ghulamahmed17

کیا خلفہِ راشد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل جھوٹ ہیں؟

190 posts in this topic

1 hour ago, ghulamahmed17 said:

 

 

 

رضا عسقلانی صاحب جس اھل حدیث فورم سے آپ نے کاپی پیسٹ کیا وہ یہ ہے  ۔ اور یہاں ساری روایات کو  حافظ زبیر علی صاحب نے ضعیف نہیں کہا ۔ جس حدیث  کو انہوں نے بنیاد بنایا  وہ میں    بعد میں آپ کو بتاؤں گا ۔ آپ نے پہلے بھی یہاں سے کاپی پیسٹ کیا اور اب ان کی پوری تحریر یہاں ڈال دی ۔ 

01.thumb.png.ddcd423056fee096034296f857cc7651.png

02.thumb.png.934a177871f4c6b751734701bc571425.png

کتنے افسوس کی بات ہے کہ مجھے  کتاب کی اجازت بھی نہیں دے رہے اور خود پوری کی پوری اھل حدیث تحقیق سے ضیف ثابت فرما رہے ہیں  ۔   اور انہیں کی اس فورم کی مکمل تحریر لگا دی ۔ اب میں افسوس ہی کر سکتا ہوں ۔ باقی  حافظ زبیر صاحب نے قاتل کیوں کہا بعد میں کسی وقت دوں گا ۔ انشاء اللہ 

 

 

آپ کی پیش کردہ تحریر میں کوئی حوالہ نہیں ہے دیکھ سکتے ہیں

kp.jpg.4d087c62a03fdb2a7173a8c637478679.jpg

جب کہ ہماری تحریر میں ہم نے دو حوالے دیئے ہیں زئی کی کتب کے۔

hawala.jpg.cd2784a62e19d1559cac9083c80bd947.jpg

اس لیے جناب ہم تصدیق کر کے ہی کسی کی تحریر پوسٹ کرتے ہیں کیونکہ حوالہ کی ذمہ داری حوالہ دینے والے پر ہوتی ہے۔

باقی میں نے یہ دعوی کیا نہیں کہ یہ میری خود کی لکھی ہوئی تحریر ہے میں تو اس تحریر کی اصل کتب سے تصدیق کر کے ہی اسے پوسٹ کیا ہے تاکہ حوالہ مانگنے پر اصل کتاب دیکھائی جا سکے۔

میں نے اوپر والے کمنٹ کو ایڈٹ کر کے اصل کتب کے صفحات لکھا دیئے ہیں تاکہ دیکھنے میں جناب کو آسانی ہو۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
9 minutes ago, ghulamahmed17 said:


 

اب تک  جن کتابوں سے ابوالغایہ کا قاتل ہونا ثابت کیا جا چکا

ان کا مختصراً خلاصہ درج ذیل ہے ۔

 

أبو الغادية قَتَلَ عَمَّارَ
(1): تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام
المؤلف:   الذهبي
المجد الثانی / 330
 المحقق: بشار عواد معروف


حکم : إسناده حسن
---------------------------
(2):مسند الإمام أحمد بن حنبل
 المؤلف: أحمد بن حنبل
جلد/29 ، صفحہ/311
 المحقق: شعيب الأرناؤوط وآخرون


حکم : حدیثِ صحیح، و ھذا  إسناده حسن
----------------------------

(3):مسند الإمام أحمد بن حنبل
 المؤلف: أحمد بن حنبل
جلد/13، صفحہ/122
 المحقق: أحمد محمد شاكر أبو الأشبال - حمزة الزين


حکم : إسناده حسن
-------------------------
(4): حاشية مسند الإمام أحمد بن حنبل
 المؤلف: نور الدين محمد عبد الهادي السندي الحنفی
جلد/9 ، صفحہ/463
 المحقق: نور الدين طالب الحنفی


حکم :  حاشیہ/وَكَانَ إذَا اسْتأْذن عَلَى مُعَاوِيَةَ وَغَيرَهُ يَقُوْلُ: قَاتِل عَمَّار بِالْبَاب
--------------------------
(5):الصحيح المسند مما ليس في الصحيحين
 المؤلف: مقبل بن هادي الوادعي
جلد/2 ، صفحہ/ 86
المحقق: مقبل بن هادي الوادعي


حکم : ھذا حدیثِ صحیح
--------------------------------
(6):السلسلة الصحيحة
المؤلف: محمد ناصرالدین البانی
جلد/5 ، صفحہ/19-20


حکم : إسناده صحیح
------------------
(7):صحيح أخبار صفين والنهروان وعام الجماع
المؤلف: فواز بن فرحان بن راضي الشمري
جلد اول ، صفحہ /433-432


حکم : 432/ إسناده حسن، 433/ السلسلة الصحيحة(البانی)
---------------------------

ان سب حوالہ جات کا ہم اصولی اور تحقیقی رد پیش کر چکے ہیں یا تو ہمارے اس رد کا جواب دیں یا مہربانی فرما کر ان کو دوبارا پوسٹ نہ کیا کریں کیونکہ جس کا جواب ہو گیا ہو اسے پھر پوسٹ کرنا بے وقوفانہ کام ہے اور کچھ نہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
13 minutes ago, ghulamahmed17 said:

 

 

10f.thumb.png.a61329df9d8caff1872de5470d2cf5a5.png7f.thumb.png.64b7333df556512f21c7ecd0f460ac22.png

8f.thumb.png.f4dc181050302651d257d5ee576fe1c7.png

جنابِ محترم رضا عسقلانی صاحب اس پہلے 

پہلے تو یہ حوالہ وہابی سلفی کا ہے جو ہمارے لئے حجت نہیں اور دوسری بات یہ ہے اس میں وہی پرانی روایات ہیں جن کا ہم کئی بار رد کر چکے ہیں۔

ارے بھائی کتب بدل بدل کر وہی پرانی روایات کیوں پیش کر رہے ہو جن کا ہم کئی بار رد کر آئے ہیں؟؟

اگر پیش کرنی ہے تو کوئی نئی روایت پیش کرو ورنہ لاجواب ہونا تو ثابت ہو چکا ہے جناب پر۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
28 minutes ago, ghulamahmed17 said:

 

جنابِ محترم رضا عسقلانی صاحب اس پہلے 

دارقطنی

عبدالرحمٰن السمی

امام نور الدين طالب الحنفی

امام ذہبیؒ  ابوالغادیہ کو قاتل قرار دے چکے ہیں ، اب

ابنِ کثیر اور امام ابنِ عبدالبر نے بھی ابوالغادیہ کو قاتل قرار دیا ہے ۔ جو آپ پڑھ سکتے  ہیں ۔

 

نوٹ : جناب رضا عسقلانی صاحب اختتام ہو گا تو ہرگز        ہرگز کسی کسی ایسے کتاب یا محدث و محقق سے ابوالغادیہ کو قاتل ثابت نہیں کروں گا  جس پر آپ اعتراض 

کر سکیں ۔ جب بات کا اختتام ہو گا تو آپ کو یہ گلہ اور اعتراض ہرگز نہیں ہو گا کہ حوالہ ،محدث و محقق یا کتاب آپ کی پسند کی نہیں ہے ۔ ان شاءاللہ 

ارے جناب امام دارقطنی کے قول کا جواب ہو چکا آپ نے اس  جواب نہیں دیا؟

امام ذہبی کے قول کا  جواب دیا گیا  جناب نے اس کا  بھی جواب نہیں دیا؟؟

ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔

علامہ سلمی نے اپنی بات نہیں کی بلکہ امام دارقطنی کا قول ہی ان سے روایت کیا ہے اس لئے ان کو الگ شمار کرنا درست نہیں۔

