Jump to content
IslamiMehfil

رافضیوں کے ایک اعتراض کا جواب کہ ہم رافضی صحابہ کو کیوں نہیں مانتے اس کا جواب


Recommended Posts

رافضیوں کی طرف سے وائرل ایک پوسٹ کا جواب

لوگ کہتے ہیں کہ شیعہ صحابہ کو نہیں مانتے,
جب پوچھوں کہ کس صحابی کو نہیں مانتے تو جواب دیتے ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان!!!!!
او بھائی کسی کو نہ ماننے کی بھی تو وجہ ہوتی لیکن جن کے دماغوں میں چوہدری ثلاثہ بیٹھے ہے ان کہ دماغ ہی بیٹھ گے ہے تم کو مولویوں نے یہ تو بتا دیا کہ شیعہ ان کو نہیں مانتے مگر تم کو مولویوں نے یہ کیوں نہیں بتایا کے کس وجہ سے نہیں مانتے'
بتاؤ کہ کس وجہ سے نہیں بتایا کے شیعہ ثلاثہ(ابوبکروعمروعثمان) کو کیوں نہیں مانتے کیوں کے مولوی کو پتہ ہے کہ اگر بتا دیا تو لنگر بند ,بوری بسترا بند.
اور نہ ہی ثلاثہ کے مریدوں کو زحمت ہوتی ہے کہ ہم مولوی صاحب سے پوچھ لے.
ہر انسان جانتا ہے کہ کسی کو نہ ماننے کی بھی کوئی وجہ تو ضرور ہوتی ہے .
آخر وہ کونسی وجوہات ہے جس کی وجہ سے شیعہ ثلاثہ سے متنفر ہے?
تمہاری صحیح بخاری جلد2 باب فرض الخمس میں لکھا ہے کہ رسول ؐ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؑ کو انکا حق وراثت ابو بکر و عمر نے نہ دیا جس کی وجہ سے سیدہؑ مرتے دم تک ان سے ناراض رہی.
صحیح مسلم باب حکم الفئے صفحہ644 طبع مصر میں صاف لکھا ہے ک مولا علی ؑ نے وفات سیدہؑ کی خبر بھی ابوبکر کو دینا گوارہ نہ کیا.
اے مسلمانوں بتاؤ کہ اگر آج کوئی سید زادی تم سے کوئی جگہ مانگے تو تم خالی نہیں جانے دو گے افسوس کہ رسولؐ کی بیٹی اپنی ہی وراثت سے خالی لوٹا دی گئی.
اے مسلمان تو خود سوچ جس سے نبی زادیؑ راضی نہیں ہم کس طرح اس کو مومن مان لے?
اے سنی بھائیوں تمہاری متعبر کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ,مسند الفاطمہؑ امام سیوطی میں لکھا ہے کہ ابوبکر کی خلافت سے جناب علیؑ و فاطمہؑ نے انکار کیا جس کی وجہ سے عمر نے جناب فاطمہ ؑ کو دھمکی دی کے اگر بیعت نہ کی گئی تو تیرے گھر کو آگ لگا دے گے.
مسلمانوں تمہیں حق کا واسطہ خود سوچوں کے جو اہلبیتؑ کو دھمکیاں دے کیا وہ جانشین بانئ اسلام ہو سکتے ہے?
تمہاری ہی کتاب روائح مصطفی صفحہ36,الملل و النحل صفحہ51شہرستانی میں لکھا ہیں کہ جناب رسول ؐ کی بیٹی سیدہ زاہرہؑ کے قاتل.......................
اور جان لو کہ مولا علیؑ نے حکم رسولؐ کے تحت اس موقع پر تلوار نہیں آٹھائی کیوں کے رسولؐ کی یہ وصیت  تھی(مدارج النبوة جلد2 محدث دہلوی).
