Jump to content
IslamiMehfil

Social Media par ek viral video ka radd matloob hai


Recommended Posts

 

 

رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ مبارک  میں اہل اسلام کو اہلسنت کہا جاتا تھا روافض اور خوارج کا منہ بند کر دینے والی دلیل 

 

 

 

Edited by محمد حسن عطاری
To add link
Link to post
Share on other sites

ایسے صلح کلیت گمراہ کن لوگ آتے رہتے ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ یہ فنکار بدمذہبوں کے کفریہ عقائد سے واقف ہوگا 

بس جوش میں آکر فتنہ پھیلاتے ہیں مزید اہلسنت کہلوانے کے دلائل پیش کروں گا 

Link to post
Share on other sites

 

سیدنا ابن عباس نے جنتی جماعت کے متعلق فرمایا کہ وہ اہل السنۃ والجماعۃ ہیں اور اس پر کسی صحابی نے اعتراض نہ کیا...ظاہر ہے اس وقت صحابہ کرام تابعین عظام اہل السنۃ والجماعۃ کہلواتے تھے تبھی تو انہی جنتی کہا گیا

دلیل

عباس رضي الله عنهما في قوله تعالى: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ [آل عمران: 106]؛ "فأما الذين ابيضت وجوههم: فأهل السنة والجماعة وأولوا العلم، وأما الذين اسودت وجوههم: فأهل البدع والضلالة

سیدنا

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز اہل السنۃ والجماعۃ کے چہرے چمکتے ہونگے(کہ یہی فرقہ برحق و جنتی صحابہ تابعین وغیرہ اہل حق کا فرقہ ہے)اور بدعتیوں کے چہرے کالے ہونگے

(تفسير القرطبي4/167)

(الشريعة للآجري روایت2074)

تفسير ابن كثير ط العلمية2/79)

(تفسير ابن أبي حاتم، الأصيل3/729)

(الدر المنثور في التفسير بالمأثور2/291)

(تاريخ جرجان ص132)

(العرش للذهبي1/27)

(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة اللالكائي1/79)

.

والأساس الذي تبنى عليه الجماعة، وهم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ورحمهم الله أجمعين، وهم أهل السنة والجماعة،

جماعت و کثرت سے مراد صحابہ کرام کی اکثریت ہے کہ وہی صحابہ کرام اہل السنۃ والجماعۃ تھے

(كتاب شرح السنة للبربهاري ص35)

.

سموا أنفسهم معتزلة...أهل السّنة وَالْجَمَاعَة يَقُولُونَ إِن الله وَاحِد قديم

انہوں نے اپنا نام معتزلہ رکھا ان کے مقابلے میں(صحابہ تابعین)اہل السنۃ والجماعۃ کہلائےجو کہتے تھے کہ اللہ واحد ہے ہمیشہ سے ہے

(التنبيه والرد على أهل الأهواء والبدع ص36)

.

وقال عكرمة...{إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ}: أهل السنة والجماعة

سیدنا عکرمہ فرماتے ہیں جس پر اللہ رحم کرے سے مراد اہل السنۃ و الجماعۃ ہیں

(التفسير البسيط للواحدى11/588)

(الاعتصام 1/92نحوہ)

.

وَكَذَلِكَ الْخَلِيفَةُ الرَّابِعُ وَهُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ سَيْفُهُ فِي الْخَوَارِجِ سَيْفَ حَقٍّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ , فَأَعَزَّ اللَّهُ الْكَرِيمُ دِينَهُ بِخِلَافَتِهِمْ , وَأَذَلُّوا الْأَعْدَاءَ , وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ , وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ , وَسَنُّوا لِلْمُسْلِمِينَ السُّنَنَ الشَّرِيفَةَ , وَكَانُوا بَرَكَةً عَلَى جَمِيعِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ

یعنی

چوتھے خلیفہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جنہوں سے خوارج سے جہاد کیا، خوارج سے جہاد قیامت تک جاری رہے گا،خوارج وغیرہ ناحق و باطل کے مقابلے میں صحابہ کرام تابعین عظام اہل السنۃ و الجماعۃ تھے

(الشريعة للآجري تحت روایت1176)

.

