ghulamahmed17

کیا خلفہِ راشد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل جھوٹ ہیں؟

216 posts in this topic

12 hours ago, ghulamahmed17 said:

ب

أحمد بن علي بن محمد بن حجر العسقلاني

 

00000.thumb.png.8496fcdc0c826ff3b807d4b09d8282a3.png

جناب نے مفت میں پوسٹر لگا دیئے ہیں جناب کو امام ابن حجر عسقلانی کے منہج کا پتہ نہیں ۔

میاں تمہارے سارے پوسٹر مقبول لفظ پر ہیں تو اس لئے ایک ہی جواب دیتا ہوں خود امام عسقلانی  سے کہ جب وہ مقبول لفظ لکھتے ہیں تو ان کے نزدیک کیا بات ہو تی ہے اس لئے امام عسقلانی  تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
السادسۃ : من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ " مقبول " حيث يتابع، وإلا فلين الحديث.

رواة کا چھٹا طبقہ وہ ہے جس میں راوی کی کم احادیث ہوں، اور اس پر ایسی جرح نہ ہو جس سے اس کی حدیث متروک ہو، ایسے راوی کی طرف "مقبول" کے لفظ سے اشارہ ہے جب کہ اس کا کوئی متابع ہو ورنہ وہ لین الحدیث ہے۔

(تقریب التہذیب )

اس لنک سے کتاب کی عبارت دیکھ لو

https://archive.org/details/FP22198/page/n80

 

اس لئے جناب کے پوسٹر ہی جناب کا رد کر رہے ہیں ایسا راوی بنا متابعت کے ضعیف ہوتا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
12 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

موسوعة الحديث

الأسم : عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر بن كريز بن ربيعة بن حبيب
الشهرة : عبد الأعلى بن عبد الله القرشي , الكنيه: أبو عبد الرحمن
النسب : البصري, القرشي, العبشمي

الرتبة : صدوق حسن الحديث
عاش في : البصرة

 

00000.thumb.png.fb6a1f13563ba0755ce20acb30be069b.png

 

ارے میاں پھر  شعیب الارنووط اور بشار عواد کی کتاب کے حوالے ۔

ارے میں  سلفیوں کی کتب سے ہم سے بہتر کون جانتا ہے اس لئے یہ دھوکے کسی اور کو دینا۔

اس میں بھی بھی شعیب الارنووط اور بشار عواد نے توثیق کی دلیل کسی امام سے نہیں دی بلکہ وہی امام ابن حبان کی تقلید کی ہے جو خود توثیق میں متساہل ہیں اس لئے ایسی توثیق تو اصولا درست نہیں ہے۔ اس لئے جناب کو جناب کے پوسٹر کی حقیقت بتاتے ہیں۔5dcc2f36aefd8_.jpg.acdd4713a11ef01d3baad4c427030feb.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites
12 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

رضا عسقلانی صاحب پھر آپ نے لکھا کہ :

5dcb7926c398e_download(5).thumb.png.6b46dc571c0b494e30f691a49a3f5f7f.png



تو پڑھیے جناب اعلیٰ

الكتاب: التاريخ الأوسط (مطبوع خطأ باسم التاريخ الصغير)
المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)

 

 

728 -

 حَدثنَا حرمي بن حَفْص ثَنَا مَرْثَدُ بْنُ عَامِرٍ سَمِعْتُ كُلْثُومَ بْنَ جَبْرٍ يَقُولُ


 كُنْتُ بِوَاسِطَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ 


فَجَاءَ آذِنٌ فَقَالَ قَاتِلُ عَمَّارٍ بِالْبَابِ


 فَإِذَا هُوَ طَوِيلٌ فَقَالَ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْفَعُ أَهْلِي وَأَرِدُ عَلَيْهِمُ الْغَنَمَ

فَذُكِرَ لَهُ عَمَّارٌ فَقَالَ كُنَّا نَعُدُّهُ حَنَّانًا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ

فَاسْتَقْبَلَنِي يَوْمَ صفّين فَقتلته ۔

729 - 


حَدثنِي مُحَمَّد ثَنَا بن أبي عدي عَن بن عَوْنٍ 


عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ


 كُنَّا بِوَاسِطَ عِنْدَ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامر فاستقى أَبُو غادية وقص الحَدِيث

 

ارے جناب امام بخاری نے اس میں کہاں توثیق کی ہے ذرا ہمیں تو دیکھائیں؟؟

اس لیے سکرین شارٹ دینے سے پہلے تحقیق کرلیا کرو ورنہ ہر بار شرمندگی اٹھاؤ گے 

Share this post


Link to post
Share on other sites
12 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

 

728 -

 حَدثنَا حرمي بن حَفْص ثَنَا مَرْثَدُ بْنُ عَامِرٍ سَمِعْتُ كُلْثُومَ بْنَ جَبْرٍ يَقُولُ


 كُنْتُ بِوَاسِطَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ 


فَجَاءَ آذِنٌ فَقَالَ قَاتِلُ عَمَّارٍ بِالْبَابِ


 فَإِذَا هُوَ طَوِيلٌ فَقَالَ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْفَعُ أَهْلِي وَأَرِدُ عَلَيْهِمُ الْغَنَمَ

فَذُكِرَ لَهُ عَمَّارٌ فَقَالَ كُنَّا نَعُدُّهُ حَنَّانًا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ

فَاسْتَقْبَلَنِي يَوْمَ صفّين فَقتلته ۔

اس سند میں  عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی کو ساقط کر دیا گیا ہے جب کہ امام بخاری  دوسری سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام ذکر کیا ہے لگتا ہے کتابت یا   پرنٹ کی غلطی ہے جب کہ دوسری سند میں پوری وضاحت ہے جو یہ ہے:

حدثنا عبد الله حدثنا محمد حدثنا قتيبة ثنا مرثد بن عامر العنائي حدثني كلثوم بن جبر قال «كنت بواسط القصب في منزل عنبسة بن سعد القرشي وفينا عبد الأعلى بن عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر القرشي فدخل أبوغادية قاتل عمار بصفين»

(تاریخ الاوسط للبخاری ج 1 ص 38)

اس کے علاوہ یہی روایت  المعجم الکبیر لطبرانی  میں ہے جس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام موجود ہے جس سے واضح ہو گیا ہے تاریخ الاوسط سے راوی کا نام ساقط ہے۔

حدثنا علي بن عبد العزيز وأبومسلم الكشي قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا ربيعة بن كلثوم ثنا أبي قال كنت بواسط القصب عند عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر فقال: «الآذان هذا أبوغادية الجهني فقال عبد الأعلى أدخلوه فدخل وعليه مقطعات له رجل طول ضرب من الرجال كأنه ليس من هذه الأمة فلما أن قعد قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يمينك قال نعم خطبنا يوم العقبة فقال «يأيها الناس ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا هل بلغت؟ قالوا نعم قال: اللهم اشهد. قال «لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض قال: وكنا نعد عمار بن ياسر من خيارنا قال فلما كان يوم صفين أقبل يمشي أول الكتيبة راجلا حتى إذا كان من الصفين طعن رجلا في ركبته بالرمح فعثر فانكفأ المغفر عنه فضربه فإذا هورأس عمار قال يقول مولى لنا أي كفتاه قال فلم أر رجلا أبين ضلالة عندي منه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ما سمع ثم قتل عمارا

(المعجم الکبیر للطبرانی ج 22 ص 363 رقم 912)

