اسد الطحاوی

فن حدیث میں احمد رضا کا مقام اور اعلی ٰ حضرت پردیوبندیوں کے ایک اعتراض کا علمی و تحقیقی جائزہ ۔بقلم : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

1 post in this topic

*فن حدیث میں احمد رضا کا مقام اور اعلی ٰ حضرت  پردیوبندیوں کے ایک اعتراض کا علمی و تحقیقی جائزہ *

*بقلم : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی *

 

ایک مجہولیہ دیوبندی نے اعلیٰ حضرت پر ایک روایت پر حکم تصحیح پر  جہالت بھری ایک تحریر لکھی جس پر دیوبندیوں کے ساجد نقلدبندی بھی ایک ٹانگ پر اچھل رہا تھا کہ اس مضمون میں اسکی تحریر سے اقتباس مطابقت رکھتے ہیں تو یہ اسکا بھی رد ہے

 

مجہولیا دیوبندی لکھتا ہے :

 

احمد رضاخان فاضل بریلوی کو رضاخانیت میں امیر المؤمنین فی الحدیث سمجھا جاتا ہے *(المیزان احمد رضا نمبر ص 247)*

اور نعیم الدین رضاخانی تو مبالغہ آرائی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ۔

علم حدیث میں بھی وہ (اعلی حضرت) فرد تھے اپنا ہمتانہ رکھتے تھے علم رجال میں ان کو وہ دستگاہ حاصل تھی کہ ایک ایک راوی کے حالات نوک زباں پر تھے *(اعلی حضرت کا فقہی مقام ص 11)*

اپنے وقت کے اس امام بخاری کو فن حدیث میں کیا مہارت تھی آئیے ملاحضہ کرتے ہیں۔

 

*صحیح حدیث کے نام پر جعلی حدیث*

احمد رضا خان سے سوال ہوا:

عرض:یہ حدیث ہے *لولاک لما اظھرۃ الربیوبیۃ*

 

احمد رضاخان نے جواب دیا:

میں نے حدیث میں نہیں دیکھا ہاں صوفیاء کی کتاب میں آیا ہے

 

*لولاک لما اظھرۃربوبیتی*

بایں ہمہ معنی صحیح اور صحیح حدیث کے موافق ہیں صحیح حدیث میں ہے *خلقت الخلق لاعرفھم کرامتک و منزلتک عندی ولولاک ماخلقت الدنیا*۔اے میرے حبیب میں نے خلق کو اسلئے پیدا کیاکہ جو عزت ومنزلت تمہاری میرے یہاں ہے میں ان کو پہنچوادوں اور اے میرے حبیب اگر تم نہ ہوتے تو میں دنیا کو نہ پیدا کرتا *(ملفوظات ص 382 حصہ چہارم رضوی کتاب گھر دہلی)*

یہ احمد رضا خان کا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صریح جھوٹ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث چہ جائیکہ صحیح ان الفاظ *خلقت الخلق لاعرفھم کرامتک و منزلتک عندی ولولاک ماخلقت الدنیا*

موجود نہیں۔دعوت اسلامی والوں نے احمد رضا خان کی اصلاح کرتے ہوئے ان الفاظ کو یوں بدل دیا۔

*لقد خلقت الدنیا و اھلھا لاعرفھم کرامتک و منزلتک عندی لولاک ما خلقت الدنیا*

اور ترجمے میں بھی اس نئی روایت کے مطابق تحریف کرڈالی ملاحضہ ہو *(ملفوظات حصہ چہارم صفحہ 521)*

اور حوالہ مواہب اللدنیہ ج 1 ص 44 کا دیا اول ماخذ کے طور پر مواہب اللدنیہ کا نام سامنے آنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث صحیح ہرگز نہیں بہر حال ہم نے احمد رضا کی لاج رکھنے کیلئے اصل ماخذ کی طرف مراجعت کی تو وہاں اس کی کوئی سند نہیں ملی۔

جس حدیث کو احمد رضا خان بڑی دلیری سے صحیح کہہ رہا ہے آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ یہ حدیث موضوع ہے۔

چنانچہ علامہ سیوطی اس نے اس کو موضوع کہا ہے *(اللآلی المصنوعۃ ص 249*

علامہ ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو موضوع کہا( *الموضوعات لاابن الجوزی ج1 289)*

 

 

اس مجہولیے دیوبندی کے اعتراضات کو بلترتیب جواب پیش کرتے ہیں :

 

 

سب سے پہلے جو روایت امام اعلیٰ حضرت نے نقل کی ہے مواھب لدنیہ سے جیسا کہ امام  زرقانی نے یہ روایت اما م ابن عساکر کے حوالے سے درج کی ہے

اور اس روایت کو امام سیوطی نے موضوع قرار دیا جسکی تفصیل آگے آئے گی لیکن اس سے پہلے امام ملا علی قاری کا بھی حکم پیش کردیں ا س بندی کو

 

385 - حديث

لولاك لما خلقت الأفلاك //

قال الصغاني إنه موضوع كذا في الخلاصة لكن معناه صحيح فقد روى الديلمي عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعا

أتاني جبريل فقال يا محمد لولاك ما خلقت الجنة ولولاك ما خلقت النار

* ** وفي رواية ابن عساكر لولاك ما خلقت الدنيا ** *

 

امام ملا علی قاری روایت نقل کرتے ہیں : اے محبوب اگر تم نہ ہوتے تو میں اپنی ربوبیت(رب ہونا)ظاہر نہ کرتا

اس روایت کو بیان کرنے  کے بعد امام ملاع علی قاری امام الصغانی الحنفی کا اس حدیث پر حکم نقل کرتے ہیں موضوع ہونے کا پھر امام ملا علی قاری اپنا حکم پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لیکن اس روایت کا معنی صحیح ہے 

جیسا کہ دلیمی نے ابن عباس سے مرفوع بیان کیا ہےجسکا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا اے محمد اگر میں تم کو پیدا نہ کرتا تو نہ جنت پیدا کرتا اور نہ ہی جہنم  اور روایت کیا ہے

·       **اور ابن عساکر نے جسکا مفہوم یہ ہے : (اگر میں تم کو پیدا نہ کرتا )تو  میں دنیا تخلیق نہ کرتا  ** *

 

ولولاك يا محمد ما خلقت الدنيا

 

