Jump to content
IslamiMehfil

اکابر وہابیہ و دیابنہ اپنے اصول و فتاوی کی روشنی میں کافر


Recommended Posts

گنگوہی کے مطابق تھانوی مشرک ہے

گنگوہی کہتا ہے کہ 
جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب ہونے کا معتقد ہے 
سادات حنفی کے نزدیک مشرک وکافر ھے
فتاوی رشیدیہ ایمان وکفر کے مسائا ص 228

مزید کہتا ہیںکہ 
علم غیب خاصہ حق تعالی کا ہے اس لفظ کو کسی تاویل سے دوسرےپر اطلاق کرنا ایہام شرک سے خالی نہیں
فتاوی رشیدیہ 229

لفظ؛خاصہ؛کی تعریف بھی خود دیوبندی کی زبانی ملاحظہ کریں 

خالد محمود دیوبندی لکھتا ہیکہ
خاصہ وہ صفت ہیکہ حو کسی ایک فرد یانوع ہی میں پای جاے   اور کسی میں موجود نہ ہو
مطالعہ بریلویت حلد1 ص 335

تو اب واضح ہواکہ دیوبندیوں کے نزدیک علم غیب خاصہ حق تعالی کا ہے کسی اور کا ہرگز نہیں ہوسکتا  اور اس لفظ علم غیب کو کسی تاویل یعنی عطای باذن اللہ دوسروں پراطلاق کرنا ایہام شرک  سے خالی نہیں معاذ اللہ
لیکن اسکے برعکس تھانوی نے حفظ الایمان میں بچوں پاگلوں اور جانوروں تک کے لئے علم غیب کا اقرار کیا ھے  

ملاحظہ ہو
ایسا علم غیب توزیدوعمروبلکہ ہرصبی و مجنون بلکہ حمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے 
حفظ الایمان

نیز مرتضی خسن چاند پوری اپنی کتاب میں اس عبارت کا دفاع کرتے ہوے لکھتا ہیکہ 
اس امر کو تسلیم کر لیاگیا ہیکہ حضور کو علم غیب باعطاےالہی حاصل ہے 
تو ضیح البیان علی حفظ الایمان ص 5
-----------
گنگوہی کے مطابق جو شخص علم غیب ہونے کا معتقد ہے وہ سدات حنفی کے نزدیک قطعا مشرک وکافر ھے

اب آپ ہی فیصلہ کریں

تھانوی اور دربھنگی عطای علم غیب مان کر کافر و مشرک ہوا یا نہیں؟
-------------------
سلسلہ جاری

Link to post
Share on other sites

دیوبندیوں کے فتوے سے مولوی قاسم نانوتوی کافر

قاسم نانوتوی لکھتا ہےکہ

پھر دروغ بھی کی طرح کا ہوتا ہے جن میں سے ہر تیک کا حکم یکساں نہیں  اور ہر قسم سے نبی کو معصوم ہونا ضروری نہیں 

تصفیتہ العقائدص22

اس عبارت پر دیوبندیوں کا فتوی ملاحظہ کریں 
عامر عثمانی فاضل دیوبند برادر زادہ شبیر احمد عثمانی کے شمارے تجلیسے ملاحظہ کریں

کسی نے قاسم نانوتوی کی چند۔سطریں  اس کتاب تصفیتہ العقائد سے نقل کرکے دارالافتاء دیوبند کو بہیجا 
اور پوچھا کہ ان سطروں کو لکھنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
 
*اب جواب ملاحظہ کریں* 

انبیاء علیہ السلام معاصی سے معصوم ہیں ان کو مرتکب معاصی سمجھنا اہلسنت والجماعت کا عقیدہ نہیں اسکی وہ تحریرخطرناک بھی ہے اور عام مسلمانوں کو ایسی تحریرات کا پڑھنا جائز بھی نہیں

فقط واللہ اعلم  سیداحمدعلی سعید
نائب مفتی دارالعلوم دیوبند


جواب صحیح ہے

ایسے عقیدے رکھنے والا کافرہے جب تک وہ تجدید ایمان و تجدید نکاح نہ کرے اس سے قطع تعلق کریں
مسعود احمد عفااللہ عنہ مہر دارالافتاء دیوبند الہند
تجلی دیوبند شمارہ نمبر 2 اپریل 1956 جلد نمبر 7  ص 9|10 

تفصیل اس اجمال کی سہ روزہ دعوت  دہلی کی  17 جنوری 1956 ء کی اشاعت میں ملاحظہ کریں 

Link to post
Share on other sites

المہند علی المفند علمائے دیوبند کی نظر میں
مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے المہند 1325 ھ میں تحریر کی اس کتاب کے بارے میں عام طور پر دیوبندیوں کا یہ دعوی ہیکہ 
علماء حرمین وشریفین نے اس کی تصدیق کی

