Jump to content
IslamiMehfil

کوئی ایسا گھر نہیں جس کے دروازے پر ملک الموت ( عزرائیل) علیہ السلام دن میں پانچ مرتبہ نہ آتا ہو


Recommended Posts

★ تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال ★

 

کــــوئــــی ایـســا گـھـر نـہـیـں جـس کـــے دروازے پـــر مـلــک المــوت عــلیـــہ الســــلام دن میـــــں پـانـچ مـــرتــبـــہ نــــہ آتـــا ہــــو 

اَلصَّـــلٰوةُ وَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَارَسُـــوْلَ اللّہ وَعَلیٰ اَلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَاحَبِیْبَ اللّٰہﷺ 

بِسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْــــــمٰنِ الرَّحــــــِیـــــم 

 آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے ہر بندہ انٹرنیٹ سے مواد اٹھا کر شیئر کرتا ہے بس لوگوں کو نئے نئے واقعات ملنے چاہئیں وہ ان واقعات کی تحقیق بھی نہیں کرتے اور اس کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے لئے جہنم بنا رہے ہیں 

اسی طرح ایک یہ روایت بھی ہم تک تحقیق کرنے کے لئے پہنچی کہ نبی ﷺ کی طرف منسوب ہے 

کوئی ایسا گھر نہیں جس کے دروازے پر موت کا فرشتہ دن میں پانچ مرتبہ نہ آتا ہو جب وہ دیکھتا ہے کہ کسی انسان کا رزق پورا ہوگیا تو اس پر موت کا غم ڈال دیتا ہے اور اس پر موت کی وحشت چھا جاتی ہے اور لرزہ طاری ہو جاتا ہے اس کے گھر والے اس کے ماتم میں اپنے بال کھول دیتے ہیں اپنے چہرے پیٹ کر سرخ کر دیتے ہیں اس مصیبت پر چیخ و پکار کر رہے ہوتے ہیں فرشتہ مرگ کہتا ہے ہلاکت ہو تم پر کیسا خوف اور کیسا غم میں نے تم میں سے کسی کا رزق تو کم نہیں کیا اور نہ ہی کسی کی موت قریب کی میں تو اسی وقت کسی کے پاس آتا ہوں جب اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے حضور کی طرف منسوب ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر یہ اسے کھڑا دیکھ لیں اور اس کی باتیں سن لیں تو اپنے مردے کو بھول جائیں اور خود رونے لگیں الخ 

یہ وہ روایت ہے جو بڑا مرچ مصالحے کے ساتھ واٹس اپ گروپس میں بھی شیئر کی جاتی ہے اور انٹرنیٹ کی ویب سائٹس پر بھی موجود ہے آئیے اس کی تحقیق کرتے ہیں 

❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ 

روایــت کـــی تحـقیــق درج ذیـــل ہـــے 

اس جھوٹے قصے کو گھڑنے والا شخص ابن وَدْعَان (المتوفى: 494هـ) ہے جس کا پورا نام محمد بن علي الودعاني ہے یہ خود تو متہم بالکذب ہے مگر اس نے چالیس روایات پر مشتمل ایک نسخہ گڑھا جس کی تصریح امام الائمہ و المسلمین امام ابن حجرعسقلانیؒ نے اور امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبیؒ نے کی پہلے اس کے نسخے کی روایت ملاحظہ ہو جو اس نے اپنی سند سے نکل کی 

حدثنا الحسن بن محمد بن جعفر الصوفي البغدادي رحمه الله قال: حدثنا القاضي أبو جعفر أحمد بن عبد الله قال:حدثنا أبي قال: حدثنا عبد الله بن مسلم بن قتيبة قال: حدثنا يحيى بن أيوب قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من بيت إلا وملك الموت يقف على بابه في اليوم خمس مرات فإذا وجد الإنسان قد نفد أكله وانقطع أجله ألقى عليه الموت فغشيه كرباته وعمرته علزاته فمن أهل بيته الناشرة شعرها والضاربة وجهها والباكية لشجوها والصارخة قولها، فيقول ملك الموت عليه السلام ويلكم مم الفزع ومم الجزع فما أذهبت لواحد منكم رزقا ولا قربت له أجلا ولا أتيته حتى أمرت ولا قبضت روحه حتى إستأذنت وإن لي فيكم عودة ثم عودة حتى لا يبقى منكم أحدا قال النبي صلى الله عليه وسلم فوالذي نفس محمد بيده لو يرون مكانه ويسمعون كلامه لذهلوا عن ميتهم ولبكوا على أنفسهم حتى إذا أحمل الميت على نعشه رفرفت روحه فوق النعش وهو يناجي أهله ويا ولدي لا تلعبن بكم الدنيا كما لعبت بي، جمعت المال من حله ومن غير حله ثم خلفته لغيري،فالهناة له والتبعة على فا حذروا مثل ما حل بي 

  كتاب الأربعون الودعانية لابن ودعان ص41📓

❖◉➻════════════════➻◉❖ 

اس شخص اور اس کے اس گڑھے ہوئے نسخے کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کیا فرماتے ہیں 

امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبیؒ اپنی مشہور اسماء الرجال کی کتاب میزان الاعتدال میں اس کے ترجمے میں فرماتے ہیں 

 محمد بن علي بن ودعان القاضي، أبو نصر الموصلي، صاحب تلك الأربعين الودعانية الموضوعة ذمه أبو طاهر السلفي، وأدركه، وسمع منه، وقال: هالك متهم بالكذب

ترجمہ: یہ چالیس ودعانی روایات کو ایجاد کرنے والا شخص ہے جو موضوع ہیں ابو طاہر سلفی نے اس کی مذمت کی انہوں نے اس کا زمانہ پایا اور اس سے سماع کیا اور یہ کہا کہ یہ ہلاکت کا شکار ہونے والا شخص اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد ہے 

كتاب ميزان الاعتدال 3/658📒

 

امام الائمہ المسلمین الشیخ اکبر امام ابن حجر عسقلانیؒ اپنی مشہور اسماء الرجال کی کتاب لسان المیزان میں اس کے ترجمے میں یہی کلام نقل کیا 

محمد بن علي بن ودعان القاضي أبو نصر الموصلي صاحب تلك الأربعين الودعانية الموضوعة ذمه أبو طاهر السلفي وادركه وسمع منه وقال هالك متهم بالكذب وقال ابن ناصر رأيته ولم أسمع منه لأنه كان متهما بالكذب

ترجمہ: یہ چالیس ودعانی روایات کو ایجاد کرنے والا شخص ہے جو موضوع ہیں ابو طاہر سلفی نے اس کی مذمت کی انہوں نے اس کا زمانہ پایا اور اس سے سماع کیا اور یہ کہا کہ یہ ہلاکت کا شکار ہونے والا شخص اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد ہے مزید فرماتے ہیں ابن نصر کہتے ہیں میں نے اسے دیکھا مگر میں نے اس سے سماع نہیں کیا کیونکہ اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے 

كتاب لسان الميزان 5/305📙

 

علامہ شمس الدين ابن الغزيؒ نے اپنی كتاب ديوان الإسلام میں فرمایا 

ابن ودعان: محمد بن علي بن أحمد فخر القضاء أبو نصر الموصلي المتهم بالكذب 

كتاب ديوان الإسلام 4/385📕

 

امام ابن کثیرؒ بھی البدایہ والنہایہ میں اس کے ترجمہ میں اس نسخے کے بارے میں کہتے ہیں 

وهي موضوعة كلها وإن كان في بعضها معان صحيحة 

ترجمہ: اس نسخے میں تمام روایات من گھڑت ہیں اگرچہ ان میں سے بعض کے معنی درست ہیں 

كتاب البداية والنهاية ط هجر 16/179📔

◉➻═════════════➻◉ 

ان تمام ائمہ کرامؒ کی تصریحات سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ اس گھڑے ہوئے نسخے میں جو چالیس روایات ہیں وہ موضوع ہیں اور خود اس نسخہ کو اپنی سند سے نکل کرنے والا جو شخص ہے اس کو بھی محدثین نے متہم بالکذب کہا مگر اب جب یہ ثابت ہوگیا کہ یہ نسخہ اس نے گھڑا ہے تو یہ راوی کذاب اور واضع الحدیث ثابت ہوگیا ہے 

جہاں تک بات رہی مذکورہ روایت کی تو اس کی کوئی متابعت مجھے نہیں ملی اور اس کی سند کو نقل کرنے والا وہی شخص ہے جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا ہے اور وہ اس نسخے میں اس کو نقل کر رہا ہے جس نسخے کے لئے ائمہ کرام کا کلام ہے کہ وہ گھڑا ہوا ہے

لہذا ائمہ کرام کے کلام اور تصریحات سے یہ نتیجہ نکلا کہ یہ روایت موضوع ہے اس کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا حرام ہے 

فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب 

 

🏻 شــــــــــــــــــــــرف  قلــــــــــــــــــم 

خادم اہلسنت وجماعت محمد عاقب حسین رضوی

 

 

 

 

 

 

20210927_165909.png

20210927_165934.png

20210927_165923.png

20210927_165838.png

20210927_165900.png

20210927_165850.png

  • Like 1
Link to post
Share on other sites
  • 2 weeks later...

