ghulamahmed17

کیا معاویہ بن ابوسفیان خلیفہِ راشد تھے ؟

47 posts in this topic

Posted (edited) · Report post

 

Quote

میں نے تیسرا قول پیش کیا جس میں مسلسل کی بات ہی نہیں تھی اورسب کا عمل ہدایت اور دین حق پر لکھا ہے۔ اور ان میں حضرت معاویہ کا نام ہے۔اور ان کو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بعد خلافت راشدہ عادلہ عامہ حاصل ہے۔

 

جناب سعیدی صاحب  میں نے بالکل وہ قول آپ کی طرف منسوب نہیں کیا ۔ 

وہ عام  روٹین میں لکھا کہ یہ آپ کے مسلسل خلفاء  کی  تعداد بارہ مکمل ہو گئی ۔

اگر  مجھے یہ یقین ہوتا کہ آپ مسلسل خلفاء کی بات کر رہے تو پھر میں اسی کو زیر بحث لاتا ۔

جب  بار بار کہنے کے باوجود آپ کے دوٹوک موقف  سامنے نہیں آ رہا تھا  تب ہی تو اتنا کچھ لکھنا پڑا۔

 

اب آپ کا دو ٹوک موقف آ گیا ہے کہ امیر معاویہ 

خلیفہ ہیں ۔

عادل ہیں

اور قیامت تک کے عادل  بارہ خلفاء میں شامل ہیں 

جناب سعیدی صاحب کیا میں نے آپ کا موقف صحیح سمجھا ؟

------------------ 

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

میں نے تیسرا قول پیش کیا جس میں مسلسل کی بات ہی نہیں تھی اورسب کا عمل ہدایت اور دین حق پر لکھا ہے۔ اور ان میں حضرت معاویہ کا نام ہے۔اور ان کو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بعد خلافت راشدہ عادلہ عامہ حاصل ہے۔

 

جناب سعیدی صاحب  میں نے بالکل وہ قول آپ کی طرف منسوب نہیں کیا ۔ 

وہ عام  روٹین میں لکھا کہ یہ آپ کے مسلسل خلفاء  کی  تعداد بارہ مکمل ہو گئی ۔

اگر  مجھے یہ یقین ہوتا کہ آپ مسلسل خلفاء کی بات کر رہے تو پھر میں اسی کو زیر بحث لاتا ۔

جب  بار بار کہنے کے باوجود آپ کے دوٹوک موقف  سامنے نہیں آ رہا تھا  تب ہی تو اتنا کچھ لکھنا پڑا۔

 

اب آپ کا دو ٹوک موقف آ گیا ہے کہ امیر معاویہ 

خلیفہ ہیں ۔

عادل ہیں

اور قیامت تک کے بارہ خلفاء عادلین میں شامل ہیں    


  سوال: جناب سعیدی صاحب   امیر معاویہ کی 

خلافت راشدہ عادلہ عامہ کب شروع ہوئی ؟؟؟

 

------------------ 

پلیز پوسٹیں ڈیلیٹ کر کے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ، جب اور جہاں سے

مرضی ہے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی جاتی ہے ۔ کبھی پوسٹ ڈیلیٹ 

اور کبھی مکمل ٹاپک غائب 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

 

کونسی پوسٹ ڈیلیٹ ہوئی ہے؟؟

قادری سلطانی یہ پوسٹ میں نے تھوٹی تبدیلی کے ساتھ دوسری مرتنہ لگائی ہے جو جناب سعیدی صاحب کے

نام اوپر موجود ہے ۔

 

اب مہربانی فرمائیں اور سعیدی صاحب کو جواب لکھنے دیں اور

آپ خود لکھنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب لکھیں ۔

 

 

اب آپ کا دو ٹوک موقف آ گیا ہے کہ امیر معاویہ 

خلیفہ ہیں ۔

عادل ہیں

اور قیامت تک کے بارہ خلفاء عادلین میں شامل ہیں    


  سوال: جناب سعیدی صاحب   امیر معاویہ کی 

خلافت راشدہ عادلہ عامہ کب شروع ہوئی ؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