نورالدین طالب نے ذاتی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے صرف حاشیہ سندھی  تحقیق کر کے چھپوائی ہے۔ 

اس لئے خدا را تحقیق سے کام لیں ہمیں بتائیں شریعت میں قاتل ثابت کرنے کے لئے کتنے گواہ رکھے ہیں کیا آپ کے پاس صحیح سند سے عینی گواہ کی گواہی موجود ہے تو پیش کریں ورنہ ایسی بے دلیل اقوال کو شریعت خود تسلیم نہیں کرتی میاں۔

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

سرکار ﷺ زنا کرنے کی کتنی تحقیق فرماتے تھے اس حدیث سے دیکھ لو اور یہ جناب ہیں کہ بے دلیل قول لئے پھر رہے ہیں قاتل ثابت کرنے کے لئے۔

عن أبي ھریرة أنه قال أتی رجل من المسلمین رسول اﷲ ﷺ وھو في المسجد فناداہ فقال یا رسول اﷲ! إني زنیت فأعرض عنه فتنحّٰی تلقاء وجھه۔ فقال له یارسول اﷲ! إني زنیتُ فأعرض عنه حتی ثنی ذلك علیه أربع مرات۔فلما شھد علی نفسه أربع شهادات دعاہ رسول اﷲ ﷺ فقال: (أبك جنون؟) قال: لا۔قال: (فھل أحصنت؟) قال: نعم۔ فقال رسول اﷲ ﷺ :(اذھبوا به فارجموہ) 
''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس شخص نے آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ ! میں زنا کا مرتکب ہوا ہوں ۔'' حضورؐ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اس نے دوبارہ کہا: ''اے اللہ کے رسول ﷺ! میں زنا کا مرتکب ہوا ہوں ۔'' آپﷺ  اس پر بھی متوجہ نہ ہوئے۔ اس نے چار دفعہ اپنی بات دہرائی، پھر جب اس نے چار مرتبہ قسم کھا کر اپنے جرم کا اقرار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر پوچھا: ''تو پاگل تو نہیں ؟ بولا: 'نہیں !' پھر آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ وہ بولا: 'جی ہاں ' (میں شادی شدہ ہوں ) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لے جاکر سنگسار کردو۔''

(صحیح مسلم رقم 1691)

 عن جابر بن عبد اﷲ قال: جاء ت الیهود برجُلٍ وامرأة منهم زنیا، قال:(ائتوني بأعلم رجلین منکم) فأتوہ بابنَي صُورِیا، فنشدهما (کیف تجدان أمر هذین في التوراة؟) قالا: نجد في التوراة إذا شهد أربعة،أنہهم رَأوا ذکرہ في فرجها مثل المِیل في المکْحُلَة رُجِمَا، قال:(فما یمنعکما أن ترجموها؟) قالا: ذهب سلطانُنا، فکرهنا القتل،فدعا رسولُ اﷲ ﷺ بالشهود فجاء وا بأربعة فشهدوا أنهم رأوا ذکرہ في فرجها مثل المیل في المکحلة، فأمر النبي ﷺ برجمها۔ 
'' حضرت جابر بن عبد اللہ  سے روایت ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت کوجنہوں نے زنا کیا تھا، یہودی لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لوگوں میں سے دو زیادہ جاننے والے میرے پاس لاؤ۔وہ صوریا کے دونوں بیٹوں کو لے آئے۔ آپﷺ  نے ان دونوں کو قسم دے کر پوچھا کہ تورات میں ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہم تورات میں یہ حکم پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیں کہ اُنہوں نے مرد اور عورت کے زنا کو اس طرح دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کیے جائیں گے۔آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم لوگ ان دونوں کو رجم کیوں نہیں کرتے؟وہ بولے : ہماری حکومت نہیں رہی، اس لیے ہمیں کسی کو قتل کرنا برا معلوم ہوتا ہے۔پھر نبی ﷺ نے چار گواہ طلب کیے تو وہ چار (عینی) گواہ لے آئے جنہوں نے مرد اور عورت کو اس طرح زنا کرتے دیکھا جیسے سلائی سرمہ دانی میں ہوتی ہے ،پھر آپ کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔''

(سنن ابی داود رقم 4452)

خود دیکھ لو شریعت میں زنا ثابت کرنے کے لئے کتنے سخت شرائط رکھی ہیں تو بتاو قاتل ثابت کرنے کے لئے کتنی زیادہ سخت شرائط ہوں گی؟؟

اس لئے ان احادیث رسولﷺ کے سامنے رکھ کر کہو کیا ان احادیث  کی شرائط پر تمہاری پیش کردہ باتیں پہنچ رہی ہیں؟؟

خود اپنے ایمان سے جواب دو ضدی کو چھوڑ دو اب۔

اس لئے کسی کو قاتل کہنا تو آسان ہے لیکن اسے شریعت کے اصولوں سے ثابت کرنا بڑا مشکل ہے کیونکہ شریعت دلائل کی تحقیق کرتی ہے پھر جا کر فیصلہ کرتی ہے اور بنا دلیل کے تو شریعت بات  بات تسلیم نہیں کرتی ایسے سنگین معاملات میں۔

باقی آپ بنا کسی دلیل کے قاتل کہتے رہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اللہ کو تم خود جواب دو گے کہ تم نے کس دلیل کے بنا کہا پھر وہ دلیل کو ثابت کرنا پڑے گی وہاں تمہارے یہ پوسٹرز چیکانے سے کام نہیں ہو گا۔

 

اس لئے ابھی بھی وقت ہے اللہ عزوجل سے توبہ کر کے اپنی آخرت کو سنبھال لو اور پھر تا وفات ان کاموں میں نہ پڑوں جن کا حساب تم سے ہونا ہی نہیں ہے۔

اللہ عزوجل ہم کو ہر وقت توبہ کرنے والوں میں شمار فرمائے۔

آمین

والسلام

 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

ے جناب امام دارقطنی کے قول کا جواب ہو چکا آپ نے اس  جواب نہیں دیا؟

امام ذہبی کے قول کا  جواب دیا گیا  جناب نے اس کا  بھی جواب نہیں دیا؟؟

ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔

علامہ سلمی نے اپنی بات نہیں کی بلکہ امام دارقطنی کا قول ہی ان سے روایت کیا ہے اس لئے ان کو الگ شمار کرنا درست نہیں۔

نورالدین طالب نے ذاتی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے صرف حاشیہ سندھی  تحقیق کر کے چھپوائی ہے۔ 

اس لئے خدا را تحقیق سے کام لیں ہمیں بتائیں شریعت میں قاتل ثابت کرنے کے لئے کتنے گواہ رکھے ہیں کیا آپ کے پاس صحیح سند سے عینی گواہ کی گواہی موجود ہے تو پیش کریں ورنہ ایسی بے دلیل اقوال کو شریعت خود تسلیم نہیں کرتی میاں۔                  

 

محترم رضا عسقلانی صاحب آپ کوئی محقق تو نہیں ہیں  اور نہ ہی کوئی آپ  محدث ہیں کہ میں فقط آپ کی لکھی ہوئی بات کو

اور فضول و من گھڑت جرح کو مان لوں  ، کیا میں پاگل ہوں کہ   بغیر کسی محقق اور محدث  کی کتاب دیکھے  آپ کی  اس کاپی پیسٹ کو مان لوں جو کہ مختلف ناصبی

