Jump to content

قبروں پر مزار اور قبے بنانا مکروہ ہے ابوحنیفہ کا فتویٰ

Recommended Posts





وَيُكْرَهُ أَنْ يُزَادَ عَلَى التُّرَابِ الَّذِي أُخْرِجَ مِنْ الْقَبْرِ؛ لِأَنَّ الزِّيَادَةَ عَلَيْهِ بِمَنْزِلَةِ الْبِنَاءِ

قَوْلُهُ وَلَا يُجَصَّصُ لِحَدِيثِ جَابِرٍ «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ 

 علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں: اور قبر سے نکالی گئی مٹی سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے  کیونکہ یہ اس پر عمارت (بناء) بنانے کے مشابہ ہے  (پھر آگے لکھتے ہیں) اور قبر کو پختہ نہ بنایا جائے کیونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث میں ہے  کہ نبیﷺ نے  قبر کو پختہ کرنے، اس پر بیٹھنے (مجاوری کرنے) اور اس پر عمارت بنان سے منع فرمایا ہے ۔(البحرارائق ج2 ص 340، کتاب الجنائز،

دارلکتب العلمیہ ، بیروت

فقہ حنفی اور مزارات کی تعمیر


فقہ حنفی کی معتبر کتاب فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے: ‘‘جو مٹی قبر سے نکلی ہے اس سے زیادہ بڑھانا مکروہ ہے۔۔۔ قبر کوہان شتر کی صورت ایک بالشت اونچی بنائی جائے اور چورس نہ کی جائے اور نہ گچ (چونا) کی جائے اور اس پر پانی چھڑک دینے سے مضائقہ نہیں اور قبر پر کوئی عمارت بنانا اور بیٹھنا اور سونا۔۔ مکروہ ہے۔’’(فتاویٰ عالمگیری ج۱ ص ۴۱۰)


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Create New...