اور یہ مدینہ میں خانہ بتولؑ پر اسی طرح حملہ ہوا جس طرح خانہ عثمان ہر ہوا.
تمہاری ہی کتاب صحیح بخاری جلد2 کتاب التفسیر باب جامع القرآن میں لکھا ہیں کے عثمان نےقرآن کے نسخہ جات کو آگ لگانے کا حکم دیا.
تمہاری ہی کتاب صحیح مسلم میں لکھا ہیں کے رسول ؐ نے وصیت کے وقت قلم دوات  عمر سے مانگی اور عمر نے نہ دی اور کہا کہ رسولؐ معاذاللہ بکواس کر رہے ہے.
تمہاری ہی کتاب رجال مشکوة میں لکھا ہیں کے مروان کو رسولؐ نے جلا وطن کیا مگر عثمان نے اپنے دور خلافت میں واپس منگوا لیا.
کیا یہ توہین حکم رسولؐ نہیں?
تمہاری ہی کتاب کنزالاعمال جلد4 صفحہ140 اور الفاروق شبلی نعمانی صفحہ78 میں لکھا ہے کہ مذکورہ شخصیات نے خلافت کے پیچھے جنازہ رسولؐ چھوڑ دیا.
اے مسلمان ہم ان کو کیا مانے.
مرزا قادیانی نبوت پر حملہ کرے تو کافر اور جو خاندان نبوتؐ پر حملہ کرے وہ مسلمان کیسے?
ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ اکرامؓ تھے کیا صرف پوری صحابیت ثلاثہ تک ہی محدود ہے?
آپ کو حضرت بلالؓ و سلمان فارسیؓ و حذیفہ بن یمانؓ و ابوذرؓ و عبداللہ ابن عباسؓ و عبداللہ ابن مسعودؓ و محمد بن ابوبکرؓ و مقدارؓ و عمار یاسرؓ و خزیمہ بن ثابتؓ و ابوقتادہ حارث بن ربعیؓ و کعب بن عمروؓ و عمیرہ بن قرہ اللیثیؓ و ابوعمرہ انصاریؓ و مالک بن نویرہؓ و مالک بن تیہانؓ و قیس بن عبادہؓ و عبداللہ بن بدیلؓ و قیس بن مکشوحؓ و جبلہ بن ثعلبہ انصاریؓ و حارث بن عمرؓ و ربعی بن عمرؓ و زید بن ارقمؓ و مسلم بن عوسجہؓ و اسید بن ثعلبہؓ و ابو بردہ انصاریؓ و ابو حبہ بدریؓ و ابو فضالہ انصاریؓ و ابو ایوب انصاریؓ و ابو محمد انصاریؓ و ابو یعلی انصاریؓ و زبید بن عبدؓ و عمرو بن جموحؓ و جنلہ بن عمر انصاریؓ و وہب بن عبداللہؓ و ابوالورد مازنیؓ و ابو قدامہ بن الحارثؓ و عبداللہ بن ذیابؓ و یعلی بن عمیرؓ و عدی بن حاتمؓ و خاکہ بن سعدؓ و قرظہ بن کعبؓ و مغیرہ بن نوفلؓ و مخنف بن سلم غامدیؓ و عبدالرحمٰن بن عدیس بلویؓ و عمرو بن لحمقؓ و سلمان بن صردؓ و براء بن عازبؓ و عمر بن ابی سلمہؓ و ہند بن ابی ہالہؓ و ثعلبہ بن عمرو انصاریؓ و یعلی بن امیہؓ و عبداللہ بن ابی طلحہؓ و عامر بن واثلہؓ الی الآخرہ...... جیسے مخلص اصحاب رسولؓ نظر کیوں نہیں آتے!
اور جان لو کہ ہم شیعہ کردار پسند ہے نہ کہ شخصیت پسند,
اگر شخصیت ہی معیار ایمان ہوتی تو رسول ؐ کے چچا ابو لہب کے بارے بھی فیصلہ کر لوں.
بس اتنا ہی کہوں گا کہ قیامت والے دن جناب رسولؐ و بتولؑ کو کیا منہ دیکھاوں گے!
سلام ہو اصحاب رسولؐ پر'
لعنت ہو دشمنِ بتولؑ پر.