اور دوسری سند میں  خود مجہول راوی موجود ہے۔

ثنا أحمد بن داود المكي ثنا يحيى بن عمر الليثي ثنا عبد الله بن كلثوم بن جبر قال سمعت أبي قال كنا عند عنبسة بن سعيد فركبت يوما إلى الحجاج فأتاه رجل يقال له أبوغادية الجهني يقول وشهدت خطبته يوم العقبة «إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض حتى إذا كان يوم أحيط بعثمان سمعت رجلا وهويقول «ألا لا تقتل هذا فنظرت إليه فإذا هوعمار فلولا من كان من خلفه من أصحابه لوطنت بطنه فقلت: اللهم إن تشاء أن يلقينيه فلما كان يوم صفين إذا أنا برجل شر يقود كتيبة راجلا فنظرت إلى الدرع فانكسف عن ركبته فأطعنه فإذا هوعمار»

(المعجم الطبرانی 22 ص 363 رقم 913)

اس میں سمعت رجلا کا لفظ موجود جس سے واضح ہو رہا ہے یہ بات مجہول سے سنی گی ہے۔

اور عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر تو مجہول ہے اس پر بات ہو چکی ہے پہلے۔

 

 

12 hours ago, ghulamahmed17 said:

729 - 


حَدثنِي مُحَمَّد ثَنَا بن أبي عدي عَن بن عَوْنٍ 


عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ


 كُنَّا بِوَاسِطَ عِنْدَ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامر فاستقى أَبُو غادية وقص الحَدِيث


00000.thumb.png.5aedec9d227d4330a0483049a9a57c38.png

 

پہلی سند پر اوپر بات ہو چکی ہے کہ اس میں ایک راوی ساقط ہے۔

دوسری سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی موجود ہے جس سے واضح ہو گیا ہے اوپر والی سند میں اس راوی کا نام چھوٹ گیا ہے لیکن دوسری سند میں موجود ہے اس لئے اس صحیح قرار دینا علمی جہالت ہے اور کچھ نہیں۔

5dcc39edd9a69_.thumb.jpg.f70068e11cf38b60b5c40198ffc0a494.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites
13 hours ago, ghulamahmed17 said:

جناب رضا عسقلانی صاحب اگر امام بخاری بھی تسامح کھانے لگیں تو جناب

اک نظر کرم امام مسلم کی طرف کر لینا  ۔

امام مسلم لکھتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں :

 

000000.thumb.png.05a951074145ff21a4cd44dd572b73fa.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب عین ممکن ہے کہ  صحیحین کے اماموں نے تسامح کھایا ہو تو پھر

امام مسلم 200 ہجری کے بعد پیدا ہوئے اور جنگ صفین 37 ہجری میں ہوئی ہے تو تقریبا 167 سال کا فاصلہ درمیان کا اور امام مسلم  نے اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل کے طور پر سند بیان نہیں کی اس لئے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی روایت  جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

اور  امام ابن مبارک فرماتے ہیں :

مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یرتقی السطح بلاسلم
اس شخص کی مثال جو اپنے دینی معاملہ کو بغیر سند کے طلب کرتا ہے اس شخص کی طرح ہےجو بغیر سیڑھی کےچھت پر چڑھنا چاہتاہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص12)

ایسے بے سند اور بے دلیل قول خود محدثین کے نزدیک حجت نہیں تو ایسے استدلال کرنا عجیب ہے جناب۔

13 hours ago, ghulamahmed17 said:

جناب

مُلا علی قاری الحنفیؒ کی بارگاہ میں جا کر پوچھنا کہ امام آپ نے کیا کھایا ہے آپ تو پکے حنفی تھے  پھر 

ابوالغادیہ کو قاتل کیوں لکھ آئے ؟

010.thumb.png.ee67ce4b60dac00f4a2d52b034e63177.png

 

ملا علی قاری 900 ہجری کے بعد پیدا ہوئے اور جنگ صفین 37 ہجری میں ہوئی ہے تو تقریبا  867 سال کا فاصلہ درمیان کا اور ملاعلی قاری نے اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل کے طور پر سند بیان نہیں کی اس لئے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی روایت  جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

اور  امام ابن مبارک فرماتے ہیں :

مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یرتقی السطح بلاسلم
اس شخص کی مثال جو اپنے دینی معاملہ کو بغیر سند کے طلب کرتا ہے اس شخص کی طرح ہےجو بغیر سیڑھی کےچھت پر چڑھنا چاہتاہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص12)

ایسے بے سند اور بے دلیل قول خود محدثین کے نزدیک حجت نہیں تو ایسے استدلال کرنا عجیب ہے جناب۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

13 hours ago, ghulamahmed17 said:

آپ کو علامہ بدالدین عینی کے پاس

بھیج دیں تو آپ جیسے ہی آگے بڑھیں گے موٹے حروف میں لکھا ہوگا کہ

ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ تھا ۔

00004.thumb.png.eba59fc7075748f12e68104f77d408b6.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب یہاں تک تسلی ہو جائے تو بہت بہتر اگر نہ ہو

پہلےتو اس کتاب پر مصنف کا نام صالح یوسف معتوف لکھا ہوا ہے تو امام عینی کیسے؟؟

اگر جناب کہیں گے کہ امام عینی کی کتاب مغانی الاخیار سے نقل کی گی تو جناب کو غور سے پڑھ لینا تھا کیونکہ امام عینی نے ذاتی بات نہیں کی ہے بلکہ امام ابن عبدالبر اندلسی کی عبارت نقل کی ہے قال ابوعمرو کہہ کر اور جناب نے امام ابن عبدالبر اندلسی کی عبارت کو امام عینی کی عبارت بنا دی حیرت ہے۔

باقی امام ابن عبدالبر اندلسی کا موقف پہلے بھی بیان کر دیا تھا اب پھر بیان کر دیتے ہیں۔

 امام ابن عبدالبر اندلسی کا قول تمام صحابہ کرام کے لئے یہ ہے:

"أجمع أھل الحق من المسلمین  و ھم اھل سنۃ والجماعۃ علی أن الصحابة كلهم عدول "

مسلمانوں میں سے تمام اہل حق جو اہل سنت و جماعت ہیں    کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں

(الاستیعاب لابن عبدالبر  بھامش الاصابۃ ج 1 ص 38)

اس لئے جناب ایک بے سند اور بے دلیل بات کو پکڑے ہوئے ہیں جب کہ یہاں امام ابن عبدالبر اندلسی نے اہل حق کا اجماع لکھ دیا ہے لیکن جناب یہاں منکر بنے ہوئے ہیں بڑی حیرت کی بات ہے۔

اس کے علاوہ یہ بے سند اور بے دلیل قول ہے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی روایت  جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

اور  امام ابن مبارک فرماتے ہیں :

مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یرتقی السطح بلاسلم
ا
س شخص کی مثال جو اپنے دینی معاملہ کو بغیر سند کے طلب کرتا ہے اس شخص کی طرح ہےجو بغیر سیڑھی کےچھت پر چڑھنا چاہتاہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص12)

bar.thumb.jpg.999c04087b2dedcbc433e553d001b134.jpg

 

 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
13 hours ago, ghulamahmed17 said:

باقی

امام ، محدثین اور محققین بعد میں آپ کے سامنے لاوں گا ۔

بہت بہت شکریہ

ارے جناب ہم نے دیکھ لیے ہیں جناب کے محققین حضرات کو ارے  جناب جب ہم تمہارے محققین حضرات کی تحقیق کے نقص نکالتے ہیں تو ان کے جوابات دینے کے بجائے پھر وہی روایت اور وہی بے سند اور بے دلیل اقوال کتب بدل بدل کر پیش کرتے رہتے ہو حیرت ہے۔

اس لئے اب کی بات ہمت کرو کرکے کوئی نئی بات لے آئے ہو جب کہ یہ سب پرانی باتیں ہو گی ہیں اس لئے اب ہم بھی وہی پرانے جواب پوسٹ کر دیتے ہیں جناب کی پرانی پوسٹرز پر کیونکہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ایک بات کا باربار جواب دیتے رہیں۔