فورمز سے اٹھا کر یہاں پیسٹ کی جا رہی ہے ۔

امام دارقطنی  کی بات پوچھنا ہے تو امام ذہبی سے ہی پوچھ لیتے کہ آپ نے تو قاتل لکھا ہی تھا امام دار قطنی کا حوالہ کیوں 

اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ امام دار قطنی فرماتے ہیں کہ ابوالغادیہ قاتل ہے ۔ پھر میں نے امام دار قطنی کی  تین کتابیں لگائی ہیں کیا ان سے آپ کی تسلی نہیں ہوئی 

پھر عبدالرحمن السلمی جو کہ ان کے شاگرد ہیں ان کی کتاب جناب کے سامنے پڑی ہے ۔

راوی کا نام بھی موجود ہے روایات کا حوالہ بھی کتب میں درج ہے اور سب  سے اہم بات کہ

میں آتھ کتابوں سے ابوالغادیہ کو قاتل ثابت کر چکا ہوں ، ان شاءاللہ میں چند دنوں کے بعد اس مکمل پوسٹ کو مکمل

حوالہ جات کے ساتھ اور آپ کی بحث کے ساتھ لگاؤں گا اگر یہاں تسلی نہ ہوئی تو وہاں ہمراہ نہ تمام ساتھیوں کے وہاں تشریف لے آنا وہاں مزید تسلی

ہو جائے گی ان شاء اللہ ۔

پھر ابھی تو بات ہو رہی ہے حوالہ جات اور کتابیں آئیں گی اختتام پر میں پوچھو گا کہ آپ آخری حوالہ کی کتاب کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ  پسند ہے کہ نہیں 

اس میں آپ کی پوری تحقیق لپیٹ دی جائے گی ان شاء اللہ 

آپ ہرگز فکر مند نہ ہوں ، ابھی تک آپ ایک بھی کتاب پیش کرنے میں ناکام ہیں ۔  نری باتوں سے کام نہ لیں مجھے کم از کم وہ کتابیں دیکھائیں جنہوں نے  مسند احمد

کی روایات کو ضیف ، موضوع یا باطل لکھا ہے ۔ میں بڑی شدت سے منتظر ہوں محترم ۔

شکریہ

-----------------------------

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

قارئین اب فیصلہ کر لیں گے کہ کون حق پر ہے

غلام احمد منہاجی کے دئیے گئے حوالہ جات پر جب اعتراض کیا گیا تو بجائے اسکے کہ یہ ان اعتراضات کا جواب دیتا یا کسی سے لکھواتا ڈھٹائی سے اب یہ کہنے لگ گیا کہ تم کون ہو محدث ہو یا محقق۔۔۔😂😂

رافضی میاں تحقیق کی دنیا میں آپ کا یہ جواب آپ کے منہ پر مارا جاۓ گا،تم اپنی حیثیت بتا دو تمہاری کیا حیثیت ہے؟؟اپنے دئیے گئے ہر حوالہ میں تم پھنسے ہو۔۔اب جب تک ہمارے دئیے گئے اعتراضات کے جواب نہیں دو گے آپ کو آگے نہیں چلنے دیا جاۓ گا 

مجھے تو بہت زیادہ ہنسی آتی ہے جب تم کہتے ہو اب جو کتاب آۓ گی اسمیں ایسا ہو گا اس میں ویسا ہو گا لیکن جب پوسٹ آتی ہے تو حیرانی ہوتی ہے کہ پھر وہی غیر مقلد اٹھا لایا 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

 

رے جناب امام دارقطنی کے قول کا جواب ہو چکا آپ نے اس  جواب نہیں دیا؟

امام ذہبی کے قول کا  جواب دیا گیا  جناب نے اس کا  بھی جواب نہیں دیا؟؟

علامہ سلمی نے اپنی بات نہیں کی بلکہ امام دارقطنی کا قول ہی ان سے روایت کیا ہے اس لئے ان کو الگ شمار کرنا درست نہیں۔

نورالدین طالب نے ذاتی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے صرف حاشیہ سندھی  تحقیق کر کے چھپوائی ہے۔

 

 

جناب رضا عسقلانی صاحب :

بہت افسوس کی بات ہے کہ آپ اپنے فورم پر اور اپنے لوگوں کے ایڈمن ہونے کا انتہائی ناجائز فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔

اب تو   جن صاحب کا بہت پیارا نام محمد علی ہے  جیسے لوگ بھی تشریف لا  کر  بد اخلاقی اور فضول کمنٹس لکھ رہے ہیں جو فرماتے ہیں کہ ہر باغی کافر

ہوتا ہے اور جب جواب دیا جاتا ہے تو ایڈمن قادری سلطانی صاحب سے پورا ٹاپک ہی غائب کروا دیتے ہیں ۔ اب جب اس قدر جاہل لوگ

پوسٹ پر فضول پوسٹ لگا نے لگیں تو سمجھتا ہوں کہ ایڈمن کیا چاہتا ہے ۔

میں مختصراً لکھتا ہوں کہ آپ نے جو اوپر سوالات اٹھائیں ہیں اگر اُن کا آپ معقول جواب دیتے تو

میں بھی آپ کے جواب لکھتا مگر ایسا نہیں ہوا ۔ میں نے آپ سے بار بار پوچھا کہ

کہ آپ  میزان الاعتدال کی اس روایت پر موجود امام ذہبی کے قول کو کس طرح رد فرما رہے ہیں ۔  میں مکمل کتاب نہیں لگا رہا کہ 

کہیں  جناب قادری سلطانی صاحب کو میری پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی زحمت نہ کرنا پڑے ۔

امام ذہبی کا اس روایت پر قول یہ تھا ۔

 

Picture356.thumb.png.ea01bf43dbe6f4e109a2a26a160936c4.png

جناب رضا عسقلانی صاحب اس پر میں نے

آپ سے سوال عرض کیا تھا کہ  عسقلانی صاحب چلیں اس روایت کو

میں بھی مان لیتا ہوں کہ درست نہیں مگر آپ روایت کے ساتھ امام ذہبی کا قول کیسے رد

فرما سکتے ہیں جبکہ امام ذہبی  کا اپنا قول  کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ ہے اور اس کے ساتھ آپ نے

امام دارِ قطنی کا قول بھی درج کیا کہ قاتل ابوالغادیہ ہے ۔

تو جناب رضا صاحب آپ نے یہ جواب لکھا :

88.png.c49792ad3d4f680eb858ebc6e6d5fecc.png

تو جناب رضا صاحب آپ نے یہ جواب لکھا :اور اس پر میں نے 

نہ صرف امام دار قطنی کے اس قول کو ان کی اپنی تصانیف سے ثابت کیا بلکہ

ان کے شاگردِ خاص  ابو عبدالراحمن السلمی کی کتاب" سؤالات السلمي للدارقطني " سے

بھی ثابت کیا ۔ اور اس میں اس روی کا نام  كلثوم بن جبر أبو محمد البصري بھی

آپ جناب کی خدمت میں بحوالہ کتب پیش کیا  ، اب بھی آپ ان کتب کے حوالہ جات میں جاکر پڑھ

اور دیکھ سکتے ہیں ۔

پھرآپ جناب کی خدمت میں اس روی کی روایت کا صحیح اور حسن ہونا   محققین و محدثین کی تصدیقاتت