اس کا جواب 

سُنی،ہم شیعوں کو مؤمن و مسلمان نہیں مانتے بلکہ کافر و مرتد مانتے ہیں...

ہم سُنّیوں سے پوچھو تو سہی ہم شیعوں کو مؤمن و مسلمان کیوں نہیں مانتے؟

تو سُنو !

رافضیوں سے اصل اختلاف ان کے کُفریہ عقائد پر ہے:

ایک تو وہ قرآن کو مکمل نہیں مانتے اور جو مانتے ہیں وہ ان کو کافر نہیں کہتے جو قرآن کو مکمل نہیں مانتے بلکہ ان کو اپنا امام اور مجتہد کہتے ہیں،

دوسرا وہ آئمۂ اہل بیت(رضی اللہ عنہم اجمعین) کو انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھاتے اور افضل مانتے ہیں حالانکہ ایک غیر نبی کو ایک نبی سے بڑھانا ایک کفر اور بارہ کو بڑھانا بارہ کفر اور بارہ کو ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھانا کتنے کفر ہوں گے... ضرب خُود دے لو...
(یاد رہے ہمارے نزدیک آئمۂ اہل بیت (رضی اللہ عنہم اجمعین) اپنے وقت کے مجتہد ولی اور غوث تھے، نبی اور معصوم نہیں)، 

تیسرا رافضی شیخین کریمین رضی اللہ عنہما کو گالی دیتے اور لعنت کرتے ہیں اور یہ ہمارے فقہاء نے کفر لکھا ہے، 

چوتھا رافضی، امّاں عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ فقہیہ (رضی اللہ عنہا) پر بدکاری کی تہمت رکھتے ہیں اور اس کو امام ذہبی نے کتاب الکبائر میں کفر لکھا ہے.

پانچواں رافضیوں کا کلمہ اور اذان الگ ہے اور جو آئمۂ اہلبیت(رضی اللہ عنہم اجمعین) کے کلمہ کے بھی خلاف ہے جیسا کہ خود رافضیوں کی کتب میں بھی لکھا ہے ... یاد رہے کلمہ نبی کا ہوتا ہے غیر نبی کا نہیں.

یہ? پنجتن پاک کی نسبت سے فی الحال اتنے باقی پھر سہی. 

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے حوالے سے رافضیوں کے مقابلے میں ہمارے لیے مولی علی پاک سرکار کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اور سبط رسول امام حسن مجتبی(رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور ریحانۂ رسول امام حسین پاک (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور دیگر آئمۂ اہل بیت کا عمل ہی بطورِ دلیل کافی ہے کہ وہ ان تینوں ہستیوں کو اپنا امام مانتے تھے... 

اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے. آمین

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Sunni Haideri
      *سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے وفات کے وقت  تین باتوں کا اقرار جرم کیا تھا؟*
      *اس کی حقیقت کیا  ہے؟*
      *✍️شیعہ کی جہالت کا جواب✍️*
       *الصلوۃ والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہؐ۔*
      *وعلی الک واصحبک یاسیدی یا خاتم المرسلین۔*
      *صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم*
      *⚔️🗡️ضرب حیدری🗡️⚔️*
      عبد الرحمن ابن عوف ، ابوبکر کی بیماری کے ایام میں اسکے پاس اسکی عیادت کرنے گیا اور اسے سلام کیا، باتوں باتوں میں ابوبکر نے اس سے ایسے کہا:
      مجھے کسی شے پر کوئی افسوس نہیں ہے، مگر صرف تین چیزوں پر افسوس ہے کہ اے کاش میں تین چیزوں کو انجام نہ دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کو انجام دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کے بارے میں رسول خدا سے سوال پوچھ لیتا، اے کاش میں فاطمہ کے گھر کی حرمت شکنی نہ کرتا، اگرچہ اس گھر کا دروازہ مجھ سے جنگ کرنے کے لیے ہی بند کیا گیا ہوتا.
        
