Jump to content
اسلامی محفل
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By اسد الطحاوی
      وبا میں اذان
       کی  حسن لغیرہ روایت پر  غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کی طرف سے کیے گئے باطل اعتراضات کا مدلل رد
      (بقلم:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی )
       
      کسی کی طرف سے ہم کو غیر مقلد غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کی تحریر موصول ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسکا رد کر دیں تو ان تک میری تحریر بھیج دی جائے گی تو ہم امن پوری صاحب کے روایات پر ناقص نقد اور خطاوں کو ظاہر کرتے ہوئے انکے محققین کے منہج پر اس روایت کو حسن لغیرہ ثابت کرینگے جن میں البانی صاحب اور اثری صاحب پیش پیش ہیں
      اختصار کے لیے ہم اثری صاحب کا یہ حصہ نقل کرتے ہیں:
       
      محدثین نے راویان کی ثقاہت  اور دیگر قرائن کے پیش نظر مقبول حدیث کے چار درجات بنائے ہیں ۔ جنہیں  درج ذیل صورتوں میں منقسم کیا جاتا ہے
      1)     صحیح لذاتہ
      2)    حسن لذاتہ
      3)    صحیح لغیرہ
      4)    حسن لغیرہ
      حسن لغیرہ کی دوصورتیں ہیں :
      ضیعف حدیث کی ایک سے زائد سندیں ہو ، ان میں سبب ضعف راوی  کا سوءحفظ ، مستور ، اختلاط ، ارسال وغیرہ ہو اور وجہ ضعف راوی کا فسق یا جھوٹ کا الزام نہ ہو ، بشرط کہ اس کی دوسری سندیں ضعف میں اس جیسی یا اس سے مستحکم ہوں
      یا کوئی ضعیف شاہد یا شواہد اسکے مئوید ہوں
       
      کچھ صفحات آگے جا کر اثری صاحب لکھتے ہیں :
      بعض انتہائی غیر محتاط لوگ یہ رویہ اپناتے ہیں کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث + ضعیف حدیث  کی مطلق  طور پر کوئی حیثیت نہیں ، خواہ اس حدیث کے ضعف کا احتمال بھی رفع ہو جائے ۔ بزعم خویش حدیث اور اسکے علوم کے بارے میں ان کی معلومات امام ترمذی، امام بیھقی ، حافظ عراقی ، حافظ ابن حجر وغیرہم سے زیادہ ہے
       
      اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھیے
      (مقالات اثریہ   ص 57 حسن لغیرہ )
       
      اب ہم اپنے مضمون کا آغاذ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں جوشرائط انکے گھر سے ثابت ہیں حسن لغیرہ کی کیا اس منہج پر اس باب کی روایات ثابت ہوتی ہیں یا نہیں
      اللہ ہم سب کو حق اور سچ پر رہتے ہوئے انصاف کے میزان کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق کرنے کی توفیق عطاء فرمائے
      سب سے پہلے جناب اپنے مضمون کی سرخی لگاتے ہیں :
      وبا کی صورت میں اجتماعی اذان کا کوئی ثبوت نہیں ۔ صحابہ ، تابعین ، تابع  تابعین اور ائمہ مسلمین کی زندگیوں میں اس کا ذکر نہیں لہٰذایہ بدعت ہے
       
