ghulamahmed17

سیدنا حجر بن عدیؓ کا قتل

82 posts in this topic

 

حضرت علیؓ کے خلاف ہتیار اُتھانے  والے ظالم اور باغی ہیں یہ میں تین محدثیں سے 

صحیح ثابت کر چکا ، اب  آپ مانیں یا نہ مانیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا 

جب مجھے  کہیں ثابت کرنا ہوا تو میں مزید اھل سنت

کے حوالہ جات سے ثابت کر لوں گا ، اس وقت مجھے اس روایت 

پر مزید حوالہ جاے کی ضرورت نہیں ۔ 

 

جناب سعیدی صاحب جب آپ حوالہ جات پر چھلانگیں لگاتے گزرے

گے تو پھر اسی طرح ہی ہوتا ہے ، میں بار بار عرض کر چکا ہوں جو

 میرے سوالات ہوں ان کا جواب لکھا کریں مگر آپ خود ہی سوال کرتے ہیں اور

خود ہی جواب لکھتے ہیں ۔ان کا میرے سوال کے جواب سے کوئی تعلق نہیں 

ہوتا ، آپ نے لکھا کہ 

Quote


 کیا آپ نے بحوالہ قرطبی یہ تسلیم نہیں کیا کہ حضرت عثمان کا بیٹا ابان جنگ جمل میں حضرت عائشہ وطلحہ وزبیر کے ساتھ تھا۔اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ طلحہ وزبیر نے حضرت علی کی بیعت کی تھی۔ اب بیعتِ علی کے بعد وہ  دونوں پسرِ عثمان کے ساتھ قصاصِ عثمان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ کی بیان کردہ دونوں باتیں(بیعت علی کریں، عثمان کا بیٹا قصاص کا طالب ہو) یہاں پائی جاتی ہیں  ،اب آپ بتائیں کہ قصاص عثمان کا مطالبہ اب کیونکر ناجائز ہوگا؟ 


 

جناب سعیدی صاحب اگر آپ مکمل بات پڑھتے تو جواب دیتے اس لیے

اب دوبارہ پڑھیں ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اگر سارے بیٹے بھی جمل میں ہوتے

تو بھی اس سے   قصاص کا مطالبہ درست نہ ہوتا ،  میں نے جو امام قرطبی کا حوالہ اوپر لگایا

تھا پھر لگا رہا ہوں اس میں کیا لکھا ہے اب بغور پڑھیں 

کیا حضرت عثمان غنی کے بیٹوں میں سے  کسی ایک نے  بھی قصاص کا

مقدمہ عدالت میں  کیا   ؟؟؟

لہذا ثابت ہوا کہ جمل والوں اور صفین والوں کا حضرت علیؓ

سے قصاص کا  طلب کرنا ہی غلط تھا ۔

آپ مکمل حوالہ پڑھ  کر جواب لکھیں ۔ 

 

02qq.png

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

On 10/6/2019 at 9:02 AM, ghulamahmed17 said:

میں نے سوال کیا تھا کہ حضرت علیؓ سے حضرت عثمان کے قتل کا مطالبہ درست تھا یا غلط تھا ؟

یہ لوگ حضرت علی سے حضرت عثمان کا قصاص طلب ہی اس لیے کر رہے تھے کہ انہیں حضرت عثمان کے قتل میں ملوث جانتے تھے

لہذا

حضرت علی سے حضرت عثمان کا قصاص طلب کرنا 100 ٪ غلط تھا ۔

پہلے آپ نے قصاص عثمان کے مطالبہ کے غلط ھونے کی وجہ بتائی تھی : حضرت علی کو حضرت عثمان کے قتل میں شریک جاننا۔

اب آپ مطالبہ قصاص عثمان کے غلط ھونے کی پہلی وجہ کو باطل کرتے ہیں اور وجہ بتاتے ہیں وارثوں کا ایف آئی آر درج نہ کرانا۔

اس سلسلے ميں عرض ھے کہ مدینہ شریف میں دشمنانِ عثمان رضی اللہ عنہ دندناتے پھر رھے تھے اور پسرانِ عثمان اپنی جان بچاتے اور چھپتے پھررہے تھے ۔ سترہ بندوں نے  رات کو نماز جنازہ ادا کی ۔ F. I. R درج کرانے والے کا کیا حشر ھوتا۔

بہرحال جنابِ عدالت مآب حضرتِ اقضیٰ مولا علی مرتضیٰ خود ھی حضرت نائلہ زوجہ عثمان کا بیان لینے تشریف لے آئے اور پوچھا کہ عثمان کو کس نے قتل کیا؟  جواب آیا کہ میں نہیں جانتی وہ دو شخص تھے اُن کے ساتھ محمد بن ابوبکرؓ تھا ۔ ۔ ۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکرؓ کو بلایا، اس نے تصدیق کی ۔ پھر حضرت نائلہ نے کہا کہ قاتلوں کو یہی اندر لایا تھا ۔

