Jump to content
IslamiMehfil

تصفیہ مابین سنی و شیعہ - سید پیر مہر علی شاہ


Recommended Posts

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      رافضیوں کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کافر ھیں ,, العیاذ بااللہ
      (باب) * (في أصول الكفر وأركانه) 
      1 – الحسين بن محمد، عن أحمد بن إسحاق، عن بكر بن محمد، عن أبي بصير قال: قال أبو عبد الله (عليه السلام): أصول الكفر ثلاثة: الحرص، والاستكبار، والحسد، فأما الحرص فان آدم (عليه السلام) حين نهي عن الشجرة، حمله الحرص على أن أكل منها وأما الاستكبار فإبليس حيث أمر بالسجود لآدم فأبى، وأما الحسد فابنا آدم حيث قتل أحدهما صاحبه
      الكافي – الشيخ الكليني – ج ٢ – الصفحة ٢٨٩
      ابو عبد اللہ علیہ السلام فرماتے ھیں
      اصول کفر تین ہیں ( 1) حرص ( 2) تکبر ( 3)  حسد 
       بھرحال حرص بیشک آدم علیہ السلام نے کی جب انھیں درخت سے روکا گیا تھا، حرص نے آدم علیہ السلام کو اسکے کھانے پر آمادہ کیا 
      اور تکبر شیطان نے کیا جب اسے آدم علیہ السلام کے سجدہ کا حکم کیا گیا۔
      حسد آدم علیہ السلام کے بیٹوں( ھابیل, قابیل) نے کیا جب ایک نے دوسرے کا قتل کیا۔
      ( العیاذ بااللہ)
      حوالہ جات شیعہ کتب سے
       
       






