Sign in to follow this  
Followers 0
aaftab

mard aur aurat ki namaz mai koi farq nahe wahabia ka aaitaraz

4 posts in this topic

مرد اور عورت کی نماز میں فرق نہیں

" عورتيں مردوں كى طرح ہى ہيں " مسند احمد، صحيح الجامع حديث نمبر ( 1983 ) ميں 
اسے صحيح قرار ديا گيا ہےمسند احمد، صحيح الجامع حديث نمبر ( 1983 ) ميں اسے

صحيح قرار ديا گيا ہے. ليكن اگر عورتوں كے متعلق كسى چيز ميں خصوصيت كى دليل مل جائے تو اس ميں وہ مردوں سے مختلف ہونگى، اور اس موضوع ميں نماز كے اندر عورت كے

بارہ ميں جو علماء نے ذكر كيا ہے وہ درج ذيل ہے: - عورت پر اذان اور اقامت نہيں ہے، كيونكہ اذان ميں آواز بلند كرنا مشروع ہے، اور عورت كے ليے آواز بلند كرنا جائز نہيں. ابن قدامہ

رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اس ميں ہميں كسى اختلاف كا علم نہيں . ديكھيں: المغنى مع الشرح الكبير ( 1 / 438 ). - عورت كے چہرے كے علاوہ باقى سب كچھ نماز ميں چھپائے گى، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " اللہ تعالى نوجوان عورت كى نماز اوڑھنى كے بغير قبول نہيں كرتا" رواہ الخمسۃ. عورت كے ٹخنے اور قدموں ميں اختلاف ہے، ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: نماز ميں آزاد عورت كا سارا بدن چھپانا واجب ہے، اگر اس ميں سے كچھ بھى ظاہر ہو گيا تو اس كى نماز صحيح نہيں ہو گى، ليكن اگر بالكل

تھوڑا سا ہو، امام مالك، اوزاعى اور امام شافعى كا يہى قول ہے. ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 2 / 328 ). - عورت ركوع اور سجدہ ميں اپنے آپ كو اكٹھا كرے گى اور كھلى ہو كر نہ رہے

كيونكہ يہ اس كے ليے زيادہ پردہ كا باعث ہے. ديكھيں: المغنى ( 2 / 258 ). ليكن اس كا ذكر كسى حديث ميں نہيں ملتا - عورت كے ليے عورت كى جماعت ميں نماز ادا كرنا مستحب

ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ام ورقہ كو حكم ديا تھا كہ وہ اپنے گھر والوں كى امامت كروايا كرے" اس مسئلہ ميں علماء كرام كے

مابين اختلاف پايا جاتا ہے، اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ المغنى اور المجموع ديكھيں، اور اگر غير محرم مرد نہ سن رہے ہوں تو عورت اونچى آواز سے قرآت كرے گى. ديكھيں:

المغنى ( 2 / 202 ) اور المجموع للنووى ( 4 / 84 - 85 ). - عورتوں كے ليے گھروں سے باہر مسجدوں ميں جا كر نماز ادا كرنا جائز ہے، ليكن ان كى اپنے گھروں ميں نماز ادا كرنا افضل

ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " اللہ تعالى كى بنديوں كو مسجدوں كى طرف نكلنے سے منع نہ كرو، اور ان كے گھر ان كے ليے بہتر ہيں" - اور امام

نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع" ميں كہتے ہيں: عورتوں كى جماعت مردوں كى جماعت سے كچھ اشياء ميں مختلف ہے: 1 - عورتوں كى امام عورت ان كے وسط ميں كھڑى ہو گى.

2 - اكيلى عورت مرد كے پيچھے كھڑى ہو گى نہ كہ مرد كى طرح امام كے ساتھ. 3 - جب عورتيں مردوں كے ساتھ صفوں ميں نماز ادا كريں تو عورتوں كى آخرى صفيں ان كى پہلى

صفوں سےافضل ہونگى. ديكھيں: المجموع للنووى ( 3 / 455 ). اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كا فائدہ يہ ہے كہ اس سے اختلاط كى حرمت كا علم ہوتا ہے. انتہى اللہ تعالى ہى توفيق

بخشنے والا ہے. واللہ اعلم یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے سلام تک مردوں اور عورتوں کی نماز ہیئت ایک جیسی ہے سب کیلئے تکبیر تحریمہ قیام، ہاتھوں کا باندھنا، دعاء استفتاح

پڑھنا، سورہ فاتحہ، آمین، اس کے بعد کوئی اور سورت، پھر رفیع الیدین رکوع، قیام ثانی، رفع یدین، سجدہ ، جلسہ استراحت ، قعدہ اولیٰ ، تشہد، تحریک اصابع، قعدہ اخیرہ ، تورک،

درود پاک اور اس کے بعد دعا، سلام اور ہر مقام پڑھی جانے والی مخصوص دعائیں سب ایک جیسی ہی ہیں عام طور پر حنفی علماء کی کتابوں میں جو مردوں اور عورتوں کی نماز کا

فرق بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں صرف کندھوں تک ، مر دحال قیام میں زیر ناف ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ، حالت سجدہ میں مرد اپنی رانیں پیٹ