اب فرمایا جائے کہ وارث کی طرف سے FIR بھی ھو گئی اور گواہ بھی گزر چکا تو اب تو عثمان کے خون کا قصاص دلوانے کا مطالبہ کرنے میں ھر شہری حق بجانب تھا۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

بہرحال جنابِ عدالت مآب حضرتِ اقضیٰ مولا علی مرتضیٰ خود ھی حضرت نائلہ زوجہ عثمان کا بیان لینے تشریف لے آئے اور پوچھا کہ عثمان کو کس نے قتل کیا؟  جواب آیا کہ میں نہیں جانتی وہ دو شخص تھے اُن کے ساتھ محمد بن ابوبکرؓ تھا ۔ ۔ ۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکرؓ کو بلایا، اس نے تصدیق کی ۔ پھر حضرت نائلہ نے کہا کہ قاتلوں کو یہی اندر لایا تھا ۔

اب فرمایا جائے کہ وارث کی طرف سے FIR بھی ھو گئی اور گواہ بھی گزر چکا تو اب تو عثمان کے خون کا قصاص دلوانے کا مطالبہ کرنے میں ھر شہری حق بجانب تھا۔

 

33.thumb.png.fdb22b921a809cb6ff37c258a14462e6.png

 

5da463374950c_44089941_1571040796332525_1990700664337989632_n(1).jpg.86e2221fb070126993a50be2cab07ab6.jpg

 

44026548_1571040736332531_6708929295072362496_n.jpg.18c62e3dc99154421dcc981aadee708b.jpg

 

Picture2PPP.thumb.png.890e262c455ee74ffe8ff799a08e22f2.png

 

جناب سعیدی صاحب 

حضرت علیؓ سے معاویہ بن ابوسفیان کا قصاص طلب کرنا

بالکل غلط تھا ۔

 

بلکہ اھل شام کو خونِ عثمان کا بدلہ کہ کر دھوکا دیا ۔

آپ اوپر پڑھ سکتے ہیں ۔

------------------------------

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

قتلِ عثمان کی ایف آئی آر ہوچکی اور قاتلوں کا شریکِ کار بھی تسلیمی بیان دے چکا۔ اب حضرت علی مرتضیٰ نے  عثمان کے خون کاقصاص کیوں نہ لیا؟ اگر یہ خود ہی قصاص لے لیتے تو جمل وصفین کی جنگوں کا موقع ہی پیش نہ آتا۔

آپ جن جنگوں کو دھوکہ پر مبنی قرار دے رہے ہیں،نبی کریم ﷺ نے ان جنگوں کو تاویلِ قرآن پر مبنی بتایا ہے۔اور ظاہر ہے  کہ یہ اجتہادی جنگیں ہیں اوران کو دھوکہ پر مبنی بتانا حدیث کے خلاف ہے۔

اور نواب صدیق حسن بھوپالی کا حوالہ کسی غیرمقلد کے سامنے پیش کرنا ،میں اس کو کچھ نہیں جانتا۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

قتلِ عثمان کی ایف آئی آر ہوچکی اور قاتلوں کا شریکِ کار بھی تسلیمی بیان دے چکا۔ اب حضرت علی مرتضیٰ نے  عثمان کے خون کاقصاص کیوں نہ لیا؟ اگر یہ خود ہی قصاص لے لیتے تو جمل وصفین کی جنگوں کا موقع ہی پیش نہ آتا۔

آپ جن جنگوں کو دھوکہ پر مبنی قرار دے رہے ہیں،نبی کریم ﷺ نے ان جنگوں کو تاویلِ قرآن پر مبنی بتایا ہے۔اور ظاہر ہے  کہ یہ اجتہادی جنگیں ہیں اوران کو دھوکہ پر مبنی بتانا حدیث کے خلاف ہے۔

اور نواب صدیق حسن بھوپالی کا حوالہ کسی غیرمقلد کے سامنے پیش کرنا ،میں اس کو کچھ نہیں جانتا۔

 

 

ہر سب کچھ ہو چکا  تو اس جناب پھر مجھے  حضرت علیؓ سے قصاص

طلب کرنے کو ہرگز غلط نہیں کہنا چاہیے ،

مگر اس ایف آئی آر  کے اندارج پر

حوالہ جات کی کتابیں پیش فرما دیں ، بالک میں اس کو

پڑھنا چاہوں گا ۔ اور دیکھو گا کہ اھل سنت کے کن کن عملماء نے

اس مقدمہِ عدالت کی توثیق کی ہے ۔

اور جہاں تک آپ نے اھل حدیث محدث کا لکھا کہ اھل حدیث کے سامنے

پیش کیے جائیں محترم آپ سراسر غلط کہ رہے ہیں ۔

حضرت عثمان غنی کے قصاص پر کوئی اھل اھل حدیث ، دیوبندی اور بریلوی

اختلاف نہیں ہے کہ ان کے حوالہ جات اور کتابیں پیش نہیں کی جا سکتی ۔

مگر جناب  آپ کتابیں پیش فرما دیں ۔

میں منتظر ہوں  کہ یہ مقدمہ کب  پیش ہوا اور ایف آئی آر کاٹی گئی 

--------------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس مقدمہ میں آپ کا موقف روافض والا ہے، کیا میں آپ کے مقابلے میں اُن کے حوالے پیش کروں تو وہ آپ پر حُجت ھوں گے؟

