Jump to content
اسلامی محفل

Recommended Posts

 شیعہ بدعتی راوی کی روایت اور اہل سنت کا اس سے احتجاج کا تحقیقی جائزہ

 

عرب تفضیلی محقق احمد غماری صاحب فتح الملک العلی مترجم ص ۲۷۱ پر لکھتے ہیں:

 محدثین  نے اس شرط [داعی الی بدعت]کا اعتبار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے تصرفات میں اسے زینہ بنایا ہے بلکہ ثقہ شیعہ راویوں نے اپنے مذہب کی تائید میں جو بیان کی ہیں ان سے حجت پکڑی ہے۔حضرت امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے شیعہ راویوں سے حضرت علی ؓ کے فضائل میں روایت نقل کیں ہیں۔ جیسے انت منی و انا منک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو۔(صحیح بخاری ،کتاب المغازی باب عمرۃ القضاۃ،رقم الحدیث:۴۰۰۵)

اس حدیث کو امام بخاری نے عبیداللہ بن موسیٰ العبسی سے نقل کیا ہے جس کے بارے میں خود امام بخاری نے کہا ہے: انہ کان شدید التشیع کہ وہ  تشیع میں سخت تھا۔(التہذیب:ترجمہ عبیداللہ بن موسیٰ العبسی : ج ۲ ص ۳۵)

اسی طرح حدیث:لا یحبک الا مومن و لا یبغضک الا منافق(صحیح مسلم،کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار علی من الایمان الخ رقم الحدیث:۱۱۳)ترجمہ: تجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور تجھ سے منافق یہ بغض کرے گا۔اس حدیث کو امام مسلم نے عدی بن ثابت کی روایت سے نقل کیا ہے حالانکہ وہ ایک غالی اور اپنے مذہب کا داعی شیعہ ہے۔(التہذیب ترجمہ عدی بن ثابت ج ۴ ص ۱۰۷)

غماری صاحب یہ مثالیں دینے کے بعد آگے ص ۲۷۲ پر لکھتے ہیں:

یہ اس بات کی دلیل ہے کے کہ یہ شرط(لگانا کہ وہ روایت بدعتی کے مذہب کی تائید نہ کررہی ہو)باطل ہے اور روایت کی صحت اور قبول میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔اعتبار صرف راوی کے ضبط اور اتقان کا ہے۔

جواب:

عرض یہ ہے کہ محدثین نے جو شیعہ راوی سے استدالال کے قواعد بنائے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں۔بلکہ اس کو تشیع کے ساتھ مخصوص کرنا ہی جہالت ہے کیونکہ ان کے یہ اصول بدعتی کی روایت کے بارے میں ہے نہ کہ صرف ایک فرقہ سے مختص ہیں۔اب رہی یہ بات کہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ  نے شیعہ راویوں سے فضائل حضرت علی ؓ میں روایات لیں ہیں۔جو ان کے مذہب کو تقویت دیتی ہیں۔اس بارے میں عرض یہ ہے کہ یہ اعتراض اصول سے بے خبری اور جہالت کا نتیجہ ہے۔سطحی قسم کا مطالعہ ایسے سوالات اٹھانے میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے۔لہذا انسا ن اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے محدثین کرام پر اعتراضات اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔اس بارے میں چند معروضات پیش خدمت ہیں۔

                بدعتی(شیعہ وغیرہ) اگر سچا اور صدوق ہو اور روایت اسکے مذہب کی داعی ہو یا اس کے مذہب کو تقویت پہنچا رہی ہو۔تو پھر اس شیعہ کا مذہب و عقیدہ دو اقسام پر مشتمل ہوگا۔

۱۔شیعہ کا وہ عقیدہ جو مذہب اہل سنت کے خلاف نہیں۔[کیونکہ ہم اہل سنت فضائل حضرت علی ؓ کے قائل اور ماننے والے ہیں۔]

۲۔شیعہ کا وہ عقیدہ جو مذہب اہل سنت کے خلف ہے۔[یعنی فضیلت حضرت علی ؓ تو مانتے ہیں مگر ساتھ عظمت صحابہ کے بھی قائل ہیں۔]

اگر شیعہ ایسی باتیں نقل کرے جو کہ شیعہ مذہب کے تائید میں ہو مگر اہل سنت کے اصولوں کے خلاف نہ وہ تو وہ قابل قبول ہوتی ہے۔اور اگر شیعہ ایس باتیں نقل کرے جس کے مخالف اہل سنت میں موجود ہو تو ایسی روایت شاذ اور نکارت ہوگی ،جس کو رد کر دیا جائے گااور احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