شکریہ

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

ماشاءاللہ بہت خوب عسقلانی بھائی

مجھے تو جناب غلام رفض صاحب کی ہر پوسٹ پڑھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ اب میں ایسا کردوں گا اب میں ویسا کرو دوں گا لیکن جب جناب کی اصلیت ظاہر کی جاتی ہے تو چیخیں خوب سنائی دیتی ہیں جناب کی

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دشمنی میں آپ اس حد تک گر چکے ہیں کہ اب تو بس آپ کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔۔

معززقارئین کرام 

آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح یہ رافضی لوگ سادہ  لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس لیے تمام قارئین سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر جہاں کہیں بھی اس قاسم علی نامی بندے کی پوسٹس دیکھیں اس سے اپنے ایمان کو بچائیں اور اسکے شر پر لعنت بھیجتے ہوئے اسکی پوسٹس کو اگنور کریں خود ہی اپنی موت مر جاۓ گا۔۔

اس نے جو میک اپ شدہ پوسٹر جگہ جگہ چپکائے ہیں انسے بالکل بھی مرعوب نہ ہوں اور اس کی دھوکہ دہی سے خبردار رہیں 

Share this post


Link to post
Share on other sites

رضا عسقلانی صاحب آپ نے  صحیح مسلم کے محدث اور امام اھل سنت امام مسلم

کے حوالہ کا جواب نہیں لکھا پلیز  اس پر بھی مجے آپ کی تحریر چاہیے کہ وہ ثقہ ہیں یا مجہول و ضعیف

اور ان کا ابوالغادیہ کا قاتل کہنا کیسا ہے ؟ آپ مانتے ہیں ؟ یا اس کا بھی انکار فرماتے ہیں ؟

 

جناب رضا عسقلانی صاحب آپ کے مجہول کا سارا  راز فاش ہو چکا ہے ، مجہول کون ہوتا ہے ؟ وہ آپ بھی

جانتے ہیں اور اھل علم بھی ۔  ابن حبان کی تصدیق ، الھیثمی کی تصدیق اور مقبول و جواد روای

کی روایات  دیگر بے شمار محققین و محدثین کے حکم کے بعد بھی آپ کا نہ ماننا میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا

میرا کام تھا آپ کو کتابوں سے ثابت کر دینا وہ میں نے کر دیا ہے ۔ آپ کو ذاتی طور پر منانا میرا کام نہیں ابن حجر

عسقلانی کے مقبول روای پر  ان کی اپنی آرا اس آرٹیکل پر موجود ہے ۔ لکھنے والا سنی ہے یا  وہابی اس ے

مجھے سروکار نہیں آپ بھی پرھ لیں اور ضد کو چھوڑ کر اپنی اصلاح فرما لیں ۔ اس آرٹیکل کو میں یہاں اپنے نام سسے

کاپی پیسٹ کر کے اپبے نام نہیں کرنا چاہتا اس لیے آپ کو آرٹیکل کا لنک دے رہا ہوں ۔

 

حافظ ابن حجر کی اصطلاح "مقبول” کا معنٰی انھی کی زبانی 

 

جناب رضا عسقلانی صاحب آپ نے مُلا علی قاری کو ابوالغادیہ کو قاتل قرار دینے پر موضوع  لکھا،

امام بخاری کی تصدیق کو پرنٹ کی غلطی قرار دیا ۔

اور  باقی اماموں کے تمام اقوال کو تسامح قرار دیا ۔

میرا مقصد آپ سے الجھانا یا تنقید کرنا ہرگز نہیں بلکہ مقصد  یہ سچ ہے کہ ابوالغادیہ ہی حضرت عمارؓ

کا قاتل ہے ،  اور وہی روایاتِ صحیحہ ، ائمہ اھل سنت ، محدثین و محققین سے کتابوں سے ثابت کرنا ہے ۔ 

جو کہ کافی کتابیں میں آپ جناب کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں اور باقی کتابیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتی جائیں گی ۔ ( انشاء اللہ)

آپ  اک  کتاب بار بار دیکھا رہے ہیں میں بہتر سمجھتا ہوں کہ اس پر بھی آپ کو کتاب پیش کر دوں  تاکہ لوگ اس پر بھی موجود حکم دیکھ لیں ۔

5dccad4665044_download(1).thumb.png.6123a6199fbcfd0793295205d7d2d1f3.png

 

 یہ کتاب اور مکمل روایت حکم کے ساتھ پیش خدمت ہے َ۔

02.thumb.png.20dcd813169caac12b4b10d04391103e.png01.thumb.png.4adc5e58fc62dc08e4c906eab1d254b1.png03.thumb.png.51d38fe8d90cc5f8d468f3b5d60f37f4.png

 

لیجے جناب رضا عسقلانی صاحب  کلثوم بن جبر  کی روایت قبول فرما لیں ۔

اور کلثوم بن جبر کو آپ خود ثقہ مان اور لکھ چکے ہیں ۔

 

اور اک نئے امام ابوالغادیہ کو قاتل بنا  رہے ہیں پڑھیے جناب

 

وقال  اِبن معین : أَبُو الغَادِيَة الْجُهَنِي قاتلِ عمار لہ  صحبۃ

الإصابة في تمييز الصحابة / ابن حجر عسقلانی

سوال :  ابن معین کے قول کی تصدیق ابن حجر عسقلانی خود کر رہے ہیں ۔ کیا آپ ابن حجر کی اس تصدیق

کو مانیں گے یا اس قول کوضعیف ثابت کریں گے ؟؟؟ 

ایک کام کر دیں ۔

اب مکمل کتاب پیش خدمت ہے َ۔ پڑھیے جناب رضا عسقلانی صاحب

01pp.thumb.png.20898f6c3a710d76cbe67d0c3d36f638.png03pp.thumb.png.67b42dc0c45bd7c60d5ab78621a0bbdd.png02pp.thumb.png.719446d04088ca01470001102a377ff4.png

شکریہ

--------------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب غلام احمد صاحب مجھے لگتا ہے آپ جواب کو مکمل طور پر دیکھتے ہی نہیں یا دیکھنا پسند ہی نہیں کرتے اس لیے کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں

امام مسلم کے متعلق عسقلانی صاحب کا جواب موجود ہے

امام بخاری کی کتاب میں پرنٹنگ کا مسئلہ ہونا دلیل سے ثابت کیا لیکن آپ لاجواب ہو گئے

کلثوم بن جبر کی توثیق کے متعلق کیا کسی نے آپ سے پوچھا ہے جو صفحات لگائی جا رہے ہیں؟

جو مضمون آپ نے مقبول ہونے کے متعلق دیا ہے وہ بھی ایک وہابی کا ہی ہے جسکی تحقیق آپ کو ہی مبارک ہو بندہ یہ مضمون پہلے ہی پڑھ چکا ہے

آپ کی پوسٹس بتا رہی ہیں کہ آپ تحقیق بالکل نہیں کرتے اور علم اسماء الرجال سے بالکل نابلد ہیں آپ بس مہرہ ہیں جسکو استعمال کیا جا رہاہے

کتنی بار ایک ہی بات کو پوسٹ کریں گے لگے رہیں تا کہ لوگوں کو آپ کی ذہنی حالت کا اندازہ ہو سکے

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

جناب غلام احمد صاحب مجھے لگتا ہے آپ جواب کو مکمل طور پر دیکھتے ہی نہیں یا دیکھنا پسند ہی نہیں کرتے اس لیے کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں

امام مسلم کے متعلق عسقلانی صاحب کا جواب موجود ہے

امام بخاری کی کتاب میں پرنٹنگ کا مسئلہ ہونا دلیل سے ثابت کیا لیکن آپ لاجواب ہو گئے

کلثوم بن جبر کی توثیق کے متعلق کیا کسی نے آپ سے پوچھا ہے جو صفحات لگائی جا رہے ہیں؟