جواب سعیدی صاحب ہی لکھیں گے لیکن چونکہ آپ نے پوسٹس کو ڈیلیٹ کرنے کا کہا تو اسکے متعلق میں نے پوچھا لیکن آپ کبھی سیدھی بات کا سیدھا جواب نہیں دیتے اسکی مجھے تو آج تک وجہ سمجھ نہیں آئی

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 9/20/2019 at 4:49 AM, ghulamahmed17 said:

 

اب آپ کا دو ٹوک موقف آ گیا ہے کہ امیر معاویہ

خلیفہ ہیں ۔

عادل ہیں

اور قیامت تک کے بارہ خلفاء عادلین میں شامل ہیں    


  سوال: جناب سعیدی صاحب   امیر معاویہ کی 

خلافت راشدہ عادلہ عامہ کب شروع ہوئی ؟؟؟

جناب والا

خلفائے راشدین کے بعد امام حسن کا نام اور پھر امیرمعاویہ کا نام لکھا نظر  آ رہا ہوگا۔اسی میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکتا تھا۔یہ بات الصواعق المحرقہ،تاریخ الخلفاء،فیض القدیرمناوی میں دیکھیں۔خلافت راشدہ خاصہ میں قطبیتِ کبریٰ بھی شامل تھی۔ اب وہ الگ ہوگئی اور خلافتِ راشدہ عامہ رہ گئی جسے خلافتِ حقہ یا عادلہ یا مملکتِ عادلہ بھی کہا جاتا ہے۔

On 9/20/2019 at 4:49 AM, ghulamahmed17 said:

 

اب آپ کا دو ٹوک موقف آ گیا ہے کہ امیر معاویہ

خلیفہ ہیں ۔

عادل ہیں

اور قیامت تک کے بارہ خلفاء عادلین میں شامل ہیں    


  سوال: جناب سعیدی صاحب   امیر معاویہ کی 

خلافت راشدہ عادلہ عامہ کب شروع ہوئی ؟؟؟

جناب والا

خلفائے راشدین کے بعد امام حسن کا نام اور پھر امیرمعاویہ کا نام لکھا نظر  آ رہا ہوگا۔اسی میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکتا تھا۔یہ بات الصواعق المحرقہ،تاریخ الخلفاء،فیض القدیرمناوی میں دیکھیں۔خلافت راشدہ خاصہ میں قطبیتِ کبریٰ بھی شامل تھی۔ اب وہ الگ ہوگئی اور خلافتِ راشدہ عامہ رہ گئی جسے خلافتِ حقہ یا عادلہ یا مملکتِ عادلہ بھی کہا جاتا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

 سعیدی صاحب آخر ماجرا کیا ہے آپ لوگ ہمہشہ بات کو

کئی معنی پہنا دیتے ہیں َ

 

میں نے آپ سے صرف دو لفظوں میں پوچھا ہے کہ 


  سوال: جناب سعیدی صاحب   امیر معاویہ کی 

 چلیں میں بات کو مذید آسان کرتا ہوں یہ خلافت امام حسن سے پہلے شروع

ہوئی یا بعد  میں شروع ہوئی ؟

چلیں اب صرف پہلے یا بعد میں لکھ دیں ۔

خلافت راشدہ عادلہ عامہ کب شروع ہوئی ؟؟؟

  جب بھی شروع ہوئی وہ لکھ دیں ۔

-----------------------------

 

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

جناب

جب خلافتِ امام حسن کے بعد

ھم نے

معاویہ کو عادل خلیفہ کہا

تو کس عقلمند کو ابھی تک سمجھانے کی ضرورت باقی رہ جاتی ھے؟

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

Quote

 

جناب

جب خلافتِ امام حسن کے بعد

ھم نے

معاویہ کو عادل خلیفہ کہا

تو کس عقلمند کو ابھی تک سمجھانے کی ضرورت باقی رہ جاتی ھے؟

 

