• ×   You have pasted content with formatting.   Remove formatting

      Only 75 emoticons maximum are allowed.

    ×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

    ×   Your previous content has been restored.   Clear editor

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By اسد الطحاوی
      الامام شعبہ بن حجاجؓ سے امام ابو حنیفہؓ نعمان بن ثابت کی مداح و تعدیل اور ان سے مروی جروحات کی اسنادی حیثیت پر تحقیق
       
      کچھ وہابیہ امام شعبہ بن الحجاجؒ سے امام ابو حنیفہ پر ضعیف اور کذاب راویوں سے جروحات پیش کرتے ہیں  تو ہم پیش کرتے ہیں  کہ امام شعبہؒ اور امام ابو حنیفہ ؓ دونوں نا صرف بہت اچھے دوست تھے بلکہ ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہتے تھے
      پہلے ہم وہابیہ کی طرف سے امام شعبہؒ سے امام ابو حنیفہ  پر طعن پیش کیا گیا جبکہ یہ سند میں علت  ہے اور یہ متن بھی منکر ہے
      امام عقیلی ( جو کہ متشدد اور متعصب تھا احناف سے )
      اس نے اپنی کتاب الضعفاء  میں امام ابو حنیفہؒ پر تمام   غلط جروحات نقل کی ہیں  انکا تعصب  اور پھر اس تعصب نے انکے جید شاگرد امام اصیدلانی جو کہ محدث مکہ تھے  انکو اپنے استاذ عقیلی کے رد میں  کتاب لکھنی پڑی   سیرت ابی حنیفہؓ جس میں انہوں نے وہ تعدیل اور مداح نقل کی ہے محدثین سے جسکو جانتے ہوئے بھی امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے رکے رہے
      جسکی تفصیل آگے آئے گی
      خیر وہ اپنی سند سے امام شعبہؒ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :
       
      ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻴﻢ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﻤﺮ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑن مسلم
      ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻷﻋﻴﻦ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ﺃﺑﻮ ﺳﻠﻤﺔ اﻟﺨﺰاﻋﻲ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ , ﻭﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ ﻳﻠﻌﻦ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ
       
       
      امام عقیلی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں  کہ    حماد بن سلمہ اور اما م شعبہؒ  امام ابو حنیفہ پر طعن کرتے تھے
       
      یہ بالکل امام شعبہؒ پر بہتان ہے  کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی الولید بن مسلم جو کہ ویسے تو صدوق درجے کا راوی ہے
      لیکن  یہ صاحب مناکیر تھے اور یہ تدلیس تسویہ بھی کرتا تھا جسکی وجہ سے یہ کذاب راویوں سے جھوٹی روایتیں بیان کر دیتا تھا
      اور اس پر یہ بھی جرح ہے کہ اس نے امام مالک سے ۱۰ احادیث بیان کی جسکی کوئی اصل ہی نہیں
       اور منکر اور جھوٹی روایاتیں بیان کرنے میں مشہور تھا
      اس پر ہم جروحات پیش کرتے ہیں  جسکے نتیجے میں اس سے مروی یہ روایت منکر اور ضعیف ہے کیونکہ اس نے ثقہ محدث امام ابن معین اور  امام شبابہ  کی مخالفت کرتے ہوئے امام شعبہ سے جرح بیان کی ہے
      جبکہ  امام ابن معین اور شبابہ امام شعبہ سے تعدیل اور مدح نقل کرتے ہیں
      الولید بن مسلم پر محدثین کا کلام !
       
      ۱۔
      وَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدِيثَ عُمَرَ كِلُوهُ إِلَى خَالِقِهِ
       فَقَالَ هَذَا كَذِبٌ
      ثُمّ قَالَ هَذَا كَتَبْنَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ إِنَّمَا هُوَ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ هَذَا كَذِبٌ
      امام احمد بن حنبل الولید بن مسلم کی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کذب  یعنی جھوٹ ہے اور اسکو میں نے ولید سے نقل کیا
      من كلام أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال
       
      امام ذھبی نے اسکی مناکیر اور باطل روایتوں کو بیان کرنے کے بارے میں میزان الاعتدال میں فرماتے ہیں :
      وقال أبو عبيد الآجري: سألت أبا داود عن صدقة بن خالد، فقال: هو أثبت من الوليد بن مسلم، الوليد روى عن مالك عشرة أحاديث ليس لها أصل، منها عن نافع أربعة.
      قلت: ومن أنكر ما أتى حديث حفظ القرآن، رواه الترمذي، وحديثه عن ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه - أن
      رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قعد على فراش مغيبة قيض الله له يوم القيامة ثعبانين.
      قال أبو حاتم: هذا حديث باطل.
      قلت: إذا قال الوليد عن ابن جريج أو عن الأوزاعي فليس بمعتمد، لانه يدلس عن كذابين، فإذا قال: حدثنا فهو حجة.
       
      ابو مسہر کہتے ہیں : ولید تدلیس کرتا تھا اور بعض اوقات یہ کذاب راویوں کے حوالے سے بھی تدلیس کر لیتا تھا ۔
      ولید بن مسلم نے امام مالک کے حوالے سے دس ایسی روایات نقل کی ہیں جنکی کوئی اصل نہیں ہے ان  میں سے چار روایات نافع کے حوالے سے منقول ہیں
      امام ذھبی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں اس کی نقل کردہ سب سے زیادہ منکر روایت وہ ہے جو اس نے قرآن حفظ کرنے کابرے میں روایت کی ہے جس کو امام ترمذی  نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن قتادہ کے حوالے سے انکے والد سے نقل کیا ہے
      ان رسول ﷺ قال: من قعد علی فراش مغیبة قیص اللہ له یوم القیامة ثعبانا
      امام  ابو حاتم کہتے ہیں یہ روایت جھوٹی ہے
      یہ راوی صدوق ہونے کے باوجود بھی مناکیر اور جھوٹی روایتین بیان کرتا تھا
      لیکن  جب  یہ سماع کی تصریح کرے تو حجت ہوتا ہے لیکن  روایات میں انکی نکارت تو ہوتی ہے
      جیسا کہ ہم یہاں ثابت کرینگے اور محدثین کا منہج ہے جو راوی ثقہ کےخلاف کوئی بات بیان کرے تو انکی روایت منکر کہہ کر رد کردی جاتی ہے جیسا کہ امام الدولابی پر نعیم بن حماد کی جرح کو امام ذھبی نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ وہ صاحب مناکیر تھے
       جبکے اسکے مقابلے میں امام شعبہ سے مداح  اور توثیق روایت ہے جو کہ ہم پیش کرتےہیں
      امام ابن عبدالبر المالکی اپنی مشہور کتاب الانتقاء میں اپنے شیخ الشیخ کی کتاب سے امام ابو حنیفہؓ کی توثیق امام ابن معین اور امام شعبہ سے نقل کرتے ہیں جسکی سند یہ ہے
       
      حدثنا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب قال نا أحمد بن الحسن الحافظ قال نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة
       