      الجواب :
      جناب کو یہ ظلم اعظیم کرنے سے پہلے کم از کم تحقیق تو کر لینی چاہیے تھے ایک تو غیر مقلدین کو جس کام سے چڑ ہو اسکو ایک لمحے میں بدعت کہنے سے نہیں چوکتے ہیں یہی حال ان موصوف کا ہے
      بغیر تحقیق لکھ مارا جناب نے کہ تابعین ، تابع تابعین و سلف سے اجتماعی اذان دینے کا ثبوت نہیں یہ بدعت ہے
      یہ رد کر رہے ہیں وبا میں اذان دینے کا تو بدعت یہ کہہ رہے ہیں اجماعی اذان کو یہ کیا بات ہے ؟  جی اسکا مطلب یہ ہے کہ کوئی جب انکو صحیح مسلم سے تابعی کی گواہی پیش کریگا کہ نماز کے علاوہ بھی اذان کہنا جائز ہے تو یہ بہانہ بنا سکیں کہ اس میں اجماعی اذان کا ذکر کہا ں ہے ؟
      جبکہ آپ اکیلے اکیلے اپنے گھروں میں اذان دے دیں چلیں یہی تو کریں لیکن کہتے ہیں "پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور" یہی حال ادھر ہے انکا ۔ انکو مسلہ یہ ہے کہ آذان سوائے نماز کے علاوہ دینا ثابت نہیں اور ہم انکا رد صحیح مسلم سے ایک تابعی کے اثر سے کر دیتے ہیں تاکہ انکو بدعت کہنے کی غلطی دوبارہ نہ ہو
       
      جی محترم اثر صحابہ تو ہیں کہ نماز کے علاوہ آفت کے لیے خوف سے بچنے کے لیے آذان کا حکم ہے پیش کرتا ہوں تھوڑی دیر میں
       
      صحیح مسلم
      کتاب: نماز کا بیان
      باب: اذان کی فضیلت اور اذان سن کر شیطان کے بھاگنے کے بیان میں
       
      ترجمہ:
      امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح، سہیل سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے بنی حارثہ کی طرف بھیجا میرے ساتھ ایک لڑکا یا نوجوان تھا تو اس کو ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا اور میرے ساتھی نے دیوار پر دیکھا تو کوئی چیز نہ تھی میں نے یہ بات اپنے باپ کو ذکر کی تو انہوں نے کہا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے تو میں تجھے نہ بھیجتا لیکن جب تو ایسی آواز سنے تو اذان دیا کرو میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے لئے گوز ہوتا ہے۔
       
       
      اس روایت میں یہ الفاظ قابل غور ہیں کہ تابعی فرما رہے ہیں :
      ۔۔۔۔۔اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے تو میں تجھے نہ بھیجتا لیکن جب تو ایسی آواز سنے تو اذان دیا کرو۔۔۔۔ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے لئے گوز ہوتا ہے۔
       
      اس سے یہ معلوم ہوا کہ اذان کی مطلق فضیلت کی حدیث سے بھی وبا کے وقت مصیبت اور پریشانی اور قلبی سکونی کے لیے اذان دینے کے لیے فقط یہ ایک حدیث ہی کافی تھی
       
      لیکن غیر مقلدین فقہ اور فہم سے بالکل پیدل ہوتے ہیں انکو سند سند کھیلنے کا شوق ہوتا ہے نہ انکو معلوم ہے کہ ایک امر مستحب ہے اس کے لیے کس درجے کی حدیث یا دلیل چاہیے ہوتی ہے بس انکا ایک رٹہ ہے کہ یہ سند ضعیف ہے یہ سند ضعیف ہے ۔۔
       
      تو ان جیسے محقق جو اپنے گھر میں محقق بنے ہوئے ہیں انکو ہم سیکھاتے ہیں رجال کا علم کیا ہوتا ہے  اور حدیث کو اپنی کم علمی اور ناقص تحقیق کی بنیاد پر ضعیف سےشدید ضعیف بنانا انکی ناقص تحقیق ہے
       
      تو تابعی وہ بھی اتنے کبیر جو حضرت عمر کے دور میں پیدا ہونے والے اور بڑے فقیہ انکا استدلال آگیا تو اب اس امر کو بدعت کہنا غیر مقلدین کا جماعتی تعصب اور ہڈ دھرمی ہے
       