اہم نکتہ:۔

                اکثر یہ ہوتا ہے کہ بدعتی کی روایت اس کے مذہب کے موافق بظاہر نظراآتی ہے۔یہ بات سامنے آتی ہے کہ فلاں راوی شیعہ ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کی فضیلت میں روایت کرتاہے۔جیسے انت منی و انا منک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو۔(صحیح بخاری ،کتاب المغازی باب عمرۃ القضاۃ،رقم الحدیث:۴۰۰۵)اسی طرح حدیث:لا یحبک الا مومن و لا یبغضک الا منافق(صحیح مسلم،کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار علی من الایمان الخ رقم الحدیث:۱۱۳)ترجمہ: تجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور تجھ سے منافق یہ بغض کرے گا۔جیسا کہ احمد غماری نے اعتراض کیا ہے۔

مگر عرض یہ ہے کہ ان دونو ں باتوںمیں ایک واضح فرق موجود ہوتا ہے۔اور وہ فرق یہ ہے کہ اہل سنت کی روایات میں جو حضرت علی المرتضیٰؓ کے فضائل وارد ہوئے ہیں ان میں شیخین کریمینؓ یا صحابہؓ کی شان میں تنقیص نہیں ہوتی۔اور نہ ہی اس میں غلو ہوتا ہے اورنہ ہی الفاظ رکیک ہوتے ہیں اور معانی میں ضعف نہیں ہوتا۔جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہورہا ہے۔اس لیے اس کو قبول کیا جاتا ہے۔کیونکہ محدثین سند کے ساتھ متن کا بھی جائزہ لیتے ہیں ۔

جبکہ شیعہ راویوں کی مذہب کی تقویت والی روایت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں اکثر حضرت علی المرتضیٰؓ کے شان میں غلو اور صحابہ کرامؓ کی شان میں تنقیص ہوتی ہے۔ان کے معانی بڑے ہی ضعیف ہوتے ہیں اور الفاظ رکیک ہوتے ہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جب کوئی شیعہ راوی حضرت علی المرتضیٰ کی شان میں کوئی روایت بیان کرے تو اہل سنت اس کی صرف وہ روایت تسلیم کرتے ہیں جو قواعد اہل سنت کے موافق ہوں۔[ اور یہ قواعد یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی شان بہت بلند اور اعلیٰ ہے جیسا کہ روایات سے ثابت  ہیں مگر دیگر صحابہ کرام ؓ کی تنقیص اس سے ثابت نہ ہو۔]

جو ان قواعد کے دائرہ کار میں ہوں تو ہم ا س شیعہ (مفسق بدعتی) کی روایت قبول کرتے ہیں اور اس کی بدعت کو نظر انداز کر دیتے ہیںکیونکہ فضائل علی المرتضیٰ ؓ کا اعتقاد بدعت ہرگز نہیں ہے اور جو شیعہ یا رافضی اس قواعد کے خلاف روایت کرے تو ہم اس کو رد کرتے ہیں اور اس کو قبو ل نہیں کیا جاتا۔(  اسکی مزید تفضیل عرب محقق کی کتاب اتحاف النبیل ابی الحسن السلیمانی ص ۲۴۷ میں ملاحظہ فرمائیں)

لہذا غماری صاحب نے جو مثالیں پیش کیں ہم ان روایات کو ماننا اپنا دین اور مذہب سمجھتے ہیں۔مگر ان روایات کے ذریعے جو احتمالات اور شکوک لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش کی وہ فضول ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ محدثین کرام صرف سند پر ہی نہیں بلکہ متن پر بھی کڑی شرائط عائد کر کے اس کو قبول کرتے تھے۔

اس کے برعکس یہ روایات مذکورہ  بالالجو غماری صاحب نے اہل سنت کے اصولوں کے رد پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہ تو خود ان کا رد کر رہی ہیں۔کیونکہ ان روایات سے تو اہل سنت کی محبت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ ثابت کر رہی ہے۔اور غماری صاحب کا محدثین کرام پر یہ الزام [کہ وہ بدعتی اور غیر بدعتی کے تقسیم اس لیے کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل کا انکار کر سکیں] بھی غلط ثابت ہوجاتا ہے۔کیونکہ محدثین نے جس شاندار طریقے سے عظمت اہل بیت اور حضرت علی کرم اللہ کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان بیان کی وہ تو قابل تحسین ہے۔اللہ تعالیٰ محدثین کرام کو جزاء خیر عطا فرمائے۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites
5 گھنٹے پہلے, فیصل خان رضوی said:

 شیعہ بدعتی راوی کی روایت اور اہل سنت کا اس سے احتجاج کا تحقیقی جائزہ

اس حوالے سے ایک سوال ہے کہ مسلم میں روایت ھے عدی بن ثابت سے جو کہ شیعہ راوی ھے، اور یہ غالی شیعہ تھا تو اس راوی سے مسلمؒ کا احتجاج کیا معانی رکھتا ھے؟

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ: «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ» قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ؟، قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ(مسلم ح٢٧٤)

 

Sent from my LLD-L21 using Tapatalk

 

 

 

Edited by سگِ عطار
اقتباس مختصر پوسٹ کیا کریں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...