Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts

             امتیازی شان کنزالایمان             

اعلیحضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، ولی نعمت، سیدی، مرشدی، امام اھلسنت، مجدد دین و ملت،الحاج،الحافظ، القاری، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن۔

✍️ کا ترجمہ کنزالایمان۔ خزینہ القرآن،نرالی شان، سب سے الگ پہچان، جس میں رکھا  ادب کا دیان، اس پوسٹ کو پڑھ کے آپ بھی ہوجائیں حیران و پریشان۔پھر آپ کو چلے گا پتہ کیا ہے اعلی حضرتؒ کی شان۔

تراجم کا تقابل المختصر

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا خاتم الانبیاء 

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  
 🗡️ضرب حیدری🗡️
  
فیض رضا جاری رہے گا
               💪💪💪

✍️اس آیت کے مختلف تراجم پیش کریں گے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ ایمان داری سے دیکھیں پڑھیں سمجھیں۔

✍️۔ آخر میں امام اھلسنت کا ترجمہ کو رکھا گیا ہے۔ تاکہ سمجھنے آسانی ہو۔ 

اس پوسٹ میں تین آیات کو کے تراجم موازنہ ہوگا باقی کسی دوسری  پوسٹ میں اگر موقع لا تو۔ إن شاءالله۔۔

✍️یہ پوسٹ ماہ رضا کی نسبت سے لکھ رہا ہوں۔

❤️❤️ دلیل آیت نمبر 1❤️❤️

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ
﴿۱۴۲﴾آل عمران 142 آیت

            1 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ:

کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے  حالانکہ اب تک اللہ تعالٰی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟۔

          2 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ:

بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ( یونہی ) جنت کے اندر جاپہنچو گے؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو  جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں ، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں.

            3 ابو الاعلیٰ مودودی کا ترجمہ:

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں.

4 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ:

کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں ہے تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔

5 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ:

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے.

6 اعلی حضرت امام اھلسنہ رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ:

کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی.
✍️انصاف آپ کے ہاتھ میں اللہ کے علم کی نفی کن کے تراجم میں  اگر غیر مسلم نتھو ایرے غیرے بولیں کے آپ کا قرآن ہے مولوی بھی مسلم ترجمہ بھی تمہارا تمہارے اللہ کو تو پہلے کسی چیز کا پتہ ہی نہی تو اس اسکے ذمہ دار کون سے ترجمہ والے ہیں۔؟

✍️امام اھلسنت نے ترجمہ ہی  ایسا کیا کہ سوچ بھی اس طرف نہی جاتی نفی علم الہی  کی طرف ۔
سلام آپ کو کیا شان ہے اعلی حضرتؒ کی۔

❤️❤️ دلیل آیت نمبر2❤️❤️

اَللّٰہُ یَسۡتَہۡزِئُ بِہِمۡ وَ یَمُدُّہُمۡ  فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۵﴾
البقرہ آیت15

1 ابو الاعلی مودودی کا ترجمہ:

 اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے  ،  وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے ،  اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں.

2 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: 

درحقیقت اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔

3 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ:

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں.

4 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ:

اللہ ان سے مذاق ( کا معاملہ ) کرتا ہے اور انہیں ایسی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

5 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ:

اللہ تعالٰی بھی ان سے مذاق کرتا ہے  اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے.

6 امام اھلسنہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ:

اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے ) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں.

✍️اب فرق خود کرلیں امام اھلسنہ نے استہزاء کا لفظ فرمایا فرمایا اپنی شان کے مطابق اور کتنا ادب ہے ترجمہ میں۔سبحان الله‎ ۔۔

✍️دوسروں کے تراجم کو دیکھا جاۓ تو اللہ کے بارے میں شک ہوتا ہے کہ اللہ ہستا ہے شائد ہماری طرح اللہ کسی جگہ پر موجود ہے۔ 

جسم ہوگا پھر اللہ مزاق بھی کرتا ہے۔العیاذ بااللہ۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔

❤️❤️ دلیل آیت نمبر3❤️❤️

وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى.

سورۃ الضحى آیت نمبر7

1 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ:

اور آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی!

2 جوناگڑہی غیر مقلد کا ترجمہ:

اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی۔

3 ابوالاعلی مودودی کا ترجمہ:

اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی.

4 مفتی تقی عثمانی کا ترجمہ:

اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا.

5 فتح محمد جالندہری کا ترجمہ:

اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا.

امام اھلسنہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا ترجمہ:۔

اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی،
          END

✍️اب اندازہ خود لگائیں ترجمہ دیکھ میں اب کچھ نہی کہتا قارئین کرام آپ خود فیصلہ کریں ۔ نبی علیہ السلام کو ناوافق بھولا ہوا کس نے لکھا کہ؟

✍️اور امام اھسنت کا  ترجمہ دیکھیں انہوں نے ایسا نہی لکھا ۔

فیض رضا جاری رہے گا۔۔إن شاءالله

(طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
09.09.2021.
01صفر المظفر 1443ھ