      ترجمہ:  امام ابن عبدالبر کہتے ہیں ہم سے بیان کیا حکم بن منذر نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ابو یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا احمد بن الحسن الحافظ نے نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عبداللہ بن احمد بن ابراھیم الدروقی نے وہ کہتے ہیں سائل نے یحییٰ بن معین سے ابو حنیفہ سے سماع کے بارے میں پوچھا ؟
      تو امام ابن معین کہتے ہیں ہیں کہ امام ابو حنیفہ ثقہ ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی نے امام ابو حنیفہؓ کو ضعیف کہا ہو اور یہ شعبہ ہیں جو ان کو خط لکھتے تھے کہ وہ حدیث بیان کریں اور انہیں کوئی حکم دیں اور شعبہ تو شعبہ ہیں
      نوٹ:  یہ یاد رہے کہ امام ابن عبدالبر کے پاس انکے شیخ الشیخ یعنی امام ابو یعقوب یوسف الصیدلانی کی تصنیف جو کہ سیرت امام ابی حنیفہ و اخبار پر لکھی گئی تھی وہ انکے پاس موجود تھی  اور یہ اس کتاب سے با اسناد روایات نقل کرتے تھے
      اور امام ابن عبدالبر کو وہ کتاب امام حکم بن منذر نے بیان کی تھی کیونکہ امام  حکم بن منذر شاگرد ہیں امام یعقوب یوسف الصیدلانی کے !
      انکی توثیق پیش کرنے کی ضرورت نہین ہے ویسے کیونکہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام ابو یعقوب الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی جسکی تصریح انہوں نے اپنی کتاب الانتقاء میں کر دی ہے
      اسکی سند بالکل صحیح ہے جس پر پہلے ہی پوسٹ  تحقیقی لگا چکے ہیں ہم
       
      اب ایک اور تعدیل امام شعبہ سے جو امام ابن عدی نے بیان کی ہے
       
      ثنا  ابن حماد قال: و حدثنی  ابو باکر الاعین  حدثنی یعقوب بن شیبہ عن الحسن الحوانی  سعت شبابة یقول : کان شعبة حسن الرائ فی ابی حنیفة
      یعنی امام شعبہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں اچھی خیر کی رائے رکھتے تھے
      اور امام ابن معین سے انکا حدیث  لینا بھی بیان کیا ہے اور یہ بات غیر مقلدین کو بھی معلوم ہےکہ امام شعبہ اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت کرتے ہین
       
      تو جب ولید بن مسلم سے ذیادہ  ثقہ و ثبت راویوں نے امام شعبہ سے توثیق و مداح نقل کی ہے جسکے نتیجے میں اسکی بیان کردہ روایت منکر ٹھہرے گی
      اور امام ابن معین جو امام شعبہ کے نزدیک ترین زمانے کے تھے انکو امام شعبہ کی ابو حنیفہ پر کوئی جرح نہ معلوم تھی بلکہ وہ تو اسکا مطلق انکار کرتے ہیں کہ  انکے زمانے میں کوئی بھی امام ابو حنیفہ پر جرح نہیں کرتا تھا
      اس سے بڑی گواہی اور کیا چاہیے!
       
      ایک دوسری سند بھی امام عقیلی نے بیان کی ہے امام شعبہ  کی امام  ابو حنیفہ پر جرح کے حوالے سے وہ کچھ یوں ہے
       
      ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﻠﻴﺚ اﻟﻤﺮﻭﺯﻱ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ اﻟﺠﻤﺎﻝ [ 282]
      - ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ، ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﻒ ﻣﻦ ﺗﺮاﺏ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ
       
      اسکی سند باطل ہے
      کیونکہ اس میں ایک راوی محمد بن یونس جو کہ امام ابن عدی کے نزدیک متہم تھا  اور یہ روایات چوری کرتا تھا
      امام ابن عدی الکامل میں فرماتے  ہیں  : 
      محمد بن يونس الجمال فرواه، عن ابن عيينة وسرقه من حسين الجعفي.
      کہ الجمال ابن عینیہ سے روایت کرتا ہے اور حسین الجعفی سے یہ روایت چوری کی ہے
      پھر آگے لکھتے ہیں :
      وهو ممن يسرق أحاديث الناس
      کہ یہ لوگوں سے روایت چوری کرتا تھا
      (الکامل فی الضعفاء  جلد ۷ ، ص ۷۵۳)
      معلوم ہوا یہ سند بھی کسی کام کی نہیں نیز امام ابن حجر عسقلانی بھی اسکو ضعیف  مانتے ہیں   اور اسکے متلق یہ بھی کہا گیا ہے امام مسلم نے اس سے روایت کی ہے لیکن اسکا رد  بھی امام ابن حجر عسقلانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں امام مسلم کا اس سے روایت کرنا ثابت ہی نہیں  ہے
      6420- محمد ابن يونس الجمال بالجيم البغدادي ضعيف ولم يثبت أن مسلما روى عنه من العاشرة م
      (تقریب التہذیب)
       
