Jump to content
IslamiMehfil

Recommended Posts

         اصلی اہل حدیث اور جعلی اہل حدیث

              بسم اللہ الرحمن الرحیم

          یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ    یارسول ﷺ

         اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ                   
            وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ


            اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ                

              وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
              _________________________
                       : ترمذی رحمہ اللہ لکھتے ہی

1: "وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ"۔

(ترمذی، كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ،حدیث نمبر:۲۱۳،)

ترجمہ:اہلحدیث کا اس میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں عمروبن مرہ کی روایت زیادہ صحیح اور بعض کہتے ہیں حصین کی روایت زیادہ صحیح ہے۔

                (محمد عمران علی حیدری)

اس سے ثابت ہوا امام ترمذی اہل حدیث سے مراد محدثین کو لیتے ہیں۔

 نہ کہ موجودہ دور کا نام نہاد فرقہ مراد ہے بلکہ اس وقت تو اس فرقہ کا وجود ہی نہیں تھا۔

✍️شیر کی کھال میں گیڈر آجاۓ تو وہ گیڈر ہی رہے گا شیر نہیں بن سکتا۔✍️

2 :الانصاری المدینی کے بارے میں لکھتے ہیں:

"لَيْسَ ہُوَبِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔                

                 (ترمذی:۱/۲۱)

       ترجمہ:وہ اہلحدیث کے ہاں قوی نہیں ہے۔

             (محمد عمران علی حیدری)

(اب بتاو امام ترمذیؒ فرما رہے ہیں کہ وہ (راوی) اہلحدیث کے ہاں قوی نہیں آج کے نام نہاد اہلحدیث فرقہ کے اکثر عوام کو بیت الخلاء جانے کی دعا نہیں آتی وہ سند حدیث کو کیا جانیں گے میں کہتا ہوں ان کو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ سند حدیث کیا ہوتا ہے۔ وہ کسی راوی کو ضعف صدوق ثقہ کیسے جانیں گے؟ ھھھ)

✍️ایک اور راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:

3: "تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ"۔

(ترمذی،كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ،بَاب مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،حدیث نمبر:۳۶۹۹،)

ترجمہ:اس میں بعض اہلحدیث نے حفظ کی رو سے کلام کیا ہے۔

             (محمد عمران علی حیدری)

اب بتائیں امام ترمذیؒ نے یہاں بھی لفظ اہلحدیث استعمال کیا ہے اور فرمایا کیا ہے کہ اہلحدیث(محدثین) نے اس راوی کا          حفظ(حافظہ) پر کلام کیا ہے۔

                     پھرایک اور جگہ لکھتے ہیں:

              4: "وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ"۔

(ترمذی،كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر:۱۷۳)

      ترجمہ:وہ اہلِ حدیث کے ہاں ضعیف ہے۔

             (محمد عمران علی حیدری)

لو جی ایک اور راوی کے بارے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہلحدیث(محدثین) کے نزدیک یہ راوی ضعیف ہے۔
امام ترمذی اہلحدیث کوکہیں کہیں اصحاب الحدیث کہہ کربھی ذکر کرتے ہیں، حدیث 

"لاتزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق" 

کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان سے مراد اصحاب الحدیث ہیں،

5:  امام بخاری نے بھی تصریح کی ہےکہ اس سے مراد لعم حدیث(حدیث کا علم رکھنے والے)کے ماہراہل العلم ہیں۔                              
                       (بخاری:۲/۱۰۸۷)

                   (محمد عمران علی حیدری)

✍️اب کیا کہیں گے نام نہاد اہلحدیث انگریزوں سے لیا ہوا نام اور بدنام کر رہے ہیں محدثین کو اللہ اپنی پناہ میں رکھے آمین۔

6: خطیب بغدادیؒ (۴۶۲ھ) ابوعبداللہ الحاکم کے اس زعم پرکہ حدیث طیبہ اور حدیث  "من کنت مولاہ" صحیحین کی شرطوں کے مطابق ہیں، جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"فانکرعلیہ اصحاب الحدیث ذلک ولم یلتفتوا الی قولہ ولاصوبوہ علی فعلہ"۔

            (تاریخ بغداد۵/۴۷۴)

ترجمہ:اصحاب الحدیث نے اس پرانکار کیا ہے اور اس کی بات پرتوجہ نہیں کی اور اسے اس کے عمل میں درست نہیں کہا۔

            (محمد عمران علی حیدری)

✍️یہاں اہلحدیث کو امام صاحب اصحاب الحدیث بول رہے ہیں اب کوئی نیا  بندہ اٹھے اور وہ خود ہو اصحاب الحدیث کہنا شروع کر دے تو کیا ہم یہی کہیں گے ان کا تو زکر امام ترمذیؒ نے کیا بڑی پرانی جماعت ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ اس سے مراد محدثین حدیث کا علم رکھنے والے حفاظ حدیث.

7: حافظ ابن عبدالبر مالکی (۴۶۳ھ) بھی ایک جگہ لکھتے ہیں:

"وقالت فرقة من أهل الحديث: إن وطئ في الدم فعليه دينار، وإن وطئ في انقطاعه فنصف دينار ورأت فرقہ من اھل الحدیث تطویل السجود فی ذلک"۔
                      (تمہید:۳/۱۷۶)

ترجمہ: اہل حدیث کی ایک جماعت نے کہا ہے اگراس نے ایام میں اس سے صحبت کی تواسے ایک دینار صدقہ لازم آئے گا اور بعض اہلِ حدیث نے کہا ہے کہ اس پر دراز سجدہ اس کے ذمہ ہے۔

             (محمد عمران علی حیدری)

✍️اب ادھر بتائیں جناب کہ بعض اہلحدیث سے کیا مراد ہے؟ میں بتاتا چلوں سنی دوستو اس سے مراد بعض محدثین ہیں۔

✍️دوسری بات کہ ایک اہلحدیث کی جماعت سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے اہلحدیث کی بہت ساری جماعتیں ہیں ایسا نہی ہے؟ بالکل اس مراد یہی ہے تو یہاں نام نہاد اہلحدیث کیا مراد لیں گے کہ اب بہت ساری یا دو، تین، پانچ، یا اس سے زیادہ فرقے اہلحدیث کے نام سے پہلے موجود تھے؟؟ھھھھ۔

✍️آو میں بتاتا ہوں سنی دوستو اس سے مراد محدثین کی جماعتیں ہیں جو آپ جانتے کوئی حدیث جمع کرنے والے تھے کوئی اسماء الرجال پر کام کرنے والے تھے ہر محدث نے اپنے ہر جماعت محدثین نے اپنا اپنا کام ہے ہے اس کا مطلب ہوا کہ بہت سارے گروہ تھے حدیث جمع حفظ اصول حدیث وغیرہ پر کام کرنے والے۔ اس سے اب سمجھ لگ گئی ہوگی ۔
                        إن شاءالله۔

8  "یجوز عند اہل الحدیث التساہل فی الاسانید الضعیفۃ وروایۃ ماسوی الموضوع من الضعیف والعمل بہ"۔            

         (تقریب بشرح التدریب:۱۹۶)

                (ضرب حیدری)

ترجمہ:اہلِ حدیث کے ہاں اسانید ضعیفہ میں بشرطیکہ موضوع کی حد تک نہ ہوں؛ درگزر سے کام لینا اور اس پرعمل کرنا جائز رکھا گیا ہے۔

✍️لو جی اب کیا کہیں گے اس سے کیا مراد ہے یہاں بھی محدثین مراد ہیں حدیث پر محدثین نے کام کیا انہی کو ہی اہلحدیث کہا جاتا ہے۔

اس ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ اگر حدیث کی سند موضوع نہ ہو اس پر حدیث پر عمل جائز رکھا گیا ہے۔

9: حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ ایک مقام پر حدیث "لَنْ تزال ھذہ الامۃ قائمۃ علی امراللہ" کی شرح میں لکھتے ہیں:

"وقد جزم البخاري بأن المراد بهم أهل العلم بالآثار وقال أحمد بن حنبل إن لم يكونوا أهل الحديث فلا أدري من هم"۔            
                (فتح الباری:۱/۱۶۴)

ترجمہ:امام بخاریؒ نے پورے یقین سے کہا ہے کہ اس سے مراد احادیث کے اہلِ علم ہیں اور امام احمد فرماتے ہیں کہ اگراس سے اہلحدیث مراد نہ ہوں تومیں نہیں جانتا کہ پھرکون لوگ مراد ہوں گے۔

              (محمد عمران علی حیدری)

اب اس کی میں کیا وضاحت کروں آپ لوگ خود سمجھ دار ہیں۔ بس سنی دوستو ایک بات یاد رکھو غیر کا فہم نہ لو آپ لوگ اپنے علماء سے سمجھیں اگر کچھ سمجھ نہیں آتا تو۔
10 :شامی محقق ابنِ ہمامؒ نے لکھا ہے:

"وَذَهَبَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ إلَى كُفْرِهِمْ، قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَلَاأَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ أَهْلَ الْحَدِيثِ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ"۔            
           (ردالمحتار:۳/۴۲۸)

ترجمہ: بعض محدثین ان کی تکفیر کے قائل ہیں ابن المنذر نے کہا ہے میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس پرمحدثین کی موافقت کی ہو۔

          (محمد عمران علی حیدری)

✍️یاد رہے علامہ شامیؒ خوارج کا تذکرہ کرتے ہوۓ یہ بات فرماتے ہیں۔

11: شیخ عبدالحق محدث دہلوی سے حدیث کی باقاعدہ اشاعت ہوئی، آپ کے دور تک لفظ اہل الحدیث اسی پرانی اصطلاح سے جاری تھا، حضرت شیخ ایک مقام پر لکھتے ہیں:

"وکانوالہ اصحاب من التابعین واتباعہم وکلہم کانوا اہل 

الحدیث والفقہ والزھد والورع"
      
           (انوارالسنۃ لردادالجنۃ:۱٢).

ترجمہ:تابعین اور تبع تابعین میں ان کے کئی ساتھی تھے اور وہ سب اہلحدیث وفقہ وزہدورع تھے۔

اہلحدیث سے مراد ترک تقلید کے نام سے ایک فقہی مسلک ہوا یہ جدید اصطلاح اسلام کی پہلی تیرہ صدیوں میں کہیں نہیں ملتی، اس کا آغاز چودھویں صدی ہجری سے ہوتا ہے؛ یایوں سمجھ لیجئے کہ تیرہویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں اس کے لیئے کچھ حالات سازگار ہوگئے تھے۔

             (محمد عمران علی حیدری)

12: ہندوستان کے مشہور عالمِ دین مولانا محمدشاہ صاحب شاہجہانپوری لکھتے ہیں:

"پچھلے زمانہ میں شاذ ونادر اس خیال کے لوگ کہیں ہوں توہوں؛ مگراس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے؛ بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں سے سنا ہے، اپنے آپ کوتووہ اہلحدیث یامحمدی یاموحد کہتے ہیں؛ مگرمخالف فریق میں ان کا نام غیرمقلد یاوہابی یالامذہب لیا جاتا ہے"۔

            (الارشاد الی سبیل الرشاد:۱۳)

             (محمد عمران علی حیدری)

لیں جی اب آتے نام نہاد اہلحدیثوں کے گھر کی طرف.

                 :تاریخ نام نہاد اہلحدیث

                                                      :مولوی عبدالمجید صاحب سوہدروی لکھتے ہیں

 

"مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے اشاعت السنۃ کے ذریعہ اہلحدیث کی بہت خدمت کی، لفظ وہابی آپ ہی کی کوششوں سے سرکاری دفاتر اور کاغذات سے منسوخ ہوا اور جماعت کو اہلحدیث کے نام سے موسوم کیا گیا"۔               

             (سیرت ثنائی:۳۷۲)۔

            (محمد عمران علی حیدری)

 :مولوی محمدحسین صاحب نے سیکریٹری گورنمنٹ کوجودرخواست دی اس کے آخری    الفاظ یہ تھے

"استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام اہلحدیث کا حکم پنجاب میں نافذ کیا جائے"۔

             (اشاعۃ السنۃ:۱۱/ شمارہ نمبر:۲)

                (محمد عمران علی حیدری)

 :مشہور غیر مقلد شیخ الحدیث وہابیہ اسماعیل سلفی لکھتے ہے 

 جماعت نے اپنا مقصد اسی دن کھو دیا تھا جِس دن سرکار انگلشیہ (انگریز) سے نیا نام اہلحدیث لیا اور تصدیق کرادی تھی ۔

        (نگارشات جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 382)

              (محمد عمران علی حیدری)

 :  اہلحدیث وہابی عبد القادر حصاروی لکھتے ہے

انگریز گورنمنٹ نے وہابی سے اہلحدیث نام منظور کیا ۔

(فتاویٰ حصاریّہ جلد اول صفحہ نمبر 567

(محقق العصر اہلحدیث عبد القادر حصاروی


       ( طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)

post: 12 july 2021.

12ذولحجہ 1442ھ

  • Thanks 2
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      ★ تــحـقـیـــق حـــدیـثــــــ اســـماءالـرجــال ★
       
      میــرے صحـابــہؓ کــے معـامـلـے میــں اللہ ســے ڈرو حـدیــثـــــ کــی تحـقیـق
      اَلصَّـــلٰوةُوَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَاخَـاتَــمَ النَّبِیِّیْــن
      بِسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْــــــمٰنِ الرَّحــــــِیـــــم
      امام ابنِ حؒبان (المتوفى: 354هـ) نے فرمایا
      أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوا أَصْحَابِي غَرَضًا مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذ اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ"
      صحيح ابن حبان حدیث نمبر 7256📓
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے 
      [ ھذا حدیث صحیح لغیرہ ]
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      صحیح ابن حبان کی سند میں عبد الله بن عبد الرحمن الرومي پر جہالت کا الزام ہے جس وجہ سے اس سند کو ضعیف کہا جاتا ہے مگر تحقیق کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام درست نہیں سب سے پہلے ہم اس راوی کے معروف ہونے پر دلیل دیں گے اور پھر اس کی توثیق پر چنانچہ سید المحدثین امام بخاریؒ فرماتے ہیں 
      مُحَمد بْن الحُسَين بْن إِبْرَاهِيم، حدَّثني أَبي، سَمِعتُ حَماد بْن زَيد، حدَّثنا عَبد اللهِ الرُّومِيّ، ولم يكن رُومِيًّا، كَانَ رجلا منا من أهل خُراسان
      حسین بن ابراہیم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ انہوں نے حماد بن زید سے سنا کہ عبداللہ الرومی جو ہے یہ رومیوں میں سے نہیں بلکہ یہ اہل خراسان میں سے ایک ہے  
      یہ ہے اس راوی کے معروف ہونے کی دلیل 👆 
      جہاں تک بات رہی توثیق کی تو درج ذیل محدثین نے اس کی توثیق کی
      امام ابن حبؒان نے ان کو ثقہ کہا ✦
      ثقات ابن حبان 5/17 رقم :- 52📕
      امام زین الدین قاسمؒ بن قطلوبغا نے کتاب الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة یعنی وہ ثقہ راوی جو کتب ستہ میں موجود نہیں اس کتاب میں درج کرکے توثیق کی
      الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة 5/378📓
      اور امام عجلیؒ نے بھی اس کو ثقہ کہا ✦
      تاريخ الثقات ص284 رقم :- 914📙
      مزید یہ کہ امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے بھی ثقہ کہا ہے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ راوی کم از کم درجہ صدوق حسن الحدیث پر فائز ہے اور اس کو اس درجہ سے گرانا زیادتی ہوگی ہو سکتا ہے یہاں پر کچھ لوگوں کو اشکال ہو کہ امام الائمہ والمسلمین شیخ الاسلام امام ابن حجرعسقلانیؒ نے تقریب التہذیب میں اس کو مقبول کہا ہے اور وہ اس اصطلاح کا اطلاق لین الحدیث پر کرتے ہیں تو اس اشکال کا بھی جواب دیتے چلتے ہیں 
      اسکا جواب یہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ کا اس کو مقبول کہنا اس کو درجہ صدوق سے نہیں گراتا کیونکہ امام ابن حجر عسقلانیؒ نے تو اپنی اصطلاح مقبول کا اطلاق صحیح بخاری کے ثقہ راوی پر بھی کیا ہے مثلاً 
      يحيى بن قزعة
      ان کو امام ابن حبانؒ نے ثقہ کہا امام ذھبیؒ نے ثقہ کہا مگر حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ان کو مقبول کہا جب کہ یہ امام بخاریؒ کے شیخ ہیں اور امام بخاریؒ ان سے صحیح بخاری میں متصل مرفوع روایات لائے ہیں مثال کے طور پر چند حدیثوں کے نمبر پیش کر دیتا ہوں جن میں امام بخاریؒ ڈائریکٹ ان سے روایت کر رہے ہیں 
      حدیث نمبر :- 4491 ٬ 2602 ٬ 6988 ٬ 4216
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ صحیح ابن حبان کی سند حسن ہے اب چلتے ہیں سنن الترمذی کی سند کی طرف
      امام ترمذیؒ (المتوفى: 279هـ) نے فرمایا 
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
      سنن ترمذي حدیث نمبر 3862📘
      ترجمہ: عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      اس کی سند میں موجود راوی عبد الرحمن بن زياد پر یہ اعتراض ہے کہ یہ مجہول راوی ہے یہ اعتراض بھی حقیقت کے بالکل مخالف ہے یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے 
       اس کو امام یحؒییٰ بن معین نے ثقہ کہا✦ 
      اور یہ ایک متفقہ اصول ہے کہ اگر متشدد امام کسی راوی کی تعدیل و توثیق کرے تو وہ اعلی درجہ کی مقبولیت کی حامل ہوتی ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ نے امام یحییؒ بن سعید القطان کے بارے میں فرمایا اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امام یحییؒ بن معین جرح میں متشدد امام تھے لہذا آپ کی توثیق اعلی درجے کی مقبولیت کی حامل ہے
      سـير أعـلام النبـلاء للإمام الذهبي 9/183📒
      اس کو امام ابن حبؒان نے ثقہ کہا✦
       اس کو امام عجلیؒ نے ثقہ کہا ✦
       امام احمد بن صالح الجیلیؒ نے ثقہ ✦
      كتاب تهذيب التهذيب 6/177📔
      کتاب تحریر تقريب التهذيب میں اس راوی سے حتمی فیصلہ یہ بتایا گیا کہ یہ راوی صدوق حسن الحدیث ہے اور ہمارے نزدیک بھی یہی درست اور راجح ہے
      كتاب تحریر تقريب التهذيب 2/320📙
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      تو ثابت ہوا کہ ابن حؒبان کی سند بھی حسن ہے اور ترمذی کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند کو تو خود امام ترمذیؒ نے بھی حسن غریب کہا ہے لہذا یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجے پر فائز ہے کیونکہ اصول حدیث کی کتب میں صحیح لغیرہ کی تعریف واضح ہے
      الصحيح لغيرہ هو الحسن لذاته إذا روي من طريق آخر مثله أو أقوى منه وسمي صحيحا لغيره؛ لأن الصحة لم تأت من ذات السند الأول، وإنما جاءت من انضمام غيره له
      ترجمہ: صحیح لغیرہ وہ ہے جب حسن لذاتہ کو کسی دوسرے طریق ( سند ) کے ساتھ روایت کیا جائے جو اس کی مثل یا اس سے زیادہ قوی ہو تو یہ صحیح لغیرہ ہے اس کو صحیح لغیرہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی صحت سند کی ذات سے نہیں آتی بلکہ اس کے غیر کو اس سے ملانے کی وجہ سے آتی ہے
      نخبة الفكر مع شرحها نزهة النظر ص34📕 
      كتاب تيسير مصطلح الحديث ص64📓 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      خــلاصـــــــہ کــــــــلام
      اصولی طور پر ہم نے ثابت کیا کہ صحیح ابن حبان کی سند بھی حسن ہے اور جامع ترمذی کی سند بھی حسن ہے لہذا جب دو حسن اسناد ایک دوسرے کی مثل موجود ہیں تو یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجہ پر فائز ہے 
      اگر کوئی شخص صحیح ابن حبان کی سند کو ضعیف مانتا ہے اور جامع ترمذی کی سند کو حسن مانتا ہے تو تب بھی یہ حدیث حسن لذاتہ درجے پر فائز رہے گی اور ابن حبان کی سند اس کی شاہد بنے گی 
       اور اگر کوئی شخص دونوں اسناد کو ضعیف کہتا ہے تب بھی یہ حدیث درجہ حسن لغیرہ پر فائز رہے گی یعنی قابل احتجاج و استدلال رہے گی 
      لہذا کسی طرح بھی اس حدیث کی صحت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی شخص مطلقاً اس حدیث کو ضعیف کہتا ہے تو وہ علم و اصول حدیث سے ناواقف ہے 
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       فقـــــط واللہ ورسولــــــہٗ اعلـــم بـالـصــواب
      ⇊ تحـقیــق و دعـاگـــو 
      خـادم اہـلسنت و جمـاعت محمــد عـاقـب حسیــن رضــوی
      ⇊ بــا تصــدیــق فـضيـلــة الشيــخ 
      اســد طحــاوي الحنفـي البـريـلوي غفرالله له
      عـلامــة زبـيـر احمــد جمـالـوي عفـي الله عنـه
      ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ






    • By Sunni Haideri
      زمین آسمان کی کنجیاں اور سلطنت حضور        صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے
                    یا اللہ عزوجل       یارسول اللہ 
                            صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
       الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہؐ
      ✍️اللہ نے مرتبہ دیا ہے ۔ تم کیوں جلتے ہو؟
      عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم :
       
      رَوَاهُ الْمُحِبُّ الطَّبَرِيُّ.31 /31)
      3-4: أخرجه محب الدين الطبري في الرياض النضرة، 1 /366، الرقم: 109، وإسماعيل الأصبهاني في دلائل النبوة، 1 /65، الرقم: 25، والسيوطي في الخصائص الکبري، 2 /388، والثعالبي في الکشف والبيان، 7 / 468.
      ’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو اﷲ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع فرمائے گا اور دو نورانی منبر لائے جائیں گے، ایک عرش کی دائیں جانب اور دوسرا عرش کی بائیں جانب نصب کیا جائے گا، اِن منبروں پر دو شخص نمودار ہوں گے، پس وہ جو عرش کی دائیں جانب ہو گا ندا دے گا: اے گروہانِ مخلوقات! جس نے مجھے پہچان لیا اُس نے جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا (تو وہ جان لے) کہ میں جنت کا داروغہ رضوان ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جنت کی کنجیاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تھما دوں، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اُنہیں ابو بکر و عمر (رضی اﷲ عنہما) کو تھما دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کو جنت میں داخل کر سکیں۔ پس تم آگاہ ہو جاؤ۔ پھر وہ شخص جو عرش کی بائیں جانب ہو گا ندا دے گا: جس نے مجھے جان لیا سو جان لیا اور جس نے مجھے نہیں جانا تو وہ جان لے کہ میں مالک، جہنم کا داروغہ ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں جہنم کی کنجیاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دے دوں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہ کنجیاں ابو بکر و عمر کو دے دوں تاکہ وہ اپنے ساتھ بغض رکھنے والوں کو جہنم میں دھکیل سکیں۔ سو تم سب اِس پر گواہ ہو جاؤ۔‘‘ اِسے محب الدین الطبری نے روایت کیا ہے۔
      اس روایت کو کتاب موجبات الجنہ لابن الفاجر میں ابن الفاجر نے بھی نقل کیا ہے۔

      317 - ثنا الإمام عمي قال، ثنا أبو علي الوزير إملاءً قال، ثنا يوسف بن محمد الزاهد.
      -وأنبا أبو طاهر الصوفي بقراءاتي عليه قال، ثنا يوسف بن محمد في كتابه، قال، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن أحمد قال، ثنا القاسم بن محمد السراج، ثنا محمد بن أحمد الضبي الدينوري بمكة في المسجد الحرام قال، ثنا أحمد بن يحيى قال، ثنا الصابر الجارود قال، ثنا هشيم عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
      ((إذا كان يوم القيامة ينصب ميزانٌ من ذهبٍ أمام العرش فيأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو أحدهما فيقول من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا رضوان خازن الجنة، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله -عز وجل- أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر رضي الله عنه يدخل الجنة محبيه ومحبي عائشة بغير حسابٍ، ويأتي ملكٌ من الملائكة فيعلو المنبر الثاني، ويقول: من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا مالكٌ خازن النار، وهذا مفاتيحها بيدي، أمرني الله أن أدفعها إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أدفعها إلى أبي بكر الصديق رضي الله عنه يدخل النار مبغضيه ومبغضي عائشة بغير حسابٍ)).
      قال أبو بكر: سمع هذا الحديث الكرخي، وقال: لو كان هذا الحديث مكتوباً على الجدار لكان الواجب أن يكتب بماء الذهب.
                 كتاب موجبات الجنة لابن الفاخر.
        
                               ابن الفاخِر
      بابٌ في ذكر أن محبي أبي بكر وعائشة -رضي الله عنها- يدخلون الجنة بغير حساب.

                            ✍️ اس کی سند پر کلام ہے
                              اس حدیث کا متن بالکل قرآن و صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہے
                  وَلَـلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰىؕ.
                                 4    سورۃ الضحى            
                                           :    ترجمہ
      اور بیشک بعد والی ساعت آپ کے لئے پہلی ساعت سے بہتر 
      📖تفسیر میں مفسرین نے کیا فرمایا دو کتب سےمفہوم
       کہ آنے والے اَحوال آپ کے لئے گزشتہ سے بہتر و برتر ہیں  گویا کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اورہر آنے والی گھڑی میں  آپ کے مَراتب ترقیوں میں رہیں  گے۔
      مدارک، الضّحی، تحت الآیۃ:4 تفسیرکبیر، الضّحی، تحت الآیۃ4
                      2 : وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ.
                            ( الضحی 5)
                                                  :ترجمہ
      اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے.

                اسکا متن آپ خود دیکھ لیں گے۔

      آپ ایک بار اوپر والی روایت کو غور سے پڑھیں پھر ان احادیث کو پڑھتے جائیں ۔إن شاءالله۔۔آپ خود ہی سمجھ جائیں گے۔
      📘 1 : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ،    أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا۔
                                صحیح بخاری جلد1 حدیث. 1344.2977.3596
       ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا  مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے۔
                   (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس میں واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے یہی بات اوپر والی روایت میں کی گئی بات  ہے۔
      ✍️یہ حدیث بخاری میں چار جگہ پر موجود ہے اس کے علاوہ بھی بہت ساری کتب میں درج ہے الفاظ مختلف مفہوم ایک ہی ہے کہ ذات محبوب کبریا عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اب اسکا تعین کرنا کون کون سے خزانے ہیں ہمارے بس کی بات نہیں۔
      ✍️اور نہ ہم اس مسلہ میں قید و بند لگا سکتے ہیں حدیث پر کہ ہاں یہ ہوگا یہ نہیں۔ ایسا کرنا وہابیہ کا کام ہے ہمارا نہی۔
      ✍️ہم نے بس مان لیا کہ ہاں دے دی گئی ہیں اب دینے والا اور لینے والا جانے۔
      ✍️میرے خیال میں اور حقائق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کنجیاں کا لفظ کہنا یہ مقصد تھا کہ رسائی،(پہنچ) اختیار ،بادشاہت اللہ نے دےدی ہے۔ 
      📘 2: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عُقْبَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ, ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ , وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ, وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ, أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ, وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
      صحیح بخاری جلد2 حدیث 4085
       ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض  ( حوض کوثر)  کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا مفاتيح الأرض یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔ 
      ✍️اب اس حدیث پر غور کریں تو نبی علیہ السلام فرما رہے ہین کہ اپنے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں حوض کوثر کہاں ہے اور لفظ حضورؑ نے فرمایا اپنے یعنی میرا۔ مالکیت ظاہر ہورہی ہے۔
      ✍️ سلطنت آسمان پر بھی ہے جس کی سلطنت ہو اختیار ہو و چابیاں بھی اسی کے پاس ہوتی ہیں
      ✍️جیسا کہ ایک بادشاہ کا وزیر ہوتا ہے بادشاہ اس کو بہت سارے اختیار دیتا ہے وزیر اسے استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ وزیر کو سب دے دیا جاتا ہے ہر چیز پر وہ حکمرانی کرتا ہے۔ جیسا حدیث میں ہے واللہ یعطی انا القاسم اسی طرح ایک اور حدیث ہے ۔
      اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں. 
                     ( مشکوات شریف ص ٥٢١ )۔
                      (محمد عمران علی حیدری)
      📘 3 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ.
      صحیح بخاری جلد1 حدیث 120.
      ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  ( علم کے )  دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «بلعوم» سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔ 
                     (محمد عمران علی حیدری)
      📘 4 :حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرَ دَاوُدُ،‏‏‏‏ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ۔
      سنن الترمذی جلد2 حدیث 3666
                    ھذا حدیث صحیح
       
      ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔
                    (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️جسے چاہیں جو جو عطا کریں سب دیا آپ کی سلطنت میں
      📘 5 :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏   الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا۔
      سنن ابن ماجہ جلد١حدیث 118
                         ھذا حدیث صحیح
      ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔ 
      📘 6: وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
                                  مشکوۃ شریف
      ترجمہ: حضرت ام سلمہ   ؓ  سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاطمہ   ؓ  کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رو پڑیں ، پھر ان سے کوئی بات کی تو وہ ہنس پڑی ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کی ہنسی کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میں فوت ہو جاؤں گا تو میں رو پڑی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا کہ مریم بنت عمران کے علاوہ اہل جنت کی خواتین کی میں سردار ہوں ۔‘‘ اس پر میں ہنس دی ۔ رواہ الترمذی.
                    (محمد عمران علی حیدری)
      📘 7 :ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﺤﺎﻓﻆ، ﺛنا ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺩﺣﻴﻢ اﻟﺪﻣﺸﻘﻲ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻲ، ﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻓﺪﻳﻚ، ﻋﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ اﻟﺰﻣﻌﻲ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺮﻳﺢ، ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺣﻤﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺣﺪﺛﻪ ﺃﻇﻨﻪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﺃﻥ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺣﺪﺛﻪ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻋﺸﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ، ﻭﻋﻤﺮ، ﻭﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻭﻋﻠﻲ، ﻭاﻟﺰﺑﻴﺮ، ﻭﻃﻠﺤﺔ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻭﺳﻌﺪ، ﻭﺃﺑﻮ ﻋﺒﻴﺪﺓ ﺑﻦ اﻟﺠﺮاﺡ ﻭﻫﺆﻻء ﺗﺴﻌﺔ» ، ﺛﻢ ﺳﻜﺖ ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻧﻨﺸﺪﻙ اﻟﻠﻪ ﺃﻻ ﺃﺧﺒﺮﺗﻨﺎ ﻣﻦ اﻟﻌﺎﺷﺮ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻧﺸﺪﺗﻤﻮﻧﻲ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺃﺑﻮ اﻷﻋﻮﺭ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ»
                         ﺳﻜﺖ ﻋﻨﻪ اﻟﺬﻫﺒﻲ ﻓﻲ اﻟﺘﻠﺨﻴص
      (المستدرك علي الصحيحين: رقم الحديث 5858جلد3                     498صفحہ,ط:دارالكتب العلمية۔)
                   اگر وہابی یہ آیت پیش کریں
      لَّهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ.
                                            63الزمر آیت 
                                              :   ترجمہ
      اسی کے پاس آسمانوں اور زمینوں کی چابیاں ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا ہے وہی نقصان اٹھانے والے ہیں.
       