IMG-20210907-WA0103.jpg

Edited by Sunni Haideri
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Sunni Haideri
      🏹 شہادت امام حسین علیہ السلام کی نشاندہی🏹
      1 : 15124- عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ، [قَتْلًا] وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ.
      ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسین کو شہید کیا جاۓ گا اور میں اس مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جاۓ گا دو نہروں کے قریب ہے.
      ✍️حضرت علیؓ بھی جانتے تھے۔ 
      ✍️اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں باقی احادیث کو بھی اس حدیث سے تقویت مل رہی ہے یزیدی ڈاکٹرز کے پاس جائیں👨‍⚕️
      ✍️دعا ہے اللہ جلدی یزیدیوں کا صفایا فرما دے آمین۔🤲
      رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
            تخریج:
      ✍️ یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔✍️
      📖ابن أبي شيبة في مصنفه باب من كره الخروج في الفتنة وتعوذ عنها ~ حديث رقم 36699
      📖ابن أبي شيبة في مصنفه باب ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم ~ حديث رقم 30097۔
      ( محمد عمران علی حیدری)
      2 :وَفِي "مُسْنَدِ أَبِي يَعْلَى": ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي قَائِمًا بِالْقِسْطِ، حَتَّى يَكُونَ أَوَّلُ مَنْ يَثْلَمُهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ يُقَالَ لَهُ: يَزِيدُ
      📖إسناده مرسل. وانظر المجمع "5/ 241"
      ترجمہ: میری امت کا امر عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائیگا۔
      ✍️یہ حدیث سند کے لحاظ سے سے مرسل ہے ہمارے ہاں قابل حجت ہے۔
      ✍️ اور اسکا متن بالکل ٹھیک ہے۔ یزید ہی پہلا لعنتی انسان تھا جس نے اپنی من مانی کی اور اہل بیت کی بے ادبی اور شعار اسلام کی ڈھایا ہے۔واقعہ حرہ قابل غور ہے۔
      ✍️جو درج نہی نہی کیا جا سکتا، آپ اس واقعہ کو پڑھ لیں ایک بار۔بس۔
      3 : ۱۲۴٤۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ مَلَکَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّہُ أَنْ یَأْتِیَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَہُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَۃَ: امْلِکِی عَلَیْنَا الْبَابَ لَا یَدْخُلْ عَلَیْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَائَ الْحُسَیْنُ لِیَدْخُلَ فَمَنَعَتْہُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ یَقْعُدُ عَلٰی ظَہَرِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی مَنْکِبِہِ وَعَلٰی عَاتِقِہِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَکُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّہُ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَکَ سَتَقْتُلُہُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَیْتُکَ الْمَکَانَ الَّذِییُقْتَلُ فِیہِ فَضَرَبَ بِیَدِہِ فَجَائَ بِطِینَۃٍ حَمْرَاء َ فَأَخَذَتْہَا أُمُّ سَلَمَۃَ فَصَرَّتْہَا فِی خِمَارِہَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّہَا کَرْبَلَائُ.
      📖اسے احمد (المسند:242/1 ح 2165 ، 282/1 ح 2553 ۔۔ 
      📖کتاب فضائل الصحابۃ: 779/2 ح 1381 ) 
      📖طبرانی(الکبیر: 110/3 ح 2822) 
      حاکم (397/4، 398 ح8201) , 
      بیہقی (دلائل النبوۃ :471/6) اور 
      ابن عساکر (تاریخ دمشق : 228/14) نے حماد بن سلمۃ عن عمار بن ابی عمار عن ابن عباسؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
      اسے حاکمؒ و ذہبیؒ دونوں نے صحیح مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
      📖حافظ ابن کثیرؒ نے کہا: اسے (کتب سبعہ میں سے)صرف احمد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند قوی ہے (البدایۃ و النھایۃ: 202/8 )
      📖شیخ وصی اللہ بن عباس المدنی المکی فرماتے ہیں :
      اس کی سند صحیح ہے۔
      (تحقیق فضائل الصحابۃ: 779/2)
      ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عباس  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما  سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کھڑے تھے اور آپ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج جمع کر رہا ہوں۔  ہم نے اس دن کا حساب لگایا تو وہ وہی دن تھا، جس دن سیدنا حسین  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  شہید ہوئے تھے۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      3 : نبی کریم ﷺ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر سخت غمگین تھے۔
      ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی۔
      (مشخیۃ ابراہیم بن طہمان : ۳ و سندہ حسن و من طریق ابن طہمان رواہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۱۹۲/۱۴، ولہ طریق آخر عندالحاکم ۳۹۸/۴ ح ۵۲۰۲ و صححہ علیٰ شرط الشیخین و وافقہ الذہبی)
      4 : شہر بن حوشب تابعی(صدوق حسن الحدیث ، و ثقہ الجمہور) سے روایت ہے کہ جب (سیدنا) حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی شہادت کی خبر عراق سے آئی تو ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے فرمایا: عراقیوں پر لعنت ہو، عراقیوں نے آپ کو قتل کیا ہے ،اللہ انہیں قتل کرے، انہوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ کو ذلیل کیا، اللہ انہیں ذلیل کرے ۔
       
      (فضائل الصحابۃ، زوائد القطیعی جلد2 صفحہ782 حدیث 1392. مسند احمد، جلد6 صفحہ 298 حدیث550 و سندہ حسن)

      5: یزال أمر أمتی قائما بالقسط حتی یثلمہ رجل من بنی أمیۃ یقال لہ یزید۔
      ابن کثیر: البدایہ والنہایہ. جلد8 صفحہ231
      ’’میری امت کا امر (حکومت) عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائیگا۔‘‘
      6: (۱۲۴۳۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ: بَعَثَنَا یَزِیدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ دَخَلْتُ عَلٰی فُلَانٍ نَسِیَ زِیَادٌ اسْمَہُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَنَعُوا مَا صَنَعُوا فَمَا تَرٰی؟ فَقَالَ: أَوْصَانِی خَلِیلِی أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((إِنْ أَدْرَکْتَ شَیْئًا مِنْ ہٰذِہِ الْفِتَنِ فَاعْمَدْ إِلٰی أُحُدٍ،فَاکْسِرْ بِہِ حَدَّ سَیْفِکَ، ثُمَّ اقْعُدْ فِی بَیْتِکَ، قَالَ: فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْکَ أَحَدٌ إِلَی الْبَیْتِ فَقُمْ إِلَی الْمَخْدَعِ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَیْکَ الْمَخْدَعَ فَاجْثُ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ، وَقُلْ بُؤْ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ، وَذٰلِکَ جَزَائُ الظَّالِمِینَ، فَقَدْ کَسَرْتُ حَدَّ سَیْفِیْ وَقَعَدْتُ فِیْ بَیْتِیْ))۔ 
      (مسند احمد: ۱۸۱۴۵)
      وسندصحیح
      ترجمہ: ابو ا شعت صنعانی سے مروی ہے ، انھوں نے کہا: یزید بن معاویہ نے ہمیں سیدنا ابن زبیر  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کے مقابلہ کے لیے بھیجا، میں مدینہ منورہ پہنچا تو فلاں کے پاس حاضرہوا، زیاد نے اس کا نام بیان کیا تھا، اس نے کہا: لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، آپ سب دیکھ رہے ہیں؟ ان حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میرے خلیل ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے مجھے وصیت کی تھی کہ اگر تم ان فتنوں میں سے کسی فتنہ کو دیکھو تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھ رہنا، اگر کوئی فتنہ باز شخص تمہارے گھر کے اندر گھس آئے تو تم کسی کوٹھڑی کے اندر  چھپ جانا اور اگر کوئی تمہاری کو ٹھڑی میں آجائے تو تم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جانا اور کہنا کہ تو میرے قتل کے گناہ اور اپنے گناہوں کے ساتھ واپس جا، تیرا نجام جہنم ہے اور ظالموں کا یہی بدلہ ہے، لہٰذا اے بھائی! میں تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھا ہوں.
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️آج لوگ کہتے ہیں یزید نے کچھ بھی نہی کیا تھا.
      میں مزید کیا وضاحت کروں خود ہی ساری پوسٹ پرھ لیں سمجھ لگ جاۓ گی۔۔۔إن شاءالله۔
      7 :۔ (۱۲۴۳۷)۔ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ، کَتَبَ إِلٰی قَیْسِ بْنِ الْہَیْثَمِ حِینَ مَاتَ یَزِیدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ: سَلَامٌ عَلَیْکَ أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، فِتَنًا کَقِطَعِ الدُّخَانِ، یَمُوتُ فِیہَا قَلْبُ الرَّجُلِ، کَمَا یَمُوتُ بَدَنُہُ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِی کَافِرًا، وَیُمْسِی مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَہُمْ وَدِینَہُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا۔)) وَإِنَّ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ قَدْ مَاتَ، وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا، فَلَا تَسْبِقُونَا حَتّٰی نَخْتَارَ لِأَنْفُسِنَا۔ 
      (مسند احمد: ۲۴۲۹۰ صحیح)
      ترجمہ: جب یزید بن معاویہ کی وفات ہوئی توضحاک بن قیس نے  قیس بن ہیثم کو خط لکھا، اس کا مضمون یہ تھا، تم پرسلامتی ہو، أَمَّا بَعْدُ! میں نے رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں جیسے شدید اور خوفناک فتنے بپا ہوں گے اور کچھ فتنے دھوئیں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، تب لوگوں کے دل یوں مردہ ہوجائیں گے، جیسے بدن مردہ ہو جاتے ہیں،ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اور کفر کی حالت میں شام کرے گا اور ایک آدمی شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے بدلے فروخت کرنے لگیں گے۔  یزید بن معاویہ فوت ہو چکا ہے اور تم ہمارے بھائی ہو، تم کسی معاملہ میں ہم سے سبقت نہ کرنا تاآنکہ ہم خود کسی بات کو اپنے لیے اختیار نہ کر لیں۔ 
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس حدیث میں بات ہے نوٹ کرنے والی عقل والوں کے لیے۔
      سب امثال بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یزید فوت ہوگیا🧐🤔۔
      🤷‍♂️✍️خط بھی یزید کے مرنے کے بعد لکھا گیا تھا۔
      ✍️وجہ کیا تھا ایسا کیوں کرنا پڑا اسکا مطلب صاف ہے۔
      ✍️یزید کی اولاد آج بھی یزید کو بے گناہ ثابت کرنا چاھتے ہیں۔
      ✍️🤲بس ایک دعا ہےہم حسینی ہیں ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ ہو بس۔۔ آمین🤲۔

      8: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ لأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً۔
      ( صحیح مسلم جلد2حدیث4793)
      ترجمہ:  نافع سے روایت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہما  عبداﷲ بن مطیع کے پاس آئے جب حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اس  طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔ عبداﷲ بن مطیع نے کہا ابو عبدالرحمن رضی ‌اللہ ‌عنہ   ( یہ کنیت ہے عبداﷲ بن عمر رضی ‌اللہ ‌عنہما  کی )  کے لیے تو شک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا ہوں جو میں نے رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ فرماتے تھے جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن خدا سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہوگی اور جو شخص مرجاوے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہوگی۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️کس نے لشکر بھیجا کدھر بھیجا نقصان کس کو ہوا؟
      ✍️آج لوگ کہتے نظر آتے ہیں دو شہزادوں کی جنگ تھی لعنت تم  جاہلو دشمن اہل بیت لوگ ہیں یہ کہنے والے ایسا۔
      ✍️ کہاں شہزادہ جنت کہاں لخت جگر بتول سلام علیہا، کہاں جگر گوشہ ابو ترابؓ۔
      ✍️اور کہاں یزید رزیل لعنتی انسان۔ جس نے صحابہ پر ظلم کیا اور اہل بیت پر بھی اور مدینہ پر بھی 😭😭😭😭ظلم۔
      ✍️ سلیمان بن محمد بن عمر بجرمی المصری الشافعی.✍️
       سلیمان بن محمد بن عمر بجیرمی مصری شافعی اپنی کتاب تحفة الحبيب على شرح الخطيب میں لکھتے ہیں:
      أَنَّ لِلْإِمَامِ أَحْمَدَ قَوْلًا بِلَعْنِ يَزِيدَ تَلْوِيحًا وَتَصْرِيحًا وَكَذَا لِلْإِمَامِ مَالِكٍ وَكَذَا لِأَبِي حَنِيفَةَ وَلَنَا قَوْلٌ بِذَلِكَ فِي مَذْهَبِ إمَامِنَا الشَّافِعِيِّ وَكَانَ يَقُولُ بِذَلِكَ الْأُسْتَاذُ الْبَكْرِيُّ. وَمِنْ كَلَامِ بَعْضِ أَتْبَاعِهِ فِي حَقِّ يَزِيدَ مَا لَفْظُهُ زَادَهُ اللَّهُ خِزْيًا وَمَنَعَهُ وَفِي أَسْفَلِ سِجِّيْنَ وَضَعَهُ وَفِي شَرْحِ عَقَائِدِ السَّعْدِ يَجُوزُ لَعْنُ يَزِيدَ.
      یزید پر اشارتاً اور واضح طور پر لعنت کرنے کے متعلق امام احمد کے اقوال موجود ہیں اور یہی صورتحال امام مالک اور ابو حنیفہ کی بھی ہے اور ہمارے امام شافعی کا مذہب بھی یہی ہے اور البکری کا قول بھی یہی ہے۔ البکری کے بعض پروکاروں نے کہا ہے کہ اللہ یزید اور اس کے لشکر کی رسوائی میں اضافہ کرے اور اسے جہنم کے نچلے ترین درجہ پر رکھے۔
      ( البجيرمي، تحفة الحبيب على شرح الخطيب، 12: 369، بيروت: دار الفكر)
      ( طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
      19.08.2021
    • By Sunni Haideri
      زمین آسمان کی کنجیاں اور سلطنت حضور        صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے
                    یا اللہ عزوجل       یارسول اللہ 
                            صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
       الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہؐ
      ✍️اللہ نے مرتبہ دیا ہے ۔ تم کیوں جلتے ہو؟
      عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم :
       
      رَوَاهُ الْمُحِبُّ الطَّبَرِيُّ.31 /31)
      3-4: أخرجه محب الدين الطبري في الرياض النضرة، 1 /366، الرقم: 109، وإسماعيل الأصبهاني في دلائل النبوة، 1 /65، الرقم: 25، والسيوطي في الخصائص الکبري، 2 /388، والثعالبي في الکشف والبيان، 7 / 468.
      ’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو اﷲ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع فرمائے گا اور دو نورانی منبر لائے جائیں گے، ایک عرش کی دائیں جانب اور دوسرا عرش کی بائیں جانب نصب کیا جائے گا، اِن منبروں پر دو شخص نمودار ہوں گے، پس وہ جو عرش کی دائیں جانب ہو گا ندا دے گا: اے گروہانِ مخلوقات! جس نے مجھے پہچان لیا اُس نے جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا (تو وہ جان لے) کہ میں جنت کا داروغہ رضوان ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جنت کی کنجیاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تھما دوں، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اُنہیں ابو بکر و عمر (رضی اﷲ عنہما) کو تھما دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کو جنت میں داخل کر سکیں۔ پس تم آگاہ ہو جاؤ۔ پھر وہ شخص جو عرش کی بائیں جانب ہو گا ندا دے گا: جس نے مجھے جان لیا سو جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا تو وہ جان لے کہ میں مالک، جہنم کا داروغہ ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جہنم کی کنجیاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دے دوں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہ کنجیاں ابو بکر و عمر کو دے دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ بغض رکھنے والوں کو جہنم میں دھکیل سکیں۔ سو تم سب اِس پر گواہ ہو جاؤ۔‘‘ اِسے محب الدین الطبری نے روایت کیا ہے۔
      اس روایت کو کتاب موجبات الجنہ لابن الفاجر میں ابن الفاجر نے بھی نقل کیا ہے۔

      317 - ثنا الإمام عمي قال، ثنا أبو علي الوزير إملاءً قال، ثنا يوسف بن محمد الزاهد.
      -وأنبا أبو طاهر الصوفي بقراءاتي عليه قال، ثنا يوسف بن محمد في كتابه، قال، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن أحمد قال، ثنا القاسم بن محمد السراج، ثنا محمد بن أحمد الضبي الدينوري بمكة في المسجد الحرام قال، ثنا أحمد بن يحيى قال، ثنا الصابر الجارود قال، ثنا هشيم عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
      ((إذا كان يوم القيامة ينصب ميزانٌ من ذهبٍ أمام العرش فيأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو أحدهما فيقول من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا رضوان خازن الجنة، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله -عز وجل- أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر رضي الله عنه يدخل الجنة محبيه ومحبي عائشة بغير حسابٍ، ويأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو المنبر الثاني، ويقول: من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا مالكٌ خازن النار، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر الصديق رضي الله عنه يدخل النار مبغضيه ومبغضي عائشة بغير حسابٍ)).
      قال أبو بكر: سمع هذا الحديث الكرخي، وقال: لو كان هذا الحديث مكتوباً على الجدار لكان الواجب أن يكتب بماء الذهب.
                 كتاب موجبات الجنة لابن الفاخر.
        
                               ابن الفاخِر
      بابٌ في ذكر أن محبي أبي بكر وعائشة -رضي الله عنها- يدخلون الجنة بغير حساب.

                            ✍️ اس کی سند پر کلام ہے
                              اس حدیث کا متن بالکل قرآن و صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہے
                  وَلَـلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰىؕ.
                                 4    سورۃ الضحى            
                                           :    ترجمہ
      اور بیشک بعد والی ساعت آپ کے لئے پہلی ساعت سے بہتر 
      📖تفسیر میں مفسرین نے کیا فرمایا دو کتب سےمفہوم
       کہ آنے والے اَحوال آپ کے لئے گزشتہ سے بہتر و برتر ہیں  گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اورہر آنے والی گھڑی میں  آپ کے مَراتب ترقیوں میں رہیں  گے۔
      مدارک، الضّحی، تحت الآیۃ:4 تفسیرکبیر، الضّحی، تحت الآیۃ4
                      2 : وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ.
                            ( الضحی 5)
                                                  :ترجمہ
      اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے.