سے دور رکھیں او ر عورتیں اپنی رانیں پیٹ سے چپکا لیں یہ کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں ۔ چنانچہ امام شوکافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :''1) اور جان لیجئے کہ یہ رفع یدین ایسی سنت ہے جس میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہیں اور ایسی کوئی

حدیث وارد نہیں ہوئی جوان دونوں کے درمیان اس کے بارے میں فرق پر دلالت کرتی ہو ۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حدیث وارد ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ہاتھ اٹھانے کی مقتدار پر

دلالت کرتی ہو اور احناف سے مروی ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور عورت کندھوں تک کیونکہ یہ اس لئے زیادہ سا تر ہے لیکن اس کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود

نہیں ''۔ ( نیل الا وطار ۲/۱۹۸)شارح بخاری امام حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ شمس الحق عظیم آابادی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں :'' مرد اور عورت کے درمیان تکبیر کیلئے ہاتھ اٹھانے کے فرق کے بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ''۔ (فتح الباری۲٢/۲۲۲، عوں المعبود ۱/۲۶۳) ۲)

مردوں اور عورتوں کے حال قیام میں یکساں طور پر حکم ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سینے پر باندھیں خاص طور پر عورتوں کیلئے علیحدہ حکم دینا کہ وہ ہی صرف سینے پر ہاتھ باندھیں

اور مرد ناف کے نیچے باندھیں اس لئے حنفیوں کے پاس کوئی صریح و صحیح حدیث موجود نہیں ۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری ترمزی کی شرح میں فرماتے ہیں کہ :'' پس جان لو کہ

امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ مرد نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھے اور عورت سینہ پر امام بو حنیفہ اور آپ کے اصحاب سے اس کے خلاف کوئی اور قول مروی نہیں ہے ''۔(تحفہ الا

حوذی ۱/۲۱۳)محدث عصر علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں :'' اور سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت سے ثابت ہے اور اس کے خلاف جو عمل ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا پھر بے اصل ہے ''۔

(صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم /۸۸) ۳) حالت سجدہ میں مردوں کا پانی رانوں کو پیٹ سے دور رکھنا اور عورتوں کا سمٹ کر سجدہ کرنا یہ حنفی علماء کے نزدیک ایک

مرسل حدیث کی بنیاد پر ہے جس میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوعورتوں کے پاس گزر ے جو نماز پڑے رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم

سجدہ کر وتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورتوں کا حکم اس بارے میں مردوں جیسانہیں ۔ علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں :'' روایت مرسل ہے جو قابل

حجت نہیں امام ابو داؤد نےا سے مراسیل میں یزید بن ابی حبیبت سے روایت کیا ہے مگر یہ روایت منقطع ہے اور اس کی سند میں موجود ایک راوی سالم محدثین کے نزدیک متورک

بھی علامہ ابن التر کمانی حنفی نے الجوھر النقی علی السنن الکبری للبیھقی ۲٢/۲۲۳پر تفصیل سے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے ''۔پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے

سجدہ کرنے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر اس طریقہ کے خلاف رسول اللہ کے متعد ارشاد مروی ہیں چند ایک یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔'' تم سے کوئی بھی

حالت سجدہ میں اپنے دونوں بازے کتے کی طرح نہ بچھائے'''' سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازہ کتے کی طرح نہ بچھائے غرض نماز کے

اند رایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح ہوں۔ امام بن قیمہ فرماتے ہیں ـ:'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑ کی طرح اِ دھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرف افتراش یا کتے کی طرح اقعاء کو ے کی طرح ٹھونگیں مار نا یا

سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع نہیں ''۔پس ثابت ہو اکہ سجدہ کا اصل سنن طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں

یوں مروی ہے :'' جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ ہی اپنے پہلوؤں سے ملاتے تھے ''۔ بخاری مع فتح الباری ۲٢/ ۳۰۱، سنن ابو

داؤد مع عون۱/۳۳۹، السنن الکبری للبیہقی۲/۱۱۶، شرح السنہ للبغوی (۵۵۷) مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وار دہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے

مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیئت نماز کا مفرق مروی نہیں ۔

تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم کے عہدِ رسالت سے جملہ اُمہات المومنین ، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ کا ہوتا تھا ۔

چنانچہ امام بخاری ل نے بسند صحیح اُم درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے :'' وہ نما ز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں ''۔ ( تاریخ صغیر للبخاری ٩٠)چوتھی

بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے :'' تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ۔'' ا س حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں

۔پانچویں بات یہ ہے کہ خلفائے راشدین، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین محدثین اور صلحائے اُمت میں سے کوئی بھی ایسامرد نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہو کہ رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عوتوں کی نماز میں فرق کیا ہو بلکہ امام ابو حنیفہؒ کے استاذ کے استاذ امام ابرہیم نحعی سے بسند صحیح مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں :'' نماز

میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے ''۔ (مصنف ابن ابی شیبہ۱/۷۵/۲)جن علماء نے عورتوں کا نماز میں تکبیر کیلئے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا قیام میں