آپ کو رافضی حوالے پیش کرتے ہیں، اس لئے آپ کا اپنا مطالعہ نہیں ہے ورنہ سارا مقدمہ پڑھتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ مولا علی مرتضیٰ چل کر عثمان رضی اللہ عنہ کے وارث سے اس کا بیان لینے آئے تھے یا نہیں؟  اور محمد بن ابوبکرؓ نے تسلیمی بیان کیا دیا؟  اور زوجہ عثمان نے اسے کتنا ذمہ دار ٹھہرایا؟

آپ آل طلحہ کی مروان کے خلاف FIR پیش کریں اور میں یہ حوالہ جناب کے حوالے کر دوں گا ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

اس مقدمہ میں آپ کا موقف روافض والا ہے، کیا میں آپ کے مقابلے میں اُن کے حوالے پیش کروں تو وہ آپ پر حُجت ھوں گے؟

آپ کو رافضی حوالے پیش کرتے ہیں، اس لئے آپ کا اپنا مطالعہ نہیں ہے ورنہ سارا مقدمہ پڑھتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ مولا علی مرتضیٰ چل کر عثمان رضی اللہ عنہ کے وارث سے اس کا بیان لینے آئے تھے یا نہیں؟  اور محمد بن ابوبکرؓ نے تسلیمی بیان کیا دیا؟  اور زوجہ عثمان نے اسے کتنا ذمہ دار ٹھہرایا؟

آپ آل طلحہ کی مروان کے خلاف FIR پیش کریں اور میں یہ حوالہ جناب کے حوالے کر دوں گا ۔

 

 

سعیدی صاحب کیا بچوں جیسی باتیں لکھ رہے ہیں :   آل طلحہ کی FIR          مجھے پیش کرنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے اس لیے کہ حضرت طلحہؓ حضرت علیؓ

کے خلاف جنگ لڑنے آئے تھے ۔ اور ان کے  اپنے لشکر  میں موجود بنواُمیہ کے مروان نے تیر مار کر 

اُن کو قتل کیا ۔   اور انہیں کے حمایتی معاویہ بن ابوسفیان نے اس قاتل کو مدینہ کا حاکم بنا کر ممبر رسولﷺ پر بٹھایا 

لہذا قاتل اور مقتول دونوں انہیں کے لشکر  کے تھے ،  لہذا ہوش کے ناخن لیں ۔ آپ کے  حواس کام نہیں کر رہے ۔

آپ کو  بار بار لکھا ہے کہ جنگ جمل والوں اور صفین والوں کا

حضرت علی سے قصاص طلب کرنا غلط تھا ۔ اس کا ثبوت بھی امام قرطبی سے کتاب کی شکل میں پیش کر چکا

مگر آپ  چند جملے لکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ لیں جی FIR      ہو گئی ہے ۔ او اللہ کے بندے اس کے ثبوت پر کتابیں 

پیش کیوں نہیں کرتے کہ کب حضرت علی کے سامنے قصاص عثمان کا مقدمہ درج ہوا ۔

  اب  آپ کے حوالوں کے ثبوت کی کتابیں میں تو پیش کرنے کا ذمہ دار ہرگز نہیں ہوں ۔

آپ  ثبوت پیش کریں یا امام اھل سنت امام قرطبی کی یہ بات مان لیں :

02qq.png.f78f76c40289eb419238135c643664d2.png.73dcc82bce1230493e6bba17cc8eca21.png

 

سعدی صاحب آپ  کے لکھ دینے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ کوئی حقیقت  لکھے ہوئے  کوثابت کیا جاتا ہے جیسے

یہ میں ثابت کر چکا ہوں ۔ آپ بھی میرے دوست کوشش کریں اور ایسا کوئی ثبوت کتاب کی شکل میں پیش

فرمائیں اور ثابت کریں کہ ہے FIR  کی نقل ۔ اب فلاں نے کہا اور فلاں نے کہا سے آپ کی جعلی FIR  ہر گز نہیں مانی جا سکتی ۔

اور یہی حقیقت اور سچ ہے کہ حضرت علی سے  خون عثمان سے ان لوگوں

کا مطالبہ درست نہیں بالکل غلط تھا ۔ میں آپ کے ثبوت کی کتابوں کا منتظر رہوں گا اور دیکھو گا

-------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.