                اسکا متن آپ خود دیکھ لیں گے۔

      آپ ایک بار اوپر والی روایت کو غور سے پڑھیں پھر ان احادیث کو پڑھتے جائیں ۔إن شاءالله۔۔آپ خود ہی سمجھ جائیں گے۔
      📘 1 : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ،    أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا۔
                                صحیح بخاری جلد1 حدیث. 1344.2977.3596
       ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس میں واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے یہی بات اوپر والی روایت میں کی گئی بات  ہے۔
      ✍️یہ حدیث بخاری میں چار جگہ پر موجود ہے اس کے علاوہ بھی بہت ساری کتب میں درج ہے الفاظ مختلف مفہوم ایک ہی ہے کہ ذات محبوب کبریا عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اب اسکا تعین کرنا کون کون سے خزانے ہیں ہمارے بس کی بات نہیں۔
      ✍️اور نہ ہم اس مسلہ میں قید و بند لگا سکتے ہیں حدیث پر کہ ہاں یہ ہوگا یہ نہیں۔ ایسا کرنا وہابیہ کا کام ہے ہمارا نہی۔
      ✍️ہم نے بس مان لیا کہ ہاں دے دی گئی ہیں اب دینے والا اور لینے والا جانے۔
      ✍️میرے خیال میں اور حقائق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کنجیاں کا لفظ کہنا یہ مقصد تھا کہ رسائی،(پہنچ) اختیار ،بادشاہت اللہ نے دےدی ہے۔ 
      📘 2: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ, ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ , وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ, وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ, أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ, وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
      صحیح بخاری جلد2 حدیث 4085
       ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض  ( حوض کوثر)  کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا مفاتيح الأرض یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔ 
      ✍️اب اس حدیث پر غور کریں تو نبی علیہ السلام فرما رہے ہین کہ اپنے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں حوض کوثر کہاں ہے اور لفظ حضورؑ نے فرمایا اپنے یعنی میرا۔ مالکیت ظاہر ہورہی ہے۔
      ✍️ سلطنت آسمان پر بھی ہے جس کی سلطنت ہو اختیار ہو و چابیاں بھی اسی کے پاس ہوتی ہیں
      ✍️جیسا کہ ایک بادشاہ کا وزیر ہوتا ہے بادشاہ اس کو بہت سارے اختیار دیتا ہے وزیر اسے استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ وزیر کو سب دے دیا جاتا ہے ہر چیز پر وہ حکمرانی کرتا ہے۔ جیسا حدیث میں ہے واللہ یعطی انا القاسم اسی طرح ایک اور حدیث ہے ۔
      اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں. 
                     ( مشکوات شریف ص ٥٢١ )۔
                      (محمد عمران علی حیدری)
      📘 3 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ.
      صحیح بخاری جلد1 حدیث 120.
      ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  ( علم کے )  دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «بلعوم» سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔ 
                     (محمد عمران علی حیدری)
      📘 4 :حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ دَاوُدُ،‏‏‏‏ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ۔
      سنن الترمذی جلد2 حدیث 3666
                    ھذا حدیث صحیح
       
      ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔
                    (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️جسے چاہیں جو جو عطا کریں سب دیا آپ کی سلطنت میں
      📘 5 :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏   الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا۔
      سنن ابن ماجہ جلد١حدیث 118
                         ھذا حدیث صحیح
      ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔ 
      📘 6: وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
                                  مشکوۃ شریف
      ترجمہ: حضرت ام سلمہ   ؓ  سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاطمہ   ؓ  کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رو پڑیں ، پھر ان سے کوئی بات کی تو وہ ہنس پڑی ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کی ہنسی کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میں فوت ہو جاؤں گا تو میں رو پڑی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا کہ مریم بنت عمران کے علاوہ اہل جنت کی خواتین کی میں سردار ہوں ۔‘‘ اس پر میں ہنس دی ۔ رواہ الترمذی.
                    (محمد عمران علی حیدری)
      📘 7 :ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﺤﺎﻓﻆ، ﺛنا ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺩﺣﻴﻢ اﻟﺪﻣﺸﻘﻲ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻲ، ﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻓﺪﻳﻚ، ﻋﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ اﻟﺰﻣﻌﻲ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺮﻳﺢ، ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺣﻤﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺣﺪﺛﻪ ﺃﻇﻨﻪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﺃﻥ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺪﺛﻪ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻋﺸﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ، ﻭﻋﻤﺮ، ﻭﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻭﻋﻠﻲ، ﻭاﻟﺰﺑﻴﺮ، ﻭﻃﻠﺤﺔ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻭﺳﻌﺪ، ﻭﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪﺓ ﺑﻦ اﻟﺠﺮاﺡ ﻭﻫﺆﻻء ﺗﺴﻌﺔ» ، ﺛﻢ ﺳﻜﺖ ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻧﻨﺸﺪﻙ اﻟﻠﻪ ﺃﻻ ﺃﺧﺒﺮﺗﻨﺎ ﻣﻦ اﻟﻌﺎﺷﺮ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻧﺸﺪﺗﻤﻮﻧﻲ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺃﺑﻮ اﻷﻋﻮﺭ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ»
                         ﺳﻜﺖ ﻋﻨﻪ اﻟﺬﻫﺒﻲ ﻓﻲ اﻟﺘﻠﺨﻴص
      (المستدرك علي الصحيحين: رقم الحديث 5858جلد3                     498صفحہ,ط:دارالكتب العلمية۔)
                   اگر وہابی یہ آیت پیش کریں
      لَّهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ.
                                            63الزمر آیت 
                                              :   ترجمہ
      اسی کے پاس آسمانوں اور زمینوں کی چابیاں ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا ہے وہی نقصان اٹھانے والے ہیں.
       