ما وقعت في الأُمة بذور البدع في الِإرجاء، والقدر، والتشيع

فتميزت جماعة المسلمين باسم:أَهل السنة،وأَهل السنة والجماعة

جب

مرجئہ قدریہ شیعہ خوارج وغیرہ باطل فرقے ظاہر ہوے تو مسلمانوں(صحابہ کرام تابعین عظام وغیرہ)نے اپنا نام اہل السنۃ و الجماعۃ رکھ لیا اور اسی سے امتیازیت حاصل کی

(عقيدة السلف -مقدمة أبي زيد القيرواني ص21)

.

مذکورہ حوالہ جات سے باخوبی و روز روشن کی طرح ظاہر و ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرام تابعین عظام وغیرہ اہل السنۃ و الجماعۃ بھی کہلواتے تھے...مسلمان، مسلم،اہل السنۃ و الجماعۃ کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام بدری کہلائے ، انصار کہلائے ، مہاجر کہلائے... اس کے بعد اسلاف اشعری ماتریدی کہلائے حنفی شافعی مالکی حنبلی کہلائے

تو

برحق مقتدا وغیرہ کی نسبت سے اور برکت و پہچان وغیرہ کی نسبت سے ظنیات و فروعی اختلاف میں برداشت و وسعت قلبی کے ساتھ قادری سہرودری نقشبندی عطاری شازلی لبیکی چشتی وغیرہ کہلوانا بھی جائز و درست ہے

=======================

کثرت و جمھور سے مراد یہ نہین کہ جس علاقے ملک میں جس فرقے کی کثرت ہو اس کے ساتھ ہو لیجیے....ہرگز نہیں، علماء نے دوٹوک لکھا ہے کہ کثرت و جمھور سواد اعظم سے مراد صحابہ کرام ہیں

ان کے بعد اہل حق کثرت سے ہون یا قلت سے ہر حال میں اہل حق اہلسنت کی ہی پیروی کرنی ہوگی…صحابہ کرام کے بعد کسی بدعتی گمراہ فرقے کی کثرت ہوجاءے تو یہ ان کے برحق و معتبر مقتدا ہونے کی نشانی نہیں انکی پیروی ہرگز نہ کی جائے گی…آج کے دور میں کثرت وہ ہے جو سنت نبوی و صحابہ کرام کے پیروکار ہوں چاہے قلت ہی میں کیوں نہ ہوں حتی کہ ایک بھی ہو تو وہ کثرت ہے کیونکہ اصل معتبر مقتدا کثرت وہ ہے جو صحابہ کرام تھے

قال ابو شامہ و ابن القيم: لأن الحق هو الذي كانت عليه الجماعة الأولى من عهد النبي - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه، ولا نظر إلى كثرة أهل البدع بعدهم

یعنی

ابوشامہ اور ابن قیم وغیرہ علماء نے فرمایا کہ کثرت سواد اعظم سے مراد صحابہ کرام ہیں وہی حق ہیں، ان کے بعد جو بدعتی فرقے ہیں انکی کثرت معتبر نہیں(صحابہ کرام کے بعد بدعتی کثرت میں ہوتو بھی انکی پیروی نہ کی جاءے گی انہیں اہل حق نہیں کہا جائے گا)

(غربة الإسلام1/385)

(شرح الطحاوية لابن ابی العز2/362)

(الدرر السنية في الأجوبة النجدية12/108)

لَوْ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ فِي الدُّنْيَا إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، وَالْجَمَاعَةِ لَكَانَ أَكْثَرَ

دنیا میں ایک بھی فرد اہل السنۃ والجماعۃ سے ہو تو وہی کثرت ہے

(طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها2/349)

.=====================

مزید چند حوالہ جات جس میں اسلاف نے خود کو اہل السنۃ والجماعۃ کہا، اہل السنۃ و الجماعۃ کو برحق کہا

①امام اشعری نے فرمایا

وقال قائلون: وهم أهل السنة والجماعة: هو في العشرة وهم في الجنة لا محالة.

أهل السنة والجماعة کہتے ہیں کہ عشرہ مبشرہ قطعی جنتی ہیں...

مقالات الإسلاميين ت زرزور2/352

 

ٍ②امام ترمذی کا فرمان

وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالجَمَاعَةِ

اسی طرح کا قول ہےأهل السنة والجماعة کا

(سنن الترمذي ت بشار2/44)

امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں

③وَهُوَ قَول اهل السّنة وَالْجَمَاعَة

أبو حنيفة النعمان ,الفقه الأكبر ,ص 159

 

④امام شیبانی فرماتے ہیں

ثمَّ الْمَذْهَب عِنْد جُمْهُور الْفُقَهَاء رَحِمهم الله من أهل السّنة وَالْجَمَاعَة أَن الْكسْب بِقدر مَالا بُد مِنْهُ فَرِيضَة

جمھور و اکثر فقہاء أهل السنة والجماعة کا مذہب ہے کہ بقدر ضرورت کمانا فرض ہے

(كتاب الكسب لمحمد بن الحسن الشیبانی ص44)

⑤(اعلم أن الناجي من هذه الأمة أهل السنة والجماعة وذلك بفتوى النبي صلّى الله عليه وسلم لما سئل من الناجي قال ما أنا عليه وأصحابي

جان لو کہ

نجات والا فرقہ و جماعت أهل السنة والجماعة ہی ہے کہ نبی پاک نے فرمایا کہ نجات و جنت والا وہ ہے جو میرا اور میرے صحابہ کا پیروکار ہو

(مفيد العلوم ومبيد الهموم ص66)

⑥وَقَالَتْ طَائِفَةٌ ثَالِثَةٌ وَهُمُ الْجُمْهُورُ الْأَعْظَمُ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ

جمھور اعظم أهل السنة والجماعة ہیں

(تعظيم قدر الصلاة لمحمد بن نصر المروزي2/529)

.

⑦وَأَدْرَكْنَا عَلَيْهِ أَهْلَ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ

انہی عقائد برحقہ پر أهل السنة والجماعة کو ہم نے پایا

(صريح السنة للطبري ص20)

⑧اعلموا رحمنا الله وإياكم أن مذهب أهل الحديث أهل السنة والجماعة الإقرار بالله وملائكته وكتبه ورسله

جان لو کہ

أهل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے کہ اللہ ملائکہ کتب سماوی اور رسولوں پر ایمان لانے کا اقرار کیا جائے

(اعتقاد أئمة الحديث ص49)

 

⑨ولكنه شيء لقيت فيه العلماء بمكة والمدينة والبصرة والشام فرأيتهم على السنة والجماعة

یعنی

مکہ مدینہ بصرہ شام وغیرہ ممالک و علاقوں میں أهل السنة والجماعة سے یہی پایا ہے

(الجامع لعلوم الإمام أحمد3/595ملتقطا)

10:وَهَذَا المَذْهَبُ هو الصحيح، وَهُوَ قَوْلُ أهْلِ السنة وَالجَمَاعَةِ

یہی مذہب صحیح ہے جو أهل السنة والجماعة کا ہے

(شأن الدعاء1/8)

.=======================

:وَيَعْصِمَنَا مِنَ الْأَهْوَاءِ الْمُخْتَلِفَةِ وَالْآرَاءِ الْمُتَفَرِّقَةِ وَالْمَذَاهِبِ الرَّدِيَّةِ مِثْلِ الْمُشَبِّهَةِ وَالْمُعْتَزِلَةِ وَالْجَهْمِيَّةِ وَالْجَبْرِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ وَغَيْرِهِمْ (1) مِنَ الَّذِينَ خَالَفُوا السنة والجماعة

یعنی

اللہ کریم ہمیں مشبہ معتزلہ جھمیہ جبریہ قدریہ وغیرہ ردی فرقوں سے بچائے أهل السنة والجماعة کے ساتھ رکھے

