Sign in to follow this  
Followers 0
waseemazhari774

ماں کی پکار پر نماز توڑ دینا ؟؟؟؟؟ کیا یہ حدیث سہی ہے

1 post in this topic

ماں کی پکار پر نماز توڑ دینا

 

کیا یہ حدیث صحیح ہے :

 

کاش میری ماں زندہ ہوتی ، اور میں عشاء کی نماز کے لئے مصلی پر کھڑا ہوتا ، اور سورہ فاتحہ شروع کرچکا ہوتا ، ادھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اور میری ماں پکارتی : محمد،

تو میں ان کے لئے نماز توڑ دیتا اور میں کہتا : لبیک اے ماں ۔

 

الجواب : یہ حدیث دو طرح کے الفاظ سے وارد ہے :

 

1-عن طلق بن علي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا وَأَنَا فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ، وَقَدْ قَرَأْتُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ يُنَادِينِي: يَا مُحَمَّدُ؛ لأَجْبُتُه لَبَّيْكَ . شعب الإيمان (10/ 284) ، مصنفات أبي جعفر ابن البختري (ص: 210) ، الموضوعات لابن الجوزي (3/ 85) .

 

2-عن طَلْقَ بْن عَلِيٍّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا ، وَقَدِ افْتَتَحْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، فَقَرَأْتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَدَعَتْنِي أُمِّي تَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ ، لَقُلْتُ لَبَّيْكِ . البر والصلة لابن الجوزي (ص: 57) ، كنز العمال (16/ 470) .

 

حدیث کا ترجمہ : اگر میں میرے والدین، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پاتا ، جبکہ میں عشاء کی نمازشروع کرکے سورہ فاتحہ پڑچکا ہوتا ، اور وہ مجھے پکارتے (یا ماں پکارتی ) : اے محمد ، تو میں جوابا : لبیک کہتا ۔

 

اوپر سوال میں بعض الفاظ اصل حدیث پر زائد ہیں ، جو روایت میں وارد نہیں ہیں ۔

 

اس حدیث کی اسانید کا مدار : یاسین بن معاذ الزیات ہے ، وہ عبد اللہ بن قُرَیر سے ، اور وہ طلق بن علی سے روایت کرتے ہیں ۔

عبد اللہ بن قریر کے والد کا نام کتابوں میں محرف آتاہے ( مرثد ، قرین ، قوید ) یہ سب تحریف ہے ، صحیح ( قُرَیر ) ہے ، دیکھو ( الاکمال لابن ماکولا (7/ 84) ۔

ابن الجوزی اور ابو الشیخ کی روایت میں ( فدعَتنی اُمی ) ہے ، اسی سے ہمارے یہاں : اور میری ماں پکارتی ، کے الفاظ مشہور ہیں ۔

 

حدیث کا حال : یہ حدیث سند کے لحاظ سے نا قابل اعتبار ہے ، چونکہ اس میں مدار سند : یاسین الزیات ہے ، جو ناقدین کے نزدیک بہت سخت مجروح ہے ، اس کی روایات نکارت سے خالی نہیں ہے ، اس لئے اس روایت کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنا درست نہیں ہے ۔

 

البتہ اس مضمون کی دوسری احادیث منقول ہیں ، لیکن وہ بھی ضعف وانقطاع سے خالی نہیں ہیں ، مثلا :

 

1- ... عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَتْكَ أُمُّكَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ» . مصنف ابن أبي شيبة (2/ 191 حديث 8013 ) مرسل .

 

2- ... الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: قَالَ مَكْحُولٌ: " إِذَا دَعَتْكَ وَالِدَتُكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ " . شعب الإيمان (10/ 285) .

قال ابن الملقن في التوضيح لشرح الجامع الصحيح (9/ 286) : فأما مرسل ابن المنكدر فالفقهاء على خلافه ولا أعلم به قائلًا غير مكحول .

 

وفي فتح الباري لابن حجر (6/ 483) : وَحَكَى الْقَاضِي أَبُو الْوَلِيدِ أَنَّ ذَلِكَ يَخْتَصُّ بِالْأُمِّ دون الْأَب ، وَعند ابن أَبِي شَيْبَةَ مِنْ مُرْسَلِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ مَا يَشْهَدُ لَهُ ، وَقَالَ بِهِ مَكْحُولٌ ، وَقِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بِهِ مِنَ السَّلَفِ غَيْرُهُ .

 

3- ... الْحَكَمُ بْنُ الرَّيَّانِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَوْشَبٍ الْفِهْرِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ كَانَ جُرَيْجٌ الرَّاهِبُ فَقِيهًا عَالِمًا لَعَلِمَ أَنَّ إِجَابَتَهُ أُمَّهُ أَوْلَى مِنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ». رواه الحسن بن سفيان في مسنده، والترمذي في النوادر، وأبو نُعيم في المعرفة، والبيهقي في الشعب . كما في المقاصد الحسنة (ص: 551) .

قال ابن مندة : "غريب تفرد به الحكم بن الريان عن الليث" .

ومن هذا الطريق أخرجه أبو نعيم في "الصحابة" (2283) وقال : "حوشب أبو يزيد الفهري مجهول" . وكذا يزيد ولده مجهول .

وَفِي سنده أيضا : مُحَمَّد بن مُوسَى السامي الْقرشِي مُتَّهم بالوضع .

 

متن کےمذکورہ شواہد بھی اتنے مضبوط نہیں ہیں جو اصل روایت کی تقویت کے قابل ہوں ، اس لئے اس حدیث کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنے میں احتیاط کرنا چاہئے ۔

 

 

Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.