      آگے مزید ہم ایک اور روایت  بھی بیان کرتے ہیں جیسا کہ اوپر امام ابن معین سے بیان کہ کہ اما م شعبہ امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے تھے کہ وہ انکو احادیث بیان کریں اور کوئی نئےاحکامات دیں
      اب ہم امام ابن معین ہی سے بیان کرتے ہیں کہ جب امام ابن معین امام شعبہ کے خطوط حاصل کرتے تھے تو انکی نظر میں امام شعبہ کا کیا مقام تھا ؟ جس سے معلوم ہو کہ ان دونوں حضرات کے آپس میں کتنے خوبصورت تعلقات تھے
      امام یحییٰ بن معین کی کتاب  معرفہ الرجال میں انکے شاگرد بیان کرتے ہیں امام یحییٰ بن معین سے:
      میں نے ابو قطن سے سنا فرماتے ہیں کہ مجھے شعبہؒ نے ایک خط لکھا کہ یہ امام ابو حنیفہؓ کو دو جب میں وہاں گیا اور امام ابو حنیفہ کو دیا تو مجھے فرمانے لگے کہ ابو  بسطام(یہ امام شعبہ کی کنیت تھی )  کیسا ہے ؟ تو میں نے کہا کہ خیریت سے ہیں  تو فرمایا (امام ابو حنیفہ نے) کہ وہ مصر کا بہترین شخص ہے
       
      یہی وہ واقعہ ہے جسکو امام ابن عبدالبر نے اپنی الانتقاء میں نقل کرتے ہوئے امام شعبہ کو امام ابو حنیفہ کے مداحین میں درج کرتے ہوئے اما م ابن معین سے نقل کیا کہ امام ابن معین کہتے ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کوئی امام ابو حنیفہ کو ضعیف کہتا ہو وہ ثقہ ہیں
      اور امام شعبہ جو انکو خطوط لکھتے تھے کہ ہمیں احادیث و احکامات لکھ  دین
      پھر اس بات پر امام ابن معین الحنفیؒ ناز کرتے ہوئے فرماتے ہیں شعبہ تو شعبہ ہے پھر
      یعنی امام شعبہ جیسا ماہر رجال الناقد شخص امام ابو حنیفہ سے روایاتیں لینے کے لیے عرضی کر رہے ہیں خطوط میں اور احکامات بھی لے رہے ہیں تو پھر اور کون شخص ہوگا جو امام ابو حنیفہ پر جرح کرے ؟
      خلاصہ کلام:
      امام شعبہ سے فقط توثیق ہی ثابت ہے اور مداح ثابت ہے اور  اس پر امام ابن معین  کی گواہی ثابت ہے  اگر امام شعبہ امام ابو حنیفہ پر جرح کی ہوتی تو امام شعبہ ضرور اس بات کا زکر ر کرتے لیکن انہوں نے تو امام ابو حنیفہ پر اپنے وقت  میں ایک خاص دور تک جرح کی نفی کی ہے
      لیکن جب بعد میں انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین پر بے تکی جروحات  سنی تو انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا د فا ع کیا ہے جسکی تٖفصیل ہم نے پچھلی پوسٹ میں تفصیل سے بیان کی ہے
      اور امام شعبہ سے جو ایک طعن والی روایت بیان کی گئی ہے وہ منکر ہے  اور ضرور یہ راوی کی طرف سے امام شعبہ پر بہتان ہے
      اور ایسے صاحب مناکیر کی بات کو دوسرے ثقات راویان  طرف سے کی گئی تعدیل  کے مقابلے میں رد کیا جائے گا
       
      دعاگو:اسد الطحاوی  الحنفی  البریلوی !
       