      اب آتے ہیں انکی طرف سے کیے گئے روایات کی اسناد پر باطل اعتراضات جس میں انہون نے یہ کوشش کی ہے جتنا ہو سکے اسناد میں اپنی طرف سے ایسا شدید ضعف بیان کیا جا سکے کہ کوئی روایت بھی حسن لغیرہ بننے کے قابل نہ رہے
       
      لیکن ہم انکے محققین جیسا کہ ناصر البانی اور اثری صاحب کے منہج پر اس باب میں یہ دو روایات کو حسن لغیرہ کی شرط پر ثابت کرینگے ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرنے کے بعد
       
       
      امن پوری صاحب  کی طرف سے پہلی روایت پر جرح درج ذیل ہے ۔
       
      v   ۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے منسوب ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
      إِذَا أُذِّنَ فِي قَرْيَةٍ أَمَّنَهَا اللَّهُ مِنْ عَذَابِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ
      "جب کسی بستی میں اذان کہی جاتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس روز اسے اپنے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے ۔"
      ّ(المعجم اللکبیر للطبرانی :  257/1)
       
      سند سخت ضعیف ہے (یعنی بقول انکے اس روایت کی سند ضعیف جدا ہے )
      1)     عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار ضعیف ہے ۔
      ·       امام بخاری ؒ فرماتے ہیں :
      لم یصح حدیثه :  اسکی بیان کردہ حدیث ثابت نہیں  (التاریخ الکبیر )
      ·       امام یحییٰ بن معین ؒ نے اسکو ضعیف کہا ہے  (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم و سند صحیح)
      ·       حافظ ذھبیؒ (دیون الضعفاء:2447) نے منکر الحدیث کہا ہے
      ·       حافظ ابن حجر ؒ نے( التقریب برقم:3873) نے ضعیف کہاہے
       
      2)     بکر بن محمد قرشی کے حالات زندگی نہیں معلوم
      3)    صالح بن شعیب کی معتبر توثیق نہیں ہو سکی
       
       
      الجواب
       
      امن پوری صاحب کی تحقیق میں چند نقائص:
       
      ۱۔پہلی غلطی یا خیانت : سند کو ضعیف جدا کہا جب کہ سند میں کوئی متروک ، یا متہم بلکذب روی موجود نہیں ہے
       
      ۲۔  سند میں اپنی ناقص تحقیق کی وجہ سے یہ دعویٰ کر دیا کہ صالح بن شعیب البصری کی معتبر توثیق نہیں ہو سکی
      جبکہ انکو کہنا چاہیے تھا انکو نہیں ملی کیونکہ انکی تحقیق ناقص ہو سکتی ہے لیکن ضروری نہیں انکے علاوہ سب ان جیسے ہوں
       
      ۳۔بکر بن  محمد بن قرشی کے حالات معلوم نہیں
       
      اب ہم انکے ان اعتراضات کا بلترتیب تحقیقی جائزہ لیتے ہیں :
       
      سب سے پہلی بات یہ ہے کہ عبدالرحمن بن سعد بن عمار ضعیف ہے جیسا کہ انہوں نے تقریب  سے امام ابن حجر عسقلانیؒ کا حوالہ دیا  کہ یہ روای ضعیف ہے  اس سے ہم کو بھی اختلاف نہیں کہ یہ سند میں ضعیف ہے
      لیکن ایسے ضعیف راوی سے سند ضعیف جدا کیسے بنتی یہ ہے راز ہم کو یہ بیان کرینگے
      البتہ ہم انکو انکے محقق اثری صاحب سے آئینہ دکھا دیتے ہیں کہ کونسی روایت شدید ضعیف ہوتی ہیں اور حسن لغیرہ کے لیے تقویت  دینے کے  قابل نہیں ہوتی انکی شرط درج ذیل ہیں
      1.      راوی پر جھوٹ کا الزام ہو
      2.     حدیث شاذ ہو
      3.     راوی متروک ہو
      (مقالات اثریہ ص 69)
       