02p.thumb.png.a935ad48ab413a27610401a248984e45.pngPicture2.thumb.png.799333d1c7521549788eb0fd019b31bd.png

جناب سعیدی صاحب

یہاں آپ سے سوال یہ بھی ہے کہ اس وقت

خلافت راشدہ  کا اصل حقدار کون تھا ؟

 

بنو امیہ خلافت راشدہ  کے حق دار تھے ؟

یا

حضرت علیؓ خلافت راشدہ کے حقدار تھے ؟

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

محترم میں نے خلافتِ حسن  علیہ السلام کے بعد، خلافتِ معاویہ کو حق کہا ہے۔

لیکن

آپ نے حق قبول نہیں کرنا اگرچہ حسنین کریمین کا فیصلہ ہو۔

 

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

محترم میں نے خلافتِ حسن  علیہ السلام کے بعد، خلافتِ معاویہ کو حق کہا ہے۔

لیکن

آپ نے حق قبول نہیں کرنا اگرچہ حسنین کریمین کا فیصلہ ہو۔

 

 

سعیدی صاحب آپ اس خلافت کا جواب دیں جو امام حسن علیہ السلام کی صلح سے

پہلے  امیر معاویہ نے خود کو خلیفہ نامزد کیا ۔

میرا سوال مشکل نہیں  تھا جو آپ کی سمجھ میں نہیں آیا ۔

اس وقت خلافت کی کی تھی حضرت علیؓ کی یا معاویہ کی ؟

جان بوجھ کر ایسی حرکات اچھی بات نہیں ، دوٹوک جواب لکھا کریں ۔

Picture2.png

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں نے حضرت علی کی خلافت کے دوران یا حضرت حسن کی خلافت کبھی بھی امیرمعاویہ کو خلیفہ نہیں بتلایا تو مجھ سے آپ کا  یہ سوال کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ یا تو میرا جواب ہی نہیں پڑھتے یا  دھوکہ دہی کے لئےجان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

میں نے حضرت علی کی خلافت کے دوران یا حضرت حسن کی خلافت کبھی بھی امیرمعاویہ کو خلیفہ نہیں بتلایا تو مجھ سے آپ کا  یہ سوال کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ یا تو میرا جواب ہی نہیں پڑھتے یا  دھوکہ دہی کے لئےجان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ۔

 

Picture2.png

 

جناب سعیدی صاحب 
میں نے آپ کے بارے کہیں نہیں لکھا کہ آپ نے حضرت علیؓ

کی خلافت کے دوران امیر معاویہ کی خلافت کا لکھا ہے ۔

آپ اگر میرا سوال نہیں سمجھ  پا رہے جبکہ میں نے کتاب آپ کے سامنے رکھی ہے ۔

آپ نے لکھا کہ حضرت حسن کے بعد امیر معاویہ خلیفہ بنیں

میں نے عرض کیا اگر حضرت حسن کے بعد

امیر معاویہ خلیفہ بنے تو یہ  اس خلافت کا کیا کریں گے ؟
امیر معاویہ کی یہ خلافت کس قسم کی خلافت تھی جو وہ خود:

" حضرت علیؓ کے دور خلافت میں صفین ( حکمین فی صفین " کا

واقع پیش آیا اور امیر معاویہ نے اسی دن اپنے آپ کو خلیفہ سے
موسوم کیا "

جناب محترم سعیدی صاحب پہلے بھی

میرا سوال واضح اور دوٹوک تھا  اور اب پھر لکھ دیا ہے ۔

یہ جو امیر معاویہ نے حضرت علیؓ کی خلافت کے

دوران ہی خود کو خلیفہِ موسوم کیا مجھے اس کا جواب چاہیے کہ :
کیا یہ بھی امیر معاویہ کی خلافتِ راشدہ ہی تھی ؟
بس اس کا جواب لکھ دیں کہ یہ خلافت
کی کونسی قسم ہے ؟
--------------------------- 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 10/6/2019 at 6:39 AM, ghulamahmed17 said:

حضرت علیؓ کے دور خلافت میں صفین ( حکمین فی صفین " کا واقع پیش آیا اور امیر معاویہ نے اسی دن اپنے آپ کو خلیفہ سے موسوم کیا۔ جناب محترم سعیدی صاحب پہلے بھی میرا سوال واضح اور دوٹوک تھا  اور اب پھر لکھ دیا ہے ۔یہ جو امیر معاویہ نے حضرت علیؓ کی خلافت کےدوران ہی خود کو خلیفہِ موسوم کیا مجھے اس کا جواب چاہیے

جناب والا! یہ درست بات نہیں کہ معاویہ نے خود حکمین کے فیصلہ کے بعد کوخود کو خلیفہ سے موسوم کیا ۔ہاں ! یہ درست ہے کہ تاریخ طبری وغیرہ  میں لکھا ہے کہ عمرو اوراہل شام  حکمین کےفیصلے سے واپس معاویہ کے پاس پہنچے تو(سَلَّمُوا عَلَيْهِ بالخلافة) اُنہوں نے اُس کو خلیفہ کہہ کر سلام کیا۔تاہم طبری نے اس سند یوں(قَالَ أَبُو مخنف: حَدَّثَنِي أَبُو جناب الكلبي أن عمرا وأبا مُوسَى) بیان کی۔اور ابومخنف کی بات پر ہمیں کتنا بھروسہ ہے، وہ آپ جانتے ہی ہیں۔

پھر ہماری گفتگو مطلق لفظِ خلیفہ میں نہیں تھی(جو بمعنی حاکم ہے) بلکہ عادل وراشد خلیفہ ہونے کے متعلق تھی ۔

رہا صلحِ حسن سے پہلے کا معاملہ تو وہ تاویل(اجتہاد) کی خطا ہے،اور اُس وقت جناب معاویہ اپنے اجتہاد وتاویل میں خطا  کے باعث بغاوت کے مرتکب تھے۔     

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 


پھر ہماری گفتگو مطلق لفظِ خلیفہ میں نہیں تھی(جو بمعنی حاکم ہے) بلکہ عادل وراشد خلیفہ ہونے کے متعلق تھی ۔

رہا صلحِ حسن سے پہلے کا معاملہ تو وہ تاویل(اجتہاد) کی خطا ہے،اور اُس وقت جناب معاویہ اپنے اجتہاد وتاویل میں خطا  کے باعث بغاوت کے مرتکب تھے۔

 

 

 میں جانتا سعیدی صاحب  آپ سیدھی بات کا کبھی سیدھا جواب دینے کی ہمت  نہیں رکھتے

میں نے حوالہ میں اوپر امام جلال الدین سیوطی کی  کتاب کا 

حوالہ لگا رکھا ہے ، آپ طبری کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔

 میں دس بار  اس سوال کا جواب مانگ چکا ہوں مگر آپ ہر بار ٹال مٹول فرماتے ہیں ۔ چلیں میں 

اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے  آپ کے سر قرض  کے طور پر چھوڑتا ہوں ۔

آپ نے لکھا کہ عادل اور راشد پر بات کی جائے ۔

 

کتنی کتابوں میں لکھا پڑا ہے کہ مروان نے حضرت  ظلحہؓ کو قتل کیا ۔

 

اب جس بندے نے عشرہ مشرہ صحابی رسولﷺ کو قتل کیا تھا اس کو

 

  عادل اور راشد معاویہ نے مدینہ کا حاکم بنا کر ممبر رسولﷺ پر بیٹھا دیا ۔

 

 جناب سعیدی صاحب کیا اک عادل اور راشد خلیفہ  کسی قاتل اور ظالم کو مدینہ  کا گورنر بناتا ہے ؟ 

 

چلیں اگر آپ پہلے عادل اور راشد پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ثابت فرمائیں کہ

 

اک عادل و راشد خلیفہ اک قاتل اور ظالم کو مدینہ کا حاکم بنا سکتا ہے ؟

--------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 10/11/2019 at 7:25 PM, ghulamahmed17 said:

میں نے حوالہ میں اوپر امام جلال الدین سیوطی کی  کتاب کا حوالہ لگا رکھا ہے ، آپ طبری کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔

بات یہ ہے کہ تاریخ الخلفاء کے عربی الفاظ  (وتسمى بالخلافة)کا ترجمہ مترجم نے درست نہ کیا تھا، (اورخلافت سے موسوم کیا گیا )کی بجائے (اپنے آپ کو خلیفہ سے موسوم کیا) کے ترجمہ سے جو غلط فہمی پیدا ہو رہی تھی وہ میں نے طبری کی روایت سے کلیئر کی اگرچہ آپ کے اوپر سے گزر گئی ہے۔

On 10/11/2019 at 7:25 PM, ghulamahmed17 said:

کتنی کتابوں میں لکھا پڑا ہے کہ مروان نے حضرت  ظلحہؓ کو قتل کیا ۔

ابن کثیر نے دوسرا قول لکھا ہے کہ مروان کے علاوہ  حضرت طلحہ کوکسی اور کا تیر لگاتھا۔اور ابن کثیر نے اُسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔اگر معاملہ اتنا واضح ہوتا تو حضرت طلحہ کے وارث کسی کو قصاص کے لئے نامزدکرتے۔ اگر حضرت معاویہ کے سامنے حضرت طلحہ کے کسی وارث نے مروان کو قصاص کے لئے نامزد کیا ہو اور حضرت معاویہ نے اس کے بعد مروان کو گورنر بنایا ہوتو ثبوت پیش کرو۔

On 10/11/2019 at 7:25 PM, ghulamahmed17 said:

چلیں اگر آپ پہلے عادل اور راشد پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ثابت فرمائیں کہ اک عادل و راشد خلیفہ اک قاتل اور ظالم کو مدینہ کا حاکم بنا سکتا ہے ؟

حضرت علی نے محمد بن ابوبکر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجا حالانکہ حضرت نائلہ نے  حضرت علی کے سامنےاُسے قاتلانِ عثمان کا شریکِ کار نامزد کیا تھا۔اس کلیہ کے ہوتے ہوئے آپ حضرت علی کو  خلیفہ راشد کس منہ سے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں؟

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

ابن کثیر نے دوسرا قول لکھا ہے کہ مروان کے علاوہ  حضرت طلحہ کوکسی اور کا تیر لگاتھا۔اور ابن کثیر نے اُسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔اگر معاملہ اتنا واضح ہوتا تو حضرت طلحہ کے وارث کسی کو قصاص کے لئے نامزدکرتے۔ اگر حضرت معاویہ کے سامنے حضرت طلحہ کے کسی وارث نے مروان کو قصاص کے لئے نامزد کیا ہو اور حضرت معاویہ نے اس کے بعد مروان کو گورنر بنایا ہوتو ثبوت پیش کرو۔

 

ابن کثیر جس کا اپنا رجحان ناصبیت کی طرف تھا اس 

کے دوسرے قول کو ترجیح دینے سے کیا مروان بے گناہ ثابت ہو جاتا ہے ؟

 ایسے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جبتکہ آپ سند سے ثابت نہ کریں ۔آپ ہر پوسٹ پر ہی 

ضعیف و کمزور حوالہ جات لکھ کر وقت گزاری کر رہے ہیں ۔ ہرگز یہ مروان کی بےگناہی کا کوئی ثبوت

 نہیں ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں  اور نہ ہی اسے قبول کیا جا سکتا ہے ۔

 

 

Quote


 

حضرت علی نے محمد بن ابوبکر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجا حالانکہ حضرت نائلہ نے  حضرت علی کے سامنےاُسے قاتلانِ عثمان کا شریکِ کار نامزد کیا تھا۔اس کلیہ کے ہوتے ہوئے آپ حضرت علی کو  خلیفہ راشد کس منہ سے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں؟

 

 

سعیدی صاحب   میں نہیں سمجھتا تھا کہ آپ  فتح مکہ کے طلقاء

کے مقابلہ میں خلیفہِ راشد سیدنا علیؓ پر  اتنا بڑا الزام لگائیں گے ۔

آپ نے تو کمال ہی کر دیا ہے ۔

وہ خلیفہِ راشد جس نے خلافت کو زینت بخشی ، وہ خلیفہِ راسد

حق جس کے ساتھ تھا اور  قرآن جس کے ساتھ تھا وہ اتنا ظالم بھی

ہو سکتا ہے کہ حضرت عثمان کے قاتل کو گورنر بھی بنا سکتا ہے ۔

یہ آپ کی بہت بڑی ہمت ہے جناب

اب آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ محمد بن ابو بکر کو حضرت عثمان

کا صحیح اسناد کے ساتھ  قاتل ثابت فرمائیں ۔

ہمت کیجیے جناب

اور ثابت فرمائیں کہ محمد بن ابی بکر حضرت عثمان کا

قاتل تھا اور حضرت علی

نے قصاص لینے کی بجائے اک قاتل کو گورنر یا حاکم بنا دیا ۔

مجھے امید ہے کہ آپ  اپنے لگائے گئے الزام

کو اھل سنت کی کتابیں پیش فرما کر ثابت فرمائیں گے ۔

-----------------------------------

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب آپ نے طلحہ رضی اللہ عنہ کے کسی وارث سے مروان کو الزام علیہ بنائے بغیر اُسے گورنر بنانے کے فعل کو خلافت عادلہ کی نفی کی بنیاد بنایا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے جناب کے بارے مسلمہ قاعدہ کلیہ کو الزاما جناب پر لوٹایا ھے ۔ ۔ ۔ میرا وہ مسلک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ آپ کا مسلک آپ کو مبارک ہو ۔ ۔ ۔ جناب مرتضیٰ مشکل کشا کو جو FIR پیش ھوئی اُسے پڑھو۔ ۔ ۔ وارثان طلحہ کی ایف آئی آر کی سند پیش کرو تو آپ کو آپ کی مطلوبہ سند بھی پیش کر دیں گے انشاءاللہ ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

Quote

جناب آپ نے طلحہ رضی اللہ عنہ کے کسی وارث سے مروان کو الزام علیہ بنائے بغیر اُسے گورنر بنانے کے فعل کو خلافت عادلہ کی نفی کی بنیاد بنایا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے جناب کے بارے مسلمہ قاعدہ کلیہ کو الزاما جناب پر لوٹایا ھے ۔ ۔ ۔ میرا وہ مسلک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ آپ کا مسلک آپ کو مبارک ہو ۔ ۔ ۔ جناب مرتضیٰ مشکل کشا کو جو FIR پیش ھوئی اُسے پڑھو۔ ۔ ۔ وارثان طلحہ کی ایف آئی آر کی سند پیش کرو تو آپ کو آپ کی مطلوبہ سند بھی پیش کر دیں گے انشاءاللہ ۔

 

 جناب سعیدی صاحب آپ بات کوکیوں غلط رنگ دیتے ہیں 

 

میں نے سوال کیا تھا کہ کیا اک  خلیفہِ راشد یا خلیفہِ عادل اک صحابی رسولﷺکے قاتل کو مدینہ کا حاکم یا گورنر بنا سکتا

ہے ؟؟؟

 

آپ نے لکھا کہ حضرت علی نے محمد بن ابو بکر کو کیوں بنایا ؟

 

میں نے عرض کیا ہے کہ وہ عثمان کے قاتل نہیں ہیں اور یہ ثابت ہے ۔

انہوں نے سیدنا عثمان کی داڑھی مبارک پکڑی تھی  جسے حضرت

عثمان کے شرم دلانے پر وہ چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔اور یہی ان کا

گناہ تھا ۔ مگر اس کےعوض بھی معاویہ نے ان کو بے گناہ قتل کرا کر

ان کی لاش کی بے حرمتی  کرائی ۔

 