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Sunni Haideri
      آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
      یا اللہ عزوجل      یامحمد صلو علیہ وآلہ
      خاتم الانبیاء، خاتم الرسل، خاتم النبی،خاتم المرسلین.
      الصلوۃ والسلام علیک یاسیدی یا خاتم الانبیاءؐ.
      و علی آلک و اصحبک یا سیدی یا خاتم النبیینؐ.
      ✍️المختصر تحریر قرآن و صحیح حدیث کی روشنی میں
      💐صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم💐
      القرآن العظیم الکریم المجید میں خالق کائنات نے واضح طور حکم صادر فرما دیا :
      📖 1 : مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍعَلِیۡمًا
      ﴿۴۰﴾سورۃ الاحزاب 
      ترجمہ: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں   اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
      ✍️میں (محمد عمران علی حیدری)کہتا ہوں مفسرین نے اس آیت کی جتنی بھی تفاسیر کی ہیں ان تمام کا خلاصہ و مفہوم یہ تفسیر خزائن العرفان ہے اور اسی طرح ہی تراجم میں کنزالایمان ہے۔
          
      تفسیر خزائن العرفان
      یعنی آخر الانبیاء کہ نبوت آپ پر ختم ہو گئی آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتی کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پا چکے ہیں مگر نزول کے بعد شریعت محمدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے ، حضور کا  آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے ، نص قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیث تو حد تواتر تک پہنچتی ہیں ۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں جو حضور کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے ، وہ ختم نبوت کا منکر اور کافر خارج از اسلام ہے.
      📖 2 :حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُ بِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ ؕ اَلۡيَوۡمَ يَئِسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ دِيۡـنِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ‌ ؕ اَ لۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ‌ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ.
      سورۃالمائدة  آیت3
      ترجمہ:
      حرام کیا گیا تم پر مردہ جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا اور وہ جانور جو گلا کٹنے سے مرجائے اور وہ جانور جو کسی ضرب سے مرجائے اور وہ جانور جو اوپر سے گر کر مرجائے اور وہ جانور جو کسی سے ٹکرا کر مرجائے اور وہ جانور جسے کسی درندے نے کھالیا مگر وہ جسے تم ذبح کرلو اور حرام کیا گیا وہ جانور جو ذبح کیا گیا پرستش گاہوں پر، اور یہ بھی حرام کیا گیا کہ تقسیم کرو تیروں کے ذریعہ یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے سو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے پورا کردیا تمہارا دین اور میں نے تم اپنی نعمت پوری کردی، اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر اختیار کرنے کے لئے پسند کیا، سو جو کوئی شخص مجبور ہوجائے سخت بھوک میں جو گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو سو یقیناً اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے۔.
      ✍️جب دین مکمل ہوگیا ہے تو کسی اور دین کی اب قیامت تک ضرورت نہیں سواۓ اسلام کے۔
      ✍️اب اسلام کے علاوہ کوئی اور دین پیش کیا جاۓ تو اسے قبول نہیں کریں مگر ان پڑھ کم علم۔ کیونکہ قرآن کی آیات سے آخری اور دین مکمل ہونا ثابت ہو چکا ہے۔
      ✍️قرآن اور صحیح حدیث سے قادیانیت کو چیلنج ہے قیامت کسی اور نبی آنا ثابت نہیں کر سکیں گے ۔ ظلی بروزی ہر طرح سے یہ قادیانیت تاویلات ہیں اس ے علاوہ کچھ اور اپنی کتاب و احکام بھی بیان کرے قیامت تک ثابت نہیں کر سکیں گے۔💪۔
      ✍️بس قادیانیت کی ایک جہالت یہ ہے کہ یہ ادھر ادھر کی فضول باتوں میں وقت برباد کرتے ہیں۔
      ✍️کسی طرح کی نبوت باقی  نہی سب ختم سیدی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد باقی اگر کوئی جاہل کٹا ظلی بروزی نبوت کا قائل ہے تو بھی وہ غلطی پر ہے۔ اس باطل تاویلی عقیدہ کو بھی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں کر سکتے چیلنج ہے۔نبوت میں اگر کچھ بچا ہے تو وہ نبوت کے چھیالیسواں حصہ ہے اور وہ صرف اچھے خواب ہیں بس۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں وہ معارفت کی راہ ہے۔جو کہ صحابہ و اولیاء کو اکثر آتے ہیں۔
      ✍️القرآن ٫٫کہے دیجیے لاو دلیل اگر سچے ہو تو۔
      💪💪صحیح احادیث💪💪
      📚 1 :وَعَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی مِنْبَرِ الْبَصْرَۃِ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ اِلَّا لَہُ دَعْوَۃٌ قَدْ تَنَجَّزَھَا فِی الدُّنْیَا وَاِنِّیْ قَدِ اخْتَبَاْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْ وَاَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، وَبِیَدِیْ لِوَائُ الْحَمْدِ وَلَافَخْرَ، آدَمُ فَمَنْ دُوْنَہُ تَحْتَ لِوَائِیْ وَلَافَخْرَ وَیَطُوْلُیَوْمُ الْقِیَامَۃِ عَلٰی النَّاسِ فَیَقُوْلُ بَعْضُہْمُ لِبَعْضٍ: اِنْطَلِقُوْا بِنَا اِلٰی آدَمَ اَبِیْ الْبَشَرِ فَلْیَشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا عَزَّوَجَلَّ فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَاْتُوْنَ آدَمَ  علیہ السلام  فَیَقُوْلُوْنَ: یَا آدَمُ! اَنْتَ الَّذِیْ خَلَقَکَ اللّٰہُ بِیَدِہٖ وَاَسْکَنَکَ جَنَّتَہُ وَاَسْجَدَ لَکَ مَلَائِکَتَہُ اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَقُوْلُ: اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ، اِنِّی قَدْ اُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّۃِ بِخَطِیْئَتِیْ وَاِنَّہُ لَایُہِمُّنِیْ الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ وَلٰکِنِ ائْتُوْا نُوْحًا رَاْسَ النَّبِیِّیْنَ، فَیَأْتُوْنَ نُوْحًا فَیَقُوْلُوْنَ: یَانُوْحُ! اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا فَیَقُوْلُ: اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ اِنِّی دَعَوْتُ بِدَعْوَۃٍ اَغْرَقَتْ اَھْلَ الْاَرْضِ وَاِنَّہ لَایُہِمُّنِیْ الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ وَلٰکِنِ ائْتُوْا اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلَ اللّٰہِ فَیَاْتُوْنَ اِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام  فَیَقُوْلُوْنَ: یَا اِبْرَاہِیْمُ! اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّنَا فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَقُوْلُ: اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ اِنِّیْ کَذَبْتُ فِی الْاِسْلَامِ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ، وَاللّٰہِ اِنْ حَاوَلَ بِہِنَّ اِلَّا عَنْ دِیْنِ اللّٰہِ، قَوْلُہُ {اِنِّیْ سَقِیْمٌ}،وَقَوْلُہُ {بَلْ فَعَلَہُ کَبِیْرُھُمْ ہٰذَا فَاسْاَلُوْھُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ}، وَقَوْلُہُ لِاِمْرَأَتِہِ حِیْنَ اَتٰی عَلٰی الْمَلِکِ اُخْتِیْ، وَاِنَّہُ لَایُہِمُّنِیْ الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ وَلٰکِنِ ائْتُوْا مُوْسٰی علیہ السلام  الَّذِیْ اِصْطَفَاہُ اللّٰہُ بِرِسَالَتِہٖوَبِکَلَامِہٖ، فَیَاْتُوْنَہُ فَیَقُوْلُوْنَ: یَامُوْسٰی اَنْتَ الَّذِیْ اِصْطَفَاکَ اللّٰہُ بِرِسَالَتِہِ وَکَلَّمَکَ فَاشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ فَیَقُوْلُ: لَسْتُ ھُنَاکُمْ، اِنِّیْ قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ وَاِنَّہُ لَایُہِمُّنِیْ اِلَّا نَفْسِیْ وَلٰکِنِ ائْتُوْا عِیْسٰی رُوْحَ اللّٰہِ وَکَلِمَتَہُ، فَیَاْتُوْنَ عِیْسٰی فَیَقُوْلُوْنَ: یَا عِیْسٰی! اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ، فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا فَیَقُوْلُ: اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ اِنِّی اتُّخِذْتُ اِلٰہًا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَاِنَّہُ لَایُہِمُّنِی الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ وَلٰکِنْ اَرَاَیْتُمْ لَوْکَانَ مَتَاعٌ فِیْ وِعَائٍ مَخْتُوْمٍ عَلَیْہِ اَکَانَ یَقْدِرُ عَلٰی مَا فِیْ جَوْفِہِ حَتّٰییَعُضَّ الْخَاتَمَ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: لَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَقَدْ حَضَرَ الْیَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَاَخَّرَ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَیَاْتُوْنِّیْ فَیَقُوْلُوْنَ: یَا مُحَمَّدُ! اِشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَاَقُوْلُ: اَنَا لَھَا حَتّٰییَاْذَنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِمَنْ یَّشَائُ وَیَرْضٰی فَاِذَا أَرَادَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَنْ یَصْدَعَ بَیْنَ خَلْقِہِ نَادٰی مُنَادٍ: أَیْنَ اَحْمَدُ وَاُمَّتُہُ فَنَحْنُ الْآخِرُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ، نَحْنُ آخِرُ الْاُمَمِ اَوَّلُ مَنْ یُّحَاسَبُ فَتُفَرَّجُ لَنَا الْاُمَمُ عَنْ طَرِیْقِنَا فَنَمْضِیْ غُرًّا مُّحَجَّلِیْنَ مِنْ اَثَرِ الطُّہُوْرِ فَتَقُوْلُ الْاُمَمُ: کَادَتْ ہٰذِہِ الْاُمَّۃُ اَنْ تَکُوْنَ اَنْبِیَائَ کُلَّہَا، فَنَاْتِیْ بَابَ الْجَنَّۃِ فَاٰخُذُ بِحَلْقَۃِ الْبَابِ فَاَقْرَعُ الْبَابَ فَیُقَالُ: مَنْ اَنْتَ فَاَقُوْلُ: اَنَا مُحَمَّدٌ، فَیُفْتَحُ لِیْ فَآتِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی کُرْسِیِّہٖ اَوْ سَرِیْرِہِ شَکَّ حَمَّادٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) فَاَخِرُّ لَہُ سَاجِدًا فَاَحْمَدُہُ بِمَحَامِدَ لَمْ یَحْمَدْہُ بِہَا اَحَدٌ کَانَ قَبْلِیْ وَلَیْسَ یَحْمَدُہُ بِہَا اَحَدٌ بَعْدِیْ فَیَقُوْلُ: یَامُحَمَّدُ! اِرْفَعْ رَاْسَکَ وَسَلْ تُعْطَہُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیِْ فَاَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ! اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ، فَیَقُوْلُ:اَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ کَذَا وَکَذَا (لَمْ یَحْفَظْ حَمَّادٌ) ثُمَّ اُعِیْدُ فَاَسْجُدُ فَاَقُوْلُ: مَاقُلْتُ،فَیَقُوْلُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ! اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ، فَیَقُوْلُ: اَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ کَذَا وَکَذَا دُوْنَ الْاَوَّلِ، ثُمَّ اُعِیْدُ فَاَسْجُدُ فَاَقُوْلُ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَیُقَالُ لِیْ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہُ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ فَیَقُوْلُ: اَخْرِجْ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ کَذَا وَکَذَا دُوْنَ ذٰلِکَ۔)) (۱۳۱۰۰)