ہاتھ سینہ پر باندھنا اور سجدہ میں زمین کے چاتھ چپک جانا موجب ستر بتایا ہے۔ وہ دراصل قیاس فاسد کی بناء پر ہے کیونکہ جب اس کے متعلق قرآن وسنت خاموش ہیں تو کسی

عالم کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کر از خود دین میں اضافہ کرے۔ البتہ نماز کی کیفیت وہیئت کے علاوہ چند مرد و عورت کی نماز مختلف ہیں ۔١) عورتوں کیلئے

اوڑھنی او پر لے کر نماز پڑحنا حتی کہ اپنی ایڑیوں کو بھی ڈھکنا ضرویر ہے۔ اس کے بغیر بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ کسی بھی بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا''۔

(ابن ماجہ (۶۵۵)۱/۲۱۵، ابوداؤد (۶۴۱) ، مسند احمد۶/۱۵۰،۲۱۸،۲۵۹)) امام جب نماز میں بھول جائے تو ا سے متنبہ کرنے کیلئے مرد سبحان اللہ کہے اور عورت تالی بجائے ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے :'' مردوں کیلئے سبحان اللہ اور عورتوں کیلئے تالی ہے '' (بخاری ٢۲/۶۰، مسلم۲/۲۷، ابو داؤد (۹۳۹) ، ابن ماجہ۱/۲۲۹، نسائی۳/۱۱، مسند 
احمد۲/۲۶۱١،۳۱۷،۳/۳۴۸))

مرد کو نماز کسی صورت میں بھی معاف نہیں لیکن عورت کو حالتِ حیض میں فوت شدہ نماز کی قضا نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، دارمی اور مسند احمد میں موجود ہے۔)

اسی طرح عورتوں کی سب سے آخری صف ان کی پہلی صف سے بہتر ہوئی ہے ۔ مسلم کتاب الصلوٰۃ ، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد۲/۴۸۵،۲۴۷،۳/۳،۱۶ میں حدیث موجو دہے

۔یہ مسائل اپنی جگہ پر درست اور قطعی ہیں مگر ان میں تمام تصریفات منصوصہ کو مروجہ تصریفات غیر منصوصہ کیلئے ہر گز دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔ یہ تفریقات علماء احناف کی خودساختہ ہیں جن کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں ۔س: عورت اور مرد کی نماز میں کیا فرق ہے عورت کو سجدہ کرتے وقت اپنا پیٹ رانوں سے لگانا چاہئے قرآن و سنت کی رو سے وضاحت کریں ۔

ج: نبی اکرم نے نماز کی جو کیفیت بیان فرمائی ہے، اس میں مرد عورت دونوں برابر ہیں ، آپ کا حکم ( صلو ا کمار ایتمونی اصلی ) '' نماز اس طرح پڑحو جس طرح نماز پڑھتے ہوئے مجھے دیکھتے ہو ''( بخاری )مردوں اور عورتوں سب کیلئے برابر ہے۔ آپ نے نماز کا جو طریقہ بیان فرمایااس کی ادائیگی میں مرد و زن کیلئے کوئی فرقی بیان نہیں فرمایا عورت کیلئے سجدہ کی جو کیفیت حنفی علماء بیان کرتے ہیں، اس کی بنیاد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی اس روایت پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورب جب سجدہ کرتے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے ۔ اس لئے کہ یہ س کیلئے زیادہ پردے کا موجب ہے۔

یہ روایت سنن کبری بیہقی ۲٢/۲۲۲،۲۲۳ میں موجو دہے لیکن امام بیہقی نے اس روایت کے بارے میں خود صراحت کر دی ہے کہ اس جیسی روایت سے استدلال کرنا صحیح نہیں ۔ یعنی یہ روایت اس قدر ضعیف ہے کہ قابل حجت ہی نہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ احناف کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہابیہ اثار صحابہ سے عورتوں اور مردوں کی نماز میں فرق کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں ؟

 

Untitled.png

 اگر عورت اور مرد کی نماز میں کوئی بھی فرق نہیں تو اما م ابن ابی شیبہ جو کہ امام بخاری کے دادا استاد ہیں انکو کیا ضرورت پڑی تھی عورتوں کے لے نماز مین سجدے کے لیے علیحدہ باب قائم کرنے کی ؟  

امام ابی ابی شیبہ نے عورتوں کے متعدد علیحدہ ابواب قائم کیے نماز کےارکان کے۔۔۔۔

444.JPG

Share this post


Link to post
Share on other sites

 غیر مقلدین کے لیے اس پر ایک الزامی سوا ل ہے کہ حجر یا عمرہ کے موقع پر عورتیں لَبَّیْکَ اللّهُمَّ لَبَّیْک پکارتی ہیں لیکن مرد اونچی آواز میں پکارتے ہیں جبکہ عورتیں پست آواز میں تو کونسی قرآن کی  آیت یا نبی کی کسی حدیث میں یہ حکم ہے اسکا ثبوت دے دیں تاکہ معلوم ہو کہ وہابیہ کا ہر کام قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے اور جو حکم کی صراحت قرآن و حدیث میں نہ ہو بقول انکے تو وہ مرد اور عورت کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.