       





    • By اسد الطحاوی
      الامام شعبہ بن حجاجؓ سے امام ابو حنیفہؓ نعمان بن ثابت کی مداح و تعدیل اور ان سے مروی جروحات کی اسنادی حیثیت پر تحقیق
       
      کچھ وہابیہ امام شعبہ بن الحجاجؒ سے امام ابو حنیفہ پر ضعیف اور کذاب راویوں سے جروحات پیش کرتے ہیں  تو ہم پیش کرتے ہیں  کہ امام شعبہؒ اور امام ابو حنیفہ ؓ دونوں نا صرف بہت اچھے دوست تھے بلکہ ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہتے تھے
      پہلے ہم وہابیہ کی طرف سے امام شعبہؒ سے امام ابو حنیفہ  پر طعن پیش کیا گیا جبکہ یہ سند میں علت  ہے اور یہ متن بھی منکر ہے
      امام عقیلی ( جو کہ متشدد اور متعصب تھا احناف سے )
      اس نے اپنی کتاب الضعفاء  میں امام ابو حنیفہؒ پر تمام   غلط جروحات نقل کی ہیں  انکا تعصب  اور پھر اس تعصب نے انکے جید شاگرد امام اصیدلانی جو کہ محدث مکہ تھے  انکو اپنے استاذ عقیلی کے رد میں  کتاب لکھنی پڑی   سیرت ابی حنیفہؓ جس میں انہوں نے وہ تعدیل اور مداح نقل کی ہے محدثین سے جسکو جانتے ہوئے بھی امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے رکے رہے
      جسکی تفصیل آگے آئے گی
      خیر وہ اپنی سند سے امام شعبہؒ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :
       
      ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻴﻢ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﻤﺮ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑن مسلم
      ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻷﻋﻴﻦ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ﺃﺑﻮ ﺳﻠﻤﺔ اﻟﺨﺰاﻋﻲ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ , ﻭﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ ﻳﻠﻌﻦ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ
       
       
      امام عقیلی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں  کہ    حماد بن سلمہ اور اما م شعبہؒ  امام ابو حنیفہ پر طعن کرتے تھے
       
      یہ بالکل امام شعبہؒ پر بہتان ہے  کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی الولید بن مسلم جو کہ ویسے تو صدوق درجے کا راوی ہے
      لیکن  یہ صاحب مناکیر تھے اور یہ تدلیس تسویہ بھی کرتا تھا جسکی وجہ سے یہ کذاب راویوں سے جھوٹی روایتیں بیان کر دیتا تھا
      اور اس پر یہ بھی جرح ہے کہ اس نے امام مالک سے ۱۰ احادیث بیان کی جسکی کوئی اصل ہی نہیں
       اور منکر اور جھوٹی روایاتیں بیان کرنے میں مشہور تھا
      اس پر ہم جروحات پیش کرتے ہیں  جسکے نتیجے میں اس سے مروی یہ روایت منکر اور ضعیف ہے کیونکہ اس نے ثقہ محدث امام ابن معین اور  امام شبابہ  کی مخالفت کرتے ہوئے امام شعبہ سے جرح بیان کی ہے
      جبکہ  امام ابن معین اور شبابہ امام شعبہ سے تعدیل اور مدح نقل کرتے ہیں
      الولید بن مسلم پر محدثین کا کلام !
       