      (مسند احمد: ۲۵۴۶)
      (ھذا حدیث صحیح)
      ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے،میں قیامت کے دن ساری اولاد ِ *آدم کا سردار ہوں گا،* لیکن اس پر فخر نہیں ہے، سب سے پہلے میری قبر کی زمین پھٹے گی اور میں اس پر فخر نہیں کرتا،حمد کاجھنڈا  میرے ہاتھ میں ہوگا، لیکن مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے، آدم  علیہ السلام  اور ان کے بعد کی تمام انسانیت میرے اس جھنڈے کے نیچے ہوگی اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے۔ قیامت کا دن لوگوں کے لیے انتہائی طویل ہو چکا ہوگا، بالآخر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ابو البشر آدم  علیہ السلام  کی خدمت میں چلیں، وہ ہمارے رب کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں اور اس طرح اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلے کرے، پس لوگ جمع ہو کر حضرت آدم  علیہ السلام  کی خدمت میں جا کر کہیں گے:اے آدم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا اور فرشتوں کو آپ کے سامنے سجدہ ریز کرایا، آپ رب کے ہاں جا کر سفارش تو کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرنا شروع کرے۔ وہ کہیں گے: میں یہ کام نہیں کر سکتا، میری بھول کی وجہ سے مجھے جنت میں نکالا گیا تھا، مجھے تو میری اپنی جان نے بے چین کر رکھا ہے، تم نوح  علیہ السلام  کی خدمت میں چلے جاؤ، وہ نبیوں کی اصل ہیں،چنانچہ وہ سب نوح  علیہ السلام  کی خدمت میں جائیں گے اور کہیں گے: اے نوح! آپ ہمارے رب کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلے کرے، لیکن وہ کہیں گے: میں اس کی جرأت نہیں کر سکتا، میں نے تو اپنی دعا کر لی ہے، جس سے تمام اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو مجھے اپنی جان کی فکر لگی ہوئی ہے، البتہ تم اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کے پاس چلے جاؤ، وہ سب حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کے پاس جا کر کہیں گے: اے ابراہیم! آپ ہمارے لیے ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلے کرے، وہ کہیں گے: میں اس بات کی جرأت نہیں کرسکتا، میں نے اسلام میں تین جھوٹ بولے تھے۔ حالانکہ اللہ کی قسم ہے کہ انہوں نے ان باتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے دین کا دفاع ہی کیا تھا، ایک تو انہوں نے کہا تھا.
       {اِنِّیْ سَقِیْمٌ} (بیشک میں بیمار ہوں۔) (سورۂ صافات: ۸۹) ،دوسرا انہوں نے کہا تھا: {بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا فَسْئَلُوْھُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ الانبیاء 63} 
      (ابراہیم نے) کہا بلکہ اسی نے یہ کام کیا ہے (یعنی ابراہیم نے) ان میں کا بڑا یہ ہے سو ان سے پوچھو لو اگر یہ بول سکتے ہیں ) 
      اور تیسرا یہ کہ جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ بادشاہ کے پا س پہنچے تو کہا کہ یہ تو میری بہن ہے۔ بہرحال ابراہیم علیہ السلام  کہیں گے: آج تو مجھے اپنی پریشانی لگی ہوئی ہے، البتہ تم موسیٰ علیہ السلام  کے پاس چلے جاؤ ، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا تھا اور ان کے ساتھ کلام بھی کیا تھا، وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام  کے پاس پہنچ جائیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ! آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے نوازا اور آپ کے ساتھ کلام بھی کیا، آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے یہ سفارش تو کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں، میں نے تو ایک آدمی کو بغیر کسی جرم کے قتل کر دیا تھا، مجھے تو اپنی جان کی فکر ہے، تم لوگ عیسیٰ  علیہ السلام  کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، چنانچہ وہ عیسیٰ  علیہ السلام  کے پاس جا کران سے کہیں گے: اے عیسیٰ! آپ اپنے رب سے ہمارے حق میں سفارش کر یں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔ وہ کہیں گے: میں تو یہ کام نہیں کر سکتا، مجھے تو لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر معبود بنا لیا تھا، اس لیے مجھے تو اپنی پریشانی نے بے چین کر رکھا ہے، لیکن دیکھو اگر کوئی سامان کسی برتن میں بند کر کے اس پر مہر لگا  دی گئی ہو، تو کیا مہر کو توڑے بغیر برتن کے اندر کی چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے کہ نہیں۔ تو عیسیٰ علیہ السلام  فرمائیں گے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  *خاتم النّبیین ہیں،* وہ آج موجود ہیں، ان کا مقام یہ ہے کہ ان کے اگلے پچھلے تمام جہان کی بھلائیاں عطا کیے  گئے ہیں، رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:اس کے بعد لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے محمد! آپ اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلے کرے۔ تو میں کہوں گا: جی ہاں، جی ہاں، میں ہی اس شفاعت کے قابل ہوں ، یعنی آج میں ہی سفارش کرسکتا ہوں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے جسے چاہے گا اور پسند کرے گا، اسے شفاعت کی اجازت دے گا، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو الگ الگ کرنے کا ارادہ کرے گا تو اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: احمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  اور ان کی امت کہاں ہیں؟ *ہم اگرچہ زمانہ کے اعتبار سے آخر میں آئے ہیں،لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، ہم اگرچہ آخری امت ہیں* (آخری نبی علیہ السلام کی آخری امت) لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا۔ ہمارے راستے سے دوسری امتوں کو ہٹادیا جائے گا اور وضوء کے اثر سے میری امت کے چہرے ، ہاتھ اورپاؤں خوب چمک رہے ہوں گے، انہیں دیکھ کر دوسری امتیں رشک کرتے ہوئے کہیں گی: قریب تھا کہ اس امت کے تو سارے افراد انبیاء ہوتے، یہ امت جنت کے دروازے پر پہنچے گی۔ میں جنت کے دروازے کے کڑے کو پکڑ کر دستک دوں گا۔ پوچھا جائے گا: کون ہو؟ میں کہوں گا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  ہوں۔پھر میرے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کرسی یا تخت پر تشریف فرما ہوں گے،(کرسی یا تخت کا شک راوی ٔ حدیث حماد کو ہوا) میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جاکر سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور میں اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی حمد کروں گا، جو نہ تو مجھ سے پہلے کسی نے بیان کی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: اے محمد! سجدہ سے سر اٹھاؤ ، مانگو تمہیں دیا جائے گا، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! اللہ تعالیٰ فرمائے گا :جن لوگوں کے دلوں میں فلاں چیز کے برابر ایمان ہواسے جہنم سے نکال لاؤ، میں اس کے بعد دوبارہ سجدہ میں گرجاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کو جیسے منظور ہوگا، میں سجدہ میں کہوں گا، بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! میری امت ،میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:جس کسی کے دل میں فلاں چیز کے برابر ایمان ہو، ان کو جہنم سے نکال لاؤ، اس کے بعد پھر میں سجدہ کروں گا اور پہلے کی طرح اللہ تعالیٰ کی تعریفیں کروں گا، بالآخر مجھے کہا جائے گا:سجدہ سے سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ سے کہا جائے گا کہ جس کسی کے دل میں فلاں چیز کے برابر بھی ایما ن ہو، اس کو جہنم سے نکال لاؤ۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      📚 2 :وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:    مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ   
      (صحیح مسلم جلد3 حدیث 5961.)
      ھذا حدیث صحیح
       ابو صالح سمان نے حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کی کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :    میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو کہ میرے سے پہلے ہو چکے ہیں ،  ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کی زیبائش اور آرائش کی ،  لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی پس لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور انہیں وہ عمارت پسند آئی اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو نے ایک اینٹ یہاں کیوں نہ رکھ دی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      📚 3: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
      (الجامع الترمذی جلد2حدیث2219)
      ھذا حدیث صحیح
       
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں، اور بتوں کی پرستش کریں، اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“۔ 
      امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      📚 4  :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، 
      عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ نَبيَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ وَدَجَّالُونَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ نِسْوَةٍ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لا نَبِيَّ بَعْدِي.
      ✍️درج ذیل سات کتب میں یہ حدیث موجود ہے
      [(1) المعجم الکبیر للطبرانی 3026 3/169 
      ( 2) (فتح الباري 87/13)
      (3) الفتح الكبير 2/275
      (4) الجامع الصغیر7707 امام سیوطیؒ
       (5) کنزالاعمال الرقم 38360 جلد14. صفحہ196
       (6) غائیہ المقصد فی زوائد المسند الرقم 4483 جلد4ص250 
       (7) مسند احمد مخرجا 23358الرقم جلد38 ص380]
       
      ( إسناده جيد)
      حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی  ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں ستائیس(راوی کا وہم لگتا ہے کسی حدیث میں 27 تو کسی حدیث میں 30 کا زکر ہے) کذاب اور دجال ہوں گے،ان میں چار عورتیں ہوں گی،میں خاتم النبیین ہوں،میرے بعد کوئی نبی نہیں.
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️کسی حدیث میں 27کا زکر ہے تو کسی میں 30 کا زکر ہے شائد راوی کا وہم ہے۔خیر اصل بات یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو نبوت کا دعوئ کرے وہ جھوٹا ہے ان احادیث ایک بات جو ثابت ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آۓ گا کسی بھی طرح کا۔ 
      ✍️جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئ نبی ہوتا(یہ اس بات کی نفی ہے کے حضرت محمدؐ کے بعد کوئی نبی نہی) تو وہ عمر ہوتا ۔ ایک بات یاد رکھیں اگر نبوت بند نہ ہوتی جاری رہتی تو حضرت عمرؓ بھی نبی ہوتے ۔ لیکن سیدنا عمرؓ نے نہ  نبوت کا دعوئ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ 
      ✍️اس لیے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلیمہ کذاب کے ساتھ جنگ کی اس نے بھی نبی ہونے کا دعوئ کیا تھا 
      ✍️تو اگر آج کوئی دجال کانا نبوت کا دعوئ کرے تو جھوٹا ہے، فراڈی ہے ،مکار ہے، ذلیل ہے،نمک حرام ہے، کذاب ہے۔ کافر ہے، پیروی کرنے والا مرتد ہے، وہ اور اس کے پیرو خارج از اسلام ہیں۔ ان کو نہ  اقلیت کا حق نہ ملک میں رہنے کا بس قتال قتال قتال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واللہ باللہ تاللہ۔ یہی حق ہے۔
      📚 5: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏   إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَبِّي زَوَى لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ ؟ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَلَا أُهْلِكُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ  ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عِيسَى:‏‏‏‏ ظَاهِرِينَ ثُمَّ اتَّفَقَا لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ.
      (سنن ابو داؤد جلد4 حدیث 4252.)
      *الشیخ شعیب الارنؤوط*
      إسناده صحيح. أبو أسماء: هو عمرو بن مرثد الرَّحَبي، وأبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرمي، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني.
      [وأخرجه مسلم (2889)، والترمذي (2317) و (2379) من طريق أيوب السختياني، ومسلم (2889)، وابن ماجه (10) و (3952) من طريق قتادة بن دعامة، كلاهما عن أبي قلابة عبد الله بن زيد الجرمي، به. ولم يخرج أحدٌ منهم الحديث بتمامه كما هو عند المصنف.
      وهو في "مسند أحمد" (22394) بتمامه، و"صحيح ابن حبان" (6714) و (7238)]
       رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی  یا فرمایا:  میرے لیے میرے رب نے زمین سمیٹ دی، تو میں نے مشرق و مغرب کی ساری جگہیں دیکھ لیں، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی، مجھے سرخ و سفید دونوں خزانے دئیے گئے، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے، ان پر ان کے علاوہ باہر سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں جڑ سے مٹا دے، اور ان کا نام باقی نہ رہنے پائے، تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلتا نہیں میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو، اور ان کو جڑ سے مٹا دے گو ساری زمین کے کافر مل کر ان پر حملہ کریں، البتہ ایسا ہو گا کہ تیری امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے، انہیں قید کریں گے، اور میں اپنی امت پر گمراہ کر دینے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ مشرکین سے مل نہ جائیں اور کچھ بتوں کو نہ پوجنے لگ جائیں، اور عنقریب میری امت میں تیس  ( ۳۰ )  کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا وہ غالب رہے گا، ان کا مخالف ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      📚 6  :حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا ، فَقَالَ : أَتُخَلِّفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ ، قَالَ :    أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي    ،وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، سَمِعْتُ مُصْعَبًا۔ 
      (صحیح بخاری جلد2 حدیث 4416
      ھذا حدیث صحیح)
       
