شاہ کا حوالہ پیش کیا ھے۔ مگر یہ نہیں دیکھا کہ وہ "تمام سلاسل" کے ساتھ بھی " تقریباً " کا لفظ لگا کر اپنی بات کو مقید کر رھے ھیں۔

آپ کے طاھرالقادری صاحب مولا کا ترجمہ آقا کرتے ہیں تو کتاب کی ابتدا میں اپنا نظریہ پہلے لکھ چکے ہیں اور ترجمہ اس کے مطابق کرتے ہیں۔

آپ کے سوال کا جواب یہ ھے کہ حدیث میں جہاں شیخین کریمین کو سیدا کہول اھل الجنۃ فرمایا گیا ھے وہیں انبیاء و مرسلین کا استثناء بھی کیا گیا ھے۔

ملاحظہ ھو طاھرالقادری کی کتاب منہاج السوی:حدیث نمبر 694۔

اس سوال سے پتہ چلتا ھے کہ آپ حضرت علی کو انبیاء کرام کا مولا نہیں مانتے ،اس لئے استثناء کے متمنی و متلاشی ہیں۔ ورنہ وجہ بتائیں؟

جب کہ آپ کے پسندیدہ اختر فتحپوری نے اُسی الصواعق المحرقہ کے صفحہ 232 پر حضرت جبریل اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مولا مانا ھے۔ اور آپ دیگر نبیوں کے لئے بھی مولا علی کو مولا نہیں مان رھے۔ اس کی وجہ یہی ھے کہ آپ مولا کا معنی غلط کر رھے ھیں جو آپ کے لئے  مولا علی کو مولائے کائنات سمجھنے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ھے۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب محترم سعیدی صاحب  بہت ہی افسوس کی بات ہے ،آپ ہر بار بات کو کسی نہ کسی طرح گول مول کر جاتے ہیں ۔ 
محترم کیا کسی مسئلہ پر عقیدے دو ، دو اور تین ، تین ہوا کرتے ہیں ۔ یا عقیدہ ایک ہی اٹل بات پر ہوتا ہے ۔
آپ نے صرف مولا کا معنی آقا کر نے 
اہل سنت سے خارج
بد مذہب
رافضی و
گمراہ تک لکھا ۔
اب آپ فرماتے ہیں کہ فلاں نے خطاء کی جبکہ آپ کا فتوی ہونا چاہیے تھے کہ وہ اہل سنت سے خارج و گمراہ ہوا ،  اسی طرح محترم آپ سید محمد امیر شاہ قادری کے صاف ، واضح اور صریح  تحریر کو ٹال مٹول کا جامہ پہنا گئے ۔
 اتنی لمبی بات نہیں ہے ، جس طرح آپ نے لکھا کہ حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمر فاروقؓ جنتی بوڑھوں کے سردار ہیں اور انبیا کرام کو استثناء حاصل ہے ، اسی طرح یہاں مولا کے معنیٰ آقا سے انبیاء کرام کو استثناء حاصل ہے ۔
جس طرح ابو بکرؓ و عمرؓ  بوڑھوں کے سردار ہو کر انبیاء کرام کے سردار نہیں ہیں ۔ بالکل اسی طرح
علیؓ بھی سب کے آقا ہو کر انبیاء کے آقا نہیں ہے ۔
اگر اب بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں تو  پھر سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ کی اس تحریر کا مطب بتا دیں ۔

" ارشاد ہے " تو ( علیؓ) میرا خیلفہ ہے یعنی میرے بعد ہر مؤمن کا "  یعنی آپؓ حضورﷺ کے خلیفہِ برحق ہیں ، ہر ایک مومن کے  سردار ،
 امیر
 اور امام ہیں ۔
  "
--------------------------
اگر بات اب بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی تو پھر جناب محترم سیعدی صاحب  مولا کا معنیٰ جس طرح  دوست ، محبوب اور مدگار احادیث میں استعمال ہوتے ہیں ، اسی طرح آقا کا معنی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ،  اگر اب بھی آپکی سمجھ میں بات نہیں آ رہی تو پلیز
پھر دوٹوک عقیدہ لکھیں ، کیوں کہ عقیدہ ہمیشہ دوٹوک ہی ہوتا ہے فرمائیں کہ :
مولا کا معنی آقا کرنے والا بد مذہب و گمراہ ہوتا ہے؟
یا اھل سنت ہے ۔
بس دو باتوں میں سے ایک پر اپنا عقیدہ دوٹوک لکھ دیں پلیز ۔
-------------------------


آپ مختصراً لکھیں ۔ اور بات ختم کریں کہ مولا کا معنی آقا کرنا اہل سنت جماعت
کے نزدیک  
 