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس کتاب کی اہمیت علماےدیوبند کے یہاں کتنی ہے ؟
            *ملاحظہ ہو* 
مولوی اکمل محمد سعیددنیوری دیوبندی المہند کو غیر معتبر تسلیم کرتے ہوے لکھتا ہیکہ 
"المہند کو تحریر سے ستائیس 27 سال بعد اور مولوی احمد رضا بریلوی کی وفات سے بارہ سال بعد طبع کرایاگیا اب سوال یہ ہیکہ حضرت مولانا سہارنپوری نے اپنی زندگی میں کیوں نہیں چھپوایا اور ستائیس سال مسودہ کس نےمحفوظ رکھا ؟" 
اور کتاب تو مولوی احمد رضا کےخلاف لکھی گئ تھی تو یہ اسکی زندگی میں چھپوانا چاھئے تھی اسکی وفات سےبارہ سال بعد کیوں چھپوایا؟
کیاضرورت محسوس ہوئی معلوم ہوا کہ ایک خاص تعصبی نظریئے کےتحت اس میں ترمیم واضافہ کےساتھ چھپوایا ہے
(شیخ محمدبن عبدالوہاب اورہندوستان کےعلماےحق مقدمہ ص 17 )
اس کتاب کودیوبندی عقائد علمائے اہلسنت دیوبند بھی کہتے ہیں
 
ایک دیوبندی کی زبان سچ نکل ہی گیا 
بات ظاہر ہیکہ یہ حضرات (اکابرین دیوبند)المہند علی المفند کو ایک دفع الوقتی کتاب سمجھتے تھے جیساکہ کتاب کےنام سےظاہر ہے اور یہ عقائدعلماےدیوبند نہیں 

حوالہ ایضا ص 5
دیوبندی مماتی حضرات المہند کو ایک وقتی مصلحت کا تقاضہ مانتےہیں ملاحظہ ہو
"یہ معتزلہ(دیوبندی مماتی)اس بات کا پرچار کررہےہیں کہ المہند علی المفند میں عقیدہ کا اظہار نہیں  بلکہ یہ ایک وقتی مصلحت کےتقاضہ کےتحت لکھی گئ ہے" 
حوالہ - خوشبووالا عقیدہ
عنایت اللہ شاہ دیوبندی کا المہند پر اطمینان نہیں 
سید عنایت اللہ شاہ بخاری دیوبند کابہت بڑے بزرگ ہے
 دیوبندی مناظر خضر حیات صاحب اپنی کتاب میں انکےبارے میں لکھتے ہیکہ 
پیر طریقت امام الدعوتہ مولانا سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری 
*حوالہ اکابر کا باغی کون ص 11*

بخاری صاحب کا المہند پر اطمینان نہیں تھا چنانچہ مولوی عبدالحمید سوتی لکھتے ہیں کہ 
اگر مولانا عنایت اللہ بخاری کا المہند جسکو مرتب کرنے والے حضرت مولانا سہارنپوری ہیں اور جس پر شیخ الہند سے لیکر مفتی کفایت اللہ تک تمام ذمہ دار حضرات کےدستخط موجود ہیں  اس پر اطمینان نہیں تھا تو اسکے اظہار کی یہ صورت تو کسی طرح بھی اچپٹھی نہیں تھی 
       فیوضات حسینی ترجمہ تحفہ ابراہیمہ ص 45
پڑھیے قہر خداوندی برفرقہ دیوبندی 
_____________________
خود۔دیوبندیوں نے اپنے دیوبندی مولوی کےبارے میں اقرار کیا کہ انکو اطمینان نہیں تو معلوم ہوا کہ علماےدیوبند کےماننے والوں میں بعض ایسےعلمائے دیوبند بھی موجود تھے اور ہیں جنہوں نے المہند پر اعتبار ہی نہیں کیا
جاری----------------------

Link to post
Share on other sites
Posted (edited)

 

المہند علی المفند علمائے دیوبند 
کی نظر میں
دیوبندی مولوی عبد الحق خان بشیر چیرمین حق چاریاراکیڈمی گجرات اپنے مماتی دیوبندیوں کے بارے میں لکھتا ہے کہ

مماتی دیوبندی بندیالوی نے اپنے رسالہ میں یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ علماےدیوبند کی متفقہ دستاویز=المہند علی المفند=قابل اعتماد کتاب نہیں
بندیالوی (مماتی دیوبندی) سمیت تمام منکرین حیات (یعنی مماتی دیوبندی)المہند کو علماےدیوبند کی ایک ایسی ہنگامی کاوش قراردیتےہیں جو پالیسی کےتحت مجبورا منظر عام پر لای گئ
حوالہ
علمائے دیوبند کا عقیدہ حیات النبی اور مولاناعطاءاللہ بندیالوی ص39
 نوٹ الیاس گھمن پارٹی اوردیگر دیوبندی علماءکےلئے یہ عبارت لمحہ فکریہ ہے

دیوبندی بزرگ قاضی صاحب کو بھی المہند پر اطمینان نہیں 
سرفرازصفدر اپنےدیوبندی بزرگ کےبارےمیں لکھتا ہیکہ

جناب قاضی صاحب المہندکےمصنف اور اسکےجملہ مصدقین حضرات پرجو اکابر علماےدیوبند میں شامل ہیں اور تسکین الصدور کےپاک وہند کےمصدقین حضرات پر اعتماد کرنےپرتو  آمادہ نہیں اور علماےدیوبند کی طرف مراجعت کی تلقین کرتےاور دعوت دیتےہیں
حوالہ
الشہاب المبین ص 35
سرفرازصفدر اپنے دیوبندی بزرگ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ
 