      میں پوچھنا چاھتا ہوں اوپر بیان کی گئی احادیث کو مانوں گے یا انکار کردو گے؟؟
      ہاں یہ بات سنی ہی سمجھ سکتا ہے اور سمجھا سکتا ہے ورنہ ایسے نے تو سیدنا علیؓ پر بھی شرک کا فتوئ لگا دیا تھا۔ العیاذ بااللہ۔
      اس آیت کو سمجھنے کے لیے درج ذیل تفاسیر کو پڑھیے ۔
                                                خزائن العرفان۔
                                                  تبیان القرآن ۔
                                                  صرط الجنان۔
                                                     روح البیان۔
                                                     وغیرہ۔
              ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضؔا مسلّم
             جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھادیے ہیں۔

               ( طالب دعا: محمد عمران علی حیدری)
    • By Sunni Haideri
      بد مذھبوں اور بے دینوں کے متعلق احکام
      ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
      محترم قارئینِ کرام : سب سے پہلے یہ ذھن میں رکھ لیں ہم گستاخانہ عبارات کے اصل اسکن ساتھ دے رہیں ایک بار مکمل غور سے پڑھیں پھر اپنے ایمان اور ضمیر سے فیصلہ کریں بغیر پڑھے جاہلانہ کمنٹس سے گریز کریں شکریہ ۔
      ہر سنی مسلمان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ دیوبندی مذہب کے بانی مولوی قاسم نانوتوی صاحب نے اپنی کتاب تحذیرالناس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکار کیا اور پیشوائے وہابیہ مولوی رشید احمد گنگوہی و مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے براہین قاطعہ میں سرکار مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مقدس کو شیطان ملعون کے علم سے کم قرار دیا۔ اور مبلغ وہابیہ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب حفظ الایمان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو ہر خاص و عام انسان بچوں پاگلوں اور جانوروں کے علم غیب کی طرح بتایا۔ چوکہ یہ باتیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آخری نبی نہ ماننا یا حضور کے علم کو شیطان کے علم سے کم بتانا یا حضور کے علم غیب کو بچوں، پاگلوں اور جانوروں کے علم غیب کی طرح قرار دینا تمام مسلمانوں نانوتوی، مولوی گنگوہی، مولوی انبیٹھوی اور مولوی تھانوی بحکم شریعت اسلامیہ کافر و مرتد ہوگئے ۔
      فتاوٰی حسام الحرمین میں ہے وبالجملۃ ھولاء الطوائف کلھم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین وقد قال فی البزازیہ والدر والغرر والفتاوی الخیریہ ومجمع الانھر والدر المختار وغیرھا من معتمدات الاسفار فی مثل ھولاء الکفار من شک فی کفرہ و عذاب فقد کفر۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے (یعنی مرزا غلام قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد، اشرف علی تھانوی اور اس کے ہم عقیدے چیلے) سب کے سب کافر و مرتد ہیں۔ باجماع امت اسلام سے خارج ہیں۔ اور بے شک بزازیہ، درغرر، فتاوٰی خیویہ، مجمع الانہار اور درمختار وغیرہ معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو شخص ان کے عقائد کفریہ پر آگاہ ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے تو خود کافر ہے۔ مکہ شریف کے عالم جلیل حضرت مولانا سید اسماعیل علیہ الرحمۃ الرضوان اپنے فتاوٰی میں تحیر فرماتے ہیں۔امابعد ناقول ان ھولاء الفرق الواقصیں فی السوال غلام احمد قادیانی و رشید احمد ومن تبعہ کخلیل انبیٹھی واشرف علی وغیرھم لا شبھۃ فی کفرھم بلا مجال بل لا شبھۃ فیمن شک بل فیمن توقف فی کفرھم بحال من الاحوال۔
      میں حمد و صلوٰۃ کے بعد کہتا ہوں کہ یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع غلام احمد قادیانی، رشید احمد گنگوہی اور جو اس کے پیرو ہیں جیسے خلیل احمد اشرف علی وغیرہ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں، نہ شک کی مجال بلکہ جو ان کے کفر میں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہ نہیں ۔“ (حسام الحرمین)
      غیر منقسم ہندوستان کے علمائے کرام اسلام کے فتاوٰی کا مجموعہ الصوارم الھندیہ میں ہے ان لوگوں (یعنی قادیانیوں، وہابیوں، دیوبندیوں) کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کی جنازہ کی نماز پڑھنے، ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنے، ان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا کھانے ان کے پاس بیٹھے ان سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں ان کا حکم بعینہ وہی ہے جو مرتد کا ہے۔ یعنی یہ تمام باتیں سخت حرام اشد گناہ ہیں ۔
      اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ وما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمین ۔ “اور اگر تجھے شیطان بھولا دے تو یاد آ جائے پر بدمذہبوں کے ساتھ نہ بیٹھ۔“ خود سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : وان مرضوا فلا تعودھم وان ماتوا فلا تشھدوم وان لقیتم فلا تسلموا علیھم ولا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا علیھم (رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ و ابوداؤد عن ابی عمر وابن ماجۃ عن جابر والعقیلی وابن حبان عن انس رضی اللہ تعالٰی عنھم،چشتی)
      ترجمہ: اگر بدمذہب بد دین بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے نہ جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازہ پر حاضر نہ ہو۔ اور ان کا سامنا ہو تو سلام نہ کرو۔ ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ نہ پیو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
      پھر چونکہ قادیانی، وہابی، دیوبندی، غیرمقلد، ندوی، مودودی تبلیغی یہ سب کے سب حکم شریعت اسلامیہ گمراہ، بد عقیدہ بد دین، بد مذہب ہیں اس لئے حدیث و فقہ کے ارشاد کے مطابق اس شرعی دینی مسئلہ سے سب کو آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ قادیانیوں، غیر مقلدوں، وہابیوں، دیوبندیوں، مودودیوں و غیرہ بدمذہبوں کے پیچھے نماز پڑھنا سخت حرام ہے۔ ان سے شادی بیاہ کا رشتہ قائم کرنا اشد حرام ہے۔ ان کے ساتھ نماز پڑھنا سخت گناہ کبیرہ ہے۔  ان سے اسلامی تعلقات قائم کرنا اپنے دین کو ہلاک اور ایمان کو برباد کرنا ہے جو ان باتوں کو مان کر ان پر عمل کرے گا اس کے لئے نور ہے اور جو نہیں مانے گا اس کے لئے نار ہے۔ والعیاذ باللہ تعالٰی ۔
      جھوٹے مکار، دغاباز بدمذہب، بد دین خدا اور رسول کی شان میں توہین کرنے والے مرتدین براہ مکرو فریب اتحاد و اتفاق کا جھوٹا منافقانہ نعرہ بہت لگاتے ہیں اور بہت زور سے لگاتے ہیں۔ اور جو متصلب مسلمان اپنے دین و ایمان کو بچانے کیلئے ان سے الگ رہے۔ ان کے سر اختلاف و افتراق کا الزام تھوپتے ہیں جو مخلص مسلمان شرع کے روکنے کی وجہ سے ان بد مذہبوں کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ اس کو فسادی اور جھگڑالو بتاتے ہیں جو صحیح العقیدہ مسلمان فتاوی حسام الحرمین کے مطابق سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کافر و مرتد کہے اس کو گالی بکنے والا قرار دیتے ہیں ایسے تمام صلح کلی منافقوں سے میرا مطالبہ ہے کہ اگر واقعی تم لوگ سنی مسلمانوں سے اتحاد و اتفاق چاہتے ہو تو سب سے پہلے بارگاہ الٰہی میں اپنے عقائد کفریہ و خیالات باطلہ سے سچی توبہ کر ڈالو۔ خدا اور رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے باز آ جاؤ اور گستاخی کرنے والوں کی طرفداری کی حمایت سے الگ ہو جاؤ اور سچا سنی مذہب قبول کرلو اور اگر ایسا کرلو تو ہمارے تمہارے درمیان بالکل اتحاد و اتفاق ہو جائے گا۔ اور اگر خدانخواستہ تم اپنے اعتقادات کفریہ سے توبہ کرنے پر تیار نہیں۔ تم گستاخی کرنے اور لکھنے والے مولویوں سے رشتہ ختم نہیں کر سکتے، سنی مذہب قبول کرنا تمہیں گوارا نہیں تو ہم قرآن و حدیث کی تعلیمات حقہ کو چھوڑ کر بد دینوں، بد مذہبوں سے اتحاد نہیں کر سکتے رہا متصب سنی مسلمان کو جھگڑالو، فسادی گالی بکنے والا کہنا تو یہ پرانی دھاندلی اور زیادتی ہے۔ گالی تو وہ بک رہا ہے جس نے تقویۃ الایمان لکھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو بڑا بھائی بنایا۔ جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے انبیاء کرام کو بارگاہ الٰہی میں ذرہ ناچیز سے بھی کم تر اور چمار سے بھی زیادہ ذلیل کہا، گالی تو وہ بک رہا ہے جس نے حفظ الایمان میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کو پاگلوں اور جانوروں، چوپایوں کے علم غیب کی طرح ٹھہرایا بدزبانی تو وہ کر رہا ہے جس نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مقدس کو شیطان کے علم سے کم قرار دیا۔ اصل جھگڑالو تو وہ ہے جس نے تحذیرالناس میں مسئلہ ختم نبوت کا انکار کیا اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننا عوام جاہلوں کا خیال بتایا۔ واقعی فسادی تو وہ ہے جس نے براہین قاطعہ میں اللہ تعالٰی کے متعلق جھوٹ بول سکنے کا نیا عقیدہ گڑھا اور جس نے اردو زبان میں سرکار رسالت علیہ السلام کو علماء دیوبند کا شاگرد بتایا ۔
