ghulamahmed17

سیدنا حجر بن عدیؓ کا قتل

92 posts in this topic

Quote

قاسم منہاجی میاں تم مر تو جاؤ گے لیکن سوال کا جواب نہیں دے پاؤ گے کیوں کہ تم پھنس چکے ہو۔۔اب جان چھڑانے کی خاطر کبھی ادھر کبھی ادھر ہاتھ پاؤں ماررہے ہو لیکن میں آپ کو بھاگنے نہیں دوں گا ہمت کرو اور میرے سوالات کا کا جواب لکھو

 قادری سلطانی  جتنا بھاگ سکتے ہو ٹاپک سے بھاگو  اب جو جھوٹ آپ بار

بار بول کر لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنا چاہتے ہو اور ٹاپک سے

 بھاگنا چاہتے ہو تو لکھو میں نے تمہارے کس سوال کا جواب نہیں دیا ۔ میں نے آپ کے سارے سوالوں کے جواب دے دئیے ہیں ، 

آپ وہ سانپ سوال جس میں میں پھنس چکا ہوں لکھو ؟ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

۱۔حجر بن عدی کی وصیت سے  آپ کاکیا استدلال ہے؟

۲۔مقام عذراء کے مقتولین بشمول حجر بن عدی کے قتل سے اللہ پاک کے نارض ہونے کی روایت کا دارومدار ابن لہیعہ راوی پر ہے اور وہ ضعیف ہے۔اس کی کوئی صحیح سند پیش کرو۔پھر

ابن لہیعہ عن ابی الاسود ۔ ابی الاسود (م۱۳۱ھ)اور حضرت عائشہ کے درمیان روایت میں انقطاع پایا  جاتا ہے۔

۳۔امیرمعاویہ نے فرمایا کہ حجر بن عدی کے قتل کی ذمہ داری اُن پر ہے جنہوں نے اُس کے خلاف شہادتیں گزاریں۔ اُن شہادتوں کو وہ مسترد کیسے کردیتے؟

۴۔ابن ملجم خارجی ہوگیا تھا اور خوارج کے متعلق فتاویٰ رضویہ میں ہے: یجب اکفارالخوارج۔خوارج کو کافر کہنا واجب ہے۔ صحابی وہ نہیں رہتا جو بے ایمان ہوجاے۔ تو اس امت کے شقی کی صحابیت بھی بے ایمان ہوتے ہی ختم ہوگئی۔کتبِ اہل سنت میں جمہور کے نزدیک صحابی کی تعریف کیا ہے؟

۵۔کیا تمہارے نزدیک لوگوں کو قرآن و فقہ پڑھانے والے سارے لوگ مجتہد ہیں؟اگر نہیں تو ابن ملجم کو کس برتے پر مجتہد کہنے کا الزام حضرت عمر پر دھرڈالا ہے؟

۶۔ ذہبی نے ابن ملجم کا نام تجریدالصحابہ میں لکھا تو ابن حجر عسقلانی نے الاصابہ میں اس کی تردید کی وہ اس کا اہل نہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ اس کا ذکر کیا جائے۔

۷۔  تمام مسلمانوں بالخصوص صحابہ کرام کے مطاعن سے کف لسان کا امر کیا گیاہے نہ کہ محاسن سے۔

عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ:

اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ.

أَخْرَجَهُ أبو داود (4900. والترمذي (1019)

 مگر آپ لوگ اُلٹی گنگا  کیوں بہا رہے ہیں؟

۸۔ طٰہٰ حسین متوفی ۱۹۷۳ء سے لے کر حضرت معاویہ تک کی درمیانی سند کا ذمی دار کون بنے گا؟

۹۔ طاہرالقادری نے اپنی اکیلی رائے نہیں دی تھی اُس نے جمیع ائمہ اہل سنت سے امیرمعاویہ کا مجتہد ہونا مانتے ہوئے خطائے اجتہادی کا قول کیا تھا، تو حجر بن عدی کے سلسلہ میں غیرمجتہد کیسے ہوگیا؟

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

قاسم منہاجی میاں تم مر تو جاؤ گے لیکن سوال کا جواب نہیں دے پاؤ گے کیوں کہ تم پھنس چکے ہو۔۔اب جان چھڑانے کی خاطر کبھی ادھر کبھی ادھر ہاتھ پاؤں ماررہے ہو لیکن میں آپ کو بھاگنے نہیں دوں گا ہمت کرو اور میرے سوالات کا کا جواب لکھو

 

جناب سعیدی صاحب آپ لوگ پہلے فیصلہ کر لیں کہ مجھے

آپ سے بات کرنا ہے یا قادری سلطانی صاحب سے

قادری سلطانی صاحب آپ سب سے پہلے 

وہ سوال کر لیں جس کا آپ کو جواب نہیں ملا ؟

------------------------------ 

 

Quote

امیرمعاویہ نے فرمایا کہ حجر بن عدی کے قتل کی ذمہ داری اُن پر ہے جنہوں نے اُس کے خلاف شہادتیں گزاریں۔ اُن شہادتوں کو وہ مسترد کیسے کردیتے؟

 جناب سعیدی صاحب آپ نے سارا سلسلہ شہادتوں

پر ڈال دیا کہ حضرت حجر بن عدیؓ کا قتل شہادتوں پر 

ہوا ،  پلیز شہادتیں پیش فرمائیں ۔ 

جب قتل ہی شہادتوں پر ہوا تو سارا قصہ ہی ختم ہو گیا ، اب دیکھتے ہیں کہ

شہادت کیا کیا تھی ؟

-----------------

Share this post


Link to post
Share on other sites
1 hour ago, ghulamahmed17 said:

جناب سعیدی صاحب آپ نے سارا سلسلہ شہادتوں

 

پر ڈال دیا کہ حضرت حجر بن عدیؓ کا قتل شہادتوں پر 

ہوا ،  پلیز شہادتیں پیش فرمائیں ۔ 

جب قتل ہی شہادتوں پر ہوا تو سارا قصہ ہی ختم ہو گیا ، اب دیکھتے ہیں کہ

شہادت کیا کیا تھی ؟

میں نے 9 پوائنٹس سامنے رکھے تھے ،آپ نے تیسرے کے علاوہ کسی کو ہاتھ نہ لگایا۔ باقی آٹھ پوائنٹس کا جواب کون دے گا؟

باقی جہاں آپ کو حجر بن عدی کی داستان لکھی ملی ھے وہیں شہادتیں بھی مل جائیں گی، آپ اپنے مآخذ کو دوبارہ پڑھیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

میں نے 9 پوائنٹس سامنے رکھے تھے ،آپ نے تیسرے کے علاوہ کسی کو ہاتھ نہ لگایا۔ باقی آٹھ پوائنٹس کا جواب کون دے گا؟

باقی جہاں آپ کو حجر بن عدی کی داستان لکھی ملی ھے وہیں شہادتیں بھی مل جائیں گی، آپ اپنے مآخذ کو دوبارہ پڑھیں۔

 

جناب سعیدی صاحب آپ کے نو  آٹھ پوائنٹس کی اہمیت اس وقت ختم ہو گی جب

آپ نے لکھ دیا کہ حضرت حجر بن عدی کا قتل شہادتوں پر ہوا ۔

جناب جب کسی مقدمہ میں فیصلہ شہادتوں پر ہوا تو آپ اسے اجتہادی خطاء  کیسے بنائیں گے ؟ 

اب آپ بات کو پلیز گول مول نہ کریں اور  نہ دیت میں یکساں کا معنیٰ لازم کی طرح فرما کر بات کو الجھائیں ۔

جب آپ اپنے ہاتھوں سے تحریر فرما چکے کہ شہادتیں پیش کی گئی تو وہ یہاں پیش فرما دیں ۔

آپ سے جب بھی حوالہ اور ثبوت مانگا جاتا ہے آپ لوگ بات کو گول مول

کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اصل ٹاپک وہی رہ جاتا ہے ۔ پلیز مہربانی فرمائیں

اور حضرت حجر بن عدی کے خلاف جو شہادتٰں پیش کی گئی وہ یہاں پیش فرما دیں ۔

--------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ باقی آٹھ پوائنٹس کے جواب سے عاجز ھیں، اس لئے باتیں بنا رھے ھیں۔ آپ نے حجر بن عدی کے کیس میں شہادتیں کیوں چھپائیں؟ آپ کا حق تھا کہ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

آپ باقی آٹھ پوائنٹس کے جواب سے عاجز ھیں، اس لئے باتیں بنا رھے ھیں۔ آپ نے حجر بن عدی کے کیس میں شہادتیں کیوں چھپائیں؟ آپ کا حق تھا کہ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے۔

 

پلیز محترم سعیدی صاحب

وہ شہادتیں پیش فرمائیں جو آپ نے لکھی ۔ بقول آپ کے میں نے شہادتیں چھپائی 

تو ظاہر ہیں اگر میں نے چھپائی تو ان میں یقینا! بہت سچائی ہو گی ۔

اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ وہ  شہادتیں جو میں نے چھپائی تھیں 

آپ فورم پر پیش کر کے  مجھے  بے نقاب کر دیں ۔

اور فورم والوں کو بھی پتہ چلے کہ میں نے شہادتیں چھپائی تھیں اور آپ 

کے علم تھا کہ اس قتل پر شہادتیں ہوئیں تھیں تو جناب سعیدی صاحب پھر معاویہ بن ابوسفیان

کے اجتہاد کا نعرہ کیوں لگایا تھا  ؟ جس قتل پر شہادتیں موجود ہوں اور ان شہادتوں پر

صحابی رسولﷺ کو  قتل کر دیا جائے تو کیا

اسے اجتہاد بھی کہتے ہیں ؟

امید ہے جہاں آپ وہ شہادتیں پیش فرمائیں گے وہی اجتہاد کا بلنڈر بھی واضح فرما دینا ۔