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اور ابوداؤد طیالسی نے اس حدیث کو یوں بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے اور انہوں نے کہا میں نے مصعب سے سنا۔
      📚 7 :حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْنٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ۔
      (صحیح بخاری شریف حدیث3532.4896
      ھذا حدیث صحیح)
       
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد، احمد اور ماحی ہوں  ( یعنی مٹانے والا ہوں )  کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا  ( قیامت کے دن )  میرے بعد حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں یعنی خاتم النبین ہوں۔ میرے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا۔
      تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد
      لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
      (طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
      17.09.2021.
      09 صفر المظفر 1443ھ
    • By Sunni Haideri
      ⛲ امت شرک نہی کرے گی⛲
       
      ✍️نبی علیہ السلام نے قسم کھا کے فرمایا کہ تم میرے بعد شرک نہی کرو گے۔✍️
      ✍️شرک والوں کے درمیان تم لوگ اس طرح ہوگے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا سرخ جسم پر سیاہ بال✍️
                      یا اللہ عزوجل    یارسول اللہ
                  صلو علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
           الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ
             وعلی الک واصحبک یامحمد الرسول اللہ۔
      📚 1 : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ :    إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ , وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ , وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ , أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ , وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
             (صحیح بخاری جلد2 حدیث4085)
                        ھذا حدیث صحیح
       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے (ملکیت ہے تو فرمایا اپنے )حوض  (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا «مفاتيح الأرض» یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔ 
                   (محمد عمران علی حیدری)
      📘 2 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ , أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ حَيْوَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ :    صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ , ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ :    إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ , وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ , وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا , وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا    , قَالَ : فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
               (صحیح بخاری جلد2حدیث 4042.)
       رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہداء پر نماز جنازہ ادا کی۔ جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ”میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے  ( قیامت کے دن )  تمہاری ملاقات حوض  ( کوثر )  پر ہو گی۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض  ( کوثر )  کو دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو۔“ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آخری دیدار تھا جو مجھ کو نصیب ہوا۔
                    (محمد عمران علی حیدری)
      📙 3: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ خَزَائِنَ مَفَاتِيحِ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ بَعْدِي أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
              (صحیح بخاری جلد2 حدیث3596)
       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے باہر نکلے اور شہداء احد پر نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں  ( حوض کوثر پر )  تم سے پہلے پہنچوں گا اور قیامت کے دن تمہارے لیے میر سامان بنوں گا۔ میں تم پر گواہی دوں گا اور اللہ کی قسم میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں، مجھے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا داری میں پڑ کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو۔
                     (محمد عمران علی حیدری)
      📗 4: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ،    أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
             (صحیح بخاری جلد2 حدیث1344)
       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  ( یہ فرمایا کہ )  مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      📖 5 : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا ، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ :    إِنِّي فَرَطُكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
               (صحیح بخاری جلد3 حدیث6426)
       رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جنگ احد کے شہیدوں کے لیے اس طرح نماز پڑھی جس طرح مردہ پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا آخرت میں میں تم سے آگے جاؤں گا اور میں تم پر گواہ ہوں گا، واللہ میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  ( فرمایا کہ )  زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے متعلق اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے۔
      📘 6: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وهيب ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :    يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ ، وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا ، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا.
              (صحیح بخاری جلد3 حدیث6522)
       
      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا  ( ایک فرقہ والے )  لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے۔  ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      📚 7: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ :    أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ :    أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ :    أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ :    وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ.

            (صحیح بخاری جلد3 حدیث6528)

       ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد  (  صلی اللہ علیہ وسلم  )  کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ  ( امت مسلمہ )  اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور *تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔*
                     (محمد عمران علی حیدری)
      📕 8: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
                6590صحیح بخاری جلد3 حدیث    

       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور شہداء احد کے لیے اس طرح دعا کی جس طرح میت کے لیے جنازہ میں دعا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ”لوگو! میں تم سے آگے جاؤں گا اور تم پر گواہ رہوں گا اور میں واللہ اپنے حوض کی طرف اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا فرمایا کہ زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، البتہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا کے لالچ میں پڑ کر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔
                      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️نبی علیہ السلام نے امت کو شرک سے اتنا ڈرایا کہ اب یہ امید ہی نہیں کی جا سکتی کہ امت شرک کرے۔
      ✍️کیوں شرک کی ممانعت قرآن و حدیث میں بہت آئی ہے اس لیے۔
      ✍️یہاں تک کہ آخر میں سیدی، آقا کائنات، ذات بابرکات، نے فرمایا کہ مجھے یہ امید نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ فرمایا کہ دنیا میں راغبت کرو گے۔
                                      ✍️قرآن کہتا ہے کہ:
                                 📖 :وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ
      ترجمہ: وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے۔
      النجم۔(03،)
      ✍️لہذا جن احادیث میں شرک کی وعید ہے وہ ان احادیث سے پہلے کی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اتنا ڈرایا کہ آخر فرمایا کہ میرے بعد شرک نہیں کرو گے۔
      ✍️اگر سیدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہ فرماتے ہیں میرے بعد شرک نہیں کرو گے تو پھر امت شرک کرتی۔
      ✍️لہذا جن آیات احادیث میں شرک کی ممانعت ہے ان سے واضح طو پر شرک جلی مراد ہے جو کہ امت کبھی نہ کرے گی نہ اس پر جمع ہوگی مگر کفار۔
      ✍️شرک خفی ریاکاری ہے اس کا شکار گناہ میں ہوتا ہے جو جلی ہے اس سے مراد ذات واحدہ لاشریک کے ساتھ دوسرا الہ یا خدا ماننا ہے اور یہ امت کبھی نہیں کرے گی۔
      ✍️امت اجابت شرک نہیں کرے گی کبھی بھی یہ صحیح احادیث سے ثابت ہو چکا ہے۔ 
      ✍️باقی شرک ڈرایا بہت گیا ہے اور ایسا کہیں بھی نہیں کہا کے میرے بعد تم لوگ شرک کرو گے بلکہ کہا کہ میرے بعد شرک نہیں کرو گے بلکہ دنیا کی حرص میں پڑ جاو گے۔
      ✍️اور کچھ خارجی مخلوق کفار اور بتوں کے بارے نازل شدہ آیات مسلمانوں پر چسپا کرتے ہیں پریشان نہ ہوں ایسے لوگوں کو خارجی کہا جاتا ان کی یہی پہچان ہے۔
      ✍️ شرک کا فتوئ لگانے والے پر واپس لوٹتا ہے ہے یہ حدیث بھی پڑھ لیں۔
      📚 :37308- عن حذيفة قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إن مما أتخوف عليكم رجلا قرأ القرآن حتى إذا رؤيت بهجته وكان ردء الإسلام أعره إلى ما شاء الله انسلخ منه، ونبذه وراء ظهره، وخرج على جاره بالسيف، ورماه بالشرك، قلت: يا رسول الله أيهما أولى بالشرك المرمى أو الرامى قال: لا بل الرامى۔
                   (أبو نعيم) [كنز العمال 8985]
           أخرجه أيضًا: ابن حبان (1/281، رقم81)     
                  ،والبزار(7/220، رقم 2793)
      ترجمہ: سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:.
      یعنی مجھے تم پر ایک ایسے آدمی کا اندیشہ ہے جو قرآن پڑھے گا حتیٰ کہ اس کی روشنی اس پر دکھائی دینے لگے گی،اور اس کی چادر (ظاہری روپ) اسلام ہوگا ۔ یہ حالت اس کے پاس رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا ،پھر وہ اس سے نکل جائے گا اسے پس پشت ڈال دے گا ، اور اپنے (مسلمان) ہمسائے پر تلوار اٹھائے گا اور اس پر شرک کا فتویٰ جڑے گا،راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا : یانبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم ! دونوں میں شرک کا حقدار کون ہوگا ؟ جس پر فتویٰ لگا یا فتویٰ لگانے والا ، آپ نے فرمایا : فتویٰ لگانے والا (مشرک ہوگا) ۔
      یعنی وہ فتویٰ مسلمان پر چسپاں نہیں ہوگا بلکہ جدھر سے صادر ہوا تھا واپس اسی کی طرف لوٹ جائے گا ، اور وہ مسلمان کو مشرک کہنے والا خود مشرک بن جائے گا.
                      ( محمد عمران علی حیدری)
                                                  :  الحدیث
                                    📖: الخوارج کلاب النار۔
                            خوارج جہنم کے کتے ہیں۔
                     