 آپ المہند میں درج شدہ دیوبندی مسلک کی ترجمان عبارت کو کھلے بندوں تسلیم نہیں کرتے
  حوالہ ایضا ص35
قاضی سرفراز نے جگہ جگہ اپنا بزرگ تسلیم کیا ہے 
اور اسی کتاب کے ص 46 پر اس کے ساتھ اپنے روابط کا اظہار کیا ہے ملاحظہ ہو
ہم اور آپ میں گہرے روابط ہیں ہم آپ کے خادم ہیں
پھر یہ شعر لکھا کہ
*کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدای ہوگی*
*یہ ہوا تو کسی دشمن نے اڑای ہوگی*
اللہ آپکو عمر نوح عطا فرماے تاکہ آپ اپنادرس جاری رکھ سکیں 
حوالہ ایضا ص 47
-------------------***************
یعنی اتنا کچھ ہونےکےباوجود علماےدیوبند میں جدائی نہیں حالانکہ اہل حق واہل باطل ایک نہیں ہوسکتے لیکن یہ دیوبندیوں کے گھرکا معاملہ تھا   لہذا یکجاں ہوکر گہرے روابط قائم رکھے
سچ فرمایا    الکفرملتہ واحدہ

 

Edited by محمد حسن عطاری
Link to post
Share on other sites

المہند علی المفند علمائے دیوبندکی نظر میں
دیوبندی مولوی حسین احمد نیلوی  المہند پر مفتی اعظم ہند(بقول دیوبندی)کی تقریظ کاجواب کےعنوان میں لکھتا ہے کہ
المہند پہ استاد جی کےدستخط کرنافضول سی بات ہے کیونکہ کسی معتمد علیہ کی تصنیف شدہ کتاب کو تقریظ کرنےوالا تقریظ کرتےوقت من ادلہ الی آخرہ ایک ایک حرف کرکےکوئ نہیں دیکھتاخصوصاوہ ہستیاں جنکےسرپربیسوں ذمہ داریاں ہوں-الی قولہ پھرخود المہند میں ایسی ایسی غلطیاں ہیں جن کی نسبت ان جیدعلماءکی طرف کرنا انکی توہین ہےپھر اس۔میں کئ کتابت کی غلطیاں ہیں بلفظہ
{حوالہ؛الکتاب المسطور جلداول ص460}

معلوم ہواکہ دیوبندی علماءکےنزدیک المہند میں ایسی غلطیاں ہیں جن کی نسبت دیوبندی اکابرین کی طرف کرنا وہ توہین تصور کرتے ہیں
 خود دیوبندیوں کادیوبندیوں کو لاکھوں کا چیلنج

دیوبندیوں نے اپنی اسی کتاب المہند کےنام کامعنی وترجمہ عقائد علمائے اہلسنت دیوبند شائع کیا ہے
یہ نام بعد کےعلمائے دیوبند کی طرف سےسامنے آیا لیکن اس نام سےبھی دیوبندی علماء میں سخت اختلاف پایاجاتا ہے
اس لئے دیوبندی فرقہ ہی کا خضرحیات دیوبندی(مماتی) سخت غضب ناک ہوتا ہے ملاحظہ ہو
محقق ٹمن(حیاتی دیوبندی)اگرآپ یا آپکی جماعت عربی لغت کی کسی کتاب سےالمہندعلی المفندکایہ معنی عقائد علمائے اہلسنت دیوبند بتا دے تو ہم آپ کوایک ایک حرف پر ایک ایک لاکھ انعام دیں گےاوراگرنہ دکھاسکیں توخدارا کچھ تو شرم کرو لغت عربی اور کتب اکابرین کواپنےمظالم کاتختہ مشق نہ بنائیں تعجب ہےآپ لوگوں پرکہ کبھی توآپ  کتاب اللہ کی معنوی تحریف سےنہیں چوکتےاور کبھی مخلوق کی کتابوں کواسرائیلی ذہن کےمطابق تخریف وتخریب کانشانہ بناتےہیں اب آپ خودسوچیں کہ آپ نےاپنےمذمومہ مقاصدکی حصول کی خاطرالمہندعلی المفند کےنام میں تحریف کرڈالی اگر آپ(حیاتی دیوبندی)المہندکوعقائدعلماےدیوبند کہنےپر مصرہیں .توالمہندکےمؤلف یاتصدیق کنندگان اکابرین میں سےصرف ایک ہی نام پیش فرمادیں جنہوں نےالمہندکوعلی الاطلاق اصول عقائدکی کتاب قرار دیا ہو یا معیار اہلسنت

اورمعیاردیوبندیت کہاہو .المہندکی حیثیت تبدیل کرنےکےلئے اس کےنام میں ردر بدل کرنےکےواقعات اکابرین(دیوبندی)کےبہت بعدکےہیں حضرات اکابرین کتاب کی موجودہ حیثیت(اصول عقائدعلماءدیوبند)اورموجودہ محرف شدہ نام سےبری الذمہ ہیں اور ہم(مماتی دیوبندی)یہ کہنےمیں حق بجانب ہیں کہ اکابرین دیوبند کےمتفقہ نام اورحیثیت میں تحریف کرنےکی وجہ سےتم(حیاتی دیوبندی)خوداکابرین دیوبند کےباغی  اوراکابرین کےطرزفکرکو چھوڑ کراکابرین پر عدم اعتمادکے مرتکب ہو
{حــوالہ؛المسلک المنصور ص260}

 

Link to post
Share on other sites
Posted (edited)

 

دیوبندیوں کےنزدیک سرفراز صفدر کافر ہے
دیوبندیوں کا مشہور و معروف مناظر ماسٹر امین اکاڑوی کےبرادر زادےمولوی محمودعالم دیوبندی  ابن تیمیہ کےحوالےسے لکھتا ہےکہ
جس نے ابن تیمیہ پرشیخ الاسلام کا اطلاق کیا وہ کافر ہے
(تسکین الاتقیاءص 124 بحوالہ اکابرکاباغی کون؟ ص272 دیوبندی خضر حیات)