----------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب آپ کا موقف یہ ہوا کہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام  کے مولا نہیں ہیں۔

تو کیا  آپ کے نزدیک نبی الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن انبیائے کرام کے مولا نہیں؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

اب آپ کا موقف یہ ہوا کہ

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام  کے مولا نہیں ہیں۔

تو کیا  آپ کے نزدیک نبی الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن انبیائے کرام کے مولا نہیں؟

 

جناب محترم سعیدی صاحب میرا اب نہیں ہمیشہ سے یہی موقف ہے اور جاہل سے جاہل اہل سنت کے علم میں ہے 

کہ کوئی غیر نبی انبیاء سے افضل نہیں ہو سکتا ۔ تعجب ہے کہ آپ جناب نے لکھا کہ اب میرا یہ موقف ہے اگر اس مسئلہ پر میں اتنی لمبی بحث میں پہلے کہیں بھی 

 اس موقف کے خلاف موقف لکھ چکا ہوں تو جناب یہی پیش فرمائیں تاکہ کم از کم پہلے موقف سے رجوع کروں ، توبہ کروں اور اللہ کے حضور معافی مانگو ۔

   جناب محترم سعیدی صاحب

اتنے رخ بدلنے اور اتنی پرییشانی سے بہت بہتر ہے کہ

 اس بات کو مان لیں کہ جس طرح مولا کا معنیٰ  محبوب ، دوست ، مددگار کیا جا سکتا ہے اسی طرح جب کسی حدیث میں مولا کا معنی

آقا کر دیا جائے تو وہ بھی مانا جائے گا  ، جائز ہو گا  اور درست ہو گا اور بندہ نہ اہل سنت اے خارج نہ بد مذہب اور نہ گمراہ ہو گا ۔

اسی لیے تو میں اوپر اتنے ثبوت دے چکا ہوں اور اللہ کے کرم سے 

وہ سب لوگ اہل سنت تصور کیے  جاتے ہیں ، مانے جاتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں ۔

  بالکل  کریم آقاﷺ انبیاء کے مولیٰ   ہیں ۔

مگر حضرت علیؓ اس وجہ سے ان کے مولا نہیں ہے امید ہے آپ بات کو سمجھ جائیں گے کہ کیسے  ؟

سوال :
 اگر مولیٰ بمعنی آقا لیا جائے تو حضور اکرمﷺ تو انبیاء علیہم السلام کے بھی آقا ہیں تو کیا سیدنا علیؓ تمام انبیاء کے بھی آقا ہوں گے ؟
جواب:
کلام الہی ، کلام نبویﷺ اور کلام الناس مین بہت سے مقامات ایسے آتے ہیں جہاں کسی حکم کے الفاظ تو بظاہر عموم پر دلالت کرتے ہیں مگر ان کا معوی اطلاق سب کو شامل نہیں ہوتا ۔ اکثر جو کچھ لوگ اس حکم سے بوجہ مستثنیٰ ہوتے ہیں ۔ مثلاً
 بنی اسرائیل کی شان میں قران، عظیم میں ارشاد، باری تعالیٰ ہے کہ:
وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ 
سورۃ البقرۃ / 47
" میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی"
اگر اس آیت کے ظاہری عموم کی طرح اس کے معنوی اطلاق کو بھی عام رکھا جائے تو بنی اسرائیل حضورِ اکرمﷺ اور آپﷺ کی اُمت پر افضلیت لازم آتی ہے ۔ جو کہ متعدد آیات قرآنی اور احادیثِ نبویہ کے خلاف ہیں ۔
اسی طرح قرآن پاک میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک دُعا یوں آئی ہے :

رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لاَّ يَنبَغِي لأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
سورۃ /ص
" اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو ، بےشک تو ہی وہاب ہے " ۔
ص/35

یہاں بھی اگر استثناد کے قاعدہ کو بلائے طاق رکھ دیا جائے تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہمارے نبی کریمﷺ پر افضلیت لازم آتی ہے، جو کہ متعدد آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبویہﷺ کے خلاف ہے ۔

لہذا جب قانونِ استثناد کا لہاظ رکھا جائے گا توبنی اسرائیل کی فضیلت فقط اُن کے اپنے عالم کے مخصوص لوگوں پر ثابت ہو گی ۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا سے نبی کریمﷺ متعدد وجوہ کی بنا پر مستثنیٰ ہوں گے ۔