      *الجواب بعون الوہاب*
      ✍️پہلی بات اس روایت کی تین اسنادہیں اور تینوں ہی قابل قبول نہیں ہیں۔ ان میں کوئی ایک سند بھی درجہ صحیح و حسن تک نہیں جاتی۔
      *طریق نمبر 1*
      أنا حميد أنا عثمان بن صالح، حدثني الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي، حدثني علوان، عن صالح بن كيسان، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، أن أباه عبد الرحمن بن عوف، دخل علي أبي بكر الصديق رحمة الله عليه في مرضه الذي قبض فيه ... فقال [أبو بكر] : « أجل إني لا آسي من الدنيا إلا علي ثَلاثٍ فَعَلْتُهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُنَّ، وثلاث تركتهن وددت أني فعلتهن، وثلاث وددت أني سألت عنهن رسول الله (ص)، أما اللاتي وددت أني تركتهن، فوددت أني لم أَكُنْ كَشَفْتُ بيتَ فاطِمَةَ عن شيء، وإن كانوا قد أَغْلَقُوا علي الحرب.
      *الخرساني،زنجويه الأموال، ج 1، ص 387۔* *الدينوري، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 21، تحقيق: خليل المنصور، باتحقيق شيري، ج1، ص36، و با تحقيق، زيني، ج1، ص24.*
      *تاريخ الطبري، ج 2، ص 353.* *العقد الفريد، ج 4، ص 254.* *مروج الذهب، ج 1، ص 290*
      ترجمہ اوپر والا ہی ہے یہ اس کی عربی عبارت ہے۔
      ✍️اس سند میں علوان بن داود البجلی منکر الحدیث ہے۔۔ 
      *1* قال البخاري: علوان بن داود ويُقال: ابن صالح *منكر الحديث.*
      *2* وقال العقيلي: *له حديث لا يتابع عليه، وَلا يعرف إلا به.*
      *3* وقال أبو سعيد بن يونس: *منكر الحديث.*
      *طریق نمبر 2*
      أخبرنا أبو البركات عبد الله بن محمد بن الفضل الفراوي وأم المؤيد نازيين المعروفة بجمعة بنت أبي حرب محمد بن الفضل بن أبي حرب قالا أنا أبو القاسم الفضل بن أبي حرب الجرجاني أنبأ أبو بكر أحمد بن الحسن نا أبو العباس أحمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم بن حسان البزار أبو علي ببغداد حدثني أبو الهيثم خالد بن القاسم قال حدثنا ليث بن سعد عن صالح بن كيسان عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه.
      *ابن عساكر الشافعي.*
      *تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 30، ص417 ـ 419۔*
      ✍️اس نقل کرنے کے بعد امام مدائنی نے کہا سند مختصر ہے مطلب سند میں انقطاع ہے۔ 
      *كذا رواه خالد بن القاسم المدائني عن الليث وأسقط منه علوان بن داود وقد وقع لي عاليا من حديث الليث وفيه ذكر علوان.*
      ✍️امام عقیلیؒ نے علوان والے طریق کو نقل کرنے کے بعد فرمایا اور  لیث  والا بھی اور آخر میں فرمایا کہ *ابو بکر والی حدیث  اضطراب کا شکار ہے۔*
      ✍️ *وأورد العقيلي أيضًا من طريق الليث:* حدثني علوان بن صالح عن صالح بن كيسان أن معاوية قدم المدينة أول حجة حجها بعد اجتماع الناس عليه ... فذكر قصة له مع عائشة بنت عثمان , وقال: لا يعرف علوان إلا بهذا مع اضطرابه في حديث أبي بكر.
      طریق نمبر 2 کی سند میں ایک راوی ہے
      ✍️أبو الهيثم خالد بن القاسم اس پر کذاب، متروک اور وضح  تک ہی جرح ہے۔✍️
      اس کا پورا نام: *خالد بن قاسم* 
      ہے اور اس نے شہرت: *خالد بن القاسم المدائني*
       کے نام سے پائی اور اس کی کنیت:*أبو الهيثم* ہے
      *1* إسحاق بن راهويهؒ فرماتے ہیں کہ: *كذاب.*
      *2* إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فرماتے ہیں کہ: *کذاب يزيد في الأسانيد*
      *3* محمد بن إسماعيل البخاريؒ فرماتے ہیں کہ: *متروك تركه علي والناس.*
      *4* مسلم بن الحجاج النيسابوريؒ فرماتے ہیں کہ: *متروك الحديث.*
      *5* أبو أحمد بن عدي الجرجانيؒ فرماتے ہیں کہ: *له عن الليث مناكير.*
      *6* امام الذهبيؒ فرماتے ہیں کہ : *ذكر فيه ما يقتضي الوضع.*
      *طریق نمبر 3*
      حدثني حفص بن عمر، ثنا الهيثم بن عدي عن يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري أن عبد الرحمن بن عوف قال: دخلت علي أبي بكر في مرضه.
      *البلاذري. أنساب الأشراف، ج 3، ص 406 ، طبق برنامه الجامع الكبير.*
      ✍️اس طریق میں *الهيثم بن عدي* متروک الحدیث ہے۔
      اور اضطراب بھی تینوں اسناد میں ہے۔
      اس کا پورا نام:.
      *الهيثم بن عدي بن عبد الرحمن بن زيد بن أسيد بن جابر بن عدي بن خالد بن خيثم بن أبي حارثة* ہے
      *1:* أبو بكر البيهقيؒ فرماتے ہیں کہ *متروك الحديث، ونقل عن ابن عدي أنه: ضعيف جدا*
      *2:* أبو حاتم الرازيؒ فماتے ہیں کہ  *متروك الحديث۔*
      *3:* أبو داود السجستانيؒ فرماتے ہیں کہ: *كذاب.*
      *4:* أبو زرعة الرازي فرماتے ہیں کہ : *ليس بشيء*
      *5:* امام يحيى بن معين الحنفیؒ فرماتے ہیں کہ: *ليس هو بثقة، ومرة: ليس بشيء، ومرة: ليس بثقة كان يكذب*
      خلاصہ کلام آپ کی پیش کردہ روایت سے استدلال کرنا ہی سرے سے غلط ہے کیوں کہ تینوں طریق میں ایک طریق بھی قابل استدلال نہی ہے۔
      تینوں اسناد میں وضح،کذاب اور متروک راوی موجود ہیں۔
                           الحکم الحدیث: متروک
      (طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
      17.09.2021.
      09 صفر المظفر 1443ھ
    • By Aquib Rizvi
      ★ تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال ★
       