 دیوبندی مولوی سرفرازصفدر کو  علمائے دیوبند اپنا امام وپیشوا تسلیم کرتےہیں 
اس سرفرازصفدرکی کتاب تسکین الصدور کےص 112 اور 117.136.138.اور 157پر ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام لکھاگیاہے
تو نتیجہ یہ نکلا دیوبندی مولوی محمودکےمطابق سرفرازصفدر ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہ کر کافر ٹھرا
نوٹ دیوبندیوں نےیہی اعتراض سنی علماءسے کیاتھا اب اسی دیوبندی اصول کےمطابق یہ جواب دیوبندیوں کے گلےکاپھندہ بن گیا

دیوبندی امام خلیل احمد ورشیداحمد کی مصدقہ کتاب "براہین قاطعہ" میں لکھا ہےکہ

یہ ہر روز اعادہ ولادت کامثل ہنود(ہندوؤں)کےسانگ کنہیا کی ولادت کا ہرسال کرتے ہیں 
براہین قاطعہ

خیال رہے یہ فتوی دیوبندی رشید احمد گنگوہی کا ہے جسےخلیل احمد  نےنقل کیا ہے
دیکھئے براہین قاطعہ ص67 اس میں صاف کہاگیا کہ حضور ﷺ کی ولادت مبارکہ کا دن ہر سال مناناہندوؤں کےسانگ کنہیاکا دن منانےکی مثل ہے 
معاذ اللہ

اب فتوی ملاحظہ ہو
کسی مسلمان کی طرف کیونکر گمان ہوسکتا ہے کہ معاذاللہ یوں کہے کہ ذکر ولادت شریفہ فعل کفارکےمشابہ ہے(المہندص67)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر ولادت شریفہ کو فعل کفارکےمشابہ کہنےوالا مسلمان نہیں ہوسکتا
تو خلیل احمد انبیٹھوی کے فتوے سے رشید احمد گنگوہی مسلمان نہیں رہا  اور خلیل احمد براہین قاطعہ میں نقل کرکے خود اسلام سےخارج ہوا
-------------اس گھرکو آگ لگ گئ گھرکےچراغ سے

 

 

Edited by محمد حسن عطاری
Link to post
Share on other sites
  • محمد حسن عطاری changed the title to اکابرین وہابیہ ودیابنہ اپنے اصول و فتاوی کی روشنی میں کافر ہیں - چھیویں قسط

خلیل احمدانبیٹھوی اپنے ہی فتوی سے کافرٹھہرا

براہین قاطعہ میں مولوی خلیل احمدانبیٹھوی لکھتا ہے کہ
شیطان وملک الموت کاحال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخرعالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاس فاسدہ سے شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے ؟
          براہین قاطعہ
اب فتوی ملاحظہ ہو
ہمارایقین ہے جوشخص یہ کہے کہ فلاں شخص نبی سے اعلم ہے وہ کافر ہے
المہند علی المفند ص 57
              تبصرہ
خلیل احمدانبیٹھوی اپنے ہی فتوی سےکافر ٹھرا

اشرفعلی المہند کی روشنی میں کافر 

دیوبندیوں کا حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتا ہے کہ
پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہے تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ایسا علم تو تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔

مطلب یہ کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو پاگل ،جانوروں اور بچوں سے ملایا  معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔

(بحوالہ :کتاب حفظ الایمان ص8کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی
      اب فتوی ملاحظہ ہو
ہمارے نزدیک متقین ہے جو شخص نبی کے علم کو زیدوبکر وبہائم ومجانین کے برابر سمجھے یا کہے وہ قطعا کافر ہے 
      (المہند علی المفند)

             تبصرہ
 دیوبندیوں کی مصدقہ کتاب المہند کی رو سے تھانوی علم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جانور سے تشبیہ دینے کے سبب کافر ٹھہرا

رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھوی کے فتوے سے کافر

دیوبندیوں کا امام ربانی رشیداحمد گنگوہی فتاوی رشیدیہ جلد1 ص 8 لکھتا ہے کہ
محمد بن عبدالوہاب کےمقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں عقائد عمدہ تھے مذہب ان کا  حنبلی تھا 

       جلد 3 ص 79 پر ہے کہ 
محمد بن عبدالوہاب کو لوگ وہابی کہتے ہیں  وہ اچھا آدمی تھا سنا ہے کہ مذہب حنبلی رکھتاتھا اور عامل بالحدیث تھااور شرک وبدعت سےروکتا تھا
     
المہند میں ہے کہ 
جو اولیاء کرام کی قبروں کو سجدہ وطواف کرنے سے منع کرے وہ وہابی ہے بلکہ جو سودکی حرمت کو ظاہر کرے وہ وہابی ہے گو کتنا ہی بڑا مسلمان کیوں نہ ہو
المہند ص 23

      اب فتوی ملاحظہ کریں
المہند کےمصنف سے ابن عبدالوہاب کے بارے میں پوچھاگیا تو کہا کہ
ہم اسے خارجی جانتے ہیں 
{المہند ص 46}

گنگوہی نے مسلمان مانا انبیٹھوی نے خارجی  
تو خلیل احمد انبیٹھوی کے فتوے سے رشید احمد گنگوہی خارجی کو مسلمان مان کر کافر ٹھہرا

