Sign in to follow this  
Followers 0
Saeedi

دیوبندی امکانِ کذبِ باری کے قائل ہیں یا وقوع کذبِ باری کے

4 posts in this topic

Posted (edited) · Report post

یہ کہنا(معبود جھوٹ بول سکتا ہے) ایسے ھی ھے جیسے یہ کہنا کہ   دیوبندیوں کا معبود خود کشی کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں (تو جس کی موت و حیات ممکن ہو وہ تو ممکن الوجود ھے نہ کہ واجب الوجود)۔  یا جیسے یہ کہنا کہ   دیو باندیوں کا معبود اتنا بھاری پتھر  بنا سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے ۔  یا جیسے یہ کہنا کہ   دیوبندیوں کا معبود چوری کر سکتا ہے، نہ کر سکے تو قدرت پر حرف آتا ہے اور کر سکے تو اس کی ملکیت سے کچھ چیزوں کو خارج ماننا پڑتا ہے جن کی وہ چوری کر سکے اور جن کے لئے کوئی اور مالک ومعبود ماننا لازم آتا ہے ۔  حقیقت میں سچا معبود سب کا ایک ھی ھے جیسا کہ سورۃ اخلاص میں ھے  اور  اپنے خیالات کے مطابق لوگوں کے بہت معبود ہیں جیسا کہ سورۃ الکافرون میں ھے :  لا اعبد ما تعبدون۔ وغیرہ ۔  ان کے تصوراتی معبودوں پر جرح کر کے ھم اُن کے تصورِ معبود کو درست کرنا چاہتے ہیں ۔  وہ جرحیں ھم سب کے سچے معبود کے متعلق سوچی بھی نہیں جا سکتیں۔   دیوبندی کتاب میں شیعہ کے تصورِ معبود کے متعلق یہ جرح موجود ہے

ایسے احمق خدا کو میں نہیں مانتا"۔ ارواح ثلاثہ۔"

سرفراز لکھتا ہے کہ   :"اس کو قدرت ھے کہ  بڑے سے بڑے گنہگار حتی کہ کافر و مشرک کو جنت میں داخل کر دے یقینا وہ اپنے اختیار سے ایسا کر سکتا ہے،  یہ الگ بات ہے کہ وہ کرے گا ھرگز نہیں  کیونکہ  اس کا وعدہ سچا ھے"۔ (تنقيد متین:139).   دیوبندیت/دیوبندگی کے امام سرفراز گکھڑوی کے نزدیک : اگر بڑے سے بڑے گنہگار جنت میں داخل ھوں تو الله جھوٹا ھو جائے گا ۔حالانکہ کافر و مشرک کو چھوڑ کر ھر بڑے سے بڑا گناہ گار جلد یا دیر سے جنت میں داخل ضرور ھو گا ۔ تو اس وقت دیو باندیوں کے نزدیک ان کے معبود کا جھوٹا ھونا ثابت ھو جائے گا ۔

Edited by Saeedi
فونت بدلا ہے
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

سبحٰن السبوح 1307ھ میں امکان کذب کے جدید مدعیان (براہین قاطعہ کے شروع میں امکان کذب کا دفاع کرنے والے صاحبان کو دہلوی کے مقتدی اور مدعیان جدید )لکھا تھا کہ   "اِن مقتدیوں یعنی مدعیانِ جدید کو ابھی (1307ھ) تک مسلمان ھی جانتا ہوں اگرچہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں "۔  تحذیرالناس کی تکفیر کی نفی یہاں سے اخذ کرنا ھرگز درست نہیں ہے ۔ سبحٰن السبوح سے ایک سال پہلے لکھی گئی کتاب اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام (1306ھ) میں لکھا ہے ۔ "جو نجدی وہابی ۔ ۔ ۔ کہے آج تک جو صحابہ تابعین خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین سمجھتے رہے خطا پر تھے، نہ پچھلا نبی ھونا حضور کے لئے کوئی کمال بلکہ اس کے معنی یہ ہیں جو میں سمجھا ۔ ۔ ۔یہ سب فرقے بالقطع والیقین کافر ہیں"۔  سبحٰن السبوح کی اس عبارت کو حسام الحرمین کا ناسخ لکھنے والے دیوباندی علماء بھی دستیاب ہیں، ڈیرہ غازی خان کے ایک صاحب نے کتاب لکھی (انشاء قلیل در دفاع مولانا طارق جمیل)،اس کے صفحہ 4 پر سبحٰن السبوح کی اس عبارت کو حسام الحرمین کا ناسخ لکھا ہے، دیو باندیوں کی تحقیق کے کیا کہنے!؟

