Sign in to follow this  
Followers 0
Umar Usman

قرآن اور بگ بینگ

1 post in this topic

Posted (edited) · Report post

بگ بینگ نظریہ بیان کرتا ہے کہ ابتدا میں تمام اجسام ایک ٹکڑا تھے اور پھر یہ علیحدہ علیحدہ ہوئے۔ وہ حقیقت جسے بگ بینگ نظرئیے نے ظاہر کیا، قرآن پاک میں 14 صدی پہلے واضح کردیا گیا کہ جب لوگوں کے پاس کائنات کے بارے میں بہت ہی محدود معلومات تھیں:
’’کیا ان کافروں کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ آسمان اور زمین (پہلے) بند تھے۔ پھر ہم نے دونوں کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے ہر جان دار چیز کو بنایا ہے۔ کیا (ان باتوں کو سن کر) بھی ایمان نہیں لاتے۔‘‘ (سورۃ الانبیاء۔30)
جیسا کہ درج بالا آیت میں بیان کیا گیا، کائنات کی ہر شے حتیٰ کہ ’’آسمان اور زمین‘‘ کی تخلیق بھی، ایک عظیم دھماکے کے نتیجے میں ایک واحد نقطے سے کی گئی اور موجودہ کائنات کو ایک دوسرے سے الگ کرکے مخصوص شکل دی گئی۔

کیا سورة الانبیاء کی اس آیت میں واقعی بگ بینگ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟ علماء کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جزاک اللہ خیراً۔

Edited by Umar Usman

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.