      اب دیکھتے ہیں انہون نے جو شروع میں حدیث کے سخت ضعیف ہونے کا دعویٰ کیا وہ اوپر انکے اثری صاحب کی طرف سے بیان کردہ شرائط میں سے کوئی شرط پائی جاتی ہے یا نہیں
       
      v   محمد بن بکر القرشی کا تعین اور توثیق :
       
      بات یہ کہ بکر بن محمد القرشی کا ترجمہ آپکو نہیں ملا
      توعرض ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر راوی کے شیوخ کا ذکر محدثین کریں یا ہر راوی کے تلامذہ میں سب کا نام لکھا جائے ایسا ممکن نہیں ہوتا ہے تبھی محدثین کسی راوی کے شیوخ میں نام لکھ کر آخر میں و جماعتہ یا خلق کثیر لکھ دیتے ہیں
       
      تو راوی کے تعین کے لیے طبقہ بھی دیکھنا پڑتا ہے تو اس سے بھی قررائن واضح ہو جاتے ہیں
      ہم اللہ اور اسکے رسولﷺ کے فضل سے آپکو جواب پیش کرتے ہیں
       
      امام طبرانی اپنے جس شیخ سے یہ روایت پیش کرتے ہیں اسکی سند یوں ہے :
      حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ: نا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ
      اس میں یہ بات قابل غور ہے کہ امام طبرانی کا یہ شیخ بصری ہے اور انہوں نے اپنے شیخ بکر بن محمد القرشی کا نام لیا ہے
      اور اس طبقے میں ایک راوی موجود ہیں جنکا نام ہے :
      بكر بن محمد بن عبد الوهاب أبي عمرو القزاز بالبصرة
       
      یہ بصری راوی ہیں اور ثقہ راوی ہیں
      جیسا کہ امام دارقطنی سے انکے بارے پوچھا گیا تو وہ انکی توثیق کرتے ہیں :
       
      213 - وسألته عن بكر بن محمد بن عبد الوهاب أبي عمرو القزاز بالبصرة فقال ثقة
      (سؤالات حمزة بن يوسف السهمي)
       
      اور یہ قرشی ہی تھے جیسا کہ امام خطیب بغدادی ایک روایت نقل کرتے ہیں تاریخ میں جسکی سند یوں ہے :
       
      أخبرنا بشرى، قال: حدثنا عبد الله بن إسحاق بن يونس بن إسماعيل المعروف بابن دقيش في سنة اثنتين وستين وثلاث مائة، وحضر ذلك محمد بن إسماعيل الوراق، قال "حدثنا بكر بن محمد بن عبد الوهاب القزاز القرشي، بالبصرة"، ـ ـ قال: بلخ۔۔۔۔۔۔
      (تاریخ بغداد ، برقم:4980)
       
      اور اس پر دوسرا قرینہ یہ ہے کہ یہ بھی امام طبرانی کے شیوخ میں بھی ہیں امام طبرانی نے ان سے ڈریکٹ بھی روایات بیان کی ہیں اور کچھ روایات شیخ الشیخ سے بیان کی ہیں
       
      انکی کنیت کافی ساری ہیں کچھ محدثین انکو بکر بن محمد العدل کے نام سے لکھتے ہیں
      کچھ انکو بکر بن محمد ابو عمرو کے نام سے
      کچھ بکر بن محمد البصری
      اور کچھ بکر بن محمد البصری الرقشی القزاز کے ساتھ لکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ البانی صاحب کو بھی اسکا ترجمہ نہ مل سکا جیسا کہ آپ کو نہیں ملا
       
      بر حال بکر بن محمد القرشی البصری القزاز یہی ایک راوی ہی اس طبقے کا  ہے اور ثقہ راوی ہے اور اس سند میں بھی یہی راوی ہے
      اور ان سے امام صالح بن شعیب البصری بھی روایت کرتے ہیں جو کہ امام طبرانی کے شیخ ہیں اور خود امام طبرانی بھی انہی سے روایت کرتے ہیں
      امام ابن حبان اور دوسرے دیگر محدثین بھی انکے شاگردوں میں آتے ہیں
       