      میــرے صحـابــہؓ کــے معـامـلـے میــں اللہ ســے ڈرو حـدیــثـــــ کــی تحـقیـق
      اَلصَّـــلٰوةُوَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَاخَـاتَــمَ النَّبِیِّیْــن
      بِسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْــــــمٰنِ الرَّحــــــِیـــــم
      امام ابنِ حؒبان (المتوفى: 354هـ) نے فرمایا
      أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوا أَصْحَابِي غَرَضًا مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذ اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ"
      صحيح ابن حبان حدیث نمبر 7256📓
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے 
      [ ھذا حدیث صحیح لغیرہ ]
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      صحیح ابن حبان کی سند میں عبد الله بن عبد الرحمن الرومي پر جہالت کا الزام ہے جس وجہ سے اس سند کو ضعیف کہا جاتا ہے مگر تحقیق کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام درست نہیں سب سے پہلے ہم اس راوی کے معروف ہونے پر دلیل دیں گے اور پھر اس کی توثیق پر چنانچہ سید المحدثین امام بخاریؒ فرماتے ہیں 
      مُحَمد بْن الحُسَين بْن إِبْرَاهِيم، حدَّثني أَبي، سَمِعتُ حَماد بْن زَيد، حدَّثنا عَبد اللهِ الرُّومِيّ، ولم يكن رُومِيًّا، كَانَ رجلا منا من أهل خُراسان
      حسین بن ابراہیم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ انہوں نے حماد بن زید سے سنا کہ عبداللہ الرومی جو ہے یہ رومیوں میں سے نہیں بلکہ یہ اہل خراسان میں سے ایک ہے  
      یہ ہے اس راوی کے معروف ہونے کی دلیل 👆 
      جہاں تک بات رہی توثیق کی تو درج ذیل محدثین نے اس کی توثیق کی
      امام ابن حبؒان نے ان کو ثقہ کہا ✦
      ثقات ابن حبان 5/17 رقم :- 52📕
      امام زین الدین قاسمؒ بن قطلوبغا نے کتاب الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة یعنی وہ ثقہ راوی جو کتب ستہ میں موجود نہیں اس کتاب میں درج کرکے توثیق کی
      الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة 5/378📓
      اور امام عجلیؒ نے بھی اس کو ثقہ کہا ✦
      تاريخ الثقات ص284 رقم :- 914📙
      مزید یہ کہ امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے بھی ثقہ کہا ہے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ راوی کم از کم درجہ صدوق حسن الحدیث پر فائز ہے اور اس کو اس درجہ سے گرانا زیادتی ہوگی ہو سکتا ہے یہاں پر کچھ لوگوں کو اشکال ہو کہ امام الائمہ والمسلمین شیخ الاسلام امام ابن حجرعسقلانیؒ نے تقریب التہذیب میں اس کو مقبول کہا ہے اور وہ اس اصطلاح کا اطلاق لین الحدیث پر کرتے ہیں تو اس اشکال کا بھی جواب دیتے چلتے ہیں 
      اسکا جواب یہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ کا اس کو مقبول کہنا اس کو درجہ صدوق سے نہیں گراتا کیونکہ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے تو اپنی اصطلاح مقبول کا اطلاق صحیح بخاری کے ثقہ راوی پر بھی کیا ہے مثلاً 
      يحيى بن قزعة
      ان کو امام ابن حبانؒ نے ثقہ کہا امام ذھبیؒ نے ثقہ کہا مگر حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ان کو مقبول کہا جب کہ یہ امام بخاریؒ کے شیخ ہیں اور امام بخاریؒ ان سے صحیح بخاری میں متصل مرفوع روایات لائے ہیں مثال کے طور پر چند حدیثوں کے نمبر پیش کر دیتا ہوں جن میں امام بخاریؒ ڈائریکٹ ان سے روایت کر رہے ہیں 
      حدیث نمبر :- 4491 ٬ 2602 ٬ 6988 ٬ 4216
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ صحیح ابن حبان کی سند حسن ہے اب چلتے ہیں سنن الترمذی کی سند کی طرف
      امام ترمذیؒ (المتوفى: 279هـ) نے فرمایا 