سے آپ کے سامنے رکھا ۔ اب ان تمام محدثین و محققین نے ان روایات کو  " حدیث صحیح " اور " اسناد حسن " کیوں

لکھا اس کی وجہ بھی آپ جناب کی خدمت میں  كلثوم بن جبر أبو محمد البصري کی تصدیق

رکھتا ہوں  ، میرے پاس کافی کتب سے ان کی تصدیق موجود ہے مگر میں آپ کی خدمت میں

چند ایک ضروری  حوالہ جات رکھ دیتا ہوں ۔ 

پڑھیے ؛

 

0.thumb.png.6f6c797cdacb20b728cf48e0c77c2f85.png

 

 

66.thumb.png.c1f2651dee82a64eb85da6d411177021.png

جناب رضا عسقلانی صاحب  " مسند احمد بن حنبل" کو کیوں ہر محقق اور محدث " حدیث صحیح اور اسناد حسن "

لکھتا گیا اس کی وجہ کیا تھی اس کتاب کو بغور پڑھیں ۔

پڑھیے ؛ الكتاب : الجرح والتعديل
مصدر الكتاب : موقع يعسوب
[ ترقيم الكتاب موافق للمطبوع ]

 

926 - كلثوم بن جبر أبو محمد البصري والد ربيعة بن كلثوم روى عن ابى غادية مسلم بن يسار وسعيد بن جبير روى عنه عبد الله بن عون وحماد بن سلمة وعبد الوارث ومرثد بن عامر وابنه ربيعة بن كلثوم سمعت ابى يقول ذلك، نا عبد الرحمن انا عبد الله بن احمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سمعت ابى يقول كلثوم بن جبر ثقة، نا عبد الرحمن قال ذكره ابى عن اسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال كلثوم بن جبر ثقة.
 

55.thumb.png.9c492f429b6c89bc565015979dd6626f.png

یہی پر میں مذید حوالہ پیش کرتا ہوں :
 بغية الرائد فى تحقيق مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
 المؤلف: علي بن أبي بكر الهيثمي نور الدين
 المحقق: عبد الله الدرويش
الناشر: دار الفكر

056.thumb.png.2dfd030e882781ec09db87514ef259d2.png

 

057.thumb.png.0e78286d33741a5ab7e3903c046e94e5.png

رضا عسقلانی صاحب اب اس روایت  جس کے پیش نظر آپ  امام ذہبی کا قول کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمار

ہے آپ نہیں مان رہے اسی روایت کے تحت ابوالغادیہ کا قاتل ہونا  بھی پڑھ لیں اور

اور باالخصوس اس جملہ کو کبھی نہ بھولنا کہ :

قول:(( قتلہ ))۔ والمراد ابوالغادیہ جسنے عمارؓ کو قتل کیا۔  

 

01PP.thumb.png.5aa0b22e6b659ac7713a82b05c22096e.png

88.thumb.png.a74b39ca48fa8a04909923b116e4f7c7.png

 

02PP.thumb.png.c0b2c5254727dc81da6470e330884d05.png03PP.thumb.png.ed2285452713b3982609b9245da302ec.png

 

Quote

ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔

Picture1.png.5d15965dc6ee682d3069005a9685447b.png

0001.thumb.png.ba35eafac54983938cc88f584308f214.png

Quote

ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔

ابن کثیر کی پہلی کتاب  کا ثبوت

22.thumb.png.379be6aff7862a41299f1b6177c94be3.png

ابن کثیر کی کتاب کا دوسرا حوالہ:

23.thumb.png.3a42a99750ae61a5e77d966b34af5ac5.png

جناب رضا عسقلانی صاحب آپ کے سارے سوالات کے جوابات مکمل ہوئے ۔

شکریہ

--------------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

میں نے آپ سے بار بار پوچھا کہ

کہ آپ  میزان الاعتدال کی اس روایت پر موجود امام ذہبی کے قول کو کس طرح رد فرما رہے ہیں ۔  میں مکمل کتاب نہیں لگا رہا کہ 

کہیں  جناب قادری سلطانی صاحب کو میری پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی زحمت نہ کرنا پڑے ۔

امام ذہبی کا اس روایت پر قول یہ تھا ۔

 

Picture356.thumb.png.ea01bf43dbe6f4e109a2a26a160936c4.png

جناب رضا عسقلانی صاحب اس پر میں نے

آپ سے سوال عرض کیا تھا کہ  عسقلانی صاحب چلیں اس روایت کو

میں بھی مان لیتا ہوں کہ درست نہیں مگر آپ روایت کے ساتھ امام ذہبی کا قول کیسے رد

فرما سکتے ہیں

ارے جناب امام ذہبی کا آخری موقف و رجوع ان کی آخری کتاب  سیر اعلام النبلاء سے کئی بار دیکھا چکا ہوں جناب نے اس بات کا جواب دینا تو دور پھر وہی میزان الاعتدال کے پوسٹر کو بار بار چپکا رہے ہیں ارے جناب میزان الاعتدال امام ذہبی کی آخری کتاب نہیں ہے بلکہ سیر اعلام النبلاء ہی آخری کتاب ہے اس لئے سیر اعلام النبلاء نے امام ذہبی نے سند کو منقطع قرار دیا پھر اس کے بعد اپنی پرانی عبارت بھی نہیں لکھی جس سے واضح ہوتا ہے انہوں نے رجوع کر لیا تھا ورنہ آخری کتاب میں اپنی میزان الاعتدال والی بات لکھتے  لیکن انہوں نے نہیں لکھی۔

باقی سیر اعلام النبلاء کی عبارت اور صفحہ پیچھے دے چکا ہوں اس لئے اس کا جواب ابھی تک آپ نے نہیں دیا اس لئے اس کا جواب دیں پہلے۔

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

آپ سے سوال عرض کیا تھا کہ  عسقلانی صاحب چلیں اس روایت کو

میں بھی مان لیتا ہوں کہ درست نہیں مگر آپ روایت کے ساتھ امام ذہبی کا قول کیسے رد

فرما سکتے ہیں جبکہ امام ذہبی  کا اپنا قول  کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ ہے اور اس کے ساتھ آپ نے

امام دارِ قطنی کا قول بھی درج کیا کہ قاتل ابوالغادیہ ہے ۔

تو جناب رضا صاحب آپ نے یہ جواب لکھا :

88.png.c49792ad3d4f680eb858ebc6e6d5fecc.png

تو جناب رضا صاحب آپ نے یہ جواب لکھا :اور اس پر میں نے 

نہ صرف امام دار قطنی کے اس قول کو ان کی اپنی تصانیف سے ثابت کیا بلکہ

ان کے شاگردِ خاص  ابو عبدالراحمن السلمی کی کتاب" سؤالات السلمي للدارقطني " سے

بھی ثابت کیا ۔

امام ذہبی  کے قول کا رد خود انہی کی کتاب سیر اعلام النبلاء سے دیکھا چکے ہیں اس لیے اس پر بات کرنے کا فائدہ نہیں میاں۔

باقی آپ نے جناب کو امام دارقطنی کا قول کا جواب دے دیا پھر اسے پوسٹ کر دیا کیونکہ امام دارقطنی نے اپنے قول کی  دلیل کی کوئی متصل  سند بیان نہیں کیونکہ امام دارقطنی جنگ صفین میں عینی گواہ موجود نہیں اس لیے اس بات کے جناب کے امام شعبہ قول کا پیش کرتے ہیں:

امام شعبہ فرماتے ہیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی روایت  جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

خود امام ابن مبارک فرماتے ہیں :

مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یرتقی السطح بلاسلم
اس شخص کی مثال جو اپنے دینی معاملہ کو بغیر سند کے طلب کرتا ہے اس شخص کی طرح ہےجو بغیر سیڑھی کےچھت پر چڑھنا چاہتاہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص12)

خود دیکھ لو بے دلیل اور بے سند اقوال کی کیا اہمیت ہوتی ہے محدثین کے نزدیک امید ہے اب پھر ایسے اقوال پیش نہیں کرو گے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

اس روی کا نام  كلثوم بن جبر أبو محمد البصري بھی

آپ جناب کی خدمت میں بحوالہ کتب پیش کیا  ، اب بھی آپ ان کتب کے حوالہ جات میں جاکر پڑھ

اور دیکھ سکتے ہیں ۔

پھرآپ جناب کی خدمت میں اس روی کی روایت کا صحیح اور حسن ہونا   محققین و محدثین کی تصدیقاتت

سے آپ کے سامنے رکھا ۔ اب ان تمام محدثین و محققین نے ان روایات کو  " حدیث صحیح " اور " اسناد حسن " کیوں

لکھا اس کی وجہ بھی آپ جناب کی خدمت میں  كلثوم بن جبر أبو محمد البصري کی تصدیق

رکھتا ہوں  ، میرے پاس کافی کتب سے ان کی تصدیق موجود ہے مگر میں آپ کی خدمت میں

چند ایک ضروری  حوالہ جات رکھ دیتا ہوں ۔ 

پڑھیے ؛

 

0.thumb.png.6f6c797cdacb20b728cf48e0c77c2f85.png

 

 

66.thumb.png.c1f2651dee82a64eb85da6d411177021.png

ارے جناب ہم نے کہیں بھی کلثوم بن جبر کو ضعیف کہا ہی نہیں تو یہ حوالے دینے کا فائدہ؟؟

اگر کہیں کلثوم بن جبر کو ضعیف کہا تو اس کا ثبوت پیش کرو؟؟

ہم نے صرف یہ کہا ہے کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمرو بن العاص سے ثابت نہی ہے جسے جناب نے ابھی تک ثابت نہیں کیا  اور مفت میں کلثوم بن جبر کی توثیق کے حوالے دے ڈالے جن کا کوئی تعلق بھی نہیں تھا اس بات سے۔

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

926 - كلثوم بن جبر أبو محمد البصري والد ربيعة بن كلثوم روى عن ابى غادية مسلم بن يسار وسعيد بن جبير روى عنه عبد الله بن عون وحماد بن سلمة وعبد الوارث ومرثد بن عامر وابنه ربيعة بن كلثوم سمعت ابى يقول ذلك، نا عبد الرحمن انا عبد الله بن احمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سمعت ابى يقول كلثوم بن جبر ثقة، نا عبد الرحمن قال ذكره ابى عن اسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال كلثوم بن جبر ثقة.
 

55.thumb.png.9c492f429b6c89bc565015979dd6626f.png

یہی پر میں مذید حوالہ پیش کرتا ہوں :
 بغية الرائد فى تحقيق مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
 المؤلف: علي بن أبي بكر الهيثمي نور الدين
 المحقق: عبد الله الدرويش
الناشر: دار الفكر

 

ہم نے جناب سے کلثوم بن جبر کی توثیق نہیں مانگی تھی بلکہ حضرت عمرو بن العاص سے سماع کی تحقیق پوچھی تھی جس کا جناب نے جواب نہیں دیا اور مزے کی بات جناب نے اوپر الجرح والتعدیل کی عبارت پیش کی ہے اس میں بھی کلثوم بن جبر کے شیوخ میں حضرت عمرو بن العاص کا نام نہیں ہے اور وہ عبارت یہ ہے:

926 - كلثوم بن جبر أبو محمد البصري والد ربيعة بن كلثوم روى عن ابى غادية مسلم بن يسار وسعيد بن جبير روى عنه عبد الله بن عون وحماد بن سلمة وعبد الوارث ومرثد بن عامر وابنه ربيعة بن كلثوم سمعت ابى يقول ذلك، نا عبد الرحمن انا عبد الله بن احمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سمعت ابى يقول كلثوم بن جبر ثقة، نا عبد الرحمن قال ذكره ابى عن اسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال كلثوم بن جبر ثقة.

 

اس لئے تو کہتا ہوں جناب تحقیق سے کام نہیں لیتے بس جو ہمارا اعتراض ہوتا ہے اس کا جواب نہیں دیتے اوروں کو لے آتے اصل بات کی طرف آتے نہیں ہیں۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

یہی پر میں مذید حوالہ پیش کرتا ہوں :
 بغية الرائد فى تحقيق مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
 المؤلف: علي بن أبي بكر الهيثمي نور الدين
 المحقق: عبد الله الدرويش
الناشر: دار الفكر

056.thumb.png.2dfd030e882781ec09db87514ef259d2.png

 

پہلی بات یہ ہے یہاں امام ہیثمی نے سند کی تصحیح نہیں کی بس یہ کہا ہے اس کے رجال الصحیح  (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کے ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر یہ مجہول راوی ہے اور یہاں امام ہیثمی نے امام ابن حبان کی وجہ سے ایسا کہا ہے کیونکہ امام ہیثمی کا منہج بھی امام ابن حبان والا ہے کیونکہ امام ابن حبان اس راوی کو ثقات میں درج کیا ہے لیکن امام حبان جمہور محدثین کے نزدیک مجہولین راویوں کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں اس لئے ان کا کسی راوی کی توثیق میں منفرد ہونا قبول نہیں لہذا یہ سند ضعیف ہے اصولی طور پر کیونکہ اس  میں ایک مجہول راوی ہے۔ اس روایت  کا جواب پہلے دے دیا گیا تھا اب پھر اسے پوسٹ کر دیا گیا بس کتاب بدل دی گی ورنہ روایت اور سند وہی ہے۔

5dc96f8255163_.thumb.jpg.e7bdea288b51032b5b0c997031b0992c.jpg

 

 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

057.thumb.png.0e78286d33741a5ab7e3903c046e94e5.png

رضا عسقلانی صاحب اب اس روایت  جس کے پیش نظر آپ  امام ذہبی کا قول کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمار

اس روایت کے رواۃ ثقات ہیں لیکن سند منقطع ہے کیونکہ اس سند میں کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمروبن العاص سے ثابت نہیں ہے اس امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں منقطع قرار دیا ہے۔ جس کی عبارت اور صفحہ اوپر دے چکا ہوں۔

یہ بھی وہی پرانی روایت  ہے جس کا پہلے کئی بار جواب دے چکا ہوں  اسے بس کتاب بدل بدل کر پوسٹ کیا جارہا ہے اور کچھ نہیں ہے بس

5dc972183562d_.thumb.jpg.6186cac12612325a4fe5512936d70402.jpg

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

 

02PP.thumb.png.c0b2c5254727dc81da6470e330884d05.png

میاں یہ حاشیہ وہابیوں کا ہے جسے نشان لگایا ہوا ہے یہ امام ابن ابی حاتم کا  نہیں ہے اور جو حاشیہ میں وہابی نے جتنی روایات لکھی ہوئی ہیں ان کا جواب ہم پہلے جناب کو دے چکے ہیں جس کا جواب ابھی تک جناب نے نہیں دیا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے وہی پرانی روایات ہیں جس کا پہلے جواب ہو چکا ہے بس تم کتابیں بدل بدل کے وہی پرانی بات دوہرا  رہے ہو اور کچھ بھی اس میں نیا نہیں ہے۔