      ہمارے قرائن کو رد کرنے کے لیے آپ کوشش کرینگے تو کوئی مضبوط دلیل دیجیے گا
      ورنہ اہل علم اور رجال کے محققین کے لیے یہ بات کافی ہے کہ تعین بالکل ٹھیک ہے ان شاءالل
       
      تو جناب کا اسکو مجہول کہنا باطل ہے اور یہ راوی ثقہ ہے
       
      ۳۔ اعتراض جو انکا تھا کہ صالح بن شعیب کی کوئی معتبر توثیق نہیں ہو سکی یہ بات انکی جہالت پر مبنی ہے اور انکی ناقص تحقیق کہ اس پر انہوں نے دعویٰ کر دیا جبکہ یہ اگر اتنا کہتے کہ انکو نہیں ملی توثیق تو بات اور تھی لیکن اگر یہ دعوے اس طرح سے کرینگے تو ہم پھر انکا رد بھی اسی زبان میں کرینگے کیونکہ انکو بڑا شوق ہے رجال رجال کھیلنے کا اور اپنی من مرضی سے احادیث کو ضعیف سے ضعیف جدا بنانے کا تو انکو سیکھائیں گے کہ رجال کا علم اصل ہوتا کیا ہے اور یہ ایسا علم نہیں جہاں کوئی شریر گھوڑا اپنی مرضی سے پھرتا رہے بلکہ  اس علم میں اپنے نفس اور چاہت کو ایک طرف رکھ کے انصاف کے میزان پر بات کرنی ہوتی ہے کیونکہ بات حدیث رسول ﷺ کی ہے اور اور جو اس میں من مانی کریگا تو اسکا رد بھی اسی زبان اور شد میں ہوگا جتنی غلطی بڑی ہوگی
       
      v   خیر صالح بن  شعیب البصری کی توثیق درج ذیل ہے :
       
      امام عینی انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
      1056 - صالح بن شعيب بن أبان الزاهد البصرى: يكنى أبا شعيب، أحد مشايخ أبى جعفر الطحاوى الذين روى عنهم وكتب وحدث، روى عن محمد بن المثنى وغيره، وذكره ابن يونس فى تاريخ الغرباء الذين قدموا مصر، وقال: قدم إلى مصر، وكُتب عنه، وخرج إلى مكة، وتوفى بها فى صفر سنة ست وثمانين ومائتين.
       
      صالح بن شعیب بن ابان الزاھد البصری  انکی کنیت ابو شعیب تھی یہ امام طحاوی کے مشایخ میں سے ایک تھے ان سے لکھا اور بیان کیا گیا ہے اور ان سے محمد بن المثنی وغیرہ نے روایت کیا ہے
      امام ابن یونس نے اپنی تاریخ الغرباء میں ذکرکیا کہ یہ مصرف اائے اور جب یہ مصر آئے تو میں نے ان سے لکھا ہے پھر یہ مکہ چلے گئے یہ ۲۸۶ھ میں فوت ہوئے
      (مغاني الأخيار في شرح أسامي رجال معاني الآثار، امام عینی )
       
       
      امام ابن عبدالبر سے ضمنی توثیق :
      امام ابن عبدالبر التمہید میں امام مالک بن انس سے ایک روایت نقل کرتے ہیں :
      "مالك عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك الفضل"
      اسکو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :
      "لم يقله غير الحنفي عن مالك والله أعلم ولم يتابع عليه وهو أبو علي عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي"
      کہ امام مالک سے زھری کے حوالے سے یہ راویت  اس متن ادرک الفضل کو بیان کرنے میں ابو علی عبیداللہ الحنفی کی کوئی متابعت نہیں کرتا ہے
      پھر امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں :
      "وسنذكر ما للفقهاء في هذا المعنى بعون الله إن شاء الله وقد روى هذا الحديث عن مالك حماد بن زيد"
      ہم فقھا سے اسکا معنی بھی اللہ کی مدد سے بیان کرینگے اور یہ بھی کہ یہ راویت مالک سے حماد بن زید بیان کرتے ہیں
       
