Jabir Khan

Sajde jate waqt pehle hath zameen pr rakhna

2 posts in this topic

Ahlesunnat hanfi pr aitraz hai ki sunni sajde m jate waqt pehle hath ni rakhte balke pair yani ghutne rakhte hai....ye zaeef hadees se sabit hai na ki sahih....jabke sahih hadees main hai ki pehle hath rakhne hai...

 

 

 

Iska jawab de..koi plz

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

سجدہ کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

موضوع: نماز  |  نماز کی سنتیں

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد علاؤالدین       مقام: کراچی

سوال نمبر 3689:
السلام علیکم مفتی صاحب! سنن ابی داؤد 840 میں نماز کے سجدے سے متعلق ہے کہ سجدہ کرتے ہوئے پہلے ہاتھ زمین پر رکھنا چاہیے پھر گٹھنے۔ وضاحت فرمادیں کہ سجدہ کرنے کا درست انداز کیا ہے؟ پہلے ہاتھ زمین پر رکھنا چاہیے یا پہلے گٹھنے تکانے چاہیے؟ براہ مہربانی باحوالہ جواب عنائت فرمائیں۔

جواب:

سجدہ کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے گھٹنوں کو زمین پر لگایا جائے، پھر ہاتھ پھر ناک اور آخر میں پیشانی زمین پر رکھی جائے۔ جب سجدے سے اٹھے تو پھر اس کے برعکس عمل کرے یعنی پیشانی سب سے پہلے زمین سے اٹھائی جائے پھر ناک پھر ہاتھ اور آخر میں گھٹنے اٹھائے جائیں۔ حدیث مبارکہ میں اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ:

عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَاَيْتُ النَّبِيَّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُکْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُکْبَتَيْهِ

’’حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضورنبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنوں کو ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب اٹھتے تو ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔‘‘

  1. ابي داود، السنن، 1: 222، رقم: 838، دار الفکر
  2. ترمذي، السنن، 2: 56، رقم: 268، دار احياء التراث العربي بيروت
  3. ابن ماجه، السنن، 1: 286، رقم: 882، دار الفکر بيروت
  4. دارمي، السنن، 1: 347، رقم: 1320، دار الکتاب العربي بيروت
  5. نسائي، السنن الکبری، 1: 229، رقم: 676، دار الکتب العلمية بيروت
  6. ابن حبان، الصحيح، 5: 237، رقم: 1912، مؤسسة الرسالة بيروت

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ امام حاکم نے المستدرک علی صحیحین، علی بن ابو بکر ہیثمی نے موارد الظمآن، امام بیہقی نے السنن الکبری اور امام دار قطنی نے السنن میں بھی نقل کی ہے۔

جس حدیث مبارکہ کے بارے میں آپ نے دریافت کیا اس کی وضاحت درج ذیل ہے:

عَنْ اَبِي هُرَيْرَهَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ إِذَا سَجَدَ اَحَدُکُمْ فَلَا يَبْرُکْ کَمَا يَبْرُکُ الْبَعِيرُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُکْبَتَيْهِ

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے اور اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔‘‘

  1. احمد بن حنبل، المسند، 2: 381، رقم: 8942، موسسة قرطبة مصر
  2. ابي داود، السنن، 1: 222، رقم: 840
  3. دارمي، السنن، 1: 347، رقم: 1321
  4. نسائي، السنن الکبری، 1: 207، رقم: 1091

قَالَ اَبُوْ سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِیُّ حَديْثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ اَثْبَتَُ مِنْ هٰذَا وَقِيْلَ هٰذَا مَنْسُوْخٌ

’’ابو سلیمان خطابی فرماتے ہیں کہ وائل بن حجر کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے اور اس حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ منسوخ ہے۔‘‘

دونوں احادیث مبارکہ کی اسناد کے بارے میں فنی مباحث کے بعد آخر پر ملا علی القاری فرماتے ہیں:

بقول ابن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاصل یہ ہے کہ ہمارا مذہب پہلی حدیث پر عمل ہے اور امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب دوسری حدیث پر، اور ہر ایک کی کوئی وجہ ہے اور جب دونوں حدیثیں اصل صحت میں برابر ہیں تو نووی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ سنت کے اعتبار سے کسی ایک مذہب کی ترجیح مجھ پر ظاہر نہیں ہوئی اور اس میں نظر ہے۔ اس لئے کہ اگرچہ ہم اس کا منسوخ ہونا نہ بھی کہیں کیونکہ نسخ پر حدیث ضعیف دالّ ہے۔ لیکن پھر پہلی حدیث اصح ہے۔ لہٰذا وہی مقدم ہوگی اس کے باوجود اکثر علماء اسی کے قائل ہیں۔ نیز نمازی کے لئے سہولت اسی میں ہے۔ اور ہیئت اور شکل میں حسین بھی ہے۔‘‘

علي بن سلطان محمد القاري، مرقاة المفاتيح، 2: 570، دار الکتب العلمية، بيروت، لبنان

لہٰذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ احناف کا عمل پہلی حدیث مبارکہ پر ہے، جس کے مطابق سجدہ کرتے ہوئے پہلے گھٹنے زمین پر رکھے جائیں پھر ہاتھ اور اٹھتے وقت پہلے ہاتھ اٹھائے جائیں پھر گھٹنے۔ یہی بہترین طریقہ ہے۔

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By AhmedA
      Assalam o alaikum!
      Mujhy namaz kay mutaliq confusion ha. poochna ye ha kay agr hum jammat ma dair sa shamil hon aur aik ya 2 rakkat chhot jain to imam sahib kay salam phirne kay baad humy apni rakkat puri karni hoti hain. To ab jo ma rakkat khud poori karun ga to us ma Surah e fatiha kay baad koi surah parhun ga ya nai? for example kyun kay ma nay zuhr ki 1 rakkat chori jis ma imam sahib nay surah fatiha kay baad koi surah parhai ho gi to ma bhi koi surah parhun ya direct rukoo ma chala jaon.
    • By MunAAm
      ✒✒ *Golden moments*
       *with a shafiee teacher*✒✒
      🕋🕋🕋🕋🕋🕋🕋🕋🕋
      1) *maslak e shafiee me Takbeer e tahreema k waqt hathon ko uthane ka mukammal sunnat tareeqa*
      *مسلک شافعي میں تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھانے کا مکمل سنت طریقہ*
      *Dekhyiye/دیکھئے*
      Please Join Whatsapp Group :
      https://chat.whatsapp.com/7kGMamwcNkA0njKvy9SafB
    • By Madni.Sms
      کیا جمعہ کے دن جمعہ کے صرف دو فرض ہیں اور اس دن ظہر کا کیا حکم ہے؟
      (آواز: علامہ سید شاہ تراب الحق قادری (رحمتہ اللہ تعالیٰ عل
       
       
    • By Madni.Sms
      Voice: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri 
      اگر متواتر تین جمعہ چھوٹ جائیں تو حکم شرعی کیا ہے؟
      آواز: علامہ سید شاہ تراب الحق قادری (رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ)