Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By محمد حسن عطاری
      کچھ انتشار پسند حضرات بغیر تحقیق کے بڑے زور و شور سے یہ پروپیگنڈہ پھیلاتے نہیں تھکتے کہ بریلویوں کے اعلیٰ حضرت اور اشرف  تھانوی  نے دیوبند کے ایک ہی مدرسے میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی اور دوران تعلیم کسی دینی مسئلہ میں ان دونوں کا اختلاف ہو گیا تو اعلیٰ حضرت  تھانوی سے حسد کرنے لگے *معاذ اللہ * اور بریلی میں اعلیٰ حضرت  نے اپنا الگ مدرسہ کھول کر ایک نئے فرقہ(بریلویت) کی بنیاد رکھی! اب قارئین کرام تحریر کو پڑھیں اور اس پروپیگنڈہ کی حقیقت دیکھیں کیا واقعی اعلیٰ حضرت اور اشرف علی تھانوی نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی؟ ________________ کیا اعلیٰ حضرت بریلوی رحمتہ اللہ علیہ اور اشرف علی تھانوی نے ایک ساتھ دیوبند میی پڑھا تھا ..؟؟؟ پیدائش اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ 10 شوال 1272ھ حیات اعلیٰ حضرت
      اشرف علی تھانوی 5 ربیع الثانی 1280ھ اشرف السوانح تعلیم کا آغاز اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ماہ صفر 1276ھ حیات اعلیٰ حضرت
      اشرف علی تھانوی ماہ ذیقعدہ 1295ھ اشرف السوانح
      تعلیم کی تکمیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ 14شعبان 1286ھ حیات اعلیٰ حضرت اشرف علی تھانوی 1301ھ اشرف السوانح نوٹ امام احمد رضا محقق بریلوی 1286ھ میی تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کے تکمیل کر کے مسند افتاءیپر فایز ہوچکے تھے تب اشرف علی تھانوی صرف 6 سال کے بچے تھا نیز تھانوی 1301ھ میی دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوا تھا تب اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے علم کی  تکمیل کو 15 سال کا عرصہ گزر چکا تھا دارالعلوم دیوبند کا قیام 15محرالحرام1283ھ محلّہ چھتہ کی پرانی مسجد میی انار کے درخت کے نیچے صرف ایک استاد اور ایک شاگرد تاریخ دارالعلوم دیوبند تب امام احمد  رضا  رحمتہ اللہ علیہ بریلوی شریف میی اپنے مکان پر ایک جلیل القدر اساتزہ کرام سے اعلیٰ درجہ کی تعلیم کرنے کی آخری منزل میی تھے دارالعلوم دیوبند کی پہلی عمارت کا سنگ بنیاد 2 ذی الحجہ 1292ھ کو رکھا گیا اور آٹھ سال کی مدت میی یعنی 1300ھ میی نودرہ نامی پہلی عمارت کی تعمیر مکمل ہوی تاریخ دارالعلوم دیوبند تب امام احمد رضا کو بحشییت مفتی دینی خدمات انجام دینے کو 14 سال کا عرصہ گزر چکا تھا دارالعلوم دیوبند کے مطبخ mess کا آغاز دارالعلوم پڑھنے بیرونی طلبہ جو دارالاقامہ میی ٹھہرتے تھے ان کے کھانے پینے کا انتظام بصورت مطبخ 1328ھ میی کیا گیا تاریخ دارالعلوم دیوبند تب اعلیٰ حضرت مجدد اعظم کے شان سے پورے عالم اسلام کے محبوب نظر بن کر خورشید علم و عرفان کی حشییت سے درخشاں تھےاور علم کی تکمیل کو 42سال کا عرصہ گزر چکا تھا لہزا معزز قارین کرام کی خدمت میی مودبانہ عرض ہے کہ امام احمد رضا اور تھانوی دارالعلوم دیوبند میی ہم سبق اور ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ دارالاقمت میی ایک ساتھ رہتے تھے یہ ایک ایسا گھنونا جھوٹ ہے کہ تاریخ کو بھی مسخ کرنی کی کوشش کی جارہی ہے اپنے عقاید باطلہ پر اعلیٰ حضرت کی علم گرفت کو ڈھیلی کرنے کی عرض