Jump to content
IslamiMehfil
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By اسد الطحاوی
      امام زھیر بن معاویہ کا امام ابو حنیفہ کو خراج تحسین!

       
      امام ابن عبدالبرؒ اپنی مشہور تصنیف الانتقاء في فضائل الثلاثةمیں اپنے شیخ الشیخ امام ابو یعقوب الصیدلانی کی سند سے امام زہیر بن معاویہ ؒ کے امام ابو حنیفہؓ کے بارے میں بہت عمدہ مداح نقل کی ہے جسکی سند و متن یوں ہے

       
      قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ نَا أَبُو جَعْفَرٍ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ نَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ قَالَ نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ زُهَيْرٌ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ فَقَالَ مِنْ عِنْدِ أَبِي حَنِيفَةَ فَقَالَ زُهَيْرٌ إِنَّ ذَهَابَكَ إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ يَوْمًا وَاحِدًا أَنْفَعُ لَكَ مِنْ مَجِيئِكَ إِلَيَّ شَهْرًا

       
      امام علی بن الجعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ زہیر بن معاویہ کے پاس موجود تھے ، ایک شخص ان کے پاس آیا تو زہیر نے اس سے دریافت کیا تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا امام ابو حنیفہؓ کے پاس سے ! تو زہیر نے فرمایا : تمہارا ایک دن امام ابو حنیفہ کے پاس جانا ، تمہارے لیے میرے پاس ایک ماہ آنے سے زیادہ نفع بخش ہے

       
      امام زہیر بن معاویہ ؒ کا تعارف!
      امام ذھبیؒ انکے بارے میں سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں :

       
      26 - زهير بن معاوية بن حديج بن الرحيل الجعفي * (ع)
      الحافظ، الإمام، المجود، أبو خيثمة الجعفي، الكوفي، محدث الجزيرة، وهو أخو حديج، والرحيل.
      كان من أوعية العلم، صاحب حفظ وإتقان.
      (سیر اعلام النبلاء برقم ۲۶)

       
      یہ صحیحین کے راوی ہیں متفقہ اور علم کے سمند او ر اعلیٰ درجے کہ محدث الوقت تھے !

       
      سند کے رجال کی تحقیق!
      اس سند کے پہلے راوی امام ابو یعقوب الصیدلانی المکی محدث ہیں جن کے بارے میں امام ذھبیؒ نے سیر اعلام میں مسند مکہ جیسے لقب استعمال کیے ہیں اور امام ابن عبدالبر نے اپنی دوسری تصنیف الاسذکار میں ان سے مروی ایک روایت کی توثیق تو تصحیح کی ہے یعنی امام ابن عبدالبر کے نزدیک یہ ثقہ ہیں
      اور امام ابو یعقوب الصیدلانی امام عقیلی کے شاگرد ہیں اور امام ابن عبدالبر کے شیخ الشیخ ہیں یعنی امام ابن عبدالبر کے شیخ امام حکم بن منذر ہیں اور اکے شیخ امام ابو یعقوب الصیدلانی ہیں
      یہ امام عقیلی کی کتاب الضعفا ء روایت کرنے والے مرکزی راوی ہیں اور اسی کتاب میں امام عقیلی نے امام ابو حنیفہ کے ترجمے میں فقط جرح اور طعن نقل کیا جسکے جواب میں امام ابو یعقوب الصیدلانیؒ نے اپنے شیخ کے اس تعصب کے جواب میں غیر حنفی ہوتے ہوئے امام ابو حنیفہؓ کے بارے میں جو مداح اور توثیق جنکو امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے پرہیزکیا تو امام الصیدلانی نے انکو جمع کیا اور ایک مکمل کتاب تشکیل دی جسکا نام تھا فضائل ابو حنیفہ و اخبار
      یہ کتاب امام ابن عبدالبرؒ کے پاس موجود تھی تو یہ اعتراض کرنا کہ امام الصیدلانی اور امام ابن عبدالبر کے زمانے میں فرق ہے یہ بات صحیح نہیں کیونکہ امام ابن عبدالبر کے شیخ حکم بن منذر ؒ ہیں اور انکے شیخ الصیدلانی ہیں
      امام ابن عبدالبر کے پاس امام الصیدلانی محدث مکہ کی تصنیف کردہ کتاب تھی اسکا ثبوت بھی ہم امام ابن عبدالبر ہی سے اسی کتاب سے پیش کرتے ہیں چنانچہ ایک جگہ امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں ـ

       
      كُلُّ هَؤُلاءِ أَثَنَوْا عَلَيْهِ وَمَدَحُوهُ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ ذَكَرَ ذَلِكَ كُلَّهُ أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ الْمَكِّيُّ فِي كِتَابِهِ الَّذِي جَمَعَهُ فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَخْبَارِهِ حَدَّثَنَا بِهِ حَكَمُ بْنُ مُنْذر رَحِمَهُ اللَّهُ
      (الانتقاء في فضائل الثلاثة ،ص ۱۳۷

       
      ترجمہ:امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں : یہ سب وہ حضرات ہیں جنہوں نے امام ابو حنیفہ کی تعریف کی ہے اور مختلف الفاظ کے زریعہ انکی تعریف بیان کی ہے ان سب کا تذکرہ امام ابو یعقوب یوسف بن احمد بن یوسف مکی نے اپنی کتاب میں کیا ہے جو انہوں نے امام ابو حنیفہ کے فضائل اور انکے حالات کے بارے میں مرتب کی ہے اس کے بارے میں حکم بن منذر نے ہمیں بیا نکیا ہے
      امام ابن عبدالبر کی اس تصریح سے یہ واضح ہوگیا کہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی تو انقطاع کا اعتراض کرنا باطل ہے