                    _____✍️   نوٹ  ✍️____      
                   _____✍️ NOTE✍️____  
                 ✍️ خارجیت کی پہچان✍️
      📓 :وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللَّهِ، وَقَالَ: «إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الكُفَّارِ، فَجَعَلُوهَا عَلَى المُؤْمِنِينَ»
      ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خارجی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے ، کیونکہ انہوں نے یہ کام کیا کہ جو آیات کافروں کے باب میں اتری تھیں ، ان کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا.
                                                 : تخریج
                                            .وسند صحیح
             1 صحيح بخاري ، كتاب استتابة)  المرتدين والمعاندين وقتالهم ، باب : قتل (الخوارج  والملحدين بعد اقامة الحجة عليهم،)    
          2:(الاعتصام کتاب النغی۔باب قتال الخوارج)              3:(:اسباب الخطا فی التفسیر ص975)
      لہذا اب کسی تاویل کی کنجائش باقی نہیں رہی سنی دوستوں اب آپ اس سے واضح طور پر سمجھ چکے ہیں۔
                                                              (ازقلم وطالب دعا: محمد عمران علی حیدری.)
      26 صفر المظفر 1443ھ۔
      04.10.2021.
    • By Sunni Haideri
      ⛲ امت شرک نہی کرے گی⛲
       
      ✍️نبی علیہ السلام نے قسم کھا کے فرمایا کہ تم میرے بعد شرک نہی کرو گے۔✍️
      ✍️شرک والوں کے درمیان تم لوگ اس طرح ہوگے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا سرخ جسم پر سیاہ بال✍️
                      یا اللہ عزوجل    یارسول اللہ
                  صلو علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
           الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ
             وعلی الک واصحبک یامحمد الرسول اللہ۔
      📚 1 : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ :    إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ , وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ , وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ , أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ , وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
             (صحیح بخاری جلد2 حدیث4085)
                        ھذا حدیث صحیح
       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے (ملکیت ہے تو فرمایا اپنے )حوض  (حوض کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا «مفاتيح الأرض» یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔ 
                   (محمد عمران علی حیدری)
      📘 2 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ , أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ حَيْوَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ :    صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ , ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ :    إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ , وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ , وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا , وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا    , قَالَ : فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
               (صحیح بخاری جلد2حدیث 4042.)
       رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہداء پر نماز جنازہ ادا کی۔ جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ”میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے  ( قیامت کے دن )  تمہاری ملاقات حوض  ( کوثر )  پر ہو گی۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض  ( کوثر )  کو دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو۔“ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آخری دیدار تھا جو مجھ کو نصیب ہوا۔
                    (محمد عمران علی حیدری)
      📙 3: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ إِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ خَزَائِنَ مَفَاتِيحِ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ بَعْدِي أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
              (صحیح بخاری جلد2 حدیث3596)
       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے باہر نکلے اور شہداء احد پر نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں  ( حوض کوثر پر )  تم سے پہلے پہنچوں گا اور قیامت کے دن تمہارے لیے میر سامان بنوں گا۔ میں تم پر گواہی دوں گا اور اللہ کی قسم میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں، مجھے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا داری میں پڑ کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو۔
                     (محمد عمران علی حیدری)
      📗 4: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ،    أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
             (صحیح بخاری جلد2 حدیث1344)
       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  ( یہ فرمایا کہ )  مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      📖 5 : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا ، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ :    إِنِّي فَرَطُكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
               (صحیح بخاری جلد3 حدیث6426)
       رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جنگ احد کے شہیدوں کے لیے اس طرح نماز پڑھی جس طرح مردہ پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا آخرت میں میں تم سے آگے جاؤں گا اور میں تم پر گواہ ہوں گا، واللہ میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  ( فرمایا کہ )  زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے متعلق اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے۔
      📘 6: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وهيب ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :    يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ ، وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا ، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا.
              (صحیح بخاری جلد3 حدیث6522)
       
      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا  ( ایک فرقہ والے )  لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے۔  ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      📚 7: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ :    أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ :    أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ :    أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ :    وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ.

            (صحیح بخاری جلد3 حدیث6528)

       ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد  (  صلی اللہ علیہ وسلم  )  کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ  ( امت مسلمہ )  اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور *تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔*
                     (محمد عمران علی حیدری)
      📕 8: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
                6590صحیح بخاری جلد3 حدیث    

       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور شہداء احد کے لیے اس طرح دعا کی جس طرح میت کے لیے جنازہ میں دعا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ”لوگو! میں تم سے آگے جاؤں گا اور تم پر گواہ رہوں گا اور میں واللہ اپنے حوض کی طرف اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا فرمایا کہ زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، البتہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا کے لالچ میں پڑ کر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔
                      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️نبی علیہ السلام نے امت کو شرک سے اتنا ڈرایا کہ اب یہ امید ہی نہیں کی جا سکتی کہ امت شرک کرے۔
      ✍️کیوں شرک کی ممانعت قرآن و حدیث میں بہت آئی ہے اس لیے۔
      ✍️یہاں تک کہ آخر میں سیدی، آقا کائنات، ذات بابرکات، نے فرمایا کہ مجھے یہ امید نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ فرمایا کہ دنیا میں راغبت کرو گے۔
                                      ✍️قرآن کہتا ہے کہ:
                                 📖 :وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ
      ترجمہ: وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے۔
      النجم۔(03،)
      ✍️لہذا جن احادیث میں شرک کی وعید ہے وہ ان احادیث سے پہلے کی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اتنا ڈرایا کہ آخر فرمایا کہ میرے بعد شرک نہیں کرو گے۔
      ✍️اگر سیدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہ فرماتے ہیں میرے بعد شرک نہیں کرو گے تو پھر امت شرک کرتی۔
      ✍️لہذا جن آیات احادیث میں شرک کی ممانعت ہے ان سے واضح طو پر شرک جلی مراد ہے جو کہ امت کبھی نہ کرے گی نہ اس پر جمع ہوگی مگر کفار۔
      ✍️شرک خفی ریاکاری ہے اس کا شکار گناہ میں ہوتا ہے جو جلی ہے اس سے مراد ذات واحدہ لاشریک کے ساتھ دوسرا الہ یا خدا ماننا ہے اور یہ امت کبھی نہیں کرے گی۔
      ✍️امت اجابت شرک نہیں کرے گی کبھی بھی یہ صحیح احادیث سے ثابت ہو چکا ہے۔ 
      ✍️باقی شرک ڈرایا بہت گیا ہے اور ایسا کہیں بھی نہیں کہا کے میرے بعد تم لوگ شرک کرو گے بلکہ کہا کہ میرے بعد شرک نہیں کرو گے بلکہ دنیا کی حرص میں پڑ جاو گے۔
      ✍️اور کچھ خارجی مخلوق کفار اور بتوں کے بارے نازل شدہ آیات مسلمانوں پر چسپا کرتے ہیں پریشان نہ ہوں ایسے لوگوں کو خارجی کہا جاتا ان کی یہی پہچان ہے۔
      ✍️ شرک کا فتوئ لگانے والے پر واپس لوٹتا ہے ہے یہ حدیث بھی پڑھ لیں۔
      📚 :37308- عن حذيفة قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إن مما أتخوف عليكم رجلا قرأ القرآن حتى إذا رؤيت بهجته وكان ردء الإسلام أعره إلى ما شاء الله انسلخ منه، ونبذه وراء ظهره، وخرج على جاره بالسيف، ورماه بالشرك، قلت: يا رسول الله أيهما أولى بالشرك المرمى أو الرامى قال: لا بل الرامى۔
                   (أبو نعيم) [كنز العمال 8985]
           أخرجه أيضًا: ابن حبان (1/281، رقم81)     
                  ،والبزار(7/220، رقم 2793)
      ترجمہ: سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:.
      یعنی مجھے تم پر ایک ایسے آدمی کا اندیشہ ہے جو قرآن پڑھے گا حتیٰ کہ اس کی روشنی اس پر دکھائی دینے لگے گی،اور اس کی چادر (ظاہری روپ) اسلام ہوگا ۔ یہ حالت اس کے پاس رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا ،پھر وہ اس سے نکل جائے گا اسے پس پشت ڈال دے گا ، اور اپنے (مسلمان) ہمسائے پر تلوار اٹھائے گا اور اس پر شرک کا فتویٰ جڑے گا،راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا : یانبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم ! دونوں میں شرک کا حقدار کون ہوگا ؟ جس پر فتویٰ لگا یا فتویٰ لگانے والا ، آپ نے فرمایا : فتویٰ لگانے والا (مشرک ہوگا) ۔
      یعنی وہ فتویٰ مسلمان پر چسپاں نہیں ہوگا بلکہ جدھر سے صادر ہوا تھا واپس اسی کی طرف لوٹ جائے گا ، اور وہ مسلمان کو مشرک کہنے والا خود مشرک بن جائے گا.
                      ( محمد عمران علی حیدری)
                                                  :  الحدیث
                                    📖: الخوارج کلاب النار۔
                            خوارج جہنم کے کتے ہیں۔
                     