لیکن ہر حال میں شہادتیں آپ کو پیش فرمانا ہوں گی اب  ان شہادتوں بغیر یہ مسئلہ

کبھی حل نہیں ہو گا ۔

اور اسے حل ہونا ہے ، ان شاء اللہ 

------------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

چونکہ آپ اپنی ہر بات میں خود ہی پھنستے جاتے ہیں اور لاجواب ہوکر ایک ہی بات کو پکڑ لیتے ہیں ۔۔اسلیے سیدھا سا جواب کبھی نہیں دے پائیں گے

میں نے صحابی کی تعریف پوچھی تھی جواب ندارد

ابن ملجم کے متعلق پوچھا تھا کہ اگر الاصابہ میں اسے صحابی مانا گیا ہے تو کیا آپ کے نزدیک الاصابہ کی ہر بات معتبر اور مانی جاۓ گی یا بس اپنی مرضی کی بات مانی جاۓ گی؟؟؟لیکن جواب ندارد

آپ سے کئی بار اسناد کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن جواب ندارد

اور پھر الٹا ہمیں کہنا کہ ہم لاجواب ہو چکے ہیں یہ بدحواسی نہیں تو کیا ہے؟؟

چلو میں اب نہیں بولتا سعیدی صاحب کی باتوں کا ہی نمبروار جواب دے دو

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

چونکہ آپ اپنی ہر بات میں خود ہی پھنستے جاتے ہیں اور لاجواب ہوکر ایک ہی بات کو پکڑ لیتے ہیں ۔۔اسلیے سیدھا سا جواب کبھی نہیں دے پائیں گے

میں نے صحابی کی تعریف پوچھی تھی جواب ندارد

ابن ملجم کے متعلق پوچھا تھا کہ اگر الاصابہ میں اسے صحابی مانا گیا ہے تو کیا آپ کے نزدیک الاصابہ کی ہر بات معتبر اور مانی جاۓ گی یا بس اپنی مرضی کی بات مانی جاۓ گی؟؟؟لیکن جواب ندارد

آپ سے کئی بار اسناد کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن جواب ندارد

اور پھر الٹا ہمیں کہنا کہ ہم لاجواب ہو چکے ہیں یہ بدحواسی نہیں تو کیا ہے؟؟

چلو میں اب نہیں بولتا سعیدی صاحب کی باتوں کا ہی نمبروار جواب دے دو

 

جہالت نہ پھلائیں اک بندہ بات کرے ، اور آپ شاید اس فورم کے سب سے بے دلیل بندے ہو ، جس کے پلے سوائے باتوں کے کچھ نہیں ہے ۔ جہالت کی انتہا ہوتی ہے کوئی ۔ جب شہادتٰں آپ لوگوں نے لکھی دی ہیں تو اب اجتہاد اور باقی سب باتوں کا کوئی تعلق نہیں رہا ۔

بہتر ہو گا کہ حضرت حجر بن عدیؓ کے قتل پر جو شہادتیں ہوئیں اور جن شہادتوں کی وجہ سے

انہیں قتل کیا گیا وہ پیش کرو ۔

ہر بار اک نیا بلنڈر مارتے ہو ۔

اگر شہادتیں ہیں تو وہ لاو ۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

کیا یہ میری باتوں کا جواب ہے منہاجی میاں؟؟چلو میں نے کوئی دلیل نہیں دی تو تم ہی میرے سوالات کے جوابات دے دو؟؟؟میرا ایک بھی سوال ایسا دکھا دو جو ٹاپک سے ریلیٹڈ نہ ہو؟؟؟لیکن چونکہ ہمارے سوالات تمہارے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس چکے ہیں اسلیے اب تم ایسی حرکتیں ہی کرو گے لیکن جوابات دیتے ہوۓ آپ کو موت نظر آۓ گی ان شاء اللہ عزوجل 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

کیا یہ میری باتوں کا جواب ہے منہاجی میاں؟؟چلو میں نے کوئی دلیل نہیں دی تو تم ہی میرے سوالات کے جوابات دے دو؟؟؟میرا ایک بھی سوال ایسا دکھا دو جو ٹاپک سے ریلیٹڈ نہ ہو؟؟؟لیکن چونکہ ہمارے سوالات تمہارے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس چکے ہیں اسلیے اب تم ایسی حرکتیں ہی کرو گے لیکن جوابات دیتے ہوۓ آپ کو موت نظر آۓ گی ان شاء اللہ عزوجل 

سوال لکھ اور مزہ لے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

4 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

 

پلیز محترم سعیدی صاحب

وہ شہادتیں پیش فرمائیں جو آپ نے لکھی ۔ بقول آپ کے میں نے شہادتیں چھپائی 

تو ظاہر ہیں اگر میں نے چھپائی تو ان میں یقینا! بہت سچائی ہو گی ۔

اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ وہ  شہادتیں جو میں نے چھپائی تھیں 

آپ فورم پر پیش کر کے  مجھے  بے نقاب کر دیں ۔

اور فورم والوں کو بھی پتہ چلے کہ میں نے شہادتیں چھپائی تھیں اور آپ 

کے علم تھا کہ اس قتل پر شہادتیں ہوئیں تھیں تو جناب سعیدی صاحب پھر معاویہ بن ابوسفیان

کے اجتہاد کا نعرہ کیوں لگایا تھا  ؟ جس قتل پر شہادتیں موجود ہوں اور ان شہادتوں پر

صحابی رسولﷺ کو  قتل کر دیا جائے تو کیا

اسے اجتہاد بھی کہتے ہیں ؟

امید ہے جہاں آپ وہ شہادتیں پیش فرمائیں گے وہی اجتہاد کا بلنڈر بھی واضح فرما دینا ۔

لیکن ہر حال میں شہادتیں آپ کو پیش فرمانا ہوں گی اب  ان شہادتوں بغیر یہ مسئلہ

کبھی حل نہیں ہو گا ۔

اور اسے حل ہونا ہے ، ان شاء اللہ 

------------------------------------

جی محترم

میں تو جناب کے محولہ بالا ریفرنسز سے ہی شہادتیں پیش کروں گا، مگر

آپ تو بتائیں ناں کہ

آپ نے حجر بن عدی کا مقدمہ امیرمعاویہ پر طعن کے لئے اٹھایا تھا

تو صرف شہ سرخیوں پر اکتفاء کیوں کیا؟

امیرمعاویہ کی زیادتی اور حجر بن عدی کی مظلومی پیش کرنے کے لئے

آپ نے فردِ جُرم اور شہادتوں کا تذکرہ کیوں ہضم کر لیا۔

ان کو پیش کئے بغیر آپ کا اعتراض ناتمام رہتا ہے۔

اپنے اعتراض کی تقریب تام کریں۔

یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اورآپ یہ ذمہ داری پوری کریں۔

یا تسلیم کریں کہ یہ آپ کے بس کا روگ نہیں اور آپ صرف

مانگے تانگے کے حوالوں کو میک اپ کرکے پیش کرنے سے زیادہ

حیثیت نہیں رکھتے۔

پھر  میں آپ کی محولہ بالا کتابوں سے یہ فردِ جرم اور شہادتیں

پیش کروں گا۔اور تفصیل سے پیش کروں گا۔

وہ باقی آٹھ پوائنٹس پر خاموشی؟ 

Edited by Saeedi
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

اچھا چلیں میں شہادتیں بھی ڈھونڈ لوں گا ، آپ فکر مند نہ ہوں مجھے پتہ ہےجو غلطی آپ کر چکے ہیں

اس کو مذید نہیں  بڑھانا چاہتے ۔

صرف یہ بتائیں کہ کیا شہادتوں کے ہوتے ہوئے

اجہتاد کا دعویٰ درست تھا ؟

--------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites
1 hour ago, ghulamahmed17 said:

اچھا چلیں میں شہادتیں بھی ڈھونڈ لوں گا ، آپ فکر مند نہ ہوں مجھے پتہ ہےجو غلطی آپ کر چکے ہیں

اس کو مذید نہیں  بڑھانا چاہتے ۔

صرف یہ بتائیں کہ کیا شہادتوں کے ہوتے ہوئے

اجہتاد کا دعویٰ درست تھا ؟

یہاں سے بھی پسپا ہوگئے ؟

محترم آپ کو شاید یہ علم ہی نہیں کہ فردِ جرم اور شہادتوں کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ اجتہاد ہے۔

کیا سمجھے؟؟

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

استغفراللہ

 جھوٹی شہادتوں پر اک صحابی رسولﷺ کو قتل کرنے پر کتنے ثواب ملتے ہیں ، ایک یا دو 

 

صحابی رسولﷺ حضرت حجر بن عدیؓ کا ظلماً قتل کا واقعہ اور شہادتیں

 

 

--------------
سن 51 ہجری  کے واقعات
------------------------
 " امیر معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما
 معاویہ ابن ابی سفیانؓ نے 41 ہجری میں جب مغیرہ بن شعبہؓ کو والی

کوفہ مقرر کیا تو مغیرہؓ کو بلا بھیجا ۔ حقِ تعالیٰ کی 
حمد وثنا کے بعد کہا:
عاقل کو بار بار متنبہ کرنے کی ضرورت نہیں ، پھر علمس کا ایک

شعراس مضمون کا پڑھ کر کہا کہ مرد عاقل بات کو بے کہے ہوئے سمجھ لیتا ہے ۔

میرا ارادہ تھا کہ بہت سی باتیں تم کو سمجھاؤں، مگر اس ذکر کو چھوڑ دیتا ہوں کہ

تمہاری بصیرت و دانائی پر مجھے بھروسا ہے  کہ  تم خوب جانتے ہو

کن باتوں میں میری خوشنودی میری حکومت کی ترقی میری
  رعیت کی بہتری ہے ۔
ہاں ایک امر کا ذکر کیے بغیر میں نہیں رہ سکتا ، علیؓ کو گالی دینے میں اُن کی مزمت

