4 posts in this topic

*تابعی الکبیر امام شعبیٰ عاعمر بن شرحیل   جنکے بارے معروف ہے کہ انہون نےتقریبا ۵۰۰ صحابہ کرام کی ذیارت کی وہ ترک رفع الیدین کے قائل تھے  اور یہ امام ابی حنیفہ کے اکبر شیخ تھے*

 

امام شعبی کا تعارف:

113 - الشعبي عامر بن شراحيل بن عبد بن ذي كبار

وذو كبار: قيل من أقيال اليمن، الإمام، علامة العصر، أبو عمرو الهمداني، ثم الشعبي.

مولده: في إمرة عمر بن الخطاب، لست سنين خلت منها، فهذه رواية.

وعن أحمد بن يونس: ولد الشعبي سنة ثمان وعشرين

وقال محمد بن سعد  : هو من حمير، وعداده في همدان.

قلت: رأى عليا -رضي الله عنه- وصلى خلفه.

وسمع من: عدة من كبراء الصحابة.

وحدث عن: سعد بن أبي وقاص، وسعيد بن زيد، وأبي موسى الأشعري، وعدي بن حاتم، وأسامة بن زيد، وأبي مسعود البدري، وأبي هريرة، وأبي سعد، وعائشة، وجابر بن سمرة، وابن عمر، وعمران بن حصين، والمغيرة بن شعبة، وعبد الله بن عمرو، وجرير بن عبد الله، وابن عباس، وكعب بن عجرة، وعبد الرحمن بن سمرة، وسمرة بن جندب، والنعمان بن بشير، والبراء بن عازب، وزيد بن أرقم، وبريدة بن الحصيب، والحسن بن علي، وحبشي بن جنادة، والأشعث بن قيس الكندي، ووهب بن خنبش الطائي، وعروة بن مضرس، وجابر بن عبد الله، وعمرو بن حريث، وأبي سريحة الغفاري، وميمونة، وأم سلمة، وأسماء بنت عميس، وفاطمة بنت قيس، وأم هانئ، وأبي جحيفة السوائي، وعبد الله بن أبي أوفى، وعبد الله بن يزيد الأنصاري، وعبد الرحمن بن أبزى، وعبد الله بن الزبير، والمقدام بن معد يكرب، وعامر بن شهر، وعروة بن الجعد البارقي، وعوف بن مالك الأشجعي، وعبد الله بن مطيع بن الأسود العدوي، وأنس بن مالك، ومحمد بن صيفي،

وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة

امام شعبیٰ یہ حضرت عمر بن خطاب کے دور میں ۲۱ ھ کو پیدا ہوئے

اسکے بعد امام ذھبی کہتے ہیں : میں کہتا ہون انہوں نے حضرت علی کو پایا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے

اور کئی عدد کبیر صحابہ سے سماع کیا ہے پھر اسکے بعد  امام ذھبی کثیر صحابہ جو جلیل القدر اور مشہور و معروف صحابہ تھے اسکے بعد لھکتے ہیں وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة کہ یہ ۵۰ صحابہ کرام ہیں

آگے امام ذھبی ابن عساکر کے حوالے سے سند کے ساتھ نقل کرتے ہین :

روى: عقيل بن يحيى، حدثنا أبو داود، عن شعبة، عن منصور الغداني، عن الشعبي، قال:

أدركت خمس مائة صحابي، أو أكثر، يقولون: أبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي

امام شعبیٰ فرماتے ہیں : کہ میں نے پانچ سو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا یعنی ان سے ملاقات کی۔

 

 اسکے بعد امام ذھبی الفسوی کے حوالے سے صحیح سند سے لکھتے ہیں :

الفسوي في (تاريخه (4)) : حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن شبرمة، سمعت الشعبي يقول:

ما سمعت منذ عشرين سنة رجلا يحدث بحديث إلا أنا أعلم به منه، ولقد نسيت من العلم ما لو حفظه رجل لكان به عالما.

امام حمیدی سفیان سے اور وہ امام شعبی سے سنا ہے کہ : امام شعبی کہتے

 کہ میں نے بیس سال کے عرصہ میں کسی سے کوئی ایسی نئی حدیث نہیں سنی کہ اس سے بیان کرنے والے سے زیادہ واقف نہ رہا ہوں

 

پھر امام ابن عساکر کے حوالے سے نقل کرتے ہیں

قال ابن ابی لیلیٰ : كان إبراهيم صاحب قياس، والشعبي صاحب آثار

امام ابن ابی لیلیٰ کہتے تھے کہ ابراہیم النخعی صاحب قیاس یعنی مجتہد تھے اور امام شعبیٰ صاحب آثار یعنی آثار صحابہ کے بڑے عالم ہیں

 

اور امام شعبیٰ کی وفات ا۱۰۳ سے ۱۰۹ ھ کے درمیان وفات ہوئی

(سیر اعلام النبلاء)

 

امام ذھبی انکا ذکر تذکرہ حفاظ میں یوں کرتے ہیں :

76- 11/ 3ع- الشعبي علامة التابعين أبو عمرو عامر بن شراحيل الهمداني الكوفى من شعب همدان: مولده في أثناء خلافة عمر في ما قيل كان إماما حافظا فقيها متفننا ثبتا متقنا وكان يقول: ما كتبت سوداء في بيضاء وروى عن علي فيقال مرسل وعن عمران بن حصين وجرير بن عبد الله وأبي هريرة وابن عباس وعائشة وعبد الله بن عمر وعدى بن حاتم والمغيرة بن شعبة وفاطمة بنت قيس وخلق وعنه إسماعيل بن أبي خالد وأشعث بن سوار وداود بن أبي هند وزكريا بن أبي زائدة ومجالد بن سعيد والأعمش وأبو حنيفة وهو أكبر شيخ لأبي حنيفة وابن عون ويونس بن أبي إسحاق والسرى بن يحيى وخلق قال أحمد العجلي مرسل الشعبي صحيح لا يكاد يرسل الا صحيحا.

 

الشعبی تابعین میں علامہ تھے یہ حضرت عمر کے دور خلافت میں ۲۱ھ کو پیدا ہوئے یہ امام حافظ فقیہ یعنی مجتہد  متقن ثبت تھے انہوں نے حضرت علی ، عمران بن حصین، جریر بن عبداللہ ، ابی ھریرہ، ابن عباس ، حضرت عائشہ ، عبداللہ بن عمر ، عدی بن حاتم ، مغیرہ بن شعبہ  سے روایت کیا ہے

اور ان سے روایت کرنے والے امام ابی حنیفہ یہ اما م ابو حنیفہ کے بڑے کبیر شیخ تھے ، اور ابن عون ، یونس بن ابی اسحاق ، وغیرہ ہیں

اور امام عجلی کہتے ہیں شعبی کی مراسل صحیح کے علاوہ روایت نہ کرتے

(تذکرہ الحفظ امام ذھبی)

امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں :

2444 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا»

(مصنف ابن ابی شیبہ، برقم: ۲۴۴۴)

 

امام عبداللہ بن مبارک  الحنفیؒ فرماتے ہیں اشعت کے حوالے سے  : امام شعبی (نماز) میں اول تکبیر میں رفع الیدین کرتے پھر نہ کرتے تھے

سند کی تحقیق:

سند کا پہلا راوی : امام ابن ابی شیبہ

امام ابن ابی شیبہ متفقہ علیہ ثقہ ہیں

 

سند کا دوسرا راوی: امام عبداللہ بن مبارک متفقہ علیہ  ثقہ متقن

 

سند کا تیسرا راوی : اشعت بن سوار

یہ حسن الحدیث راوی ہے

 

امام ذھبی کے نزدیک یہ لین ہے اور حسن الحدیث جبکہ امام ابن حجر کے نزدیک یہ ضعیف ہے

لیکن اس پر کوئی خاص جرح مفسر نہین ہے اور امام ذھبی کا موقف صحیح ہے نیز اسکی  متابعت بھی ثابت ہے جو کہ بعدمیں ذکر ہوگی پہلے اس پر توثیق پیش کرتے ہیں

 

1385 - أشعث بن سوار الكندي الكوفي، قاله مروان، وقال علي بن المديني هو مولى لثقيف، وهو الأثرم، سمع الشعبي ونافعا روى عنه الثوري، وقال لي ابن أبي الأسود سمعت عبد الرحمن بن مهدي قال سمعت سفيان يقول أشعث أثبت من مجالد

، قال شعبة حدثني أشعث الأفرق، قال أحمد: الأفرق النجار

 

امام بخاری  امام ابن مہدی کے حوالے سے اما م سفیان الثوری سے نقل کرتے ہیں کہ اشعت مجالد سے یہ ثبت ہے

(التاریخ الکبیر ، امام بخاری)

 

 

440- أشعث بن سوار الكندي عن الشعبي وطائفة وعنه هشيم وابن نمير وخلق صدوق لينه أبو زرعة توفي 136 م ت س ق

(امام ذھبی الکشف میں کہتے ہیں کہ صدوق ہے اور امام ابو زرعہ نے کمزور قرار دیا ہے

(الکشف)

 

 

 

3 - (ابن سوار الكندي)

أشعث بن سوار الكندي الكوفي الأفرق التوابيتي النجار روى عن عكرمة والشعبي وابن سيرين روى له مسلم تبعا وروى له الترمذي والنسائي وابن ماجة ضعفه النسائي وقواه غيره وقال ابن عدي لم أجد له حديثا منكرا وقال ابن خراش هو أضعف الأشاعثة وقال الدراقطني يعتبر به وتوفي سنة ست وثلاثين ومائة

(الكتاب: الوافي بالوفيات

امام ابن خلیل بن ایبک فرماتے ہیں :

امام مسلم نے انکو متابعت میں لیا ہے ، امام ترمذی  امام ابن ماجہ نے

اور امام نسائی نے انکی تضعیف کی ہے اور قوی بھی

اور  امام ابن عدی کہتے ہیں مین اسکی کوئی بھی منکر روایت پر مطلع نہیں ہوسکا

ابن خراش(رافضی ) نے تضعیف کی

اور امام دارققطنی کہتے ہیں معتبر ہے

 

المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك بن عبد الله الصفدي (المتوفى: 764هـ)

 

 

57- قُلْت لأبي دَاوُد: "أشعث1 وإسماعيل بْن مُسْلم2 أيهما أعلَى؟ قَالَ: إِسْمَاعِيل دُونَ أشعث وأشعث ضعيف"  .

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سمعت يَحْيَى بْن معين يَقُول: "كَانَ أَشْعَث بْن سَوَّار يرى القدر".

امام ابی داود نے اشعت کو ضعیف قرار دیا ہے

اور ابی داود کہتے ہین یحییٰ بن معین سے سنا ہے کہ اشعت بن سوار اس میں قدری خیالات تھے

(سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود السجستاني في الجرح والتعديل)

 

 

951- أشعث بن سوار 1: "م, ت, س, ق"

الكندي, الكوفي, النجار, التوابيتي, الأفرق. وهو الذي يقال له: صاحب التوابيت, وهو أشعث القاص.

وهو مولى ثقيف, وهو الأثرم وهو قاضي الأهواز.

روى له مسلم متابعة. وقد حدث عنه من شيوخه: أبو إسحاق السبيعي. وكان أحد العلماء على لين فيه.

امام ذھبی فرماتے ہیں: اپنی آخری تصنیف سیر اعلام میں کہ امام مسلم نے اسکو متابعت میں لیا ہے  یہ علماء میں سے تھے لیکن ان میں کمزوری (معمولی) تھی

(سير أعلام النبلاء)

 

41 - أشعث بن سوار الكندي (م ت س) :

عن الشعبي وغيره حسن الحديث قال أبو زرعة لين وضعفه وقال النسائي

امام ذھبی کہتے ہیں کہ اشعت یہ حسن الحدیث ہے اور ابو زرعہ  نے انکو کمزور قرار دیا ہے اور امام نسائی نے تضعیف کی ہے
(ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق، امام ذھبی)

 

 

وأشعث بن سوار الكوفي، يعتبر به، وهو أضعفهم، روي عنه شعبة حديثًا واحدًا

امام دارقطنی کہتے ہیں : کہ یہ معتبر ہے اور اس میں ضعف ہے

موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله)

 

وأشعث بن سوار قد روى عنه أبو إسحاق السبيعي، وشعبة وشريك ولم أجد لأشعث فيما يرويه متنا منكرا إنما في الأحايين يخلط في الإسناد ويخالف

امام ابن عدی کہتے ہیں : مجھے اس کی کوئی منکر روایت نہیں ملی البتہ یہ اسناد بیان کرنے میں مخالفت کر جاتا

(الکامل فی الضعفاء)

 

رواه الطبراني في الأوسط، وفيه أشعث بن سوار، وهو ثقة، وفيه كلام.