تو اس جاہل مجہولیے صاحب کو چاہیے کہ یہاں امام ملا علی قاری پر بھی ٹھٹہ بازی کرے کہ وہ بھی اس روایت کے معنی کو صحیح قرار دیتے ہوئے دلیمی اور اسی ابن عساکر والی روایت کو دلیل کے طور پر بیان کیا ہے جب روایت کے معنی صحیح قرار دیے ہیں ملا علی  قاری نے تو ظاہری بات ہے جن روایات کا حوالہ دیا ہے ملا علی قاری نے وہ بھی انکے نزدیک صحیح درجے کی ہونگی

چونکہ مسندالفردوس اب بغیر اسناد ہے ملا علی قاری کی اس پر نظر ہوگی

اب جب جو ٹھٹھہ بازی یہ اعلی حضرت پر کر رہا ہے وہی ملا علی قاری پر بھی لازم کرے گا وگرنہ شرمندی  محسوس کر لینی  چاہیے اگر آتی ہو ۔۔۔۔۔

اب آتے ہیں امام سیوطی کی طرف کہ انہوں نے اسکو موضوع قرار دیا جو روایت ابن عساکر کے حوالے سے ہے جسکو امام زرقانی ، امام ملا علی قاری  اور اعلی حضرت نے  قابل استدلال قرار دیا اور صحیح بھی کہا جس میں وہ منفرد نہیں ہے

 

 

اور امام ابن عساکر نے اس روایت کو باسند نقل کی ہے جسکی سند یوں ہے :

 

أخبرنا أبو يعقوب يوسف بن أيوب بن يوسف بن الحسين بن وهرة (1) الهمذاني (2) بمرو نا السيد أبو المعالي محمد بن محمد بن زيد الحسيني (3) إملاء بأصبهان وأخبرنا أبو محمد بن طاووس أنا أبو القاسم بن أبي العلاء قالا أنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله بن عبد الله السمسار أنا حمزة بن محمد الدهقان نا محمد بن عيسى بن حبان المدائني نا محمد بن الصباح أنا علي بن الحسين الكوفي عن إبراهيم بن اليسع عن أبي العباس الضرير عن الخليل بن مرة عن يحيى (4) عن زاذان (5) عن سلمان قال حضرت النبي (صلى الله عليه وسلم)    بلخ۔۔۔۔۔

جو کہ طویل روایت ہے  لیکن اسکے آخری الفاظ یہی ہیں : 

ولولاك يا محمد ما خلقت الدنيا

 

اور امام سیوطی  نے اس روایت کو موضوعات میں درج کرتے ہوئے اس روایت پر حکم موضوع لگاتے ہوئے لکھتے ہیں :

مَوْضُوع: أَبُو السكين وَإِبْرَاهِيم وَيحيى الْبَصْرِيّ ضعفاء متروكون وَقَالَ الفلاس يَحْيَى كَذَّاب يُحدث بالموضوعات

امام سیوطی لکھتے ہیں : موضوع ہے  ابو الکین اور ابراہیم اور یحییٰ البصری ضیعف اور متروک ہیں

اور افلاس نے یحییٰ  کو کذاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موضوعات بیان کرتا تھا

(اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة السیوطی ،  ص : ۱۴۹)

 

جب کہ اس روایت پر صریح موضوع کا حکم لگانے میں امام سیوطی سے تسامح ہوا یا اسکو فحش خطاء بھی کہہ سکتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ امام ملا علی قاری نے بھی امام سیوطی کی اس جرح کو قبول نہ کیا تھا بلکہ اس روایت کو بطور دلیل پیش کیا تھا صحیح معنی میں

تو امام ملا علی قاری نے امام سیوطی کی اس جرح کو رد کیوں کیا ہوگا اسکے دلائل ہم پیش کرتے ہیں اللہ کے فضل سے ۔۔۔

پہلا راوی جس پر امام سیوطی نے اعتراض کیا اسکا نام ہے :

۱۔ محمد بن عيسى بن حيان المدائني يعرف بأبي السكين

امام ذھبی نے میزان میں  امام حاکم و دارقطنی سے اسکو ضعیف و متروک نقل کیا ہے بغیر سند سے

جسکی وجہ سے امام سیوطی نےانکو  متروک درجے کا بنا دیا

 

لیکن انکے بارے مختصر سا جائزہ !

۔امام ابن حبان نے انکو ثقات میں درج کیا ہے

۔امام خطیب بغدادی  انکے بارے نقل کرتے ہیں :

سمعت البرقاني، يقول: محمد بن عيسى بن حيان المدائني ثقة، وسألت البرقاني عنه مرة أخرى، فقال: لا بأس به سمعت هبة الله بن الحسن الطبري سئل عن ابن حيان، فقال: ضعيف.

وسألت هبة الله الطبري عنه مرة أخرى، فقال: صالح ليس يدفع عن السماع، لكن كان الغالب عليه إقراء القرآن

 

اپنے شیخ البرقانی سے نقل کرتے ہیں : کہ میں البرقانی سے سنا محمد بن عیسیٰ بن حیان ثقہ ہے

اور پھر سنا کہ اس مین کوئی حرج نہیں

ھبتہ اللہ الطبری سے سنا کہ ابن حیان ضعیف ہے

اور پھر سنا کہ صالح ہے لیکن اس پر قرآن کی قرت غالب تھی

 

اور امام دارقطنی سے  امام خطیب نے فقط ضعف کی جرح ہی نقل کی ہے

 

أَخْبَرَنِي أَبُو طَالِبٍ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَقِيهُ قال: قال أبو الحسن الدّارقطنيّ: الحسن ابن قتيبة ومحمد بن عيسى ضعيفان.

دارقطنی کہتے ہیں الحسین بن قتیبہ اور محمد بن عیسیٰ ضعیف ہیں

(تاریخ بغداد ، برقم : ۱۱۸۴)

 

 

لیکن امام ذھبی نے  سیر اعلام میں تبھی دارقطنی و حاکم سے متروک کی جرح نقل نہیں کی اور توثیق اور دارقطنی کی یہ جرح نقل کی بس

 

12 - محمد بن عيسى بن حيان أبو عبد الله المدائني *

المحدث، المقرئ، الإمام، أبو عبد الله المدائني، بقية الشيوخ.

حدث عن: سفيان بن عيينة، ومحمد بن الفضل بن عطية، وشعيب بن حرب، وعلي بن عاصم، ويزيد بن هارون، وجماعة.

حدث عنه: أبو بكر بن أبي داود، وأبو بكر بن مجاهد، وإسماعيل الصفار، وخيثمة الأطرابلسي، وعثمان بن السماك، وحمزة العقبي (1) ، وأحمد بن عثمان الأدمي، وأبو سهل القطان، وآخرون.

قال البرقاني: لا بأس به.

وقال الدارقطني: ضعيف.

قلت: توفي في سنة أربع وسبعين ومائتين، من أبناء المائة.

(سیر اعلام النبلاء)

 

خلاصلہ کلام کہ یہ راوی ثقہ و صدوق ہے کوئی جرح مفسر ثابت نہیں اس پر

 

 

۲۔دوسرا راوی :  إبراهيم بن أبي حية اليسع بن الأشعث، أبو إسماعيل المكي

اسکو بھی امام سیوطی نے متروکین و ضعیف راویوں میں شمار کیا 

 

انکا مختصر جائزہ !

۔امام بخاری اور امام ابی حاتم نے اسکو منکر الحدیث قرار دیا ہے جو کہ سخت جرح ہے

لیکن امام ابن معین جو کہ متشدد ناقدین میں سے ہیں وہ انکے بارے فرماتے ہیں :

حدثنا عبد الرحمن أنا يعقوب بن إسحاق [الهروي - 2] فيما كتب إلي قال أنا (3) عثمان بن سعيد الدارمي قال سألت يحيى بن معين قلت إبراهيم بن أبي حية؟ فقال شيخ ثقة [كبير - 2] .

امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن ابی دحیہ شیخ کبیر ثقہ ہے

(الجرح والتعدیل )

اور دارقطنی  ضعیف مانتے ہیں اور ابن حبان کہتے ہیں میرا قلب اس پر اعتماد کرنے پر راضی نہیں ۔

اور امام ابن عدی نے اسکی صرف ابراہیم سے روایات کو منکر بیان کی ہیں

 

لیکن امام ذھبی اس پر اپنا حکم لگاتے ہوئے لکھتے ہیں :

 

275 - إبراهيم بن أبي حية: ويقال: ابن أبي يحيى اليسع. شيخ قتيبة، واهٍ.

(المغنی )

امام ذھبی نے انکو واھ یعنی بالکل ہی معمولی ضعیف جسکی وجہ سے راوی کو ترک نہیں کیا جا سکتا اس درجے میں رکھا ہے

 

۔امام ابن عبدالبر

وہ ابراہیم کی روایت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہین یہ اثار متواتر  متصل صحیح الاسناد سے ثابت ہیں

 

حدثنا إبراهيم بن أبي حية عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر بن عبد الله قال جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأمره أن يقضي باليمين مع الشاهد فهذا ما في حديث جعفر بن محمد وإرساله أشهر وفي اليمين مع الشاهد آثار متواترة حسان ثابتة متصلة أصحها إسنادا

(التمہید لا ابن عبدالبر )

 

خلاصہ کلام یہ کہ اس پر جروحات دو سخت اماموں کی ہیں تو متشد امام سے توثیق بھی صریح ہے اور تبھی امام ذھبی نے اس راوی بالکل کو بالکل کم درجے کے ضعف میں درج کیا ہے واہ کے اور اس سے احتجاج کیا جا سکتا ہے

 

 

 

۳۔تیسرا راوی : یحییٰ بن ابی صالح ہے

 

اور امام سیوطی نے اس راوی کا تعین غلط کیا ہے اور اس راوی پر افلاس سے کذاب کی صریح جرح نقل کی ہے

جبکہ میزان میں جس یحییٰ پر جرح ہے وہ  یہ ہے :

 

9639 - يحيى بن ميمون [س، ق] ، أبو معلى العطار.

بصري، واه.

عن سعيد بن جبير.

(1 [كذبه الفلاس.

وقال ابن حبان] 1) : يروى عن الثقات ما ليس من أحاديثهم.

قلت: بل صدوق.

حدث عنه مثل شعبة، وابن علية، واحتج به النسائي.

ومات سنة اثنتين وثلاثين ومائة.

(المیزان )

 

امام فلاس نے  کذاب قرار دیا ہے اور ابن حبان نے بھی جرح کی ہے

لیکن امام ذھبی کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ یہ صدوق ہے

 

اور میری نظر میں یہ راوی وہ نہیں جو اس سند میں ہے

بلکہ یہ راوی

یحییٰ بن ابی صالح ہے نہ کہ یحییٰ بن میمون

 

جیسا کہ

امام  بخاری فرماتے ہیں :

3010 - يحيى بن أبي صالح عن أبي هريرة (4) روى عنه الخليل بن مرة. ولي قضاء الري، قاله محمد بن حميد.

(تاریخ الکبیر )

اور یہ روایت بھی ان سے بیان کرنے والا خلیل بن مرہ ہے

 

 

اور امام ابن حبان انکو الثقا ت میں درج کرتے ہیں

6062 - يحيى بن أبي صالح يروي عن أبي هريرة روى عنه الخليل بن مرة

(الثقات ابن حبان )

 

اور امام سفیان نے اس سے روایت لی ہے المصنف عبدالرزاق میں

 

 

اور یہ حدیث سند حسن  سے بالکل کم نے شواہد کی بنیاد پر جیسا کہ

 

 

مستدرک الحاکم میں   سند ضعیف سے ہے کہ آدم علیہ السلام نے نبی کریم کے نام سے  توبہ کی اور اللہ نے فرمایا کہ بے شک اگر میں محمد کو پیدا نہ کرتا تو تم کو بھی پیدا نہ کرتا

 

جس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن ضعیف ہے

 

اور امام ذھبی نے اسکے تفرد کی وجہ سے روایت کو موضوع قرا ر دیا

جیسا کہ ابن تیمیہ نے بھی اپنی پہلی تصنیف میں اسکو موضوع قرار دیا تھا لیکن اسکی جب صحیح سند پر مطلع ہوئے ابن تیمیہ تو انہوں نے اس روایت پر اپنے حکم سے رجوع کرتے ہوئے اس روایت کو قبول کیا ہے اور اسکو صحیح حدیث کی شرح کا مقام دیتے ہوئے استدلال کیا ہے 

 

اوراس روایت کی صحیح سند بھی ابن تیمیہ نے نقل کی اور مستدرک والی کو بھی قبول کیا ابن تیمیہ اپنے فتاوے میں لکھتے ہیں :

 

 

الشیخ ابو الفرج ابن الجوزی فی (الوفاء بفضائل المصطفیٰ)  : حدثنا أو جعفر محمد ابن عمرو، حدثنا أحمد بن سحاق بن صالح، ثنا محمد بن صالح، ثنا محمد ابن سنان العوقي، ثنا إبراهيم بن طهمان، عن بديل بن ميسرة، عن عبد الله بن شقيق، عن ميسرة قال: قلت: يا رسول الله، متى كنت نبياً ؟ قال: (( لما خلق الله الأرض واستوى إلى السماء فسواهن سبع سماوات ، وخلق العرش،كتب على ساق العرش: محمد رسول الله خاتم الأنبياء، وخلق الله الجنة التي أسكنها آدم وحواء، فكتب اسمي على الأبواب، والأوراق والقباب، والخيام،وآدم بين الروح والجسد،فلما أحياه الله تعالى: نظر إلى العرش فرأى اسمي فأخبره الله أنه سيد ولدك، فلما غرهما الشيطان ، تابا واستشفعا باسمي إليه  .