کرنے میں  اور عثمانؓ  کے لیے مغفرت و رحمت کرنے میں پھر اصحابِ علیؓ کی

عیب جوئی میں اُن کو اپنے سے دور رکھنے اُن کی بات نہ سننے میں اس

کے برخلاف شیعہ عثمانؓ کی ستائش کرنے میں اُن کے ساتھ مل کر رہنے

میں آپن کی بات مان لینے میں تم کو تامل نہ کرنا چاہیے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مغیرہؓ نے سات برس چند مہینے معاویہؓ کی  طرف سے حکومت کی ہے

اور بڑے نیک سیرت امن و عافیت کے دل سے خواہش مند رہتے تھے   مگر
علیؓ کو بُرا کہنا ، اُن کی مذمت کرنا ، قاتلانِ عثمانؓ پر لعنت اُن کی عیب جوئی

کرنا عثمانؓ کے لیے دُعائے رحمت و مغفرت  اور اُن کے اصحاب کے

لیے بے لوث ہونے کو ثابت کرنا انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا ۔ "
تاریخِ طبری ، جلد/4 ، حصہ اوّل ، ص / 82

 


معاویہ بن ابو سفیا کا یہ جملہ:
 "  ولست تاركا إيصاءك بخصلة: لا تتحم عن شتم علي وذمه، والترحم عَلَى عُثْمَانَ والاستغفار لَهُ، 


  علیؓ  کو گالی دینا اور مذمت کرنا ، عثمانؓ کے لیے رحمت کی دُعا اور مغفرت مانگنا کبھی ترک نہیں کرنا  ۔


 جمل من أنساب الأشراف
 المؤلف: أحمد بن يحي بن جابر البلاذري
 المحقق: سهيل زكار - رياض زركلي
 سنة النشر: 1417 - 1997'
https://archive.org/stream/FP32796/05_32800#page/n251/mode/2up
-----------------


مرآة الزمان في تواريخ الأعيان
 المؤلف: شمس الدين أبو المظفر يوسف بن قِزْأُوغلي بن عبد الله المعروف بـ «سبط ابن الجوزي»
https://archive.org/stream/FP144301/07_144307#page/n222/mode/2up
 --------------


 الكتاب: الكامل في التاريخ (ط. العلمية)
 المؤلف: علي بن محمد بن محمد ابن الأثير الجزري عز الدين أبو الحسن
 الناشر: دار الكتب العلمية
https://archive.org/stream/WAQkamilt/kamilt03#page/n326/mode/2up
---------------


عنوان الكتاب: الخطابة وإعداد الخطيب
 المؤلف: عبد الجليل عبده شلبي
link
https://archive.org/details/FP84363/page/n251
-------------------------------------------------
 
ان سب کتابوں میں موجود ہے ۔

---------------------------------------

یہی بات(جب مغیرہ بن شعبہؓ مولیٰ علیؓ کو گالیاں دیتا اور لعنت کرتا تھا)  حجر بن عدیؓ

کہنے لگے تھے وہ تو نہیں بلکہ تم لوگوں کا خدا برا کرے اور لعنت کرے ۔ پھر کھڑے ہو جاتے تھے ۔ اور کہتے تھے ۔
خدا عزووجل فرماتا ہے۔

" خدا کی راہ میں گواہی دے کر عدل و انصاف قائم کرو "


میں (حجر بن عدیؓ) گواہی دیتا ہوں کہ:
جن(علیؓ) لوگوں کی تم(مغیرہ بن شعبہ) مذمت کرتے ہو ۔

جن کو تم عیب لگاتے ہو وہی فضل و بزرگی کے سزا وار ہیں ۔

اور جن کا بے لوث ہونا تم ثابت کرتے ہو۔ جن کی ستائش گری کر رہے ہو ۔

یہی مذمت کے قابل ہیں ۔ مغیرہؓ یہ سن کر کہتے تھے  اے حجرؓ میں تمہارا حاکم ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
حضرت حجر بن عدیؓ نے مغیرہ کے خطبہ کی 
مخالفت کیوں کی؟
--------------


یہی ہوتا رہا(یعنی مولیٰ علیؓ پر سب وشتم اسی طرح جاری رہا) یہاں تک

مغیرہؓ نے اپنی امارت کے اخیر زمانہ میں خطبہ پرھا ۔ علیؓ و عثمانؓ کے باب

میں جو بات ہمیشہ وہ کہا کرتے تھے ۔(یعنی حضرت علیؓ کو گالی دینے میں

تامل نہ کرنا اور حضرت عثمانؓ کے لیے دعائے رحمت کرنا) اسی کو اس طور پر کہنے لگے ۔

خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے ۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی ، یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے

مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔

کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔ 
کہا کسی شخص کے دھوکے میں تم آئے ہوئے اس بات

کو نہیں سمجھ سکتے بڑھاپے کے سبب سے عقل جاتی رہی ہے ۔۔
اے شخص ہماری تنخواؤں اور عطیوں کے جاری جانے کا اب حکم دے دو ۔

تم نے ہمارے رزق کو بند کر رکھا ہے ۔ اس کا تمہیں کیا اختیار ہے ۔

تم سے بیشتر جو حکام گزرے ہیں  انہوں نے کبھی اس بات کی طمع نہیں کی ۔ 
اس کے علاوہ تم نے  امیر المؤمنیں(حضرت سیدنا علیؓ) کی مذمت  اور مجرمین کی ستائش کا شیوہ اختیار کیا ۔
 تاریخِ طبری ، جلد / 4 ، حصہ اوّل ، ص /83
------------------------


جناب حجر ابن عدی کے واقعہ کو  طبری نے یوں
 نقل کیا ہے کہ :

قیس ابن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام

میں ایک شخص بنام صیفی ابن فسیل اصحاب حجر کا سر کردہ ہے اور آپ کا

شدید ترین دشمن ہے۔ زیاد نے اسے بلایا۔ جب وہ آیا تو زیاد

نے اس سے کہا کہ اے دشمن خدا، تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے ؟
اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا۔

زیاد نے کہا ! کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟

صیفی نے کہا: جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں۔ زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے۔

صیفی نے کہا ! ہرگز نہیں، بلکہ وہ حسن اور حسین کے والد ہیں۔

لشکر کے سالار نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے ؟

صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کر دوں ؟

زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کر رہے ہو، میرا عصا لایا جائے۔

جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو ؟

صیفی نے دوبارہ کہا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں

گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے۔

یہ سن کر زیاد نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین

تشدد کا نشانہ بنایا اور جب زیاد ظلم کر کے تھک گیا تو پھر

صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟

انہوں نے کہا ! اگر میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دئیے جائیں

تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا، جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں۔

زیاد نے کہا تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔

صیفی نے کہا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہو گا

اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی۔

زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کر دیا۔ چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا۔

بعد ازاں زیاد نے حضرت حجر ابن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم

کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام

کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کیے۔

 

ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ:

میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور

اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے

اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں

اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے۔

زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔

میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔

عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔

مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے

ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔

 

چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ

اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ،

عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ،

محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ،

عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔

 

ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح ابن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی۔

قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے

متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے۔

شریح ابن ہانی حارثی کو جب علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی

گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ

تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کر دی ہے،

میں دنیا و آخرت میں اس گواہی سے بری ہوں، پھر وہ قیدیوں کے

تعاقب میں آیا اور وائل ابن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ

تک ضرور پہچانا۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ

زیاد نے حجر ابن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو

کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ، زکات دیتا ہے ،

حج و عمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان و مال انتہائی محترم ہے۔

قیدیوں کو دمشق کے قریب مرج عذرا میں ٹھہرایا گیا اور معاویہ

کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں:

حجر ابن عدی،

شریک ابن شداد حضرمی،

صیفی ابن فسیل شیبانی،

قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی،

محرز ابن شہاب السعدی،

کدام ابن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین۔

اس کے علاوہ عبد الرحمن ابن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کے پاس بھیجا گیا

اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو۔

زیاد نے انہیں زندہ دفن کرا دیا۔

تاریخ طبری ۔ج 6 ص 155

-------------
http://islamport.com/w/tkh/Web/2893/1483.htm
طبری نے بھی لکھا ہے کہ:

أن معاوية بن أبي سفيان لما ولى المغيرة بن شعبة الكوفة في جمادى سنة

41 دعاه فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ...

ولست تاركا إيصاءك بخصلة لا تتحم عن شتم على وذمه

والترحم على عثمان والاستغفار له والعيب على

أصحاب على والاقصاء لهم وترك الاستماع منهم ... .

