rehman alvi

kya ya hadees pak sahi hai ali (ra) bi noor hai

12 posts in this topic

میں نے اب یہ سوال پڑھا ہے تحقیق کر کے اس پر آپکو یہی ریپلے کر دونگا ۔ جتنے بھی احادیث کے تعلق سے ، رجال کے تعلق سے  سوال ہوں تو مجھے ٹیگ کر دیا کریں شکریہ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ روایت موضوع ہے اس میں ایک کذاب راوی الحسن بن علی بن البصری ہے 

ویسے تو یہ عمر میں امام احمد بن حنبل سے چھوٹاہے  لیکن حضرت احمد کا ان سے سماع ممکن ہے  

امام دارقطنی اور امام ابن عدی نے اسکو متہم قرار دیا ہے 

اور امام ذھبی نے اسی متن سے مروی اسکی  روایت ابن عساکر سے بیان کی ہے ۔۔۔ 

جس  سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ  تعین صحیح ہے اور یہی راوی ہی ہے سند میں 

اور اس کتاب کے محقق نے بھی یہی تعین کیا ہے 

اور مین نے تسلی سے تقیق کے بعد اسکی موافقت کی ہے 

۱.PNG

474- الحسن بن علي بن صالح بن زكريا بن يحيى بن صالح بن عاصم بن زفر أبو سعيد العدوي البصري.
يضع الحديث، ويسرق الحديث ويلزقه على قوم آخرين ويحدث عن قوم لا يعرفون، وهو متهم فيهم ان الله لم يخلقهم

(الکامل فی الضعفاء الرجال ، امام ابن عدی )

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام  خطیب بغدادی نے اسکا تعارف کرواتے ہوئے اسکے شاگردوں کے نام لکھیں اس میں سے ایک نام کامل بن طلحہ کا ہے 

 

3863- الحسن بن علي بن زكريا بن صالح بن عاصم بن زفر بن العلاء بن أسلم أبو سعيد العدوي البصري سكن بغداد، وحدث بها عن عمرو بن مرزوق، وعروة بن سعيد، ومسدد بن مسرهد، وهدبة بن خالد، وطالوت بن عباد، ’’’’’وكامل بن طلحة‘‘‘‘‘‘، وحوثرة بن أشرس، وعبد الله بن معاوية الجمحي، وشيبان بن فروخ، وجبارة بن مغلس، وخراش بن عبد الله، وغيرهم.ش

(تاریخ بغداد)

اور امام احمد نے اپنی اسی کتاب میں  الحسن سے کامل بن طلحہ کے طریق سے روایت لکھی ہے جس سے حتمی  کہنا اب صحیح ہے کہ محقق نے بھی حاشیے میں اس روایت میں اس راوی کا صحیح تعین کیا ہے 

امام احمد سے الحسن بن علی البصری کی کامل بن طلحہ سے مروی روایت یون ہے 

 

693 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثَمَانِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لِمَنْ أَحَبَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَفِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ثَمَانُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَلْعَنُونَ مَنْ أَبْغَضَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ» .

(فضائل الصحابہ امام احمد بن حنبل )

Share this post


Link to post
Share on other sites

1140 - حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ قثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ سَالِمٍ، نا أَشْعَثُ ابْنُ عَمِّ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، وَكَانَ يُفَضَّلُ عَلَيْهِ، نا مِسْعَرٌ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَكْتُوبٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولِ اللَّهِ، قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ السَّمَاوَاتُ بِأَلْفَيْ سَنَةٍ ".

 

آپ نے یہ روایت  پیش کی ہے یہ بھی سخت ضعیف ہے روایت اس میں ایک راوی   زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي جو کہ متروک و ضعیف ہے 

 

211 - زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي مَتْرُوك الحَدِيث ضَعِيف

(الضعفاء والمتروكون النسائی)

 

 

238 - زكريا بن يحيى الكسائي، الكوفي عن يحيى بن سالم الأسدي، متروك أيضا.

(: الضعفاء الضعفاء والمتروكون الردارقطنی)

 

یہ متروک ہونے کے ساتھ ساتھ غالی شیعہ یعنی رافضی بھی تھا  ایک روایت کو امام ابن عدی بیان کر کے کہتے ہیں اسکے  رراوی بشمول زکریا بن یحییٰ الکسائی سمیت  غالی شیعہ  تھے اہل کوفہ کے!

حدثنا أبو يعلى، حدثنا زكريا بن يحيى الكسائي، حدثنا علي بن القاسم، عن معلى بن عرفان عن شقيق عن عبد الله، قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم أخذ بيد علي، وهو يقول الله وليي وأنا وليك ومعاد من عاداك ومسالم من سالمك.
قال الشيخ: وهذان الحديثان غير محفوظين بهذا الإسناد ورواة هذا الحديث

تهمون المعلى بن عرفان، وعلي بن القاسم وزكريا بن يحيى الكسائي كلهم غالين من متشيعي أهل الكوفة ولمعلى بن عرفان غير ما ذكرت.