      میں پوچھنا چاھتا ہوں اوپر بیان کی گئی احادیث کو مانوں گے یا انکار کردو گے؟؟
      ہاں یہ بات سنی ہی سمجھ سکتا ہے اور سمجھا سکتا ہے ورنہ ایسے نے تو سیدنا علیؓ پر بھی شرک کا فتوئ لگا دیا تھا۔ العیاذ بااللہ۔
      اس آیت کو سمجھنے کے لیے درج ذیل تفاسیر کو پڑھیے ۔
                                                خزائن العرفان۔
                                                  تبیان القرآن ۔
                                                  صرط الجنان۔
                                                     روح البیان۔
                                                     وغیرہ۔
              ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضؔا مسلّم
             جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھادیے ہیں۔

               ( طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
    • By Aquib Rizvi
      ★ تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال ★ 
       
      کــیــا حنــفــی گــمــراہ فــرقــہ ہــے انــجیــنئر مــرزا کــــی جـہـالـتـــــ کــا رد 
      اَلصَّـــلٰوةُ وَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَارَسُـــوْلَ اللّہ وَعَلیٰ اَلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَاحَبِیْبَ اللّٰہﷺ 
      ❁◐••┈┉•••۞═۞═۞═۞═◐•••┉┈••◐❁
      مشہور زمانہ فتنہ علمی یتیم جونیئر مرزا جہلمی غنیۃ الطالبین کے حوالے سے اعتراض کرتا ہے کہ اس کتاب میں سیدنا غوث الاعظمؓ نے حنفیہ کو مرجئہ فرقوں میں شمار کیا ہے ان شاءاللہ اس کا رد بلیغ کریں گے
      ✧✧✧ـــــــــــــــــ{﷽}ـــــــــــــــــــــ✧✧✧
      سب سے پہلے یہ جان لیں کہ مرجئہ کے معنی کیا ہیں 
      مرجئہ کا لفظ ارجاء سے ہے جس کے لغوی معنیٰ موخر کرنا ہیں اصطلاحی معنیٰ کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانیؒ 852ھ لکھتے ہیں 
      وَمِنْهُم من أَرَادَ تَأْخِير القَوْل فِي الحكم على من أَتَى الْكَبَائِر وَترك الْفَرَائِض بالنَّار لِأَن الْإِيمَان عِنْدهم الْإِقْرَار والاعتقاد وَلَا يضر الْعَمَل مَعَ ذَلِك 
       مقدمہ فتح الباری ص646📕
      کہ بعض کے ہاں ارجاء سے مراد گناہِ کبیرہ کے مرتکب اور فرائض کے تارک پر دخول فی النار [آگ میں داخل ہونا] کے حکم کو مؤخر کرنا ہے کیونکہ ان [مرجئہ] کے ہاں ایمان محض اقرار اور اعتقاد کا نام ہے ارتکابِ کبیرہ اور ترکِ فرائض ایمان کے ہوتے ہوئے نقصان دہ نہیں 
      سلطان المحدثین ملا علی قاریؒ 1014ھ فرماتے ہیں 
      ثم المرجئه طائفته قالوا لایضر مع الایمان ذنب کمالا ینفع مع الکفر طاعته فزعموا ان احدا من المسلمین لایعاقب علي شئي من الکبائر 
      شرح فقہ اکبر ص75📔
      ترجمہ: مرجئہ ایسا فرقہ ہے جس کا اعتقاد یہ ہے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ کچھ نقصان دہ نہیں، جیسے کفر کی موجودگی میں طاعت کچھ فائدہ مند نہیں ان کا اعتقاد یہ ہے کہ کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کی وجہ سے سزا پا ہی نہیں سکتا 
      ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥
      تو آپ لوگوں کو اس فرقے کا تعارف تو پتہ چل ہی گیا ہوگا اب اصل میں یہ فرقہ حنفیہ نہیں بلکہ فرقہ غسانیہ ہے یعنی غسان ابن عبا الکوفی کے متبعین کو فرقہ غسانیہ کہتے ہیں
      ان کے عقائد آپ کو اوپر بتائے جا چکے ہیں مزید دیکھ لیں
      امام عبدالقاھر البغدادیؒ 429ھ فرقہ مرجئہ کے پیرو غسان مرجئی کے بارے میں لکھتے ہیں
      قال انه يزيد ولا ينقص وزعم غسان هذا فى كتابه ان قوله فى هذا الكتاب كقول أبى حنيفة فيه وهذا غلط منه عليه لأن أبا حنيفة قال إن الايمان هو المعرفة والاقرار بالله تعالٰى وبرسله وبما جاء من الله تعالى ورسله فى الجملة دون التفصيل وانه لا يزيد ولا ينقص وغسان قد قال بأنه يزيد ولا ينقص
      الفرق بين الفرق ص188📒
      ترجمہ: غسان مرجئی کہتا ہے کہ ایمان بڑھتا تو ہے کم نہیں ہوتا اس غسان نے اپنی کتاب میں یہ کہا ہے کہ اس کا یہ قول امام ابوحنیفہؓ کے قول کی طرح ہے، لیکن امام صاحب کے بارے میں اس کی یہ بات غلط ہے، کیونکہ امام ابوحنیفہؓ تو یہ کہتے ہیں کہ ایمان معرفت اللہ اور رسول ﷺ کے اقرار اور ان چیزوں کے اجمالی اقرار کا نام ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آئی ہیں بغیر تفصیل کے اور یہ نفسِ ایمان نہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ لیکن غسان مرجئی کہتا تھا کہ ایمان زیادہ ہوتا ہے کم نہیں ہوتا
      ================================
      اب یہ عقیدہ نہ تو امام ابو حنیفہؓ کا ہے نہ آپ کے متبعین کا دراصل غسان ابن عبا اور اس کے متبعین لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے یہ کہا کرتے تھے کہ جو عقیدہ ہمارا ہے امام ابو حنیفہؓ کا بھی یہی عقیدہ تھا اور پھر یہ فرقہ غسانیہ کے نام سے بدل کر حنفیہ کے نام سے مشہور ہو گیا
      اس لئے شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے جس نام سے یہ فرقہ مشہور تھا اسی نام سے اس کو مرجئہ میں شامل کیا
      ┄┅════❁✾✾✾❁════┅┄
      اور امام اعظم ابو حنیفہؓ نے تو خود اس عقیدہ کا اپنی کتاب میں رد کیا ہے جو غسان ابن عبا کا تھا 
      امام ابوحنیفہؓ نے اس کا رد اپنی کتاب فقہ الاکبر میں صراحت سے کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں
      ولا نقول ان حسناتنا مقبولۃ وسیئاتنا مغفورۃ کقول المرجئۃ ولکن نقول المسئلۃ مبینۃ مفصلۃ من عمل حسنۃ بشرائطہا خالیۃ عن العیوب المفسدۃ والمعانی المبطلۃ ولم یبطلہا حتی خرج من الدنیا فان اللہ تعالیٰ لایضیعہا بل یقبلہا منہ ویثیبہ علیہا 
      الفقہ الاکبر مع الشرح ص77،78📙
      ترجمہ: ہمارا یہ اعتقاد نہیں ہے کہ ہماری نیکیاں مقبول اور گناہ بخشے ہوئے ہیں جیسا کہ مرجئہ کا اعتقاد ہے (کہ ایمان کے ساتھ کسی قسم کی برائی نقصان دہ نہیں اور نافرمان کی نافرمانی پر کوئی سزا نہیں) بلکہ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ جو شخص کوئی نیک کام اس کی شرطوں کے ساتھ کرے، اور وہ کام تمام مفاسد سے خالی ہو، اور اس کام کو باطل نہ کیا ہو، اور وہ شخص دنیا سے ایمان کی حالت میں رخصت ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کےعمل کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ اس کو قبول کرکے اس پر ثواب عطا فرمائے گا 
      خـــــــلاصــــہ کـــــــلام 
      تو تمام دلائل سے یہ ثابت ہوا کہ فرقہ مرجئہ کے جو عقائد ہیں وہ نہ تو امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہیں نہ آپ کے متبعین کے ہیں بلکہ وہ غسان ابن عبا اور اس کے متبعین کے ہیں
       