سے دور حاضر کے منافقین عوام میی یہ جھوٹی کہانی رایج کررہے ہیی کہ اعلیٰ حضرت اور تھانوی دیوبند میی ایک ساتھ پڑھتے تھے رہتے تھے کھاتے تھے اور دوراب طالب علمی ان دونوں میی جگڑا ہوا گیا لہزا اعلیٰ حضرت نے تھانوی اور دیگر اکابر علماے دیوبند پر کافر کا فتویٰ صادر کردیا اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر دیوبند سے بریلوی واپس چلے گے اور یہی اصلی وجہ سنی اور وہابی کے اختلاف کی ہے لیکن اگر خود دیوبندی مکتبہ فکر کی مستند کتابوں کا جایزہ لیا جاے تو تاریخ کی روشنی میی یہ حقیقت روز روشن کی طرح سامنے آے گی کہ تھانوی کا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ پڑھنا ایک غیر ممکن تصور ہی ہے کیونکہ جب امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ تکمیل علوم دینیہ کے بعد ایک عظیم مفتی کی حشییت سے خدمت دین متین میی ہمہ تن مصروف تھے اس وقت تھانوی بلکل جاہل تھے اور جہالت کے اندھیرے میی بھٹکنے بعث ایسی ایسی حرکتیی کرتے تھے کہ وہ حرکتیی دیکھ کر ایک جاہل بلکہ فٹ پاٹھ کے موالی کا بھی سر شرم سے جھک جاے 1 تھانوی نے اپنے والد کی چارپائی کے پائی رسی سے باندھ دے نتیجا برسات میی چارپائیاں بھیگتی گیی الافاضات الیومیہ 2 تھانوی نے اپنے بھائی کے سر پر پیشاب کیا الافاضات الیومیہ 3 مسجد کے نمازیوں کے جوتے تھانوی نے شامیانہ پر ڈال دے الافاضاتالیومیہ 4 تھانوی نے اپنے سوتیلے ماموں کی دال کی رکابی میی کتے کا پلہ ڈال دیا الافاضاتالیومیہ کیا اب بھی یہ دعویٰ ہے کہ امام احمد رضا اور تھانوی نے ایک ساتھ پڑھا تھا ہرگز نہیی ان دونوں کا ایک ساتھ پڑھنا ممکن ہی نہیی بلکہ ساتھ میی پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیی ہوتا اختتام پر صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ نہ تم صدمے ہمیی دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے نہ کھلتے راز بستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیی

      *Must Forward*

    • By محمد حسن عطاری
      جناب سید ایوب علی رضوی فرماتے ہیں کہ حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی عمر شریف تقریباً 5۔6 سال ہوگی اس وقت صرف ایک بڑا کُرتا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے کہ سامنے سے چند طوائف زنان بازاری گزریں ، آپ نے فوراً کرتے کا اگلادامن دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر چہرہ مبارک کو چھپا لیا یہ کیفیت دیکھ کر ایک طوائف بولی واہ صاحب منہ تو چھپالیا اور ستر کھول دیا آپ نے برجستہ اُس کو جواب دیا جب نظر بہکتی ہے تب دل بہکتا ہے ، جب دل بہکتا ہے تو ستر بہکتا ہے یہ جواب سن کر وہ سکتہ کے عالم میں ہوگئی۔
      (حیات اعلی حضرت ، جلد اوّل ، مطبوعہ کراچی، صفحہ 23)
      امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا یہ جواب خرق عادت ہے، ورنہ اتنی چھوٹی عمر میں ایسا دانائی والا جواب دینا محال ہے، امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی کیفیت پر سب سے پہلے اعتراض فاحشہ عورتوں نے کیا اور امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے خرق عادت کے طور پر دانائی والا جواب دیا، اب جو بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے اس جواب پر اعتراض کرتا ہے وہ فاحشہ عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے اور جو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ پر اس اعتراض کا جواب دیتا ہے وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی نمائندگی کرتا ہے ، یہ اپنی اپنی قسمت ہے