Link to post
Share on other sites

شبلی نعمانی پر دیابنہ کی خانہ جنگی

دیوبندی اکثر شبلی نعمانی کا نام لیکر سنیوں پرالزام تکفیر عائد کرتے ہیں اور خود مرتد ہوجاتے ہیں

اب انہیں کے اصول کے مطابق تھانوی کا فتوی ملاحظہ کریں

 شبلی اور مولانا حمیدالدین کافر ہیں ان کا مدرسہ کفر زندقہ ہے اس کے تمام متعلقین کافروزندیق ہیں  یہاں تک کہ جو علماء اس مدرسے کے جلسوں میں شرکت کریں وہ بھی ملحد بےدین ہیں
(حکیم الامت ص 475)

شبلی نعمانی انور شاہ کشمیری کی نظر میں 

یعنی شبلی نعمانی یہ بدعقیدگی اوربد مذہبی لوگوں پر اس لئے ظاہرکرتا ہوں کہ دین اسلام میں کافر کے کفر کو چھپانا جائز نہیں
(مقدمہ مشکلات القران ص32 بحوالہ محاسبہ دیوبندی)

1)تھانوی کے مطابق شبلی نعمانی کافرہے
2)اس کا مدرسہ بھی کفر وزندقہ ہے
3)اس کے تمام متعلقین کافر وزندیق ہیں 
4)جو اس کے جلسوں جاے وہ وہ بھی ملحد بےدین ہے
5)انورشاہ دیوبندی کے مطابق بھی شبلی نعمانی کافر ہے
اب جو کافر کو کافر نہ کہے اس کے بارے میں کیافتوی ہے ملاحظہ کریں
       دیوبندیوں کا اکابر مرتضی حسن چاندپوری کہتا ہے کہ
‛‛‛ *جو کافرومرتد کو کافر ومرتد نہ کہے وہ بھی کافر ہے* 
(احتساب قادیانیت جلد دہم ص 253 اشدالعذاب ص 11)

کسی کافر کو عقائد کفریہ کے باوجود مسلمان کہنا  بھی کفر ہے کیونکہ اس نے کفر کو تسلام بنادیا خالانکہ کفرکفر ہے اسلام اسلام
(احتساب قادیانیت)
جبکہ دیوبندیوں نے  شبلی نعمانی کو شمس العلماء اور رحمہ اللہ علیہ لکھا
دیوبندی امام سرفراز صفدر انہی شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النعمان کا حوالہ بیان کرتے ہوے لکھتا ہے کہ

شمس العلماء مؤرخ اسلام علامہ شبلی نعمانی  ( المتوفی 1332ھ)*
(احسن الکلام فی ترک القراہ خلف الامام ص 420)

دیوبندیوں کی ان کتابوں سے معلوم ہوا کہ

📣📣  تھانوی کے مطابق شبلی کافر لیکن سرفراز صفدر دیوبندی نے اسکو شمس العلماء اور رحمتہ اللہ علیہ لکھ کر اپنے اصول کے مطابق مسلمان سمجھا اور مرتضی حسن کے مطابق جو کافر کو کافر نہ کہے وہ خود کافر تو سرفراز صفدر شبلی نعمانی کو کافر نہ کہ کر خود کافر ہوا


تھانوی کے نزدیک شبلی کے تمام متعلقین کافر وزندیق ہیں جو علماء اس مدرسے کے جلسوں میں شرکت کریں وہ بھی ملحد بےدین ہیں  تو پھر شبلی نعمانی کی کتاب کو اچھا سمجھنے والے اسکو شمس العلماء کاخطاب دینے والے اس کے رحمتہ اللہ علیہ لکھنے والے تو دیوبندی اصولوں سے پکے کافر ٹھہرے،*


⬅یہ بھی یاد رہے سرفراز صفدر نے جس کتاب ‛‛‛‛احسن الکلام ًًًٌٌٌٌٌٌ‛‛‛میں شبلی نعمانی کے بارے میں شمس العلماء اور رحمتہ اللہ علیہ لکھا
اس کتاب پر درج ذیل علماء کے تصدیقات موجود ہیں 
1)قاری طیب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند
2)دیوبندی سید مہدی سابق  مفتئ اعظم دارالعلوم دیوبند انہوں نے خود کہا کہ ‛‛‛میں نے جزء اول کا اول سے آخر تک لفظ بہ لفظ مطالعہ کیا ص 19
3)دیوبندی شیخ الہند حسین احمد مدنی انہوں نے کہا کہ ‛‛حضرت مفتی سید مہدی حسن صاحب کی تحریر سے میں حرف بہ حرف موافقت کرتا ہوں ص 20
4)دیوبندی شیخ الحدیث مولانا حبیب الرحمن اعظمی
5)مفتی فقیراللہ سابق مفتی اعظم جامعہ رشدیہ
6)مفتی شفیع دیوبندی مفتی اعظم انہوں نے اس کتاب کو بےنظیر کتاب کہا ص 23
7)مولانا خیر محمد سابق مہتمم عربیہ خیرالمدارس ملتان
8)دیوبندی شیخ الحدیث قاضی شمس الدین 
اور بھی بہت سے دیوبندی مولویوں کے تصدیقات موجود ہیں
📣📣📣📣📣📣📣📣📣
لہذا علماےدیوبند ذرا غور کریں 
کہ تھانوی کے فتوے سے شبلی نعمانی کافر ہے 
اور سرفراز صفدر کے مطابق شمس العلماء اور رحمتہ اللہ علیہ 
اور یہ سب دیوبندی علماء سرفراز کے حامی وحمایتی تو یہ سب بھی اس فتوے کے زد میں آتے ہیں کہ نہیں ؟

