Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts

اولا:ایک حکم شرعی کی کیفیت کا بیان ثابت ہو رہا ہے۔

فقیۂ امت ہیں اور مومنوں کی ماں ہیں۔
عملی تعلیم دینے کا ثبوت ہی کافی ہے کہ تھیوری سے پریکٹیکل زیادہ مؤثر اور بلیغ ہوتا ہے۔
وضو نماز کے طریقے لکھے ہیں پھر بھی پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں۔

ہماری عقل ناقص ہے ورنہ اتنے شدید اختلاف کو رفع کرنے کے لیے صرف اپنے محرم کو صرف جُوڑے پر پانی بہا کر دکھانا ضرور فوائد رکھتا ہے۔

موسی علیہ السلام کے کپڑے لے کر بھاگنے والے پتھر والی روایت میں بھی ضرور فوائد تھے۔

باقی حضرت عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں خالہ بمنزلۂ ماں ہونے کے کپڑے اتارے بغیر انھیں اگر غُسل کا طریقہ بتایا تو کیا ہو گیا؟

ثانیا:رافضیوں کو ان کے کفریہ عقائد پر پکڑا جائے۔

رافضیوں سے اصل اختلاف ان کے کُفریہ عقائد پر ہے۔

امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:بہت دھوکہ ہوتا ہے کہ وہابیہ وغیرہ سے فرعی مسائل پر گفتگو کر بیٹھتے ہیں۔وہابی غیر مقلد قادیانی وغیرہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ اُصول چھوڑ کر فرعی مسائل میں گفتگو ہو،انہیں ہر گز موقع نہ دیا جائے۔ان سے یہی کہا جائے کہ تم اسلام کے دائرے میں آلو،اپنا مسلمان ہونا تو ثابت کرلو پھر فر عی مسائل میں گفتگو کا حق ہوگا ۔

یہ روایت ثابت ہو یا نہ ہو رافضی پھر بھی اپنے کفریات کی بنا پر کافر و مرتد ہی رہیں گے۔
ان سے ان معاملات پر بحث فضول ہے۔
جب کفریات سے توبہ کریں گے تو ان کو یہ باتیں خود ہی سمجھ آ جائیں گی۔

ثالثا:امام سیوطی کا ایک رسالہ بنام عين الاصابة في استدراك عائشة على الصحابة موجود ہے اگر آپ کی مراد وہ ہے تو وہ نیٹ پر موجود ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

Edited by Syed Kamran Qadri
Link to post
Share on other sites

janab....m sunni hanfi barelvi maslak aala hazrat ka paband hu......ye sawal shia rafzio ki aur se ho rha hai.....aur m ek mahine se iske jawab pr kaam kr rha hu.....jaha tk mujhe pta hai....ispr ek risala imam jalaluddin as suyuti ne tahrir farmaya tha....pr bahut koshish k bd bhi wo risala na mil ska......bs jawabat ko jagah jagah se jama kr rha hu.....

Link to post
Share on other sites
On 11/25/2019 at 11:47 AM, Syed Kamran Qadri said:

اولا:ایک حکم شرعی کی کیفیت کا بیان ثابت ہو رہا ہے۔

فقیۂ امت ہیں اور مومنوں کی ماں ہیں۔
عملی تعلیم دینے کا ثبوت ہی کافی ہے کہ تھیوری سے پریکٹیکل زیادہ مؤثر اور بلیغ ہوتا ہے۔
وضو نماز کے طریقے لکھے ہیں پھر بھی پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں۔

ہماری عقل ناقص ہے ورنہ اتنے شدید اختلاف کو رفع کرنے کے لیے صرف اپنے محرم کو صرف جُوڑے پر پانی بہا کر دکھانا ضرور فوائد رکھتا ہے۔

موسی علیہ السلام کے کپڑے لے کر بھاگنے والے پتھر والی روایت میں بھی ضرور فوائد تھے۔

باقی حضرت عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں خالہ بمنزلۂ ماں ہونے کے کپڑے اتارے بغیر انھیں اگر غُسل کا طریقہ بتایا تو کیا ہو گیا؟

ثانیا:رافضیوں کو ان کے کفریہ عقائد پر پکڑا جائے۔

رافضیوں سے اصل اختلاف ان کے کُفریہ عقائد پر ہے۔

امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:بہت دھوکہ ہوتا ہے کہ وہابیہ وغیرہ سے فرعی مسائل پر گفتگو کر بیٹھتے ہیں۔وہابی غیر مقلد قادیانی وغیرہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ اُصول چھوڑ کر فرعی مسائل میں گفتگو ہو،انہیں ہر گز موقع نہ دیا جائے۔ان سے یہی کہا جائے کہ تم اسلام کے دائرے میں آلو،اپنا مسلمان ہونا تو ثابت کرلو پھر فر عی مسائل میں گفتگو کا حق ہوگا ۔

یہ روایت ثابت ہو یا نہ ہو رافضی پھر بھی اپنے کفریات کی بنا پر کافر و مرتد ہی رہیں گے۔
ان سے ان معاملات پر بحث فضول ہے۔
جب کفریات سے توبہ کریں گے تو ان کو یہ باتیں خود ہی سمجھ آ جائیں گی۔

ثالثا:امام سیوطی کا ایک رسالہ بنام عين الاصابة في استدراك عائشة على الصحابة موجود ہے اگر آپ کی مراد وہ ہے تو وہ نیٹ پر موجود ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

huzur.....ye risala....ka link bhej de...maharbani hogi....

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...