Sign in to follow this  
Followers 0
Smart Ali

safaig murgh kay baray may wahabi ka dawat islami per aietraz

2 posts in this topic

 

(salam)

 

Hazrat aik wahabi nay dawat islami per aietraz keeya hay. is ka jawab inayat fermadien.  (ja)

 

5a93bbc013485_WhatsAppImage2018-02-25at10_19.08PM1.jpg.bb771d14304212d5db78d143e2f8c207.jpg

 

 

سفید مرغ کی فضیلت

● سوال:
چند دنوں سے ایک روایت بہت زیادہ گردش کررہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ گھر میں سفید مرغ پالو کیونکہ جس گھر میں سفید مرغ ہوتا ہے اس گھر اور اس کے اردگرد کے گھروں کے قریب شیطان اور جادوگر نہیں آسکتا.
اس روایت کو آج کل لوگ بہت پھیلا رہے ہیں اور خصوصاً عامل حضرات اس کو عام کررہے ہیں.
اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے.


      ▪ الجواب باسمه تعالی

واضح رہے کہ مرغ کے متعلق ذخیرہ حدیث میں بہت ساری روایات موجود ہیں لیکن ان میں سے اکثر روایات سند کے لحاظ سے درست نہیں ہیں.

مرغ کے متعلق وارد روایات اور ان کا حکم:

١. پہلی روایت:
سوال میں مذکور روایت احادیث کی مختلف کتابوں میں منقول ہے.

□ عن أنس بن مالك قال‏:‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم‏:‏ ‏"‏اتخذوا الديك الأبيض، فإن داراً فيها ديك أبيض لا يقربها شيطان ولا ساحر، ولا الدويرات حولها‏"‏‏.‏ (رواه الطبراني في الأوسط)

● روایت کا حکم:
اس کی سند میں محمد بن محصن العكاشي ہے جس کو محدثین نے جھوٹا قرار دیا ہے.

وفيه محمد بن محصن العكاشي وهو كذاب‏.‏

٢. دوسری روایت:
اس روایت میں ہے کہ سفید مرغ کو آپ علیہ السلام نے اپنا دوست قرار دیا اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن قرار دیا.
- حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے یہ بات سنی ہے سفید مرغ میرے گھر میں رہا ہے.

□ حدثنا أحمد بن خالد بن مسرح الحراني، وأحمد بن علي الأبار قالا: ثنا معلل بن نفيل الحراني، ثنا محمد بن محصن، عن إبراهيم بن أبي عبلة، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اتخذوا الديك الأبيض فإنه صديقي وعدو عدو الله، وإن دارا فيه ديك أبيض لا يقربها شيطان ولا ساحر ولا الدويرات حولها".
• قال أنس: ما فارق عندي ديك أبيض منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله. (مسند الشاميين للطبراني).

اس روایت کی سند میں وہی راوی العكاشي ہے جس کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے.

٣. تیسری روایت:
مرغ کو گالی مت دو اسلئے کہ یہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں اور اس کے دشمن کا دشمن ہوں. خدا کی قسم! اگر لوگوں کو مرغ کی قیمت کا پتہ چل جائے تو وہ اس کے بال اور گوشت کو سونا چاندی کے بدلے خریدنے کی کوشش کرینگے اور یہ اپنی آواز کے بقدر جنات کو بھگاتا ہے.

□ لا تسُبُّوا الديكَ فإنه صديقي وأنا صديقُه وعدوُّه عدوِّي والذي بعثني بالحقِّ لو يعلمُ بنو آدمَ ما في صوتِه لاشتروا ريشَه ولحمَه بالذهبِ والفضةِ وإنه ليطردُ مدى صوتِه من الجنِّ.
- الراوي: عبدالله بن عمر.
- المحدث: ابن حبان.
- المصدر: المجروحين.
- الصفحة أو الرقم: 1/535.
- خلاصة حكم المحدث: ينكره من أمعن في صناعة الحديث وعلم مسلك الأخبار وانتقاد الرجال.
¤ اس روایت کو امام ابن حبان نے من گھڑت قرار دیا ہے.

٤. چوتھی روایت:
مرغ کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں.
□ لا تسبُّوا الدِّيكَ فإنَّهُ صديقي وأنا صديقُه.
- الراوي: عبدالله بن عمر.
- المحدث: ابن القيسراني.
- المصدر: تذكرة الحفاظ.
- الصفحة أو الرقم: 383.
- خلاصة حكم المحدث: [فيه] عبدالله بن صالح، كاتب الليث: متروك الحديث، كذاب.
¤ اس کی سند میں عبداللہ بن صالح کاتب الليث ہے جس کو محدثین نے جھوٹا قرار دیا ہے.

٥. پانچویں روایت:
سفید مرغ میرا دوست ہے اور اللہ کے دشمن کا دشمن ہے، اپنے مالک کے گھر کی حفاظت کرتا ہے اور ارد گرد کے سات گھروں کی بھی حفاظت کرتا ہے، اور آپ علیہ السلام کے گھر میں سفید مرغ رات کو رہتا تھا.
□ الدِّيكُ الأبيضُ صديقي وعدوُّ عدوِّ اللهِ يحرسُ دارَ صاحبِه، وسبعَ أدؤُرٍ، كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يُبيتُه معهث في البيتِ.
- الراوي: خالد بن معدان.
- المحدث: ابن الجوزي.
- المصدر: موضوعات ابن الجوزي.
- الصفحة أو الرقم: 3/136.
- خلاصة حكم المحدث: ليس بصحيح.
- التخريج: أخرجه ابن الجوزي في "الموضوعات" (3/5).
¤ علامہ ابن جوزی نے اس روایت کو موضوعات میں ذکر کرکے فرمایا کہ یہ درست نہیں ہے.