معاویہ نے جب سن 41 ہجری میں مغیرہ ابن شعبہ

کو کوفہ کا والی و حاکم بنایا تو اسے حکم دیتے ہوئے کہا:

ایک کام کو بالکل بھولنا نہیں ہے اور اسے زیادہ تاکید کے ساتھ انجام دینا ہے،

اور وہ کام، علی پر لعنت کرنا اور اسے گالیاں دینا ہے

اور اسکے مقابلے پر عثمان کا ذکر احترام سے کرنا اور ہمیشہ اسکے

لیے مغفرت کی دعا کرنا اور علی کے اصحاب کی برائیوں کو بیان کرو

اور انکو جلا وطن کرنا اور انکی کوئی بھی بات نہ سننا۔

تاريخ طبري‌ ،‌ ج4 ، ص188 .
------------------------

معاویہ بن ابوسفیا نے مغیرہ کو کیا حکم دیا کہ حضرت حجر بن عدی ان کو ٹوکتے اور احتجاج کرتے

 

1.thumb.png.e4015b98969e9ac348cfa8544f0898b4.png

 

03.thumb.png.d78b176dc29c1ebc05d0479490e8f74f.png

 

2.thumb.png.d098dea9fe88d30717d8bfaeb8560f14.png

 

05.thumb.png.d9a3d87a8451e2987f605a9289c0bf6f.png

 

06.thumb.png.a4a0567cd88f91d8a59ca26b146a6a1e.png

04.png

 

واقعہ اور شہادتیں


5d7b96ccb1329_HIJER1.thumb.png.4a68ddd803910ddda5f906b5091841d1.png

 

5d7b96d91b38e_HIJER2.thumb.png.d9a804cd09eb304345b06e6a5507725e.png

روسائے ارباع( حکومتی نمائندوں) کی گواہی
زیادہ نے اس شہادت کو دیکھ کر کہا اس طرح کی شہادت تم سب لوگ دو ۔

سنو واللہ میں اس اجل رسیدہ احمق کی گردن کے قطع ہونے میں جہد بلیغ کروں گا ۔

 باقی روسائے ارباع نے بھی ابوبردہ کی شہادت کے مثل گواہی دی ۔

اس کے بعد زیاد نے سب لوگوں کو بلایا اور اُن سے کہا کہ وہ روسائے ارباع کے مثل تم بھی شہادت دو ۔

 

باقی شہادتیں بعد میں پوسٹ میں لگائی جائیں گی ان شاء اللہ
 

----------------------------------------------

 

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمہاری اب تک کی باتوں سے بھی یہی ثابت ھوتا ھے کہ حجر بن عدی معاویہ کی حکومت کا باغی تھا۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

تمہاری اب تک کی باتوں سے بھی یہی ثابت ھوتا ھے کہ حجر بن عدی معاویہ کی حکومت کا باغی تھا۔

حضرت حجر بن عدیؓ کے مقدمہ کی باقی شہادتیں

 

5d7c29dd7a12d_no2.png.fbad5d656ca6e43769501c4f014a1c50.png

 

 

5d7c29e007961_no3.thumb.png.2b0c4f619c7589e3244913f3a66e50b0.png

 

 

5d7c29e240324_no4.png.1485242a5cd602cac09b13452e67dca2.png

 

 

no5.thumb.png.671a03bc14f0da9d400c2e0c3dd6bdd9.png

 

 

no6.thumb.png.771e93c5f54d487049363839af478e38.png

 

 

no7.thumb.png.1ee408bbd4bb9efacf1799b627483b37.png

 

جناب محترم سعیدی صاحب 

آپ بھی کمال کے عالم دین ہیں شہادتوں کو دیکھے پڑھے بغیر ہی باغی لکھ دیا

باغی کے لیے  باغی کا لفظ اہل سنت کی کتابوں سے ثابت کرنا

پڑ گیا تو پھر کیا کریں گے؟

آپ دیکھائے گے تو ہم صحیح بات کا انکار نہیں کریں گے 

مگر پہلے شہادتیں پڑھ لیں ۔پھر شہادتوں پر اور شہادتوں پر کیے گئے معاویہ بن ابوسفیان  کے حکم کو 

زیر بحث لاتے ہیں ۔ 

----------------------

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

آپ کی شہادتوں سے یہ ثابت نہیں ھوتا کہ حجر بن عدی امیر معاویہ کی حکومت کو نہ مانتا تھا اور اس کا باغی تھا؟

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

Quote

آپ کی شہادتوں سے یہ ثابت نہیں ھوتا کہ حجر بن عدی امیر معاویہ کی حکومت کو نہ مانتا تھا اور اس کا باغی تھا؟

جناب سعیدی صاحب  اللہ اور اللہ کے رسولﷺ گواہ ہیں  اور جانتے ہیں کہ حق کیا ہے ۔

مجھے آج نہیں تو کل مرنا ہے اور ہر عمل کا  مجھے جواب دینا پڑے گا ۔

آپ پڑھتے آئیں اور  آخر میں فیصلہ کیجے گا کہ 

کیا حضرت حجر بن عدی واقعی باغی تھے ؟

اگر باغی تھے ، تو اس باغی نے  امیر معاویہ کے آخری پیغام پر

علیؓ  پر لعنت کر کے اور گالیاں دے کر جان کیوں نہیں بچائی ؟

اور شریح بن ہانی  نے اس باغی کے حق میں کیوں گواہی دی؟

اور کیا جو باغی اقرار کر رہا ہو کہ میں بیعت پر قائم ہوں پھر بھی اسے سزا دی جائے گی ؟

اگر باغی تھا بھی تو کیا   حجر بن عدی  جسے باغی کی سزا  شریعت میں قتل تھی ؟

پڑھیے ۔

Picture19.thumb.png.d2d5bfb807120cbfa0fe76be3f1be4d7.png

 

489.thumb.png.0f322ef407ef0f7f4cf6b7a7b5ad1a61.png

 

490.thumb.jpg.4601f7446d7288807ef38c6161972018.jpg

 

491.thumb.png.3726b07f3154165291393882f3f83745.png

 

ابن خلدون  لکھتا ہے کہ:

" اُم امؤمنین حضرت عائشہؓ کو جب معلوم ہوا کہ

حجر مع چند لوگوں کے گرفتار ہو کر شام بھیجے

گئے ہیں تو جنابِ موصوفہ نے عبدالرحمٰن بن الحرث

کو امیر معاویہ کے پاس سفارش کے لیے  

روانہ کیا ۔ لیکن یہ لوگ اس وقت دمشق پہنچے

جب کہ حجر مع ساتھیوں کے قتل ہو چکے تھے۔
عبدالرحمٰن نے امیر معاویہ سے کہا:
" کیوں معاویہ حجر کے قتل کے وقت

ابوسفیان کا حلم کہاں غائب ہو گیا تھا " ۔
امیر معاویہ نے جواب دیا:
جہاں تم جیسے قوم کے حلیم غائب ہو گئے تھے

اور مجھ کو اس امر پر ابنِ سمیہ(زیاد) نے

آمادہ کیا تھا اسی وجہ سے میں حجر کے

قتل پر تل گیا۔ اُم امؤمنین حضرت عائشہؓ کو حجر کے

قتل کا مدتوں افسوس رہا " ۔

 

 

ابنِ خلدون پھر لکھتا ہے:


لوگوں نے حجر کے قتل کے اسباب

بیان کرتے ہوئے یوں بھی بیان کیا کہ:
ایک مرتبہ زیاد نے جمعہ کے دن بہت بڑا خطبہ

پڑھا جس سے نمازِ اوّل کا وقت جاتا رہا

حجر کو یہ فعل ناگوار گذرا ، چلا کر

بولے الصلوٰۃالصلوٰۃ زیاد کچھ متوجہ نہ ہوا
تب انہوں  نے نماز کے بےوقت ہونے کے ڈر سے

ایک مٹھی کنکریاں اٹھا کر زیاد کی طرف پھینکی

اور نماز کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔

ساتھ ہی حاضرین بھی اٹھے، زیاد نے

یہ دیکھ کر ممبر سے اتر کر نماز پڑھی اور

امیر معاویہ  کو حجر کی بہت شد و مد سے

شکایت لکھ کر بھیج دی۔ امیر معاویہ نے

حکم بھیجا کہ حجر کو پابہ زنجیر گرفتار کر کے بھیج دو۔
پس زیاد نے سپاہیوں کو حجر کے

گرفتار کرنے کو بھیجا، بالاآخر حجر مع ان

لوگوں کے جنہوں نے حجر کی ہمدردی اور اعانت کی ۔

گرفتار کر کے امیر معاویہ کے پاس بھیج دئیے  گئے ۔
امیر معاویہ نے حجر کے قتل کا حکم دیا ۔

حجر نے دورکعت نماز پڑھی اور حاضرین کو وصیت کی کہ:
" میری بیڑیاں اور ہتھکڑی نہ اتارنا  نہ میرے خون

کو دھونا میں کل قیامت میں معاویہ سے اسی حالت میں ملوں گا "

تاریخ ابنِ خلدون (حصہ دوم)
خلافتِ معاویہ و آلِ مروان ،صفحہ نمبر / 491
------------------

 

------------------------------------------

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

تو اس سے کیا نتیجہ اخذ ہوا مسٹر کاپی پیسٹر؟؟فیصلہ قارئین خود کر لیں گے

ابھی آپ کا ماڈرن شیخ استعفی دے گیا ہے جا کے سویڈن والے سینٹر کی طرح آپ بھی ماتم کریں

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

تو اس سے کیا نتیجہ اخذ ہوا مسٹر کاپی پیسٹر؟؟فیصلہ قارئین خود کر لیں گے

ابھی آپ کا ماڈرن شیخ استعفی دے گیا ہے جا کے سویڈن والے سینٹر کی طرح آپ بھی ماتم کریں

 

بہتر ہو گا کہ خود بھی اپنا خیال کریں اور مجھے بھی بداخلاقی پر مجبور نہ کریں ۔

انسان کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے ۔

ایسی باتیں انسان ٹاپکس پر پوسٹیں لگا کر تب کرتا ہے

اگر پلے کچھ نہ کچھ ہو ۔

امید ہے آپ غعر فرمائیں گے ۔

-------------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

21 hours ago, ghulamahmed17 said:

استغفراللہ

 جھوٹی شہادتوں پر اک صحابی رسولﷺ کو قتل کرنے پر کتنے ثواب ملتے ہیں ، ایک یا دو 

 

صحابی رسولﷺ حضرت حجر بن عدیؓ کا ظلماً قتل کا واقعہ اور شہادتیں

 

 

--------------
سن 51 ہجری  کے واقعات
------------------------
 " امیر معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما
 معاویہ ابن ابی سفیانؓ نے 41 ہجری میں جب مغیرہ بن شعبہؓ کو والی

کوفہ مقرر کیا تو مغیرہؓ کو بلا بھیجا ۔ حقِ تعالیٰ کی 
حمد وثنا کے بعد کہا:
عاقل کو بار بار متنبہ کرنے کی ضرورت نہیں ، پھر علمس کا ایک