    • By Syed Kamran Qadri
      رافضیوں کی طرف سے وائرل ایک پوسٹ کا جواب
      لوگ کہتے ہیں کہ شیعہ صحابہ کو نہیں مانتے,
      جب پوچھوں کہ کس صحابی کو نہیں مانتے تو جواب دیتے ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان!!!!!
      او بھائی کسی کو نہ ماننے کی بھی تو وجہ ہوتی لیکن جن کے دماغوں میں چوہدری ثلاثہ بیٹھے ہے ان کہ دماغ ہی بیٹھ گے ہے تم کو مولویوں نے یہ تو بتا دیا کہ شیعہ ان کو نہیں مانتے مگر تم کو مولویوں نے یہ کیوں نہیں بتایا کے کس وجہ سے نہیں مانتے'
      بتاؤ کہ کس وجہ سے نہیں بتایا کے شیعہ ثلاثہ(ابوبکروعمروعثمان) کو کیوں نہیں مانتے کیوں کے مولوی کو پتہ ہے کہ اگر بتا دیا تو لنگر بند ,بوری بسترا بند.
      اور نہ ہی ثلاثہ کے مریدوں کو زحمت ہوتی ہے کہ ہم مولوی صاحب سے پوچھ لے.
      ہر انسان جانتا ہے کہ کسی کو نہ ماننے کی بھی کوئی وجہ تو ضرور ہوتی ہے .
      آخر وہ کونسی وجوہات ہے جس کی وجہ سے شیعہ ثلاثہ سے متنفر ہے?
      تمہاری صحیح بخاری جلد2 باب فرض الخمس میں لکھا ہے کہ رسول ؐ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؑ کو انکا حق وراثت ابو بکر و عمر نے نہ دیا جس کی وجہ سے سیدہؑ مرتے دم تک ان سے ناراض رہی.
      صحیح مسلم باب حکم الفئے صفحہ644 طبع مصر میں صاف لکھا ہے ک مولا علی ؑ نے وفات سیدہؑ کی خبر بھی ابوبکر کو دینا گوارہ نہ کیا.
      اے مسلمانوں بتاؤ کہ اگر آج کوئی سید زادی تم سے کوئی جگہ مانگے تو تم خالی نہیں جانے دو گے افسوس کہ رسولؐ کی بیٹی اپنی ہی وراثت سے خالی لوٹا دی گئی.
      اے مسلمان تو خود سوچ جس سے نبی زادیؑ راضی نہیں ہم کس طرح اس کو مومن مان لے?
      اے سنی بھائیوں تمہاری متعبر کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ,مسند الفاطمہؑ امام سیوطی میں لکھا ہے کہ ابوبکر کی خلافت سے جناب علیؑ و فاطمہؑ نے انکار کیا جس کی وجہ سے عمر نے جناب فاطمہ ؑ کو دھمکی دی کے اگر بیعت نہ کی گئی تو تیرے گھر کو آگ لگا دے گے.
      مسلمانوں تمہیں حق کا واسطہ خود سوچوں کے جو اہلبیتؑ کو دھمکیاں دے کیا وہ جانشین بانئ اسلام ہو سکتے ہے?
      تمہاری ہی کتاب روائح مصطفی صفحہ36,الملل و النحل صفحہ51شہرستانی میں لکھا ہیں کہ جناب رسول ؐ کی بیٹی سیدہ زاہرہؑ کے قاتل.......................
      اور جان لو کہ مولا علیؑ نے حکم رسولؐ کے تحت اس موقع پر تلوار نہیں آٹھائی کیوں کے رسولؐ کی یہ وصیت  تھی(مدارج النبوة جلد2 محدث دہلوی).
      اور یہ مدینہ میں خانہ بتولؑ پر اسی طرح حملہ ہوا جس طرح خانہ عثمان ہر ہوا.
      تمہاری ہی کتاب صحیح بخاری جلد2 کتاب التفسیر باب جامع القرآن میں لکھا ہیں کے عثمان نےقرآن کے نسخہ جات کو آگ لگانے کا حکم دیا.
      تمہاری ہی کتاب صحیح مسلم میں لکھا ہیں کے رسول ؐ نے وصیت کے وقت قلم دوات  عمر سے مانگی اور عمر نے نہ دی اور کہا کہ رسولؐ معاذاللہ بکواس کر رہے ہے.
      تمہاری ہی کتاب رجال مشکوة میں لکھا ہیں کے مروان کو رسولؐ نے جلا وطن کیا مگر عثمان نے اپنے دور خلافت میں واپس منگوا لیا.
      کیا یہ توہین حکم رسولؐ نہیں?
      تمہاری ہی کتاب کنزالاعمال جلد4 صفحہ140 اور الفاروق شبلی نعمانی صفحہ78 میں لکھا ہے کہ مذکورہ شخصیات نے خلافت کے پیچھے جنازہ رسولؐ چھوڑ دیا.
      اے مسلمان ہم ان کو کیا مانے.
      مرزا قادیانی نبوت پر حملہ کرے تو کافر اور جو خاندان نبوتؐ پر حملہ کرے وہ مسلمان کیسے?
      ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ اکرامؓ تھے کیا صرف پوری صحابیت ثلاثہ تک ہی محدود ہے?