      ۱۔
      وَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدِيثَ عُمَرَ كِلُوهُ إِلَى خَالِقِهِ
       فَقَالَ هَذَا كَذِبٌ
      ثُمّ قَالَ هَذَا كَتَبْنَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ إِنَّمَا هُوَ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ هَذَا كَذِبٌ
      امام احمد بن حنبل الولید بن مسلم کی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کذب  یعنی جھوٹ ہے اور اسکو میں نے ولید سے نقل کیا
      من كلام أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال
       
      امام ذھبی نے اسکی مناکیر اور باطل روایتوں کو بیان کرنے کے بارے میں میزان الاعتدال میں فرماتے ہیں :
      وقال أبو عبيد الآجري: سألت أبا داود عن صدقة بن خالد، فقال: هو أثبت من الوليد بن مسلم، الوليد روى عن مالك عشرة أحاديث ليس لها أصل، منها عن نافع أربعة.
      قلت: ومن أنكر ما أتى حديث حفظ القرآن، رواه الترمذي، وحديثه عن ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه - أن
      رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قعد على فراش مغيبة قيض الله له يوم القيامة ثعبانين.
      قال أبو حاتم: هذا حديث باطل.
      قلت: إذا قال الوليد عن ابن جريج أو عن الأوزاعي فليس بمعتمد، لانه يدلس عن كذابين، فإذا قال: حدثنا فهو حجة.
       
      ابو مسہر کہتے ہیں : ولید تدلیس کرتا تھا اور بعض اوقات یہ کذاب راویوں کے حوالے سے بھی تدلیس کر لیتا تھا ۔
      ولید بن مسلم نے امام مالک کے حوالے سے دس ایسی روایات نقل کی ہیں جنکی کوئی اصل نہیں ہے ان  میں سے چار روایات نافع کے حوالے سے منقول ہیں
      امام ذھبی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں اس کی نقل کردہ سب سے زیادہ منکر روایت وہ ہے جو اس نے قرآن حفظ کرنے کابرے میں روایت کی ہے جس کو امام ترمذی  نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن قتادہ کے حوالے سے انکے والد سے نقل کیا ہے
      ان رسول ﷺ قال: من قعد علی فراش مغیبة قیص اللہ له یوم القیامة ثعبانا
      امام  ابو حاتم کہتے ہیں یہ روایت جھوٹی ہے
      یہ راوی صدوق ہونے کے باوجود بھی مناکیر اور جھوٹی روایتین بیان کرتا تھا
      لیکن  جب  یہ سماع کی تصریح کرے تو حجت ہوتا ہے لیکن  روایات میں انکی نکارت تو ہوتی ہے
      جیسا کہ ہم یہاں ثابت کرینگے اور محدثین کا منہج ہے جو راوی ثقہ کےخلاف کوئی بات بیان کرے تو انکی روایت منکر کہہ کر رد کردی جاتی ہے جیسا کہ امام الدولابی پر نعیم بن حماد کی جرح کو امام ذھبی نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ وہ صاحب مناکیر تھے
       جبکے اسکے مقابلے میں امام شعبہ سے مداح  اور توثیق روایت ہے جو کہ ہم پیش کرتےہیں
      امام ابن عبدالبر المالکی اپنی مشہور کتاب الانتقاء میں اپنے شیخ الشیخ کی کتاب سے امام ابو حنیفہؓ کی توثیق امام ابن معین اور امام شعبہ سے نقل کرتے ہیں جسکی سند یہ ہے
       
      حدثنا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب قال نا أحمد بن الحسن الحافظ قال نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة
       