لہذا میرا سوال وہی ہے کہ آپ کے بقول معاویہ خلیفہِ عادل تھا تو بتائیں کہ قرآن و سنت کی روشنی

میں اک عادل یا راشد خلیفہِ  مروان جیسے قاتل اور ظالم کو حکمران بنا سکتا ہے ؟؟؟

 

آپ کنھی بھی دوٹوک جواب نہیں لکھتے  ہمیشہ بات کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جناب سعیدی صاحب

اس میں کونسی میں نے مشکل بات لکھی ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی ۔

 

مروان قاتل اور ظالم تھا اور معاویہ نے حاکم مدینہ بنایا  اس پر آپ کی حضرت علی کے بارے

کوئی بھی دلیل کارگر ثابت اس لیے نہیں ہو گی کہ وہ تو ہیں ہی خلیفہِ راشد

مسئلہ تو امیر معاویہ کا ہے جس کو آپ بھی خلیفہِ راشد یا عادل ثابت فرمانا چاہتے ہیں ۔

 

لہذا  اب پھر پوچھتا ہوں کہ کیا اک عادل اور راشد خلیفہ اک قاتل کو

مدینہ کا حاکم بنا سکتا ہے ؟ اس کا جواب لکھیں ۔

--------------------------

 

ا

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرے مشفق آپ بھول رھے ھیں ۔ خلافت راشدہ خاصہ کے لئے تو پیمانے اور بھی سخت ھو جاتے ہیں ۔ جو بات عادل خلیفہ کے لئے ناجائزہ ھو تو خاص خلفائے راشدین کے لئے وہ بدرجہ اولیٰ ناجائز ھو گی۔

اگر الزام علیہ مروان کو معاویہ گورنر بنائے تو اعتراض کرتے ہو، اور مولا مرتضیٰ اگر الزام علیہ محمد بن ابوبکرؓ کو گورنر بنائیں تو چپ سادھ لیتے ھو، کیا تمہارے لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور ہیں؟ 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
Quote

 

میرے مشفق آپ بھول رھے ھیں ۔ خلافت راشدہ خاصہ کے لئے تو پیمانے اور بھی سخت ھو جاتے ہیں ۔ جو بات عادل خلیفہ کے لئے ناجائزہ ھو تو خاص خلفائے راشدین کے لئے وہ بدرجہ اولیٰ ناجائز ھو گی۔

اگر الزام علیہ مروان کو معاویہ گورنر بنائے تو اعتراض کرتے ہو، اور مولا مرتضیٰ اگر الزام علیہ محمد بن ابوبکرؓ کو گورنر بنائیں تو چپ سادھ لیتے ھو، کیا تمہارے لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور ہیں؟

 

 ہر پوسٹ پر آپ  اپنی ہی رد کی ہوئی بات کو پھر دھراتے ہیں ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟

جب میں نے لکھا کہ اگر حضرت علیؓ نے حضرت عثمان کے قاتل کو کوئی بھی عہدہ دیا

تو وہ بھی پھر خلیفہِ عادل نہیں ہیں مگر شرظ یہ ہے کہ آپ سند صحیح کے ساتھ یہ ثابت فرما دیں کہ حضرت 

 محمد بن ابو بکر حضرت عثمان کے قاتل ہیں ؟  جب اوپر میں نے اس کا ثبوت مانگا تو آپ بڑی خوب صورتی سے میرا سوال ٹال گئے

اب پھر دوبارہ آپ نے وہی سوال دوبارہ لکھ مارا ہے ۔

محترم اب پہلے محمد بن ابو بکر کو حضرت عثمان کا قاتل ثابت فرما لیں اور اگر وہ قاتل آپ ثابت نہ کر فرمائیں 

تو معاویہ اور اس کے گرنروں کا ان کو قتل کرنا اور ان کی لاش کی بے حرمتی کرنے کا جواز بھی مہیا کر دیں کہ اس پر معاویہ اور

اس کے لوگوں کو کتنا اجر اور ثواب ملا ؟

 

---------------------------

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.