جو مضمون آپ نے مقبول ہونے کے متعلق دیا ہے وہ بھی ایک وہابی کا ہی ہے جسکی تحقیق آپ کو ہی مبارک ہو بندہ یہ مضمون پہلے ہی پڑھ چکا ہے

آپ کی پوسٹس بتا رہی ہیں کہ آپ تحقیق بالکل نہیں کرتے اور علم اسماء الرجال سے بالکل نابلد ہیں آپ بس مہرہ ہیں جسکو استعمال کیا جا رہاہے

کتنی بار ایک ہی بات کو پوسٹ کریں گے لگے رہیں تا کہ لوگوں کو آپ کی ذہنی حالت کا اندازہ ہو سکے

 

 

 

اچھا جی مجھے نہیں پتہ کہ  فاصلہ لکھ دیا گیا ہے ، ٹھیک ہے جناب  غصہ نہ فرمائیں منزل دور ہیں کاٹے لگاتے آئیں اور فاصلہ بتاتے آئیں ۔

باقی کلثوم بن جبر کی میں نے روایت لگا رکھی ہے اس کے متلق جناب عسقلانی صاحب کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ اب اس کے درمیان تو 

فاصلہ نہیں ہے اور روایت پر دو حکم موجود ہیں کسی ایک کو ہی مان لیں ۔  باقی جناب غصہ نہ فرمایا کریں ۔ بالکل ٹھنڈا رہیں ۔

 

--------------------------------

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
4 hours ago, ghulamahmed17 said:

 

رضا عسقلانی صاحب آپ نے  صحیح مسلم کے محدث اور امام اھل سنت امام مسلم

کے حوالہ کا جواب نہیں لکھا پلیز  اس پر بھی مجے آپ کی تحریر چاہیے کہ وہ ثقہ ہیں یا مجہول و ضعیف

اور ان کا ابوالغادیہ کا قاتل کہنا کیسا ہے ؟ آپ مانتے ہیں ؟ یا اس کا بھی انکار فرماتے ہیں ؟

 

جناب رضا عسقلانی صاحب آپ کے مجہول کا سارا  راز فاش ہو چکا ہے ، مجہول کون ہوتا ہے ؟ وہ آپ بھی

جانتے ہیں اور اھل علم بھی ۔  ابن حبان کی تصدیق ، الھیثمی کی تصدیق اور مقبول و جواد روای

کی روایات  دیگر بے شمار محققین و محدثین کے حکم کے بعد بھی آپ کا نہ ماننا میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا

میرا کام تھا آپ کو کتابوں سے ثابت کر دینا وہ میں نے کر دیا ہے ۔ آپ کو ذاتی طور پر منانا میرا کام نہیں ابن حجر

عسقلانی کے مقبول روای پر  ان کی اپنی آرا اس آرٹیکل پر موجود ہے ۔ لکھنے والا سنی ہے یا  وہابی اس ے

مجھے سروکار نہیں آپ بھی پرھ لیں اور ضد کو چھوڑ کر اپنی اصلاح فرما لیں ۔ اس آرٹیکل کو میں یہاں اپنے نام سسے

کاپی پیسٹ کر کے اپبے نام نہیں کرنا چاہتا اس لیے آپ کو آرٹیکل کا لنک دے رہا ہوں ۔

 

حافظ ابن حجر کی اصطلاح "مقبول” کا معنٰی انھی کی زبانی

 

امام مسلم کا جواب دے دیا ہے امام شعبہ اور امام بن مبارک کے اقوال سے جناب دیکھ لیں۔

باقی مقبول راوی کے بارے میں میں نے کسی وہابی کی بات پیش نہیں کی بلکہ خود امام ابن حجر عسقلانی کا منہج دیکھایا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھا ہے۔

جب اصل مصنف سے بات ثابت ہو جائے تو پھر اور لوگوں کی رائے کا کچھ فائدہ نہیں۔

باقی محدث فورم ہم بھی موجود ہیں جو ہمارا وہابیوں کے ساتھ ٹکڑا ہوتا رہتا ہے اس لئے اس طرح کی باتوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔

ایک وہابی نے یہ تحریر بھی پوسٹ کی تھی  اس لیے اصل بات وہی ہے جو امام ابن حجر عسقلانی نے کتاب تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھی ہے۔

majhol.thumb.jpg.d8351ce80cb040e845daf10e7c31979f.jpg

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
4 hours ago, ghulamahmed17 said:

یہ کتاب اور مکمل روایت حکم کے ساتھ پیش خدمت ہے َ۔

02.thumb.png.20dcd813169caac12b4b10d04391103e.png01.thumb.png.4adc5e58fc62dc08e4c906eab1d254b1.png03.thumb.png.51d38fe8d90cc5f8d468f3b5d60f37f4.png

 

لیجے

اس کتاب کا حاشیہ حمدی عبدالمجید سلفی نے لکھا ہے اس نے بھی وہی حوالہ دیا ہے امام ہیثمی کا اس نے بھی نئی کوئی بات نہیں کی۔

امام ہیثمی کی بات کا جواب اوپر ہو چکا ہے   کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے   اور یہ صحیح حدیث کے رجال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقہ ہے۔

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

5 hours ago, ghulamahmed17 said:

ایک کام کر دیں ۔

اب مکمل کتاب پیش خدمت ہے َ۔ پڑھیے جناب رضا عسقلانی صاحب

01pp.thumb.png.20898f6c3a710d76cbe67d0c3d36f638.png03pp.thumb.png.67b42dc0c45bd7c60d5ab78621a0bbdd.png02pp.thumb.png.719446d04088ca01470001102a377ff4.png

شکریہ

اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں امام ذہبی کے حوالے سے لیکن جناب نے یہاں وہابی تحقیق پیش کی ہے تو جواب بھی وہابی سے دیتے ہیں۔

زئی اس روایت کے کہتا ہے:

أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ]
اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا:
وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… .
عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔
ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

فقيل… . إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔ “
اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی 
فقيل کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ في الناروالی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ”إسنادہ صحیح“ نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے روایت دو راوی بیان کر رہے ہیں :
➊ ابوحفص : مجہول۔
➋ کلثوم بن جبر : ثقہ۔
امام حماد بن سلمہ رحمہ الله نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔
خلاصہ التحقیق : یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔

۔۔۔

اس بات کا حوالہ پہلے چکا ہوں لیکن پھر وہی بات پوسٹ کر دی ہے۔

اس کے علاوہ اس روایت میں محشی نے خود بتایا ہے کہ اسے ایک راوی کا ترجمہ و توثیق نہ مل سکی اور ایک راوی کی توثیق دینا بھی بھول گیا ہے خود دیکھ لو اپنے پوسٹر میں ہم نے نشان دہی کر دی ہے۔

5dcd0a6713278_.thumb.jpg.c9310c9d4e854c9cc98e0e5e970ed9e6.jpg

 

5 hours ago, ghulamahmed17 said:

اور اک نئے امام ابوالغادیہ کو قاتل بنا  رہے ہیں پڑھیے جناب

 

وقال  اِبن معین : أَبُو الغَادِيَة الْجُهَنِي قاتلِ عمار لہ  صحبۃ

الإصابة في تمييز الصحابة / ابن حجر عسقلانی

سوال :  ابن معین کے قول کی تصدیق ابن حجر عسقلانی خود کر رہے ہیں ۔ کیا آپ ابن حجر کی اس تصدیق

کو مانیں گے یا اس قول کوضعیف ثابت کریں گے ؟؟؟ 

ارے میاں کسی کا قول نقل کرنا  لازمی نہیں ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے نزدیک حجت ہو۔