 

 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

02PP.thumb.png.c0b2c5254727dc81da6470e330884d05.png03PP.thumb.png.ed2285452713b3982609b9245da302ec.png

 

مجھے تو بہت ہنسی آ رہی ہے جناب کی علمی قابلیت پر ارے جناب کیا سوچ کر یہ صفحات پوسٹ کیے ہیں کبھی احادیث کے علل کا پتہ بھی کیا ہوتے ہیں؟؟

ارے میاں امام ابوحاتم اس میں یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کی سند کو صرف حسن بن دینار نے روایت کیا ہے یہ  اور میں کوئی تصحیح نہیں کی اور حسن بن دینار متروک  اور متہم بالکذب راوی ہے اس بات کا حوالہ پیچھے دے چکا ہوں۔

یہ کتاب جناب کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں بلکہ الٹا نقصان ہے ۔ باقی اس کا حاشیہ وہابی کا ہے اس میں موجود روایات کا پہلے جواب دے چکا ہوں۔

 

 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

Picture1.png.5d15965dc6ee682d3069005a9685447b.png

0001.thumb.png.ba35eafac54983938cc88f584308f214.png

Quote

ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔

 

ہم نے جناب سے امام عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل مانگی تھی جناب نے دلیل نہیں  اور ان کا بے دلیل قول پوسٹ کر دیا۔

(اول) اس کا اصولی جواب یہ ہے کہ امام عبدالبر اندلسی 37 ہجری میں جنگ صفین میں نہیں تھے اس لئے وہ عینی گواہ نہیں ہیں۔

(دوم) اسے بے دلیل و بے سند قول کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی روایت  جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

(سوم) امام ابن عبدالبر اندلسی کا قول تمام صحابہ کرام کے لئے یہ ہے:

"أجمع أھل الحق من المسلمین  و ھم اھل سنۃ والجماعۃ علی أن الصحابة كلهم عدول "

مسلمانوں میں سے تمام اہل حق جو اہل سنت و جماعت ہیں    کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں

(الاستیعاب لابن عبدالبر  بھامش الاصابۃ ج 1 ص 38)

اس لئے خود اسی امام کے قول سے جناب کو جواب مل گیا ہے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/10/2019 at 1:05 PM, ghulamahmed17 said:

ابن کثیر کی پہلی کتاب  کا ثبوت

22.thumb.png.379be6aff7862a41299f1b6177c94be3.png

ابن کثیر کی کتاب کا دوسرا حوالہ:

23.thumb.png.3a42a99750ae61a5e77d966b34af5ac5.png

جناب رضا عسقلانی صاحب آپ کے سارے سوالات کے جوابات مکمل ہوئے ۔

شکریہ

(اول) ابن کثیر 700 ہجری میں پیدا ہوا اور جنگ صفین 37 ہجری میں ہوئی یا 663 سال کا فاصلہ ہے  اور اس قول کی کوئی سند یا دلیل بھی پیش نہیں کی گی۔

(دوم) ایسی بے دلیل باتوں اور بے سند باتوں کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی روایت  جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

(سوم) ابن کثیر کا خود عمل اس بات کے خلاف ہے  ابن کثیر لکھتا ہے:

والصحابة كلهم عدول عند أهل السنة والجماعة

اہل سنت کے نزدیک سارے صحابہ کرام عادل ہیں

(اختصار علوم الحديث، ص:220-222)

(الباحث الحثیث:18) 

لہذا خود اسی امام کا رد ہو گیا ہے جس سے حوالہ دیا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ارے جناب اس میں کیا نئی بات تھی وہی پرانی روایات تھیں جن کا پہلے جواب دے دیا اب کی بار صرف کتابیں بدل رہے ہو جب کہ روایات تو ہی ہیں پھر فائدہ ایسے حوالے دینے کا؟؟

جن کے اقوال پیش کیے ہیں ان کا رد بھی ائمہ حدیث سے اور خود انہی ائمہ سے کیا ہے پھر ایسے اقوال پیش کرنے کا فائدہ؟؟

ارے میاں  آپ نے کوئی صحیح روایت پیش کرنی تھی جو ابھی تک ناکام ہو پیش کرنے میں۔ 

اور اس کے علاوہ جس بات کا ہم رد کرتے ہیں ان کا  ایک بھی جواب  نہیں دیا ابھی تک  !!!

اس لیے جناب کے پاس کوئی دلائل  ہوتے نہیں بس وہی پرانی  روایات پیش کرتے رہتے ہو کتابیں بدل بدل کے جن کا ہم تحقیقی اور اصولی کئی بار جواب دے چکے ہیں ۔

اس لئے اگر پھر وہی پرانی روایات پھر پوسٹ کیں تو میں جواب دینے کا ذمہ دار نہیں ہوگا کیونکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں ایک ہی روایت کا بار بار جواب دیتا رہوں۔

ایڈمنز اور موڈریٹرز  حضرات اس بات کا نوٹس لیں ایک ہی روایت پیش کی جارہی ہے کتابیں بدل بدل کر جن کا ہم کئی بار جواب دے چکے ہیں۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جی عسقلانی بھائی ماشاءاللہ خوب جواب دیا آپ نے

جناب غلام احمد صاحب 

میں نے آپ کی کوئی پوسٹ بلاوجہ ڈیلیٹ نہیں کی آپ کو ہر بار بتا کر تنبیہہ کر کے آپ کی پوسٹ ڈیلیٹ کی گئی

مجھے تو آپ کا جواب پڑھ کے بہت حیرانی ہوئی کہ کلثوم بن جبر کی توثیق تو آپ سے کسی نے مانگی ہی نہیں تو آپ نے بلاوجہ اتنے سکینز لگا دئیے

کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ کسی محدث کا یہ کہہ دینا کہ فلاں حدیث صحیح ہے کا ہر گز یہ معنی نہیں کہ سارے کے سارے رواۃ بھی ثقہ ہیں لیکن آپ اصل میں مہرہ ہیں اس لیے ان باتوں پر دھیان کہاں دیتے ہیں

جناب بار بار ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ آپ کا اپنا گھر ہے جو مرضی کر سکتے ہیں لیکن سننے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جناب بھی ایسا ہی کرتے ہیں اور جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ کسی سے چھپی ڈھکی نہیں

اسلیے آپ الحمدللہ اب لاجواب ہو چکے ہیں اسلیے ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

رضا عسقلانی صاحب میں نے آپ لوگوں کو بہت موقع و وقت دیا کہ شاید آپ دوستوں کو خوف خدا اور قبر کی شام یاد آ ہی جائے مگر آپ نے کسی بات پر دھیان نہیں دیا

آپ کے خیال میں امام دار قطنی ، امام سلمی ، امام ذہبی ، امام ابن عبدالبر اور ابن کثیر جسے سب آئمہ و محدثین پاگل ہیں ، پھر  شعیب الارناوط اور احمدمحمد شاکر جیسے محققین پاگل

اور کم عقل  ہیں ۔ مجھے سب سے زیادہ تعجب اس وقت ہوا جب آپ نے امام اھل سنت اور محدث کبیر الھیثمی کی تحقیق و حکم کو بھی لکھا کہ انہوں نے تسامح کھایا ہے ۔

میں آغاز میں ہی آپ کو جواب لکھ دیتا مگر میں آپ کے  فنِ اسم الرجال کے علمی پہلو کو دیکھنا چاہتا ہے تھا کہ گہرائی کہاں تک ہے ؟  اور قادری سلطانی صاحب کے نعروں