 

Link to post
Share on other sites

وہابی کیا ہیں خود وہابی کی زبانی ملاحظہ کریں

تبلیغی جماعت کا سربراہ مولوی منظور نعمانی کہتا ہےکہ 
اور ہم خود اپنے بارے میں صفائی سے عرض کرتے ہیں کہ ہم بڑے سخت وہابی ہیں
(سوانح مولانا یوسف کاندھلوی ص190)

دیوبندی فضائل اعمال کا مصنف مولوی زکریا کہتا ہے کہ
میں خود تم سب سے بڑا وہابی ہوں
(سوانح مولانایوسف کاندھلوی ص192)

مریض ملت اشرفعلی تھانوی کہتا ہے کہ
بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں یہاں فاتحہ نیاز کے لئے کچھ مت لایا کرو
(تشرف السوانح 1ص48)
مزید کہتا ہے کہ
اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو سب کی تنخواہ کردوں پھر دیکھو خود ہی سب وہابی بن جائیں گے
(الافاضات الیومیہ جلد2ص75)

تھانوی کہتا ہےکہ
ایک صاحب بصیرت وتجربہ کار کہاکرتے تھے کہ ان دیوبندیوں وہابیوں کو اپنی قوت معلوم نہیں
(افاضات الیومیہ جلد2 ص75)

اب ملاحظہ کریں کہ وہابی کسے کہتے ہیں ؟

تھانوی نے  یقینا سچی بات  کہی
وہابی کا معنی ہے بےادب باایمان
(افاضات الیومیہ 2ص 207)
معلوم ہوا کہ حکیم الامت کے نزدیک وہابی کا معنی بے ادب ہے 
اب بےادب باایمان ہوتا ہے یا نہیں ؟
خود وہابیوں کی ہی زبانی ملاحظہ کریں

خود تھانوی ہی کہتا ہے کہ
ادب بڑی چیز ہے اوربے ادبی نہایت ہی بری چیز ہے بےادب ہمیشہ محروم رہتا ہے  اسی کو فرماتے ہیں 
  زاخداجوئیم توفیق ادب
  بےادب محروم گشت ازفضل رب
    ترجمہ
ہم اللہ سے ادب کی توفیق کی دعا کرتے ہیں کیونکہ بےادب حق تعالی کی مہربانی سے محروم رہتا ہے 
(ملفوظات حکیم الامت 5ص268)

 مولوی اسماعیل دہلوی کی زبانی  بھی سماعت کریں
بےادب محروم گشت ازفضل رب
(تقویت الایمان)

حکیم الامت دیوبند تھانوی کہتا ہے کہ
گستاخ اوربےادب کبھی مقصودتک راہ نہیں پاسکتا کبھی صورت تک مسخ ہوجاتی ہے اور یہ سب بےادبی اورگستاخی کے ثمرات ہیں
(ملفوظات حکیم الامت 5ص 268)

تھانوی  کی اس عبارت سے ثابت ہوگیا کہ بےادب کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ اسکی صورتیں تک مسخ ہوجاتی ہیں 
تو تب دیوبندی حضرات خود بتائیں کہ وہ بے ایمان ہیں یاباایمان؟

کیا ایمان والا بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا ؟

ملاحظہ ہو المہند اس میں لکھا ہیکہ
اگر کوئی ہندی شخص کسی کو وہابی کہتا ہے تو یہ مطلب نہیں کہ اسکا عقیدہ فاسد ہے بلکہ یہ مقصود ہوتا ہے کہ وہ سنی حنفی ہے
(المہند ص32)

پتہ چلا کہ وہابی بے ادب ہوتے ہیں اور بے ایمان بھی
لو آج اپنے دام میں صیاد آگیا
بحوالہ :قہر خداوندی بر فرقہ دیوبندی

 

Link to post
Share on other sites

تبلیغیوں نے کیا نبوت کا دعوی
 طارق جمیل کہتا ہے کہ
مولانا الیاس کاندھلوی پر اللہ تعالی 
نے جوپیغام فرمایا پچھلی کئ صدیوں میں کسی پر نہیں ہوا‛پچھلےہزار سال میں بھی کہوں تو مبالغہ نہیں
(کلمتہ الہادی باب نمبر4ص227)

طارق جمیل کے اس بیہودہ قول پر تبصرہ کرتے ہوے دیوبندی مفتی نے لکھاکہ 
اللہ تعالی اپنےنیک بندوں پر الہام فرماتا ہے لیکن پیغام اپنے نبیوں اور رسولوں کو دیتا ہے جسےرسالت کہتے ہیں--------طارق جمیل کا------کتناغلو ہے ایک امتی( الیاس کاندھلوی)کے بارے میں کہا جائے کہ اللہ تعالی نے اس پر پیغام فرمایا اس طرح کے خرافات مولانا الیاس کاندھلوی کے بارے میں پہلے بھی کہی گئ ہیں کہ یہ الہامی نبی تھے
فتاوی محمودیہ میں ہے کہ
سوال--یہاں پر ایک تبلیغی صاحب نے مندرحہ ذیل تقریر فرمائی
 حضرت مولانا الیاس دراصل الہامی نبی تھے انبیاءپر وحی آتی تھی لیکن مولانا ایسے نبی تھے جن کو ہو آنے والے واقعہ کا الہام ہوتاتھا گویا الہامی نبی تھے
  ------    جواب--------
حامداومصلیا::حضرت مولانا الیاس کو نبی کہنا درست نہیں نہ الہامی نہ کسی اور قسم کا نبی---ایسے عنوانات سے بہت غلط فہمی پیدا ہوتی ہے جواب کے بعد دیوبندی مفتی کہتا ہے کہ میں کہتا ہوں غلو کس چیز کانام ہے الحاد زندقہ اور کفر کونسی بلا ہے؟