 

ترجمہ: حضرت میسرہ بیان کرتے ہیں کہ مین نے عرض کیا یا رسول اللہ!آُپ کب نبی تھے؟ فرمایا، جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق فرمائی پھر آسمان کی طرف استواء فرمایا اور سات آسمان بنائے اور عرش پیدا فرمایا اور ساق عرش پہ لکھا محمد رسواللہ خاتم الانبیاء اور جنت بنائی جس مین آدم اور حوا علیہما السلام کو ٹھہرایا، پھر دروازوں ، پتوں قبوں اور خیموں پر میرا نام مکتوب فرمایا۔ اس وقت آدم روح و جسد کے درمیان  تھے پھر ان میں روح ڈالی تو انہوں نے عرش کی طرف نظر اٹھائی چنانچہ اس پر میرا نام لکھا دیکھا اللہ تعالیٰ نے انکو خبر دی یہ تیری اولاد کا سردار ہے

پھر جب شیطان نے ان (حضرت آدم علیہ السلام) کو  دھوکا دیا تو انہوں نے توبہ کی اور میرے اسم گرامی سے بارگاہ الہی میں وسیلہ پکڑا

 

اس روایت کے سارے راوی متفقہ علیہ زبردستہ ثقہ ثبت ہیں کسی ایک پر بھی جرح  ثابت نہیں

راویان کی مکمل تحقیق کے لیے درج ذیل لنک پر میری تفصیلی پوسٹ دیکھ سکتے ہیں :

 

https://www.facebook.com/ahadeesKaDifaa/posts/345092482809625/

 

 

اور اسی روایت لو لاک کو دیوبندیوں کے مولوی عبدالحق حقانی نے بھی اپنے فتاویٰ حقانی لکھا ہے کہ اسکا معنی صحیح ہے

جسکا اسکین موجود ہے یعنی دیوبندی نے اپنے مولویوں کو بھی رگڑا لگا دیا ہے

اور اسی طرح  انکے بنوری ٹاون کے ایک عالم نے بھی اس پر پورا مقالہ لکھا ہے

 

خلاصہ تحقیق:

یہ روایت بالکل موضوع نہیں البتہ اسکے ایک دو  راویان  واہ یعنی لین یا واہ درجے کے کمزور ہیں

جو متابعت و شواہد کے قبول ہوتے ہیں

 

اور ابن عساکر کی روایت جسکو امام زرقانی نے نقل کیا جسکو امام اعلیٰ حضرت نے بیان کیا وہ روایت صحیح درجے کی نہیں تو حسن درجے سے بلکل کم نہیں جیسا کہ ہم نے ثابت کیا

 

کیونکہ اسکی شاہد دلیمی میں میں ملا علی قاری نے

اور

امام حاکم نے  بھی اسکی شاہد مستدرک میں

 

اور

 

امام ابن جوزی نے

نے اپنی تصنیف میں باسند جید نقل کی ہے

جسکو ابن تیمہ نے بھی قبول کیا ہے

 

اور امام سیوطی سے خطاء ہوئی اس پر حکم موضوع لگانے کی اور یحییٰ کاتعین بھی غلط کیا

اور افلاس کی جرح بھی غیر ثابت ہے اور امام ذھبی نے بھی اسکو صدوق قرار دیا ہے

 

 

تو دیوبندیوں ویسے علم رجال میں یتیم ہیں تو انکو چاہیے کہ اپنی حد میں رہہ کر  اعتراضات کیا کریں کیونکہ جس چیز کو مذاق بنا کر یہ ٹھٹھہ بازی کر رہے ہیں یہ اعتراض امام ملا علی ، امام زرقانی اور انکے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام حاکم پر بھی جاتا ہے

 

نیز انکے اپنے حقانی مولوی میاں بھی نہیں بچتے ہیں

 

بے شک اللہ اعلحضرت اپنے وقت کے سب سے بڑے صوفی ، محدث اعظم ، فقیہ اور ولی اللہ تھے اللہ انکی قبر پر ہزار رحمتیں نازل کرے اور

ہم جیسے کئی فقیر  انکے دفاع کے لیے  حاضر رہینگے علم حدیث پر انکا دفاع کرنے کے لیے

 

نوٹ :  اس دیوبندی جہالت بھرے مضمون پر ساجد نقلبندی بھی  اچھل کھود کر رہاتھا تائید میں معلوم ہوا کہ یہ بھی پلاسٹکی محکک بنا ہوا ہے اپنے چیلوں میں

اسکے کمنٹ کا اسکرین شارٹ بھی موجود ہے نیچے

 

 

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

مارچ ۲۱ ۲۰۲۰

 

 

 

 

 

 

 

 

۱.png

2.png

3.png

۴.png

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By اسد الطحاوی
      وبا میں اذان
       کی  حسن لغیرہ روایت پر  غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کی طرف سے کیے گئے باطل اعتراضات کا مدلل رد
      (بقلم:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی )
       
      کسی کی طرف سے ہم کو غیر مقلد غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کی تحریر موصول ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسکا رد کر دیں تو ان تک میری تحریر بھیج دی جائے گی تو ہم امن پوری صاحب کے روایات پر ناقص نقد اور خطاوں کو ظاہر کرتے ہوئے انکے محققین کے منہج پر اس روایت کو حسن لغیرہ ثابت کرینگے جن میں البانی صاحب اور اثری صاحب پیش پیش ہیں
      اختصار کے لیے ہم اثری صاحب کا یہ حصہ نقل کرتے ہیں:
       