       
      امام الصیدلانی کی توثیق:

       
      امام ابن عبدلابر نے ایک روایت کو نقل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں اللہ کے نبی ﷺ کا یہ قول عادل راویوں سے ثابت ہے اور پھر وہ جوحدیث رسول کی سند نقل کرتے ہیں ان میں امام الصیدلانی بھی موجود ہیں اور ان سے مروی حدیث کے بارے امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں یہ حدیث عادل راویوں سے ثابت ہے
      (الاستذکار برقم ۷۳ٌ)

       

       
      سند کا دوسرا راوی: امام ابو جعفر عقیلی ( صاحب الضعفاء )

       
      امام عقیلی مشہور محدث و ناقد انکی تعارف کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی انکے بارے میں امام ذھبی کے الفاظ نقل کرتے ہیں سیر سے
      93 - العقيلي أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى *
      الإمام، الحافظ، الناقد، أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى بن حماد، العقيلي الحجازي، مصنف كتاب (الضعفاء)
      (سیر اعلام النبلاء برقم ۹۳)

       

       

       
      سند کا تیسرا راوی : ابو شعیب الحرانی

       
      امام ذھبی نے انکو العبر میں ثقہ فرمایا ہے
      وفيها أبو شعيب الحراني عبد الله الحسن بن أحمد بن أبي شعيب الأموي الؤدب نزيل بغداد في ذي الحجة. روى عن يحيى البابلتي وعفان وعاش تسعين سنة وكان ثقة.
      (العبر في خبر من غبر، ص ۴۲۸)

       

       

       

       
      سند کا چوتھا راوی : امام علی بن الجعد ؒ

       
      یہ امام ابو یوسف کے اصحاب میں سے تھے اور متفقہ ثقہ محدثین احناف میں سے تھے انہوں نے امام ابو حنیفہ کی زیارت کی تھی اور یہ صحیحین کے مرکزی راویوں میں سے ہیں اور امام بخاری و امام ابو داود کے شیخ ہیں
      امام ذھبیؒ انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں :
      152 - علي بن الجعد بن عبيد البغدادي * (خ، د)
      الإمام، الحافظ، الحجة، مسند بغداد، أبو الحسن البغدادي،
      (سیر اعلام النبلاء برقم ۱۵۲)
      اور یہ اصحاب امام زھیر بن معاویہؒ میں سے ہیں

       
      تمام حوالاجات کے اسکین موجود ہیں

       
      ((((((( دعاگو: رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی))))))

       
       
       


    • By AqeelAhmedWaqas
      Download Book: (15.96 MB)

      http://books.nafseislam.com/temp_download/download_books.php?book_id=1575&book=imam-e-azam-abu-hanifa

      ۔(جس میں سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت مبارکہ، انکا علمِ حدییث، علم فقہ، وصایا شریف، مخالفین سے انکی ثقاہت کا بیان، تذکرۂ اساتذہ و تلامذہ،  فقہ حنفی کی وجہ ترجیح، فقہ و تقلید پر اعتراضات کے مدلل جوابات کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے)۔



    • By Aashiq Koun
      غیر مقلد حضرات امام ابو حنیفہؒ پہ مرجئیہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن غیر مقلدین کے مشہور  عالم ابراہیم میر سیالکوٹی امام ابو حنیفہ ؒ کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ '' بعض مصنفین نے امام ابو حنیفہؒ اور ان کے شاگردوں کو رجال مرجئیہ میں شمار کیا ہے ۔۔۔۔۔۔علماء نے اس کا جواب کئی طریقے سے دیا ہے، اول یہ کہ یہ آپ ؒ پہ بہتان ہے ، آپؒ مخصوص فرقہ مرجئیہ سے نہیں ہوسکتے'' ( تاریخ اہلحدیث، صفحہ 56،57،58) غیر مقلد عالم ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب نے اپنی کتاب تاریخ اہلحدیث میں تفصیل سے امام ابو حنیفہؒ پہ لگائے جانیوالے تمام الزامات کا دفاع کیا ہے اور آخر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ '' ائمہ کرام ؒ کی بے ادبی اور توہین کرنا دنیا اور آخرت دونوں جہاں کے نقصان کا باعث ہے۔ (تاریخ اہلحدیث،صفحہ 72)  ان مشہور غیر مقلد عالم کا امام ابو حنیفہؒ کا دفاع کرناموجودہ دورکے ان  تمام غیر مقلدین کے منہ پر طمانچہ ہےجو امام ابو حنیفہؒ کی توہین اوربے اد بی کرتے ہیں اور ان پہ کفر اور شرک کے جھوٹے فتوے لگاتے ہیں۔  
       
    • By WaseemAkmal
      قاضي ابو يوسف (في المعرفة والتارخ للفسوي) kya ye Sach ha?



      حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ: أَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ جَهْمِيًّا؟ قَالَ: نَعَمْ.



      قُلْتُ: أَكَانَ مُرْجِئًا؟ قَالَ: نَعَمْ.



      ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے کہا، مجھ سے محمد بن معاذ نے کہا، کہ میں نے سعید بن مسلم کو سنا کہ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو یوسف سے کہا کہ کیا ابو حنیفہ جہمی تھے ؟ ابویوسف نے کہا : ہاں۔ میں نے کہا کیا وہ مرجئی تھے؟ ابویوسف نے کہا : ہاں۔








×
×
  • Create New...