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
      سنن ترمذي حدیث نمبر 3862📘
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      اس کی سند میں موجود راوی عبد الرحمن بن زياد پر یہ اعتراض ہے کہ یہ مجہول راوی ہے یہ اعتراض بھی حقیقت کے بالکل مخالف ہے یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے 
       اس کو امام یحؒییٰ بن معین نے ثقہ کہا✦ 
      اور یہ ایک متفقہ اصول ہے کہ اگر متشدد امام کسی راوی کی تعدیل و توثیق کرے تو وہ اعلی درجہ کی مقبولیت کی حامل ہوتی ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ نے امام یحییؒ بن سعید القطان کے بارے میں فرمایا اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امام یحییؒ بن معین جرح میں متشدد امام تھے لہذا آپ کی توثیق اعلی درجے کی مقبولیت کی حامل ہے
      سـير أعـلام النبـلاء للإمام الذهبي 9/183📒
      اس کو امام ابن حبؒان نے ثقہ کہا✦
       اس کو امام عجلیؒ نے ثقہ کہا ✦
       امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے ثقہ ✦
      كتاب تهذيب التهذيب 6/177📔
      کتاب تحریر تقريب التهذيب میں اس راوی سے حتمی فیصلہ یہ بتایا گیا کہ یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے اور ہمارے نزدیک بھی یہی درست اور راجح ہے
      كتاب تحریر تقريب التهذيب 2/320📙
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ ابن حؒبان کی سند بھی حسن ہے اور ترمذی کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند کو تو خود امام ترمذیؒ نے بھی حسن غریب کہا ہے لہذا یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجے پر فائز ہے کیونکہ اصول حدیث کی کتب میں صحیح لغیرہ کی تعریف واضح ہے
      الصحيح لغيرہ هو الحسن لذاته إذا روي من طريق آخر مثله أو أقوى منه وسمي صحيحا لغيره؛ لأن الصحة لم تأت من ذات السند الأول، وإنما جاءت من انضمام غيره له
      ترجمہ: صحیح لغیرہ وہ ہے جب حسن لذاتہ کو کسی دوسرے طریق ( سند ) کے ساتھ روایت کیا جائے جو اس کی مثل یا اس سے زیادہ قوی ہو تو یہ صحیح لغیرہ ہے اس کو صحیح لغیرہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صحت سند کی ذات سے نہیں آتی بلکہ اس کے غیر کو اس سے ملانے کی وجہ سے آتی ہے
      نخبة الفكر مع شرحها نزهة النظر ص34📕 
      كتاب تيسير مصطلح الحديث ص64📓 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      خــلاصـــــــہ کــــــــلام
      اصولی طور پر ہم نے ثابت کیا کہ صحیح ابن حبان کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند بھی حسن ہے لہذا جب دو حسن اسناد ایک دوسرے کی مثل موجود ہیں تو یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجہ پر فائز ہے 
      اگر کوئی شخص صحیح ابن حبان کی سند کو ضعیف مانتا ہے اور جامع ترمذی کی سند کو حسن مانتا ہے تو تب بھی یہ حدیث حسن لذاتہ درجے پر فائز رہے گی اور ابن حبان کی سند اس کی شاہد بنے گی 
       اور اگر کوئی شخص دونوں اسناد کو ضعیف کہتا ہے تب بھی یہ حدیث درجہ حسن لغیرہ پر فائز رہے گی یعنی قابل احتجاج و استدلال رہے گی 
      لہذا کسی طرح بھی اس حدیث کی صحت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی شخص مطلقاً اس حدیث کو ضعیف کہتا ہے تو وہ علم و اصول حدیث سے ناواقف ہے 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب
      ⇊ تحـقیــق و دعـاگـــو 
      خـادم اہـلسنت و جمـاعت محمــد عـاقـب حسیــن رضــوی
      ⇊ بــا تصــدیــق فـضيـلــة الشيــخ 
      اســد طحــاوي الحنفـي البـريـلوي غفرالله له
      عـلامــة زبـيـر احمــد جمـالـوي عفـي الله عنـه
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ






    • By محمد حسن عطاری
      رافضیوں کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کافر ھیں ,, العیاذ بااللہ
      (باب) * (في أصول الكفر وأركانه) 
      1 – الحسين بن محمد، عن أحمد بن إسحاق، عن بكر بن محمد، عن أبي بصير قال: قال أبو عبد الله (عليه السلام): أصول الكفر ثلاثة: الحرص، والاستكبار، والحسد، فأما الحرص فان آدم (عليه السلام) حين نهي عن الشجرة، حمله الحرص على أن أكل منها وأما الاستكبار فإبليس حيث أمر بالسجود لآدم فأبى، وأما الحسد فابنا آدم حيث قتل أحدهما صاحبه
      الكافي – الشيخ الكليني – ج ٢ – الصفحة ٢٨٩
      ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ھیں
      اصول کفر تین ہیں ( 1) حرص ( 2) تکبر ( 3)  حسد 
       بھرحال حرص بیشک آدم علیہ السلام نے کی جب انھیں درخت سے روکا گیا تھا، حرص نے آدم علیہ السلام کو اسکے کھانے پر آمادہ کیا 
      اور تکبر شیطان نے کیا جب اسے آدم علیہ السلام کے سجدہ کا حکم کیا گیا۔
      حسد آدم علیہ السلام کے بیٹوں( ھابیل, قابیل) نے کیا جب ایک نے دوسرے کا قتل کیا۔
      ( العیاذ بااللہ)
      حوالہ جات شیعہ کتب سے
       
       






    • By محمد حسن عطاری
      فتنہ رافضیت پر تاجدار گولڑہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب کی کتاب 
      تصفیہ مابین سُنی و شیعہ .pdf
    • By عبداللہ
      السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ۔

      مالک الدار کی استغاثہ والی روایت کو لکھنے کے بعد امام ابن حجر العسقلانی رضی اللہ عنہ نے لکھا ہے کہ سیف بن عمر نے "الفتوح" میں بیان کیا کہ جس شخص نے جا کر قبرِنبوی علیہ السلام پر استغاثہ کیا، وہ شخص حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ صحابی تھے۔

      کیا اس عبارت کا سکین مل سکتا ہے جس میں سیف بن عمر نے یہ لکھا تھا کہ وہ شخص حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ ہیں؟
×
×
  • Create New...