شعراس مضمون کا پڑھ کر کہا کہ مرد عاقل بات کو بے کہے ہوئے سمجھ لیتا ہے ۔

میرا ارادہ تھا کہ بہت سی باتیں تم کو سمجھاؤں، مگر اس ذکر کو چھوڑ دیتا ہوں کہ

تمہاری بصیرت و دانائی پر مجھے بھروسا ہے  کہ  تم خوب جانتے ہو

کن باتوں میں میری خوشنودی میری حکومت کی ترقی میری
  رعیت کی بہتری ہے ۔
ہاں ایک امر کا ذکر کیے بغیر میں نہیں رہ سکتا ، علیؓ کو گالی دینے میں اُن کی مزمت

کرنے میں  اور عثمانؓ  کے لیے مغفرت و رحمت کرنے میں پھر اصحابِ علیؓ کی

عیب جوئی میں اُن کو اپنے سے دور رکھنے اُن کی بات نہ سننے میں اس

کے برخلاف شیعہ عثمانؓ کی ستائش کرنے میں اُن کے ساتھ مل کر رہنے

میں آپن کی بات مان لینے میں تم کو تامل نہ کرنا چاہیے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مغیرہؓ نے سات برس چند مہینے معاویہؓ کی  طرف سے حکومت کی ہے

اور بڑے نیک سیرت امن و عافیت کے دل سے خواہش مند رہتے تھے   مگر
علیؓ کو بُرا کہنا ، اُن کی مذمت کرنا ، قاتلانِ عثمانؓ پر لعنت اُن کی عیب جوئی

کرنا عثمانؓ کے لیے دُعائے رحمت و مغفرت  اور اُن کے اصحاب کے

لیے بے لوث ہونے کو ثابت کرنا انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا ۔ "
تاریخِ طبری ، جلد/4 ، حصہ اوّل ، ص / 82

 


معاویہ بن ابو سفیا کا یہ جملہ:
 "  ولست تاركا إيصاءك بخصلة: لا تتحم عن شتم علي وذمه، والترحم عَلَى عُثْمَانَ والاستغفار لَهُ، 


  علیؓ  کو گالی دینا اور مذمت کرنا ، عثمانؓ کے لیے رحمت کی دُعا اور مغفرت مانگنا کبھی ترک نہیں کرنا  ۔


 جمل من أنساب الأشراف
 المؤلف: أحمد بن يحي بن جابر البلاذري
 المحقق: سهيل زكار - رياض زركلي
 سنة النشر: 1417 - 1997'
https://archive.org/stream/FP32796/05_32800#page/n251/mode/2up
-----------------


مرآة الزمان في تواريخ الأعيان
 المؤلف: شمس الدين أبو المظفر يوسف بن قِزْأُوغلي بن عبد الله المعروف بـ «سبط ابن الجوزي»
https://archive.org/stream/FP144301/07_144307#page/n222/mode/2up
 --------------


 الكتاب: الكامل في التاريخ (ط. العلمية)
 المؤلف: علي بن محمد بن محمد ابن الأثير الجزري عز الدين أبو الحسن
 الناشر: دار الكتب العلمية
https://archive.org/stream/WAQkamilt/kamilt03#page/n326/mode/2up
---------------


عنوان الكتاب: الخطابة وإعداد الخطيب
 المؤلف: عبد الجليل عبده شلبي
link
https://archive.org/details/FP84363/page/n251
-------------------------------------------------
 
ان سب کتابوں میں موجود ہے ۔

---------------------------------------

یہی بات(جب مغیرہ بن شعبہؓ مولیٰ علیؓ کو گالیاں دیتا اور لعنت کرتا تھا)  حجر بن عدیؓ

کہنے لگے تھے وہ تو نہیں بلکہ تم لوگوں کا خدا برا کرے اور لعنت کرے ۔ پھر کھڑے ہو جاتے تھے ۔ اور کہتے تھے ۔
خدا عزووجل فرماتا ہے۔

" خدا کی راہ میں گواہی دے کر عدل و انصاف قائم کرو "


میں (حجر بن عدیؓ) گواہی دیتا ہوں کہ:
جن(علیؓ) لوگوں کی تم(مغیرہ بن شعبہ) مذمت کرتے ہو ۔

جن کو تم عیب لگاتے ہو وہی فضل و بزرگی کے سزا وار ہیں ۔

اور جن کا بے لوث ہونا تم ثابت کرتے ہو۔ جن کی ستائش گری کر رہے ہو ۔

یہی مذمت کے قابل ہیں ۔ مغیرہؓ یہ سن کر کہتے تھے  اے حجرؓ میں تمہارا حاکم ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
حضرت حجر بن عدیؓ نے مغیرہ کے خطبہ کی 
مخالفت کیوں کی؟
--------------


یہی ہوتا رہا(یعنی مولیٰ علیؓ پر سب وشتم اسی طرح جاری رہا) یہاں تک

مغیرہؓ نے اپنی امارت کے اخیر زمانہ میں خطبہ پرھا ۔ علیؓ و عثمانؓ کے باب

میں جو بات ہمیشہ وہ کہا کرتے تھے ۔(یعنی حضرت علیؓ کو گالی دینے میں

تامل نہ کرنا اور حضرت عثمانؓ کے لیے دعائے رحمت کرنا) اسی کو اس طور پر کہنے لگے ۔

خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے ۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی ، یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے

مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔

کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔ 
کہا کسی شخص کے دھوکے میں تم آئے ہوئے اس بات

کو نہیں سمجھ سکتے بڑھاپے کے سبب سے عقل جاتی رہی ہے ۔۔
اے شخص ہماری تنخواؤں اور عطیوں کے جاری جانے کا اب حکم دے دو ۔

تم نے ہمارے رزق کو بند کر رکھا ہے ۔ اس کا تمہیں کیا اختیار ہے ۔

تم سے بیشتر جو حکام گزرے ہیں  انہوں نے کبھی اس بات کی طمع نہیں کی ۔ 
اس کے علاوہ تم نے  امیر المؤمنیں(حضرت سیدنا علیؓ) کی مذمت  اور مجرمین کی ستائش کا شیوہ اختیار کیا ۔
 تاریخِ طبری ، جلد / 4 ، حصہ اوّل ، ص /83
------------------------


جناب حجر ابن عدی کے واقعہ کو  طبری نے یوں
 نقل کیا ہے کہ :

قیس ابن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام

میں ایک شخص بنام صیفی ابن فسیل اصحاب حجر کا سر کردہ ہے اور آپ کا

شدید ترین دشمن ہے۔ زیاد نے اسے بلایا۔ جب وہ آیا تو زیاد

نے اس سے کہا کہ اے دشمن خدا، تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے ؟
اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا۔

زیاد نے کہا ! کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟

صیفی نے کہا: جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں۔ زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے۔

صیفی نے کہا ! ہرگز نہیں، بلکہ وہ حسن اور حسین کے والد ہیں۔

لشکر کے سالار نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے ؟

صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کر دوں ؟

زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کر رہے ہو، میرا عصا لایا جائے۔

جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو ؟

صیفی نے دوبارہ کہا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں

گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے۔

یہ سن کر زیاد نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین

تشدد کا نشانہ بنایا اور جب زیاد ظلم کر کے تھک گیا تو پھر

صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟

انہوں نے کہا ! اگر میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دئیے جائیں

تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا، جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں۔

زیاد نے کہا تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔

صیفی نے کہا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہو گا

اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی۔

زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کر دیا۔ چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا۔

بعد ازاں زیاد نے حضرت حجر ابن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم

کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام

کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کیے۔

 

ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ:

میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور

اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے

اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں

اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے۔

زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔

میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔

عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔

مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے

ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔

 

چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ

اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ،

عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ،

محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ،

عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔

 

ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح ابن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی۔

قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے

متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے۔

شریح ابن ہانی حارثی کو جب علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی

گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ

تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کر دی ہے،

میں دنیا و آخرت میں اس گواہی سے بری ہوں، پھر وہ قیدیوں کے

تعاقب میں آیا اور وائل ابن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ

تک ضرور پہچانا۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ

زیاد نے حجر ابن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو

کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ، زکات دیتا ہے ،

حج و عمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان و مال انتہائی محترم ہے۔

قیدیوں کو دمشق کے قریب مرج عذرا میں ٹھہرایا گیا اور معاویہ

کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں:

حجر ابن عدی،

شریک ابن شداد حضرمی،

صیفی ابن فسیل شیبانی،

قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی،

محرز ابن شہاب السعدی،

کدام ابن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین۔

اس کے علاوہ عبد الرحمن ابن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کے پاس بھیجا گیا

اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو۔

زیاد نے انہیں زندہ دفن کرا دیا۔

تاریخ طبری ۔ج 6 ص 155

-------------
http://islamport.com/w/tkh/Web/2893/1483.htm
طبری نے بھی لکھا ہے کہ:

أن معاوية بن أبي سفيان لما ولى المغيرة بن شعبة الكوفة في جمادى سنة

41 دعاه فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ...

ولست تاركا إيصاءك بخصلة لا تتحم عن شتم على وذمه

والترحم على عثمان والاستغفار له والعيب على

أصحاب على والاقصاء لهم وترك الاستماع منهم ... .