اسی طرح مولیٰ علیؓ کے مولیٰ المؤمنین ہونے سے انبیاء  علیہم السلام مستثنیٰ ہو ں گے کیونکہ مولیٰ علی نبی نہیں ہیں اور کوئی غیر نبی انسان ،  انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل نہیں ہو سکتا ۔
----------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

سورۃ التحریم میں ھے کہ

جبریل اور صالح المومنین() مولا ھیں ھمارے نبی کریم کے ۔

تو جب نبی الانبیاء کے مولا شیخین ھو سکتے ھیں تو مولا علی دیگر انبیاء کرام کے مولا کیوں نہیں ھو سکتے؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote


سورۃ التحریم میں ھے کہ

جبریل اور صالح المومنین() مولا ھیں ھمارے نبی کریم کے ۔

تو جب نبی الانبیاء کے مولا شیخین ھو سکتے ھیں تو مولا علی دیگر انبیاء کرام کے مولا کیوں نہیں ھو سکتے؟

 

 

اس لیے کہ جہاں مولا کا لفظ استعمال ہوا ہے اس مقام کے مناسب جو معنی ہو گا وہ مراد ہو گا ۔ 
لہذا جس حدیث میں لفظ مولا آیا ہے وہ حدیث جس معنی کی مقتضی ہو گی وہ مراد لیے جائیں گے ۔
" سورۃ التحریم میں ھے کہ
جبریل اور صالح المومنین() مولا ھیں ھمارے نبی کریم کے ۔ "
یہاں  مناسب ہے کہ معنی مدد مراد لیا جائے  اور جہاں مولا کا لفظ تقاضا کرے کا وہاں  معنی میں دیگر الفاظ دوست ،آقا  محبوب ، ذمہ دار ، غلام مراد لیے جائیں گے ۔
جنابِ محترم سعیدی صاحب جیسے کہ کریم آقاﷺ نے فرمایا کہ :
" وقال لزید:أنت أخونا ومولانا ۔ "
" فرمایا کہ زید تم ہمارے بھائی اور مولی( غلام ) ہو ۔ "
جہاں لفظ مولا جس معنی کا مقتضی  ہو گا یا اس کے جو معنی مناسب ہو گا وہی مراد لیے جائیں گے ۔

اس لیے اہل سنت کے علماء کرام نے جہاں تقاضا اور ضرورت تھی وہاں مولا کا معنی آقا بھی مراد لیے
جیسا کہ اوپر  مولا کے معنی آقا کے حوالہ جات
موجود ہیں ۔
جناب سعیدی صاحب امید ہے کہ اب آپ کی سمجھ میں مکمل بات آ جائے گی  ۔
--------------------

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب علمائے اہل سنت کی اکثریت

جناب کے  منتخب معنی کو اس مقام پر مسترد کر چکے ہیں

اور علمائے روافض یہاں آپ کے موافق ہیں ۔

اسی تھریڈ میں اوپر

میں جمہور علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کر چکا ہوں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

جناب علمائے اہل سنت کی اکثریت

جناب کے  منتخب معنی کو اس مقام پر مسترد کر چکے ہیں

اور علمائے روافض یہاں آپ کے موافق ہیں ۔

اسی تھریڈ میں اوپر

میں جمہور علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کر چکا ہوں

 

 جناب سیعدی صاحب آپ کی واپسی کے سارے راستے

بند ہو چکے قصہِ مختصر  کہ 

مولا کا معنی  محبوب ، دوست ، ذمہ دار ، غلام ،

مالک کی طرح آقا کرنا

جائز ہے

یاکہ

جائز نہیں 

--------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

بوکھلا گئے ہو۔

جناب سعیدی صاحب  یہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کون کس سے بھاگ رہا

ہے اور کون بوکھلا رہا ہے ؟

 مولا کا معنی آقا کرنے پر  اھل سنت سے خارج ، بدمذہب ، رافضی اور گمراہ لکھنے والے

ایسے بوکھلائے کہ

یہ بھی نہیں لکھ رہے کہ 

مولا کا معنیٰ دوسرے الفاظ محبوب ، دوست  ، مددگار کی طرح آقا 

کرنا جائز ہے کہ نہیں ۔

 محترم کہاں فتووں سے آپ بھاگے اب جائز و ناجائز لکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی ۔

گمراہ کن عقیدے پر یوں ہی ہوا کرتا ہے ۔

---------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

قاسم علی صاحب۔سعیدی صاحب علماء اہلسنت کی ایک کثیر تعداد سے مولا کا معنی اس حدیث کے متعلق لکھ آۓ ہیں لیکن آپ ہر چیز کا خود ہی فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

