Jump to content
IslamiMehfil

Kalam Ahla Hazrat - Ankien Roo Roo Ka Sujane Wale Lyrics


Recommended Posts

*🍂🍃🌹Kalam-e-Raza🌹🍃🍂*

*آنکھیں رو رو کے سُجانے والے*
*جانے والے نہیں آنے والے*

*کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے*
*ارے او چھاؤنی چھانے والے*

*ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے*
*دیس کیوں گاتے ہیں گانے والے*

*ارے بد فَال بُری ہوتی ہے*
*دیس کا جنگلا سُنانے والے*

*سُن لیں اَعدا میں بگڑنے کا نہیں*
*وہ سلامت ہیں بنانے والے*

*آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام*
*او درِ یار کے جانے والے*

*پھر نہ کروٹ لی مدینہ کی طرف*
*ارے چل جُھوٹے بہانے والے*

*نفس میں خاک ہوا تو نہ مِٹا*
*ہے مِری جان کے کھانے والے*

*جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے حورو!*
*طیبہ سے خُلد میں آنے والے*

*نِیم جلوے میں دو عَالم گلزار*
*واہ وا رنگ جمانے والے*

*حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا*
*کہتے ہیں اگلے زمانے والے*

*وہی دُھوم ان کی ہے ما شآء اللہ*
*مِٹ گئے آپ مِٹانے والے*

*لبِ سیراب کا صَدقہ پانی*
*اے لگی دل کی بُجھانے والے*

*ساتھ لے لو مجھے میں مجرم ہوں*
*راہ میں پڑتے ہیں تھانے والے*

*ہو گیا دَھک سے کلیجَا میرا*
*ہائے رُخصت کی سُنانے والے*

*خلق تو کیا کہ ہیں خالق کو عزیز*
*کچھ عجب بھاتے ہیں بھانے والے*

*کشتۂ دشت حرم جنّت کی*
*کھڑکیاں اپنے سِرہانے والے*

*کیوں رضاؔ آج گلی سُونی ہے*
*اُٹھ مِرے دُھوم مچانے والے*

 

  • Like 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      سر تابقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول
      لب پھول دَہن پھول ذَقن پھول بدن پھول
      صدقے میں تِرے باغ تو کیا لائے ہیں ’’بن‘‘ پھول
      اِس غُنْچۂ دل کو بھی تو اِیما ہو کہ بن پھول
      تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا
      تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول
      وَاللہ جو مِل جائے مِرے گل کا پسینہ
      مانگے نہ کبھی عِطْر نہ پھر چاہے دُلہن پھول
      دِل بستہ و خُوں گشتہ نہ خوشبُو نہ لطافت
      کیوں غنچہ کہوں ہے مِرے آقا کا دَہن پھول
      شب یاد تھی کن دانتوں کی شبنم کہ دَمِ صبح
      شوخانِ بہاری کے جڑاؤ ہیں کرن پھول
      دندان و لب و زلف و رُخِ شہ کے فِدائی
      ہیں دُرِّ عدن ، لعلِ یمن ، مُشکِ ختن پھول
      دِل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا
      اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے چرخ کُہن! پھول
      کیا غازہ مَلا گردِ مدینہ کا جو ہے آج
      نِکھرے ہوئے جو بن میں قیامت کی پھبن پھول
      گرمی یہ قیامت ہے کہ کانٹے ہیں زباں پر
      بلبل کو بھی اے سَاقیٔ صہبَا و لبن پھول
      ہے کون کہ گِریہ کرے یا فاتحہ کو آئے
      بیکس کے اُٹھائے تِری رحمت کے بھرن پھول
      دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے
      سُورج تِرے خرمن کو بنے تیری کرن پھول
      کیا بات رضاؔ اُس چمنستانِ کرم کی
      زہرا ہے کلی جس میں حُسین اور حسن پھول
       
×
×
  • Create New...