Jump to content
IslamiMehfil
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Sunni Haideri
      آذان سے پہلے اور بعد میں کیا پڑھیں اور کیا کیا پڑھ سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں.
       
       از قلم و طالب دعا: محمد عمران علی  حیدری۔
       
                      بسم اللہ الرحمن الرحیم
               یا اللہ عزوجل    یارسول اللہؐﷺ
      🌹دورد ذات اقدس اور آل و اصحاب پر بے شمار لاکھوں ارباں کروڑاں کھرباں بار❤️
      صلی اللہ علیہ وآلہ اصحابہ وبارک وسلم
      القرآن المجید فرقان الحمید برہان العظیم میں اللہ وحدہ لاشریک کا انعام، بے مثل قرآن میں بےمثال فرمان :۔❤️❤️
      📖اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ  یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ  وَ سَلِّمُوۡا  تَسۡلِیۡمًا.📖
      سورۃ الاحزاب: آیت نمبر56.
      ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے ( نبی ) پر ، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو،
      ✍️✍️✍️یہ تفسیر نہیں بس اس آیت میں موجود نقاط ہیں بس اگر اس کی تفسیر دیکھنی ہے تو نیچے کتب تفاسیر کے حوالہ جات دیے ہوۓ ہیں۔
      اس آیت مبارکہ میں غور طلب باتیں جو کہ بتانا مقصود ہیں : ۔
      ✍️اللہ کی شان ان باتوں پر غور کیا  جاۓ تو سمجھ آ جاۓ گی کہ قرآن کی شان کیا ہے اور پتہ چلے کہ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ کا مفہوم کیا ہے،
      ✍️ قرآن سمجھنا آسان ہے اگر نظر و دل میں   شان و عظمت مصطفیؐ ہو تو ورنہ اس قرآن کو پڑھ کر خوارج نے سیدنا ابوتراب، مولا کائنات، شیر خدا، جنت کے شہزادوں کے بابا، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں بھی حق پر تھے مگر معاویہ بھی ہمارے سردار،  فاتح خیبر مولا مشکل کشاہ علی حیدر کرم وجہ الکریم  پر بھی کفر کا کا فتوئ لگا دیا تھا۔😭
      ✍️اگر اس قرآن کو پڑھ کر صحابی رسول پر کفر و شرک کے فتوۓ لگے ہیں تو آج ہم سنیوں پر جو لگ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت معاویہؓ کی مثال اس لیے دی کہ ایک صحابی کے مقابلہ میں ایک صحابی حق پر ہے تو خوارج نے حق پر قائم رہنے والے صحابی، خلیفہ چہارم پر فتوئ لگا دیا تھا اللہ کی شان!، آج یہی کام  ایک قوم کرتی نظر آتی ہے اشارہ کافی ہے۔
      خیر اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ 
      👇👇👇
       اس آیت مبارکہ میں وقت متعین نہیں ہے اور وہ کوئی وقت بھی ہو سکتا ہے، اور اگر بات کی جاۓ فضائل درود و سلام کی تو تحریر بہت لمبی ہوجاۓ گی۔ 
      لہذا جب پڑھیں جس وقت پڑھیں پڑھ سکتے ہیں درود و سلام، *نماز سے پہلے یا نماز کے بعد میں ہو، آذان سے پہلے ہو بعد ہو اس کے علاوہ  گھر ہو مسجد میں ہو، بیٹھ کے پڑھو یا کھڑے ہو کے پڑھو، تھوڑا پڑھو زیادہ پڑھو پڑھ سکتے ہیں۔* علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر درود و سلام دکھاوۓ کے لیے بھی کوئی پڑھے تو بھی ثواب ملے باقی دینی کاموں کا ثواب نہیں ملتا اگر دکھاوے کے لیے کیا جاۓ چاھے وہ نماز ہی کیوں نہ ہو۔ 
      سبحان الله 
      اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے لیے 
      ✍️✍️اگر ان تمام تفاسیر کا خلاصہ اگر پڑھنا ہے تو تفسیر خزائن العرفان ہی پڑھ لیں۔ اور اس کے بعد تفسیر صراط الجنان بہتر ہے۔ اگر تفصیل پڑھنی ہے تو تبیان القرآن پڑھ لیں۔✍️✍️✍️
      یہ تین تفاسیر تقریبا تمام کتب تفاسیر کا بہترین نچوڑ ہیں
       
      *📖1تفسیر تبیان القرآن۔*
      *📚 2تفسیر خزائن العرفان۔*
      *📗3تفسیر صراط الجنان۔*
      📓4تفسیر درمنثور۔🌹
      📘5تفسیر جلالین۔🌹
      📙6تفسیر مدارک التنزیل۔🌹
      📓7تفسیر قرطبی۔🌹
      📙8تفسیر بغوی۔🌹
      📘9تفسیر ابن کثیر۔🌹
      📗10تفسیر روح البیان۔🌹
      📕11تفسیر خزینتہ القرآن۔🌹
      📓12تفسیر سراج المنیر۔🌹
      📙13تفسیر نور العرفان۔🌹
      📗14تفسیر ضیاء القرآن۔🌹
      📕15تفسیر الحسنات۔🌹
       وغیرہ کتب تفاسیر 
      (طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
                       ✍️✍️✍️✍️
      *ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد اور نبی علیہ السلام پر درودو سلام نہ ہو تو وہ کام نعمت سے خالی ہے*
      یہ روایت ضعیف ہے  جو ہمارے ہاں فضائل و مناقب میں قابل قبول ہے۔ اس روایت کا متن بالکل ٹھیک ہے جیسا آپ ابھی پڑھیں گے : ۔
      📕امام ابو یعلیٰ الخلیلی (م 446ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا :-
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَزَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْمُوَفَّقِ الزَّاهِدُ بِهَمَذَانَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّيَّانِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الشَّامِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أَمْرٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِحَمْدِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيَّ فَهُوَ أَقْطَعُ أَبْتَرُ مَمْحُوقٌ مِنْ كُلِّ بَرَكَةٍ»
      ترجمہ :- سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ کام جس میں اللہ کی حمد و ثنا اور مجھ پر درود و سلام نہ ہوں منقطع اور ہر نعمت سے خالی ہے
      [ الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي رقم الحدیث :- 119 ]
      ‼️ اس روایت کو الحافظ عبد القادر بن عبد الله الرهُاوى نے اپنی " الأربعون على البلدان " میں امام دیلمی نے " مسند الفردوس " میں امام تاج الدین ابن سبکی نے " طبقات الشافعية " میں باسند نقل کیا
      اس روایت کے حوالے سے اہل علم فرماتے ہیں :-

      ➊ امام سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف کہا 
      [ القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع ص244 ]
      ➋ عرب کے محقق ناصر الدین البانی نے بھی ضعیف کہا 
      [ ضعيف الجامع الصغير وزيادته ص613 ]
      ➌ عرب کے محقق شعیب ارناؤوط نے بھی ضعیف کہا 
      [ جلاء الأفهام - ت الأرنؤوط ص441 ]

      ‼️ ہمارے نزدیک بھی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا دوسرا طریق بھی ہے جس کا ذکر امام مقریزی رحمہ اللہ نے فرمایا :-
      وروى أبو موسى المدني، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة رضي الله تبارك وتعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل كلام لا يذكر الله فيبدأ به وبالصلاة علي، فهو أقطع ممحوق من كل بركة
      [ إمتاع الأسماع 11/153 ]
                (ازقلم :سید عاقب حسین رضوی۔)
       ✍️✍️✍️✍️
      *آذان کے بعد دو چیزیں پڑھنے کا ثبوت اور ساتھ ہی خوشخبری*
      📖حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَيْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، ‏‏‏‏‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ.
      *ھذا حدیث صحیح*

      *ابوداؤد باب الآذان١(٥١٩)*
      *صحیح مسلم باب الصلاة ٧ (٣٨٤)، سنن الترمذی باب باب المناقب ١ (٣٦١٤)، سنن النسائی باب الأذان ٣٧ (٦٧٩)، مسند احمد (٢/١٦٨)*
      ترجمہ: عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ  انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  کو فرماتے سنا:  جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر میرے اوپر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی.
                 (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس پر عمل کوئی بھی نہیں کرتا 😭😭😭 آذان کے بعد درود و سلام پڑھا کرو حدیث سے ثابت ہے۔
      ✍️آذان کا جواب بھی دیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔
      ✍️وسیلہ والی دعا بھی کیا کرو حدیث سے ثابت ہے۔
      ❤️🌹شفاعت واجب ہے ان سب کاموں پر سبحان الله‎۔❤️
                 (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️✍️✍️✍️
      *آذان کے سے پہلے دعا پڑھنے کا ثبوت*
      📖حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ.
      ھذا حدیث حسن 
      *ابو داؤد ١(٥٢٣)*
      ترجمہ:
      حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے  مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال ؓ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چناچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے:  اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں ، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اگر کوئی آذان سے پہلے درود وسلام نہیں پڑھتا تو تواسے اس پر ملامت نہ کیا جاۓ اگر کوئی پڑھتا ہے تو اسے بھی ملامت نہ جاۓ۔✍️
      ✍️آذان سے پہلے کچھ بھی نہیں ثابت کی رٹ لگانا غلط ہے کیوں کہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کچھ پڑھنا ثابت ہے۔
      ✍️آذان سے پہلے دعا ثابت ہے یہی پڑھی جاۓ بہتر ہے۔
      ✍️اگر کوئی اس دعا کے ساتھ ذات اقدس پر درود و سلام پڑھنا چاھے تو روکا نہ جاۓ۔
      ✍️اگر کوئی کہے کہ اس وقت دین کے غلبہ کی دعا تھی اب الحَمْد للهْ دین غالب ہے تو اب اس دعا کی جگہ درود و سلام پڑھ لیا جاۓ تو کافی حد تک اسکی بات ٹھیک ہے۔
      ✍️ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس دعا کو بھی پڑھا جاۓ اور ساتھ ساتھ ذات اقدس پر درود سلام بھی پڑھا جاۓ۔
      ✍️نہ یہ دعا آذان کا حصہ تھی نہ ہے اور نہ درود و سلام آذان کا حصہ ہے،
      ✍️تو حرج نہیں ہونی چاھیے۔
      ضد چھوڑیں بس نبی علیہ السلام سے محبت کریں انہی کے نام کردیں اپنا جینا مرنا پھر آپکو کبھی نہیں لگے گا کہ درود یہاں نہ پڑھو یہ والا درود نہ پڑھو اس صیغہ والا نہ پڑھو۔ پھر ایک ہی بات کرو گے درود پڑھو سلام پڑھو۔ درود و سلام پڑھو۔
      ✍️اگر ایسا کیا جاۓ تو اختلاف  و لڑائی جھگڑا ختم کیا جا جاسکتا ہے۔
      صلی اللہ و علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
      الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یاحبیب اللہﷺ۔
        (از قلم طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
                 02.12.2021
       دو دسمبر 1443ھ
    • By Sunni Haideri
      وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون کا         صحیح فہم کتب تفاسیر سے۔
      ایک آیت کی پانچ معتبر کتب  تفاسیر سے وضاحت کہ علماء کرام نے اسے کیسے سمجھا                 اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
        از قلم طالب دعا: محمد عمران علی حیدری
      ( درخواست) ساری پوسٹ پڑھیں اور بزرگوں کو فالو کریں👏👏
                 أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
        