      یہاں ایک اور مزے والی بات بتاؤں آپکو کہ وہ رنڈیاں اور طوائفیں ہونے کی وجہ سے سمجھ گئیں کہ اس بچے نے کرتا کس وجہ سے اٹھایا 
      اور انھوں نے بر ملا اظہار بھی کیا کہ تمھاری اس حیا سے تمھارا ستر ظاہر ہو گیا 
      مطلب انھیں بھی معلوم تھا کہ بچہ شرم و حیا والا ہے اور جب اس بچے کا مزاق اڑانے کی کوشش کی تو جوب سن کر سمجھ گئیں کہ بچہ نہ صرف شرم و حیا والا ہے بلکہ عقلمندی کی بھی انتہا پر ہے 
      آج یہ دیو کے بندے اور وہابی نجدی خبیث ان طوائفوں سے ہزار درجے گری ہوئی سوچ رکھ کر اپنے آپ کو ان طوائفوں کی جگہ رکھ کر سوچتے ہیں
      *کہ یہ بچہ انھیں غلط نظر سے دیکھ رہا ہے *
      جو بات وہ رنڈیاں اور طوائفیں نہیں سوچ سکی وہ یہ ولی الشیطان سوچتے ہیں
      دوستو ان خارش زدہ کلاب النار کا قصور نہیں انکے گھر میں ماں بہن بہو اور بیٹی سے نفس کی مالش تک کروا سکتی ہیں جب اہلسنت نے انکا رد کیا تو انھیں لگا کہ ہمارے دھرم کے مطابق نفس کی مالش آپ کسی سے بھی کروا سکتے ہو تو انھوں نے دلیل کے طور پر اعلیٰ حضرت کے ستر والی عبارت دلیل بنا دی حالانکہ یہ بھول گئے کہ یہاں 5-6 سالہ وہ کمسن بچہ ہے جس سے بے اختیار انکی ماؤں یعنی رنڈیوں سے جنکے کوٹھے آباد کرنے کے لیے انکے بابے تعویز گنڈے کیا کرتے تھے ان سے پردہ کرلیا 
      یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہےجب انکے ابو اور چاچو 12 سال کی عمر میں پیشاب سے کھیلتے اور مسجدسے جوتیاں چراتے تھے جب انکے بابے 12 سال کی عمر میں کھڑے ہوکر ایک دوسرے کے سر پر پیشاب کر رہے تھے اس وقت ان ملعون خارش زدہ خارجیوں کو لگتا ہے کہ 5 سالہ بچہ شہوت پرست تھا
       
      امت مسلمہ کے مخالف نجدیوں کو اعتراض ہی کرنا ہے تو کوئی ڈھنگ کا کریں یہ بھی کوئی اعتراض ہے 
      اعتراض ایسے ہوتا ہے 
      یہ نجدی کہتے ہیں کہ ماں سے زنا عقلا جائز ہے 
      جب اہلسنت اعتراض کرتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب پورا ماں کے اندر تھا تو کوئی بات نہیں اب تھوڑا سا اندر جاتا ہوں تو اعتراض کیسا؟؟؟؟؟ 
      استغفراللہ 
      یہ تو حالت ہے انکی 
      اعتراض کرنا ہے تو ایسے کرو 
      ایک نجدی کہتا ہے کہ میں اپنی ماں بہن بیٹی بہو سے ہر جگہ کی مالش کرواسکتا ہوں یہاں تک کہ نفس پر بھی مالش کرواسکتا ہوں
      ( اور بہت مزا بھی آتا ہے )
       نجدی دھرم کے منوں 
      ایسے ہوتا ہے اعتراض 
      یہ کیا اعتراض ہوا
      ایک کمسن بچے نے آپکے ماؤں سے نفرت کا اظہار کردیا تو تم ابھی تک اپنی ماؤں کے دکھ میں ابھی تک ماتم کرتے چلے آرہے ہو 
      😉😉😉😉😉😉😉😉😉😉😉😉
       افسوس ہے ان ملعونوں پر جب انھیں ہمارے عقائد پر اعتراض نہیں ملتا تو یہ کردار کشی کرکے اپنے دھرم کے جاھلوں کو بیوقوف بناتے ہیں اور انکے جاھل نجدی واہ واہ کر کے باآسانی جاھل بن بھی جاتے ہیں 
      اللہ پاک ایسے گمراہ اور جاھل فتنہ پرستوں سے ہماری نسلوں کو محفوظ رکھے
       

×
×
  • Create New...