Edited by Mughal...
فونت بدلا ہے
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

وقوع کذب باری کا قول دیوبندی کلاموں سے ثابت ھے:  1۔ سرفراز کے مطابق : معبود بڑے بڑے گناہ بخش سکتا ہے مگر نہیں بخشے گا کیونکہ وقوع کذب ھو جائے گا ۔  2۔ شئی( تین میں سے ایک زمانے میں ) فی الجملہ موجود تو ان الله علی کل شئی قدیر سے جھوٹ بولنے پر قدرت تبھی مانی جائے گی جب ایک زمانے میں کذب موجود و واقع مانا جائے ۔  3۔ خلف وعید اگر کذب ھے تو خلف وعید کا امکان ماننا نہیں بلکہ وقوع ماننا مختلف فیہ ھو گا۔  4۔قدرۃ علی القبائح ماننے والے محمود الحسن نے ترجمہ میں لکھا کہ رسولوں نے گمان کیا کہ (اللہ کی طرف سے)ان سے جھوٹ بولا گیا ۔ وقوع کذب باری کا ظن رسولانِ گرامی سے؟؟

Edited by Mughal...
فونت بدلا ہے
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

علامہ خفاجی کے حوالے سے آپ نے (لا القدرۃ) کی رٹ لگاتے رہے مگر جب ھم نے عبارت سے آئینہ دکھایا خود ہی حقیقتِ ظلم کو قدرت الٰہی سے لا یتصور کہہ کر لاتعلق مان گئے ۔ اور محال عقلی اور کیا ھوتا ھے!!   ھم نے علامہ خفاجی کی عبارت پیش کی جس میں خلف کو ممتنع لکھا تھا اور ساتھ ہی نقص اور منافی الوھیت بھی لکھا تھا جس سے ممتنع بالغیر کی تاویل بھی نہیں چل سکتی تو جناب منقار زیرِ پر ھو گئے  2۔ مسائرہ ومسامرہ کا عکس تم نے پیش کیا تو  اس میں صاحبِ عمدہ علامہ نسفی حنفی کا قول ھے کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم و سفہ و کذب پر قادر ھونے سے وصف نہ کیا جائے اور معتزلہ کے نزدیک وہ یہ سب کر سکتا ہے۔   علامہ نسفی کی بات پر بحث کرتے ہوئے علامہ کمال ابن الھمام حنفی نے کہا (کانہ انقلب مذھب المعتزلہ) (لگتا ھے کہ اس نے معتزلہ کا مذھب اُلٹ بیان کیا)۔ حالانکہ یہ کہنا تب درست ھوتا جب سب معتزلہ کا ایک ھی قول ھوتا جبکہ مزدار راہبِ معتزلہ کا قول مشہور ھے ۔ اور امام فخر الدین رازی نے بھی معتزلہ کا یہی مذھب بتایا ہے ۔  یونہی زیرِ بحث(ظلم،سفہ وکذب کر سکنے کی) بات کو مذھب اشاعرہ (مغفرت مشرکین کا ممکن بالذات اور محال بالغیر ھونا) کے الیق بتانا بھی اشاعرہ کا مذھب بتانا نہیں  بلکہ ان کا لازم المذھب بتانا ہے ۔   اسی کتاب کے صفحہ 60 پر ھے کہ اشاعرہ اور ان کے غیر کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو چیز بندوں کے حق میں وصف نقص ھے تو باری تعالیٰ اس سے منزہ ھے وھو محال علیہ تعالیٰ والکذب نقص فی حق العباد ۔ اسی کتاب کے صفحہ 239 پر عقیدہ اہل سنت لکھا کہ : یستحیل علیہ سبحانہ سمات النقص کالجہل والکذب۔ اللہ تعالیٰ پر عیب کی نشانیاں جیسے جہل اور کذب محال ہیں۔   3۔ شرح مواقف :331 پر خوارج و معتزلہ کا اعتراض لکھا کہ کبیرہ گناہ کی معافی سے خلف فی الوعید اور کذب فی الخبر لازم آتا ہے جو محال ہے ۔ اس پر فرمایا کہ وعید میں سزا لازمًا ھونے کی بات نہ تھی، واقع ھو سکنے کی بات تھی ۔ سزا لازم ھونے کی بات کی خلاف ورزی سے خلف وکذب لازم آ سکتا تھا ۔ اب ان دونوں کا جواز لازم نہیں آتا ۔ اور وہ بھی محال ھے۔ کیوں کہ ھم کہتے ہیں کہ اس ( یعنی صاحب ِ کبیرہ کی معافی)کا محال ھونا ممنوع ہے اور کیسے نہ ھو جبکہ یہ دونوں باتیں (ظاھری خلف وعید اور صورتِ کذب) ممکنات سے ہیں اور باری تعالیٰ کی قدرت میں شامل ہیں ۔  پھر اس بات کو اگر تم حقیقت میں کذب باری مانتے ھو تو تم وقوعِ کذبِ باری کے قائل ھوئے اور وقوع کذب باری کی تکفیر کر کے تم نے اپنی ھی تکفیر کی ۔ پھر اسی شرح مواقف:114 میں ھے کہ انہ تعالیٰ یمتنع علیہ الکذب اتفاقاً ۔الله تعالیٰ پر جھوٹ بالاتفاق محال ہے (قبیح یا نقص وغیرہ ھونے کی وجہ سے)۔ پھر اسی شرح مواقف:413 میں ھے کہ معتزلہ مزداریہ کا موقف ہے کہ الله قادر علیٰ ان یکذب و یظلم ، ولو فعل لکان الھا ظالما۔ تعالی الله عما قالہ علوا کبیرا۔ یعنی اللہ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے، اگر ایسا کرے گا تو خدا جھوٹا اور ظالم ھو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی کہی ھوئی باتوں سے بہت بلند ھے۔ اب معتزلی مزداروں اور دیوبندی مرداروں میں کیا فرق رہ گیا ہے؟