                     بسم اللہ الرحمن الرحیم
                یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ    یارسول ﷺ
               اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ
              وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ
                 اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ

                  وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
                      فیض رضا جاری رہے گا
        
                       ⛲ سچ کڑوا ہوتا ہے⛲
      اس آیت کچھ لوگ پیش کر کے مسلمانوں کو مشرک بولتے ہیں۔
      اس شرک سے کیا مراد ہے اورکون لوگ مراد ہیں؟
      وَمَا يُؤۡمِنُ اَكۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ
      (سورۃ یوسف آیت نمبر 106)
      لفظی ترجمہ:
      وَمَا يُؤْمِنُ : اور ایمان نہیں لاتے | اَكْثَرُهُمْ : ان میں اکثر | بِاللّٰهِ : اللہ پر | اِلَّا : مگر | وَهُمْ : اور وہ | مُّشْرِكُوْنَ : مشرک (جمع)
      ترجمہ:
      اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔
      اعلئ حضرت امام اھلنست٫ عظیم البرکت٫ عظیم المرتبت٫ ولی نعمت٫  مجدد دین و ملت٫ حامی سنت٫ ماحی بدعت٫ معجزہ سید النبیاء٫ عالم شریعت٫ پیرطریقت٫ حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القای الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن کا ترجمہ بھی ساتھ دیکھیں۔
      ترجمہ کنزالایمان::
      اور ان میں اکثر وہ ہیں جو اللہ پر یقین نہیں کرتے مگر شرک کرتے ہوئے
      مختلف تراجم کا موازنہ کر کے دیکھیے گا!
                                     1
                        تفسیر خزائن العرفان
      جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازل ہوئی جو اللہ تعالی کی خالقیت و رزاقیت کا اقرار کرنے کے ساتھ بت پرستی کر کے غیروں کو عبادت میں اس کا شریک کرتے تھے ۔

                    (محمد عمران علی حیدری)

                                   2 
                          تفسیر تبیان القرآن
      اللہ تعالی کا ارشاد ہے : اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔ (یوسف : ١٠٦)-
      ایمان لانے کے باوجود شرک کرنے والوں کے مصادیق :-
      حسن، مجاہد، عامر اور شعبی نے کہا : یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو یہ مانتے تھے کہ اللہ تعالی ان کا اور تمام کائنات کا خالق ہے، اس کے باوجود وہ بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا : انہی لوگوں کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں :-
      ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یوفکون۔ (الزخرف : ٨٧) اگر آپ سن سے یہ سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔-
      ولئن سالتھم من خلق السموات والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ فانی یوفکون۔ (العنکبوت : ٦١) اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے توہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔-
      حسن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، وہ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں، عیسائی حضرت عیسی کو اللہ کا بیٹا تو کہتے ہیں اور یہود عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں اور یہ شرک ہے۔-
      ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو زبان سے ایمان لاتے تھے اور ان کے دل میں کفر تھا۔ -
      حسن سے یہ روایت بھی ہے کہ یہ آیت ان مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور انہیں نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں اور جب اللہ ان کو اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں :-
      قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا و خفیہ لئن انجانا من ھذہ لنکونن من الشاکرین۔ قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون۔ (الانعام : ٦٣، ٦٤) آپ پوچھیے کہ تمہیں سمندروں اور خشکی کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے ؟ جس کو تم عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو، اگر وہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے، آپ کہیے کہ تمہیں اس مصیبت سے اور ہر سختی سے اللہ ہی نجات دیتا ہے پھر (بھی) تم شرک کرتے ہو۔-
      اور بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود نعمتوں کا اسناد اسباب کی طرف کرتے ہیں، مسبب الاسباب کی طرف نہیں کرتے مثلا کسی کو بیماری سے شفا ہوجائے تو کہتا ہے فلاں دوا سے یا فلاں ڈاکٹر کے علاج سے وہ شفا یاب ہوگیا ہے یہ نہیں کہتا کہ اسے اللہ نے شفا دی ہے۔ -
      اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ مصائب اور شدائد میں بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے، وہ مشائخ اور اولیاء اللہ کے مزاروں پر جاکر ان کو پکارتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں اور ان کی نذر اور ان کی منتیں مانتے ہیں۔ ہرچند کہ اولیاء اللہ سے مدد طلب کرنا اس عقیدہ سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی طاقت سے اور اس کے اذن سے تصرف کرتے ہیں اور یہ شرک نہیں ہے لیکن افضل اور اولی یہی ہے کہ صرف اللہ سے مدد طلب کی جائے اور بزرگوں کے وسیلہ سے اپنی حاجت برآری کے لیے دعا کی جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :-
      اذا سئلت فاسئل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ۔ جب تم سے سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٦، مسند احمد ج ١ ص ٢٩٣، ٣٠٣، ٣٠٧۔ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٩٨٨، ١٢٩٨٩، عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی رقم الحدیث : ٤٢٥، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٨٤، العقیلی ج ٣ ص ٥٣، الآجری، رقم الحدیث : ١٩٨، المستدرک ج ٣، ص ٥٤١، حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ٣١٤، الآداب للبیقہی رقم الحدیث : ١٠٧٣)-
      اور نذر عبادت مقصودہ ہے، اللہ تعالی کے سوا کسی مخلوق کی نذر اور منت مانناجائز نہیں ہے۔
      (بتوں کے نام کفار نذر منت مانتے تھے اور ان کے نام چھوڑ دیتے تھے)

                     (محمد عمران علی حیدری)

                             3  
                      تفسیر نور العرفان
       ف ٢۔ شان نزول یہ آیت کفار مکہ کے متعلق نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو خالق رزاق مان کر بتوں کو پوجتے تھے اور اپنے تلبیہ میں کہتے تھے کہ تیرا کوئی شریک نہیں سوائے ایک شری کے کے یعنی لا الہ بھی کہتے تھے کہ اور شرک بھی کرتے تھے اور اللہ کو ایک مان کر اس کے بیٹے بیٹیاں مانتے تھے۔ 
                   (محمد عمران علی حیدری)
                       
                                   4 
                         تفسیر ضیاءالقرآن
       ١٤٧ یعنی ان کفار و مشرکین کی بھی عجیب حالت ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا تو کہتے ہیں اللہ نے۔ تمہارا خالق کون ہے کہتے ہیں اللہ۔ بارش کون برساتا ہے اور غلہ کون اگاتا ہے تو کہتے ہیں اللہ۔ لیکن اس کے باوجود بتوں کو بھی الہ مانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ بتوں کے متعلق مشرکین کا جو عقیدہ تھا وہ متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے وہ کہتے ویقولون أانا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون۔ ٣٧: ٣٦ وہ کہتے ہیں کیا ایک شاعر اور دیوانے کے کہنے سے ہم اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں۔ نیز حج کے موقعہ پر جو تلبیہ وہ کہا کرتے تھے اس سے بھی ان کے عقیدہ کا پتہ چلتا ہے۔ وہ کہا کرتے لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک الاشریکا ھولک تملکہ وما ملک ہم حاضر ہیں اے اللہ ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ تیرا شریک ہے جس کو تو نے اپنا شریک بنایا ہے تو اس کا مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے۔ 
      یا اس آیت میں مشرکین کی اس حالت کی طرف اشارہ ہے کہ جب وہ مصائب میں گھر جاتے تھے، تو اللہ تعالی کے آگے ہاتھ پھیلاتے تھے اور جب مصیبتیں ٹل جاتی تھیں تو پھر اس کا انکار کرتے تھے یا اس سے مراد ریاکار ہیں جو عبادت تو اللہ تعالی کی کرتے ہیں لیکن دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ فلاں مجھے اچھا سمجھے۔ یہ بھی ایمان اور شرک کو یکجا کرنے کی ایک صورت ہے اور اہل حق نے تو یہاں تک فرمایا کہ اگر اسباب ظاہری کی طرف مائل ہوا اور مسبب حقیقی کی طرف سے نگاہ ہٹ گئی تو یہ بھی شرک ہوا۔ مولانا ثناء اللہ پانی پتی بل النظر الی الاسباب مع الغفلۃ عن المسبب ینافی التوحید فالموحدون ہم الصوفیہ (مظہری) یعنی سچے موحد تو صوفیائے کرام ہیں کہ ان کی نظر کسی حالت میں بھی اسباب میں نہیں الجھتی بلکہ ہر قوت مسبب الاسباب پر جمی رہتی ہے۔

                    (محمد عمران علی حیدری)

                                     5
                       تفسیر  مدارک التنزیل
      جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازل ہوئی کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے خالق اور رازق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود بت پرستی کرکے غیروں کو عبادت میں اللّٰہ تعالیٰ کا شریک کرتے تھے۔

                   (محمد عمران علی حیدری)     
      جزاك اللهُ

      post no:8
      14....05....2021
      شوال المکرم 1442ھ
    • By Sunni Haideri
      ایاک نعبد اور وایاک نسعین کا صحیح فہم کتب تفاسیر سے

      ایک آیت کی پانچ معتبر کتب تفسیر سے وضاحت کہ علماء نے اسے کیسے سمجھا اسکی تفصیل درج ذیل ہے۔ 
      طالب دعا محمد عمران علی حیدری
               ✍️( درخواست ساری پوسٹ پڑھیں اور  بزرگوں کو فالو کریں👏👏
              ⛲أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم⛲
                     ⛲بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ⛲
                   یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ   یارسول ﷺ
               اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ        
               وعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللہ
       
                اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ          
                وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
                   🌹  فیض رضا جاری رہے گا⛲
                       اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ
                                                        ترجمہ:
      اے پروردگار ! ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مددچاہتے ہیں۔..
      مختلف کتب سے تفاسیر پیش خدمت ہیں ھدایت اللہ نے دینی ہے بس۔۔۔
                        