معاویہ نے جب سن 41 ہجری میں مغیرہ ابن شعبہ

کو کوفہ کا والی و حاکم بنایا تو اسے حکم دیتے ہوئے کہا:

ایک کام کو بالکل بھولنا نہیں ہے اور اسے زیادہ تاکید کے ساتھ انجام دینا ہے،

اور وہ کام، علی پر لعنت کرنا اور اسے گالیاں دینا ہے

اور اسکے مقابلے پر عثمان کا ذکر احترام سے کرنا اور ہمیشہ اسکے

لیے مغفرت کی دعا کرنا اور علی کے اصحاب کی برائیوں کو بیان کرو

اور انکو جلا وطن کرنا اور انکی کوئی بھی بات نہ سننا۔

تاريخ طبري‌ ،‌ ج4 ، ص188 .
------------------------

معاویہ بن ابوسفیا نے مغیرہ کو کیا حکم دیا کہ حضرت حجر بن عدی ان کو ٹوکتے اور احتجاج کرتے

 

1.thumb.png.e4015b98969e9ac348cfa8544f0898b4.png

 

03.thumb.png.d78b176dc29c1ebc05d0479490e8f74f.png

 

2.thumb.png.d098dea9fe88d30717d8bfaeb8560f14.png

 

05.thumb.png.d9a3d87a8451e2987f605a9289c0bf6f.png

 

06.thumb.png.a4a0567cd88f91d8a59ca26b146a6a1e.png

04.png

 

واقعہ اور شہادتیں


5d7b96ccb1329_HIJER1.thumb.png.4a68ddd803910ddda5f906b5091841d1.png

 

5d7b96d91b38e_HIJER2.thumb.png.d9a804cd09eb304345b06e6a5507725e.png

روسائے ارباع( حکومتی نمائندوں) کی گواہی
زیادہ نے اس شہادت کو دیکھ کر کہا اس طرح کی شہادت تم سب لوگ دو ۔

سنو واللہ میں اس اجل رسیدہ احمق کی گردن کے قطع ہونے میں جہد بلیغ کروں گا ۔

 باقی روسائے ارباع نے بھی ابوبردہ کی شہادت کے مثل گواہی دی ۔

اس کے بعد زیاد نے سب لوگوں کو بلایا اور اُن سے کہا کہ وہ روسائے ارباع کے مثل تم بھی شہادت دو ۔

 

باقی شہادتیں بعد میں پوسٹ میں لگائی جائیں گی ان شاء اللہ
 

----------------------------------------------

 

آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔

ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ:

میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور

اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے

اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں

آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔

کہنے لگے ۔

خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے 
اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی 

یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے

مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔

کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔

آپ کی نقل کردہ تحریر سے پتہ چلا کہ حجر بن عدی حضرت عثمان کے قاتلوں کے خلاف بددعا

برداشت نہیں کرتا تھا۔ اور اسی کو حبِ علی کا تقاضا سمجھتا تھا۔ظاہر ہے کہ جوشخص حضرت عثمان

کے قاتلوں کے لئے بددعا برداشت نہیں کرتا وہ امیرمعاویہ کی حکومت کیونکر تسلیم کر سکتا ہے؟

آپ نے خود ہی نقل کیا ہے کہ حجر بن عدی حکمرانی کا حق صرف آل ابوطالب کیلئے مانتا تھا،اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خلفاء ثلاثہ سے بھی بغاوت رکھتا تھا۔

شیعہ مؤرخ دینوری لکھتا ہے کہ اس نے صلح حسن پر امام حسن کو شرم دلائی تھی ،پھر امام حسین کے پاس گیا وہاں سے بھی جواب ملا۔پس وہ حسنین کریمین کی صلح کا بھی باغی تھا۔

علی کی شتم و ذم نہ چھوڑنا کی روایت آپ نے جہاں سے لی ہے وہیں لوط بن یحییٰ کی شخصیت بطورراوی جلوہ گرہے،اور وہ جلا بھنا شیعہ ہے۔

آپ نے ام المومنین کا قول پیش کیا مگر سند صحیح نہ بتا سکے ۔ فتنے ختم ہونے کے بعد ام المومنین عائشہ صدیقہ نے فرمایا

میں لوگوں کا معاملہ فتنے کے دور میں دیکھتی رہی یہاں تک کہ میری تمنا یہ ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ میری عمر بھی معاویہ کو دے ۔(طبقات ابن عروبہ)۔

 

Edited by Saeedi
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
3 hours ago, Saeedi said:

 

اعتراض:
آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔
ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ:
میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور
اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر

لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے


جواب
جناب سعیدی صاحب یہ بھی میں نے خود ہی 
لکھا کہ :
جناب سعیدی صاحب آپ نے اپنے مطلب بات لکھ دی کہ میں

نے خود لکھا ، یہ بھی میں نے خود لکھا کہ  بارہ افراد شہادت کے

 لیے ابن زیاد نے خود بلائے ۔
اور چار حکومتی رئیس تھے ۔
آپ کا پیش کردہ شہادتی بھی حکومتی  رکن ہے ۔
اور جناب حجر بن عدیؓ کی بار بار دھرائی جانے والی

بات آپ کو کہیں نظر نہیں آ رہی کہ :
" جب وہ(حجر بن عدی) زیاد کے پاس سے بھیج دئیے گئے

تو کہنے لگا  قسم بخدا اگر امان نہ دہ ہوتی تو یہاں سے

وہ ہل نہ سکتا تھا ۔ یہاں تک کہ اس کی جان نکال لی

جاتی ۔قسم بخدا اس کی گردن کاٹنے کے لیے میرا جی لوٹ رہا ہے ۔ 
تو جنا سعیدی صاحب اس وقت حجر بن عدی نے کہا :
" انہوں نے (حجر بن عدی) نے بلند آواز سے پکار کر کہا :
بار الہا میں اپنی بیعت پر قائم ہوں نہ میں اسے چھوڑوں گا ۔

نہ چھوڑنا چاہتا ہوں یہ محض خدا و خلق خدا کی اطاعت کے لیے "
 جناب یہی بات حجر بن عدی نے  امیر معاویہ کو پیغام میں کہی ،

یہی بیعت پر قائم رہنے کی بات قتل سے پہلے کہی ۔
کیا کوئی باغی یوں بار بار اپنی بیعت پر قائم رہنے کی دہائی دیتا ہے وہ بھی حجر بن عدی جیسا جو کہ مولا علیؓ کا ساتھی اور محب ہو ۔
-------------------------

5d7d0b2fd0700_HIJER1.thumb.png.6bb380ce03517a0390bcad615001c32e.png

 

5d7d0b370e885_HIJER2.thumb.png.30916a96850d42aa408321e660859b6e.png

 


اعتراض:
" آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔
کہنے لگے ۔
خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے

در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے 
اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی 
یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے
مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔
کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔

جواب
سعیدی صاحب یہ روایت 
آپ کے سب سے ناپسندیدہ راوی ابو مخنف سے منقول ہے۔
 اگر اس کی نہیں تو راوی پیش فرما دیں ۔
---------------------------------

 


 اعتراض
آپ نے خود ہی نقل کیا ہے کہ حجر بن عدی حکمرانی کا

حق صرف آل ابوطالب کیلئے مانتا تھا،اس سے تو پتہ

چلتا ہے کہ وہ خلفاء ثلاثہ سے بھی بغاوت رکھتا تھا۔


جواب:
جناب سعیدی صاحب بہت سے

صحابہ کرام حضرت علیؓ کو خلیفہِ اول ہونے کا مانتے اور عقیدہ

رکھتے تھے ۔ اور وہ بھی ہیں جبہوں نے کبھی بھی

حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت کو نہیں مانا ، نہ ہی بیعت کی

 کیا وہ باغی ٹہرائے جائیں گے ۔
یہاں تو حجر بن عدی خود بار بار کہ رہے ہین کہ

مین بیعت پر قائم ہوں ۔اور نہ ہی توڑنا چاہتا ہوں ۔

 

 

اعتراض
" شیعہ مؤرخ دینوری لکھتا ہے "


جواب
دینوری ہرگز شیعہ نہیں اہل سنت ہے

 


اعتراض

شیعہ مؤرخ دینوری لکھتا ہے کہ اس نے صلح حسن

پر امام حسن کو شرم دلائی تھی ،پھر امام حسین

کے پاس گیا وہاں سے بھی جواب ملا۔پس وہ

حسنین کریمین کی صلح کا بھی باغی تھا۔ "

 

 

جواب
جناب سعیدی صاحب لکھ  امام حسن رضی اللہ عنہ کے

بہت سے ساتھیوں نے صلح معاویہ پر اعتراضات کیے تھے ،

  مگر بعد میں حجر بن عدی نے بیعت کر لی تھی ،

اور اہل بیعت ہرگز حجر بن عدی سے ناراض نہیں تھے ۔ ورنہ آج حجر بن عدی

شہیدِ اہل بیت ہرگز نہ کہلاتا ،پھر ایسی باتوں سے بغاوت ثابت نہیں ہوتی ۔
باغی کی اک مکمل تعریف ہے جب تک کوئی بھی

فسادی ڈاکو یا راہزن اس جامع مکمل تعریف

پر پورا نہیں اترتا وہ ہرگزہرگز باغی نہیں کہلا سکتا ۔

 


اعتراض :
"علی کی شتم و ذم نہ چھوڑنا کی روایت آپ نے

جہاں سے لی ہے وہیں لوط بن یحییٰ کی

شخصیت بطورراوی جلوہ گرہے،اور وہ جلا بھنا شیعہ ہے" ۔

 


جواب:
 میرے پاس معاویہ کی گالیوں کی صحیح روایات

موجود ہیں آپ اس کی ہرگز فکر نہ کریں ۔

آپ کے اعتراضات ختم ہوئے ۔
--------------------------------


سب سے اہم ترین گواہی جو کہ شریح بن ہانی کی  ہے انہوں نے کہا کہ :
" حجر بن عدی کے باب میں میری شہادت یہ ہے

کہ وہ نماز پڑھنے والوں میں ہیں ۔

ان کا خون بہانا اور مال لینا حرام ہے ، اب چاہو تو قتل کرو یا چھوڑ دو "
------------------------

 

جناب محترم سعیدی صاحب باغی کی مکمل اور جامع تعریف  لکھیں ؟

 

جناب سعیدی صاحب کیا یہ شہادتیں اسلامی قانونِ شہادت کے مطابق ہوئیں ؟


---------------------------
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

ابو مخنف میرے نزدیک غیر معتبر ھے مگر آپ تو اُسے بہت معتبر مانتے ہیں۔ اس لئے اُس کی بات مجھ پر نہیں بلکہ آپ پر حجت ھے۔

شہادتوں کا لیٹر لے جانے والے حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب بھی شاھد تھے تو ان کی شہادت تو اسلامی قانون کے مطابق تھی۔