جماعت میں شامل فاسقٍ‛فاجر‛حدودشرعیہ سےتجاوزکرنے والوں کی وکالت کی جائے دوسری طرف علماے امت صلحا مشائخ مجاہد اور اہل حق قابل گردن زدنی قراردیے جائیں  
منصب الوہیت و رسالت کےصیغہ میں اپنے لدبڑوں کو شریک کار سمجھنا یہودونصاری کا غلوتھا
ملخصا

(کلمتہ الہادی باب نمبر4ص228)
دیوبندی مولانا ابوالفضل نے بھی فتاوی محمودیہ جلد1صط66 تا 70 کا ایک حوالہ اپنی کتاب ؛؛انکشاف حقیقت؛؛میں بیان کیا ہے
ملاحظہ ہو مولانا ابوالفضل عبدالرحمن صاحب لکھتے ہیں کہ
مولانا مفتی محمود حسن کا جواب پڑھیں کتنانرم جواب دیا ہے مفتی صاحب کو لکھنا چاہیئے تھا ایسا اعتقاد رکھنا کفروہے اور اس تبلیغی مقرر کو اپنے کفر سے توبہ کرنی چاہیئے؛؛
(انکشاف حقیقت ص85)

تبصرہ نوری-- کچھ بھی ہو جھوٹے نے سچی بات کہی
---------------------------------------------
الیاس کاندھلوی کو تبلیغی الہامی نبی کہتے ہیں
 ابوالفضل دیوبندی کہتا ہے کہ
اس طرح تو مولانا الیاس کا درجہ تبلیغیوں نے کہاں پہنچادیا بندہ تو اسکے تصور سےلرزتاھے یہ غلو فی الدین کی بدترین مثال ھے (اسکے بعد ہیڈنگ لگائی
----- مولانا الیاس الہامی نبی تھے
انکشاف حقیقت ص 36
پھر دیوبندی فتاوی محمودیہ کاحوالہ بیان کرکے دیوبندی مولوی نے خود تبلیغی جماعت کےبارے میں لکھا کہ
دوسرا نامعلوم مقرر مولانا الیاس کو الہامی نبی قراردے رہا ہے  جسکی تردید میں تبلیغی جماعت کی طرف سے اب تک کوئ فتوی نہیں آیا 
(انکشاف حقیقت ص37)

Link to post
Share on other sites

امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی کا عقید
جیسا ہرقوم کا چودھری اورگاؤں کا زمیندار سو ان معنوں میں ہر پیغمبر اپنی امت کا سردار ہے
(تقویت الایمان ص54)

ایک جگہ اور لکھتا ہے کہ

ہر مخلوق خواہ چھوٹاہو (نبی صلی اللہ علیہ وسلم)یابڑا اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے
(تقویت الایمان)

ایک جگہ اور لکھتا ہے کہ

اولیاء وانبیاء امام وامام زادہ پیر وشہید یعنی جتنے اللہ کے مقرب بندے ہیں وہ سب انسان ہی ہیں اور بندے عاجز اور ہمارے بھائی مگر انکو اللہ نے بڑائی دی وہ بڑے بھائی ہوئے.
(تقویت الایمان)

ایک جگہ اور لکھتا ہے کہ
انسان آپس میں سب بھائی ہیں جو بڑا بزرگ ہو وہ بڑا بھائی سو اسکی بڑے بھائی کی سی تعظیم کیجئے
(تقویت الایمان)
اور لکھتا ہے کہ
اولیاء انبیاء کی تعظیم انسانوں جیسی کرنی چاہیئے جو بشر کی سی تعریف ہو سو ہی کرو  سو ان میں بھی اختصار کریں (یعنی کمی )
(تقویت الایمان)
☄☄☄☄☄☄☄☄☄☄

براہین قاطعہ کے مصنف خلیل احمد انبیٹھوی کا عقیدہ
اگر کسی نے بوجہ بنی آدم ہونے کے آپ کو بھائی کہا تو کیا خلاف نص کہ دیا وہ تو خود نص کے موافق کہتاھےاس پر طعن کرنا قرآن وحدیث پر طعن اور اسکے خلاف کہنا نص کی مخالفت ہے
(براہین قاطعہ ص 3)

تبصرہ نوری؛؛؛قارئین کرام آپ نے  اسماعیل دہلوی اور خلیل احمد انبیٹھوی کے عقائد پڑھے انکے نزدیک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بس بڑے بھائی جیسی کرو سو اس میں بھی کمی کرو 
اب آپ ملاحظہ کریں کہ ایسا گندہ عقیدہ رکھنے والا کیا ہے ؟
اور
اس عقیدے کے بارے میں علماےئے دیوبند کا متفقہ فتوی بھی ملاحظہ کریں
فـتـــــوی 
جو اسکا قائل ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم پر بس اتنی ہی فضیلت ہے جتنی بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی پر پر ہوتی ہے تو اسکے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ دائرہ ایمان سے خارج ہے 
(المہند ص23)

انور شاہ کشمیری کا فتوی
تمام علماء  کا اس بات اجماع ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی توہین و بےادبی و تنقیص کرنے کافر ہے جو اسکے کفر وعذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہےکفر کےحکم کا دار ومدار ظاہر پر ہے قصد ونیت وقرائن حال پر نہیں

علماء نے فرمایا انبیاء علیہم السلام کی شان میں جرات ودلیری کفر ہے اگرچہ توہین مقصود نہ بھی  ہو

(اکفارالملحدین ص64-91)

تو پتہ چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرکے دہلوی اور انبیٹھوی کافر ہوگئے....