                                 1نمبر
                           📘ضیاالقرآن📕
       9 ف عبادت کیا ہے ؟ آپ کو لغت و تفسیر کی ساری کتابوں میں اس کا یہ معنی ملے گا۔ اقصی غایۃ الخضوع والتذلل یعنی حددرجہ کی عاجزی اور انکسار۔ مفسرین اس کی مثال سجدہ سے دیتے ہیں۔ حالانکہ صرف سجدہ ہی عبادت نہیں بلکہ حالت نماز میں تمام حرکات و سکنات عبادت ہیں۔ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا، رکوع اور رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہونا، سجدہ اور اس کے بعد حالت التحیات میں دو زانو بیٹھنا، سلام کے لئے دائیں بائیں منہ پھیرنا۔ یہ سب عبادت ہیں اگر عبادت صرف تذلل و انکسار کے آخری مرتبہ کا نام ہے اور یہ آخری مرتبہ سجدہ ہی ہے تو کیا یہ باقی چیزیں عبادت نہیں۔ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر یہ ساری چیزیں مطلقا عبادت ہیں تو اگر کوئی شاگرد اپنے استاد کے سامنے اور بیٹا اپنے باپ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھتا ہے یا ان کی آمد پر کھڑا ہوجاتا ہے تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ اس نے اپنے استاد یا باپ کی عبادت کی اور ان کو اپنا معبود بنا لیا۔ حاشاد وکلا۔ پھر وہ کونسی چیز ہے ہے جو ان حرکات و سکنات کو اگر یہ نماز میں ہوں تو عبادت بنا دیتی ہے اور یوں کھڑے ہونے کو (ہاتھ باندھے یا کھولے ہوئے) اور اس طرح بیٹھنے کو اور دائیں بائیں منہ پھیرنے کو تذلل و انکسار کے آخری مرتبہ پر پہنچا دیتی ہے۔ اور اگر یہی امور نماز سے خارج ہوں تو نہ ان میں غایتہ خضوع ہے اور نہ یہ عبادت متصور ہوتے ہیں۔ تو اس کا ممیز ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جس ذات کے لئے اور جس کے سامنے آپ یہ افعال کر رہے ہیں اس کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ اگر آپ اس کو اللہ اور معبود یقین کرتے ہیں تو یہ سب اعمال عبادت ہیں اور سب میں غایتہ تذلل و خضوع پایا جاتا ہے لیکن اگر آپ اس کو عبد اور بندہ سمجھتے ہیں نہ خدا، نہ خدا کا بیٹا، نہ اس کی بیوی، نہ اس کا اوتار تو یہ اعمال عبادت نہیں کہلائیں گے۔ ہاں آپ ان کو احترام، اجلال اور تعظیم کہہ سکتے ہیں۔ البتہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا اجمل الصلاۃ واطیب السلام میں غیر خدا کے لئے سجدہ تعظیمی بھی ممنوع ہے۔ یہ سمجھ لینے کے بعد اب یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ اللہ تعالی کی ذات پاک کے بغیر کوئی دوسری چیز ایسی نہیں جس کی عبادت شرعا یا عقلا درست ہو۔ سب سے بالاتر اور قوی تر وہ، سب کا خالق اور سب کو اپنی تربیت سے مرتبہ کمال تک پہنچانے والا وہ لطف وکرم پیہم مینہ برسانے والا وہ، بندہ ہزار خطائیں کرے لاکھوں جرم کرے اپنی رحمت سے معاف فرمانے والا وہ، اور قیامت کے دن ہر نیک وبد کی قسمت کا فیصلہ فرمانے والا وہ، تو اسے چھوڑ کر انسان کسی غیر کی عبادت کرے تو آخر کیوں ؟ بلکہ اس کے بغیر اور ہے ہی کون جو معبود اور اللہ ہو اور اس کی پرستش کی جائے ؟ اسی لیے قرآن نے ہمیں صرف یہی تعلیم نہیں دی کہ نعبدک کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں کیونکہ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ اوروں کی بھی۔ بلکہ یہ سبق سکھایا کہ ایاک نعبد۔ صرف تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور کسی کی نہیں کرتے مفسرین کرام نے ایاک کو مقدم کرنے میں حصرو تخصیص کے علاوہ دیگر لطائف کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں یہاں تین چیزیں ہیں۔ عابد، عبادت اور معبود۔ عارف کو چاہیے کہ اس مقام پر اپنے آپ کو بھی بھول جائے۔ عبادت کو بھی مقصود نہ بنائے بلکہ اس کی نگاہ ہو تو صرف اپنے معبود حقیقی پر تاکہ اس کے انوار جمال و جلال کے مشاہدہ میں استغراق کی نعمت سے سرفراز کیا جائے۔ اس لئے فرمایا ایاک نعبد۔ عابد واحد ہے لیکن صیغہ جمع کا استعمال کر رہا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ اپنی ناقص عبادت کو مقربین بارگاہ صمدیت کی اخلاص ونیاز میں ڈوبی ہوئی عبادت کے ساتھ پیش کرے تاکہ ان کی برکت سے اس کی عبادت کو بھی شرف پذیرائی نصیب ہو۔ 
      1 ٠ ف یعنی جیسے ہم عبادت صرف تیری ہی کرتے ہیں اسی طرح مدد بھی تجھی سے طلب کرتے ہیں تو ہی کارساز حقیقی ہے تو ہی مالک حقیقی ہے ہر کام میں ہر حاجت میں تیرے سامنے ہی دست سوال دراز کرتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس عالم اسباب میں اسباب سے قطع نظر کرلی جائے۔ بیمار ہوئے تو علاج سے کنارہ کش، تلاش رزق کے وقت وسائل معاش سے دست بردار، حصول علم کے لئے صحبت استاد سے بیزار۔ اس طریقۂ کار سے اسلام اور توحید کو کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ وہ جو شافی، رزاق اور حکیم ہے اسی نے ان نتائج کو ان اسباب سے وابستہ کردیا ہے۔ اسی نے ان اسباب میں تاثیر رکھی ہے۔ اب ان اسباب کی طرف رجوع استعانت بالغیر نہیں ہوگی۔ اسی طرح ان جملہ اسباب میں سب سے قوی تر اور اثر آفریں سبب دعا ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا دعاء یرد القضاء
       کہ دعا تو تقدیر کو بھی بدل دیتی ہے۔ اور اس میں بھی کلام نہیں کہ محبوبان خدا کے ساتھ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی عاجزانہ اور نیاز مندانہ التجاؤں کو ضرور شرف قبول بخشے گا۔ چنانچہ حدیث قدسی جسے امام بخاری (رح) اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے میں مذکور ہے کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے۔ لان سألنی لاعطینہ ولان استعاذنی لاعیذنہ۔ اگر میرا مقبول بندہ مجھ سے مانگے گا تو میں ضرور اس کا سوال پورا کروں گا۔ اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے گا تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا۔..
      تو اب اگر کوئی شخص ان محبوبان الہی کی جناب میں خصوصا حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثناء کے حضور میں کسی نعمت کے حصول یا کسی مشکل کی کشود کے لئے التماس دعا کرتا ہے تو یہ بھی استعانت بالغیر اور شرک نہیں بلکہ عین اسلام اور عین توحید ہے۔ ہاں اگر کسی ولی، شہید یا نبی کے متعلق کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ یہ مستقل بالذات ہے اور خدا نہ چاہے تب بھی یہ کرسکتا ہے تو یہ شرک ہے اور ایسا کرنے والا مشرک ہے۔ اس حقیقت کو حضرت شاہ عبد العزیز (رح) نے نہایت بسط کے ساتھ اپنی تفسیر میں رقم فرمایا ہے۔ اور اس کا ماحصل مولانا محمود الحسن صاحب نے اپنے حاشیہ قرآن میں ان جامع الفاظ میں بیان کیا ہے :۔
      ” اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت الہی اور غیر مستعمل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت حق تعالی سے ہی استعانت ہے۔ “ 
      اور اس طرح کی استعانت تو پاکان امت کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں عرض کرتے ہیں ؂ وانت مجیری من ھجوم ملمۃ اذا انشبت فی القلب شر المخالب۔
      بانی دار العلوم دیوبند عرض کرتے ہیں ؂ مدد کر اے کرم احمدی کہ تیرے سوا نہیں ہے قاسم بےکس کا کوئی حامی کار۔
                   (قصائد قاسمی دیوبندی)
                 (محمد عمران علی حیدری)
                     
                                    نمبر 2
                               📕نور العرفان📘
       ف 6 ۔ نعبد کے جمع فرمانے سے معلوم ہوا کہ نماز جماعت سے پڑھنی چاہیے اگر ایک کی قبول ہو سب کی قبول ہو۔
      ف 7 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقتا مدد اللہ کی ہے جیسے حقیقتا حمد رب کی ہے خواہ واسطے سے ہو یا بلاواسطہ خیا ل رہے کہ عبادت صرف اللہ کی ہے مدد لینا حقیقتا اللہ سے مجازا اس کے بندوں سے اس فرق کی وجہ سے ان دو چیزوں کو علیحدہ جملوں میں ارشاد فرمایا، خیال رہے کہ عبادت اور مدد لینے میں فرق یہ ہے کہ مدد تو مجازی طو رپر غیر خدا سے بھی حاصل کی جاتی ہے، رب فرماتا
      انما ولیکم اللہ و رسولہ اور فرماتا ہے و تعاونوا علی البر والتقوی، 
      لیکن عبادت غیر خدا کی نہیں کی جاسکتی نہ حقیقتا نہ حکما، کیونکہ عبادت کے معنی ہیں کسی کو خالق یا خالق کی ملع مان کر اس کی بندگی یا اطاعت کرنا یہ غیر خدا کے لیے شرک ہے اگر عبادت کی طرح دوسرے سے استعانت بھی شرک ہوتی تو یہاں یوں ارشاد ہوتا ، ایاک نعبد وایاک نستعین یہ بھی خیال رہے کہ دنیاوی یا دینی امور میں کبھی اسباب سے مدد لینا یہ درپردہ رب سے ہی مدد لینا ہے ، بیمار کا حکیم کے پاس جانا مظلوم کا حاکم سے فریاد کرنا ، گنہگار کا جناب محمد سے عرض کرنا اس آیت کے خلاف نہیں۔ جیسے کسی بندہ کی تعریف کرنا الحمد للہ کے عموم کے خلاف نہیں کیونکہ وہ بھی حمد بھی بالواسطہ رب ہی کی حمد ہے ، یہ بھی خیال رہے کہ اللہ کے نیک بندے بعد وفات بھی مدد فرماتے ہیں، معراج کی رات موسیٰ (علیہ السلام) نے پچاس نمازوں کی پانچ کرا دیں، اب بھی حضور کے نام کی برکت سے کافر کلمہ پڑھ کر مومن ہوتا ہے ، لہذا صالحین سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگنا اس آیت کے خلاف نہیں۔.
                      ( محمد عمران علی حیدری)
                     