      ️اور بہت سے مستند علماء کرام نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ یہ عبارت شیخ عبدالقادر جیلانی کی نہیں بلکہ کسی مخالف کی ہے اور غنیۃ الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی کی کتاب ہے مگر اس میں تحریف ہو چکی ہے بہت سے مسائل میں یہ بھی مستند علماء کرام اور محدثین کا موقف ہے انجینئر مرزا اپنے اکابرین کی تقلید کرتے ہوئے امام اعظمؓ سے ذاتی بغض اور کینہ کی بنا پر یہ بات اور یہ الزام شیخ عبدالقادر جیلانیؓ پر عائد کیا کہ گویا کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے حنفیوں کو مرجئہی کہا
       اور سب سے اہم بات انجینئر مرزا جہاں کی چھپی ہوئی کتابوں کو بہت اہمیت دیتا ہے دار الکتب العلمیہ بیروت وہاں سے شائع ہونے والی غنیۃ الطالبین میں حنفیہ کی جگہ غسانیہ ہی لکھا ہے 
      ملاحظہ ہو 👈 غنیۃ الطالبین (بیروت) 1/186
      پھر اسی کتاب میں سیّدنا غوث الاعظمؓ جب ایک مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؓ کا تعارف کرواتے ہیں تو ان الفاظ کے ساتھ کرواتے ہیں 
      وهو مذهب الإمام الأعظم أبى حنيفة النعمان رحمه الله تعالى
      یہ مذہب ہے امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا 
      اب انجینئر بتائے بقول انجینئر جن کے فرقے کو اور جن کو وہ مرجیئہ کہہ رہے ہیں ان کو رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور امام اعظم بھی کہیں گے؟؟ جبکہ وہ خود امام احمد بن حنبلؒ کے مقلد ہیں فقہ میں اپنی پوری کتاب میں انہوں نے اپنے امام کو امام اعظم نہیں کہا۔ 
      ملاحظہ ہو 👈 غنیۃ الطالبین (بیروت) 2/85
      ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ 
      اللہ تعالی ہمیں سوچنے سمجھنے اور راہ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے 
       
      ✍️ شــــــــــــــــــــــرف قلــــــــــــــــــم 
       خادم اہلسنّت و جماعت محمد عاقب حسین رضوی
       



    • By Sunni Haideri
      ⛲امتیازی شان کنزالایمان⛲
      اعلیحضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، ولی نعمت، سیدی، مرشدی، امام اھلسنت، مجدد دین و ملت،الحاج،الحافظ، القاری، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن۔
      ✍️ کا ترجمہ کنزالایمان۔ خزینہ القرآن،نرالی شان، سب سے الگ پہچان، جس میں رکھا  ادب کا دیان، اس پوسٹ کو پڑھ کے آپ بھی ہوجائیں حیران و پریشان۔پھر آپ کو چلے گا پتہ کیا ہے اعلی حضرتؒ کی شان۔
                 ⛲تراجم کا تقابل المختصر⛲
      الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا خاتم الانبیاء 
                  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
        