باقی امام ابن معین کے قول کی دلیل بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سند ہے  اور نہ ہی امام ابن معین جنگ صفین میں تھے کیونکہ وہ ان سے ایک صدی بعد پیدا ہوئے  اس لیے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ اور امام ابن مبارک کا قول پیش کر چکا ہوں اس لئے مزید اس طرح اقوال پیش کرنے سے گریز کریں جن نہ سند ہوتی ہے اور نہ دلیل ہوتی ہے۔

Edited by Raza Asqalani
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 

 

rafzi.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

download.thumb.png.c5fd8348faacda9be272c770ba74f45d.png

  کلثوم بن جبر  کی روایت  پر بعد میں بات ہو گی پہلے امام ابن معین کو پڑھیے  حجت ہیں کہ نہیں ؟

آپ کے نزدیک  امام ابن معین  حجت نہیں ہوں گے  شاید ، امام مسلم حجت  نہیں ہوں گے شاید  اور امام حاکم جیسے

امام اھل سنت حجت نہیں ہوں گے شاید مگر اھل سنت ان آئمہ اھل سنت کو ہی حجت مان کر  حجر عسقلانی  اور ذہبی جیسے محدث

امام بنے ہیں تو  جناب رضا عسقلانی صاحب پڑھیے :

02pp.thumb.png.aaaa2dd25f27e0e15f14ebf00d3a8eac.png03pp.thumb.png.ff823f1bed58e3f7c3f8d70143c1f6cd.pngPicture2pp.thumb.png.3175ea1e830c3fe580b2fb1728fdbebc.png

 

00.thumb.png.7581a06567e196eaa1eac9d80481dd0f.png

 

امام اھل سنت حجر عسقلانی ابن معین کو حجت مان کر ہی لکھ رہے ہیں کہ :  الد وری نے فرمایا کہ :  ابوالغایہ حضرت

عمارؓ کو قتل کرنے والے  ہیں اور انہیں شرفِ صحابیت  حاصل ہے ۔

رضا عسقلانی صاحب ہوسکتا ہے کہ آپ

کے نزدیک  ابن معین حجت نہ ہوں مگر اصل

عسقلانی کے نزدیک حجت ہی ہیں ۔ 

پڑھیے جناب اعلیٰ

 

000.thumb.png.80e6393f38c9483b4f306cded5516b85.png

 

 لیجے جناب رضا عسقلانی صاحب  یہ کتاب بھی پڑھیں  اور بتائیں کہ  ابن معین کی یہ کتاب " معرفة الرجال " ضعیف ہے  کیا ؟  یا موضوع و باطل ہے ؟

 

معرفة الرجال عن يحيى بن معين
 المؤلف: يحي بن معين أبو زكريا

 

00000.thumb.png.c8cb67caa046436e8546085bce19d3b2.png
 

الإصابة في تمييز الصحابة  اور اُسد الغابۃ معرفۃ الصحابۃ
دونوں کتابیں  اور دونوں کتابیں مستعند اور اُن کے مصنفین   

عزیز الدین بن الاثیر ابی الحسن
 علی بن محمد الجزریؒ
اور

أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني
دونوں اھل سنت کے امام تسلم کیے جاتے ہیں اب رضا عسقلانی صاحب انہوں نے کن کو حجت مان کر

ابوالغادیہ کو حضرت عمار بن یاسرؓ کا قاتل ڈکلئیر کیا  ؟ کیا امام ابن معین ، امام مسلم ، امام حاکم  اور امام ابن عبدالبر کو

حجت مانا یا  لکھا کہ انہوں نے تسامح کھایا ؟ اور اُن کے درمیان اور واقعہ صفین کے درمیان اتنے سالوں

کا  اتنے کلومیٹر فاصلہ تھا ؟

 

عزیز الدین بن الاثیر ابی الحسن
 علی بن محمد الجزریؒ کا عقیدہ

 

0.thumb.png.88dcd4c4ab7bb9a7d7cffc451b3e2ded.png

 

أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني کا عقیدہ

 

001.thumb.png.63bfd7debc782ec26b983eeebfd17465.png

 

 رضا عسقلانی صاحب امام ابن حجر عسقلانی نے ابن معین کے ساتھ 

باقی جن اماموں کو حجت مان کر لکھا کہ ابوالغادیہ قاتلِ عمارؓ ہے 

ان اماموں کو  بقلم خود امام حجر پڑھ لیں  ۔ اور بغور جائزہ لیں کہ کہیں

تسامح نہیں لکھا اور نہ ہی کہیں سالوں کا فاصلہ کا ذکر کیا  بلکہ سیدھا سیدھا دوٹوک

 اپنا عقیدہ عین ان اماموں کے عقیدہ کے مطابق لکھا کہ ابوالغادیہ ہی وہ

شخص ہے جس نے سیدنا عمارؓ کو قتل کیا ۔

محترم رضا رعسقلانی صاحب پڑھیے :

 

002.thumb.png.a849d497ba08dc2dab36e2a1130f0811.png

بہت بہت شکریہ

قادری سلطانی صاحب اپ ڈھول بجائیے َ۔

----------------------------------------

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

وہی پرانے اقوال پھر پوسٹ کر دیے جن کا ہم کئی بار اصول حدیث کے قوانین سے جواب دے چکے ہیں حیرت کا مقام ہے جناب پر۔ ارے میاں ایسے بے سند اقوال تو معاذ اللہ انبیاء کرام علیہم السلام  اور اہل بیت عظام  رضی اللہ عنہم کی شان اقدس کے خلاف بھی موجود ہیں تو کیا کوئی خبیث ایسے اقوال سے انبیاء کرام اور اہل بیت عظام  کی شان مجروح کر سکتا ہے کیا؟؟

ہرگز نہیں اگر کرے گا تو اصول حدیث کی روشنی میں اس کا منہ توڑ دیا جائے گا۔

اس لئے یہ ائمہ بے شک اہل سنت کے ائمہ میں سے ہیں لیکن انہی ائمہ کا خود کا بنایا ہوا اصول ہے کہ کوئی بھی بات بنا سند اور بنا دلیل تسلیم نہیں کرنی ۔

اس لئے ہم ان ائمہ کا احترام کے ساتھ ان کے اصول کی روشنی میں ہی ان کی بات کی تردید کی ہے کیونکہ یہ ائمہ رواۃ کی جرح و تعدیل کے بارے میں اجتہاد کر سکتے ہیں لیکن کسی کو قاتل ثابت کرنے کے لئے اجتہاد نہیں کر سکتے کیونکہ اسلام میں قتل کے بدلے قتل ہے اور قاتل ثابت کرنے کے لئے شریعت میں   عینی گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے  اجتہاد کی نہیں۔

اجتہاد کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب کوئی بات قرآن، احادیث صحیحہ اور اجماع  صحابہ سے نہ مل رہی ہو تو پھر مجتہد اجتہاد کرتا ہے اور مجتہد کو اجتہاد درست بھی ہو سکتا ہے اور غیر درست بھی۔

اس لئے کسی  بات کو ثابت کرنے کے لئے ائمہ نے سند کا اہتمام کیا ہے   جیسے امام ثوری فرماتے ہیں:

الاسناد سلاح المومن اذا لم یکن معہ سلاح فبای شیء یقاتل
اسناد مومن کا اسلحہ ہے اگر اس کے پاس اسلحہ نہیں ہوگا تو وہ کس چیز کے ساتھ قتال (مقابلہ وجنگ) کرے گا۔
(الکفایۃ فی علم الروایۃللخطیب البغدادی، ص392)

اور امام ابن مبارک فرماتے ہیں:

لولا الاسناد لقال من شاء ما شاء
اگر اسناد نہ ہوتیں تو جو شخص جو چاہتا کہتا پھرتا۔

امام حاکم امام عبداللہ بن مبارک کے اس قول کی توضیح میں لکھتے ہیں:
فان الاخبار اذا تعرت عن وجود الاسناد فیھا کانت بترا۔
جب روایات سند کے وجود سے خالی ہو ں تو وہ دم بریدہ ہیں (یعنی جس کی دم کٹی ہوئی ہو)۔
(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص6)