                                    3نمبر 
                            صراط الجنان 
      {ایاك نعبد و ایاك نستعین:ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔} ا س سے پہلی ایات میں بیان ہوا کہ ہر طرح کی حمد و ثنا کا حقیقی مستحق اللہ تعالی ہے جو کہ سب جہانوں کا پالنے والا، بہت مہربا ن اور رحم فرمانے والا ہے اور اس ایت سے بندوں کو سکھایا جارہا ہے کہ اللہ  تعالی کی بارگاہ میں اپنی بندگی کا اظہار یوں کرو کہ اے اللہ !عزوجل، ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں کیونکہ عبادت کا مستحق صرف تو ہی ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی اس لائق ہی نہیں کہ اس کی عبادت کی جا سکے اور حقیقی مدد کرنے والا بھی تو ہی ہے۔تیری اجازت و مرضی کے بغیر کوئی کسی کی کسی قسم کی ظاہری، باطنی، جسمانی روحانی، چھوٹی بڑی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔
                          عبادت اور تعظیم میں فرق:
                   عبادت کامفہوم بہت واضح ہے، سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہوئے اس کی کسی قسم کی تعظیم کرنا’’ عبادت‘‘ کہلاتاہے اور اگر عبادت کے لائق نہ سمجھیں تو وہ محض’’ تعظیم‘‘ ہوگی عبادت نہیں کہلائے گی، جیسے نماز میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا عبادت ہے لیکن یہی نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا استاد، پیر یا ماں باپ کے لئے ہو تومحض تعظیم ہے عبادت نہیں اوردو نوں میں فرق وہی ہے جو ابھی بیان کیاگیا ہے۔
      ایت’’ایاك نعبد‘‘ سے معلوم ہونے والی اہم باتیں :
                  ایت میں جمع کے صیغے ہیں جیسے ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہئے اور دوسروں کو بھی عبادت کرنے میں شریک کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ گناہگاروں کی عبادتیں اللہ تعالی کی بارگاہ کے محبوب اور مقبول بندوں کی عبادتوں کے ساتھ جمع ہو کر قبولیت کادرجہ پالیتی ہیں۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ  تعالی کی بارگاہ میں اپنی حاجت عرض کرنے سے پہلے اپنی بندگی کا اظہار کرنا چاہئے۔  امام عبد اللہ بن احمد نسفیرحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :عبادت کو مدد طلب کرنے سے پہلے ذکر کیاگیا کیونکہ  حاجت طلب کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔
      📖(مدارک، الفاتحۃ، تحت الایۃ: ۴، ص۱۴)
      اللہ تعالی کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنے کی برکت:
                   ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں کسی کا وسیلہ پیش کر کے اپنی حاجات کے لئے دعا کیا کرے تاکہ اس وسیلے کے صدقے دعا جلدمقبول ہو جائے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا قران و حدیث سے ثابت ہے، چنانچہ وسیلے کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
      ’’ یایها الذین امنوا اتقوا الله و ابتغوا الیه الوسیلة ‘‘
      📖( مائدہ: ۳۵)
      ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
                  اور ’’سنن ابن ماجہ‘‘ میں ہیکہ ایک نابینا صحابی بارگاہ رسالت  صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر ہو کر دعا کے طالب ہوئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انہیں اس طرح دعا مانگنے کا حکم دیا: ’’ *اللہم انی اسالک واتوجہ الیک بمحمد  نبی الرحمۃ یا محمد انی قد توجہت بک الی ربی فی حاجتی ہذہ لتقضی اللہم فشفعہ فی*‘‘ اے اللہ! عزوجلمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ متوجہ ہوتا ہوں اے محمد ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم، میں نے اپ  صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وسیلے سے اپنے رب عزوجل کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کی تاکہ میری حاجت پوری کردی جائے ، اے اللہ!عزوجل ، پس تومیرے لئے حضور  صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔
      📖(ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی صلاۃ الحاجۃ، ۲/۱۵۷، الحدیث: ۱۳۸۵)
                  
      نوٹ
      صراط الجنان سے یا محمد کے بارے ایک چھوٹی سی وضاحت میں نے درج نہی کی جب کہ تفسیر میں موجود ہے میں نے تحریر میں درج نہی وہ مضمون کافی وضاحت طلب ہے
      ✍️إن شاءالله اس پر موقع کی مناسبت پر ایک تحریر لکھوں گا ۔اور ادھر درج نہ کرنے کی ایک اور وجہ موضوع سے ہٹ کی تھی یہ بات اس لیےبھی۔ اگر برا لگا تو معزرت چاھتا ہوں
       اللہ میری غلطیوں کا معاف کرے آمین۔۔🤲
      ناچیز احقر عمران 
      { و ایاك نستعین : اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔}اس ایت میں بیان کیاگیا کہ مدد طلب کرنا خواہ واسطے کے ساتھ ہو یا واسطے کے بغیر ہو ہر طرح سے اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے اور اللہ تعالی کی ذات ہی ایسی ہے جس سے حقیقی طور پر مدد طلب کی جائے ۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’ حقیقی مدد طلب کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس سے مدد طلب کی جائے اسے بالذات قادر،مستقل مالک اور غنی بے نیاز جانا جائے کہ وہ اللہ تعالی کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے ا س کام (یعنی مدد کرنے)کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے نزدیک’’ شرک‘‘ ہے اور کوئی مسلمان اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے بارے میں ایسا ’’عقیدہ‘‘ نہیں رکھتا اور اللہ تعالی کے مقبول بندوں کے بارے میں مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے واسطہ اور حاجات پوری ہونے کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں تو جس طرح حقیقی وجود کہ کسی کے پیدا کئے بغیر خود اپنی ذات سے موجود ہونا اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے،اس کے باوجود کسی کو موجود کہنا اس وقت تک شرک نہیں جب تک وہی حقیقی وجود مراد نہ لیا جائے، یونہی حقیقی علم کہ کسی کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے ہو اور حقیقی تعلیم کہ کسی چیزکی محتاجی کے بغیر از خود کسی کو سکھانا اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے، اس کے باوجود دوسرے کو عالم کہنا یا اس سے علم طلب کرنا اس وقت تک شرک نہیں ہو سکتا جب تک وہی اصلی معنی مقصود نہ ہوں تو اسی طرح کسی سے مدد طلب کرنے کا معاملہ ہے کہ اس کا حقیقی معنی اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے اور وسیلہ و واسطہ کے معنی میں اللہ تعالی کے علاوہ کے لئے ثابت ہے اور حق ہے بلکہ یہ معنی تو غیرخدا ہی کے لئے خاص ہیں کیونکہ اللہ  تعالی وسیلہ اور واسطہ بننے سے پاک ہے ،اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہو گا اور اس کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گا۔ بدمذہبوں کی طرف سے ہونے والا ایک اعتراض ذکر کر کے اس کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا سے توسل کر کے اسے کسی کے یہاں وسیلہ و ذریعہ بنایا جائے ، اس وسیلہ بننے کو ہم اولیاء کرام سے مانگتے ہیں کہ وہ دربار الہی میں ہمارا وسیلہ،ذریعہ اور قضائے حاجات کاواسطہ ہو جائیں ، اس بے وقوفی کے سوال کا جواب اللہ تعالی نے اس ایت کریمہ میں دیا ہے: ’’ 
      و لو انهم اذ ظلموا انفسهم جآءوك فاستغفروا الله و استغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحیما
      📖(۶۴)‘‘(النساء: ۶۴)
      ترجمہ:اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ کر کے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ سے معافی چاہیں اور معافی مانگے ان کے لئے رسول ،تو بے شک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔
                   کیا اللہ تعالی اپنے آپ نہیں بخش سکتا تھا پھر کیوں یہ فرمایا کہ اے نبی! تیرے پاس حاضر ہوں اورتو اللہ سے ان کی بخشش چاہے تویہ دولت و نعمت پائیں۔ یہی ہمارا مطلب ہے جو قران کی ایت صاف فرما رہی ہے۔
      📖(فتاوی رضویہ، ۲۱ /۳۰۴-۳۰۵۔) 
                  زیر تفسیر ایت کریمہ کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاوی رضویہ کی 21ویں جلد میں موجود اعلی حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃاللہ تعالی علیہ کا رسالہ’’برکات الامداد لاہل الاستمداد(مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں ) ‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔
      اللہ تعالی کی عطا سے بندوں کا مدد کرنا اللہ تعالی ہی کا مدد کرنا ہوتا ہے:
                   یاد رہے کہ اللہ  تعالی اپنے بندوں کو دوسروں کی مدد کرنے کا اختیار دیتا ہے اور اس اختیار کی بنا پر ان بندوں کا مدد کرنا اللہ تعالی ہی کا مدد کرنا ہوتا ہے، جیسے غزوۂ بدر میں فرشتوں نے اکر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکی مدد کی، لیکن اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
      ’’ و  لقد  نصركم  الله  ببدر  و  انتم  اذلة ‘‘
      📖( ال عمران: ۱۲۳)
      ترجمہ:اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے۔
                     یہاں فرشتوں کی مدد کو اللہ تعالی  کی مدد کہا گیا، اس کی وجہ یہی ہے کہ فرشتوں کو مدد کرنے کا اختیار اللہ تعالی کے دینے سے ہے تو حقیقتا یہ اللہ تعالی ہی کی مدد ہوئی۔ یہی معاملہ انبیا ء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃاللہ تعالی علیہمکا ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی عطا سے مدد کرتے ہیں اور حقیقتا وہ مدد اللہ تعالی کی ہوتی ہے، جیسے حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلامنے اپنے وزیر حضرت اصف بن برخیا رضی اللہ تعالی عنہسے تخت لانے کا فرمایا اور انہوں نے پلک جھپکنے میں تخت حاضر کردیا۔اس پر انہوں نے فرمایا: ’’ هذا من فضل ربی‘‘ترجمہ:یہ میرے رب کے فضل سے ہے۔
      📖(نمل :۴۰) 
      اورتاجدار رسالت  صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں مدد کرنے کی تو اتنی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سب جمع کی جائیں تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے،ان میں سے چند مثالیں یہ ہیں :
      (1)…صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تھوڑے سے کھانے سے پورے لشکر کو سیر کیا۔ 
      📖(بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق۔۔۔ الخ، ۳/۵۱-۵۲، الحدیث: ۴۱۰۱،  الخصائص الکبری،  باب معجزاتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی تکثیر الطعام غیر ما تقدم، ۲/۸۵)
      (2)…اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دودھ کے ایک پیالے سے ستر صحابہ کوسیراب کردیا۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی۔۔۔ الخ، ۴/۲۳۴، الحدیث: ۶۴۵۲، عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی۔۔۔ الخ، ۱۵/۵۳۶)
      (3)… انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر کے چودہ سو(1400)یا اس سے بھی زائد افراد کو سیراب کر دیا۔
      📖(بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ، ۳/۶۹، الحدیث: ۴۱۵۲-۴۱۵۳)
      (4)… لعاب د ہن سے بہت سے لوگوں کوشفا عطا فرمائی ۔
      📖(الخصائص الکبری،  باب ایاتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ابراء المرضی۔۔۔ الخ، ۲/۱۱۵-۱۱۸)
                  اور یہ تمام مددیں چونکہ اللہ تعالی کی عطا کردہ طاقت سے تھیں لہذا سب اللہ تعالی کی ہی مددیں ہیں۔ اس بارے میں مزید تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ کی30ویں جلد میں موجود اعلی حضرت،امام اہلسنت،مولاناشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے رسالے ’’ا لامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء( مصطفی کریم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والا کہنے والوں کے لئے انعامات)‘‘کامطالعہ فرمائیے۔   
                       ( محمد عمران علی حیدری)
                            4  نمبر 
                         📘نور العرفان📕
       ف 6 ۔ نعبد کے جمع فرمانے سے معلوم ہوا کہ نماز جماعت سے پڑھنی چاہیے اگر ایک کی قبول ہو سب کی قبول ہو۔
      ف 7 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقتا مدد اللہ کی ہے جیسے حقیقتا حمد رب کی ہے خواہ واسطے سے ہو یا بلاواسطہ خیا ل رہے کہ عبادت صرف اللہ کی ہے مدد لینا حقیقتا اللہ سے مجازا اس کے بندوں سے اس فرق کی وجہ سے ان دو چیزوں کو علیحدہ جملوں میں ارشاد فرمایا، خیال رہے کہ عبادت اور مدد لینے میں فرق یہ ہے کہ مدد تو مجازی طو رپر غیر خدا سے بھی حاصل کی جاتی ہے، رب فرماتا انما ولیکم اللہ و رسولہ اور فرماتا ہے و تعاونوا علی البر والتقوی، لیکن عبادت غیر خدا کی نہیں کی جاسکتی نہ حقیقتا نہ حکما، کیونکہ عبادت کے معنی ہیں کسی کو خالق یا خالق کی ملع مان کر اس کی بندگی یا اطاعت کرنا یہ غیر خدا کے لیے شرک ہے اگر عبادت کی طرح دوسرے سے استعانت بھی شرک ہوتی تو یہاں یوں ارشاد ہوتا ، ایاک نعبد وایاک نستعین یہ بھی خیال رہے کہ دنیاوی یا دینی امور میں کبھی اسباب سے مدد لینا یہ درپردہ رب سے ہی مدد لینا ہے ، بیمار کا حکیم کے پاس جانا مظلوم کا حاکم سے فریاد کرنا ، گنہگار کا جناب محمد سے عرض کرنا اس آیت کے خلاف نہیں۔ جیسے کسی بندہ کی تعریف کرنا الحمد للہ کے عموم کے خلاف نہیں کیونکہ وہ بھی حمد بھی بالواسطہ رب ہی کی حمد ہے ، یہ بھی خیال رہے کہ اللہ کے نیک بندے بعد وفات بھی مدد فرماتے ہیں، معراج کی رات موسیٰ (علیہ السلام) نے پچاس نمازوں کی پانچ کرا دیں، اب بھی حضور کے نام کی برکت سے کافر کلمہ پڑھ کر مومن ہوتا ہے ، لہذا صالحین سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگنا اس آیت کے خلاف نہیں.
                      ( محمد عمران علی حیدری)
                           نمبر 5
                     📕تبیان القرآن📘
      اللہ تعالی کا ارشاد ہے : روز جزاء کا مالک ہے (الفاتحہ : ٣) -
      مالک اور ملک کی دو قراءتیں : -
      مالک اور ملک اس آیت میں دونوں متواتر قراءتیں ہیں ‘ امام عاصم ‘ امام کسائی اور امام یعقوب کی قراءت میں مالک ہے۔ باقی پانچ ائمہ کی قرات میں ملک ہے۔ -
      مالک اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی مملوکہ چیزوں میں جس طرح چاہے تصرف کرنے پر قادر ہو اور ملک اس شخص کو کہتے ہیں اپنی رعایا میں احکام (امر و نہی) نافذ کرتا ہو۔ -
      قرآن مجید کی بعض آیات مالک کی موافقت میں ہیں اور بعض ملک کی۔ -
      اللہ تعالی کا ارشاد ہے : -
      (آیت) ” قل اللہ ملک الملک تؤتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآء وتعزمن تشآء وتذل من تشآء، بیدک الخیر۔ 
      📖(آل عمران : ٢٦)
       کہیے : اے اللہ ! ملک کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے اور تو جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت میں مبتلا کرتا ہے ‘ اور تمام بھلائی تیری ہاتھ میں ہے۔-
      (آیت) ” یوم لا تملک نفس لنفس شیئا، والامر یومئذ للہ .