                    _____✍️   نوٹ  ✍️____      
                   _____✍️ NOTE✍️____  
                 ✍️ خارجیت کی پہچان✍️
      📓 :وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللَّهِ، وَقَالَ: «إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الكُفَّارِ، فَجَعَلُوهَا عَلَى المُؤْمِنِينَ»
      ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خارجی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے ، کیونکہ انہوں نے یہ کام کیا کہ جو آیات کافروں کے باب میں اتری تھیں ، ان کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا.
                                                 : تخریج
                                            .وسند صحیح
             1 صحيح بخاري ، كتاب استتابة) :( المرتدين والمعاندين وقتالهم ، باب : قتل (الخوارج  والملحدين بعد اقامة الحجة عليهم،)    
          2:(الاعتصام کتاب النغی۔باب قتال الخوارج)              3:(:اسباب الخطا فی التفسیر ص975)
      لہذا اب کسی تاویل کی کنجائش باقی نہیں رہی سنی دوستوں اب آپ اس سے واضح طور پر سمجھ چکے ہیں۔
                                                              (ازقلم وطالب دعا: محمد عمران علی حیدری.)
      26 صفر المظفر 1443ھ۔
      04.10.2021.

    • By Aquib Rizvi
      ★تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال★
       
      الـســــــوال ↓↓↓↓↓
       
       
      ☆اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ☆
       
      نماز کی حالت میں ماں کے آواز دینے پر نماز توڑ دینے والی روایت کی تحقیق فرما دیں کیا یہ روایت صحیح ہے اور اگر صحیح ہے تو کیا یہ ہر نماز کے لئے ہے یا کسی نماز کے ساتھ خاص ہے مکمل تفصیل بتا دیں اور کیا باپ کے بلانے پر بھی نماز توڑ سکتے ہیں ؟؟ جزاک اللہ
       
      ❖◉➻══•══※✦※══•══➻◉❖
       
       
      📝الجــــــــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــ بعـــــون المــلــــك الــــــوهــــــــــــاب
       
      اَلصَّـــلٰوةُ وَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَارَسُـــوْلَ اللّہ وَعَلیٰ اَلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَاحَبِیْبَ اللّٰہﷺ
       
      ★وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ★
       
      ┄┅════❁✾✾✾❁════┅┄
       
      روایـتــــ کــی مـکمــل تحـقیـق درج ذیـــل ہـــے ⇊
       
      ✍️ یہ روایت متصلاً ہمیں دو قسم کے الفاظوں کے ساتھ ملتی ہے👇
      امام بیہقیؒ (المتوفى: 458هـ) نے فرمایا
       
      7497 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، نا يَاسِينُ بْنُ مُعَاذٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا وَأَنَا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَقَدْ قَرَأْتُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ تُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، لَأَجَبْتُهَا: لَبَّيْكِ " يَاسِينُ بْنُ مُعَاذٍ ضَعِيفٌ
       
      📓شعب الإيمان 10/284
      📒كتاب مجموع فيه مصنفات أبي جعفر ابن البختري 1/210
       
      اور جن الفاظ کے ساتھ یہ روایت مشہور ہے 👇
       
       
      امام ابن الجوزیؒ (المتوفى: 597هـ) نے فرمایا
       
      25 - أخبرنا أَبُو الْقَاسِمِ الْجُرَيْرِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ: أَنْبَأَ ابْنُ دُوسْتَ الْعَلَّافُ، قثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُنَادِي، قثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قثنا يَاسِينُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْن عَلِيٍّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا وَقَدِ افْتَتَحْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأْتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ *فَدَعَتْنِي أُمِّي تَقُولُ:* يَا مُحَمَّدُ لَقُلْتُ لَبَّيْكِ "
       
      📙كتاب البر والصلة لابن الجوزي ص57
      📕كتاب كنز العمال 16/470
       
       
      ترجمہ: اگر میں میرے والدین، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پاتا ، جبکہ میں عشاء کی نمازشروع کرکے سورہ فاتحہ پڑچکا ہوتا ، اور وہ مجھے پکارتے (یا ماں پکارتی ) : اے محمد ﷺ ، تو میں جواباً لبیک کہتا
       
      ============================
       
      اس حدیث کی سند کا دارومدار  ياسين بن معاذ پر ہے جو روایت کرتا ہے عبد الله بن قریر اور وہ روایت کرتے ہیں طلق بن علی سے
       
      عبداللہ کے والد کا نام مختلف اسانید میں
      محرف آیا ہے مرثد ٫ قرین ٫ قوید مگر اصل نام  قُرَیر) ہے )
       
      ملاحظہ ہو 👇
       
      📗 الاکمال لابن ماکولا (7/ 84)
       
      ============================
      ‼️ متصل سند میں یاسین بن معاذ سخت ترین مجروح راوی ہے اس کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کا کلام ملاحظہ ہو 👇
       
      ◈ محمد بن إسماعيل البخاريؒ : *منكر الحديث*
      ◈ مسلم بن الحجاج النيسابوريؒ : *منكر الحديث*
      ◈ أحمد بن شعيب النسائيؒ : *متروك الحديث*
      ◈ أبو بكر البيهقيؒ : *متروك، وضعيف*
      ◈ أبو حاتم بن حبانؒ البستي : يروى الموضوعات عن الثقات، وينفرد بالمعضلات عن الأثبات، لا يجوز الاحتجاج به
       
      خلاصہ یہ ہوا کہ یہ راوی متروک الحدیث ہے اس کی روایت سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا اور وہ قابل اعتبار بھی نہیں
       
       
      ❗ مزید اس سند کو نقل کر کے ائمہ نے کیا فرمایا 👇
       
      ◉ امام ابن الجوزیؒ نے فرمایا 👇
       
      هَذَا مَوْضُوع عَلَى رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ ياسين
       
      📓 كتاب الموضوعات لابن الجوزي 3/85
       
       
      ◉ خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطیؒ نے فرمایا 👇
       
      مَوْضُوع: آفَتُهُ ياسين (قُلْتُ) أخرجه الْبَيْهَقِيّ وَالله أعلم.
       
