Sign in to follow this  
Followers 0
ghulamahmed17

کیا خلفہِ راشد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھے؟

1 post in this topic

صحیح بخاری حدیث# 2812
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍفَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ فَأَتَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فمر بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ ""وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ"". 
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور ( اپنے صاحبزادے ) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے ( رضاعی ) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ( ہمارے پاس ) تشریف لائے اور ( چادر اوڑھ کر ) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمارؓ کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی ( اطاعت کی ) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے..

----------------


ملا علی قاری فرماتے ہیں
واستدل به على أحقية خلافة علي، وكون معاوية باغياً لقوله عليه الصلاة والسلام: ويحك يا عمار يقتلك الفئة الباغية(شرح مسند ابی حنیفہ اقتدوا بعد ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما جلد ا ص245)
(حدیث عمار) سے استدلال کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اور معاویہ  عنہ باغی ہیں۔
---------------

امام الزرکشی فرماتے ہیں
قال الزركشي وهذا الحديث احتج به الرافعي لإطلاق العلماء بأن معاوية ومن معه كانوا باغين ولا خلاف أن عمار كان مع علي رضي الله عنه وقتله أصحاب معاوية.(توضیح الافکار لمعانی تنقیح الانظار جلد 2 ص257 تحت مسالۃ 63 معرفہ الصحابہ)
ترجمہ: اس حدیث کا اطلاق علماء نے اس پر کیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور جو ان کے ساتھ تھےسب باغی تھے اور یہ اس کے خلاف نہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور معاویہ  کے ساتھیوں نے ان کو قتل کیا۔
-----------------

محمد بن إسماعيل الأمير الصنعاني
المتوفى: 1182ہجری
وقال الإستاذ عبد القاهر البغدادي أجمع فقهاء الحجاز والعراق ممن تكلم في الحديث والرأي منهم مالك والشافعي وأبو حنيفة والأوزاعي والجمهور الأعظم من التكلمين أن عليا عليه السلام مصيب في قتاله لأهل صفين كما أصاب في قتاله أهل الجمل وأن الذين قاتلوه بغاة ظالمين له لحديث عمار واجمعوا على ذلك.(حوالہ ایضا)
اس پر اجماع بتایا ہے کہ معاویہ باغی گروہ تھا۔

---------------

ابن کثیر فرماتے ہیں

أَخْبَرَ بِهِ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنَّهُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ وَبَانَ بِذَلِكَ أَنَّ عَلِيًّا مُحِقٌّ وَأَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاغٍ(البدایہ والنھایہ جلد 7 ص266 باب مقتل عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ (عماررضی اللہ عنہ) کو باغی گروہ قتل کرے گا اس سے یہ ثابت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور معاویہ  باغی تھے۔
-------------------------------

 علامہ شوکانی لکھتے ہیں
]قَوْلُهُ: (أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ) فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ عَلِيًّا وَمَنْ مَعَهُ هُمْ الْمُحِقُّونَ، وَمُعَاوِيَةَ وَمَنْ مَعَهُمْ هُمْ الْمُبْطِلُونَ، وَهَذَا أَمْرٌ لَا يَمْتَرِي فِيهِ مُنْصِفٌ وَلَا يَأْبَاهُ إلَّا مُكَابِرٌ مُتَعَسِّفٌ، وَكَفَى دَلِيلًا عَلَى ذَلِكَ الْحَدِيثُ. وَحَدِيثُ " يَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ(نیل الاوطار جلد 7 ص 59)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان(اولاھما بالحق) اس میں دلیل ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اور جو ان کے ساتھ تھے وہ حق پر تھے اور معاویہ  باطل پر تھے اور اس میں کسی بھی انصاف کرنے والے کے لئے کوئی شک نہیں ہے اور اس سے صرف ضدی اور ہٹ دھرم ہی انکار کرے گا۔
-----------------------------

امام آلوسی فرماتے ہیں

الفئة الباغية كما أمرني الله تعالى- يعني بها معاوية ومن معه الباغي(تفسیر روح المعانی تحت آیت 5 سورہ الحجرات)
ترجمہ: معاویہ  اور ان کے ساتھ باغی گروہ تھا۔
------------------------

صدیق حسن خان القنوجی فرماتے ہیں
لكان ذلك مفيدا للمطلوب ثم ليس معاوية ممن يصلح لمعارضة علي ولكنه أراد طلب الرياسة والدنيا بين قوم أغتام1 لا يعرفون معروفا ولا ينكرون منكرا فخادعهم بأنه طلب بدم عثمان(الدرر البھیۃ والروضہ الندیۃ کتاب الجھاد و السیر باب فضل جھاد جلد 2 ص 360)
ترجمہ: معاویہ نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو تعرض کیا صرف ریاست اور دنیا کی طلب کے لئے اس کے پیچھے نہ معروف تھا اور نہ منکر کو روکنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بھانہ بنا کر سب کو دھوکا دیا تھا۔
----------------------


علامہ عبدالکریم شہرستانی 
اور اب پیش ِخدمت ہے اہل ِسنت کے نامور عالم ِدین علامہ عبدالکریم شہرستانی کو اپنی کتاب ملل و النحل، ج 1 ص 103 میں لکھتے ہیں:
ولا نقول في حق معاوية وعمرو بن العاص الا أنهما بغيا على الامام الحق فقاتلهم مقاتلة أهل البغي وأما أهل النهروان فهم الشراة المارقون عن الدين بخبر النبي صلى الله عليه وسلم ولقد كان رضي الله عنه على الحق في جميع أحواله يدور الحق معه حيث دار
ہم معاویہ اور عمروبن العاص کے متعلق کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے کہ انہوں نے امام برحق کے خلاف جنگ کی لہٰذا علی نے ان لوگوں کو باغی تصور کرتے ہوئے ان سے جنگ کی۔ 
--------------------


شاہ عبدالعزیز محدث دھلیؒ فرماتے ہیں کہ:

کل اہلسنت  کا اجماع ہے اس بات پر کہ معاویہ بن ابوسفیان شروع امامتِ حضرت امیر رضی اللہ عنہ سے اس وقت کا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اُس کے سپرد کی باغیوں میں سے تھا کہ امامِ وقت کا مطیع نہ تھا، اور جب حضرت امام رضی اللہ عنہ نے اُس کے سپرد کر دی تو بادشاہوں میں سے تھا۔
تحفہ اثنا عشر ص / 285
------------------------

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.