      پھر اسکی دلیل دیتے ہوئے امام ابن عبدالبر  صالح بن شعیب (شیخ طبرانی) سےسند بیان کرتے ہیں :
      حدثنا أحمد بن فتح قال حدثنا أحمد بن الحسن الرازي قال حدثنا"أبو شعيب صالح بن شعيب بن! زياد البصري"  قال حدثنا إبرهيم بن الحجاج الشامي حدثنا حماد بن زيد عن مالك عن ابن شهاب عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من أدرك ركعة من الصلاة فقد *أدرك الصلاة**
      امام ابن عبدالبر یہ روایت مالک کی جو بیان کرتے ہیں اس میں فقط ادرک الصلاتہ لفظ ہے نہ کہ ادراک الفضل
      پھر امام ابن عبدالبر یہی روایت اپنے دوسرے شیخ سے  صالح بن شعیب (شیخ طبرانی) سے بیان کرتے ہیں اس میں بھی وہی لفظ ہے جو اوپر حماد بن زید نے امام مالک سے بیان کیا ہے جسکو صالح بن شعیب روایت کرتے ہیں
       
      وحدثنا خلف بن قاسم حدثنا أبو العباس أحمد بن الحسن بن إسحاق بن عتبة حدثنا "أبو شعيب صالح بن شعيب بن أبان الزاهد"  في شوال سنة إحدى وثمانين ومائتين قال حدثنا إبرهيم بن الحجاج الشام حدثنا حماد بن زيد عن مالك بن أنس عن ابن شهاب عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك الصلاة هذا هو الصحيح عن حماد بن زيد عن مالك
      ومن قال فيه عن حماد عن مالك بهذا الإسناد من أدرك ركعة من الصبح الحديث فقد أخطأ
       
      امام ابن عبدالبر ابو صالح شعیب بن ابان بن زاھد سے روایت بیان کر کے کہتے ہیں یہی صحیح ہے جسکو حماد بن زید نے نقل کیا ہےامام مالک سے اور جنہوں نے حماد سے مالک سے اسی سند سے ادرک رکعت صبح کی حدیث بیان کی ہے ان سے خطاء ہوئی ہے
      (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، جلد 7۔ ص 64)
       
      امام ابن عبدالبر کا ابو صالح شعیب کی روایت کو باقی تمام صدوق راویان پر مقدم کرنا انکی ثقاہت کے لیے کافی ہے
       
       
      نیز اس پر بھی انکو مسلہ ہو یا معلوم نہیں ضمنی توثیق کے بھی منکر بن جائیں تو انکے سلفی محقق سے بھی توثیق پیش کر دیتے ہیں :
       
      سلفیوں کے محقق نے امام الطبرانی کے شیوخ پر ایک کتاب لکھی ہے اس میں ابو صالح شعیب کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :
      [496] صالح بن شعيب أبو شعيب الزاهد البصري.
      حدث عن: بكر بن محمد القرشي، وداود بن شبيب، وعبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، ونافع بن خالد الطاحي.
      وعنه: أبو القاسم الطبراني بمصر في " معاجمه " ووصفه بالزاهد.
      مات في صفر سنة ست وثمانين ومائتين.
      - تاريخ الإسلام (21/ 191).
      • قلت: (صدوق إن شاء الله)
      (إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني ، المؤلف: أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري)
      اس کتاب کو ابن تیمیہ مکتب والوں نے چھاپا ہے : الناشر: دار الكيان - الرياض، مكتبة ابن تيمية – الإمارات)
       