اور ان کی شہادتوں میں بھی( جمع جموع+ شتم معاویہ + دعوت الی حرب+ آل ابو طالب کو ھی حکمرانی کا حق ھے)  کے عناصر موجود ھیں بلکہ معاویہ کے عامل کا شہر سے اخراج بھی بیان شدہ ھے۔

باغی کی تعریف بھی آپ اپنی من پسند پیش کریں اور اپنے اسی ابومخنف کی روایات کے مطابق پرکھ لیں۔ اس سب کے باوجود جنابِ حجر کا اپنی بیعت پر قائم رھنے کا دعوٰی کیا وزن رکھتا ھے؟  ہاں وہ تجدید بیعت کرتے تو اور بات ھوتی۔

اور اگر مخالف شہادت پر نقصان پہنچنے کی بات ھے تو قاضی شریح کا کسی نے کیا بگاڑا؟  اگر قاضی کی شہادت میں اس کا اپنا مشاھدہ تھا اور دوسروں کے مشاھدہ کی نفی نہیں تھی۔

اخبارالطوال والے دینوری کو تنقیح المقال والے نے شیعہ لکھا ھے، اور جناب اس کی تردید کے گراؤنڈز پیش کریں۔

قاتلینِ عثمان پر لعنت کو حضرت علی پر لعنت و سب وشتم قرار دینے والے مہربانوں کا پتہ بھی چل گیا۔ اور حضرت علی پر معاویہ کی سب وشتم اور لعنت بھیجنے کی حقیقت بھی سامنے آ گئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

اعتراض
ابو مخنف میرے نزدیک غیر معتبر ھے مگر آپ تو اُسے بہت معتبر مانتے ہیں۔ اس لئے اُس کی بات مجھ پر نہیں بلکہ آپ پر حجت ھے۔
جواب
سعیدی صاحب جو آپ کے نزدیک غیر معتبر ہے آپ اس کی بات پر یقین کیسے کریں گے؟
اور جان سعیدی صاحب آپ اصل واقعہ  کی طرف بالکل توجہ نہیں فرما رہے کہ  امیر معاویہ کے گورنر  اور خود امیر معاویہ حضرت علی کو قاتلیں عثمان میں سمجھتے تھے اور اسی بہانے ان کو گورنر صاحبان گالیاں دیتے تھے اور یہ سب بحکم معاویہ ہی ہوتا تھا ۔ 
اصل نقطہ پر دھیان دیں 

وكان معاوية وعماله يدعون لعثمان في الخطبة يوم الجمعة، ويسبون علياً، ويقعون فيه، ولما كان المغيرة متولي الكوفة، كان يفعل ذلك طاعة لمعاوية، فكان يقوم حجر وجماعة معه، فيردون عليه سبّه لعليٍ رضي الله عنه، وكان المغيرة يتجاوز عنهم، فلما ولي زياد، دعا لعثمان وسب علياً، وما كانوا يذكرون علياً باسمه، وإنما كانوا يسمونه بأبي تراب، وكانت هذه الكنية أحب الكنى إِلى علي، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناه بها، فقام حجر وقال: كما كان يقول من الثناء على علي، فغضب زياد وأمسكه، وأوثقه بالحديد، وثلاثة عشر نفراً معه، وأرسلهم إِلى معاوية، فشفع في ستة منهم عشائِرهم، وبقي ثمانية، منهم: حجر، فأرسل معاوية من قتلهم بعذرا، وهي قرية بظاهر دمشق، رضي الله عنهم، وكان حجر من عظم الناس ديناً وصلاة، وأرسلت عائشة تتشفع في حجر، فلم يصل رسولها إِلا بعد قتله

معاویہ اور اس کے گورنر جمعہ کے خطبوں میں معاویہ کے لئے دعائے خیر کیا کرتے تھے اور علیؓ  پر سب اور برا بھلا کرتے تھے، چنانچہ جب مغیرہ گورنر کوفہ بنا، تو وہ بھی معاویہ کی اطاعت کے چکر میں عثمان کے لئے دعائے خیر کرتا اور علیؓ  پر سب، چنانچہ حجر اور ان کے ساتھ ایک جماعت کھڑے ہوجاتی اور جو مغیرہ سب علی رض  کرتا تھا اس کے خلاف احتجاج کرتے جب مغیرہ وہاں سے گورنرشپ سے ہٹا تو اس کی جگہ زیاد بن ابیہ گورنر بنا اور وہ عثمان کا ذکر خیر کرتا اور علیؓ پر سب کرتا، اور امیر المومنین  کا نام علی نہ لیتے بلکہ ابو تراب کہا کرتے تھے، جو اگرچہ  علیؓ  کو سب سے زیادہ پسندیدہ کنیت لگتی تھی چونکہ رسول اللہق   نے وہ کنیت عطا کی تھی تو حجر کھڑے ہوئے اور وہی کہا جو وہ  علیؓ کی مدح میں کہا کرتے تھے، جس پر زیاد غضبناک ہوگیا اور حجر کو روکنا چاہا اور حجر اور ان کے تیرہ ساتھیوں کو گرفتاوی کا کہا چنانچہ ان تمام کو معاویہ کے پاس بھیج دیا گیا، جن میں سے چھ کے بارے میں ان کے قبائل نے سفارش کرکے چھڑوادیا اور باقی آٹھ جن میں حجر تھے ان کو معاویہ نے مقام عذرا جو دمشق کا ایک قریہ تھا وہاں قتل کروایا، اللہ ان تمام سے راضی ہو، اور حجر تمام لوگوں میں دین اور نماز کے معاملہ میں بلند ترین تھے، اور عائشہ نے حجر کی شفارش کے لئےایک قاصد کو بھیجا تھا جو حجر کے قتل کے بعد وہاں پہنچا۔

حوالہ:  المختصر في أخبار البشر جلد ١ ص ١٨٦

http://shamela.ws/browse.php/book-12715#page-174


--------------------
اعتراض
شہادتوں کا لیٹر لے جانے والے حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب بھی شاھد تھے تو ان کی شہادت تو اسلامی قانون کے مطابق تھی

جواب
ابوداؤد میں حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ سے روایت ہے :
" رسول اللہﷺ نے فیصلہ  ( یعنی عدالتی ضابطہ بیان فرمایا ہے) کہ:
مقدمے کے فریقین دونوں حاکم کے روبرو بیٹھیں "
کریم آقاﷺ نے مذید فرمایا :
جب دونوں فریق تمہارے سامنے بیٹھ جائیں تو فیصلہ نہ کرو ۔ جب تک کہ دوسرے کی بات بھی نہ سن لو جس طرح تم نے پہلے کی بات سنی  ۔ "
حضرت عمر فاروقؓ جو ہدایت نامہ اداب قضاء سے متلق حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو بھیجا تھا وہ معتدد کتب فقیہ میں منقول ہے اس میں حضرت عمرؓ فرماتے ہیں :
"  تم لوگوں کی طرف متوجہ ہونے اور اپنا اجلاس منعقد کرنے میں مساوات قائم کرو ۔ تا کہ کمزور تمہارے عدل سے مایوس نہ ہو اور بڑے خاندان والا تم سے بے انصافی کی طمع نہ کرے ۔
جناب سعیدی صاحب
ملزمین کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں گواہیاں لینا ارشاداتِ نبویﷺ اور اسلامی اصول قضاء کے بالکل خلاف ہے ۔ اس پر شہادت کا ہی اطلاق نہیں کیا جا سکتا  جو اثباتِ جرم کی بنیاد بن سکے ۔ 
پھر اسلامی قانونِ شہادت کے مطابق یہ بھی ضروری  اور بہت اہم ہے کہ ہر گواہ کی گواہی الگ الگ لی جائے تا کہ پہلے کی گواہی سے دوسرا متاثر نہ ہو ۔ اور ان کی شہادت میں اگر اختلاف ہو جو ملزم کے حق میں مفید ہو تو وہ اس فائدے سے محروم نہ ہو ۔
لیکن جناب سعیدی صاحب زیاد کے سامنے  اصحاب کی گواہیاں جس طرح درج کی گئی وہ میں اوپر لکھ چکا ہوں ۔
زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔
میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔
عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔
مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے
ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔
چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ
اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ،
عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ،
محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ،
عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔
جناب سعیدی صاحب یہ سارے گواہ زیاد کے من پسند گواہ تھے ۔؎
پھر زیاد کا یہ اک جملہ ہی  اسلامی قانوں شہادت کے سراسر خلاف ہونے کے لیے کافی ہے کہ :
"  زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔"
معین الحکام صفحہ نمبر/100 پر لکھا پڑا ہے کہ :
" اگر ایک گواہ شہادت دے اور اس کی تفصیل بیان کرے پھر دوسرا گواہ کہے کہ میں اپنے ساتھی کی گواہی کے مثل گواہی دیتا ہوں تو دوسرے کی گواہی قبول نہ ہو گی ۔
-----------------------------------
اعتراض
اور ان کی شہادتوں میں بھی( جمع جموع+ شتم معاویہ + دعوت الی حرب+ آل ابو طالب کو ھی حکمرانی کا حق ھے)  کے عناصر موجود ھیں بلکہ معاویہ کے عامل کا شہر سے اخراج بھی بیان شدہ ھے