      محدثین نے راویان کی ثقاہت  اور دیگر قرائن کے پیش نظر مقبول حدیث کے چار درجات بنائے ہیں ۔ جنہیں  درج ذیل صورتوں میں منقسم کیا جاتا ہے
      1)     صحیح لذاتہ
      2)    حسن لذاتہ
      3)    صحیح لغیرہ
      4)    حسن لغیرہ
      حسن لغیرہ کی دوصورتیں ہیں :
      ضیعف حدیث کی ایک سے زائد سندیں ہو ، ان میں سبب ضعف راوی  کا سوءحفظ ، مستور ، اختلاط ، ارسال وغیرہ ہو اور وجہ ضعف راوی کا فسق یا جھوٹ کا الزام نہ ہو ، بشرط کہ اس کی دوسری سندیں ضعف میں اس جیسی یا اس سے مستحکم ہوں
      یا کوئی ضعیف شاہد یا شواہد اسکے مئوید ہوں
       
      کچھ صفحات آگے جا کر اثری صاحب لکھتے ہیں :
      بعض انتہائی غیر محتاط لوگ یہ رویہ اپناتے ہیں کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث + ضعیف حدیث  کی مطلق  طور پر کوئی حیثیت نہیں ، خواہ اس حدیث کے ضعف کا احتمال بھی رفع ہو جائے ۔ بزعم خویش حدیث اور اسکے علوم کے بارے میں ان کی معلومات امام ترمذی، امام بیھقی ، حافظ عراقی ، حافظ ابن حجر وغیرہم سے زیادہ ہے
       
      اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھیے
      (مقالات اثریہ   ص 57 حسن لغیرہ )
       
      اب ہم اپنے مضمون کا آغاذ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں جوشرائط انکے گھر سے ثابت ہیں حسن لغیرہ کی کیا اس منہج پر اس باب کی روایات ثابت ہوتی ہیں یا نہیں
      اللہ ہم سب کو حق اور سچ پر رہتے ہوئے انصاف کے میزان کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق کرنے کی توفیق عطاء فرمائے
      سب سے پہلے جناب اپنے مضمون کی سرخی لگاتے ہیں :
      وبا کی صورت میں اجتماعی اذان کا کوئی ثبوت نہیں ۔ صحابہ ، تابعین ، تابع  تابعین اور ائمہ مسلمین کی زندگیوں میں اس کا ذکر نہیں لہٰذایہ بدعت ہے
       
      الجواب :
      جناب کو یہ ظلم اعظیم کرنے سے پہلے کم از کم تحقیق تو کر لینی چاہیے تھے ایک تو غیر مقلدین کو جس کام سے چڑ ہو اسکو ایک لمحے میں بدعت کہنے سے نہیں چوکتے ہیں یہی حال ان موصوف کا ہے
      بغیر تحقیق لکھ مارا جناب نے کہ تابعین ، تابع تابعین و سلف سے اجتماعی اذان دینے کا ثبوت نہیں یہ بدعت ہے
      یہ رد کر رہے ہیں وبا میں اذان دینے کا تو بدعت یہ کہہ رہے ہیں اجماعی اذان کو یہ کیا بات ہے ؟  جی اسکا مطلب یہ ہے کہ کوئی جب انکو صحیح مسلم سے تابعی کی گواہی پیش کریگا کہ نماز کے علاوہ بھی اذان کہنا جائز ہے تو یہ بہانہ بنا سکیں کہ اس میں اجماعی اذان کا ذکر کہا ں ہے ؟
      جبکہ آپ اکیلے اکیلے اپنے گھروں میں اذان دے دیں چلیں یہی تو کریں لیکن کہتے ہیں "پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور" یہی حال ادھر ہے انکا ۔ انکو مسلہ یہ ہے کہ آذان سوائے نماز کے علاوہ دینا ثابت نہیں اور ہم انکا رد صحیح مسلم سے ایک تابعی کے اثر سے کر دیتے ہیں تاکہ انکو بدعت کہنے کی غلطی دوبارہ نہ ہو
       
      جی محترم اثر صحابہ تو ہیں کہ نماز کے علاوہ آفت کے لیے خوف سے بچنے کے لیے آذان کا حکم ہے پیش کرتا ہوں تھوڑی دیر میں
       
      صحیح مسلم
      کتاب: نماز کا بیان
      باب: اذان کی فضیلت اور اذان سن کر شیطان کے بھاگنے کے بیان میں
       
      ترجمہ:
      امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح، سہیل سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے بنی حارثہ کی طرف بھیجا میرے ساتھ ایک لڑکا یا نوجوان تھا تو اس کو ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا اور میرے ساتھی نے دیوار پر دیکھا تو کوئی چیز نہ تھی میں نے یہ بات اپنے باپ کو ذکر کی تو انہوں نے کہا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے تو میں تجھے نہ بھیجتا لیکن جب تو ایسی آواز سنے تو اذان دیا کرو میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے لئے گوز ہوتا ہے۔
       
       
      اس روایت میں یہ الفاظ قابل غور ہیں کہ تابعی فرما رہے ہیں :
      ۔۔۔۔۔اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے تو میں تجھے نہ بھیجتا لیکن جب تو ایسی آواز سنے تو اذان دیا کرو۔۔۔۔ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے لئے گوز ہوتا ہے۔
       
      اس سے یہ معلوم ہوا کہ اذان کی مطلق فضیلت کی حدیث سے بھی وبا کے وقت مصیبت اور پریشانی اور قلبی سکونی کے لیے اذان دینے کے لیے فقط یہ ایک حدیث ہی کافی تھی
       
      لیکن غیر مقلدین فقہ اور فہم سے بالکل پیدل ہوتے ہیں انکو سند سند کھیلنے کا شوق ہوتا ہے نہ انکو معلوم ہے کہ ایک امر مستحب ہے اس کے لیے کس درجے کی حدیث یا دلیل چاہیے ہوتی ہے بس انکا ایک رٹہ ہے کہ یہ سند ضعیف ہے یہ سند ضعیف ہے ۔۔
       
      تو ان جیسے محقق جو اپنے گھر میں محقق بنے ہوئے ہیں انکو ہم سیکھاتے ہیں رجال کا علم کیا ہوتا ہے  اور حدیث کو اپنی کم علمی اور ناقص تحقیق کی بنیاد پر ضعیف سےشدید ضعیف بنانا انکی ناقص تحقیق ہے
       
      تو تابعی وہ بھی اتنے کبیر جو حضرت عمر کے دور میں پیدا ہونے والے اور بڑے فقیہ انکا استدلال آگیا تو اب اس امر کو بدعت کہنا غیر مقلدین کا جماعتی تعصب اور ہڈ دھرمی ہے
       