                      🗡️ضرب حیدری🗡️
        
                       فیض رضا جاری رہے گا
                             💪💪💪
      ✍️اس آیت کے مختلف تراجم پیش کریں گے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ ایمان داری سے دیکھیں پڑھیں سمجھیں۔
      ✍️۔ آخر میں امام اھلسنت کا ترجمہ کو رکھا گیا ہے۔ تاکہ سمجھنے آسانی ہو۔ 
      اس پوسٹ میں تین آیات کو کے تراجم موازنہ ہوگا باقی کسی دوسری  پوسٹ میں اگر موقع ملا تو۔ إن شاءالله۔۔
      ✍️یہ پوسٹ ماہ رضا کی نسبت سے لکھ رہا ہوں۔
                   ❤️❤️ دلیل آیت نمبر 1❤️❤️
      اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ        جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ
             ﴿۱۴۲﴾آل عمران 142 آیت
             1 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ:
      کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے  حالانکہ اب تک اللہ تعالٰی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟۔
             2 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ:
      بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ( یونہی ) جنت کے اندر جاپہنچو گے؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں ، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں.
                 3 ابو الاعلیٰ مودودی کا ترجمہ:
      کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں.
             4 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ:
      کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں ہے تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔
            5 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ:
      کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے.
         6 اعلی حضرت امام اھلسنہ رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ:
      کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی.
      ✍️انصاف آپ کے ہاتھ میں اللہ کے علم کی نفی کن کے تراجم میں  اگر غیر مسلم نتھو ایرے غیرے بولیں کے آپ کا قرآن ہے مولوی بھی مسلم ترجمہ بھی تمہارا تمہارے اللہ کو تو پہلے کسی چیز کا پتہ ہی نہی تو اس اسکے ذمہ دار کون سے ترجمہ والے ہیں۔؟
      ✍️امام اھلسنت نے ترجمہ ہی  ایسا کیا کہ سوچ بھی اس طرف نہی جاتی نفی علم الہی  کی طرف ۔
      سلام آپ کو کیا شان ہے اعلی حضرتؒ کی۔
                  ❤️❤️ دلیل آیت نمبر2❤️❤️
       اَللّٰہُ یَسۡتَہۡزِئُ بِہِمۡ وَ یَمُدُّہُمۡ  فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ
      البقرہ آیت15
               1 ابو الاعلی مودودی کا ترجمہ:
       اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے  ،  وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے ،  اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں.
               2 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: 
      درحقیقت اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔
          3 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ:
      ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں.
               4 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ:
      اللہ ان سے مذاق ( کا معاملہ ) کرتا ہے اور انہیں ایسی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
            5 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ:
      اللہ تعالٰی بھی ان سے مذاق کرتا ہے  اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے.
      6 امام اھلسنہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ:
      اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے ) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں.
      ✍️اب فرق خود کرلیں امام اھلسنہ نے استہزاء کا لفظ فرمایا فرمایا اپنی شان کے مطابق اور کتنا ادب ہے ترجمہ میں۔سبحان الله‎ ۔۔
      ✍️دوسروں کے تراجم کو دیکھا جاۓ تو اللہ کے بارے میں شک ہوتا ہے کہ اللہ ہستا ہے شائد ہماری طرح اللہ کسی جگہ پر موجود ہے۔ 
      جسم ہوگا پھر اللہ مزاق بھی کرتا ہے۔العیاذ بااللہ۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
                ❤️❤️ دلیل آیت نمبر3❤️❤️
                       وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى.
                    7سورۃ الضحى آیت نمبر 
                    1 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ:
      اور آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی!
                     2 جوناگڑہی غیر مقلد کا ترجمہ:
      اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی۔
              3 ابوالاعلی مودودی کا ترجمہ:
      اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی.
                    4 مفتی تقی عثمانی کا ترجمہ:
      اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا.
              5 فتح محمد جالندہری کا ترجمہ:
      اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا.
      امام اھلسنہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ      الرحمن کا ترجمہ6:۔
      اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی،
                                 END
      ✍️اب اندازہ خود لگائیں ترجمہ دیکھ میں اب کچھ نہی کہتا قارئین کرام آپ خود فیصلہ کریں ۔ نبی علیہ السلام کو ناوافق بھولا ہوا کس نے لکھا کہ؟
      ✍️اور امام اھسنت کا  ترجمہ دیکھیں انہوں نے ایسا نہی لکھا ۔
                    فیض رضا جاری رہے گا۔۔إن شاءالله
      (طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
      09.09.2021.
      01صفر المظفر 1443ھ
       
    • By محمد حسن عطاری
      اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان  کا اردو ترجمہ قرآن آپ نے 1911ء میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا جو اردو تراجم قرآن میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اور مشہور ترجمہ ہے، اس ترجمہ کا ترجمہ ہندی، سندھی، انگریزی، ڈچ، گجراتی، پشتو اور بنگلہ میں ہو چکا ہے۔ اس پر سب سے زیادہ مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں، ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے کنزالایمان اور معروف تراجم قرآن کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے۔[1]   انگریزی تراجم ترميم کنز الایمان کو اب تک پانچ شخصیات نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، ۔   پروفیسر محمد حنیف اختر فاطمی (کویت یونیورسٹی )۔[5] پروفیسر شاہ فریدالحق نے 1988ء میں مکمل کیا اور اسے بھارت اور پاکستان میں شائع کیا گیا ہے۔[6] ڈاکٹر مجیداللہ، لاہور۔ عاقب فرید قادری نے 2002ء کے قریب شائع کیا۔ ڈاکٹر سید جمال الدین اسلم ماہروی، ایٹہ بھارت۔ سید آل رسول حسنین میاں نظمی ماہروی، ایٹہ، بھارت۔ سندھی تراجم ترميم مفتی محمد رحیم سکندری نے سندھی زبان میں ترجمہ کر دیا ہے۔ مولانا عبد الوحید سرہندی ہندی تراجم ترميم مولانا نور الدین نظامی۔[2] کریول ترجمہ ترميم مولانا منصور اور مولانا نجیب (ماریشس) نے کریول زبان میں ترجمہ کیا۔ قرآن کا یہ ترجمہ سب سے پہلے شمیم اشرف ازہری جامع مسجد، ماریشس کے خطیب کی نگرانی میں 17 جنوری 1996ء کو شائع کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ اس اس کام میں دیگر علما اور اہل علم نے مدد کی۔   گجراتی ترجمہ ترميم گجراتی زبان میں مولانا حسن آدم گجراتی نے کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان کا گجراتی ترجمہ کیا ہے جو گجراتی دان طبقہ میں کافی مقبول ہے۔[7]   بنگلہ ترجمہ ترميم مفتی عبد المنان۔[2] پشتو ترجمہ ترميم قاری نور الہدیٰ نعیمی۔[2] ذاکر اللہ نقشبندی۔[2] ڈچ ترجمہ ترميم مولانا غلام رسول الٰہ دین۔[2] ترکی ترميم مولانا اسماعیل حقی۔[2] سرائیکی ترميم مولانا ریاض الدین شاہ۔[2] چترالی ترميم مولانا پیر محمد چشتی۔[2] منقول
×
×
  • Create New...