٦. چھٹی روایت:
سفید مرغ میرا اور میرے محبوب جبريل کا دوست ہے، اس گھر کی حفاظت کرتا ہے اور چاروں طرف کے سولہ گھروں کی حفاظت کرتا ہے: چار دائیں، چار بائیں، چار سامنے، چار پیچھے.

□ الدِّيكُ الأفرَقُ الأبيضُ حبيبي وحبيبُ حبيبي جبريلَ يحرُسُ بيتَه، وستَّةَ عشرَ بيتًا من جيرتِه: أربعةً عن اليمينِ، وأربعةً عن الشِّمالِ، وأربعةً من قُدَّامٍ، وأربعةً من خلف.
- الراوي: أنس بن مالك.
- المحدث: ابن الجوزي.
- المصدر: موضوعات ابن الجوزي.
- الصفحة أو الرقم: 3/138.
- خلاصة حكم المحدث: موضوع.
- التخريج : أخرجه العقيلي في "الضعفاء الكبير" (1/127)، وأبوالشيخ في "العظمة" (5/1758).

¤ اس روایت کو امام ابن جوزی، امام عقیلی اور امام سیوطی نے من گھڑت قرار دیا ہے، اس میں ایک راوی احمد بن محمد بن عبداللہ البزی المقری ہے جو انتہائی کمزور راوی ہے.

٧. ساتویں روایت:
سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست کا دوست ہے اور میرے دشمن کا دشمن ہے.

□ الديك الأبيض صديقي، وصديق صديقي، وعدو عدوي. (رواه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" ص:213 من زوائده): حدثنا عبدالرحيم ابن واقد: حدثنا عمرو بن جميع.

¤ یہ روایت درست نہیں کیونکہ اس میں ایک راوی عمرو بن جمیع ہے جس کو ابن معین اور ابن عدی رحمهما اللہ نے من گھڑت روایات بنانے والا کہا ہے.

قلت: وهذا موضوع أيضا.
١. آفته عمرو بن جميع، فقد كذبه ابن معين.
◇ وقال ابن عدي: کان يتهم بالوضع.
٢. وعبدالرحيم بن واقد؛ مجهول.
٣. وأبان عن أنس؛ هو ابن أبي عياش؛ متروك.

■ مرغ کے بارے میں صحیح روایات:

١- پہلی روایت:
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز (بانگ) سنو تو اللہ تعالٰی سے اس کا فضل مانگو کیونکہ یہ فرشتوں کو دیکھتا ہے، اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ سے پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے.

○ ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إذا سمعتم صياح الديكة فاسألوا الله من فضله، فإنه يرى ملكاً، وإذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان فإنه يرى شيطاناً".

٢- دوسری روایت:
مرغ کو برا بھلا مت کہو کیونکہ یہ نماز کیلئے جگاتا ہے.
○ لا تسُبُّوا الدِّيكَ؛ فإنَّه يُوقِظُ للصَّلاةِ.
- الراوي: زيد بن خالد الجهني.
- المحدث: أبوداود.
- المصدر: سنن أبي داود.
- الصفحة أو الرقم: 5101.
والنسائي في السنن الكبرى (10781) مختصراً باختلاف يسير، وأحمد (21679) مطولاً واللفظ له.

٣- تیسری روایت:
ایک مرغ نے آپ علیہ السلام کے پاس آواز دی تو ایک شخص نے اس کو برا کہا تو آپ علیہ السلام نے مرغ کو گالی دینے سے منع فرمایا.
□ أنَّ ديكًا صرخَ عندَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ فسبَّهُ رجلٌ، فنَهَى عن سَبِّ الدِّيكِ.
- الراوي: عبدالله بن مسعود.
- المحدث: البزار.
- المصدر: البحر الزخار.
- الصفحة أو الرقم: 5/168.

٤- چوتھی روایت:
اللہ رب العزت نے مجھے اجازت دی کہ میں تمہارے سامنے ایک مرغ کا تذکرہ کروں جس کے قدم زمین پر اور اس کی گردن عرش کے نیچے ہے اور وہ کہتا ہے: اے ہمارے رب! آپ کی عظیم ذات پاک ہے تو اللہ رب العزت کی طرف سے جواب آتا ہے کہ یہ بات جھوٹی قسمیں کھانے والے نہیں جانتے.
□ إنَّ اللهَ جلَّ ذِكرُه أذِن لي أن أُحدِّثَ عن ديكٍ قد فرَقت رجلاه الأرضَ وعنقُه مثنيٌّ تحت العرشِ وهو يقولُ: سبحانَك ما أعظمَك ربَّنا فيرُدُّ عليه ما علِم ذلك من حلف بي كاذبًا.
- الراوي: أبوهريرة.
- المحدث: المنذري.
- المصدر: الترغيب والترهيب.
- الصفحة أو الرقم: 3/64.
- خلاصة حکم المحدث: إسناده صحيح.

           ▪ خلاصہ کلام
آج کل جن روایات کا چرچا ہے اور خصوصاً عاملین حضرات جس طرح کی روایات مرغ کے بارے میں پھیلا رہے ہیں یہ سب غلط اور اکثر من گھڑت روایات ہیں، مرغ کا جادو جنات سے کوئی تعلق نہیں، لہذا اس طرح کے واہیات اقوال اور افعال سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیئے.

    《واللہ اعلم بالصواب》
٢٤ فروری ٢٠١٨

 

Edited by Smart Ali

Share this post


Link to post
Share on other sites

وھابی اور دیوبندی جن   احادیث کو موضوع کہتے ہیں تو ان لوگوں کا مذہب یہ ہے کہ

تائیداً  موضوع حدیث فضائل میں قابل عمل ہے۔

 

asool fiqah 1.jpg

asool fiqah 2.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.