      اب آتے ہیں انکی طرف سے کیے گئے روایات کی اسناد پر باطل اعتراضات جس میں انہون نے یہ کوشش کی ہے جتنا ہو سکے اسناد میں اپنی طرف سے ایسا شدید ضعف بیان کیا جا سکے کہ کوئی روایت بھی حسن لغیرہ بننے کے قابل نہ رہے
       
      لیکن ہم انکے محققین جیسا کہ ناصر البانی اور اثری صاحب کے منہج پر اس باب میں یہ دو روایات کو حسن لغیرہ کی شرط پر ثابت کرینگے ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرنے کے بعد
       
       
      امن پوری صاحب  کی طرف سے پہلی روایت پر جرح درج ذیل ہے ۔
       
      v   ۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے منسوب ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
      إِذَا أُذِّنَ فِي قَرْيَةٍ أَمَّنَهَا اللَّهُ مِنْ عَذَابِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ
      "جب کسی بستی میں اذان کہی جاتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس روز اسے اپنے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے ۔"
      ّ(المعجم اللکبیر للطبرانی :  257/1)
       
      سند سخت ضعیف ہے (یعنی بقول انکے اس روایت کی سند ضعیف جدا ہے )
      1)     عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار ضعیف ہے ۔
      ·       امام بخاری ؒ فرماتے ہیں :
      لم یصح حدیثه :  اسکی بیان کردہ حدیث ثابت نہیں  (التاریخ الکبیر )
      ·       امام یحییٰ بن معین ؒ نے اسکو ضعیف کہا ہے  (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم و سند صحیح)
      ·       حافظ ذھبیؒ (دیون الضعفاء:2447) نے منکر الحدیث کہا ہے
      ·       حافظ ابن حجر ؒ نے( التقریب برقم:3873) نے ضعیف کہاہے
       
      2)     بکر بن محمد قرشی کے حالات زندگی نہیں معلوم
      3)    صالح بن شعیب کی معتبر توثیق نہیں ہو سکی
       
       
      الجواب
       
      امن پوری صاحب کی تحقیق میں چند نقائص:
       
      ۱۔پہلی غلطی یا خیانت : سند کو ضعیف جدا کہا جب کہ سند میں کوئی متروک ، یا متہم بلکذب روی موجود نہیں ہے
       
      ۲۔  سند میں اپنی ناقص تحقیق کی وجہ سے یہ دعویٰ کر دیا کہ صالح بن شعیب البصری کی معتبر توثیق نہیں ہو سکی
      جبکہ انکو کہنا چاہیے تھا انکو نہیں ملی کیونکہ انکی تحقیق ناقص ہو سکتی ہے لیکن ضروری نہیں انکے علاوہ سب ان جیسے ہوں
       
      ۳۔بکر بن  محمد بن قرشی کے حالات معلوم نہیں
       
      اب ہم انکے ان اعتراضات کا بلترتیب تحقیقی جائزہ لیتے ہیں :
       
      سب سے پہلی بات یہ ہے کہ عبدالرحمن بن سعد بن عمار ضعیف ہے جیسا کہ انہوں نے تقریب  سے امام ابن حجر عسقلانیؒ کا حوالہ دیا  کہ یہ روای ضعیف ہے  اس سے ہم کو بھی اختلاف نہیں کہ یہ سند میں ضعیف ہے
      لیکن ایسے ضعیف راوی سے سند ضعیف جدا کیسے بنتی یہ ہے راز ہم کو یہ بیان کرینگے
      البتہ ہم انکو انکے محقق اثری صاحب سے آئینہ دکھا دیتے ہیں کہ کونسی روایت شدید ضعیف ہوتی ہیں اور حسن لغیرہ کے لیے تقویت  دینے کے  قابل نہیں ہوتی انکی شرط درج ذیل ہیں
      1.      راوی پر جھوٹ کا الزام ہو
      2.     حدیث شاذ ہو
      3.     راوی متروک ہو
      (مقالات اثریہ ص 69)
       
      اب دیکھتے ہیں انہون نے جو شروع میں حدیث کے سخت ضعیف ہونے کا دعویٰ کیا وہ اوپر انکے اثری صاحب کی طرف سے بیان کردہ شرائط میں سے کوئی شرط پائی جاتی ہے یا نہیں
       
      v   محمد بن بکر القرشی کا تعین اور توثیق :
       
      بات یہ کہ بکر بن محمد القرشی کا ترجمہ آپکو نہیں ملا
      توعرض ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر راوی کے شیوخ کا ذکر محدثین کریں یا ہر راوی کے تلامذہ میں سب کا نام لکھا جائے ایسا ممکن نہیں ہوتا ہے تبھی محدثین کسی راوی کے شیوخ میں نام لکھ کر آخر میں و جماعتہ یا خلق کثیر لکھ دیتے ہیں
       
      تو راوی کے تعین کے لیے طبقہ بھی دیکھنا پڑتا ہے تو اس سے بھی قررائن واضح ہو جاتے ہیں
      ہم اللہ اور اسکے رسولﷺ کے فضل سے آپکو جواب پیش کرتے ہیں
       
      امام طبرانی اپنے جس شیخ سے یہ روایت پیش کرتے ہیں اسکی سند یوں ہے :
      حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ: نا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ
      اس میں یہ بات قابل غور ہے کہ امام طبرانی کا یہ شیخ بصری ہے اور انہوں نے اپنے شیخ بکر بن محمد القرشی کا نام لیا ہے
      اور اس طبقے میں ایک راوی موجود ہیں جنکا نام ہے :
      بكر بن محمد بن عبد الوهاب أبي عمرو القزاز بالبصرة
       
      یہ بصری راوی ہیں اور ثقہ راوی ہیں
      جیسا کہ امام دارقطنی سے انکے بارے پوچھا گیا تو وہ انکی توثیق کرتے ہیں :
       
      213 - وسألته عن بكر بن محمد بن عبد الوهاب أبي عمرو القزاز بالبصرة فقال ثقة
      (سؤالات حمزة بن يوسف السهمي)
       
      اور یہ قرشی ہی تھے جیسا کہ امام خطیب بغدادی ایک روایت نقل کرتے ہیں تاریخ میں جسکی سند یوں ہے :
       
      أخبرنا بشرى، قال: حدثنا عبد الله بن إسحاق بن يونس بن إسماعيل المعروف بابن دقيش في سنة اثنتين وستين وثلاث مائة، وحضر ذلك محمد بن إسماعيل الوراق، قال "حدثنا بكر بن محمد بن عبد الوهاب القزاز القرشي، بالبصرة"، ـ ـ قال: بلخ۔۔۔۔۔۔
      (تاریخ بغداد ، برقم:4980)
       