      سنی مسلمان نہ جھگڑالو اور فسادی ہے نہ گالی بکنے والا وہ تو شریعت اسلامیہ کے حکم کے مطابق ان گستاخ مولویوں کو کافر و مرتد کہتا ہے جو بارگاہ احدیت اور سرکار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کرنے اور ضروریات دین کے منکر ہیں عقائد ضروریہ دینیہ کی مخالفت کرنے والوں کو کافر و مرتد کہنا ان کے حق میں منافق کا لفظ استعمال کرنا ہرگز ہرگز گالی نہیں ہے۔ خود اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کافر، کفار، مشرکین، منافقین وغیرہ کلمات مخالفین اسلام کے حق میں ارشاد فرمائے تو کیا کوئی بد نصیب یہ کہنے کی جراءت کو سکتا ہے کہ قرآن عظیم نے گالی دی ہے۔ معاذاللہ تعالٰی منہ ۔
      مسلمانو گستاخوں سے آپ کو نہ حجت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ان کا زق زق بق بق سننے کی حاجت ہے ۔ آپ ان سے گالی گلوچ اور جھگڑا نہ کرو ، بس آپ ان کی صحبت سے دور رہو۔ اپنے سے ان کو دور رکھو ۔ تمہارے آقائے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں یہی تعلیم دی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ایاکم ویاھم لایضلونکم ولا یفتونکم ۔ (مسلم شریف)
      یعنی مسلمانو ! تم بدمذہبوں کی صحبت سے بچو۔ اپنے کو ان سے دور رکھو نہیں تو وہ تمہیں سچے راستے سے بہکا دیں گے اور تمہیں بے دین بنا دیں گے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں اور تمہیں سچی ہدایت پر قائم رکھے آمین ۔
      ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ،یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ،وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض و غیرہ میں ہے ۔ اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ۔
      ’’شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ (کتاب الشفاء ،القسم الرابع ،البا ب ا لاول،۲/۲۰۸،مطبوعہ،دار سعادت،بیروت، در مختار ،کتاب الجھاد،باب المرتد،۱/۳۵۶،مطبوعہ ،مجتبائی،دھلی، فتاوی رضویہ اا/۳۷۸ مطبوعہ لاھور،چشتی)
      ایسے بدمذھبو گستاخوں سے دوستی ، محبت ، میل جول ، ان کے یہاں جانا ، انہیں اپنے یہاں بلانا ،اھل سنت کی مسجد میں آنے دینا ،درس و تبلیغ کی اجازت دینا ،ان کے ساتھ صحبت رکھنا ،ان کی طرف جھکاؤ اور مائل ہونا ،الغرض ہر وہ کام جس سے بدمذھبوں سے انسیت و تعلق و وابستگی یا میلان کا اظہار ہو بدمذھبی و سخت حرام ،اور شادی بیاہ کرنا ناجائز ،نکاح باطل محض و زناء کما  صرح بہ الامام المجدد البریلوی فی ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار،قرآن کریم کی نصوص صریحہ و احادیث شریفہ سے ان تمام کی ممانعت ثابت اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :{و لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار }( ھود۱۱/۱۱۳)’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘ (کنز الایمان )اس آیت کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ و مرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا ‘‘(تفسیر نور العرفان)
      نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :{ و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین }(الانعام ۶/۶۸) ۔ اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ‘‘(کنز الایمان )
      نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :ومن یتولھم منکم فانہ منھم }( المائدۃ ۵/۵۱ )
      ’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘(کنز الایمان )
      اور بد مذھبوں کی نسبت حضور اکرم نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم ۔
      ’’ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو، اور میل جول نہ کرو،اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو ، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ، اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو ‘‘ ۔ (صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵،السنۃ لعبد اللہ بن احمد،۱/۱۲۶،اعتقاد اھل السنۃ،۱/۱۳۴،مسند الربیع،۱/۳۰۲،السنۃ لابن ابی عاصم،۱/۱۴۴،الجرح و التعدیل،۷/۵۲،میزان الاعتدال، ۲/۳۱،لسان المیزان، ۲/۵۲،المجروحین،۱/۱۸۷،تھذیب الکمال،۶/۴۹۹، العلل المتناھیۃ، ۱/۱۶۸،تغلیق التعلیق،۵/۱۲۵،الجامع لاخلاق الراوی و السامع،۲/۱۱۸،المغنی،۹/۱۱ الضعفاء للعقیلی ۱/۱۲۶ دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۰۴ھـ ،تاریخ بغداد ۸/۱۴۳، الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱/۴۸ ،المکتبۃ العلمیۃ، المدینۃ المنورۃ،خلق افعال العباد۱/۳۰،دار المعارف السعودیۃ،الریاض،۱۳۹۸ھـ،چشتی)
      نیز حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ۔ گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیںفتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
      نیز حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اصحاب البدع کلاب اھل النار ۔ بد مذھبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں ۔ (التدوین فی اخبار قزوین ۲/۴۵۸، مطبوعہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت ،۱۹۸۷ء ، فیض القدیر ، ۱/۵۲۸ المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر، ۱۳۵۶ھ رقم الحدیث ۱۰۸۰،کنز العمال ،رقم الحدیث ۱۰۹۴،)
      اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے بد مذھب  سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا:ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ ۔
      ’’کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے !تم اسے بہت برا جانو گے‘‘(سنن ابن ماجہ ،ابواب النکاح ص،۱۳۹،مسند احمد ۱/۸۶ دار الفکر بیروت، لبنان،چشتی)
      یعنی بد مذھب جہنمیوں کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی یا بہن دینا ایسا ہے جیسے کتے کے تصرف میں دیا،بہر حال ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بد مذھب سے میل جول ،ان کے یہاں جانا ،انہیں بلانا ،اھل سنت و جماعت کی مسجد میں درس و تبلیغ کی اجازت دینا،شادی کرنا جائز نہیں ہے نیز وہ وھابی ، دیوبندی لوگ جن کی گمراہی و بد مذھبی حد کفر کو پہنچ چکی ہے ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ،نیز ایسا شخص جو خود تو کفریہ عقائد نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی ہیں انہیں مسلمان جانتا ہے وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے،
      جیسے رئیس الوھابیہ،اسماعیل  دھلوی (م۱۲۴۶ھ) نے لکھا معاذ اللہ کہ:اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ، ص /۲۳ مطبوعہ دھلی ،  ۱۳۵۶؁ھ  ۱۹۴۷؁ء ، مطبوعہ ،مطبع علیمی اندرون لوھاری دروازہ، لاھور)
      ’’یقین مانو کہ ہر شخص خواہ وہ بڑے سے بڑا انسان ہو یا مقرب ترین فرشتہ اس کی حیثیت شان الوھیت کے مقابلہ پر ایک چمار کی حیثیت سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ،ص۲۲،مطبوعہ ،دار الاشاعت ،اردو بازار ،کراچی)
      دیوبند کے حجۃ الاسلام،بانیٔ مدرسۂ دیوبند ، محمد قاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)نے لکھا معاذاللہ کہ:اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی  ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی  ﷺ میں کچھ فرق نہ آئے گا ‘‘ ۔ (تحذیر الناس ،ص۲۴،مطبوعہ،کتب خانہ امدادیہ ، دیوبند ،چشتی)
      دیوبند کے قطب عالم،رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۳ھ) نے لکھامعاذاللہ کہ:’’کذب داخل تحت قدرت باری تعالی ہے‘‘(فتاوی رشیدیہ،مبوب بطرز جدید،کتاب العقائدص/۲۳۷،مطبوعہ،دار اشاعت،کراچی) ۔ اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی( معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد) جھوٹ بولنے پر قادر ہے ۔
       دیوبند کے محدث،خلیل احمد انبیٹھوی (۱۳۴۶ھ) نے لکھا معاذاللہ کہ : الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے ،شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ،فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے ، کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ‘‘(براھین قاطعہ،ص/۵۵،مطبوعہ،دار الاشاعت،کراچی)
      دیوبند کے حکیم الامت،اشرفعلی تھانوی (م۱۳۶۳ھ) نے لکھا معاذاللہ کہ : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانااگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ،اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی(بچہ)و مجنون (پاگل)بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے(حفظ الایمان،ص/۱۳، مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)
      ان مذکورہ بالا نام نہاد گستاخ علمائے (سو) دیوبند اپنی گستاخانہ عبارات کی روشنی میں دائرئہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسے کافر ہیں کہ جو انہیں کافر نہ مانے ، یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرے کافر ہے (کما مر فیما سبق) تفصیل،امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف حسام الحرمین و تمہید ایمان و غیرھما میں ملاحظہ فرمائیں، اور عقائد اھل سنت و جماعت کی معلومات و دلائل کے لیے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب جاء الحق کا مطالعہ فرمائیں۔
      (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)







