(متن الطحاوية ص87)

 

مَعَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ فَارْجُهُ

جو

أهل السنة والجماعة کے ساتھ ہو اس کے جنتی ہونے کی امید رکھ

(الإبانة الكبرى لابن بطة1/205)

 

ألا تُصلِّ إلا خلفَ مَن تَثقُ به وتعلمُ أنَّه مِن أهلِ السُّنةِ والجماعةِ

خبردار

أهل السنة والجماعة کے ہی پیچھے نماز پڑھنا

(المخلصيات4/82)

اہلسنت اہل حق پہچانیے انکا ساتھ دیجیے انکی پیروی کیجیے انہی کے ساتھ کھائیے پیءے دوستی رکھیے انہی کے پیچھے نماز پڑہیے.....باقیون سے دور، بہت دور رہیے

سمجھانے کے ساتھ ساتھ مجرموں گستاخوں بدمذہبوں سے سلام دعا کلام ، کھانا پانی ، میل جول ، شادی بیاہ نماز وغیرہ میں شرکت نہ کرنے، بائیکاٹ کرنے کے دلائل کچھ اوپر گذرے کچھ یہ ہیں

الحدیث

[ ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ]

’’گمراہوں،گستاخوں، بدمذہبوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو(سمجھانے کے ساتھ ساتھ قطع تعلق و بائیکاٹ کرو) کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں  صحیح مسلم1/12

ایک امام نےقبلہ کی طرف تھوکا،رسول کریمﷺنےفرمایا

لایصلی لکم

ترجمہ

وہ تمھیں نماز نہیں پڑھا سکتا

ابوداؤد حدیث481، صحیح ابن حبان حدیث1636,

مسند احمد حدیث16610 شیعہ کتاب احقاق الحق ص381

اتنی سی توہین پر یہ حکم تو لعن طعن تبرا گستاخی کرنے والے نام نہاد علماء و فرقوں کے پیچھے بھلا کیسے نماز پڑھی جاسکتی ہے....ایسوں گستاخوں سے دور رہیے بدعت خرافات سے بھی بچیے

صدر الشریعہ خلیفہ اعلی حضرت سیدی مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں

اس وقت جو کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے مُقاطَعہ(بائیکاٹ) کیاجائے اور ان سے میل جول نشست وبرخاست وغیرہ ترک کریں

بہار شریعت جلد1 حصہ9 ص60

چند اوراق بعد لکھتے ہیں

سب سے بہتر ترکیب وہ ہے جو ایسے وقت کے لیے قرآن وحدیث میں ارشاد ہوئی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تمام قصوں سے نجات پائیں دنیا وآخرت کی بھلائی ہاتھ آئے۔ وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے بالکل میل جول چھوڑ دیں، سلام کلام ترک کر دیں، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا، غرض ہر قسم کے تعلقات ان سے قطع کر دیں..(بہار شریعت جلد1 حصہ9 ص84)

الحدیث:

فَلَا تُجَالِسُوهُمْ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُمْ، وَلَا تُشَارِبُوهُمْ، وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ

ترجمہ:

بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ میل جول نہ رکھو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے معیت میں(انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو

[السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/483حدیث769]

.

الحدیث:

فلا تناكحوهم ولا تؤاكلوهم ولا تشاربوهم ولا تصلوا معهم ولا تصلوا عليهم

ترجمہ:

بدمذہبوں گستاخوں کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے ساتھ کھانا پینا نہ رکھو، ان کے معیت میں (انکے ساتھ یا ان کے پیچھے) نماز نہ پڑھو(الگ پرھو)اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھو

[جامع الأحاديث ,7/431حدیث6621]

.

