محمد افتخار الحسن

انسانیت سب سے بڑا مذھب ہے

1 post in this topic


⚡️⚡️انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے؟؟؟⚡️⚡️

حسن اچانک زمین پر گرتا ہے اور اس کا دوست دانش اسے اٹھانے کے لیے سہارا دیتا ہے۔

دانش:کیا ہوا حسن؟چکر آگئے کیا؟تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟

حسن:بس یار!انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ہمارے ایک غیر مسلم پڑوسی کو خون کی اشد ضرورت تھی اور اتفاق سے میرا خون کا گروپ اس کے خون سے ملتا تھا لہذا کل دو بوتل خون کی عطیہ کرکے آیا ہوں۔مجھے تو اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے ایک انسان کی جان بچائی ہے۔

دانش:اگر خون دینا تھا تو کسی مسلمان کو دیتے غیرمسلم کو دینے کی کیا ضرورت تھی؟

حسن:یار!پھر کیا ہوا؟غیر مسلم بھی تو انسان ہیں اگر میں نے ایک غیر مسلم کو خون عطیہ کردیا تو پھر کیا ہوا؟ویسے بھی انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔

دانش:حسن بھائی!انسانیت کوئی مذہب نہیں ہے۔مذہب اسلام سب سے بڑا مذہب ہے اور ہم تمام مسلمان اسی مذہب پر چلنے کے پابند ہیں۔یہ جملہ تو کسی بے دین کا گھڑا ہوا لگتاہے۔اگر دین اسلام میں کسی کام کی اجازت دی گئی ہے تو بے شک بڑھ چڑھ کر اسے کرنا چاہیےالبتہ جن کاموں سے منع کیا گیا ہے انہیں ایسے من گھڑت جملوں کی آڑ میں نہیں کر گزرنا چاہیے۔

حسن:یہ کیا بات ہوئی؟کیا اسلام ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب نہیں دیتا ۔نیز پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟

دانش:پیارے حسن بھائی!ناراض نہ ہوں میں آپ کو سب کچھ سمجھاتا ہوں۔دیکھیں!بے شک اسلام نے ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب دی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسلم وغیرمسلم کے لیے فرش راہ بن جائیں بلکہ مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے اور بے شک اس میں بہت ثواب ہے۔

دوسری بات!پڑوسیوں کے حقوق میں سب سے پہلے یہ ہے کہ اگر پڑوسی غیرمسلم ہے تو اسے اسلام کی دعوت دی جائے اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے قطع تعلق کر لیا جائے۔

جہاں تک تعلق ہے اس جملے کا تو اس بارے میں عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:" إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الْإِسْلاَمُ"(ترجمہ کنزالایمان:بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے)نیز ایک مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:" وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ "(ترجمہ کنزالایمان:اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا)

حسن بھائی!اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمادیا کہ اسلام ہی دین ہے تو جو احکام اس دین میں موجود ہیں صرف اسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور اسی دین کے منع کردہ کاموں سے بچنا چاہیے اور دین اسلام نے ہمیں غیر مسلم افراد سے میل جول سے منع فرمایا ہے۔

حسن:بہت بہت شکریہ دانش بھائی! آپ نے مجھے بے حد مفید باتیں بتائیں۔ آئندہ میں اس معاملے میں احتیاط کیا کروں گا اور اپنی تمام تر ہمدردیاں اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے خاص کردوں گا۔


✍    ابوالحسن محمد افتخار الحسن عطاری المدنی

12 صفر المظفر 1439

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.