اور جگہ امام ابن مبارک فرماتے ہیں:

مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یرتقی السطح بلاسلم
اس شخص کی مثال جو اپنے دینی معاملہ کو بغیر سند کے طلب کرتا ہے اس شخص کی طرح ہےجو بغیر سیڑھی کےچھت پر چڑھنا چاہتاہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص12)

اور امام سمعانی اس طرح کا ایک واقعہ  اپنی سند سے بیان کرتے ہیں:

امام زہری کی مجلس میں ابن ابی فروہ کہنے لگا " قال رسول اللہ، قال رسول اللہ (رسول اللہﷺ نے فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) اس پر امام زہری نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا
قاتلک اللہ یا بن ابی فروۃ ! ما اجراک علی اللہ؟ لا تسند حدیثک! تحدثنا باحادیث لیس لھا خطم ولا ازمۃ، یعنی الاسناد۔
اے ابن ابی فروہ! اللہ تجھے ہلاک کرے تو اللہ کی بارگاہ میں کس قدر بے باک ہے؟ ہمیں تو اپنی حدیث مت بیان کر، ہمیں تو ایسی احادیث سنانے لگا ہے جن کی لگام ہے اور نہ رسی؟ یعنی سند نہیں۔
(ادب الاملاء والاستملا، ص12)

اس بارے میں امام شعبہ بن الحجاج فرماتے ہیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی حدیث جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13، المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17،الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

امام اصمعی نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے ہمارے سامنے احادیث بیان کیں اور ہم ایک جماعت تھے، جب وہ بیان حدیث سے فارغ ہوا تو ایک اعرابی نے کہا آپ نے ہمیں کیا ہی اچھی احادیث بیان کیں
لو ان لھا سلاسل تقادبھا، قال ابوالحسن یعنی الاسناد
اگر ان کی کوئی سند ہوتی تو انہیں آگے چلایا جاتا، حضرت ابوالحسن فرماتے ہیں: یعنی سلسلہ سند ہوتا تو انہیں قبول کیا جاتا۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13، شرف اصحاب الحدیث، ص87)

امام سفیان بن عینیہ علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن امام زہری علیہ الرحمہ کوئی حدیث پیش کرنے لگے تو میں نے عرض کیا:
ھاتہ بلا اسناد
بغیر سند ہی پیش فرما دیجئے!
اس پر امام زہری نے فرمایا:

اترقی السطح بلا سلم؟
کیا تم سیڑھی کے بغیر چھت پر چڑھنا چاہتے ہو؟
(الاسناد من الدین لابی غدۃ، ص20)
حافظ بقیہ بن ولید حمصی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد بن زید علیہ الرحمہ کے سامنے چند احادیث بیان کیں تو انہوں نے فرمایا:

ما اجودھا لو کان لھا اجنحۃ ، یعنی اسنادا۔
یہ کیا ہی عمدہ احادیث ہیں اگر ان کے پر ہوتے یعنی سندیں۔
(الاسناد من الدین، ص20)

اور بھی کافی اقوال ہیں جناب لیکن اتنا کافی ہے جناب کے لئے اب ان ائمہ نے بے سند اقوال اور بے دلائل اقوال پر توجہ نہ کی تو جناب کو چاہیے ان ائمہ کے بارے میں کچھ کہیں جب کہ یہ سب ائمہ  تابعین اور تبع تابعین سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس لئے ویسے بھی اصول حدیث کی رو سے بے سند اقوال اور بے دلیل بات کی کوئی اہمیت نہیں ۔

اس لیے جتنے بھی بے سند اور بے دلیل اقوال پیش کریں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا جو بات جناب اصول حدیث کے قوانین سے اور اصول شریعت کے مطابق  پیش کریں ان کی تحقیق کی جائے گی اگر وہ واقعی اصول پر پورا اترے گی تو اسے قبول کر لیا جائے گا اور اگر اصول پر نہیں اترے نہیں تو اسے رد کر دیا جائے گا۔

اور ابھی تک جناب نہ اصول حدیث کے قوانین کے مطابق کوئی بات ثابت کر پائے ہیں اور نہ ہی اصول شریعت کے مطابق عینی گواہ اور قاتل ثابت کر پائے ہیں۔

 

یہ کوئی پی ٹی آئی یا ن لیگ کی بات نہیں ہے جس نے جو کچھ کہہ  دیا وہی مان لیا گیا  اسلامی شریعت میں ہر بات ہر چیز کی تحقیق ہوتی ہے  اور بنا دلائل کے  ثابت کیے اسلام میں کچھ ثابت نہیں ہوتا باقی آپ پر ضد پر اڑے ہیں تو ان میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے میاں ہم تو شریعت کے اصول کے پابند ہیں جناب کی باتوں کے نہیں۔


 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 رضا عسقلانی صاحب   تعجب ہے کہ آپ   8 کتابوں سے ثابت اسناد صحیح و حسن کو   بغیر کوئی کتاب دیکھائے  انکار کرنے کے بعد ان  بغیر اسناد کے اقوال سے

اس بات کا انکار کر رہے ہیں   جسے تقریباً ہر محدث ، ہر محقق  مان چکا ہے ۔  اور اب تو میں نے  صحابہ کرام کی لکھی ہوئی دو کتب جنہیں عالم اسلام میں مانا اور تسلیم کیا جاتا ہے  اور ان کے دو محدثین 

أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني اور  عزیز الدین بن الاثیر ابی الحسن
 علی بن
 محمد الجزریؒ دونوں سے ثابت کیا کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ ہے ۔  لیکن  جناب عسقلانی صاحب آپ  اب ان  محدثین کا بھی انکار فرما رہے ہیں  جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے ۔

اور اس بھی افسوس ناک بات آپ نے   بقول  الدوری کے یحییٰ ابنِ معین کے قول کو  بڑی بےرحمی سے رد فرما دیا جبکہ کہ

دونوں امام حجت اور ثقہ ہیں  ۔ ایسا ہرگز نہیں ہو گا کہ آپ سے آپ کی ان باتوں کو جواب نہیں مانگا جائے گا  میرے دوست

سوشل میڈیا پر جس دن بھی یہ مکمل پوسٹ میں  لگاؤں گا اسی دن آپ سب دوستوں کو مینشن کر کے اہل علم کی موجودگی میں آپ کی اک اک بات  آپ

سے یوں ہر محدث و محقق کی تحقیق کو ٹھکرانے اور ائمہ اہل سنت کے اقوال کو دیوار پر مارنے  پر آپ سے وضاحت مانگی جائے گی ، ان شاء اللہ  ۔

 

آپ نے جو یوں یحییٰ ابن معین کی بات کو رد کیا ہے تو بتائیں کہ ابن حبان کی ثقات کی اس کتاب کو کس کھاتے میں ڈالیں گے ؟

 

0hh.thumb.png.82ae702cf111b0f8026cb49efa2e1f5e.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے ہی   ہم نام محدث کی بات کا انکار فرما رہے ہیں اور اس کی

اسناد صحیح نہیں ہیں تو کیا امام حجر عسقلانی نے غلطی سے یا تسامح کھا کر

ابوالغادیہ کو قاتل لکھا ََ ۔ آپ نے لکھا کہ  ابن معین کا لکھ دینا  کسی کے لیے حجت نہیں ہو سکتا ، تو ابن حجر

تو امام حاکم کو ، امام مسلم کو ، ابن معین کو  حجت مان رہے ہیں اور اور روایات درج کرنے کے بعد

 ابوالغادیہ کو قاتل بھی قرار دے ہیں اور پہلے ان سے ثابت کیا کہ ابن حجر نے عوام الناس کو یہ اگاہی بھی دی