Link to post
Share on other sites

نداء اور استمداد کے سبب علمائے دیوبند کا پیرومرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی و نانوتوی  تھانوی اسماعیل دہلوی کے فتوے سے ہوئے کافر

حاجی امداداللہ مہاجر مکی کہتا ہے 
اے رسول کبریا صلی اللہ علیہ وسلم فریاد ہے
یامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فریاد ہے
سخت مشکل میں پھنساہوں آج کل
اےمیرےمشکل کشا فریاد ہے
قیدغم سے اب چھڑادیجیئے مجھے
یاشہ ہردوسرافریاد ہے
(کلیات امدادیہ ص98)

  قاسم نانوتوی کی نداء

مددکر اےکرم احمدی کہ تیرے سوا
نہیں ہےقاسم بےکس کا کوئی حامی کار
مگرکرےروح القدس میری مددگاری
تو اسکی مدح میں میں بھی کروں رقم اشعار
جوجبرئیل مددپرہو فکر کی میرے
توآگے بڑھ کے کہوں کہ جہان کےسردار
بجزخدائی نہیں چھوٹا تجھ سے کوئ کمال
بغیربندگی کیاہےلگےجوتجھ کو عار 
      مزید لکھتا ہے کہ

کروڑوں جرموں کے آگے یہ نام کا اسلام
کرےگا؛ یانبی اللہ ؛؛کیا میرے پہ پکار

یہ سن کے آپ شفیع گناہ گاراں  ہیں

کئے ہیں میں نےاکھٹے گناہ کےانبار

جوتوہی ہمکو نہ پوچھے توکون پوچھے گا
بنےگاکون ہمارا تیرےسوا غم خوار

   (قصائدقاسمی ص 5-6-7)

اشرفعلی تھانوی کی نداء 

یاشفیع العباد خذبیدی
انت فی الافطار معتمدی
لیس لی ملجاء سواک اغث
مسنی الضر سیدی سندی
یارسول اللہ بابک لی
من غمام الغموم ملتحدی
لیتی کنت ترب طیبتکم
فالتثمبت النعال ذاک قدمی
     ترجمہ
اےبندوں کی شفاعت فرمانے والے میری دستگیری فرمائیں آپ ہی میری ہر مشکل میں آخری امید ہیں آپکے سوا میرا کوئی ملجا نہیں میرے سردار میرے مولا میری فریاد سنیں مجھے ضرر نے گھیرا ہوا ہے
یارسول اللہ میں ہوں اور آپکا در ہے غم کے بادل مجھے کہیں گھیر نہ لیں اےکاش میں طیبہ کی خاک ہوجاتا اور آپکی نعل بوسی میرے لئے کافی ہوتی
     
 *****اب فتوی ملاحظہ کریں****
 دہلوی صاحب لکھتا ہے کہ

جوکوئی کسی  کا نام اٹھتے بیٹھتے لیا کرے اور دور ونزدیک سے پکارے  اور بلا کے مقابلے میں اسکی دہائی دیوے اور دشمن پر اسکا نام لیکر حملہ کرے اور اسکے نام کا ختم پڑھے یاشغل کرے یا اسکی صورت کا خیال باندھے کہ جو خیال و وہم میں میرے دل میں گزرتاہے وہ سب سے واقف ہے سو ان باتوں سے مشرک ہوجاتا ہے خواہ یہ عقیدہ انبیاء و اولیاء سے رکھے خواہ پیر وشہید سے خواہ امام زادہ سے خواہ بھوت پری سے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو ذات سے ہے خواہ اللہ کے دینے سے غرض اس عقیدے سے ہر طرح شرک ثابت ہوتا ہے 

(تقویت الایمان ص 9)


 تشریح ؛؛؛؛؛؛ علمائے دیوبند کے عقائد سےثابت ہوا کہ ندائے غیراللہ جائز ومستحسن ہے اور معتبر علماےدیوبند نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نداء بھی کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد بھی چاہی ہے 
جبکہ اسماعیل دہلوی کے فتوے میں نداء غیراللہ کو شرک اور کرنےوالےکو مشرک کہاگیا ہے 
اب یاتو اسماعیل دہلوی کے فتوی سے علمائے دیوبند مشرک ہوے یا پھر اسماعیل دہلوی

Link to post
Share on other sites
  • سگِ عطار changed the title to اکابر وہابیہ و دیابنہ اپنے اصول و فتاوی کی روشنی میں کافر
  • 3 weeks later...

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      مابین مناظر اہلسنت علامہ مولانا مفتی عبد المجید سعیدی 
      و غیر مقلد وہابی مولوی عبدالرحمن شاہین ملتان 

      مناظرہ سہ طلاق.pdf
×
×
  • Create New...