Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      اکابر و حکیمِ دیوبند 
      جناب اشرف علی تھانوی کی مسئلہ عید میلاد النبی ﷺ پر پوری کتاب ایسا سمجھ لیں کہ یہ کتاب دور حاضر کی دیوبندیت کے لیے منہ مانگی موت ہے اس کتاب میں اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں
      حکیم الامت دیوبند صاحب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عید میلاد لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں ہم اسے باعث برکت سمجھتے ہیں اور جس مکان میں عید میلاد منائی جائے اس میں برکت ہوتی ہے ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 4)
      حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے یومِ ولادت پیر اور تاریخ ولادت بارہ (12) ربیع الاوّل باعث برکت ہیں اس دن و یوم میلاد سے برکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 5)
      حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے اور تمام نعمتیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے ملی ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اصل ہیں تمام نعمتوں کی ۔ (اِرشادُالعِبَاد فِی عِیدِ المیلاد صفحہ نمبر 5 ، 6)
       
      اور مزید بھی اس کتاب میں بہت کچھ موجود ہے پوری کتاب کا پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرکے مطالعہ کریں تحریر کے ساتھ پی ڈی ایف اٹیچ کر دیا جائے گا 
       
      20929014-irshad-ul-ibad-fi-eid-e-milad-ashraf-ali-thanvi.pdf
    • By Aquib Rizvi
      ولادت مولا علی
      امام المحدثین ، ابو حاکم نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ ، حدیث کی شہرہ آفاق تصنیف مستدرک میں لکھتے ہیں : آخری بات میں معصب نے وہم کیا ہے حالانکہ متواتر اخبار سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عین کعبہ کے اندر جنم دیا ہے ۔ (المستدرک حاکم ج 4 ص 197 طبع پاکستان) امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ مصعب کے اس قول کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس بات میں معصب سے غلطی ہوئی ہے کہ وہ حکیم بن حزام کے علاوہ کسی کی ولادت خانہ کعبہ میں نہیں مانتے حالانکہ متواتر روایات سے خانہ کعبہ میں مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ثابت ہوتی ہے . امام حاکم نے چونکہ مصعب کے قول کا رد کرنا تھا اس لئے مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کا یہاں ذکر کیا اور فضائل والے باب میں ذکر نہیں کیا. قول مصعب کا رد کرنے کے لئے اصل موقع یہی تھا کہ مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کا ذکر کر دیا جائے . امام حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے تلخیص مستدرک میں امام حاکم کا قول نقل کیا ہے کہ ولادت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں ہوئی ہے . چنانچہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی ولادت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ میں ہونا تواتر سے ثابت ہے ۔ (تلخیص المستدرک//ذہبی//ج 4// ص 197//حاشیہ5// طبع پاکستان)  
      امام المحدثین ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف " شرح الشفاء" میں لکھتے ہیں : مستدرک حاکم میں ہے کہ مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ (شرح شفاء // ملا علی // ج 1// ص 327// طبع بیروت،چشتی) امام المحدثین ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ جیسے محقق و محدث نے امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو قول متواتر کو قبول کرتے ہوئے مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کعبہ میں قبول کیا ہے ۔ محدث ابن اصباغ مالکی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الصصوص المھمہ میں لکھتے ہیں کہ : مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ماہ رجب 13 تاریخ کو مکہ شریف میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ، آپ کے علاوہ کوئی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا . یہ آپ کی فضیلت ہے ۔ (الفصول المھمہ// ابن صباغ مالکی // ص 29// طبع بیروت،چشتی) علامہ حسن بن مومن شبلنجی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور تصنیف نورالابصار میں لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا زاد بھائی اور تلوار بے نیام ہیں . آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام الفیل کے تیسویں سال جمتہ المبارک کے دن 13 رجب کو خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور اس سے پہلے آپ کے علاوہ کعبہ میں کسی ولادت نہیں ہوئی ۔ (نورالابصار// شبلنجی//ص 183//طبع بیروت) برصغیر پاک وہند کے عظیم محدث و فقیہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ازالتہ الخفاء میں لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت کے وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جو مناقب ظاھر ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ کعبہ معظمہ کے اندر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی . امام حاکم نے فرمایا متواتر اخبار سے ثابت ہے کہ بے شک امیرالمومنین حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد نے خانہ کعبہ کے اند جنم دیا ۔ (ازالتہ الخفاء// ج 4 // ص 299// طبع بیروت،چشتی) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی ایک اور کتاب قرۃ العینین میں بھی ولادت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں آپ پہلے ہاشمی ہیں جن کی والدہ ماجدہ بھی ہاشمیہ ہیں . آپ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی اور یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے کسی حصے میں نہیں آئی ۔ (قرۃ العنین بتفضیل الشخین // ص 138// طبع دہلی،چشتی) اھل حدیث عالم جناب نواب صدیق حس خان بھوپالی نے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے مناقب میں ایک قابل قدر کتاب لکھی ہے اس میں لکھتے ہیں : ذکر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ابن عم رسول و سیف اللہ المسلول ، مظہر العجائب و الغرائب اسد اللہ الغالب ، ولادت ان کی مکہ مکرمہ میں اندر بیت اللہ کے ہوئی ، ان سے پہلے کوئی بیت اللہ کے اندر مولود نہیں ہوا ۔ (تکریم المومنین بتویم مناقب الخلفاء الراشدین // نواب صدیق حسن // ص 99 // طبع لاہور) علامہ بھوپالی نے اپنی دوسری تصنیف " تقصار جنود الاحرار ، ص 9 ، طبع بھوپال میں مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں کا ذکر کیا ہے ۔ اہلسنت کے عظیم صوفی عالم علامہ عبد الرحمان جامی اپنی کتاب شواھد النبوت میں لکھتے ہیں : مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ معظمہ میں ہوئی اور بقول بعض مولا علی رضی اللہ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ۔ (شواھد النبوۃ // جامی// ص 280// طبع پاکستان،چشتی) مورخ جلیل علامہ مسعودی اپنی تصنیف مروج الذہب میں لکھتے ہیں کہ مولا علی رضی اللہ عنہ کعبے کے اندر پیدا ہوئے ۔ (مروج الذہب//مسعودی//ج 2// ص 311//طبع بیروت) علامہ عبدالرحمان صفوری الشافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : مولا علی رضی اللہ عنہ شکم مادر سے کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور یہ فضیلت خاص طور پر مولا علی رضی اللہ عنہ کے لئے اللہ تعالیٰٰ نے مخصوص فر ما رکھی تھی ۔ (نزہتہ المجالس// ج 2// ص 404//طبع پاکستان،چشتی) اہلسنت کے عظیم محدث حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : محدثین اور سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہے ۔ (مدارج النبوت// عبدالحق محدث دہلوی// ج 2 //ص 531// طبع پاکستان) علامہ گنجی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب کفایتہ الطالب میں بھی مولا علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش کو خانہ کعبہ میں تسلیم کیا ہے ۔ (کفایتہ الطالب // گنجی // ص 407// طبع ایران) علامہ سبط ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : روایت میں ہے کہ فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں جبکہ علی رضی اللہ عنہ ان کے شکم میں تھے . انھیں درد زہ شروع ہوا تو ان کے لئے دیوار کعبہ شق ہوئی پس وہ اندر داخل ہوئیں اور وہیں علی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ (تذکرۃ الخواص// سبط ابن جوزی// ص 30 // طبع نجف عراق
