(الکامل فی الضعفاء امام ابن عددی ،  برقم ۱۸۵۱)

 

نیزامام ذھبیؒ خود اسکو المغنی فی الضعفا  میں درج کر کے راٖفضی  لکھتے ہیں 

2203 - زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي
عَن مُحَمَّد بن فُضَيْل رَافِضِي هَالك

(المغني في الضعفاء

۱.PNG

Share this post


Link to post
Share on other sites

باقی  جو یہ حدیث ہے : 

 

1133 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الزَّهْرَانِيُّ قثنا أَبِي قثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا، فَتَزَحْزَحَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ أَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسُرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ: «أَهْلُ الْفَضْلِ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَلَا يَعْرِفُ لِأَهْلِ الْفَضْلِ فَضْلَهُمْ إِلَّا أَهْلُ الْفَضْلِ» .

اس میں وہی الحسن بن علی البصری راوی ہے ضعیف 

 

اس سے اگلی روایت 

1134 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ دَاوُدَ الْأُبُلِّيُّ بِالْأُبُلَّةِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ النَّهْدِيُّ الْكُوفِيُّ قثنا كَادِحُ بْنُ رَحْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولِ اللَّ

اور 

1135 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ، قثنا كَادِحٌ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «عَلِيٌّ أَخِي، وَصَاحِبُ لِوَائِي»

ان دونوں روایات  کا مرکزی راوی ابو یعلی  حمزہ بن ابی داود ہے جو کہ متروک ہے 

اسکی کوئی تعدیل نہیں سوائے جرح کے 

1107 - حمزة بن داود بن سليمان بن الحكم، أبو يعلى المؤدب.
• قال السهمي: سألت الدَّارَقُطْنِيّ عن حمزة بن داود بن سليمان بن الحكم بن الحجاج بن يوسف المؤدب، أبي يعلى بالأبلة؟ فقال: ذاك لا شيء. (278) .

(میزان الاعتدال)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی جاتیں تھی ؟ اور کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟
-------------
-5d32c72a0e84f_FazaileSahabaByImamAhmedBinHanbal_0000.thumb.jpg.51f2ec89b6d5d18539466b9b4930913d.jpg

99.png.1caa89f46f45f1839c5482aaa811ed17.png

Edited by baber

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 7/12/2019 at 3:02 AM, اسد الطحاوی said:

یہ روایت موضوع ہے اس میں ایک کذاب راوی الحسن بن علی بن البصری ہے 

ویسے تو یہ عمر میں امام احمد بن حنبل سے چھوٹاہے  لیکن حضرت احمد کا ان سے سماع ممکن ہے  

............................

.............امام احمد نے اپنی اسی کتاب میں  الحسن سے کامل بن طلحہ کے طریق سے روایت لکھی ہے....................

 

جزاک اللہ خیرا۔

اسد بھائی نے روایت کے جھوٹے ہونے کی صحیح وضاحت کردی ہے۔ اور راوی کا صحیح تعیین کر دیا ہے ۔

بس اس میں ایک چھوٹی سی وضاحت یہ ہے کہ امام احمدؒ اپنے شیوخ کے معاملے میں بہت محتاط ہیں ۔ اور ائمہؒ نے ذکر کیا ہے کہ ان کے شیوخ ثقہ ہیں ۔ اگرچہ یہ علی الاطلاق نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں تفصیل ہے ۔لیکن بہر حال اگر کوئی یہ بات بھی کرے تو دراصل یہ روایات امام احمدؒ کی روایت سے ہے ہی نہیں ۔ 

بلکہ فضائل صحابہ رضی اللہ عنہ کتاب ان کے بیٹے عبد اللہ بن احمد ؒ نے روایت کی ہے اور اس میں بہت اضافات کئے ہیں ۔پھر ان سے بھی نیچے کے راوی ابوبکر ابن مالک القطیعیؒ ہیں انہوں نے بھی  ۔ کتاب میں اضافات کئے ہیں ۔ اوراس کا ذکر کتاب میں موجود ہے ۔ پہلے امام احمدؒ کی روایات ہیں پھر اس کے بعد ابو بکر قطیعیؒ کے اضافات ہیں ۔۔ج۲ص۶۰۹ 

وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ

یعنی وہ روایات جو ابوبکر قطیعی کی اپنے شیوخ سے ہیں ، عبد اللہ بن احمدبن حنبلؒ کے علاوہ۔

اور یہ مذکورہ روایت اسی حصہ کی یعنی اضافات قطیعی  میں سے ہے ۔

چناچہ یہ   راوی الحسن بن علی بن البصری ۔۔امام احمد بن حنبل ؒ کا شیخ نہیں بلکہ ابوبکر قطیعیؒ کا شیخ ہے ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.