Jump to content

کفار کے کسی کام کو اچھا سمجھنا کیسا؟


محمد حسن عطاری

تجویز کردہ جواب

ہمارے مشائخ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جس نے کافروں کے کسی کام کو اچھا سمجھا تو وہ کافر ہوگیا انھوں نے یہاں تك شدت اختیار فرمائی کہ اگر کسی شخص نے(آتش پرستوں کے بارے میں کہا کہ ان کا طعام کھانے کے وقت خاموش رہنا اچھی بات ہے اور اسی طرح ایام ماہواری میں عورت کے پاس نہ لیٹنا عمدہ بات ہے تو وہ کافر ہے،(یعنی اہل کفر کی بات کو بھی اچھا کہنا یا سمجھنا خالص اسلام میں موجب کفر ہے)۔

Link to comment
Share on other sites

بحث میں حصہ لیں

آپ ابھی پوسٹ کرکے بعد میں رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں تو سائن اِن کریں اور اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کریں۔
نوٹ: آپ کی پوسٹ ناظم کی اجازت کے بعد نظر آئے گی۔

Guest
اس ٹاپک پر جواب دیں

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • حالیہ دیکھنے والے   0 اراکین

    • کوئی رجسٹرڈ رُکن اس صفحے کو نہیں دیکھ رہا
×
×
  • Create New...