امام ہیثمی کہتے ہیں اشعت یہ ثقہ ہے لیکن اس پر کلام ہے (غیر مفسر)

(مجمع الزوائد)

 

 

 

150) عن أشعث بن سوار عن ابن أشوع عن حنش.

وهذا إسناد لا بأس به فى المتابعات , فإن حنش بن المعتمر صدوق له أوهام , وابن أشوع اسمه سعيد بن عمرو بن أشوع , وهو ثقة من رجال الشيخين.

وأشعث بن سوار , فيه ضعف من قبل حفظه , وروى له مسلم متابعة.

البانی  اشعت سے مروی ایک روایت کے بارے کہتا ہے : اس سند میں کوئی حرج نہیں ہے متابعت  میں اشعت بن سوار اس  کے حافظے میں کمزوری ہے   امام مسلم نے اسکو متابعت میں لیا ہے

 

یعنی البانی اسکو متابعت میں قبول کرتا ہے اور امام مسلم کا حوالہ بھی دیتا ہے

(إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل)

 

حدثنا ابن حماد، قال: حدثنا عباس ومعاوية، عن يحيى، قال: أشعث بن سوار ضعيف.

حدثنا عبد الله بن أحمد الدورقي، قال: سمعت يحيى بن معين يقول أشعث بن سوار الأفرق كوفي ثقة.

امام ابن عدی نے اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے کہ امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں  اشعت ضعیف ہے (غیر مفسر جرح )

اور غالبا یہ انکے عقیدے قدری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ابن معین سے قدری کی جرح امام ابی داود نے بیان کی ہے یحییٰ بن معین سے

پھر امام ابن عدی صحیح سند سے بیان کرتے ہیں کہ امام الدروقی کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے  سنا کہ اشعت بن سوار یہ کوفی ثقہ ہے

(الکامل فی الضعفاء)

 

معلوم ہوا کہ یہ سند حسن سے بالکل کم درجے کی نہیں ہے اس پر جرح غیر مفسر ہے اور متشدد محدثین نے بھی اسکی توثیق کی ہے نیز جن سے جرح ہے انہی سے توثیق بھی مروی ہے

معلوم ہوا اسکی تضعیف میں بہت حد تک اختلاف تھا اور امام ذھبی کی بات صحیح ہے کہ یہ حسن الحدیث ہے لیکن اس مین کمزوری ہے

اور متابعت و شواہد میں تو اسکی روایت لینے میں بالکل حرج نہیں جیسا کہ البانی  سے اوپر ثبوت پیش کیا ہے اب اسکی متابعت پیش کرتے ہیں :

 

****************

2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»

قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ»

امام ابن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں مجھے یحییٰ بن آدم(ثقہ) نے حسن بن عیاش(ثقہ) سے اور وہ عبدالملک(ثقہ) سے

اسکے بعد آگے مکمل سند بیان کر کے امام ابن ابی شیبہ ایک روایت بیان کرتے ہین ، اور روایت کے ختم کرکے امام عبدالملک کا قول نقل کرتے ہیں کہ

امام عبدالملک کہتے ہیں : میں نے امام شعبی(کبیر تابعی) ، امام ابو اسحاق السبیعی(کبیر تابعی) اور ابراہیم النخعی(کبیر تابعی) تینوں کو دیکھا وہ صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے تھے

(مصنف ابن ابی شیبہ)

 

اس روایت میں ہم نے حدیث کو دلیل نہیں بنایا بلکہ امام عبدالملک کے قول کو بیان کیا ہے کہ انہوں نے خود حضر ت امام شعبی سمیت امام ابراہیم النخعی اور امام ابو اسحاق السبیعی کو دیکھا نماز مین صرف شروع میں رفع الیدین کرتے تو ہم سند بھی امام ابن ابی شیبہ سے امام عبدالملک تک کی تحقیق پیش کرتے ہیں

 

سند کا پہلا راوی: یحییٰ بن آدم یہ امام ابن ابی شیبہ کا شیخ ہے

 

204 - يحيى بن آدم بن سليمان الأموي مولاهم * (ع)

العلامة، الحافظ، المجود، أبو زكريا الأموي مولاهم، الكوفي، صاحب التصانيف، من موالي خالد بن عقبة بن أبي معيط.

وثقه: يحيى بن معين، والنسائي.

قال أبو عبيد الآجري: سئل أبو داود عن معاوية بن هشام، ويحيى بن آدم، فقال: يحيى واحد الناس (1) .

وقال أبو حاتم: ثقة، كان يتفقه (2) .

وقال يعقوب بن شيبة: ثقة، كثير الحديث، فقيه البدن، ولم يكن له سن متقدم، سمعت عليا يقول:

يرحم الله يحيى بن آدم، أي علم كان عنده! وجعل علي يطريه.

وسمعت عبيد بن يعيش، سمعت أبا أسامة يقول:

ما رأيت يحيى بن آدم قط إلا ذكرت الشعبي - يريد: أنه كان جامعا للعلم

 

امام ذھبی انکے بارے میں سیر اعلام میں کہتے ہیں : العلامہ ، حافظ  صاحب تصانیف ہیں

امام یحیٰ بن معین نے انکو ثقہ قرار دیا اور امام نسائی نے بھی ثقہ قرار دیا

امام ابی حاتم نے انکو ثقہ قرار دیا

وغیرہ

یر اعلام النبلاء)

 

 

دوسرا راوی :الحسن بن عیاش ہے

12795 - الحسن بن عياش مولى بنى أسد أخو أبي بكر بن عياش من أهل الكوفة يروي عن الثوري وزائدة روى عنه عبد الرحمن بن أبي حماد الكوفي

ابن حبان نے ثقات میں درج کیا

(الثقات ، ابن حبان)

 

304 - الْحسن بن عَيَّاش بن سَالم الْأَسدي ثِقَة

امام عجلی نے ثقات میں درج کیا

(الثقات ، عجلی)

 

 

حدثنا عبد الرحمن أنا ابن أبي خيثمة فيما كتب إلي قال سمعت يحيى بن معين يقول: الحسن بن عياش أخو أبي بكر بن عياش ثقة.

حدثنا عبد الرحمن أنا يعقوب بن إسحاق [الهروي - 1] فيما كتب إلي قال نا عثمان بن سعيد [الدارمي - 1] قال قلت ليحيى [بن معين - 2] الحسن بن عياش أخو أبي بكر بن عياش كيف حديثه؟ فقال: ثقة.

قلت هو أحب إليك [أو - 1] أبو بكر؟ فقال: هو ثقة وأبو بكر ثقة.

قال عثمان [بن سعيد - 1] :

أبو بكر والحسن ليسا بذاك في الحديث وهما من اهل الصدق والامانة.

امام یحیٰ بن معین نے کہا الحسن بن عیاش یہ ابی بکر عیاش کا بھائی ہے اور ثقہ ہے

پھر ابن معین سے دوسری توثٰیق الدارمی کہتا ہے کہ میں نے ابن معین سے پوچھا کہ الحسن بن عیاش کا حدیث مین کیا حال ہے ؟ فرمایا ثقہ

(الجرح والتعدیل)

 

تیسرا راوی : عبدالملک ہے :
 

905 - عبد الْملك بن أبجر ثِقَة قَالَه أَحْمد

امام ابن شاہین نے ثقات میں درج کیا

(الثقات ، ابن شاہین)

 

1025- عبد الملك بن أبجر5: كان عبد الملك بن أبجر "ثقة، ثبتًا في الحديث، صاحب سنة)

امام ابن عجلی نے ثقات میں درج کیا

(الثقات العجلی)

 

 

نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد [بن محمد - 1] بن حنبل فيما كتب إلى قال سألت أبي عن ابن ابجر فقال: بخ ثقة.

[ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال: عبد الملك بن ابجر ثقة - 2] .

نا عبد الرحمن قال سمعت أبي وأبا زرعة يقولان:

ابن ابجر احب الينا من اسراءيل.

 

امام ابن ابی حاتم اپنے والد ابی حاتم سے بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن ابحبر ثقہ ہے

یحییٰ بن معین نے فرمایا ثقہ ہے

اور یہی ابو زرعہ سے سنا  کہ عبد الملک یہ مجھے اسرایل سے زیادہ محبوب ہے

(الجرح والتعدیل)

 

 

 

اس تمام تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ امام شعبیٰ جنہوں نے ۵۰۰ صحابہ کرام کی زیارت کی ہے وہ بھی  ترک رفع الیدین کے قائل تھے

 

تحقیق: دعاگواسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

امام شعبی.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/5/2019 at 4:57 AM, اسد الطحاوی said:

سند کا تیسرا راوی : اشعت بن سوار

یہ حسن الحدیث راوی ہے

 

امام ذھبی کے نزدیک یہ لین ہے اور حسن الحدیث جبکہ امام ابن حجر کے نزدیک یہ ضعیف ہے

لیکن اس پر کوئی خاص جرح مفسر نہین ہے اور امام ذھبی کا موقف صحیح ہے نیز اسکی  متابعت بھی ثابت ہے جو کہ بعدمیں ذکر ہوگی پہلے اس پر توثیق پیش کرتے ہیں

یہ روایت حسن نہیں ہے بلکہ ضعیف ہے کیونکہ اشعث بن سوار پر جرح مفسر موجود ہے۔


وقال ابن حبان: فاحش الخطأ كثير الوهم.
(سیر اعلام النبلاء)

وقال بندار ليس بثقة
(تہذیب التہذیب)
اور امام دارقطنی کے نزدیک یہ متروک راوی ہے۔
k.thumb.jpg.76707840893635fbc56fdf19ff55b4a9.jpg
 
 
On 11/5/2019 at 4:57 AM, اسد الطحاوی said:

2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»

قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ»

 یہ روایت منکر ہے کیونکہ یہ اوثق کی مخالفت ہے اس لئے امام ابن حجر لکھتے ہیں:
وقال البيهقي عن الحاكم رواه الحسن بن عياش عن عبدالملك بن أبجر عن الزبير بن عدي بلفظ كان يرفع يديه في أول تكبير ثم لا يعود وقد رواه الثوري عن الزبير بن عدي بلفظ كان يرفع يديه في التكبير ليس فيه ثم لا يعود وقد رواه الثوري وهو المحفوظ

(الدرایۃ لابن حجر ج 1 ص 151)
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

حضرت عمر ؓ سے مروی ترک رفع الیدین پر امام ابوزرعہؒ، امام حاکمؒ (الشافعی)اورامام بیھقیؒ (الشافعی)کی طرف سے وارد اعتراضات کا رد

 

ہم نے پچھلی پوسٹ میں امام شعبیٰ سے مروی اثر کو بیان کیا تھا کہ وہ کبیر تابعی تھے اور ترک رفع الیدین کے مذہب پر تھے اور اس مسلے میں محدثین کا اختلاف بھی نہیں ہے کہ امام شعبی ترک رفع الیدین کے قائل تھے

جیسا کہ امام بغوی السنہ میں فرماتے ہیں :

وَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى أَنَّهُ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلا عِنْدَ الافْتِتَاحِ، يُرْوَى ذَلِكَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَصْحَابُ الرَّأْيِ، وَاحْتَجُّوا بِمَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «أَلا أُصَلِّي بِكُمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلا أَوَّلَ مَرَّةٍ»

(شرح السنہ ، امام بغوی ، جلد ۳، ص ۲۴)

امام بغوی ؒ فرماتے ہیں :

ایک طرف   قوم کا مذہب یہ ہے کہ کہ نماز میں رفع الیدین نہیں کیا جائے گا سوائے شروع کے  یہی وارد ہے امام الشعبی ، امام ابراہیم النخعی ، اور یہی قول ہے امام ابن ابی لیلی ، امام سفیان الثوری اور اصحاب الرائے یعنی(امام اعظم و صاحبین)  اور انکا احتجاج اس روایت سے ہے جو عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ میں تم کو ایسی نماز پڑھ کر نہ دیکھاوں؟  جو نبی پاک نے ہم کو پڑھائی ، پھر (ابن مسعود) نے رفع الیدین نہیں کیا سوائے شروع کے

 

اور امام شعبی کا یہ عمل متعدد اسناد صحیحیہ سے ثابت ہے جیسا کہ

امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں :

2444 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا»

(مصنف ابن ابی شیبہ، برقم: ۲۴۴۴)

امام  ابن مبارک (متفقہ علیہ) بیان کرتے ہیں اشعت(صدوق) سے اور وہ (شعبی) کے بارے کہتے ہیں کہ وہ رفع الیدین صرف شروع کی تکبیر میں کرتے تھے اور پھر نہ کرتے

(سند حسن)

دوسری سند :

امام ابن ابی شیبہؒ امام الشعبیؓ کے اثر کی ایک اور سند بھی بیان کرتے ہیں جو یوں ہے

2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»

قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ»

 

امام ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں : مجھے یحییٰ بن آدم (صحیحین کا راوی)  وہ حسن بن عیاش(صحیحین کا راوی)  وہ عبدالملک  بن ابجر(متفقہ علیہ) سے بیان کرتے ہیں

امام عبدالملک کہتے ہیں :

میں نے حضرت امام الشعبیؓ ، امام ابراہیم النخعیؓ اور امام ابو اسحاق السبیعیؓ کو دیکھا وہ  سوائے شروع میں نماز کے افتتاح کے پھر رفع الیدین نہیں کرتے تھے

(وہ سند جید صحیح)

 

امام شعبی سے مروی اثر کو ضعیف آج تک کسی ایک نہ محقق نہ کسی امام نے کہا ہے

لیکن ایک شافعی محقق صاحب نے اس بحث سے نقل کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ  امام عبدالملک سے مروی جو اثر مروی ہے حضرت عمر بن الخطابؓ کے بارے میں یہ شاز ہے  اور عبداملک نے اوثق کی مخالفت کی ہے

 

جیسا کہ یہ دعویٰ امام حاکم اور انکی تقلید میں امام بیھقی کا ہے اور یہی اعتراض امام ابو زرعہ سے بھی وارد ہے

اور ہم اسکا انصاف سے جائزہ لیتے ہیں کہ اس اثر کے بارے میں شوافع محدثین سے خطاء ہوئی ہے اور احناف محدثین و فقہا کا موقف اس بارے میں صریح ہے

لیکن ہم پہلے اس روایت کے متن پر  ان تینوں محدثین کے اعتراض  تمام نقل کر کے پھر احناف محدثین و فقہا کا جواب پیش کر کے اپنا تجزیہ انصاف سے پیش کرینگے

۱۔سب سے پہلے امام ابو زرعہ کا موقف پیش کرتے ہیں :

256 - وسألت أبي وأبا زرعة عن حديث رواه يحيى بن آدم (2) ، عن الحسن بن عياش، عن ابن أبجر (3) ، عن الأسود (4) ، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لا يعود: هل هو صحيح؟ أو يرفعه (5) حديث الثوري (6) ، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم (7) ، عن الأسود، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في افتتاح الصلاة حتى تبلغا منكبيه، فقط؟

فقالا: سفيان أحفظ

وقال أبو زرعة: هذا أصح. يعني: حديث سفيان، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عمر

(علل الحدیث لا ابن ابی حاتم)

امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے اپنے والد اور امام ابو زرعہ سے سوال کیا کہ :

جو حدیث ہے جسکو روایت کرتے ہیں یحییٰ بن آدم وہ الحسن بن عیاش وہ عبدالملک بن ابجر  وہ (یہاں ابراہیم راوی کو ذکر نہیں کیا گیا) وہ الاسود سے اور وہ حضرت عمر ؓ سے کہ : وہ صرف شروع کی تکبیر میں رفع الیدیین کرتے تھے پھر نہ کرتے

کونسی روایت صحیح ہے ؟

اور اس کو وارد کیا ہے سفیان الثوری نے بھی

کہ حضرت  بطریق متصل سند سے الاسود سے : کہ حضرت عمرؓ نماز میں افتتاح رفع الیدین سے کرتے یہاں تک کہ ہاتھ کندھوں تک پہنچتے

اور سفیان زیادہ بڑے حافظ ہیں

اور اما م ابو زرعہؒ نے فرمایا کہ یہ (سفیان) کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔

۲۔امام بیھقی ؒ امام حاکم سے اس  اثر پر جرح نقل کرتے ہیں :

قال ابو عبداللہ الحافظ ھذہ روایة شاذة تقوم بہا الحجة، ولا یعارض بہا  الاخبار الصحیحة الماثورة عن طاوس بن یسان عن ابن عمر ان عمر کان یرفع الیدیه فی الرکوع ، و ند رفع  الراس منه

وقد روی سفیان الثوری ھذا الحدیث بعینه عن الذبیر  بن عدی ولم یذکر فیه ثم لم یعود

 

امام حاکم فرماتے ہیں : یہ روایت شاذ ہے اور حجت بنانے کے لائق نہیں ہے  اور اسکے معارض اخبار صحیحیہ میں وارد ہے جس میں الماثور وہ طاوس سے وہ ابن عمر اور  حضرت عمر کے بارے بیان کرتے ہیں :  کہ وہ رفع الیدین رکوع  جاتے اور آتے کرتے تھے

اور سفیان نے  اس حدیث کو روایت کیا ہے زبیر بن عدی سے اور اس میں دوبارہ ہاتھ نہ اٹھانے کا ذکر نہیں ہے

اور اس میں امام بیھقی کی موافقت  ہے

اور امام حاکم کی بات کی دلیل وہ روایت دی ہے جسکو امام عبدالرزاق نے اپنی سند سے بیان کیا ہے جو کہ یوں ہے

 

2532 - عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ: «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِنَكَبَيْنِ»

(المصنف عبدالرزاق برقم: ۲۵۳۲)

 

الجواب:

 

اب سب سے پہلے ہم دو روایات کے متن پیش کرتے ہیں

جو مصنف عبدالرزاق نے اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے اسکو متن یوں ہے

 

أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ: «كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى الْمَنْكِبَيْنِ