      📖(الانفطار : ١٩)
       یہ وہ دن ہے جس میں کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا ‘ اور اس دن اللہ ہی کا ہوگا۔-
      ان دونوں آیتوں سے مالک کی تائید ہوتی ہے۔ -
      (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ملک الناس“۔ 
      📖(الناس : ٢۔ ١)
       آپ کہیے : میں تمام لوگوں کے رب ‘ تمام لوگوں کے بادشاہ کی پناہ میں آتا ہوں۔-
      (آیت) ” لمن الملک الیوم ‘ للہ الواحدالقھار “۔
       📖(المومن : ١٦) 
      آج کس کی بادشاہی ہے ؟ اللہ کی جو واحد ہے اور سب پر غالب ہے۔-
      (آیت) ” الملک یومئذللہ یحکم بینہم“۔ 
      📖(الحج : ٥٦ ). 
      اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہی ہوگی ‘ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ -
      اور ان دو آیتوں سے ملک کی تائید ہوتی ہے۔ -
      یوم کا عرفی اور شرعی معنی : -
      علامہ آلوسی لکھتے ہیں : -
      عرف میں طلوع شمس سے لے کر غروب شمس تک کے زمانہ کو یوم کہتے ہیں ‘ اور اعمش کے سو اہل سنت کے نزدیک شریعت میں طلوع فجر ثانی سے لے کر غروب شمس تک کے وقت کو یوم کہتے ہیں اور یوم قیامت اپنے معروف معنی میں حقیقت شرعیہ ہے۔ 
      📖(روح المعانی ج ١ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)-
      یوم قیامت کی مقدار : -
      قیامت کے دن کے متعلق قرآن مجید میں ہے : -
      (آیت) ” تخرج الملئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ.
      📖(المعارج : ٤) 
      جبرئیل اور فرشتے اس کی طرف عروج کرتے ہیں (جس دن عذاب ہوگا) اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ -
      امام ابو یعلی روایت کرتے ہیں : -
      حضرت ابوسعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں ‘ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید میں اس دن کے متعلق ہے کہ وہ پچاس ہزار برس کا ہوگا ‘ یہ کتنا لمبادن دن ہوگا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! مومن پر اس دن میں تخفیف کی جائے گی ‘ حتی کہ وہ جتنی دیر میں دنیا میں فرض نماز پڑھتا تھا اس پر وہ دن اس سے بھی کم وقت میں گزرے گا۔ 
      📖(مسند ابو یعلی ج ٢ ص ١٣٤‘ مطبوعہ دارالمامون ترات ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ) -
      ✍️( آقا و مولا نے کمال کردی پکی بات قسم کھاکے بتائی یہ غیب نہی تو کیا ہے یہ کام قیامت کو ہونا ہے لیکن پہلے بتا دیا گیا اور کیا غیب تجھ سے نہاں جب خدا ہی نہ چپا آپ سے ؟ عمران)
      اس حدیث کو حافظ ابن جریر 
      📖(جامع البیان ج ٢٩ ص ٤٥) اور حافظ ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ١١٣) نے بھی اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ 
      📖(موارد الظمان الی زاوائد ابن حبان ‘ ص ٦٣٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) -
      امام بیہقی   نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ -
      علامہ سیوطی   نے بھی اس کو امام احمد   ‘ امام ابویعلی   ‘ امام ابن جریر   ‘ امام ابن حبان   ‘ اور امام بیہقی   ‘ کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔
       📖(الدرالمنثور ج ٦ ص ٢٦٥۔ ٢٦٤‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ‘ ایران) -
      علامہ آلوسی   نے بھی اس کو مذکور الصدر حوالہ جات کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ 
      📖(روح المعانی ج ٢٩ ص ٥٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)-
      حضرت ابوسعید خدری (رض) کی حدیث مذکور کے متعلق حافظ الہیثمی   لکھتے ہیں : -
      اس حدیث کو امام احمد اور امام ابو یعلی   نے روایت کیا ہے ‘ اس کا ایک راوی ضعیف ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ 
      📖(مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ).
      نیز حافظ الہیثمی   لکھتے ہیں : -
      حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ رب العلمین ‘ کے سامنے آدھے دن تک کھڑے رہیں گے جو پچاس ہزار برس کا ہوگا اور مومن پر آسانی کردی جائے گی ‘ جیسے سورج کے مائل بہ غروب ہونے سے اس کے غروب ہونے تک ‘ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ 
      📖(مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ) -
      امام احمد روایت کرتے ہیں : -
      حضرت ابو سعید خدری (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ کافر کے لیے قیامت کا دین پچاس ہزار برس کا مقرر کیا جائے گا کیونکہ اس نے دنیا میں نیک عمل نہیں کئے۔ 
      📖(مسند ج ٣ ص ٧٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) -
      عدل و انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ جو لوگ دنیا میں اس طرح نماز پڑھتے ہیں کہ گویا وہ نماز میں اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہیں ‘ پھر وہ اس میں اس طرح محو ہوجاتے ہیں کہ انہیں گرد وپیش کا ہوش نہیں رہتا ‘ امام ابوحنیفہ   نماز پڑھ رہے تھے کہ مسجد کی چھت سے سانپ گرپڑا ‘ افراتفری مچ گئی مگر وہ اسی محویت سے نماز پڑھتے رہے ‘ ایک انصاری صحابی کو نماز کے دوران تیر لگا ‘ خون بہتا رہا اور وہ اسی انہماک سے نماز پڑھتے رہے ‘ امام بخاری کو نماز میں تتیہ نے سترہ ڈنک مارے اور انہیں احساس تک نہ ہوا ‘ سو ایسے ہی کاملین کی یہ جزاء ہوگی کہ قیامت کے دن ان کو فی الواقع دیدار الہی عطا کیا جائے اور جب ان کو دیدار الہی عطا کیا جائے گا تو وہ اس کی دید میں ایسے مستغرق ہوں گے کہ قیامت کے ہنگامہ خیز پچاس ہزار برس گزر جائیں گے اور ان کو یوں معلوم ہوگا جیسے ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت گزرا ہو ‘ لیکن اللہ تعالی ہم پر عدل نہیں کرم فرماتا ہے ‘ عدل کے لحاظ سے تو ہم دنیا میں بھی کسی نعمت کے مستحق نہیں ہیں ‘ اللہ تعالی دنیا میں بھی ہم کو دنیکوں کے صدقہ میں نعمتیں دیتا ہے ‘ سو آخرت میں بھی ان نیکوں کے طفیل ہم پر قیامت کا دن بہ قدر فرض نماز گزرے گا اور اپنے دیدار سے معمور فرمائے گا۔ -
      وقوع قیامت پر عقلی دلیل : -
      ہم اس دنیا میں دیکھتے رہتے ہیں کہ بعض لوگ ظلم کرتے کرتے مرجاتے ہیں اور ان کو ان کے ظلم پر کوئی سزا نہیں ملتی اور بعض لوگ ظلم سہتے سہتے مرجاتے ہیں اور ان کی مظلومیت پر کوئی جزا نہیں ملتی ‘ اگر اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہ ہو تو ظالم سزا کے بغیر اور مظلوم جزا کے بغیر رہ جائے گا اور یہ چیز اللہ تعالی کی حکمت کے خلاف ہے ‘ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس عالم کے بعد کوئی اور عالم ہو جس میں ظالم کو سزا دی جائے اور مظلوم کو جزا۔ -
       اور جزاء اور سزاء کے نظام کے برپا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس عالم کو بالکلیہ ختم کردیا جائے ‘ کیونکہ جزاء اور سزا اس وقت جاری ہوسکتی ہے جب بندوں کے اعمال ختم ہوجائیں ‘ اور جب تک تمام انسان اور یہ کائنات ختم نہیں ہوجاتی لوگوں کے اعمال کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا ‘ مثلا قابیل نے قتل کرنے کا طریقہ ایجاد کیا ‘ اب اس کے بعد جتنے قتل ہوں گے ان کے قتل کے جرم سے قابیل کے نامہ اعمال میں گناہ لکھا جاتا رہے گا ‘ اس لیے جب تک قتل کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا قابیل کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوگا ‘ اسی طرح ہابیل نے ظالم سے بدلہ نہ لینے کی رسم ایجاد کی ‘ اب اس کے بعد جو شخص بھی یہ نیکی کرے گا اس کی نیکی میں سے ہابیل کے نامہ اعمال میں نیکی لکھی جاتی رہے گی ‘ اس لیے جب تک اس نیکی کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا ہابیل کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوگا ‘ اسی طرح ایک شخص مسجد یا کنواں بنا کر مرجاتا ہے تو جب تک اس مسجد میں نماز پڑھی جاتی رہے گی ‘ جب تک اس کنوئیں سے پانی پیا جاتا رہے گا ‘ اس شخص کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی اور کوئی شخص بت خانہ یا شراب خانہ بنا کر مرگیا تو جب تک وہاں بت پرستی یا شراب نوشی ہوتی رہے گی اس کے نامہ اعمال میں برائیاں لکھی جاتی رہیں گی۔ -
      اس لیے جب تک یہ دنیا اور اس دنیا میں انسان موجود ہیں اس وقت تک لوگوں کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوسکتا اور لوگوں کے نامہ اعمال کو مکمل کرنے کے لیے دنیا اور دنیا والوں کو مکمل ختم کرنا ضروری ہے اور اسی کا نام قیامت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی حکمت اس کی متقاضی ہے کہ جزا اور سزا کا نظام قائم کیا جائے اور جزا اور سزا کو نافذ کرنے سے پہلے قیامت کا قائم کرنا ضروری ہے۔ -
      وقوع قیامت پر شرعی دلائل :-
      یہ دنیا دارالامتحان ہے اور اس میں انسان کی آزمائش کی جاتی ہے اور اس امتحان کا نتیجہ اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا لیکن نیک اور بد ‘ اطاعت گزار اور نافرمان ‘ موافق اور مخالف اور مومن اور کافر میں فرق کرنا ضروری ہے اور یہ فرق صرف قیامت کے دن ظاہر ہوگا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :۔-
      (آیت) ” لیجزی الذین اسآء وا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی.
      📖(النجم : ٣١) 
      تاکہ برے کام کرنے والوں کو ان کی سزا دے اور نیکی کرنے والوں کو اچھی جزا دے۔ -
      (آیت) ” ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار.
       📖(ص : ٢٨) 
      کیا ہم ایمان والوں اور نیکی کرنے والوں کو زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح کردیں گے ؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے ؟۔
      (آیت) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلہم کالذین امنوا وعملوا الصلحت ‘ سوآء محیاھم ومماتھم سآء ما یحکمون.
      📖 (الجاثیہ : ٢١)
       کیا برے کام کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم ان کو ان لوگوں کی طرف کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے کہ (ان سب کی) زندگی اور موت برابر ہوجائے ؟ وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔ -
      (آیت) ” افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون
      📖(القلم : ٣٦۔ ٣٥)
       کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں جیسا کردیں گے تمہیں کیا ہوا ‘ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟ -
      دنیا میں راحت اور مصیبت کا آنا مکمل جزاء اور سزا نہیں ہے : -
      ہر چند کہ بعض لوگوں کو دنیا میں ہی ان کی بداعمالیوں کی سزا مل جاتی ہے۔ مثلا ان کا مالی نقصان ہوجاتا ہے ‘ یا وہ ہولناک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا ان پر دشمنوں کا خوف طاری ہوجاتا ہے ‘ لیکن یہ ان کی بداعمالیوں کی پوری پوری سزا نہیں ہوتی ‘ اور ہم کتنے ہی لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ساری عمر عیش پرستی ‘ ہوس ناکیوں اور ظلم وستم کرنے میں گزار دیتے ہیں ‘ پھر اچانک ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے اور ان کی دولت اور طاقت کانشہ کافور ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کے جرائم کے مقابلہ میں یہ بہت کم سزا ہوتی ہے ‘ اس لیے ان کی مکمل سزا کے لیے ایک اور جہاں کی ضرورت ہے جہاں قیامت کے بعد ان کو پوری پوری سزا ملے گی۔ -
      (آیت) ” ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون۔
      📖(السجدہ : ٢١)
       اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے (دنیا میں) ہلکا عذاب ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ باز آجائیں۔ -
      اس طرح بہت سے نیک بندے ساری عمر ظلم وستم سہتے رہتے ہیں اور مصائب برداشت کرتے رہتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی میں آرام اور راحت کا بہت کم موقعہ ملتا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالی قیامت کو قائم کرے گا اور ہر شخص کو اسکی نیکی اور بدی کی پوری پوری جزا اور سزا دے گا۔
      (آیت) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ
      📖(الزلزال : ٨۔ ٧) 
      سو جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کی (جزا) پائے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کی (سزا) پائے گا۔-
      دین کا لغوی معنی : -
      علامہ زبیدی لکھتے ہیں : -
      دین کا معنی ہے جزا اور مکافات ‘ قرآن مجید میں (آیت) ” مالک یوم الدین “ کا معنی ہے : یوم جزاء کا مالک ‘ دین کا معنی عادت بھی ہے ‘ کہا جاتا ہے :” مازال ذالک دینی “ میری ہمیشہ سے یہ عادت ہے ‘ اور دین کا معنی اللہ تعالی کی عبادت ہے ‘ اور دین کا معنی طاعت ہے ‘ حدیث میں ہے :-
      یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ : وہ امام کی اطاعت سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔-
      (علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥‘ 
      📖(تاج العروس ج ٩ ص ٢٠٨۔ ٢٠٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ) -
      دین ‘ شریعت اور مذہب وغیرہ کی تعریفات : میر سید شریف لکھتے ہیں : -
      دین ایک الہی دستور ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوتا ہے جو عقل والوں کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ دین اور ملت متحد بالذات ہیں اور مختلف بالاعتبار ہیں کیونکہ شریعت بہ حیثیت اطاعت دین ہے اور بہ حیثیت ضبط اور تحریر ملت ہے ‘ اور جس حیثیت سے اس کی طرف رجوع کیا جائے مذہب ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ دین اللہ کی طرف منسوب ہے اور ملت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب ہے اور مذہب مجتہد کی طرف منسوب ہے۔ 
      📖(کتاب التعریفات ص ٤٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ) -
      عبودیت کا التزام کرکے حکم ماننا شریعت ہے ‘ ایک قوم یہ ہے کہ شریعت دین کا ایک راستہ ہے۔
      📖 (کتاب التعریفات ص ٥٥‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ) -
      علامہ بدرالدین   عینی لکھتے ہیں : -
      ” شرعۃ ومنھاجا “ کی تفسیر میں قتادہ (رض) نے کہا : دین ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔ 
      📖(عمدۃ القاری ج ١ ص ١١٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) -
      علامہ قطبی مالکی   لکھتے ہیں : -
      اللہ تعالی نے اہل تورات کے لیے تورات مقرر کی اور اہل انجیل کے لیے انجیل اور اہل قرآن کیلیے قرآن مقرر کیا اور یہ تقرر شریعتوں اور عبادتوں میں ہے اور اصل توحید ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
      📖 (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢١١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) -
      امام بخاری   مجاہد   سے روایت کرتے ہیں :-
      اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک ہی دین کی وصیت کی ہے۔ 
      📖(صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)-
      قرآن مجید میں ہے : -
      اللہ تعالی نے تمہارے لیے اسی دین کا راستہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس دین کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، موسی (علیہ السلام) اور عیسی (علیہ السلام) کو دیا تھا کہ اسی دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ دالو۔ -
      اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور وہ اسلام ہے۔ -
      (آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاء “۔
       