      اور اس پر دوسرا قرینہ یہ ہے کہ یہ بھی امام طبرانی کے شیوخ میں بھی ہیں امام طبرانی نے ان سے ڈریکٹ بھی روایات بیان کی ہیں اور کچھ روایات شیخ الشیخ سے بیان کی ہیں
       
      انکی کنیت کافی ساری ہیں کچھ محدثین انکو بکر بن محمد العدل کے نام سے لکھتے ہیں
      کچھ انکو بکر بن محمد ابو عمرو کے نام سے
      کچھ بکر بن محمد البصری
      اور کچھ بکر بن محمد البصری الرقشی القزاز کے ساتھ لکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ البانی صاحب کو بھی اسکا ترجمہ نہ مل سکا جیسا کہ آپ کو نہیں ملا
       
      بر حال بکر بن محمد القرشی البصری القزاز یہی ایک راوی ہی اس طبقے کا  ہے اور ثقہ راوی ہے اور اس سند میں بھی یہی راوی ہے
      اور ان سے امام صالح بن شعیب البصری بھی روایت کرتے ہیں جو کہ امام طبرانی کے شیخ ہیں اور خود امام طبرانی بھی انہی سے روایت کرتے ہیں
      امام ابن حبان اور دوسرے دیگر محدثین بھی انکے شاگردوں میں آتے ہیں
       
      ہمارے قرائن کو رد کرنے کے لیے آپ کوشش کرینگے تو کوئی مضبوط دلیل دیجیے گا
      ورنہ اہل علم اور رجال کے محققین کے لیے یہ بات کافی ہے کہ تعین بالکل ٹھیک ہے ان شاءالل
       
      تو جناب کا اسکو مجہول کہنا باطل ہے اور یہ راوی ثقہ ہے
       
      ۳۔ اعتراض جو انکا تھا کہ صالح بن شعیب کی کوئی معتبر توثیق نہیں ہو سکی یہ بات انکی جہالت پر مبنی ہے اور انکی ناقص تحقیق کہ اس پر انہوں نے دعویٰ کر دیا جبکہ یہ اگر اتنا کہتے کہ انکو نہیں ملی توثیق تو بات اور تھی لیکن اگر یہ دعوے اس طرح سے کرینگے تو ہم پھر انکا رد بھی اسی زبان میں کرینگے کیونکہ انکو بڑا شوق ہے رجال رجال کھیلنے کا اور اپنی من مرضی سے احادیث کو ضعیف سے ضعیف جدا بنانے کا تو انکو سیکھائیں گے کہ رجال کا علم اصل ہوتا کیا ہے اور یہ ایسا علم نہیں جہاں کوئی شریر گھوڑا اپنی مرضی سے پھرتا رہے بلکہ  اس علم میں اپنے نفس اور چاہت کو ایک طرف رکھ کے انصاف کے میزان پر بات کرنی ہوتی ہے کیونکہ بات حدیث رسول ﷺ کی ہے اور اور جو اس میں من مانی کریگا تو اسکا رد بھی اسی زبان اور شد میں ہوگا جتنی غلطی بڑی ہوگی
       
      v   خیر صالح بن  شعیب البصری کی توثیق درج ذیل ہے :
       
      امام عینی انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
      1056 - صالح بن شعيب بن أبان الزاهد البصرى: يكنى أبا شعيب، أحد مشايخ أبى جعفر الطحاوى الذين روى عنهم وكتب وحدث، روى عن محمد بن المثنى وغيره، وذكره ابن يونس فى تاريخ الغرباء الذين قدموا مصر، وقال: قدم إلى مصر، وكُتب عنه، وخرج إلى مكة، وتوفى بها فى صفر سنة ست وثمانين ومائتين.
       
      صالح بن شعیب بن ابان الزاھد البصری  انکی کنیت ابو شعیب تھی یہ امام طحاوی کے مشایخ میں سے ایک تھے ان سے لکھا اور بیان کیا گیا ہے اور ان سے محمد بن المثنی وغیرہ نے روایت کیا ہے
      امام ابن یونس نے اپنی تاریخ الغرباء میں ذکرکیا کہ یہ مصرف اائے اور جب یہ مصر آئے تو میں نے ان سے لکھا ہے پھر یہ مکہ چلے گئے یہ ۲۸۶ھ میں فوت ہوئے
      (مغاني الأخيار في شرح أسامي رجال معاني الآثار، امام عینی )
       
       
      امام ابن عبدالبر سے ضمنی توثیق :
      امام ابن عبدالبر التمہید میں امام مالک بن انس سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :
      "مالك عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك الفضل"
      اسکو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :
      "لم يقله غير الحنفي عن مالك والله أعلم ولم يتابع عليه وهو أبو علي عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي"
      کہ امام مالک سے زھری کے حوالے سے یہ راویت  اس متن ادرک الفضل کو بیان کرنے میں ابو علی عبیداللہ الحنفی کی کوئی متابعت نہیں کرتا ہے
      پھر امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں :
      "وسنذكر ما للفقهاء في هذا المعنى بعون الله إن شاء الله وقد روى هذا الحديث عن مالك حماد بن زيد"
      ہم فقھا سے اسکا معنی بھی اللہ کی مدد سے بیان کرینگے اور یہ بھی کہ یہ راویت مالک سے حماد بن زید بیان کرتے ہیں
       
      پھر اسکی دلیل دیتے ہوئے امام ابن عبدالبر  صالح بن شعیب (شیخ طبرانی) سےسند بیان کرتے ہیں :
      حدثنا أحمد بن فتح قال حدثنا أحمد بن الحسن الرازي قال حدثنا"أبو شعيب صالح بن شعيب بن! زياد البصري"  قال حدثنا إبرهيم بن الحجاج الشامي حدثنا حماد بن زيد عن مالك عن ابن شهاب عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من أدرك ركعة من الصلاة فقد *أدرك الصلاة**
      امام ابن عبدالبر یہ روایت مالک کی جو بیان کرتے ہیں اس میں فقط ادرک الصلاتہ لفظ ہے نہ کہ ادراک الفضل
      پھر امام ابن عبدالبر یہی روایت اپنے دوسرے شیخ سے  صالح بن شعیب (شیخ طبرانی) سے بیان کرتے ہیں اس میں بھی وہی لفظ ہے جو اوپر حماد بن زید نے امام مالک سے بیان کیا ہے جسکو صالح بن شعیب روایت کرتے ہیں
       