نام نہاد چار صریح حوالوں پر کلام: 1۔ کمال ابن الھمام:- مسائرہ کی زیربحث عبارت میں اشاعرہ کا مذھب مذکور نہیں بلکہ ان کے مذھب کے الیق لکھا اور یہ ظاھر بات ہے کہ لازم المذھب لیس بمذھب۔  2۔ حاشیہ سیالکوٹی کی زیر بحث عبارت کے بعد والی عبارت میں علم و صدق سمیت کسی بھی صفتِ کمال کی نفی کو ایسا ممتنع بتایا جیسے ذات کی نفی۔ یہ عبارت تمہاری پیش کردہ بے ربط عبارت سے معارض بھی ھے اور متاخر بھی ۔ ذات کی نفی محال عقلی ھے یا محال بالغیر ھے؟  3۔ شرح المواقف۔(ھما من الممکنات) میں خلف وعید اور اس سے متعلقہ "کذب" مراد ہیں۔  آپ واضح کریں کہ خلف ِ وعید عقلاً ممکن اور شرعاً محال ہے یا شرعاً بھی ممکن ہے اور محض ممکن ہے یا واقع بھی ھو گا؟ اور خلف وعید سے متعلقہ کذب کا بھی وہی حکم ھے یا نہیں؟  4۔ مسلم الثبوت کے یہ جناب کے پیش کردہ محشی کون ہیں؟ " اگر جھوٹے نبی کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کرنا ممکن بالذات مانتے ہو تو کیا اسے محال بالغیر بھی مانتے ھو یا نہیں؟  اگر محال بالغیر مانتے ھو تو وہ "غیر" کیا ھے؟ وہ الله کا کذب لازم آنا ھے۔  اگر کذب بھی ممکن بالذات ھے تو ایک ممکن بالذات دوسرے ممکن بالذات کو محال بالغیر کیسے بنا سکتا ہے، اس کے لئے تمہیں ماننا پڑے گا کہ کذب الله تعالیٰ کے لئے محال بالذات ھے ۔  کب تک ابن حزم اور مزدار کی پیروی کرتے رہو گے؟

Edited by Mughal...
فونت بدلا ہے
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.