      (المائدہ : ٤٨)
       ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ شریعت اور واضح راہ عمل بنائی ہے۔ -
      اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر نبی کی شریعت الگ ہے۔ -
      قرآن مجید کی ان آیات اور احادیث اور عبارات علماء کا حاصل یہ ہے کہ جو عقائد اور اصول تمام انبیاء میں مشترک ہیں مثلا توحید ‘ رسالت قیامت جزاء ‘ سزا ‘ اللہ کی تعظیم اور اس کے شکر کا واجب ہونا ‘ قتل اور زنا کا حرام ہونا ‘ ان کا نام دین ہے اور ہر نبی نے اپنے زمانہ کے مخصوص حالات کے اعتبار سے عبادات اور نظام حیات کے جو مخصوص احکام بتائے وہ شریعت ہے ‘ ان کو مدون اور منضبط کرنا ملت ہے اور امام اور مجتہد نے کتاب اور سنت سے جو احکام مستنبط کیے ان کا نام مذہب ہے ‘ اور مشائخ طریقت نے جو اوراد اور وظائف کے مخصوص طریقے بتائے ان کا نام مسلک اور مشرب ہے اور کسی مخصوص درسگاہ کے نظریات کا نام مکتب فکر ہے ‘ مثلا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم دین کے اعتبار سے مسلمان ہیں ‘ شریعت کے اعتبار سے محمدی ہیں ‘ مذہب کے اعتبار سے ماتریدی اور حنفی ہیں اور مسلک اور مشرب کے اعتبار سے قادری ہیں اور مکتب فکر کے لحاظ سے بریلوی ہیں۔ -
      اللہ ‘ رب ‘ رحمن ‘ رحیم اور مالک یوم الدین میں وجہ ارتباط :-
       سورة فاتحہ کے شروع میں اللہ تعالی نے اپنے پانچ اسماء ذکر کئے ہیں : اللہ ‘ رب ‘ رحمن ‘ رحیم اور مالک یوم الدین اور ان میں ارتباط اس طرح ہے کہ ” اللہ “ کے تقاضے سے اس نے انسان کو پیدا کیا ‘ ” رب “ کے تقاضے سے اس نے غیر متناہی نعمتوں سے انسان کی پرورش کی ‘ ” رحمن “ کے تقاضے سے انسان کے گناہوں پر پردہ رکھا ‘” رحیم “ کے تقاضے سے انسان کی توبہ قبول کرکے اس کو معاف فرمایا اور (آیت) ” مالک یوم الدین“ کے تقاضے سے انسان کو اس کے اعمال صالحہ کی جزاء عطا فرمائی۔ -
      اگر یہ سوال ہو کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ میں بھی اللہ تعالی کی صفت رحمن و رحیم کا ذکر ہے اور سورة فاتحہ کی ابتداء میں پھر ان صفات کا ذکر ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے کہ رحمن اور رحیم کو دو مرتبہ ذکر کیا ہے اور باقی اسماء کا دو مرتبہ ذکر نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہو کہ اللہ تعالی پر رحمت کا غلبہ ہے اس لیے بندہ کو اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہر وقت اس کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے ‘ اس کے بعد (آیت) ” مالک یوم الدین “ فرمایا کہ کہیں اس کی رحمت سے دھوکا کھا کر انسان گناہوں پر دلیر نہ ہوجائے کیونکہ وہ ” مالک یوم الدین “ بھی ہے۔ -
      جس طرح اس آیت میں فرمایا ہے :-
      غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول۔
       