      ترجمہ:  امام ابن عبدالبر کہتے ہیں ہم سے بیان کیا حکم بن منذر نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ابو یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا احمد بن الحسن الحافظ نے نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عبداللہ بن احمد بن ابراھیم الدروقی نے وہ کہتے ہیں سائل نے یحییٰ بن معین سے ابو حنیفہ سے سماع کے بارے میں پوچھا ؟
      تو امام ابن معین کہتے ہیں ہیں کہ امام ابو حنیفہ ثقہ ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی نے امام ابو حنیفہؓ کو ضعیف کہا ہو اور یہ شعبہ ہیں جو ان کو خط لکھتے تھے کہ وہ حدیث بیان کریں اور انہیں کوئی حکم دیں اور شعبہ تو شعبہ ہیں
      نوٹ:  یہ یاد رہے کہ امام ابن عبدالبر کے پاس انکے شیخ الشیخ یعنی امام ابو یعقوب یوسف الصیدلانی کی تصنیف جو کہ سیرت امام ابی حنیفہ و اخبار پر لکھی گئی تھی وہ انکے پاس موجود تھی  اور یہ اس کتاب سے با اسناد روایات نقل کرتے تھے
      اور امام ابن عبدالبر کو وہ کتاب امام حکم بن منذر نے بیان کی تھی کیونکہ امام  حکم بن منذر شاگرد ہیں امام یعقوب یوسف الصیدلانی کے !
      انکی توثیق پیش کرنے کی ضرورت نہین ہے ویسے کیونکہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام ابو یعقوب الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی جسکی تصریح انہوں نے اپنی کتاب الانتقاء میں کر دی ہے
      اسکی سند بالکل صحیح ہے جس پر پہلے ہی پوسٹ  تحقیقی لگا چکے ہیں ہم
       
      اب ایک اور تعدیل امام شعبہ سے جو امام ابن عدی نے بیان کی ہے
       
      ثنا  ابن حماد قال: و حدثنی  ابو باکر الاعین  حدثنی یعقوب بن شیبہ عن الحسن الحوانی  سعت شبابة یقول : کان شعبة حسن الرائ فی ابی حنیفة
      یعنی امام شعبہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں اچھی خیر کی رائے رکھتے تھے
      اور امام ابن معین سے انکا حدیث  لینا بھی بیان کیا ہے اور یہ بات غیر مقلدین کو بھی معلوم ہےکہ امام شعبہ اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت کرتے ہین
       
      تو جب ولید بن مسلم سے ذیادہ  ثقہ و ثبت راویوں نے امام شعبہ سے توثیق و مداح نقل کی ہے جسکے نتیجے میں اسکی بیان کردہ روایت منکر ٹھہرے گی
      اور امام ابن معین جو امام شعبہ کے نزدیک ترین زمانے کے تھے انکو امام شعبہ کی ابو حنیفہ پر کوئی جرح نہ معلوم تھی بلکہ وہ تو اسکا مطلق انکار کرتے ہیں کہ  انکے زمانے میں کوئی بھی امام ابو حنیفہ پر جرح نہیں کرتا تھا
      اس سے بڑی گواہی اور کیا چاہیے!
       
      ایک دوسری سند بھی امام عقیلی نے بیان کی ہے امام شعبہ  کی امام  ابو حنیفہ پر جرح کے حوالے سے وہ کچھ یوں ہے
       
      ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﻠﻴﺚ اﻟﻤﺮﻭﺯﻱ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ اﻟﺠﻤﺎﻝ [ 282]
      - ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ، ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﻒ ﻣﻦ ﺗﺮاﺏ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ
       
      اسکی سند باطل ہے
      کیونکہ اس میں ایک راوی محمد بن یونس جو کہ امام ابن عدی کے نزدیک متہم تھا  اور یہ روایات چوری کرتا تھا
      امام ابن عدی الکامل میں فرماتے  ہیں  : 
      محمد بن يونس الجمال فرواه، عن ابن عيينة وسرقه من حسين الجعفي.
      کہ الجمال ابن عینیہ سے روایت کرتا ہے اور حسین الجعفی سے یہ روایت چوری کی ہے
      پھر آگے لکھتے ہیں :
      وهو ممن يسرق أحاديث الناس
      کہ یہ لوگوں سے روایت چوری کرتا تھا
      (الکامل فی الضعفاء  جلد ۷ ، ص ۷۵۳)
      معلوم ہوا یہ سند بھی کسی کام کی نہیں نیز امام ابن حجر عسقلانی بھی اسکو ضعیف  مانتے ہیں   اور اسکے متلق یہ بھی کہا گیا ہے امام مسلم نے اس سے روایت کی ہے لیکن اسکا رد  بھی امام ابن حجر عسقلانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں امام مسلم کا اس سے روایت کرنا ثابت ہی نہیں  ہے
      6420- محمد ابن يونس الجمال بالجيم البغدادي ضعيف ولم يثبت أن مسلما روى عنه من العاشرة م
      (تقریب التہذیب)
       