جوشیخ ابو الحسن محمد بن عبد الہادی ٹھٹوی سندھی مدنی الحنفی نے دی تھی کہ :

ابوالغادیہ جب بھی معاویہ کے دروازے پر آتا تو کہتا کہ

عمارؓ کا قاتل آیا ہے ۔    پہلی پوسٹ میں مکمل کتاب اوپر لگی پڑی ہے ۔

اب امام حجر کی دوسری کتاب بھی پڑھ ہی لیں ۔ اور روایات بھی بغور دیکھ لیں ۔

اور ساتھ ہی ائمہ اھل سنت کو پڑھیں جن کو

ابنِ حجر حجت مان رہے ہیں ۔

 

556.thumb.png.371a1ae77203b372d40f4d03902dca3c.png555.thumb.png.ee2365ba4d6b68b52ea2962b8817c37d.png

 

اب ابن حجر عسقلانی کی تیسری 

إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة کتاب

 

01.thumb.png.a7234c0835ba9f07490b6b3de4eead42.png

02.thumb.png.ff1cf04d6384c89e590bac5cce537b01.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب  ابن حجر عسقلانی نے

اپنی تین کتابوں سے ابو الغادیہ  کو قاتل ڈکلئیر کر دیا ۔

جب آپ رضا عسقلانی صاحب بقلم خود اپنے مبارک ہاتھوں سے کلثوم بن جبر کو ثقہ

تسلیم لکھ اور کر چکے ہیں جو کہ میرے پاس محفوظ ہے تو پھر جناب بار بار بے سند اقوال  اور روایات

کا شور کیوں ؟ اور پھرابن حجر عسقلانی نے بھی کلثوم بن جبر کی اس بات کی تصدیق کر دی ہو کہ 

قاتل ِ عمارؓ ابوالغادیہ ہی ہے ۔

------------------------

نوٹ : رضا عسقلانی صاحب آپ نے جو اقوال پر اپنی آخری پوسٹ لگائی ہے اس کا بہت بہت

شکریہ ، جناب میری اک مشکل تو حل فرما دیں کہ بقول آپ کے ان اقوال 

کے اب فتوی رضویہ میں موجود اک بہت اہم فتوی

جس کے ذریعے آپ کے دوست و احباب  معاویہ بن ابواسفیان کو  باغی کہنے پر جو کہ

صحیح سند سے ثابت ہے  ،  جہنم کا کتا بنا کر واصلَ جہنم فرماتے ہیں اس کی حیثیت

آپ کے اقوال کی روشنی میں کیا ہو گی ؟ باقی فتووں کی اسناد پر اب بات بھی ہوتی رہا کرے گی ان شاء اللہ ۔

-----------------------------

شکریہ

-------

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
7 hours ago, ghulamahmed17 said:

رضا عسقلانی صاحب   تعجب ہے کہ آپ   8 کتابوں سے ثابت اسناد صحیح و حسن کو   بغیر کوئی کتاب دیکھائے  انکار کرنے کے بعد ان  بغیر اسناد کے اقوال سے

اس بات کا انکار کر رہے ہیں   جسے تقریباً ہر محدث ، ہر محقق  مان چکا ہے ۔

ارے جناب تعجب تو جناب پر ہے ایک ہی ضعیف روایت کو 8 کتابوں سے دیکھایا تو کون سا تیر مار دیا ہے روایت تو ایک ہی ہے سند بھی ایک ہی تو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا فائدہ؟؟

باقی جناب نے جو دعوی کیا صحیح و حسن اسناد کا ہم اوپر ان کا کی اسناد کا پوسٹ مارٹم کر آئے ہیں ان میں ایک کا بھی جواب نہیں دیا ۔

یزیدی مان چکے ہیں ہم تو ان کو تحقیقی طور پر ضعیف ثابت کر چکے ہیں اگر یزیدی سلفی ہی جناب کے نزدیک محدث اور محقق ہیں تو جناب کو مبارک ہوں  ورنہ ہم تو ایسے لوگوں کی باتیں نہیں مانتے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
8 hours ago, ghulamahmed17 said:

اور اب تو میں نے  صحابہ کرام کی لکھی ہوئی دو کتب جنہیں عالم اسلام میں مانا اور تسلیم کیا جاتا ہے  اور ان کے دو محدثین 

أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني اور  عزیز الدین بن الاثیر ابی الحسن
 علی بن
 محمد الجزریؒ دونوں سے ثابت کیا کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ ہے ۔  لیکن  جناب عسقلانی صاحب آپ  اب ان  محدثین کا بھی انکار فرما رہے ہیں  جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے ۔

بے شک ان ائمہ نے صحابہ کرام کے حالات پر کتب لکھیں تو کوئی نہ کوئی دلائل سے لکھا ہو گا نا یا خود سے ایسے لکھی دی کیا یہ ائمہ صحابہ کے زمانے میں تھے؟؟

اگر نہیں تھے تو سند بیان کی ہوگی  اور ان ائمہ نے خود سند سے بیان نہیں کیا تو اور ائمہ نے سند سے بیان کیا ہو گا کیونکہ یہ ائمہ خود ناقل ہیں یہ خود روایت نہیں کرتے اس لیے جو انہوں اس بات کی سند  لکھی ہے تو جناب پر فرض ہے وہ پیش کریں ورنہ امام شعبہ کا قول صحیح سند کے ساتھ قول دیکھ لیں:

کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل
ہر ایسی حدیث جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔
(ادب الاملاء والاستملاء ص13، المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17،الکامل فی ضعفاءالرجال  ج 1 ص 107)

یہ ہم نہیں خود محدثین کا اصول اس کو رد کر رہا ہے میاں اس لئے اصول محدثین پر بات کرو ہم پر الزام نہ لگاو کیونکہ ہم تو اصول پر چلنے والے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

9 hours ago, ghulamahmed17 said:

اور اس بھی افسوس ناک بات آپ نے   بقول  الدوری کے یحییٰ ابنِ معین کے قول کو  بڑی بےرحمی سے رد فرما دیا جبکہ کہ

دونوں امام حجت اور ثقہ ہیں  ۔ ایسا ہرگز نہیں ہو گا کہ آپ سے آپ کی ان باتوں کو جواب نہیں مانگا جائے گا  میرے دوست

سوشل میڈیا پر جس دن بھی یہ مکمل پوسٹ میں  لگاؤں گا اسی دن آپ سب دوستوں کو مینشن کر کے اہل علم کی موجودگی میں آپ کی اک اک بات  آپ

سے یوں ہر محدث و محقق کی تحقیق کو ٹھکرانے اور ائمہ اہل سنت کے اقوال کو دیوار پر مارنے  پر آپ سے وضاحت مانگی جائے گی ، ان شاء اللہ 

ارے میاں ہم تو ائمہ حدیث کے اصولوں پر بات کرتے ہیں ورنہ جناب کی طرح ایسی باتوں سے استدلا ل شروع کر دیں تو فساد برپا ہو جائے گا کیونکہ ثقہ محدثین سے ایسے عجیب و غریب قول ہیں جیسے امام ابوحاتم نے  حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کر دیا ہے  امام ابن ابی حاتم اپنے والد سے لکھتے ہیں: 

سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ

(المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43)

لو جیسے امام ابن معین کا قول بنا دلیل کے مان رہے تو اب یہاں بھی امام ابوحاتم الرازی کا قول بھی بنا دلیل کے مان لو کیونکہ یہی جناب کی واردات چل رہی ہے اس قول کو مان کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کر دو۔ معاذاللہ

اس لئے کہا ہے ہم ان ائمہ کا ادب ضرور کرتے ہیں لیکن ہر بات کو ایسے نہیں مان لیتے جیسے جناب نے استدلال کیے ہوئے ہیں۔۔