کی گونج کہاں تک سنائی دیتی ہے ۔  محترم رضا عسقلانی صاحب آپ نے جس بنیاد اور نقطہ پر ہر آئمہ اھل سنت اور ہر محدث و محقق  کے حکم کو رد کیا اور تسامح قرار دیا آج

میں آپ کی وہ بنیاد گرانے لگا ہوں اور وہ نقطہ مٹانے لگا ہوں ۔

اب یا تو    اپنےیہ جملے ثابت کرنا یا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اور ابوالغادیہ کو  حضرت عمارؓ کا قاتل تسلیم کر لینا ۔ اور جن روایات پر

محدثین و محققین کا " حدیثِ صحیح "      "اسناد حسن " کا حکم مودجود ہے ان کو درست تسلیم کرنا اور امام ھیثمی کو روایت پر موجود تسامح کا حکم واپس لینا ۔

تو جناب سب سے پہلے آپ نے لکھا کہ :

رضا عسقلانی صاحب آپ کا  پہلاجملہ:

" عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر  اک مجہول راوی ہے جو قصہ بیان کرتا ہے "

دوسرا جملہ :

"عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کی توثیق سوائے ابن حبان کے کسی نے نہیں کی "

5dcb5a5b79744_download(5).png.47fa2c9ade89fba6d49f9a5288c7cea6.png

Picture2p.thumb.png.60df7d3979c1105cd400a7735123bd3a.png

 

ابن حبان نےعبدِ الأعلَى بنِ عبدِ اللهِ بنِ عامرِ بنِ كريزٍ  کو    اپنی ثقات میں لکھ کر جہاں  اس کے ثقہ ہونے کی 

تصدیق کی ہے  اور امام اھل سنت  اور محدث کبیر الھیثمی نے اس پر توثیق کی مہر لگائی ، شیعیب الارناوط ، احمد شاکر اور 

البانی جیسے محدثین و مھققین نے اس کی تصدیق کی کیا دیگر ایمہ اھل سنت اور محدثین نے بھی عبدِ الأعلَى بنِ عبدِ اللهِ بنِ عامرِ بنِ كريزٍ 

کے کسی وصف یا اوصاف کو بیان کیا ہے تو پڑھیے :

کتاب : موسوعة رجال الكتب التسعة

 عبد الغفار سليمان البنداري | سيد كسروي حسون

01uu.thumb.png.18ab1053e37096c78da4f38436422aaa.png

 

المرويات الموقوفة المسندة للخلفاء الراشدين الثلاثة الأول وبقية العشرة في التفسير جمع ودراسة

وتخريج من أول القرآن الكريم إلى نهاية سورة طه - الرسالة العلمية

 

00.thumb.png.01ad4e58e7049f7e9ef7bfe011e84ea3.png

 

كتاب المصاحف لابن أبي داود

 

000.thumb.png.14b6ec8fabe23cc951dc84bad3f8010a.png

 

تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال

محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي أبو عبد الله شمس الدين

 

0000.thumb.png.61d0cbf1faedd0eb4bdb30305c607b60.png

 

 تهذيب التهذيب

أحمد بن علي بن محمد بن حجر العسقلاني

 

222.thumb.png.2a6dd351270c30e7c1c17213100cd606.png

 

تقريب التهذيب

أحمد بن علي بن محمد بن حجر العسقلاني

 

00000.thumb.png.8496fcdc0c826ff3b807d4b09d8282a3.png

 

موسوعة الحديث

الأسم : عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر بن كريز بن ربيعة بن حبيب
الشهرة : عبد الأعلى بن عبد الله القرشي , الكنيه: أبو عبد الرحمن
النسب : البصري, القرشي, العبشمي

الرتبة : صدوق حسن الحديث
عاش في : البصرة

 

00000.thumb.png.fb6a1f13563ba0755ce20acb30be069b.png

 

رضا عسقلانی صاحب پھر آپ نے لکھا کہ :

5dcb7926c398e_download(5).thumb.png.6b46dc571c0b494e30f691a49a3f5f7f.png



تو پڑھیے جناب اعلیٰ

الكتاب: التاريخ الأوسط (مطبوع خطأ باسم التاريخ الصغير)
المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)

 

 

728 -

 حَدثنَا حرمي بن حَفْص ثَنَا مَرْثَدُ بْنُ عَامِرٍ سَمِعْتُ كُلْثُومَ بْنَ جَبْرٍ يَقُولُ


 كُنْتُ بِوَاسِطَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ 


فَجَاءَ آذِنٌ فَقَالَ قَاتِلُ عَمَّارٍ بِالْبَابِ


 فَإِذَا هُوَ طَوِيلٌ فَقَالَ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْفَعُ أَهْلِي وَأَرِدُ عَلَيْهِمُ الْغَنَمَ

فَذُكِرَ لَهُ عَمَّارٌ فَقَالَ كُنَّا نَعُدُّهُ حَنَّانًا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ

فَاسْتَقْبَلَنِي يَوْمَ صفّين فَقتلته ۔

729 - 


حَدثنِي مُحَمَّد ثَنَا بن أبي عدي عَن بن عَوْنٍ 


عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ


 كُنَّا بِوَاسِطَ عِنْدَ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامر فاستقى أَبُو غادية وقص الحَدِيث


00000.thumb.png.5aedec9d227d4330a0483049a9a57c38.png

----------------------
 

جناب رضا عسقلانی صاحب اگر امام بخاری بھی تسامح کھانے لگیں تو جناب

اک نظر کرم امام مسلم کی طرف کر لینا  ۔

امام مسلم لکھتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں :

 

000000.thumb.png.05a951074145ff21a4cd44dd572b73fa.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب عین ممکن ہے کہ  صحیحین کے اماموں نے تسامح کھایا ہو تو پھر جناب

مُلا علی قاری الحنفیؒ کی بارگاہ میں جا کر پوچھنا کہ امام آپ نے کیا کھایا ہے آپ تو پکے حنفی تھے  پھر 

ابوالغادیہ کو قاتل کیوں لکھ آئے ؟

010.thumb.png.ee67ce4b60dac00f4a2d52b034e63177.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب  ہو سکتا ہو مُلا علی قاری الحنفی آپ کو علامہ بدالدین عینی کے پاس

بھیج دیں تو آپ جیسے ہی آگے بڑھیں گے موٹے حروف میں لکھا ہوگا کہ

ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ تھا ۔

00004.thumb.png.eba59fc7075748f12e68104f77d408b6.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب یہاں تک تسلی ہو جائے تو بہت بہتر اگر نہ ہو تو باقی

امام ، محدثین اور محققین بعد میں آپ کے سامنے لاوں گا ۔

بہت بہت شکریہ

--------------------------------------

 

 

 

 



 

 

 

 

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
10 hours ago, ghulamahmed17 said:

رضا عسقلانی صاحب میں نے آپ لوگوں کو بہت موقع و وقت دیا کہ شاید آپ دوستوں کو خوف خدا اور قبر کی شام یاد آ ہی جائے مگر آپ نے کسی بات پر دھیان نہیں دیا

آپ کے خیال میں امام دار قطنی ، امام سلمی ، امام ذہبی ، امام ابن عبدالبر اور ابن کثیر جسے سب آئمہ و محدثین پاگل ہیں ، پھر  شعیب الارناوط اور احمدمحمد شاکر جیسے محققین پاگل

