Jump to content

فتنہ وہابی کا تنقیدی و علمی جائزہ


محمد حسن عطاری

تجویز کردہ جواب

یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ۱۲۰۹ھ؁ میں   پیدا ہوا، اِس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی تھا،  جس  نے تمام عرب، خصوصاً حرمین شریفین میں   بہت شدید فتنے پھیلائے، علما کو قتل کیا، صحابۂ کرام و ائمہ و علما و شہدا کی قبریں   کھود ڈالیں  ، روضۂ انور کا نام معاذاﷲ ’’صنمِ اکبر‘‘ رکھا تھا یعنی بڑا بت، اور طرح طرح کے ظلم کیے  جیسا کہ صحیح حدیث میں   حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ’’ نجد سے فتنے اٹھیں   گے اور شیطان کا گروہ نکلے گا‘ وہ گروہ بارہ سو برس بعدیہ ظاہر ہوا۔ علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اِسے خارجی بتایا۔ اِس عبدالوہاب کے بیٹے  نے ایک کتاب لکھی جس کا نام کتاب التوحید‘‘ رکھا ، اُس کا ترجمہ ہندوستان میں   ’’اسماعیل دہلوی‘‘ نے  کیا، جس کا نام’’تقویۃ الایمان‘‘ رکھا اور ہندوستان میں   اسی نے وہابیت  پھیلائی

 :عقائد

   اِن وہابیہ کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ ہے کہ جو اِن کے مذہب پر نہ ہو، وہ کافر مشرک ہے۔  یہی وجہ ہے کہ بات بات پر محض بلاوجہ مسلمانوں   پر حکمِ شرک و کفرلگایا کرتے اور تمام دنیا کو مشرک بتاتے ہیں ۔ چنانچہ ’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۴۵ میں   وہ حدیث لکھ کر کہ ’’آخر  زمانہ میں   اﷲ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں   کو اٹھا لے گی۔‘‘ (4)  اِس کے بعد صاف لکھ دیا: ’’سو پیغمبرِ خدا کے فرمانے کے موافق ہوا‘‘(5)، یعنی وہ ہوا چل گئی اور کوئی مسلمان روئے زمین پر نہ رہا ، مگر یہ نہ سمجھا کہ اس صورت میں   خود بھی تو کافر ہوگیا۔

 

 

Edited by Muhammad Hassan R
Link to comment
Share on other sites

بحث میں حصہ لیں

آپ ابھی پوسٹ کرکے بعد میں رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں تو سائن اِن کریں اور اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کریں۔
نوٹ: آپ کی پوسٹ ناظم کی اجازت کے بعد نظر آئے گی۔

Guest
اس ٹاپک پر جواب دیں

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • حالیہ دیکھنے والے   0 اراکین

    • کوئی رجسٹرڈ رُکن اس صفحے کو نہیں دیکھ رہا
×
×
  • Create New...