ارے جناب ضرور لگائیں پوسٹ ہم تو کب کا انتظار میں ہیں  کہ کب ہماری باتوں کا جواب دو گے ابھی تک ہماری ایک بات کو جواب نہیں دیا روزانہ وہی پرانی باتیں جن کا ہم کئی بار تحقیقی اور اصولی جواب دے چکے ہیں۔

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
8 hours ago, ghulamahmed17 said:

آپ نے جو یوں یحییٰ ابن معین کی بات کو رد کیا ہے تو بتائیں کہ ابن حبان کی ثقات کی اس کتاب کو کس کھاتے میں ڈالیں گے ؟

 

0hh.thumb.png.82ae702cf111b0f8026cb49efa2e1f5e.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے ہی   ہم نام محدث کی بات کا انکار فرما رہے ہیں اور اس کی

اسناد صحیح نہیں ہیں تو کیا امام حجر عسقلانی نے غلطی سے یا تسامح کھا کر

ابوالغادیہ کو قاتل لکھا ََ ۔

ارے میاں پہلے بھی سمجھایا ہے امام ابن معین جنگ صفین میں نہیں تھے اور جب جنگ صفین میں نہیں تھے تو یہ بات کن سے سنی ہے اس کی کوئی سند ہے یا نہیں جناب کے پاس؟؟

اگر صرف اقوال مان لینا ہے تو ایسے بے دلیل اقوال کافی زیادہ ہیں ان میں ایک جناب کو ہم پیش کر دیتے ہیں امام ابوحاتم الرازی کا: 

سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ

(المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43)

چلو اب یہاں اپنے اصول کے مطابق امام ابوحاتم الرازی کا قول بھی مانو بنا کسی چاں چوں کیے کیونکہ تم بھی امام ابن معین کا قول بھی بنا تحقیق کے مان رہے ؟

اگر  اس قول کو ماننے سے انکار کرتے ہو تو پھر امام ابن معین کا بے سند اور بے دلیل قول سے استدلال کیوں کیے ہوئے؟

اب تمہارے اصول سے تم نے یہ دونوں قول ماننے ہیں اگر نہیں مانتے تو یہ دوغلا پالیسی ہے اپنی مرضی کا قول ماتے ہو اور اپنی مرضی کے خلاف قول چھوڑ دیتے ہو۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
8 hours ago, ghulamahmed17 said:

امام حاکم کو ، امام مسلم کو ، ابن معین کو  حجت مان رہے ہیں اور اور روایات درج کرنے کے بعد

 ابوالغادیہ کو قاتل بھی قرار دے ہیں

کسی کو قاتل ثابت کرنے کے لئے شریعت میں عینی گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ  دو سو سال بعد یا تین سال بعد کے بے سند قول یا بے دلائل اقوال سے کچھ ثابت نہیں ہوتا ورنہ تو ایسے قول تو معاذاللہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ہیں کہ وہ یزید کی بیعت اور امیرالمومنین کہنے کو تیار تھے یہی باتیں بھی امام ذہبی  وغیرہ نے لکھی ہیں۔

کوئی بات کو درج کرنے سے وہ بات ان کے نزدیک حجت نہیں ہوتی جب تک وہ ان قول کی تصحیح نہ کر دیں ورنہ امام ذہبی اور امام بن حجر نے بے شمار بے سند باتیں اور ضعیف روایات کو اپنی کتب میں درج کر دی ہیں  جو خود ان کے اصول کے مطابق صحیح نہیں ہیں۔

اصل بات اصول کی ہوتی ہے ورنہ رطب وبابس کتب میں موجود رہتا ہے  جب کوئی مسئلہ ہو گا تو اصول کے مطابق ہی بات کی جایئے گی نہ کہ درج کرنے اسے حجت مانا جائے گا ورنہ تو بہت سے محدثین نے موضوع روایات درج کر دی ہیں تو کیا وہ ان کے نزدیک حجت ہیں؟؟

نہیں ہرگز نہیں ان کا کام ہے ہر وہ بات جو انہیں ملے وہ درج کر دیتے ہیں بعد میں وہ خود یا بعد کے علماء اس کی تحقیق کرتے ہیں جیسے امام ذہبی نے مستدرک کی روایات کی تحقیق کی ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
8 hours ago, ghulamahmed17 said:

اب امام حجر کی دوسری کتاب بھی پڑھ ہی لیں ۔ اور روایات بھی بغور دیکھ لیں ۔

اور ساتھ ہی ائمہ اھل سنت کو پڑھیں جن کو

ابنِ حجر حجت مان رہے ہیں ۔

 

556.thumb.png.371a1ae77203b372d40f4d03902dca3c.png555.thumb.png.ee2365ba4d6b68b52ea2962b8817c37d.png

 

اس روایت کی امام ابن حجر نے تصحیح نہیں کی ہے  امام ابن حجر نے  بس روایت نقل کر دی ہے۔ باقی یہ حاشیہ امام ابن حجر کا نہیں ہے لہذا امام ابن حجر سے اسے منسوب کرنا باطل ہے۔

باقی یہ وہی پرانی روایت ہے جس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ایک مجہول راوی ہے جس کی نشان دہی ہم کئی بار کر چکے ہیں لیکن جناب اسے کتب بدل بدل کر پوسٹ کرتے رہتے ہیں جب کہ روایت ایک ہی ہے۔

اس کی پہلی سند میں وہی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری سند کو امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں منقطع قرار چکے ہیں اس کا حوالہ بھی ہم پہلے دے چکے ہیں جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔

 

ارے جناب جب ہمارے رد کا کوئی جواب نہین دیتے پھر وہی پرانی روایات کو کتب بدل بدل کر کیونکہ پوسٹ کرتے رہتے ہو؟؟

ارے میاں ہزار کتب بدل لو سند ایک ہی رہتی ہے اس لئے کتابیں بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
8 hours ago, ghulamahmed17 said:

اب ابن حجر عسقلانی کی تیسری 

إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة کتاب

 

01.thumb.png.a7234c0835ba9f07490b6b3de4eead42.png

02.thumb.png.ff1cf04d6384c89e590bac5cce537b01.png

 

جناب رضا عسقلانی صاحب  ابن حجر عسقلانی نے

اپنی تین کتابوں سے ابو الغادیہ  کو قاتل ڈکلئیر کر دیا ۔

ارے میاں پوسٹ چپکانے سے پہلے غور سے پڑھ لیا کرو۔ اس کتاب میں امام عسقلانی نے کوئی قاتل نہیں لکھا بلکہ یہ حاشیہ بھی کسی اور کا ہے امام عسقلانی کا نہیں ہے اور اس کے علاوہ  اس میں تو امام عسقلانی نے احادیث اطراف جمع کیے ہیں۔ اس لئے قاتل والی بات کو امام عسقلانی کی کتاب  إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة کی طرف منسوب کرنا باطل ہے۔

اس لئے تحقیق سے کام لیا کرو اندھا دھند پوسٹ نہ چپکایا کرو۔

 

8 hours ago, ghulamahmed17 said:

جب آپ رضا عسقلانی صاحب بقلم خود اپنے مبارک ہاتھوں سے کلثوم بن جبر کو ثقہ

تسلیم لکھ اور کر چکے ہیں جو کہ میرے پاس محفوظ ہے

ہاہاہاہا

ارے میاں میں کلثوم بن جبر کو ضعیف پہلے کہاں کہا ہے پہلے یہ تو ثابت کرو پھر ایسی بات کرنا میں نے جو بات کی تھی جو یہ  کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کلثوم بن جبر کا سماع ثابت نہیں ہے ۔

لیکن جناب نے اس بات کو ثابت نہیں کیا اور مجھ پر ایسے الزام لگا دیا کہ  میں کلثوم بن جبر کو ضعیف سمجھتا ہوں حیرت کا مقام ہے یار آپ پر تو؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites
Guest
This topic is now closed to further replies.

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.