اور کم عقل  ہیں

ارے میاں ہمیں اللہ عزوجل کا خوف اور قبر کی شام کی وجہ سے تو بنا دلیل کے کسی پر قتل کا الزام نہیں لگا رہے جب گواہ اور ثبوت اور دلائل مضبوط نہ ہو تو ہم ایسے کسی کو قتل کا الزام لگا دیں تو اس کا جواب تو ہم سے اللہ لے گا نا  کیوں کہ ہم سے سوال کیا جائے گا کہ جب تمہارے پاس مضبوط دلائل نہیں تھے تو الزام کیوں لگایا؟؟؟

اس لئے بھئی ہم اپنی انا کی ضدی میں نہیں آتے بلکہ ہر خبر پر خود تحقیق کرتے ہیں پھر جا کر فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ بات درست ہے یا نہیں۔

باقی امام داقطنی کا جواب امام شعبہ اور امام ابن مبارک کے قول سے دے دیا تھا لیکن  جناب نے ہمت نہیں کی اس کے جواب دینے کی۔

باقی امام بن عبدالبر اور ابن کثیر کی کتب سے اسی بات کا جواب دے تھا کیونکہ ان کا خود کا موقف اپنی بات کے خلاف اس لئے میاں ائمہ حدیث کو پاگل نہ کہیں کیونکہ وہ بھی انسان تھے معصوم نہ تھے۔

اس لئے ان کا احترام لازم ہے لیکن ان کی ہر بات کی بھی تحقیق کی جائے گی پھر جاکر فیصلہ کیا جائے گا ۔

باقی شعیب الارنووط مقبل بن ہادی وغیرہ تمہیں مبارک ہوں ہمارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
10 hours ago, ghulamahmed17 said:

مجھے سب سے زیادہ تعجب اس وقت ہوا جب آپ نے امام اھل سنت اور محدث کبیر الھیثمی کی تحقیق و حکم کو بھی لکھا کہ انہوں نے تسامح کھایا ہے ۔

میں آغاز میں ہی آپ کو جواب لکھ دیتا مگر میں آپ کے  فنِ اسم الرجال کے علمی پہلو کو دیکھنا چاہتا ہے تھا کہ گہرائی کہاں تک ہے ؟ 

ارے میاں فن اسماء الرجال کی گہرائی ہم نے جناب کی دیکھ لی ہے  اس لئے بہتر ہے اس پر بات نہ کریں کیونکہ جناب کو پتہ نہیں چلتا ائمہ حدیث کے منہج کا۔

باقی امام ہیثمی   امام ابن حبان کے منہج پر چلتے ہیں اس لئے امام ابن حجر نے تو اپنے استاد امام ہیثمی کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اس لیے تو تقریب التہذیب میں ثقہ نہیں کہا بلکہ مقبول کہا ہے۔

اور مقبول وہ راوی ہوتا ہے جس کی روایات بنا متابعت کے ضعیف سمجھی جاتی ہیں ۔

باقی امام ہیثمی کے اس طرح کے تسامحات پر ایک کتاب لکھی گی اس میں دیکھ لینا انہوں کتنے ضعیف و متروک رواۃ کی سند کو صحیح و حسن قرار دیا ہے ۔

اس لئے جب دلائل نہیں ہوتے تو ہر بندہ اسی طرف بھاگتا ہے کہ کسی طرح ان کی یہ بات پوری ہو جائے لیکن تحقیق کے میدان میں بھاگنا مشکل ہوتا ہے اس لئے حوصلہ رکھیں ایسے تھوڑی بھاگنے دیں گے جناب کو۔

امام ہیثمی کے تسامحات پر یہ کتاب  پڑھ لو جناب کو افاقہ ہو جائے گا اور لکھنے والا بھی جناب کا سلفی پیارا ہے۔

القول الجلي في تحسينات الهيثمي

Share this post


Link to post
Share on other sites
11 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

ابن حبان نےعبدِ الأعلَى بنِ عبدِ اللهِ بنِ عامرِ بنِ كريزٍ  کو    اپنی ثقات میں لکھ کر جہاں  اس کے ثقہ ہونے کی 

تصدیق کی ہے  اور امام اھل سنت  اور محدث کبیر الھیثمی نے اس پر توثیق کی مہر لگائی ، شیعیب الارناوط ، احمد شاکر اور 

البانی جیسے محدثین و مھققین نے اس کی تصدیق کی کیا دیگر ایمہ اھل سنت اور محدثین نے بھی عبدِ الأعلَى بنِ عبدِ اللهِ بنِ عامرِ بنِ كريزٍ 

کے کسی وصف یا اوصاف کو بیان کیا ہے تو پڑھیے :

کتاب : موسوعة رجال الكتب التسعة

 عبد الغفار سليمان البنداري | سيد كسروي حسون

01uu.thumb.png.18ab1053e37096c78da4f38436422aaa.png

 

المرويات الموقوفة المسندة للخلفاء الراشدين الثلاثة الأول وبقية العشرة في التفسير جمع ودراسة

وتخريج من أول القرآن الكريم إلى نهاية سورة طه - الرسالة العلمية

 

00.thumb.png.01ad4e58e7049f7e9ef7bfe011e84ea3.png

 

كتاب المصاحف لابن أبي داود

 

000.thumb.png.14b6ec8fabe23cc951dc84bad3f8010a.png

 

جناب نے مفت میں پوسٹر لگا دیئے ہیں جناب کو امام ابن حجر عسقلانی کے منہج کا پتہ نہیں ۔

میاں تمہارے سارے پوسٹر مقبول لفظ پر ہیں تو اس لئے ایک ہی جواب دیتا ہوں خود امام عسقلانی  سے کہ جب وہ مقبول لفظ لکھتے ہیں تو ان کے نزدیک کیا بات ہو تی ہے اس لئے امام عسقلانی  تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:

السادسۃ : من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ " مقبول " حيث يتابع، وإلا فلين الحديث.

رواة کا چھٹا طبقہ وہ ہے جس میں راوی کی کم احادیث ہوں، اور اس پر ایسی جرح نہ ہو جس سے اس کی حدیث متروک ہو، ایسے راوی کی طرف "مقبول" کے لفظ سے اشارہ ہے جب کہ اس کا کوئی متابع ہو ورنہ وہ لین الحدیث ہے۔

(تقریب التہذیب )

اس لنک سے کتاب کی عبارت دیکھ لو

https://archive.org/details/FP22198/page/n80

 

اس لئے جناب کے پوسٹر ہی جناب کا رد کر رہے ہیں ایسا راوی بنا متابعت کے ضعیف ہوتا ہے۔

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
11 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال

محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي أبو عبد الله شمس الدين

 

0000.thumb.png.61d0cbf1faedd0eb4bdb30305c607b60.png

 

یہ توثیق کا کون سا درجہ ہے ذرا حوالہ تو دو ائمہ حدیث کی کتب سے ؟

ویسے اس کتاب میں کوئی توثیق کا لفظ موجود نہیں ہے۔

11 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

222.thumb.png.2a6dd351270c30e7c1c17213100cd606.png

 

امام ابن حبان مجہولین کی توثیق میں متساہل مشہور ہیں ائمہ حدیث کے نزدیک اس لئے جن راوی کی توثیق کے بارے میں وہ منفرد ہوں تو اس وقت ان کی توثیق حجت نہیں ہوتی یہ جناب کے علم میں بھی ہے پھر بھی حوالے دیئے جا رہے ہیں حیرت ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.