       
      اتنے دلائل کے بعد بھی کوئی کہے کہ امام طبرانی کا شیخ مجہول بنانا اور یہ دعویٰ کرنا کہ اسکی معتبر توثیق نہیں ہو سکی یہ سطحی تحقیق کرنے والے بندے کی یہ بات ہو سکتی ہے
       
      خلاصہ تحقیق:
      اس روایت میں فقط ایک راوی ضعیف ہے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار  اور باقی اس سند میں سارے ثقہ و صدوق راوی ہیں
      اور یہ روایت فقط معمولی ضعیف ہے اور حسن لغیرہ بننے کے بالکل قابل ہے اب ایک اور اس قسم کی روایت اگر ثابت ہو جائے جس میں اس جیسا ضعیف راوی ہو ، یا مجہول یا  یخطئ راوی ہو تو اس سے تقویت پا کر اس باب میں یہ روایت حسن لغیرہ بن جائے گی 
       
      ******************
       
      تیسرے نمبر پر انہوں نے  حلیة الاولیا ء لابی نعیم اور تاریخ دمشق کے طریق سے روایت لکھی ہے :
      امن پوری صاحب کا اس روایت کی سند پر نقد درج ذیل ہے ۔
      حضرت سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
       
      نزل ادم بالهند واستوحش فنزل جبريل فنادى بالأذان الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله مرتين أشهد أن محمدا رسول الله مرتين قال ادم من محمد قال اخر ولدك من الأنبياء
      (حلیةالاولیاء لابی نعیم 107/5، وتاریخ دمشق ، 437/7)
       
      1)    روایت ضعیف ہے
      ·       حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
      ·       فیه  ةتشاهیل : اس مین کئی مجہول ہیں  (فتح الباری)
       
      2)     علی بن بہرام بن یزید کوفی کی توثیق نہیں مل سکی
      ·       حافظ ہیثمی ؒ لکھتے ہیں  لم اعرفه :  
      میں اسے نہیں پہچانتا
       
      *************************
       
      الجواب :
      تو جناب نے اس روایت میں صرف ایک علت بیان کی ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک مجہول راوی ہے  اور ہماری تحقیق میں اس  کا ترجمہ امام  خطیب بغدادی وغیرہ نے بیان کیا ہے لیکن بغیر جرح و تعدیل سے معلوم ہوا اس راوی کی عدالت پر کوئی جرح نہیں ہے اور یہ راوی متابعت اور شواہد میں قابل قبول ہے
       
      تو انکے اثری اور انکے البانی کے منہج کے مطابق یہ روایت حسن لغیرہ ثابت ہو چکی ہے پچھلی راویت سے تقویت حاصل کر کے اور پچھلی روایت اس حدیث سے تقویت حاحصل کر کے
       
      اب اسکے علاوہ جن روایات پر انہوں نے جروحات کی ہیں اگر کسی میں متروک یا متہم بلکذب رراوی نہ ہوں اور ضعیف ہوں تو وہ سب ان روایات کو تقویت دینگی اور کوئی بھی ثابت نہ ہو ان دو روایات کے علاوہ بھی تو یہ دو ورایات کافی ہو چکی ہیں
       
      امید ہے اس تحریر پر مطلع ہونے پر اپنی تحقیق میں فاحش خطاوں سے رجوع کرینگے اور بہت مشکل ہے کہ غیر مقلدین اپنی غلطی تسلیم کر لیں بلکہ خود کوصحیح ثابت کرنے کے چکر میں علم رجال سے کھلواڑ کرنے سے بھی نہیں چوکتے
       
      تو معلوم ہوا نماز کے علاوہ اذان دینے پر تابعی کا اثر مسلم سے ثابت ہے اور ان روایات کی روشنی میں مصیبت اور پریشانی اور قلبی سکون کے لیے اذان دینا ثابت ہے اور اس امر کو بدعت کہنا والا علم اور علوم حدیث اور فقہ سے جاہل ہے
       
       
      تحقیق : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی  ۲۳مارچ ۲۰۲۰
       
       
×
×
  • Create New...