      آگے مزید ہم ایک اور روایت  بھی بیان کرتے ہیں جیسا کہ اوپر امام ابن معین سے بیان کہ کہ اما م شعبہ امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے تھے کہ وہ انکو احادیث بیان کریں اور کوئی نئےاحکامات دیں
      اب ہم امام ابن معین ہی سے بیان کرتے ہیں کہ جب امام ابن معین امام شعبہ کے خطوط حاصل کرتے تھے تو انکی نظر میں امام شعبہ کا کیا مقام تھا ؟ جس سے معلوم ہو کہ ان دونوں حضرات کے آپس میں کتنے خوبصورت تعلقات تھے
      امام یحییٰ بن معین کی کتاب  معرفہ الرجال میں انکے شاگرد بیان کرتے ہیں امام یحییٰ بن معین سے:
      میں نے ابو قطن سے سنا فرماتے ہیں کہ مجھے شعبہؒ نے ایک خط لکھا کہ یہ امام ابو حنیفہؓ کو دو جب میں وہاں گیا اور امام ابو حنیفہ کو دیا تو مجھے فرمانے لگے کہ ابو  بسطام(یہ امام شعبہ کی کنیت تھی )  کیسا ہے ؟ تو میں نے کہا کہ خیریت سے ہیں  تو فرمایا (امام ابو حنیفہ نے) کہ وہ مصر کا بہترین شخص ہے
       
      یہی وہ واقعہ ہے جسکو امام ابن عبدالبر نے اپنی الانتقاء میں نقل کرتے ہوئے امام شعبہ کو امام ابو حنیفہ کے مداحین میں درج کرتے ہوئے اما م ابن معین سے نقل کیا کہ امام ابن معین کہتے ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کوئی امام ابو حنیفہ کو ضعیف کہتا ہو وہ ثقہ ہیں
      اور امام شعبہ جو انکو خطوط لکھتے تھے کہ ہمیں احادیث و احکامات لکھ  دین
      پھر اس بات پر امام ابن معین الحنفیؒ ناز کرتے ہوئے فرماتے ہیں شعبہ تو شعبہ ہے پھر
      یعنی امام شعبہ جیسا ماہر رجال الناقد شخص امام ابو حنیفہ سے روایاتیں لینے کے لیے عرضی کر رہے ہیں خطوط میں اور احکامات بھی لے رہے ہیں تو پھر اور کون شخص ہوگا جو امام ابو حنیفہ پر جرح کرے ؟
      خلاصہ کلام:
      امام شعبہ سے فقط توثیق ہی ثابت ہے اور مداح ثابت ہے اور  اس پر امام ابن معین  کی گواہی ثابت ہے  اگر امام شعبہ امام ابو حنیفہ پر جرح کی ہوتی تو امام شعبہ ضرور اس بات کا زکر ر کرتے لیکن انہوں نے تو امام ابو حنیفہ پر اپنے وقت  میں ایک خاص دور تک جرح کی نفی کی ہے
      لیکن جب بعد میں انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین پر بے تکی جروحات  سنی تو انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا د فا ع کیا ہے جسکی تٖفصیل ہم نے پچھلی پوسٹ میں تفصیل سے بیان کی ہے
      اور امام شعبہ سے جو ایک طعن والی روایت بیان کی گئی ہے وہ منکر ہے  اور ضرور یہ راوی کی طرف سے امام شعبہ پر بہتان ہے
      اور ایسے صاحب مناکیر کی بات کو دوسرے ثقات راویان  طرف سے کی گئی تعدیل  کے مقابلے میں رد کیا جائے گا
       
      دعاگو:اسد الطحاوی  الحنفی  البریلوی !