جناب محترم سعیدی صاحب
حضرت حجر بن عدیؓ نے   جس عامل کو نکال باہر کیا تھا اس کا نام تو لکھ دیتے کہ اس کا نام کیا تھا ؟ کس شہر کا عامل تھا ؟ جبری اخراج کے بعد واپسی ہوئی کہ نہیں ؟حجر بن عدی تو خود کوفے میں چھپتے پھر رہے تھے ،  اگر کوفہ کے عامل کے اخراج کی بات ہے تو وہ اس وقت عمرو بن حریث تھے ۔ اور جو شہادتیں اور گواہیاں لکھی گئی اس میں خود عمرو بن حریث کی گواہی موجود ہے ، امید ہے کہ آپ عامل اور شہر کانام لکھیں گے  ۔
جہاں تک اس میں سب و شتم کا مسئلہ ہے تو معاویہ کے گورنر پہل کرتے حجر بن عدی احتجا جاً اس کا جواب میں بولتے ۔
کیونکہ بہت شروع میں حجر بن عدی اور ان کے کچھ ساتھی ایسا کرتے تھے تو حضرت علیؓ نے خود  حجر بن عدی کو بلا کر ایسی باتوں سے روک دیا تھا ۔
لہذا مغیرہ اور ابن زیادہ کے دور  زمانہ میں   امیر معاویہ کے گورنر ہی حضرت علیؓ پر سب و شتم کرتے اور حجر بن عدی احتجاج کرتے ہوئے جواباً ایسی باتیں کرتے ۔
-------------------------------------------
اعتراض

باغی کی تعریف بھی آپ اپنی من پسند پیش کریں اور اپنے اسی ابومخنف کی روایات کے مطابق پرکھ لیں۔ اس سب کے باوجود جنابِ حجر کا اپنی بیعت پر قائم رھنے کا دعوٰی کیا وزن رکھتا ھے؟  ہاں وہ تجدید بیعت کرتے تو اور بات ھوتی۔

جواب :
فقہائے اَحناف کے ہاں بغاوت کی تعریف
 فقہائے احناف میں سے ایک نمایاں نام علامہ ابن ہمام (م 861ھ) کا ہے۔ انہوں نے فتح القدیر میں بغاوت کی سب سے جامع تعریف کی ہے اور باغیوں کی مختلف اقسام بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

والباغی فی عرف الفقهاء : الخارج عن طاعة إمام الحق. والخارجون عن طاعته أربعة أصناف :

أحدها : الخارجون بلا تأويل بمنعة وبلا منعة، يأخذون أموال الناس ويقتلونهم ويخيفون الطريق، وهم قطاع الطريق.

والثاني : قوم کذلک إلا أنهم لا منعة لهم لکن لهم تأويل. فحکمهم حکم قطّاع الطريق. إن قتلوا قتلوا وصلبوا. وإن أخذوا مال المسلمين قطعت أيديهم وأرجلهم علي ما عرف.

والثالث : قوم لهم منعة وحمية خرجوا عليه بتأويل يرون أنه علي باطل کفر أو معصية. يوجب قتاله بتأويلهم. وهؤلاء يسمون بالخوارج يستحلون دماء المسلمين وأموالهم ويسبون نساء هم ويکفرون أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم . وحکمهم عند جمهور الفقهاء وجمهور أهل الحديث حکم البغاة....

والرابع : قوم مسلمون خرجوا علی إمام ولم يستبيحوا ما استباحه الخوارج، من دماء المسلمين وسبی ذراريهم وهم البغاة.

ابن همام، فتح القدير، 5 : 334

’’فقہاء کے ہاں عرف عام میں آئین و قانون کے مطابق قائم ہونے والی حکومت کے نظم اور اتھارٹی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے کو باغی (دہشت گرد) کہا جاتا ہے۔ حکومت وقت کے نظم کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی چار قسمیں ہیں :

’’پہلی قسم ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو طاقت کے بل بوتے یا طاقت کے بغیر بلاتاویل حکومت کی اتھارٹی اور نظم سے خروج کرنے والے ہیں اور لوگوں کا مال لوٹتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں اور مسافروں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں، یہ لوگ راہزن ہیں۔

’’دوسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس غلبہ پانے والی طاقت و قوت تو نہ ہو لیکن مسلح بغاوت کی غلط تاویل ہو، پس ان کا حکم بھی راہزنوں کی طرح ہے۔ اگر یہ قتل کریں تو بدلہ میں انہیں قتل کیا جائے اور پھانسی چڑھایا جائے اور اگر مسلمانوں کا مال لوٹیں تو ان پر شرعی حد جاری کی جائے۔

’’تیسری قسم کے باغی وہ لوگ ہیں جن کے پاس طاقت و قوت اور جمعیت بھی ہو اور وہ کسی من مانی تاویل کی بناء پر حکومت کی اتھارٹی اور نظم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں اور ان کا یہ خیال ہو کہ حکومت باطل ہے اور کفر و معصیت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ان کی اس تاویل کے باوجود حکومت کا ان کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں پر خوارج کا اطلاق ہوتا ہے جو مسلمانوں کے قتل کو جائز اور ان کے اموال کو حلال قرار دیتے تھے اور مسلمانوں کی عورتوں کو قیدی بناتے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکفیر کرتے تھے۔ جمہور فقہاء اور ائمہ حدیث کے ہاں ان کا حکم بھی خوارج اور باغیوں کی طرح ہی ہے۔۔۔۔

’’چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے حکومتِوقت کے خلاف مسلح بغاوت تو کی لیکن ان چیزوں کو مباح نہ جانا جنہیں خوارج نے مباح قرار دیا تھا جیسے مسلمان کو قتل کرنا اور ان کی اولادوں کو قیدی بنانا وغیرہ۔ یہی لوگ باغی ہیں۔‘‘

چلیں سعیدی صاحب میں نے تعریف لکھ دی ہے آپ جن چاروں اقسام  میں سے چاہیں حجر بن عدی کی بغاوت لکھ دیں اور پھر اسے ثابت کریں ۔
------------------------

اعتراض

اور اگر مخالف شہادت پر نقصان پہنچنے کی بات ھے تو قاضی شریح کا کسی نے کیا بگاڑا؟  اگر قاضی کی شہادت میں اس کا اپنا مشاھدہ تھا اور دوسروں کے مشاھدہ کی نفی نہیں تھی۔
جواب
جناب سعیدی صاحب قاضی شریح کا کوئی کسی نے کچھ نہیں بگاڑا تھا  ۔ مگر آپ کے  زیاد نے اس  شہادت نامے میں قاضی شریح کی  اپنی طرف سے جھوٹی گواہی درج کر کے امیر معاویہ کو روانہ کر دی تھی ۔ جس کی تردید خود قاضی شریح نے کی جو غیر جانب دار بندہ تھا ۔ اور پھر اس کے علم میں تھا کہ زیاد یہ ظلم عظیم کر رہا ہے اس لیے اس نے خود اپنی طرف سے لکھ کرانہیں لوگوں کو دیا  جو یہ جھوٹ کا پلندہ لے جا رہے تھے اور لکھا کہ:
" حجر کا مال اور خون حرام ہے "
-------------------------
اعتراض:
اخبارالطوال والے دینوری کو تنقیح المقال والے نے شیعہ لکھا ھے، اور جناب اس کی تردید کے گراؤنڈز پیش کریں۔

جواب
سعیدی صاحب حسب ضرورت میں ان کے  سنی ہونے کے ثبوت دے پیش کر دوں گا ۔
----------------------------
اعتراض
قاتلینِ عثمان پر لعنت کو حضرت علی پر لعنت و سب وشتم قرار دینے والے مہربانوں کا پتہ بھی چل گیا۔ اور حضرت علی پر معاویہ کی سب وشتم اور لعنت بھیجنے کی حقیقت بھی سامنے آ گئی

جواب
جناب سعیدی صاحب آپ کس نگر میں آباد ہیں جنابِ امیر معاویہ حضرت علیؓ کو   بھی قاتلین حضرت  عثمان غنیؓ میں شمار کرتے تھے ۔  ورنہ حضرت علیؓ سے قصاص کا مطالبہ ہی کیوں کرتے جو کہ سرا سر غلط تھا ۔بحثیت خلیفہِ وقت تو مطالبہ ہی نہیں کر رہے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ قاتلین عثمان ہمارے حوالے کیے جائیں یا انہیں قتل کیا جائے ۔ اصل میں یہ تو اک بہانہ تھا ۔
پھر میں لکھ چکا ہوں کہ معاویہ کے گورنر حضرت علیؓ  کو گالیاں دیتے تھے اور لعنت کرتے تھے جس کے احتجاج میں حضرت حجر بن عدیؓ جواب دیتے تھے ۔

مغیره بن شعبه و لعن و سب حضرت علیؓ 
كان المغيرة بن شعبة أيام امارته على الكوفة كثيرا ما يتعرض لعلى في مجالسه وخطبه ويترحم على عثمان ويدعو له . 
تاريخ ابن خلدون ، ج3 ص13 المؤلف: عبد الرحمن بن محمد بن محمد، ابن خلدون أبو زيد، ولي الدين الحضرمي الإشبيلي
 (المتوفى: 808هـ)، المحقق: خليل شحادة، الناشر: دار الفكر، 
بيروت، الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988 م، عدد الأجزاء: ------------
2
لَمَّا بُويِعَ لِمُعَاوِيَةَ بِالْكُوفَةِ أَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ خُطَبَاءَ يَلْعَنُونَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ  
السنة لابن أبي عاصم ج 2 ص 618 ش 1427
 المؤلف: أبو بكر بن أبي عاصم وهو أحمد بن عمرو بن الضحاك بن مخلد الشيباني
 (المتوفى: 287هـ)، المحقق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400، عدد الأجزاء: 2. 
------------------------
3
ثُمَّ صَعِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ وَقَعَ فِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ... 
المعجم الكبير ج 3 ص 71 ش 2698
 المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني
 (المتوفى: 360هـ)، المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي، دار النشر: مكتبة ابن تيمية - القاهرة، الطبعة: الثانية، عدد الأجزاء:25

---------------

03.thumb.png.d78b176dc29c1ebc05d0479490e8f74f.png

 

04.thumb.png.3f2b6689792492238aa9b7eb7a641ad8.png

 

05.thumb.png.d9a3d87a8451e2987f605a9289c0bf6f.png

 

2.thumb.png.d098dea9fe88d30717d8bfaeb8560f14.png

 

06.thumb.png.a4a0567cd88f91d8a59ca26b146a6a1e.png

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.