قاسم علی صاحب۔سعیدی صاحب علماء اہلسنت کی ایک کثیر تعداد سے مولا کا معنی اس حدیث کے متعلق لکھ آۓ ہیں لیکن آپ ہر چیز کا خود ہی فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں 

جناب محترم قادری سلطانی صاحب مجھے آپ کے ان 

پیش کردہ معنی سے کوئی اختلاف نہیں ، میری آپ حضرات سے گذارش فقط اتنی

ہے کہ لفظ مولا کے جو معنی آپ نے پیش فرمائے  انہیں میں   مولا کا اک معنی آقا 

بیان کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟

-------------------

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب محترم سعیدی صاحب روافض کی کتابوں میں جس طرح

مولیٰ علیؓ کو ظاہری خلافت میں خلیفہِ بلافصل مانا جاتا ہے ہم

اہل سنت کا ہرگز ہرگز وہ عقیدہ نہیں ہے ہے

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلیفہِ بلافصل

مانتے ہوئے اگر مولا کا معنی دوست ، محبوب ، مددگار کی ہی طرح آقا یا کوئی اور معنیٰ کیا جائے تو کیا  پھر وہ جائز ہے کہ نہیں 

محترم سعیدی صاحب آپ ناحق بھاگ رہے ہیں

محترم اب جائز و ناجائز بتانا ہی پڑے گا ۔

آخر اس میں کون سی پریشانی آپ جناب کو درپیش ہے کہ آپ میتے محترم کتنے دن سے اک فقرہ نہیں لکھ پا رہے  کہ جائز ہے ناجائز

امید ہے آپ مہربانی فرمائیں گے اور دوٹوک لکھیں کہ جائز ہے ناجائز؟

-----------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

حدیث پاک (من کنت مولاہ) کے لفظ (مولا) کا ترجمہ (آقا )سے کرنا 

یا تومحض خطا ہے یا پھر کفروضلالت ہے۔

اس پرایک ہی حکم نہیں لگتا 

جس طرح روزہ کی حالت میں

بھول کر (خطاء ) کھانا اور حکم رکھتا ہے اور عمدا ایسا کرنا اور حکم رکھتا ہے۔

حضرت علی مرتضیٰ اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے مولا ہونے کا دائرہ کار ایک ہے مگر آقا ہونے (سیادت) کا دائرہ کار ایک نہیں ۔ جو اُن کا آقا ہونے میں ایک ہی دائرہ کار مانتا ہے ،وہ حضرت  علی کا آقا ہونے کا دائرہ بڑھاتا ہے یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آقا ہونے کا دائرہ کم کرتا ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

سعیدی صاحب کیا نئی سے نئی حکایات سنارہے ہیں میں پوچھ رہا ہوں کہ مولا کا

معنیٰ آقا کر نا جائز ہے کہ ناجائز وہ لکھ دیں ، آپ کبھی اک ضرورت کی ایجاد فرماتے

ہیں کبھی دوسری او اللہ کے بندے عقیدہ ایک لکھو ،

جائز ہے یا ناجائز ہے ؟

--------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب یہی جائز وناجائز ہی تو لکھا ہے اور میں کوئی افسانہ تو نہیں لکھ رہا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

غلام احمد صاحب عقلمند شخص کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور بے عقل کے سامنے بین بجانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

جناب یہی جائز وناجائز ہی تو لکھا ہے اور میں کوئی افسانہ تو نہیں لکھ رہا۔

 کمال بات ہے آپ دونوں میں سے ایک بھائی بھی ہمت نہیں کر رہا کہ

مولا کا معنی 

آقا

کرنا جائز ہے 

یا ناجائز ہے 

لکھ دے ۔

 چلیں سعیدی صاحب نہیں تو قادری سلطانی صاحب آپ ہی لکھ دیں کہ 

مولا کا معنی آقا کرنا

جائز ہے کہ ناجائز ہے ؟

----------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

یار آپ نا کسی اچھے سے ماہر نفسیات سے مل لو ایک بار

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

یار آپ نا کسی اچھے سے ماہر نفسیات سے مل لو ایک بار

 

 

 

 چلیں سعیدی صاحب نہیں تو قادری سلطانی صاحب آپ ہی لکھ دیں کہ 

مولا کا معنی آقا کرنا

جائز ہے کہ ناجائز ہے ؟

---

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب کا اتنا ہی علم نہیں کہ ہر چیز کا حکم ایک جیسا نہیں ہوتا جیسا کہ واقعہ معراج کو ہی لے لیجیے۔پہلے حصے کا انکار کفر ہے باقی کا نہیں۔اسلیے اپنی ہی ہانکنا کہ اسکا یہی جواب دو پاگل پن کے علاوہ کچھ نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.