      آپ کو حضرت بلالؓ و سلمان فارسیؓ و حذیفہ بن یمانؓ و ابوذرؓ و عبداللہ ابن عباسؓ و عبداللہ ابن مسعودؓ و محمد بن ابوبکرؓ و مقدارؓ و عمار یاسرؓ و خزیمہ بن ثابتؓ و ابوقتادہ حارث بن ربعیؓ و کعب بن عمروؓ و عمیرہ بن قرہ اللیثیؓ و ابوعمرہ انصاریؓ و مالک بن نویرہؓ و مالک بن تیہانؓ و قیس بن عبادہؓ و عبداللہ بن بدیلؓ و قیس بن مکشوحؓ و جبلہ بن ثعلبہ انصاریؓ و حارث بن عمرؓ و ربعی بن عمرؓ و زید بن ارقمؓ و مسلم بن عوسجہؓ و اسید بن ثعلبہؓ و ابو بردہ انصاریؓ و ابو حبہ بدریؓ و ابو فضالہ انصاریؓ و ابو ایوب انصاریؓ و ابو محمد انصاریؓ و ابو یعلی انصاریؓ و زبید بن عبدؓ و عمرو بن جموحؓ و جنلہ بن عمر انصاریؓ و وہب بن عبداللہؓ و ابوالورد مازنیؓ و ابو قدامہ بن الحارثؓ و عبداللہ بن ذیابؓ و یعلی بن عمیرؓ و عدی بن حاتمؓ و خاکہ بن سعدؓ و قرظہ بن کعبؓ و مغیرہ بن نوفلؓ و مخنف بن سلم غامدیؓ و عبدالرحمٰن بن عدیس بلویؓ و عمرو بن لحمقؓ و سلمان بن صردؓ و براء بن عازبؓ و عمر بن ابی سلمہؓ و ہند بن ابی ہالہؓ و ثعلبہ بن عمرو انصاریؓ و یعلی بن امیہؓ و عبداللہ بن ابی طلحہؓ و عامر بن واثلہؓ الی الآخرہ...... جیسے مخلص اصحاب رسولؓ نظر کیوں نہیں آتے!
      اور جان لو کہ ہم شیعہ کردار پسند ہے نہ کہ شخصیت پسند,
      اگر شخصیت ہی معیار ایمان ہوتی تو رسول ؐ کے چچا ابو لہب کے بارے بھی فیصلہ کر لوں.
      بس اتنا ہی کہوں گا کہ قیامت والے دن جناب رسولؐ و بتولؑ کو کیا منہ دیکھاوں گے!
      سلام ہو اصحاب رسولؐ پر'
      لعنت ہو دشمنِ بتولؑ پر.
      اس کا جواب 
      سُنی،ہم شیعوں کو مؤمن و مسلمان نہیں مانتے بلکہ کافر و مرتد مانتے ہیں...
      ہم سُنّیوں سے پوچھو تو سہی ہم شیعوں کو مؤمن و مسلمان کیوں نہیں مانتے؟
      تو سُنو !
      رافضیوں سے اصل اختلاف ان کے کُفریہ عقائد پر ہے:
      ایک تو وہ قرآن کو مکمل نہیں مانتے اور جو مانتے ہیں وہ ان کو کافر نہیں کہتے جو قرآن کو مکمل نہیں مانتے بلکہ ان کو اپنا امام اور مجتہد کہتے ہیں،
      دوسرا وہ آئمۂ اہل بیت(رضی اللہ عنہم اجمعین) کو انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھاتے اور افضل مانتے ہیں حالانکہ ایک غیر نبی کو ایک نبی سے بڑھانا ایک کفر اور بارہ کو بڑھانا بارہ کفر اور بارہ کو ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھانا کتنے کفر ہوں گے... ضرب خُود دے لو...
      (یاد رہے ہمارے نزدیک آئمۂ اہل بیت (رضی اللہ عنہم اجمعین) اپنے وقت کے مجتہد ولی اور غوث تھے، نبی اور معصوم نہیں)، 
      تیسرا رافضی شیخین کریمین رضی اللہ عنہما کو گالی دیتے اور لعنت کرتے ہیں اور یہ ہمارے فقہاء نے کفر لکھا ہے، 
      چوتھا رافضی، امّاں عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ فقہیہ (رضی اللہ عنہا) پر بدکاری کی تہمت رکھتے ہیں اور اس کو امام ذہبی نے کتاب الکبائر میں کفر لکھا ہے.
      پانچواں رافضیوں کا کلمہ اور اذان الگ ہے اور جو آئمۂ اہلبیت(رضی اللہ عنہم اجمعین) کے کلمہ کے بھی خلاف ہے جیسا کہ خود رافضیوں کی کتب میں بھی لکھا ہے ... یاد رہے کلمہ نبی کا ہوتا ہے غیر نبی کا نہیں.
      یہ? پنجتن پاک کی نسبت سے فی الحال اتنے باقی پھر سہی. 
      اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے حوالے سے رافضیوں کے مقابلے میں ہمارے لیے مولی علی پاک سرکار کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اور سبط رسول امام حسن مجتبی(رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور ریحانۂ رسول امام حسین پاک (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اور دیگر آئمۂ اہل بیت کا عمل ہی بطورِ دلیل کافی ہے کہ وہ ان تینوں ہستیوں کو اپنا امام مانتے تھے... 
      اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے. آمین
    • By Syed Kamran Qadri
      ردِتفضیلیت

×
×
  • Create New...