حضرت عمر  رفع الیدین کندوں تک کرتے تھے

 

 

اور جو دلیل ہماری ہے جسکو امام ابن ابی شیبہ اور امام طحاوی نے اپنی اسناد صحیحیہ سے نقل کیا ہے اسکا متن یہ ہے

جو متن امام  ابن ابی شیبہ کا ہے وہ یوں ہے

2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»

 

اسکا متن یوں ہے کہ : امام الاسود کہتے ہیں  میں نے  حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ نماز ادا کی ہے  وہ کہیں بھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے  نماز میں سوائے نماز کے افتتاح کے وقت

 

اور جو امام طحاوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے اسکے الفاظ یوں ہے

 

كَمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ , قَالَ: ثنا الْحِمَّانِيُّ , قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ , ثُمَّ لَا يَعُودُ

 

الاسود کہتے ہیں : میں نے دیکھا عمر بن خطاب کو کہ وہ  اول تکبیر کے وقت رفع الیدین کرتے تھے پھر نہ کرتے

 

اب علل کے محدثین روایات کے الفاظ پر بحث کرتے ہیں یا مفہوم پر ؟

اگر یہ کہا جائے کہ علل کے امام حدیث کے  متن کے الفاظ پر بحث کرتے ہیں

اگر یہی بات ہے پھر تو امام طحاوی کی سند بھی صحیح ہے اور اسکا متن الفاظ کے اعتبار سے مختلف ہے

لیکن مفہوما ایک جیسی ہے اگر الفاظ مختلف بیان کرنے پر روایات شاز و منکر بن جائیں پھر تو اس اصول سے امام طحاوی و امام عبدالرزاق کی روایت جو مفہاما ایک جیسی ہے لیکن الفاظ  کی تبدیلی کی وجہ سے شاز و منکر بن جائے گی جو کہ کبھی ہو نہیں سکتا

 

اب آتے ہیں کہ علل کے امام رویات کو منکر و شاز مفہوم کے اعتبار سے کہتے ہیں کہ کوئی ثقہ اوثق کے خلاف متن میں ایسی زیادتی و کمی کرے کہ روایت کا آدھا متن ایک جیسا ہو اور اگلے متن میں مخالفت ہو جائے جس سے روایت کا متن میں تبدیلی آجائے یا تعارض پیدا ہو جائے اوثق کی رروایات کے خلاف

 

 

جبکہ یہاں یہ دونوں حالتیں نہیں ہے

 

جیسا کہ امام حاکم نے  امام سفیان الثوری کی جس روایت کو دلیل بنایا ہے یہ روایت متنا ہی اور باب کی ہے  اسکا تعلق دوسری روایت سے بالکل ثابت ہی نہیں  سوائے اسکے کہ ان دوروایات کی اسناد ایک جیسی ہے جو کہ حتمی دلیل نہیں کہ یہ روایت ایک ہے

 

کیونکہ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ایک تو یہ تصریح ہے کہ الاسود کہتے ہیں میں نے خود حضرت عمر کے ساتھ نماز پڑھی ہے یا انکو دیکھا ہے

 

اور  اس روایت میں رفع الیدین  کس مقام پر کرنے کی تصریح ہے اور کس مقام نہ کرنے کی دلیل ہے

 

اور جو روایت  مصنف عبدالرزاق کے طریق سے ہے

اس میں یہ تصریح ہے کہ رفع الیدین  کرنا کہاں تک ہے ؟ آیا کندھوں تک یا کانوں کی لو تک ؟

 

کیونکہ محدثین کا اس میں بھی اختلاف ہے

 

کہ رفع الیدین کرنے کے لیے ہاتھوں کو بلند کتنا کیا جائے ؟ (یہ علیحدہ باب ہے

اور رفع الیدین نماز میں کن کن مقامات پر کرنا چاہیے ؟(یہ علیحدہ باب ہے )

 

تو فقط سند ایک ہو جانے سے امام ابو زرعہ نے سفیان کی روایت کو اصح کہا (لیکن عبد الملک کی روایت کو ضعیف نہ کہا )

 

جبکہ امام حاکم نے اس روایت کو پہلے معارض بنایا ایک اور روایت سے

 

پھر دوسری علت سفیان الثوری کی روایت کی وجہ سے پیش کی ہے

لیکن دونوں روایات کا نہ ہی شروع کا متن ایک جیسا ہے نہ ہی الفاظ اور نہ ہی مفہوم ایک جیسا ہے

 

اسی طرح  امام طحاوی نے جو بات ذکر کی ہے وہ بھی  ہمارے استدلال کی تائید کرتی ہے چناچہ محدث الوقت  و  فقیہ العصر امام الطحاوی فرماتے ہیں:

1364 - كَمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ , قَالَ: ثنا الْحِمَّانِيُّ , قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ , ثُمَّ لَا يَعُودُ , قَالَ: وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ , وَالشَّعْبِيَّ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ " قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَهَذَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ أَيْضًا إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ , وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لِأَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَيَّاشٍ , وَإِنْ كَانَ هَذَا الْحَدِيثُ إِنَّمَا دَارَ عَلَيْهِ , فَإِنَّهُ ثِقَةٌ حُجَّةٌ , قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ أَفَتَرَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَفِيَ عَلَيْهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ , وَعَلِمَ بِذَلِكَ مَنْ دُونَهُ , وَمَنْ هُوَ مَعَهُ يَرَاهُ يَفْعَلُ غَيْرَ مَا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ , ثُمَّ لَا يُنْكِرُ ذَلِكَ عَلَيْهِ , هَذَا عِنْدَنَا مُحَالٌ. وَفَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا وَتَرَكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ عَلَى ذَلِكَ , دَلِيلٌ صَحِيحٌ أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الْحَقُّ الَّذِي لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ خِلَافُهُ

 

