Sign in to follow this  
Followers 0
Hanfi-Barelvi

صرف حضرت عزرائیل علیہ السلام کوموت کا فرشتہ کیوں مقرر کیا گیا

1 post in this topic

Posted (edited) · Report post

جبرائیل علیہ السلام پر رب العالمین کا حکم ہوا کہ ایک مشت خاک زمین پر سے لاؤ بحکم الہٰی جبرائیل علیہ السلام بلندی سے آسمان کی فوراً اس زمین پر آئے کہ اب جہاں خانہ کعبہ ہے چاہا کہ ایک مشت خاک لیں اس وقت زمین نے ان کو قسم دی کہ اے جبرائیل برائے خدا مجھ سے خاک مت لے کہ اس سے خلیفہ پیدا ہو گا اوراس کی اولاد بہت عاصی و گنہگار مستوجب عذاب ہو گی میں مسکین خاک پا ہوں طاقت و تحمل عذاب خدا کا نہیں رکھتی ہوں، اس بات کو سن کر

 
 


حضرت جبرائیل علیہ السلام خاک سے باز آئے۔ غرض اسی طرح سے جبرائیلؑ پھر گئے اور میکائیل اور اسرافیل علیہما السلام سے بھی یہ کام انجام کو نہ پہنچا۔تب عزرائیل کو بھیجا ان کو بھی زمین نے منع کیا انہوں نے نہ مانا اور کہا کہ جس کی قسم دیتی ہے میں اس کے حکم سے آیا ہوں میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا تجھ کو لے ہی جاؤں گا۔ پس عزرائیلؑ نے ہاتھ نکال کر ایک مٹھی بھر خاک اسی سرزمین سے لے کر عالم بالا پر چلے گئے اور عرض کی کہ خداوند تو دانا و بینا ہےمیں نے یہ حاصل کیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عزرائیل علیہ السلام میں اس خاک سے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کروں گا اور اس کی جان قبض کرنے کے لئے تجھی کو مقرر کروں گا۔ تب عزرائیل علیہ السلام نے معذرت کی کہیا رب تیرے بندے مجھے دشمن جانیں گے اور گالیاں دیں گے۔ جناب باری نے فرمایا اے عزرائیل تو غم مت کر میں خالق مخلوقات کا ہوں ہر ایک موت کا سبب گردانوں گا اور ہر شخص اپنے اپنے مرض میں گرفتار رہے گا۔ تب دشمن تجھ کو نہ جانے گا۔ کسی کو درد میں مبتلا کروں گا اور کسی کو تپ دق میں اور کسی کو پانی میں غرق کروں گا۔

 

Need Refernce Or Authenticity ...?

Edited by Hanfi-Barelvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.