    • By Sunni Haideri
      ⛲  \ دم و تعویزٍ \  ⛲
                   بسم اللہ الرحمن الرحیم
              یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ           یارسول ﷺ
      اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ             وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ 
      اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ                  وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ
                       فیض رضا جاری رہے گا

       دم و تعویز قرآن و حدیث سے ثابت ہے.
                                      المختصر:۔
      شرکیہ تعویذ ممنوع ہیں جن میں شرکیہ کلیمات ہوتے ہیں اگر جس تعویذ میں شرکیہ جملہ کلمہ لفظ وغیرہ نہ ہو وہ جائز ہے۔ اور وہ ثابت شدہ ہے اور اسی طرح دم کا حکم بھی ایسے ہی ہے۔ جیسا کہ آپ آگے اسی پوسٹ میں پڑھیں گے۔
      ۔إن شاءالله 
      سورۃ نمبر الإسراء آیت82
                أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
                 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
      وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا‏۔
      ترجمہ کنزالایمان :اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔
         تفسیر مختصر:.
      قرآن شفا ہے کہ اس سے ظاہری و باطنی اَمراض، گمراہی اور جہالت وغیرہ دور ہوتے ہیں  اور ظاہری و باطنی صحت حاصل ہوتی ہے۔ باطل عقائد، رذیل اخلاق اس کے ذریعے دفع ہوتے ہیں  اور عقائد ِحقہ ، معارفِ الٰہیہ ، صفاتِ حمیدہ اور اَخلاقِ فاضلہ  ہوتے ہیں  کیونکہ یہ کتابِ مجید ایسے علوم و دلائل پر مشتمل ہے جو وہم پر مَبنی چیزوں کواور شیطانی ظلمتوں  کو اپنے انوار سے نیست و نابُود کر دیتے ہیں  اور اس کا ایک ایک حرف برکات کا گنجینہ و خزانہ ہے جس سے جسمانی امراض اور آسیب دور ہوتے ہیں۔
               (خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۲۔)
            (روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۲۔)
       خزائن العرفان، بنی اسرا ئیل، تحت الآیۃ:(۸٢)
                  (محمد عمران علی حیدری)
                       1 نمبر 
      بخاری شریف۔باب الرّقی بفاتحۃ الکتاب ۔حدیث5736
      ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ:۔
      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظور کر لیں پھر  ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ )  سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔
      (محمد عمران علی حیدری)
                              2 حدیث نمبر 
      بخاری شریف۔ باب فی المرأۃ ترقی الرجل حدیث 5751
      حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:.
      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے پھر جب آپ کے لیے یہ دشوار ہو گیا تو میں آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔  ( معمر نے بیان کیا کہ )  پھر میں نے ابن شہاب سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر ان کو چہرے پر پھیر لیتے۔
                  (محمد عمران علی حیدری)
                          3 حدیث نمبر
       حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏ ‏‏‏‏‏‏عَنْعَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏   لِلإِنْسَانِ إِذَا اشْتَكَى يَقُولُ بِرِيقِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ بِهِ فِي التُّرَابِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا۔
      سنن ابی داؤد جلد4.حدیث 3895۔ ھذا حدیث صحیح  سنن ابن ماجہ جلد٤ حدیث3521         الحکم حدیث صحیح
       نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے: «تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا»  یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض(بزرگوں) کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے
       
                  (محمد عمران علی حیدری)
               :  اب تعویذات کے حوالہ سے
                          1 حدیث نمبر 
      الجامع سنن الترمذی جلد3.حدیث 352.
                       ھذا حدیث صحیح
      عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ:.
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ 
      جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو
       ( یہ دعا )  پڑھے: أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون 
      ترجمہ: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں۔
       یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے.
      امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔۔
      (محمدعمران علی حیدری)
      اس حدیث ثابت ہوا تعویذ کا ثبوت بھی۔بس یہ ایک مختصر سا جواب لکھا ہے ورنہ اس پر ہمارے علماء کی بڑی بڑی تحریرات موجود ہیں۔اور کتب موجود ہیں۔
      وہابیوں تمہارا بابا کیا کہتا ہےاس کی ہی مان لو قرآن وحدیث تو تم لوگ مانتے نہیں ہو!
      وہابی سے  سوال ہوا کہ گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے یا نہیں ؟
      جواب میں فرماتے ہیں:تعویذ نوشتہ در گلو انداختن مضائقہ ندارد۔ مگر اشہر و اصح جواز است۔
       (فتاویٰ نذیریہ ج3 ص 298۔نذیر حسین دہلوی)
      لکھے ہوئے تعویذ کو گلے میں لٹکانا درست ہے کوئی حرج کی بات نہیں زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ جائز ہے.
      لگتا ہے اب ابا کی جوتے کی نوک پر ہونگے یا پھر تین طلاق🤭🤭🤭🤭۔

