12 posts in this topic

Bewa Maa ki miras jo ke unhain apne baap se meli hai shuhar se nahi.

Agar bete ki death hojai aur maa hayaat ho tu bete ke ( bv, 1 beti, 2 bete ) ko mirass main se haq mele ga ke nahi .

Jabke marhoom ke 2 bhai aur 3 behnai abhi hayaat hain aur sab shadi shuda hain aur un ki aulad bhi hai .

Share this post


Link to post
Share on other sites

جب تک کوئی شخص زندہ ہو،اس وقت تک اس کےمال میں کسی کا ازروئے ترکہ کوئی حق نہیں ہوتا کہ وراثت کا معاملہ بعدِ وفات ہوتا ہے نہ کہ حیات میں۔

واللہ اعلم بالصواب

Share this post


Link to post
Share on other sites
6 hours ago, Syed Kamran Qadri said:

جب تک کوئی شخص زندہ ہو،اس وقت تک اس کےمال میں کسی کا ازروئے ترکہ کوئی حق نہیں ہوتا کہ وراثت کا معاملہ بعدِ وفات ہوتا ہے نہ کہ حیات میں۔

واللہ اعلم بالصواب

لازمی نہیں ہے وارثت تقسیم وفات کے بعد ہو بلکہ والد خود بھی اپنی اولاد میں اپنی حیات میں  وارثت  تقسیم کر سکتا ہے۔

واللہ اعلم

Share this post


Link to post
Share on other sites
15 hours ago, Raza Asqalani said:

لازمی نہیں ہے وارثت تقسیم وفات کے بعد ہو بلکہ والد خود بھی اپنی اولاد میں اپنی حیات میں  وارثت  تقسیم کر سکتا ہے۔

واللہ اعلم

یہ ارشاد فرمائیں کہ زندگی میں جو دیا جاتا ہے وہ بطورِ میراث دیا جاتا ہے ؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

Bhai baat darasal yeh hai walid ke wafat ke bad tu jaidad taqseem ho sakti hai.but walda ki agar jaidad ho walid ki nahi aur walid hayaat bhi na ho tu walda ki wafat ke bad ya hayat main marhoom bete ke bachoon ka haq hota hai ke nahi .shariyat ke kanoon aur civil kanoon ke mutabiq yeh pochna cha rahi hon main

Edited by hinazfd

Share this post


Link to post
Share on other sites
8 hours ago, Syed Kamran Qadri said:

یہ ارشاد فرمائیں کہ زندگی میں جو دیا جاتا ہے وہ بطورِ میراث دیا جاتا ہے ؟؟؟

ارے  بھائی کیا وارثت زندگی میں تقسیم نہیں ہو سکتی کیا؟

Share this post


Link to post
Share on other sites
10 hours ago, Raza Asqalani said:

ارے  بھائی کیا وارثت زندگی میں تقسیم نہیں ہو سکتی کیا؟

محترم زندگی میں جو کچھ والدین اپنی اولاد کو دیں وہ بطورِ ہبہ و تحفہ ہوتا ہے نہ کہ بطورِ وراثت، وراثت تو مرنے کے بعد تقسیم ہوتی ہے۔سائلہ کا سوال وراثت سے متعلق تھا تو جس کے متعلق سائلہ کا سوال تھا اسے اسی کے متعلق جواب دیا گیا۔

5dbb8984884a3_.thumb.jpg.b81460a4c3bd6116c562a54ab4ee18f4.jpg5dbb89959c2ff_1.thumb.jpg.42bdf6deb050d23576fc4b2622e4ee3d.jpg5dbb89a49569a_2.thumb.jpg.89c5febabbfdb98dd7def3ba18f81fe4.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites
14 hours ago, hinazfd said:

Bhai baat darasal yeh hai walid ke wafat ke bad tu jaidad taqseem ho sakti hai.but walda ki agar jaidad ho walid ki nahi aur walid hayaat bhi na ho tu walda ki wafat ke bad ya hayat main marhoom bete ke bachoon ka haq hota hai ke nahi .shariyat ke kanoon aur civil kanoon ke mutabiq yeh pochna cha rahi hon main

5dbb8ba714179_2.thumb.jpg.e8456b1bc45e7a4e23f8401be74b6e53.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس کا مطلب ہے مرحوم کی بیوی اور بچوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ پھر انکا کا کیا ھو گا کیونکہ مرحوم کی والدہ زندہ ہے اور وہ بڑی بیٹی اور بڑے بیٹے سے مشورہ کیئے بغیر کچھ نہیں کرتی جو وہ کہیں گے وہی کرینگی۔ تو پھر یہ نا انصافی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالی نے اس مسلے کا کچھ حل تو رکھا ھی ہوگا 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/2/2019 at 2:44 AM, hinazfd said:

اس کا مطلب ہے مرحوم کی بیوی اور بچوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ پھر انکا کا کیا ھو گا کیونکہ مرحوم کی والدہ زندہ ہے اور وہ بڑی بیٹی اور بڑے بیٹے سے مشورہ کیئے بغیر کچھ نہیں کرتی جو وہ کہیں گے وہی کرینگی۔ تو پھر یہ نا انصافی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالی نے اس مسلے کا کچھ حل تو رکھا ھی ہوگا 

مرحوم بیٹا وارث تو نہیں ہو گا  البتہ ماں کو کس نے منع کیا کہ اپنے پوتے پوتیوں اور بہو کو محروم رکھے، وہ ان کو اپنی جائیداد میں سے اپنی مرضی سے کچھ کا مالک بنا دے، تو جائز ہے،جبکہ کسی حقیقی وارث کو محروم کرنے کی نیت نہ ہو۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/1/2019 at 9:26 AM, Syed Kamran Qadri said:

محترم زندگی میں جو کچھ والدین اپنی اولاد کو دیں وہ بطورِ ہبہ و تحفہ ہوتا ہے نہ کہ بطورِ وراثت، وراثت تو مرنے کے بعد تقسیم ہوتی ہے۔سائلہ کا سوال وراثت سے متعلق تھا تو جس کے متعلق سائلہ کا سوال تھا اسے اسی کے متعلق جواب دیا گیا۔

5dbb8984884a3_.thumb.jpg.b81460a4c3bd6116c562a54ab4ee18f4.jpg5dbb89959c2ff_1.thumb.jpg.42bdf6deb050d23576fc4b2622e4ee3d.jpg5dbb89a49569a_2.thumb.jpg.89c5febabbfdb98dd7def3ba18f81fe4.jpg

بھائی لگتا ہے آپ نے میری بات سمجھی نہیں اس میں بات یہ ہے والد اپنی زندگی میں وارثت  کے حصے کر دیتا ہے اتنا حصہ فلاں کا ہے اتنا فلاں کا تو وہ لوگ اس وقت حقیقی مالک نہیں بنتے لیکن اپنی تقسیم شدہ چیز کو اپنے والد کی مالکیت میں استعمال کرتے رہتے ہیں مجازی مالک بن کر ورنہ وہ اصل مالک اس وقت بنتے ہیں جب ان کے والد کی وفات ہوتی ہے۔ اصل بات یہ تھی جیسے شاید آپ سمجھ نہیں پائے یا میں آپ کو سمجھا نہیں سکا۔

اللہ عزوجل ہم کو علم دین سیکھنے اور سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

آمین

Share this post


Link to post
Share on other sites
3 minutes ago, Raza Asqalani said:

بھائی لگتا ہے آپ نے میری بات سمجھی نہیں اس میں بات یہ ہے والد اپنی زندگی میں وارثت  کے حصے کر دیتا ہے اتنا حصہ فلاں کا ہے اتنا فلاں کا تو وہ لوگ اس وقت حقیقی مالک نہیں بنتے لیکن اپنی تقسیم شدہ چیز کو اپنے والد کی مالکیت میں استعمال کرتے رہتے ہیں مجازی مالک بن کر ورنہ وہ اصل مالک اس وقت بنتے ہیں جب ان کے والد کی وفات ہوتی ہے۔ اصل بات یہ تھی جیسے شاید آپ سمجھ نہیں پائے یا میں آپ کو سمجھا نہیں سکا۔

اللہ عزوجل ہم کو علم دین سیکھنے اور سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

آمین

اولا: زندگی میں جو کچھ بھی تقسیم کرتے ہیں والدین وہ وراثت  نہیں بلکہ بطور ہبہ ہوتا ہے۔

ثانیا: یہ کہاں ہوتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کو جائیداد تقسیم بھی کر دیتے ہیں اور مالک بھی خود ہی رہتے ہیں ہم تو یہی دیکھتے آ رہے ہیں کہ  والدین اپنی اولاد کو جائیداد دے کر ان کو مالک بنا دیتے ہیں اور اسی طرح بچیوں کو بھی مال وغیرہ گھر وغیرہ دے کر مالک بنا کر انھیں بیاہ دیا جاتا ہے۔ کم ہی ایسے ہوتے ہیں جو تقسیم کرنے کے باوجود خود ہی مالک رہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.