      وحدثنا خلف بن قاسم حدثنا أبو العباس أحمد بن الحسن بن إسحاق بن عتبة حدثنا "أبو شعيب صالح بن شعيب بن أبان الزاهد"  في شوال سنة إحدى وثمانين ومائتين قال حدثنا إبرهيم بن الحجاج الشام حدثنا حماد بن زيد عن مالك بن أنس عن ابن شهاب عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك الصلاة هذا هو الصحيح عن حماد بن زيد عن مالك
      ومن قال فيه عن حماد عن مالك بهذا الإسناد من أدرك ركعة من الصبح الحديث فقد أخطأ
       
      امام ابن عبدالبر ابو صالح شعیب بن ابان بن زاھد سے روایت بیان کر کے کہتے ہیں یہی صحیح ہے جسکو حماد بن زید نے نقل کیا ہےامام مالک سے اور جنہوں نے حماد سے مالک سے اسی سند سے ادرک رکعت صبح کی حدیث بیان کی ہے ان سے خطاء ہوئی ہے
      (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، جلد 7۔ ص 64)
       
      امام ابن عبدالبر کا ابو صالح شعیب کی روایت کو باقی تمام صدوق راویان پر مقدم کرنا انکی ثقاہت کے لیے کافی ہے
       
       
      نیز اس پر بھی انکو مسلہ ہو یا معلوم نہیں ضمنی توثیق کے بھی منکر بن جائیں تو انکے سلفی محقق سے بھی توثیق پیش کر دیتے ہیں :
       
      سلفیوں کے محقق نے امام الطبرانی کے شیوخ پر ایک کتاب لکھی ہے اس میں ابو صالح شعیب کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :
      [496] صالح بن شعيب أبو شعيب الزاهد البصري.
      حدث عن: بكر بن محمد القرشي، وداود بن شبيب، وعبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، ونافع بن خالد الطاحي.
      وعنه: أبو القاسم الطبراني بمصر في " معاجمه " ووصفه بالزاهد.
      مات في صفر سنة ست وثمانين ومائتين.
      - تاريخ الإسلام (21/ 191).
      • قلت: (صدوق إن شاء الله)
      (إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني ، المؤلف: أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري)
      اس کتاب کو ابن تیمیہ مکتب والوں نے چھاپا ہے : الناشر: دار الكيان - الرياض، مكتبة ابن تيمية – الإمارات)
       
       
      اتنے دلائل کے بعد بھی کوئی کہے کہ امام طبرانی کا شیخ مجہول بنانا اور یہ دعویٰ کرنا کہ اسکی معتبر توثیق نہیں ہو سکی یہ سطحی تحقیق کرنے والے بندے کی یہ بات ہو سکتی ہے
       
      خلاصہ تحقیق:
      اس روایت میں فقط ایک راوی ضعیف ہے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار  اور باقی اس سند میں سارے ثقہ و صدوق راوی ہیں
      اور یہ روایت فقط معمولی ضعیف ہے اور حسن لغیرہ بننے کے بالکل قابل ہے اب ایک اور اس قسم کی روایت اگر ثابت ہو جائے جس میں اس جیسا ضعیف راوی ہو ، یا مجہول یا  یخطئ راوی ہو تو اس سے تقویت پا کر اس باب میں یہ روایت حسن لغیرہ بن جائے گی 
       
      ******************
       
      تیسرے نمبر پر انہوں نے  حلیة الاولیا ء لابی نعیم اور تاریخ دمشق کے طریق سے روایت لکھی ہے :
      امن پوری صاحب کا اس روایت کی سند پر نقد درج ذیل ہے ۔
      حضرت سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
       
      نزل ادم بالهند واستوحش فنزل جبريل فنادى بالأذان الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله مرتين أشهد أن محمدا رسول الله مرتين قال ادم من محمد قال اخر ولدك من الأنبياء
      (حلیةالاولیاء لابی نعیم 107/5، وتاریخ دمشق ، 437/7)
       
      1)    روایت ضعیف ہے
      ·       حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
      ·       فیه  ةتشاهیل : اس مین کئی مجہول ہیں  (فتح الباری)
       
      2)     علی بن بہرام بن یزید کوفی کی توثیق نہیں مل سکی
      ·       حافظ ہیثمی ؒ لکھتے ہیں  لم اعرفه :  
      میں اسے نہیں پہچانتا
       
      *************************
       
      الجواب :
      تو جناب نے اس روایت میں صرف ایک علت بیان کی ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک مجہول راوی ہے  اور ہماری تحقیق میں اس  کا ترجمہ امام  خطیب بغدادی وغیرہ نے بیان کیا ہے لیکن بغیر جرح و تعدیل سے معلوم ہوا اس راوی کی عدالت پر کوئی جرح نہیں ہے اور یہ راوی متابعت اور شواہد میں قابل قبول ہے
       
      تو انکے اثری اور انکے البانی کے منہج کے مطابق یہ روایت حسن لغیرہ ثابت ہو چکی ہے پچھلی راویت سے تقویت حاصل کر کے اور پچھلی روایت اس حدیث سے تقویت حاحصل کر کے
       
      اب اسکے علاوہ جن روایات پر انہوں نے جروحات کی ہیں اگر کسی میں متروک یا متہم بلکذب رراوی نہ ہوں اور ضعیف ہوں تو وہ سب ان روایات کو تقویت دینگی اور کوئی بھی ثابت نہ ہو ان دو روایات کے علاوہ بھی تو یہ دو ورایات کافی ہو چکی ہیں
       
      امید ہے اس تحریر پر مطلع ہونے پر اپنی تحقیق میں فاحش خطاوں سے رجوع کرینگے اور بہت مشکل ہے کہ غیر مقلدین اپنی غلطی تسلیم کر لیں بلکہ خود کوصحیح ثابت کرنے کے چکر میں علم رجال سے کھلواڑ کرنے سے بھی نہیں چوکتے
       
      تو معلوم ہوا نماز کے علاوہ اذان دینے پر تابعی کا اثر مسلم سے ثابت ہے اور ان روایات کی روشنی میں مصیبت اور پریشانی اور قلبی سکون کے لیے اذان دینا ثابت ہے اور اس امر کو بدعت کہنا والا علم اور علوم حدیث اور فقہ سے جاہل ہے
       
       
      تحقیق : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی  ۲۳مارچ ۲۰۲۰