امام طحاوی اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

یہ حضرت عمررضی اﷲعنہ جو اس روایت کے مطابق صرف پہلی تکبیرمیں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور یہ روایت صحیح ہے۔ کیونکہ  ***اس کا دارمدار حسن بن عیاش راوی پر ہے۔ ** اور وہ قابل اعتماد وپختہ راوی ہے۔ جیساکہ یحییٰ بن معینؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ یہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ جناب رسول اﷲﷺرکوع اور سجدے میں ہاتھ اٹھاتے ہوں اور عمربن خطاب رضی اﷲعنہ کو معلوم نہ ہواوردوسروں کو معلوم ہوجائےجو ان سے کم صحبت والے ہوں۔ اور آپ کے ساتھی آپ کو ایسا فعل کرتے دیکھیں جو جناب رسول اﷲﷺ نے نہ کیا ہوپھروہ اس کا انکار نہ کریں۔ ہمارے نزدیک تو یہ بات ناممکنات میں سےہے۔ حضرت عمررضی اﷲعنہ کا یہ عمل اور اصحابِ رسول اﷲﷺکا رفع یدین کو چھوڑنا اس بات کی پکی دلیل ہے کہ یہ ایسا حق ہے کہ کسی عاقل کو اس کے خلاف کرنا مناسب نہیں۔

(شرح معانی الاثار  للطحاوی)

 

 

پہلا نقطہ یہ ہے کہ امام طحاوی نے اس روایت کا دارومدار جس راوی پر بنایا ہے وہ الحسن بن عیاش ہے

اور صحیحین کا متفقہ راوی ہے

اس سے معلوم ہوا امام طحاوی نے سفیان والی روایت  جو کہ کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کے بارے ہے   اس روایت کا عدم ذکر کیا ہے کیونکہ انکے نزدیک بھی سفیان والی روایت اس باب کی ہے ہی نہیں 

 

جبکہ امام حاکم و شوافع سفیان والی رویت کی سند  ایک ہونے کی وجہ سے یہ دو مختلف اوقات و متن کی روایات کو ایک بنا دیا  جو کہ انکا استدلال بالکل غلط ہے

 

 

اب ہم اپنی تائید  امام الزيلعي جنکے بارےشوافع کہتے ہیں کہ یہ انصاف پسند محدث تھے  اور تعصب سے پاک تھے

وَاعْتَرَضَهُ الْحَاكِمُ: بِأَنَّ هَذِهِ رِوَايَةٌ شَاذَّةٌ لَا يَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ، وَلَا تُعَارَضُ بِهَا الْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ عَنْ طَاوُسٍ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ2 أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ، وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ بِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: لَمْ يَعُدْ، ثُمَّ رَوَاهُ الْحَاكِمُ، وَعَنْهُ الْبَيْهَقِيُّ بِسَنَدِهِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ إبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ أَنَّ عُمَرَ3 كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي التَّكْبِيرِ، انْتَهَى. قَالَ الشَّيْخُ: وَمَا ذَكَرَهُ الْحَاكِمُ فَهُوَ مِنْ بَابِ تَرْجِيحِ رِوَايَةٍ لَا مِنْ بَابِ التَّضْعِيفِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إنَّ سُفْيَانَ لَمْ يَذْكُرْ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ فِيهِ: لَمْ يَعُدْ، فَضَعِيفٌ جِدًّا، لِأَنَّ الَّذِي رَوَاهُ سُفْيَانُ فِي مِقْدَارِ الرَّفْعِ، وَاَلَّذِي رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ فِي مَحَلِّ الرَّفْعِ، وَلَا تَعَارُضَ بَيْنَهُمَا، وَلَوْ كَانَا فِي مَحَلٍّ وَاحِدٍ لَمْ تُعَارَضْ رِوَايَةُ مَنْ زَادَ بِرِوَايَةِ مَنْ تَرَكَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَبُو مُحَمَّدٍ هُوَ أَخُو أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ: ثِقَةٌ، هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ عَنْهُ، وَقَالَ عُثْمَانُ بن سعيد الدرامي: الْحَسَنُ. وَأَخُوهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: كِلَاهُمَا عِنْدِي ثِقَةٌ.

(نصب الراية لأحاديث الهداية مع حاشيته بغية الألمعي في تخريج الزيلعي، جلد ۱ ، ص ۴۰۱)

 

امام زیلعی فرماتے ہیں :

اعتراض کیا ہے  حاکم نے کہ یہ روایت شاذ ہے اور اس کو حجت نہیں بنایا جا سکتا ہے  جیسا کے اسکے مخالف خبر میں حضرت عمر سے رفع الیدین کرنا آیا ہے

اور جو سفیان کی حدیث ہے زبیر بن عدی سے اس میں لم یعد یعنی دوبارہ ہاتھ نہ اٹھانے کا ذکر نہیں ہے

اور  پھر امام زیلعی نے امام بیھقی کی سند سے سفیان والی روایت نقل کی ہے

اسکے بعد فرماتے ہیں :  حاکم نے جو ذکر کیا ہے یہ ترجیح کے معاملے سے ہے نہ کہ روایت کو ضعیف  بنانے کے جیسا کہ انکا قول ہے : سفیان نے  اس حدیث کو بیان کیا ہے اس میں ثم لایعود کے الفاظ نہیں ہے

یہ بات ضعیف جدا ہے

کیونکہ امام سفیان الثوری کی روایت میں رفع الیدین کی مقدار کا ذکر ہے اور  جبکہ  عبدالملک کی روایت جو ہے یہ رفع الیدین کے محل یعنی اسکے مقام کے تعلق سے ہے

یہ دونوں علیحدہ باب کے تعلق سے ہیں

اگر اسکو ایک ہی واقعہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی متن میں تعارض نہیں ہوتا ہے (جیسا کہ دعویٰ ہے  شوافع کا )

کیونکہ ایک ثقہ راوی نے ایک ہی وقعے میں ایک نے رفع الیدین کی مقدار کا ذکر کیا اور دوسرے ثقہ راوی نے رفع الیدین کا محل یعنی مقام ذکر کیا ہے پھر بھی متن میں تعارض نہیں ہے

 

اسکے بعد امام زیلعی نے بھی الحسن بن عیاش (جو متفقہ علیہ صحیحیں کا راوی ہے اسکی توثیق پیش کی ہے)

 

اہم بات آپ کے شافعی امام دقیق العید الشافعی کا بھی موقف بھی یہی ہے کہ یہ روایت اور باب کی ہے اب تو آپکے گھر سے بھی گواہی آگئی ہے اور امام زیلعی نے بھی تائید کی ہے امام دقیق العید کی

 