      ( طالب دعا :محمد عمران علی حیدری)

      31جولائی 2021.
      20ذولحجہ 1442ھ





    • By Aquib Rizvi
      حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے ترک رفع یدین کی حدیث کا تحقیقی جاٸزہ۔
      اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
      آج کی اس پوسٹ میں ہم جامع ترمزی میں موجود حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی ترک رفع یدین والی حدیث کے بارے تحقیق پیش کریں گے۔
      حدیث کچھ یوں ہے۔
      ”علقمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے فرمایا کیا میں تم کو نبیﷺ کی نماز پڑھ کر نا دکھاٶں ؟ پھر انہوں نے نماز پڑھی اور پہلی مرتبہ کے علاوہ ہاتھ نہیں اٹھاۓ“۔(جامع ترمزی حدیث نمبر 257 عربی)
      امام ترمزی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور فرمایا کہ اہلعلم کا یہی عمل ہے جن میں صحابہ اکرام اور تابعین شامل ہیں جن میں سفیان ثوری اور اہل کوفہ ہیں،یعنی کہ اگر اس حدیث کو ضعیف کہا بھی جاۓ تو بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ اکرام تابیعن اور اہل کوفہ رفع یدین نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ حدیث کا حصہ نہیں ہے امام ترمزی کا اپنا کہنا ہے جو انہوں نے دیکھا ہے۔ 
      نوٹ:جامع ترمزی کے عربی نسخے میں اس حدیث کے اوپر الگ باب موجود ہے جبکہ اردو ترجمے والے نسخوں میں یہ باب نہیں لکھا جاتا۔
      اس حدیث کی سند کچھ یوں ہے۔
      ”حدثنا ھناد حدثنا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبداللہ الرحمن بن الاسود عن علقمہ“۔
      یہ مکمل سند بلکل صحیح ہے لیکن اس پر زبیر علی زٸی نے اعتراض یہ کیا ہے کہ اس کی سند میں سفیان مدلس ہے اور ”عن“ سے روایت کر رہا ہے اور سفیان کی ”عن“ سے کی گٸ روایت ضعیف ہوتی ہے۔(نور العینین صحفہ نمبر 138)
      سب سے پہلے تو میں زبیر علی زٸی صاحب کی مسلک پرستی کا ثبوت پیش کرتا چلوں پھر اس اعتراض کا جواب دیتا ہوں۔
      جیسا کہ ان کا اعتراض ہے کہ سفیان مدلس ہے اور اس کی ”عن“ سے کی گٸ روایت ضعیف ہو گی تو ان کو چاہیے کہ یہ اصول ہر جگہ پر اپناٸیں مگر اپنے مسلک کے دفاع کے لۓ انہوں نے سفیان کی ”عن“ والی روایت کو صحیح کہا ہے۔
      لکھتے ہیں ”عبدالرزاق (ثقہ مدلس) نے عن کے ساتھ سفیان ثوری سے نقل کیا ہے کہ جرابیوں پر مسح کیا جاۓ،اور پھر نیچے لکھتے ہیں ان صریح و صحیح آثار سے ثابت ہوا(یعنی وہ اس حدیث کو تدلیس کے باوجود صحیح مانتے ہیں)“۔(الحدیث شمارہ نمبر 101 صحفہ نمبر 42)
      یعنی کہ زبیر علی زٸی صاحب کے نزدیک جو حدیث ان کے عقیدے کے خلاف ہو وہ حدیث تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہو جاتی ہے اور جو حدیث ان کے عقیدے کے مطابق ہو وہ حدیث تدلیس کے باوجود بھی صحیح ہوتی ہے۔
      اب جیسا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ زبیر علی زٸی کس قدر مسلک پرست تھے اب آتے ہیں اس اعتراض کے جواب کی طرف۔
      مدلس رایوں کے طبقات کے بارے میں امام صلاح الدین ابو سیعد بن خلیل نے لکھا ہے کہ ”درجہِ ثانی کے مدلس راوی کی روایت صحیح ہوتی ہے“،اور پھر اس درجے میں سفیان ثوری کو شامل کر کے امام بخاری کا قول نقل کیا ہے کہ ”امام بخاری نے کہتے ہیں سفیان کی تدلیس بہت کم ہے“۔(جامع التحصیل صحفہ نمبر 113)
      غیر مقلدین کے علامہ سید محب اللہ شاہ راشدی نے بھی امام بخاری کا یہی قول نقل کیا اور آگے حجت قاٸم کرنے کے لۓ کہا کہ “اگر ایسے قلیل التدلیس اور امیر المومنین کی معنعنہ(عن والی) رویت بھی غیر مقبول ہو گی تو اور کس کی مقبول ہو گی؟“(مقالاتِ راشدیہ جلد 1 صحفہ نمبر 325)
      غیر مقلدین کے ہی امام سید بدیع الدین شاہ راشدی نے لکھا کہ ”سفیان اول درجے کے مدلسین میں سے ہیں اور اصولِ محدثین پر ان کی تدلیس مقبول ہوگی اگرچہ سماع کی تصریح نا کریں“۔(اہلحدیث کے امتیازی مساٸل صحفہ نمبر 34)
      ان دونوں نے واضح طور پر لکھ دیا کہ سفیان کی ”عن“ سے کی گٸ روایت بھی صحیح ہو گی۔
      اور غیر مقلدین کے سب سے بڑۓ امام محمد ناصر الدین البانی نے مشکاة المصابیح کی تحقیق میں اس (عبداللہ ابن مسعودؓ کی) حدیث کے بارے لکھا ہے کہ ”امام ترمزی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے لیکن ٹھیک بات یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی اسناد مسلم کی شرط پر صحیح ہیں“۔(مشکاة المصابیح بتحقیق ناصر الدین البانی جلد 1 صحفہ نمبر 254)
      غیر مقلدین کو چاہیے کہ جس طرح وہ البانی کا لگایا گیا حکم دوسری احادیث پر مانتے ہیں بلکل اسی طرح اِس پر بھی مانیں۔
      اب آتے ہیں سفیان کی ”عن“ سے روایت کے ضعیف نا ہونے کے سب سے بڑی دلیل کی طرف۔
      صحیح مسلم میں کٸ احادیث سفیان کی ”عن“ کے ساتھ ہیں۔
      ترمزی والی سند صحیح مسلم کی سند کے عین مطابق ہے ”حدثنا وکیع عن سفیان“۔(صحیح مسلم حدیث نمبر 232,293 عربی)
      تو جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ترمزی میں موجود سند صحیح مسلم کی سند کے عین مطابق ہے تو ثابت ہوا کہ عبداللہ ابن مسعودؓ کی ترک رفع یدین والی روایت بلکل صحیح ہے۔
      لیکن اگر پھر بھی کوٸی نا مانے تو نساٸی میں یہ حدیث سفیان سے ”عن“ کی بجاۓ ”حدثنا“ سے ہے جس پر تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہونے کا حکم لگ ہی نہیں سکتا۔
      جیسا کہ ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ ترمزی شریف میں موجود ترک رفع یدین کی حدیث بلکل صحیح ہے اور زبیر علی زٸی مسلک پرستی کرتے ہوۓ احادیث پر حکم لگاتے تھے،تو اب غیر مقلدین کو بھی چاہیے کہ اہلسنت والجماعت کے موقف کو مانیں اور اپنے اماموں کی مسلک پرستی کو بھی پہچان لیں۔
      تحقیق ازقلم: محمد ذوالقرنین الحنفی البریلوی دعاگو خادم اہلسنت و جماعت الحق الحنفی  الرضوی البریلوی 









×
×
  • Create New...