سمجھانے کےساتھ ساتھ جب مسلمانی کے دعوےدار بدمذہب و گستاخ سے بائیکاٹ کا حکم ہے تو گستاخی کرنے والے غیرمسلم ممالک سے بھی میل جول ، کھانا پانی ،لین دین ، خرید و فروخت ، انکی مصنوعات وغیرہ کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہےبلکہ بائیکاٹ کرنا چاہیے

====================

آج ہر کوئی دعوی کرتا ہے کہ وہ اہل حق ہے اہلسنت ہے تو ایسے میں ہر ایک کو حق کہنا منافقت ہے....اہل حق اہلسنت کی پیچان کیجیے

درحقیقت محض اہلسنت یا شیعہ یا اہل حدیث یا دیوبندی یا وہابی سلفی وغیرہ کوئی بھی گروپی نام کہلوانے سے کوئی جنتی و حق نہیں بن جاتا…حق و نجات کا اصل دار و مدار ایمان و اسلام ، قرآن و سنت و آثار پے عمل کرنا ہے،نجات والے فرقے کے متعلق صحابہ کرام نے پوچھا تو آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا

ما انا علیہ و اصحابی

یعنی نجات و حق والا جنتی فرقہ وہ ہے جو میرا اور میرے صحابہ کا پیروکار ہو

(سنن الترمذي ت شاكر ,5/26 حديث2641)

(نحوہ فی المستدرك للحاکم,1/218حدیث444)

(نحوہ فی الشريعة للآجري ,1/307حدیث23)

(المعجم الكبير للطبراني ,14/52حدیث14646)

)نحوہ فی الترغيب والترهيب ,1/529)

یہی وجہ ہے کہ ہم اہلسنت کو ناجی برحق فرقہ کہتے ہیں تو اسکی وجہ صرف نام نہیں بلکہ عقائد اعمال وغیرہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم و اہلبیت و صحابہ کرام علیھم الرضوان کے متبع ہونا وجہ قرار دیتے ہیں ورنہ کچھ نام نہاد اہلسنت کہلاتے ہیں اور راہ سنت و راہ صحابہ سے ہٹے ہوتے ہیں اس کی ہم مذمت کرتے ہیں، اسے اہلسنت سے خارج قرار دیتے ہین ، جعلی مردود کہتے ہیں، اصلاح کی کوشش بھی جاری رکھتے ہیں

.

Link to post
Share on other sites
1 hour ago, عبدالله قادرى said:

جزاك الله خيرا

الحمد لله اتنا جواب کافی ہے

لیکن اگر ہو سکے تو اس موضوع پر کچھ ہو تو فراہم فرمایے کہ"کون کون سے حدیث کے امام    کس امام کی تقلید کرتے تھے

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے مقلد تھے

1. الإمام تاج الدين السبكي المتوفی:٧٧١-هجري (رحمہ الله) نے ابو عبد الله (امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ) کا تذکرہ اپنی کتاب "طبقات الشافعیہ" میں کیا ہے

 آپ فرماتے ہیں کہ انہوں (امام بخاری رح) نے سماع_(حدیث) کیا ہے زعفرانی، ابو-ثور اور کرابیسی سے، (امام سبکی کہتے ہیں کہ) میں کہتا ہوں کہ انہوں (امام بخاری) نے امام حمیدی سے فقہ حاصل کی تھی اور یہ سب حضرات امام شافعی کے اصحاب میں سے ہیں.[طبقات الشافعية الكبرى:٢/٢١٤]

2. حافظ ابن حجر عسقلانی (۸۵۲ھ) بھی آپ کو امام شافعی کے قریب لکھتے ہیں (فتح الباری:۱/۱۲۳)

3) شاہ ولی الله محدث دہلوی المتوفي: (رحمہ الله) کی ١١٧٤هجري كي [الإنصاف مع ترجمہ وصاف: ٦٧]

4) (اہلحدیث) کے مجدد_وقت، مجتہد العصر اور شیخ الکل نواب صدیق حسن خان  نے بھی یہی کہا ہے. دیکھئے :

ابجد العلوم: ٣/١٢٦، طبع مکتبہ قدوسیہ لاہور, مولفہ: اہلحدیث نواب صدیق حسن خاں

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...