خلاصہ:

امام حاکم نے روایت کی سند پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ رفع الیدین حضرت عمر سے ثابت ہونے کی وجہ سے اسکو شاز بنایا

اور جو امام ابورعہ و امام حاکم و بیھقی نے سفیان کی روایت کو اسکے مخالف بیان کیا ہے اور شاذ کہا ہے یہ

انکی خطا ہے

 

کیونکہ شاذ روایت تب ہوتی ہے جب روایت کے متن میں تطبیق نہ دی جا سکے    اور روایت اوثق کے خلاف مفہوما ہو

جبکہ یہاں ایسی بات نہیں ہے

 

اور  امام طحاوی کا کہنا کہ الحسن بن عیاش کا مدار پر یہ حدیث ہے اور وہ ثقہ و حجت ہے انکی بات بالکل صحیح ہے کیونکہ حضرت عمر سے رفع الیدین کا ترک بیان کرنے میں یہی منفرد ہیں

 

واللہ اعلم

 

دعاگواسد الطحاوی

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

الجواب :

یہاں ایک بات جو عرض ہے ایک تو امام ابو زرعہ  نے  ترک رفع الیدین کے اثر کو ضعیف نہیں کہا بلکہ سفیان سے مروی  طریق کو  زیادہ صحیح قرار دیا ہے

لیکن بنیادی بات جو نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ ہے

جتنے بھی محدثین بشمول امام ابو زرعہ  وغیرہ نے اس روایت میں  جو کلام کیا ہے  انہوں نے فقط سند کا ایک جیسے ہونے کی وجہ سے یہ استدال کیا ہے کہ  سفیان الثوری (جنکی سند  بالکل ایک جیسی ہے امام عبدالملک کی سند کے)

تو یہ  روایت ایک ہی ہے لیکن امام عبدالملک (متفقہ علیہ) سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ امام سفیان نے جو متن بیان کیا ہے اس میں ثم لایعود کے الفاظ نہیں ہیں

 

امام ابن ابی شیبہ  اپنی مصنف میں پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں :

إِلَى أَيْنَ يَبْلُغُ بِيَدَيْهِ

کہ ہاتھ کہان تک اٹھانے ہیں اور امام وکیع کے حوالے سے سفیان سے یہ روایت لاتے ہیں

2413 - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، «أَنَّ عُمَرَ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ»

اس متن میں امام عبدالرزاق  حضرت عمر کا ایک فعل بیان کر رہے ہیں

(مصنف ابن ابی شیبہ)

 

اسکے بعد پھر ایک اور باب قام کرتے ہیں :

 

مَنْ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لَا يَعُودُ

کہ نماز مین تکبیر اول کے بعد رفع الیدین نہ کرنا

پھر پھر عبدالملک والی  روایت لے کر آتے ہیں

2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»

جبکہ اس متن میں حجرت الاسود تصریح کر رہے ہیں کہ میں نے خود نماز پڑھی حضرت عمر کے ساتھ اور انکو دیکھا

 

یہ یاد رہے جو ترک رفع الیدین والی روایت ہے اس میں الحسن بن عیاش لازمی ہے

اور جو منکبین والی روایت ہے اسکو روایت کرنے والا صرف امام سفیان الثوری ہے

 

(مصنف ابن ابی شیبہ)

 

جیسا کہ امام عبدالرزاق نے بھی سفیان الثوری سے منکبین یعنی مقدار کی روایت ہی بیان کی ہے

 

2532 - عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ: «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِنَكَبَيْنِ»

(مصنف عبدالرزاق)

 

اب ہم امام ابو زرعہ کا کلام پیش کر کے ثابت کرتے ہیں کہ امام ابو زرعہ کو جو روایت ملی ہے اسکی سند میں مسلہ ہے

باقی ان تک جن راویان سے متن پہچنا وہ بالکل غیر ثابت ہے

 

256 - وسألت أبي وأبا زرعة عن حديث رواه يحيى بن آدم (2) ، عن الحسن بن عياش، عن ابن أبجر (3) ، عن الأسود (4) ، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لا يعود: هل هو صحيح؟ أو يرفعه (5) حديث الثوري (6) ، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم (7) ، عن الأسود، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في افتتاح الصلاة حتى تبلغا منكبيه، فقط؟

فقالا: سفيان أحفظ.

 

ایک تو سند جو بیان کی گئی ہے اس میں نہ ہی زبیر بن عدی ہے نہ ہی ابراہیم النخعی  ہے

اور متن میں یوں ہے کہ ان کان یرفع الیدین  فی اول تکبیر ثم لایعود

جبکہ یہ متن بالکل کہیں نہیں کہ متن ان کان سے شروع ہو رہا ہو

یہ روایت ہمیشہ رائت یا صلف مع سے شروع ہوتی ہے  یعنی امام الاسود حضرت عمر کو دیکھنے یا انکے ساتھ ہونے کی تصریح کرتے ہیں

دوسری بات جو روایت  انکو سفیان کے طریق سے پہنچی ہے اسکا متن یون ہے

عن عمر ان کان یرفع یدیہ فی افتتاح الصلاتہ حتی تبلغنا منکبینہ

امام ابو زرعہ  نے سند سفیان سے شروع کی ہے

اور سفیان سے یہی روایت بیان کرنے والے

ایک امام عبدالرزاق ہیں

دوسرے امام ابن ابی شیبہ ہیں

تیسرے اما م وکیع ہیں

جو سارے کے سارے اوثق ہیں  ابو زرعہ سے

ان میں کسی نے بھی سفیان والے طریق میں افتتاح والا  متن ذکر نہیں کیا جس سے مغالطہ ہوا ہوگا ابو زرعہ کو

کیونکہ ابو زرعہ نے اپنے شیخ کا نام نہیں لیا کہ کن طریق سے ان تک روایت پہنچی بیشک وہ ثقہ ہونگے ا سے ہم کو اختلاف نہیں

جبکہ ہمارے سامنے وہ راویان ہیں جو ابو زعہ سے اوثق ہیں تو انکے شیخ کا درجہ تو جو ہوگا  ہوگا

 

یعنی حضرت عمر افتتاح نماز مین رفع الیدین کرتے یہان تک کہ ہاتھ  کندھوں تک پہنچ جاتے

س.png

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.