      📕 كتاب اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة 2/250
       
       
      ◉ امام محمد طاہر الفَتَّنِيؒ نے فرمایا 👇
       
      مَوْضُوع قلت أخرجه الْبَيْهَقِيّ، وَفِي الْوَجِيز هُوَ حَدِيث طلق عَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ وَفِيه يس بن معَاذ يروي الموضوعات قلت قَالَ الْبَيْهَقِيّ ضَعِيف
       
      📙 كتاب تذكرة الموضوعات للفتني ص202
       
       
      ‼️ ائمہ جرح و تعدیل و محدثین کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ روایت متصلاً ہرگز قابل احتجاج نہیں اور قابل اعتبار نہیں
       
      ◉➻═════════════➻◉
       
      ✍️ ہاں مگر اس طرح کی روایت کو مرسلاً بھی دو طرق سے بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو ⇊
       
       
      8013 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: ثنا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَتْكَ أُمُّكَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ»
       
      📓 مصنف ابن أبي شيبة 2/191
       
      8014 - حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: «إِذَا دَعَتْكَ وَالِدَتُكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ حَتَّى تَفْرُغَ»
       
      📕 مصنف ابن أبي شيبة 2/191
      📗 شعب الإيمان 10/285
       
       
      ترجمہ: امام ابن ابی شیبہؒ نے محمد بن المنکدرؒ اور مکحولؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہاری ماں تم کو نماز میں بلائے تو اس کی خدمت میں حاضر ہو اور جب تمہارا باپ بلائے تو حاضر نہ ہو حتیٰ کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ
       
       
      [ ھذا حدیث مرسل صحیح ]
       
      ============================
       
      ‼️ جیسا کہ واضح ہو گیا کہ یہ روایت مرسلاً صحیح ہے البتہ متصلاً جو الفاظ ہیں وہ ہرگز قابل احتجاج اور اعتبار نہیں
       
      مرسل حدیث پر مطلقاً ضعیف ہونے کا حکم دور حاضر کے وہابی غیرمقلدین لگاتے ہیں
       
      🌟 جب کہ مرسل تمام صحابہ کرامؓ و تابعینؒ اور ائمہ اربعہؒ کے ہاں حجت ہے البتہ امام شافعیؒ کے ہاں مرسل معتضد حجت ہے
       
       
      ❗ اس موضوع پر جامع اور مفصل تحریر لکھی جا سکتی ہے مرسل کی حجیت پر مگر اختصاراً ایک دلیل ہی عرض کر دیتا ہوں 👇
       
      وَقَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَأَجْمَعَ التَّابِعُونَ بِأَسْرِهِمْ عَلَى قَبُولِ الْمُرْسَلِ، وَلَمْ يَأْتِ عَنْهُمْ إِنْكَارُهُ، وَلَا عَنْ أَحَدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ بَعْدَهُمْ إِلَى رَأْسِ الْمِائَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ: كَأَنَّهُ يَعْنِي أَنَّ الشَّافِعِيَّ أَوَّلُ مَنْ رَدَّهُ
       
      ترجمہ: علامہ ابن جریر ؒ فرماتے ہیں ’’تابعین سب کے سب اس امر پر متفق تھے کہ مرسل قابل احتجاج ہے ۔ تابعین سے لے کر دوسری صدی کے آخر تک ائمہ میں سےکسی شخص نے مرسل کے قبول کرنے کا انکار نہیں کیا ۔ امام ابن عبدالبرؒفرماتے ہیں کہ گویاامام شافعیؒ ہی وہ پہلےبزرگ ہیں جنہوں نے مرسل کے ساتھ احتجاج کا انکار کیاہے‘‘۔
       
      📓 كتاب تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي 1/223
       
       
      ‼️ جیسا کہ واضح ہوگیا کہ تمام تابعینؒ کا مرسل کی حجیت پر اتفاق تھا اسی طرح مذہب احناف مالکیہ اور حنابلہ کا بھی لہذا خلاصہ یہ ہوا کہ مرسل حجت ہے اور یہ حدیث مرسل صحیح ہے
       
      ❖◉➻══•══※✦※══•══➻◉❖
       
       
      خـــــــــــــلاصـــــــــــــہ کـــــــــــــــــــلام
       
       
      ✍️ چناچہ پوری تحقیق سے ثابت ہوا کہ جن الفاظ کے ساتھ یہ روایت متصلاً ملتی ہے وہ صحیح نہیں البتہ یہ روایت مرسلاً صحیح ہے
       
      1 جیسا کہ بتایا گیا یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہے 👇
       
      رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہاری ماں تم کو نماز میں بلائے تو اس کی خدمت میں حاضر ہو اور جب تمہارا باپ بلائے تو حاضر نہ ہو حتیٰ کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ
       
      2 جی بالکل یہ روایت نوافل نماز کے ساتھ خاص ہے ہاں البتہ فرض نماز بھی اگر پڑھ رہا ہو اور والدین مصیبت میں پکاریں تو پھر یہ حکم فرض کا ہے کہ وہ نماز ترک کر دے اور ان کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے اور اگر کسی سخت ضرورت اور مدد کے لیے نہ پکاریں تو فرض نماز توڑنا جائز نہیں
       
      اگر نفل نماز پڑھ رہا ہے اور والدین کو معلوم نہیں کہ بیٹا نماز پڑھ رہا ہے تو ان کے پکارنے یا آواز دینے پر نماز توڑ کر ان کی خدمت میں حاضر ہو جائے
       
      اور اگر انہیں معلوم ہے تو پھر تلاوت کو بلند کرے یا سبحان اللہ کہہ کر احساس دلانے کی کوشش کرے اگر پھر بھی بلائیں تو ترک کرکے ان کی خدمت میں حاضر ہو جائے
       
      3 جی بالکل باپ کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر بیان کر دیا گیا اگر فرض ہو اور سخت مصیبت اور پریشانی میں بلائے تو ترک کرکے ان کی خدمت میں پہنچ جائے اگر نفل ہو اور ان کو معلوم نہ ہو تو پھر بلائیں تو پھر ترک کرکے ان کی خدمت میں پہنچ جائے اور اگر ان کو معلوم ہو تو احساس دلانے کی کوشش کرے اگر پھر بھی بلائیں تو ترک کرکے ان کی خدمت میں حاضر ہو جائے
       
      دلیل ملاحظہ ہو 👇
       
      "قلت: لکن ظاهر الفتح أنه نفي للجواز وبه صرح في الإمداد بقوله: أي: لایجوز قطعها بنداء أحد أبویه من غیر استغاثة وطلب إعانة لأن قطعها لایجوز إلا لضرورة، وقال الطحطاوي: هذا في الفرض، وإن کان في نافلة إن علم أحد أبویه أنه في الصلاة وناداه لا بأس أن لایجیبه، وإن لم یعلم یجیبه قوله: إلا في النفل أي فیجیبه وجوبًا و إن لم یستغث لأنه لیم عابد بني إسرائیل علی ترکه الإجابة وقال ﷺ ما معناه: لو کان فقیهًا لأجاب أمّه، وهذا إن لم یعلم أنه یصلي، فإن علم لاتجب الإجابة لکنّها أولی کما یستفاد من قوله: لا باس"
       
      📓 كتاب الدر المختار وحاشية ابن عابدين 1/654
      📕كتاب مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ص138
      📙كتاب حاشية الطحطاوي ص372
       
      ╭┄┅─══════════════─┅┄╮
        ༻◉ لبیک یا رسول اللہ ﷺ ◉༺
        ╰┄┅─══════════════─┅┄╯
       
       
      فقـــــــــــــط واللہ ورسولـــــــــــــہٗ اعلـــــــــم
       
      ____خادم اہلسنت و جماعت محمد عاقب حسین رضوی____★᭄✨🌸
       








    • By Syed Kamran Qadri
      جمعہ کے دن کپڑے دھونا کیسا ؟؟؟
      کیا جمعہ کے دن کپڑے دھونا منع ہے ؟؟؟ 

×
×
  • Create New...