Jump to content

Kalam Maulana Hassan Raza Khan - Brother of Ahla Hazrat


Recommended Posts

*🍂🍃🌹Beautiful Kalam🌹🍃🍂*

 مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا  سوالی ہے
*لبوں پر اِلتجا ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے*

*تری صورت تری سیرت زمانے سے نرالی ہے*
*تری ہر ہر اَدا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے*

*بشر ہو یا مَلک جو ہے ترے دَر کا سوالی ہے*
*تری سرکار والا ہے ترا دربار عالی ہے*

*وہ جگ داتا ہو تم سنسار باڑے کا سوالی ہے*
*دَیا کرنا کہ اس منگتا نے بھی گُدڑی بچھا لی ہے*

*منور دل نہیں فیضِ قدومِ شہ سے روضہ ہے*
*مشبکِ سینۂ عاشق نہیں روضہ کی جالی ہے*

*تمہارا قامتِ یکتا ہے اِکّا بزمِ وحدت کا*
*تمہاری ذاتِ بے ہمتا مثالِ بے مثالی ہے*

*فروغِ اخترِ بدر آفتابِ جلوۂ عارض*
*ضیاے طالعِ بدر اُن کا اَبروے ہلالی ہے*

*وہ ہیں اﷲ والے جو تجھے والی کہیں اپنا*
*کہ تو اﷲ والا ہے ترا اﷲ والی ہے*

*سہارے نے ترے گیسو کے پھیرا ہے بلاؤں کو*
*اِشارے نے ترے ابرو کے آئی موت ٹالی ہے*

*نگہ نے تیر زحمت کے دلِ اُمت سے کھینچے ہیں*
*مژہ نے پھانس حسرت کی کلیجہ سے نکالی ہے*

*فقیرو بے نواؤ اپنی اپنی جھولیاں بھر لو*
*کہ باڑا بٹ رہا ہے فیض پر سرکارِ عالی ہے*

*تجھی کو خلعتِ یکتائیِ عالم ملا حق سے*
*ترے ہی جسم پہ موزوں قباے بے مثالی ہے*

*نکالا کب کسی کو بزمِ فیضِ عام سے تم نے*
*نکالی ہے تو آنے والوں کی حسرت نکالی ہے*

*بڑھے کیونکر نہ پھر شکل ہلال اسلام کی رونق*
*ہلالِ آسمانِ دیں تری تیغِ ہلالی ہے*

*فقط اتنا سبب ہے اِنعقادِ بزمِ محشر کا*
*کہ ُان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے*

*خدا شاہد کہ روزِ حشر کا کھٹکا نہیں رہتا*
*مجھے جب یاد آتا ہے کہ میرا کون والی ہے*

*اُتر سکتی نہیں تصویر بھی حسنِ سراپا کی*
*کچھ اس درجہ ترقی پر تمہاری بے مثالی ہے*

*نہیں محشر میں جس کو دسترس آقا کے دامن تک*
*بھرے بازار میں اِس بے نوا کا ہاتھ خالی ہے*

*نہ کیوں ہو اِتحادِ منزلت مکہ مدینہ میں*
*وہ بستی ہے نبی والی تو یہ اﷲ والی ہے*

*شرف مکہ کی بستی کو ملا طیبہ کی بستی سے*
*نبی والی ہی کے صدقے میں وہ اﷲ والی ہے*

*وہی والی وہی آقا وہی وارث وہی مولیٰ*
*میں اُن کے صدقے جاؤں اور میرا کون والی ہے*

*پکار اے جانِ عیسیٰ سن لو اپنے خستہ حالوں کی*
*مرض نے درد مندوں کی غضب میں جان ڈالی ہے*

*مرادوں سے تمہیں دامن بھرو گے نامرادوں کے*
*غریبوں بیکسوں کا اور پیارے کون والی ہے*

*ہمیشہ تم کرم کرتے ہو بگڑے حال والوں پر*
*بگڑ کر میری حالت نے مری بگڑی بنا لی ہے*

*تمہارے دَر تمہارے آستاں سے میں کہاں جاؤں*
*نہ کوئی مجھ سا بیکس ہے نہ تم سا کوئی والی ہے*

*حسنؔ کا درد دُکھ موقوف فرما کر بحالی

*تمہارے ہاتھ میں دنیا کی موقوفی بحالی ہے*

Link to comment
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...