      (المومن : ٤٠) 
      وہ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ‘ بہت سخت عذاب دینے والا قدرت والا ہے۔ -
      ” الحمد للہ “ میں مسند الیہ مقدم ہے اور خبر معرفہ ہے اور عربی قواعد کے مطابق ایسی ترکیب مفید حصر ہوتی ہے ‘ نیز اللہ تعالی کی صفات رب ’ رحیم ‘ اور (آیت) ” *مالک یوم الدین* “ بہ منزلہ علت ہیں ‘ اس اعتبار سے معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کے سوا اور کوئی حمد کا مستحق نہیں ہے کیونکہ وہی رب ہے ‘ وہی رحمن، رحیم اور مالک روز جزاء ہے ‘ اور اس میں یہ رمز ہے کہ جس میں یہ صفات نہ ہوں وہ تو ستائش کے لائق بھی نہیں ہے چہ جائیکہ وہ پرستش کا مستحق ہو اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ ہی حمد وثناء کے لائق ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے تو ہم سے یہ کہلوایا : اے پروردگار ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔.۔ 
         ( دعاؤں کا طلبگار محمد عمران علی حیدری )
       (post5)
      20.04.2021
      7.رمضان المبارک1443ھ
    • By Aquib Rizvi
      ★ تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال ★
       
      میــرے صحـابــہؓ کــے معـامـلـے میــں اللہ ســے ڈرو حـدیــثـــــ کــی تحـقیـق
      اَلصَّـــلٰوةُوَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَاخَـاتَــمَ النَّبِیِّیْــن
      بِسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْــــــمٰنِ الرَّحــــــِیـــــم
      امام ابنِ حؒبان (المتوفى: 354هـ) نے فرمایا
      أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوا أَصْحَابِي غَرَضًا مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذ اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ"
      صحيح ابن حبان حدیث نمبر 7256📓
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے 
      [ ھذا حدیث صحیح لغیرہ ]
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      صحیح ابن حبان کی سند میں عبد الله بن عبد الرحمن الرومي پر جہالت کا الزام ہے جس وجہ سے اس سند کو ضعیف کہا جاتا ہے مگر تحقیق کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام درست نہیں سب سے پہلے ہم اس راوی کے معروف ہونے پر دلیل دیں گے اور پھر اس کی توثیق پر چنانچہ سید المحدثین امام بخاریؒ فرماتے ہیں 
      مُحَمد بْن الحُسَين بْن إِبْرَاهِيم، حدَّثني أَبي، سَمِعتُ حَماد بْن زَيد، حدَّثنا عَبد اللهِ الرُّومِيّ، ولم يكن رُومِيًّا، كَانَ رجلا منا من أهل خُراسان
      حسین بن ابراہیم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ انہوں نے حماد بن زید سے سنا کہ عبداللہ الرومی جو ہے یہ رومیوں میں سے نہیں بلکہ یہ اہل خراسان میں سے ایک ہے  
      یہ ہے اس راوی کے معروف ہونے کی دلیل 👆 
      جہاں تک بات رہی توثیق کی تو درج ذیل محدثین نے اس کی توثیق کی
      امام ابن حبؒان نے ان کو ثقہ کہا ✦
      ثقات ابن حبان 5/17 رقم :- 52📕
      امام زین الدین قاسمؒ بن قطلوبغا نے کتاب الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة یعنی وہ ثقہ راوی جو کتب ستہ میں موجود نہیں اس کتاب میں درج کرکے توثیق کی
      الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة 5/378📓
      اور امام عجلیؒ نے بھی اس کو ثقہ کہا ✦
      تاريخ الثقات ص284 رقم :- 914📙
      مزید یہ کہ امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے بھی ثقہ کہا ہے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ راوی کم از کم درجہ صدوق حسن الحدیث پر فائز ہے اور اس کو اس درجہ سے گرانا زیادتی ہوگی ہو سکتا ہے یہاں پر کچھ لوگوں کو اشکال ہو کہ امام الائمہ والمسلمین شیخ الاسلام امام ابن حجرعسقلانیؒ نے تقریب التہذیب میں اس کو مقبول کہا ہے اور وہ اس اصطلاح کا اطلاق لین الحدیث پر کرتے ہیں تو اس اشکال کا بھی جواب دیتے چلتے ہیں 
      اسکا جواب یہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ کا اس کو مقبول کہنا اس کو درجہ صدوق سے نہیں گراتا کیونکہ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے تو اپنی اصطلاح مقبول کا اطلاق صحیح بخاری کے ثقہ راوی پر بھی کیا ہے مثلاً 
      يحيى بن قزعة
      ان کو امام ابن حبانؒ نے ثقہ کہا امام ذھبیؒ نے ثقہ کہا مگر حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ان کو مقبول کہا جب کہ یہ امام بخاریؒ کے شیخ ہیں اور امام بخاریؒ ان سے صحیح بخاری میں متصل مرفوع روایات لائے ہیں مثال کے طور پر چند حدیثوں کے نمبر پیش کر دیتا ہوں جن میں امام بخاریؒ ڈائریکٹ ان سے روایت کر رہے ہیں 
      حدیث نمبر :- 4491 ٬ 2602 ٬ 6988 ٬ 4216
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ صحیح ابن حبان کی سند حسن ہے اب چلتے ہیں سنن الترمذی کی سند کی طرف
      امام ترمذیؒ (المتوفى: 279هـ) نے فرمایا 
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
      سنن ترمذي حدیث نمبر 3862📘
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      اس کی سند میں موجود راوی عبد الرحمن بن زياد پر یہ اعتراض ہے کہ یہ مجہول راوی ہے یہ اعتراض بھی حقیقت کے بالکل مخالف ہے یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے 
       اس کو امام یحؒییٰ بن معین نے ثقہ کہا✦ 
      اور یہ ایک متفقہ اصول ہے کہ اگر متشدد امام کسی راوی کی تعدیل و توثیق کرے تو وہ اعلی درجہ کی مقبولیت کی حامل ہوتی ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ نے امام یحییؒ بن سعید القطان کے بارے میں فرمایا اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امام یحییؒ بن معین جرح میں متشدد امام تھے لہذا آپ کی توثیق اعلی درجے کی مقبولیت کی حامل ہے
      سـير أعـلام النبـلاء للإمام الذهبي 9/183📒
      اس کو امام ابن حبؒان نے ثقہ کہا✦
       اس کو امام عجلیؒ نے ثقہ کہا ✦
       امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے ثقہ ✦
      كتاب تهذيب التهذيب 6/177📔
      کتاب تحریر تقريب التهذيب میں اس راوی سے حتمی فیصلہ یہ بتایا گیا کہ یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے اور ہمارے نزدیک بھی یہی درست اور راجح ہے
      كتاب تحریر تقريب التهذيب 2/320📙
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ ابن حؒبان کی سند بھی حسن ہے اور ترمذی کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند کو تو خود امام ترمذیؒ نے بھی حسن غریب کہا ہے لہذا یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجے پر فائز ہے کیونکہ اصول حدیث کی کتب میں صحیح لغیرہ کی تعریف واضح ہے
      الصحيح لغيرہ هو الحسن لذاته إذا روي من طريق آخر مثله أو أقوى منه وسمي صحيحا لغيره؛ لأن الصحة لم تأت من ذات السند الأول، وإنما جاءت من انضمام غيره له
      ترجمہ: صحیح لغیرہ وہ ہے جب حسن لذاتہ کو کسی دوسرے طریق ( سند ) کے ساتھ روایت کیا جائے جو اس کی مثل یا اس سے زیادہ قوی ہو تو یہ صحیح لغیرہ ہے اس کو صحیح لغیرہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صحت سند کی ذات سے نہیں آتی بلکہ اس کے غیر کو اس سے ملانے کی وجہ سے آتی ہے
      نخبة الفكر مع شرحها نزهة النظر ص34📕 
      كتاب تيسير مصطلح الحديث ص64📓 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      خــلاصـــــــہ کــــــــلام
      اصولی طور پر ہم نے ثابت کیا کہ صحیح ابن حبان کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند بھی حسن ہے لہذا جب دو حسن اسناد ایک دوسرے کی مثل موجود ہیں تو یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجہ پر فائز ہے 
      اگر کوئی شخص صحیح ابن حبان کی سند کو ضعیف مانتا ہے اور جامع ترمذی کی سند کو حسن مانتا ہے تو تب بھی یہ حدیث حسن لذاتہ درجے پر فائز رہے گی اور ابن حبان کی سند اس کی شاہد بنے گی 
       اور اگر کوئی شخص دونوں اسناد کو ضعیف کہتا ہے تب بھی یہ حدیث درجہ حسن لغیرہ پر فائز رہے گی یعنی قابل احتجاج و استدلال رہے گی 
      لہذا کسی طرح بھی اس حدیث کی صحت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی شخص مطلقاً اس حدیث کو ضعیف کہتا ہے تو وہ علم و اصول حدیث سے ناواقف ہے 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب
      ⇊ تحـقیــق و دعـاگـــو 
      خـادم اہـلسنت و جمـاعت محمــد عـاقـب حسیــن رضــوی
      ⇊ بــا تصــدیــق فـضيـلــة الشيــخ 
      اســد طحــاوي الحنفـي البـريـلوي غفرالله له
      عـلامــة زبـيـر احمــد جمـالـوي عفـي الله عنـه
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ






    • By Sunni Haideri
      زمین آسمان کی کنجیاں اور سلطنت حضور        صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے
                    یا اللہ عزوجل       یارسول اللہ 
                            صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
       الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہؐ
      ✍️اللہ نے مرتبہ دیا ہے ۔ تم کیوں جلتے ہو؟
      عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم :
       
      رَوَاهُ الْمُحِبُّ الطَّبَرِيُّ.31 /31)
      3-4: أخرجه محب الدين الطبري في الرياض النضرة، 1 /366، الرقم: 109، وإسماعيل الأصبهاني في دلائل النبوة، 1 /65، الرقم: 25، والسيوطي في الخصائص الکبري، 2 /388، والثعالبي في الکشف والبيان، 7 / 468.
      ’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو اﷲ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع فرمائے گا اور دو نورانی منبر لائے جائیں گے، ایک عرش کی دائیں جانب اور دوسرا عرش کی بائیں جانب نصب کیا جائے گا، اِن منبروں پر دو شخص نمودار ہوں گے، پس وہ جو عرش کی دائیں جانب ہو گا ندا دے گا: اے گروہانِ مخلوقات! جس نے مجھے پہچان لیا اُس نے جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا (تو وہ جان لے) کہ میں جنت کا داروغہ رضوان ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جنت کی کنجیاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تھما دوں، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اُنہیں ابو بکر و عمر (رضی اﷲ عنہما) کو تھما دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کو جنت میں داخل کر سکیں۔ پس تم آگاہ ہو جاؤ۔ پھر وہ شخص جو عرش کی بائیں جانب ہو گا ندا دے گا: جس نے مجھے جان لیا سو جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا تو وہ جان لے کہ میں مالک، جہنم کا داروغہ ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جہنم کی کنجیاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دے دوں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہ کنجیاں ابو بکر و عمر کو دے دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ بغض رکھنے والوں کو جہنم میں دھکیل سکیں۔ سو تم سب اِس پر گواہ ہو جاؤ۔‘‘ اِسے محب الدین الطبری نے روایت کیا ہے۔
      اس روایت کو کتاب موجبات الجنہ لابن الفاجر میں ابن الفاجر نے بھی نقل کیا ہے۔

      317 - ثنا الإمام عمي قال، ثنا أبو علي الوزير إملاءً قال، ثنا يوسف بن محمد الزاهد.
      -وأنبا أبو طاهر الصوفي بقراءاتي عليه قال، ثنا يوسف بن محمد في كتابه، قال، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن أحمد قال، ثنا القاسم بن محمد السراج، ثنا محمد بن أحمد الضبي الدينوري بمكة في المسجد الحرام قال، ثنا أحمد بن يحيى قال، ثنا الصابر الجارود قال، ثنا هشيم عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
      ((إذا كان يوم القيامة ينصب ميزانٌ من ذهبٍ أمام العرش فيأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو أحدهما فيقول من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا رضوان خازن الجنة، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله -عز وجل- أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر رضي الله عنه يدخل الجنة محبيه ومحبي عائشة بغير حسابٍ، ويأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو المنبر الثاني، ويقول: من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا مالكٌ خازن النار، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر الصديق رضي الله عنه يدخل النار مبغضيه ومبغضي عائشة بغير حسابٍ)).
      قال أبو بكر: سمع هذا الحديث الكرخي، وقال: لو كان هذا الحديث مكتوباً على الجدار لكان الواجب أن يكتب بماء الذهب.
                 كتاب موجبات الجنة لابن الفاخر.
        
                               ابن الفاخِر
      بابٌ في ذكر أن محبي أبي بكر وعائشة -رضي الله عنها- يدخلون الجنة بغير حساب.

                            ✍️ اس کی سند پر کلام ہے
                              اس حدیث کا متن بالکل قرآن و صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہے
                  وَلَـلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰىؕ.
                                 4    سورۃ الضحى            
                                           :    ترجمہ
      اور بیشک بعد والی ساعت آپ کے لئے پہلی ساعت سے بہتر 
      📖تفسیر میں مفسرین نے کیا فرمایا دو کتب سےمفہوم
       کہ آنے والے اَحوال آپ کے لئے گزشتہ سے بہتر و برتر ہیں  گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اورہر آنے والی گھڑی میں  آپ کے مَراتب ترقیوں میں رہیں  گے۔
      مدارک، الضّحی، تحت الآیۃ:4 تفسیرکبیر، الضّحی، تحت الآیۃ4
                      2 : وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ.
                            ( الضحی 5)
                                                  :ترجمہ
      اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے.

                اسکا متن آپ خود دیکھ لیں گے۔

      آپ ایک بار اوپر والی روایت کو غور سے پڑھیں پھر ان احادیث کو پڑھتے جائیں ۔إن شاءالله۔۔آپ خود ہی سمجھ جائیں گے۔
      📘 1 : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ،    أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا۔
                                صحیح بخاری جلد1 حدیث. 1344.2977.3596
       ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس میں واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے یہی بات اوپر والی روایت میں کی گئی بات  ہے۔
      ✍️یہ حدیث بخاری میں چار جگہ پر موجود ہے اس کے علاوہ بھی بہت ساری کتب میں درج ہے الفاظ مختلف مفہوم ایک ہی ہے کہ ذات محبوب کبریا عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اب اسکا تعین کرنا کون کون سے خزانے ہیں ہمارے بس کی بات نہیں۔
      ✍️اور نہ ہم اس مسلہ میں قید و بند لگا سکتے ہیں حدیث پر کہ ہاں یہ ہوگا یہ نہیں۔ ایسا کرنا وہابیہ کا کام ہے ہمارا نہی۔
      ✍️ہم نے بس مان لیا کہ ہاں دے دی گئی ہیں اب دینے والا اور لینے والا جانے۔
      ✍️میرے خیال میں اور حقائق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کنجیاں کا لفظ کہنا یہ مقصد تھا کہ رسائی،(پہنچ) اختیار ،بادشاہت اللہ نے دےدی ہے۔ 
      📘 2: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ, ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ , وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ, وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ, أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ, وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
      صحیح بخاری جلد2 حدیث 4085
       ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض  ( حوض کوثر)  کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا مفاتيح الأرض یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔ 
      ✍️اب اس حدیث پر غور کریں تو نبی علیہ السلام فرما رہے ہین کہ اپنے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں حوض کوثر کہاں ہے اور لفظ حضورؑ نے فرمایا اپنے یعنی میرا۔ مالکیت ظاہر ہورہی ہے۔
      ✍️ سلطنت آسمان پر بھی ہے جس کی سلطنت ہو اختیار ہو و چابیاں بھی اسی کے پاس ہوتی ہیں
      ✍️جیسا کہ ایک بادشاہ کا وزیر ہوتا ہے بادشاہ اس کو بہت سارے اختیار دیتا ہے وزیر اسے استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ وزیر کو سب دے دیا جاتا ہے ہر چیز پر وہ حکمرانی کرتا ہے۔ جیسا حدیث میں ہے واللہ یعطی انا القاسم اسی طرح ایک اور حدیث ہے ۔
      اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں. 
                     ( مشکوات شریف ص ٥٢١ )۔
                      (محمد عمران علی حیدری)
      📘 3 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ.
      صحیح بخاری جلد1 حدیث 120.
      ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  ( علم کے )  دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «بلعوم» سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔ 
                     (محمد عمران علی حیدری)
      📘 4 :حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ دَاوُدُ،‏‏‏‏ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ۔
      سنن الترمذی جلد2 حدیث 3666
                    ھذا حدیث صحیح
       
      ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔
                    (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️جسے چاہیں جو جو عطا کریں سب دیا آپ کی سلطنت میں
      📘 5 :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏   الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا۔
      سنن ابن ماجہ جلد١حدیث 118
                         ھذا حدیث صحیح
      ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔ 
      📘 6: وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
                                  مشکوۃ شریف
      ترجمہ: حضرت ام سلمہ   ؓ  سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاطمہ   ؓ  کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رو پڑیں ، پھر ان سے کوئی بات کی تو وہ ہنس پڑی ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کی ہنسی کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میں فوت ہو جاؤں گا تو میں رو پڑی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا کہ مریم بنت عمران کے علاوہ اہل جنت کی خواتین کی میں سردار ہوں ۔‘‘ اس پر میں ہنس دی ۔ رواہ الترمذی.
                    (محمد عمران علی حیدری)
      📘 7 :ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﺤﺎﻓﻆ، ﺛنا ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺩﺣﻴﻢ اﻟﺪﻣﺸﻘﻲ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻲ، ﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻓﺪﻳﻚ، ﻋﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ اﻟﺰﻣﻌﻲ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺮﻳﺢ، ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺣﻤﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺣﺪﺛﻪ ﺃﻇﻨﻪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﺃﻥ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺪﺛﻪ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻋﺸﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ، ﻭﻋﻤﺮ، ﻭﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻭﻋﻠﻲ، ﻭاﻟﺰﺑﻴﺮ، ﻭﻃﻠﺤﺔ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻭﺳﻌﺪ، ﻭﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪﺓ ﺑﻦ اﻟﺠﺮاﺡ ﻭﻫﺆﻻء ﺗﺴﻌﺔ» ، ﺛﻢ ﺳﻜﺖ ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻧﻨﺸﺪﻙ اﻟﻠﻪ ﺃﻻ ﺃﺧﺒﺮﺗﻨﺎ ﻣﻦ اﻟﻌﺎﺷﺮ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻧﺸﺪﺗﻤﻮﻧﻲ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺃﺑﻮ اﻷﻋﻮﺭ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ»
                         ﺳﻜﺖ ﻋﻨﻪ اﻟﺬﻫﺒﻲ ﻓﻲ اﻟﺘﻠﺨﻴص
      (المستدرك علي الصحيحين: رقم الحديث 5858جلد3                     498صفحہ,ط:دارالكتب العلمية۔)
                   اگر وہابی یہ آیت پیش کریں
      لَّهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ.
                                            63الزمر آیت 
                                              :   ترجمہ
      اسی کے پاس آسمانوں اور زمینوں کی چابیاں ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا ہے وہی نقصان اٹھانے والے ہیں.
       
      میں پوچھنا چاھتا ہوں اوپر بیان کی گئی احادیث کو مانوں گے یا انکار کردو گے؟؟
      ہاں یہ بات سنی ہی سمجھ سکتا ہے اور سمجھا سکتا ہے ورنہ ایسے نے تو سیدنا علیؓ پر بھی شرک کا فتوئ لگا دیا تھا۔ العیاذ بااللہ۔
      اس آیت کو سمجھنے کے لیے درج ذیل تفاسیر کو پڑھیے ۔
                                                خزائن العرفان۔
                                                  تبیان القرآن ۔
                                                  صرط الجنان۔
                                                     روح البیان۔
                                                     وغیرہ۔
              ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضؔا مسلّم
             جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھادیے ہیں۔

               ( طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
×
×
  • Create New...