    • By kashmeerkhan
      وھابیوں کی دوغلی پالیسی اور وھابیوں کا ڈنڈا اپنے ہی سر پر   جب اپنے اکابر (مثلا خلیل انبیٹھوی) پر اعتراض ہوا کہ وھابی تو منکرین ذکر ولادت رسول ہیں! تو اپنا خبث باطن چھپاتے ہوئے یہ حربہ اپنایا کہ جی وھابی تو اس کے منکر نہیں ہیں تاکہ سادہ لوح لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انکا ایمان برباد کر سکیں اور ساتھ ہی ساتھ حسام الحرمین کی صحت پر سوالیہ نشان لگا دیں مگر بحمداللہ اور بفضل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرتدین نجدیہ کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہو سکا ۔۔                         ہمارے ہاں کیا بلکہ اکثر بلاد میں محافل میلاد شرعی طور پر خرابیوں سے پاک ہوتی ہیں ، مسلمانوں میں اسے بنظر عزت و تکریم دیکھا جاتا ہے ، اسکی برکات سے ایمان تازہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی عمل کا جذبہ بھی ابھرتا ہے ، غرض ہر لحاظ سے ایسی محافل کا سراسر فائدہ ہی فائدہ ہے اور بالفرض اگر کوئی ناجائز امر کسی محفل میلاد میں پایا جائے تو محفل کو روکنا کہاں کا انصاف ہے بلکہ عین مصلحت یہی ہے کہ اس غیر شرعی کام کو روکا جائے اور یہ محافل کوئی آجکل سے تو شروع نہیں ہوئی ہیں بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ سوائے ابلیس کے جہاں میں تمام مسلمانوں نے اپنے اپنے انداز میں ایسی محافل منعقد کی ہیں حتی کہ عین نماز میں! مثلا امام جب قرات میں ایسی آیات پڑھے جن میں ذکر آمد رسول ہو تو امام اور مقتدیوں کا میلاد کرنا ہی تو ہوا مثل فارس زلزلےہوں نجد میں ذکر آیات  ولادت   کیجئے نجدیوں نے اپنی خباثت پھر بھی دکھا دی کہ اکثر محافل میں خلاف شرع امور کا وجود لازمی قرار دیا مگر آگے چل کر انکا یہ حربہ بھی ناکام ہوا کیونکہ خود انہوں نے تسلیم کیا کہ ناجائز الحاقات والی محفل کو بھی مطلقا نہیں روکیں گے بلکہ ان ناجائز الحاقات کی روک تھام کریں گے اور نفس ذکر ولادت رسول پھر بھی مستحسن ہی مانا ہے       حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولی کی دھوم مثل فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے
×
×
  • Create New...