Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts

حکیم الدیوبندیت مجدد دیوبندیت  تھانوی  کے ایک اور لونڈی بازی ملاحظہ فرمائیں تھانوی مجلس  کی واقعات فرمایا ایک صاحب نے خط میں یہ شکایت لکھی کہ جو جمیعت قلب حضرت والا کے خدمت بابرکات سے لیکر آیات تھا وہ یہاں آکر رفتہ رفتہ رخصت ہوگئی(تھانوی کا جواب ملاحظہ فرمائیں) کہتا ہے لوگ تو کیفیات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور لزت کے طالب ہیں ہے تو فحش بات مگر میں تو اس کی طلب پر یہ کہا کرتا ہوں کہ اگر  مزے ہی کی خواہش ہے تو میاں مزہ تو مزی میں ہے بیوی کو بغل میں لیکر بیٹھ جاؤ چومو چاٹو مزی نکلے گی بہت مزہ آئے گا (یہ ہے تھانوی  کی تالیمات) 

 کیا یہ ذکر الہی کی 
توہین نہیں قرآن عظیم فرماتا ہے  اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے
سکرین حاضر ہے آپ حضرات خود ملاحظہ فرمائیں📗 کمالات اشرفیہ ص407

IMG_20210511_115054_880.jpg

IMG_20210511_115057_183.jpg

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      اسکین پیج نیچے موجود ہے 

      پوری زریت دیوبندیت تو علم غیب کی منکر ہے کہ آقا علیہ السلام کو علم غیب نہیں تھا لیکن مولوی قاسم نانوتوی کے ایک تلامذہ مرید تھے انکو ایک لڑکے سے عشق ہوگیا پیار بھی اس قدر کہ اسی کے یاد میں کھوئے رہتے تھے ہمیشہ اسی کے یاد میں ایک دم نکمے ہوگئے تھے عاجز ہوکر حضرت نانوتوی کے خدمت میں پہنچا مؤدب عرض کیا کہ حضرت للہ میری اعئت فرما دئیجیے میں تنگ آگیا اور عاجز آچکا ہوں ایسی دعا فرمائیے کہ اس لڑکے کا خیال تک میرے قلب سے محو ہوجائے تو ہنس کر فرمایا کہ بس مولوی صاحب کیا تھک گئے بس جوش ختم ہوگیا میں نے عرض کیا کہ حضرت سارے کوموں سے بیکار ہوگیا نکما ہوگیا اب مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوسکتا خدا کے لئیے میری امداد فرمائیے فرمایا بہت اچھا بعد مغرب جب میں نماز سے فارغ ہو تو آپ موجود رہیں میں نماز مغرب پڑھ کر چھتہ کی مسجد میں بیٹھا رہا جب حضرت صلوۃ الاوابین سے فارغ ہوئے تو آواز دی مولوی صاحب مینے عرض کیا حضرت حاضر ہوں میں سامنے حاضر ہوا اور بیٹھ گیا فرمایا کہ ہاتھ لاؤ میں نے ہاتھ بڑھایا میرا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر میری ہتھیلی کو اپنی ہتھیلی سے اس طرح رگڑا جیسے  بان بٹے جاتے ہیں خدا کی قسم میں نے عیاناد دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چار طرف سے نور اور روشنی نے میرا احاطہ کرلیا ہے گویا میں دربار الہی میں حاضر ہوں میں اس وقت لرزاں اور ترساں تھا کہ  ساری عمر مجھ پر یہ کپکپی اور خوف طاری نہ ہوا تھا میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور بالکل خودی سے گزر گیا حضرت برابر میری ہتھیلی پر اپنی ہتھیلی پھیررہے ہیں جب ہتھیلی پھیرنا بند فرمایا تو یہ حالت بھی فرد ہوگئی فرمایا جاؤ میں اٹھ کر چلا آپ حضرات سکیں خود ملاحظہ فرمائیں 📗ارواح ثلاثہ 
      حکایت 250)
      عالم غیب پر اپنے اقتدار کے تسلط کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ جسے چاہا غیب دان بنا دیا لیکن محبوب کبریا صلی اللہ علیہ السلام کے حق میں بیک زبان سب متفق ہیں کہ کسی کو حرم سرائے غیب کا محرم بنانا تو بڑی بات ہے وہ خود غیب کی بات نہیں جانتے اور عرش کا تو پوچھنا ہی کیا ہے کہ فرش بھی ان کی نگاہ سے اوجھل آپ ہی منصفی سے کہئے کہ  کیا یہی شیوہ اسلام ہے  اور تقاضائے کلمہ گوئی ہے؟




×
×
  • Create New...